زرداری افتخار چوہدری اور ڈوگر ۔ ہوشیار کون؟

پاکستان کے عوام کے لئے یہ بات اب تک پردہ راز میں ہے کہ آصف علی زرداری نے انتخابات کے بعد تمام معزول ججوں کو کیوں بحال نہیں کیا تھا؟ ایک نکتہ یہ بھی ہے کہ اگر وہ چیف جسٹس آف پاکستان کو بحال نہیں کرنا چاہتے تھے تو انہوں نے نواز شریف کے ساتھ معاہدے کیوں کئے؟ جبکہ وہ ان معاہدوں کی پاسداری بھی نہیں کرنا چاہتے تھے اور یہ بھی کہ انہوں نے اس بات کا احساس کیوں نہیں کیا کہ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کو بحال نہ کر کے ایک ایسی غلطی کر رہے ہیں جو انہیں اور پاکستان پیپلزپارٹی کو بہت زیادہ مقبول بنا دے گی۔ یہ تمام سوالات اگرچہ اب تک پردہ راز میں ہیں مگر بعض حقائق کو اگر پیش نظر رکھا جائے تو اس سے ایسے نتائج سامنے آتے ہیں جو بیک وقت باعث صدمہ بھی ہیں اور قابل مذمت بھی

فروری 2008ء میں پاکستان پیپلزپارٹی کے سربراہ کی حیثیت سے وہ ہمدردی کی اس لہر کی وجہ سے جو محترمہ بے نظیر بھٹو کی المناک وفات کی وجہ سے پیدا ہوئی تھی وہ آئندہ انتخابات میں کامیابی کی پوزیشن میں تھے۔ انہیں اس موقع پر جنرل پرویز مشرف کی جانب سے دو تحفے بھی ملے تھے ایک این آر او اور دوسرا انتہائی غیر محفوظ پی سی او جج عدلیہ کی بحالی کو روکنے کے لئے کچھ بھی نہیں کرنے کو تیار تھے

فروری 2008ء میں محترمہ بے نظیر بھٹو کی المناک موت کے چالیس روز بعد آصف زرداری نے اول الذکر دونوں مواقع کو اپنے لئے زیادہ سے زیادہ فوائد حاصل کرنے کے لئے استعمال کیا۔ لوگ یہ نہیں جانتے کہ ایک جانب زرداری اور ان کے دوستوں کے خلاف این آر او کے تحت کرپشن کے تمام کیسز ختم ہوگئے دوسری جانب پی سی او ججز کا عدم تحفظ بھی ان کے لئے ایک قیمتی اثاثہ ثابت ہوا جسے استعمال کر کے آصف زرداری قتل اور جرائم کے کئی کیسز سے بری ہوگئے جو این آر او کے بغیر ایک ناممکن امر تھا

بے نظیر جب اپنے اور اپنے شوہر کے خلاف کرپشن کے تمام کیس واپس لینے کے لئے مذاکرات کر رہی تھیں اس وقت ان مذاکرات میں شامل افراد نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ انہوں نے اپنے شوہر کے خلاف کرمنل کیسز واپس لینے کا کوئی مطالبہ نہیں کیا تھا

انتخابات کے فوری بعد آصف زرداری رائے ونڈ گئے اور اس کے بعد نواز شریف اور زرداری نے نئے جذبوں اور گرم جوشی کا اظہار کیا۔ اب یہ دونوں ایک خاندان کی مانند تھے۔ ان دونوں نے عوام کے سامنے چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس افتخار چوہدری اور ان دیگر معزز جج صاحبان کو بحال کرنے کا وعدہ کیا جنہوں نے پی سی او کے تحت حلف اٹھانے سے انکار کردیا تھا۔ اس کے بعد ان دونوں کے درمیان رائے ونڈ، پھر مری، پھر دبئی، پھر لندن اور اس کے بعد اسلام آباد میں کئی ملاقاتیں، مذاکرات اور معاہدے ہوئے۔ دو بار یہ وعدے دو باقاعدہ معاہدوں میں بھی تبدیل ہوئے مگر ان میں سے کسی پر بھی عملدرآمد نہ ہوسکا

18 فروری 2008ء سے 16 مارچ 2009ء کی رات گزرنے تک وکلاء اور معزول جج جو اپنے گھروں میں شرمندگی کے عالم میں بیٹھے تھے جبکہ صحافی اور درحقیقت ملک کا ہر حساس شخص حیران تھا کہ آصف زرداری نے ناپختہ وعدے کر کے اپنی پارٹی اور حکومت کو ایک بند گلی میں کیوں چھوڑ دیا ہے۔ جس کے نتیجے میں پارٹی کی مقبولیت اور اس کی ساکھ دونوں کا خاتمہ ہو جائے گا۔ اس اقدام کی وجہ سے انہوں نے یہ ثابت کردیا کہ ان کی پارٹی ایک غلط راہ پر چل رہی ہے۔ اس سلسلے میں اس کا کوئی بنیادی موقف بھی نہیں ہے۔ اس کے نتیجے میں پیپلزپارٹی کی مقبولیت اور اس کی ساکھ کو زبردست دھچکا پہنچا اور پیپلزپارٹی کے حلقوں میں کسی کو اس بات کا علم نہیں ہے کہ عدلیہ کے مسئلے کو زرداری نے اس طرح کیوں استعمال کیا۔ اس وقت تک ان پر عوامی خواہشات کے آگے سرنگوں ہونے کے لئے بھی زبردست دباؤ تھا

اب بھی سوال یہ ہے کہ آصف زرداری نے آخر عدلیہ کی بحالی کے مسئلے کو اس انداز میں کیوں حل کیا؟ ریکارڈ سے ظاہر ہوتا ہے کہ انتخابات سے صرف تین روز قبل 15 فروری 2008ء کو آصف زرداری نے پوری صورت حال کا جائزہ لینے کے بعد اپنی ہر بازی پی سی او ججز پر لگا دی انہیں امید تھی کہ یہ جج اپنی ملازمتوں پر برقرار رہنے کے لئے ان کے تمام مطالبات مان لیں گے۔ زرداری نے اس سے قبل نواز شریف سے جتنی بھی ملاقاتیں کی تھیں اور معزز جج صاحبان کی بحالی کے لئے جو بھی وعدے کئے تھے ان کا مقصد ڈوگر اور دیگر پی سی او جج صاحبان کو آگے بڑھانا تھا تاکہ انہیں جو کام سونپا گیا ہے وہ اسے جلد از جلد مکمل کرلیں۔ چنانچہ 15 فروری 2008ء کو محترمہ بے نظیر بھٹو کے قتل کے واقعہ کے چالیس روز بعد بظاہر ان کے غمزدہ شوہر نے کوئی وقت ضائع کئے بغیر اور انتخابات کے نتائج کا انتظار کئے بغیر انتخابات سے صرف تین روز قبل ایک آئینی پٹیشن (D-265/2008) سندھ ہائی کورٹ میں داخل کی۔ اس پٹیشن میں انہوں نے وفاقی حکومت اور نیب سے اپنے خلاف جاری ان تمام مقدمات واپس لینے کے حوالے سے رائے طلب کی تھی جو برطانیہ، سوئٹزرلینڈ اور پاکستان کی عدالتوں میں چل رہے تھے۔ درخواست دہندہ نے جس جامع انداز میں درخواست تیار کی تھی اس کے مطالعے کے بعد کسی تبصرے کی ضرورت باقی نہیں رہتی

درخواست
درخواست ہے کہ یہ معزز عدالت براہ کرم (A) قرار دے کہ کلیم نمبر 2006 فولیو 156 کے تحت مدعا علیہ کی جانب سے استغاثہ کے خلاف ہائی کورٹ آف جسٹس کوئنز بنچ ڈویژن کمرشل کورٹ لندن، یونائیٹڈ کنگڈم میں دائر کی جانے والی درخواست قومی مصالحتی آرڈیننس 2007ء کے تحت حاصل اختیار کے تحت معطل کی جائے یا واپس لی جائے

(B) اور یہ کہ مستغیث نمبر 1 کی جانب سے حکومت سوئٹزرلینڈ کو دی جانے والی مشترکہ درخواست جس کے تحت انویسٹی گیشن مجسٹریٹ جنیوا نے تحقیقات شروع کی ہے اور جیسا کہ مستغیث نمبر 1 سول پارٹی کی حیثیت سے اس میں شامل ہے تو اسے قومی مصالحتی آرڈیننس 2007ء کے تحت حاصل اختیارات کے مطابق واپس لیا جائے یا معطل کیا جائے۔
(C) اس بات کا اعلان کیا جائے کہ ذیل میں پیش کئے جانے والے مقدمات اور ریفرنسز این آر او 2007ء کے تحت حاصل اختیارات کے مطابق ختم کئے جائیں اور واپس لئے جائیں گے

(i) ریفرنس نمبر 14/2001 (اثاثہ ریفرنس) جو اکاؤنٹیبلٹی کورٹ II راولپنڈی میں زیر التوا ہے۔
(ii) ریفرنس نمبر 41/2001 (ایس بی ایس ریفرنس) جو اکاؤنٹس کورٹ II راولپنڈی میں زیر التوا ہے۔
(iii) ریفرنس نمبر 23/2000 (اے آر وائی گولڈ ریفرنس) جو اکاؤنٹیبلٹی کورٹ II راولپنڈی میں زیر التوا ہے۔
(iv) ریفرنس نمبر 59/2002 (بی ایم ڈبلیو کا ریفرنس) جو اکاؤنٹیبلٹی کورٹ (III) راولپنڈی میں زیر التوا ہے۔
(v) ریفرنس نمبر 35/2000 (کوٹیکناریفرنس) جو اکاؤنٹیبلٹی کورٹ نمبر III راولپنڈی میں زیر التوا ہے۔
(vi) ریفرنس نمبر 1/2001 (ریسورس ٹریکٹر ریفرنس) جو اکاؤنٹیبلٹی کورٹ نمبر II راولپنڈی میں زیر التوا ہے۔
(vii) ریفرنس نمبر 6/2000 (پولوگراؤنڈ ریفرنس) جو اکاؤنٹیبلٹی کورٹ II راولپنڈی میں زیر التوا ہے جسٹس ڈوگر جو اس وقت نام نہاد چیف جسٹس بھی تھے انہوں نے آصف زرداری کو نوازنے کے لئے اپنی اطاعت گزاری میں کوئی کسر نہیں چھوڑی اور اپنی تمام ماتحت عدالتوں کو 27 فروری 2008ء کو آئینی پٹیشن نمبر 76 اور 77 آف 2007 کی سماعت میں فوری طور پر بری کرنے کا مطالبہ کیا ان پٹیشنز میں درحقیقت این آر او کے قابل عمل ہونے کو چیلنج کیا گیا تھا۔ سپریم کورٹ کے پی سی او ججز کی ایک پانچ رکنی بنچ نے تمام ماتحت عدالتوں کو مندرجہ ذیل ہدایات جاری کیں

سپریم کورٹ آف پاکستان میں حقیقی عدالتی دائرہ اختیار
برعدالت
مسٹر جسٹس عبدالحمید ڈوگر (ایچ سی جے)
مسٹر جسٹس محمد نواز عباسی
مسٹر جسٹس فقیر محمد کھوکھر
مسٹر جسٹس اعجازالحسن

مسٹر جسٹس چوہدری اعجاز یوسف آئینی پٹیشن نمبر 76 اور 77 آف 2007 عدالتیں اور متعلقہ حکام آرڈیننس کی دفعات کی روشنی میں کسی دباؤ کا شکار ہوئے بغیر کہ یہ پٹیشنز تاخیر کا شکار ہوئی ہیں زیادہ تیزی کے ساتھ کارروائی کریں گی

اس کے اگلے روز سندھ ہائی کورٹ کے دو پی سی او ججوں خواجہ نوید اور علی سائیں ڈنو میٹلو نے آصف زرداری کی آئینی پٹیشن (D-265/2008) کی سماعت کرتے ہوئے فوری طور پر سپریم کورٹ کی مندرجہ بالا ہدایت کی تعمیل کرتے ہوئے نیب اور حکومت کو ہدایت کی کہ وہ عدالت میں ایک رپورٹ پیش کریں جس میں اس بات کی تصدیق ہوگئی ہو کہ انہوں نے این آر او کے تحت آصف زرداری کے خلاف تمام کرپشن کیسز واپس لے لئے ہیں۔ اس کے علاوہ اس بات کی تصدیق بھی کی جائے کہ ان کی جانب سے تمام غیرملکی استغاثہ حکام سے آصف زرداری کے خلاف تمام کیسوں میں سپریم کورٹ کے مندرجہ بالا حکم کی روشنی میں ہر قسم کا تعاون ختم کر دیا ہے

آصف زرداری کی پٹیشن سندھ ہائی کورٹ میں بار بار سماعت کے لئے پیش ہوتی رہی۔ ہر سماعت میں عدالت نیب اور وفاقی حکومت پر زور دیتی رہی کہ زرداری کے خلاف تمام کیس واپس لئے جائیں اور سندھ ہائی کورٹ میں ان کیسوں کے حوالے سے تعمیل حکم کی رپورٹ پیش کی جائے۔ جس آئینی پٹیشن کے تحت آصف زرداری کے خلاف کرپشن کے تمام کیس بالآخر ختم کئے گئے ان کی تاریخیں مندرجہ ذیل تھیں۔ 15-2-2008، 29-2-2008، 4-3-2008، 28-3-2008، 21-4-2008، 6-5-2008، 15-5-2008، 29-8-2008، 17-9-2008۔
17 ستمبر 2008ء کو نیب اور وفاقی حکومت کی نمائندگی کرنے والے وکلاء (جو آصف زرداری کے کنٹرول میں تھے) نے ڈپٹی اٹارنی جنرل عامر رضا نقوی اور نیب کے وکیل سلمان اسلم بٹ نے عدالتی حکم کی تعمیل کی رپورٹ سندھ ہائی کورٹ کی اس دو رکنی بنچ کو پیش کی جس نے مقدمات کی واپسی کی ہدایت کی تھی۔ ان دونوں ججوں میں خواجہ نوید او علی سائیں ڈنو میٹلو شامل تھے۔ جہاں تک سوئس عدالتوں میں مقدمات کی سماعت کا تعلق ہے اٹارنٹی جنرل نے وفاقی حکومت کی جانب سے سوئس عدالتوں میں عدالت کے ایک خط کی نقل پیش کی جس میں پٹیشنز کے خلاف عدالتی کارروائی ختم کرنے کی اطلاع دی گئی تھی۔ اس کے بعد ہی انویسٹی گیٹنگ مجسٹریٹ جنیوا پر دباؤ ڈالا گیا کہ وہ آصف زرداری کے خلاف کرمنل کانسپریسی کے حوالے سے عدالتی کارروائی ختم کردیں جس کے مطابق انہوں نے اپنے ذاتی مفاد کے لئے پاکستان کے ساتھ فراڈ کیا تھا

جہاں تک برطانیہ کے مشہور سرے محل کیس کا تعلق ہے DAG نے سندھ ہائی کورٹ میں اس بات کی تصدیق کی کہ زرداری کے خلاف ہائی کورٹ آف جسٹس کوئنز بنچ ڈویژن کمرشل کورٹ روک ووڈ اسٹیٹ سرے (برطانیہ) میں جاری تمام کارروائی ختم کردی گئی ہے۔ بعد میں نیب ریفرنسز کے حوالے سے DAG نے اس بات کی تصدیق کی کہ زرداری کے خلاف نیب کے تمام سات ریفرنسز جن میں اثاثوں کا ریفرنس، ایس جی ایس، کوٹیکنا ریفرنس URSUS ریفرنس اور پولو گراؤنڈ ریفرنس شامل تھے اور جو پٹیشنز کے خلاف راولپنڈی کی احتساب عدالت میں زیرسماعت تھے انہیں حکومت نے واپس لے لیا ہے

DAG کے متذکرہ بالا بیان کے بعد پٹیشنز کے وکلاء ابوبکر زرداری اور حیدر علی نے اپنی پٹیشن پیش نہیں کی اور جسٹس خواجہ نوید اور علی ڈنو میٹلو نے مندرجہ ذیل حکم کے ساتھ پٹیشن خارج کردی

آرڈر شیٹ
ہائی کورٹ آف سندھ۔ کراچی
سی پی نمبر D-265 آفس 2009
16-9-2008
فاضل DAG نے بیان کیا ہے کہ حکومت پاکستان کی وضاحت پر پٹیشنز کے خلاف لوئس عدالت میں زیر التواء کرمنل پروسیڈنگ ختم کردی گئی ہے اور ہائی کورٹ آف جسٹس کوئنز بنچ ڈویژن کمرشل کورٹ لندن یوکے میں زیر التواء کارروائیاں معطل کردی گئی ہیں۔
فاضل DAG کے بیان کی روشنی میں پٹیشنز کے فاضل وکیل نے پٹیشن کی سماعت جاری رکھنے پر زور نہیں دیا۔ اسی سبب سے پٹیشن اور اس کے ساتھ موجود درخواستیں نمٹادی گئی ہیں کیوں کہ ان پر زور نہیں دیا گیا۔

جج
مندرجہ بالا ان تمام واقعات کی اسکیم ہے جنہیں ترتیب اور بیان کیا گیا ہے اور اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ آصف زرداری اور پی سی او ججز نے کس طرح ترتیب وار، بھرتی سے اور طریقے سے کام کیا جب کہ نواز شریف، وکلاء اور پوری قوم معزول ججوں کی بحالی کے بلند و بالا وعدوں کے مزے لے رہے تھے۔ (جاری ہے)

تحریر ۔ اکرم شیخ ۔ ایڈووکیٹ سپریم کورٹ ۔ بشکریہ ۔ جنگ

کالی بھیڑوں کی شناخت کیسے ؟

جاوید احمد گوندل صاہب نے میری کل کی تحریر پر تبصرہ کیا ہے جو ہر محبِ وطن پاکستانی کیلئے قابلِ غور ہے ۔ [میں نے ایک اہم پیرا نیچے سے اُوپر اُوپر کر دیا ہے]

کیاپاکستان کی حکومت اور انتظامیہ میں ایسے بے غیرت عناصر شامل ہوچکے ہیں یا پہلے سے شامل تھے جو ریاستِ پاکستان کے مفاد پہ اپنا مفاد عزیز سمجھتے ہیں۔ مفادات جو لازمی طور پہ کئی قسم کے ہوسکتے ہیں۔ مالی اور جان کی امان بھی اس میں شامل ہوسکتی ہے۔ اور وہ گھٹیا مالی مفادات بھی جیسے مشرف کے دور میں مشرف کا پاکستان پہ آئے قیامت خیز زلزلے کی تباہیوں کو کیش کروانا اور اربوں کی امداد کی بہتی گنگا میں ہاتھ دھونا۔ ریاست اور عوام کی خودمختاری و خود اداری کے عوض پاکستانی قوم کے افراد کو امریکیوں کے ہاتھ
ملین ڈالرز وصول کرتے ہوئے بیچ ڈالنا، جنہیں امریکیوں نے پاکستانی دہشت گرد کی گردان کر کے اسے پھر سے پاکستان کے خلاف مذموم پروپیگنڈہ کے ذریعہ اپنے مذموم مقاصد کے لئیے استعمال کیا جو پاکستان پہ مہم جوئی کا دباؤ ڈالے رکھنا تھا۔کیا ایک بار پھر سے دہشت گردی کے خلاف جنگ اور اسمیں کام آئیں معصوم جانوں کو پھر سے کیش کروا رہے ہیں

جی ایچ کیو اور دوسری حساس جگہوں پر حملوں کے پیچھے، خاص کر اداروں کا انتخاب۔ انکے بارے میں صحیح صحیح معلومات ہونا۔ مکمل پلاننگ سے حملہ کرنا۔ دہشت گردوں کا انتہائی مہارت کی حد تک تربیت یافتہ ہونا۔ دہشت پھیلانے اور انسانی جانوں کی قربانی لینے کے ساتھ ساتھ ایسے نفسیاتی اہداف مقرر کرنا جن سے عام آدمی اور عام سرکاری اہلکار شدید دباؤ اور خوف کا شکار ہوجائے اور متواتر شکار رہے۔

یہ سارے عوامل اس طرف اشارہ کرتے ہیں کہ اس کے پس پردہ مکمل تربیت یافتہ دشمن انٹیلی جنس ایجنٹوں کا ہاتھ ہے خواہ وہ مقامی ایجینٹ ہیں یا غیر ملکی۔ انکا نیٹ ورک پاکستان کے بڑے شہروں میں آج سے نہیں بلکہ کئی سالوں سے کام کر رہا ہے جو ان شہروں میں مستقل سکونت رکھتے ہیں اور ایسے اہداف وغیرہ کے بارے میں انہوں نے پہلے سے ہر قسم کی معلومات اور تیاری کر رکھی ہوتی ہے۔ جب ان دشمن ایجنٹوں کے ممالک یا ملک کے مفادات پر کوئی ضرب لگتی ہے تو ان ممالک یا ملک سے ان ایجنٹوں کو اشارہ ہوتا ہے وہ پہلے
سے بنے بنائے پلانز کے تحت ان دہشت گردوں کو میدان میں لے آتے ہیں جنہیں افغانستان میں پاکستان کے خلاف بھارت تربیت دے رہا ہے۔

مختلف پاکستان دشمن طاقتوں کے مفادات اکھٹے ہوگئے ہیں۔ امریکہ چاہتا ہے کہ پاکستان اسکے لیے قلیل ترین معاوضے پہ کام کرے اور اسکا ایک ہی آسان طریقہ ہے کہ پاکستان پہ دباؤ برقرار رہے۔ بھارت چاہتا ہے کہ کسی طریقے سے بھارت میں جاری لگ بھگ چودہ کے قریب علٰیحدگی کی تحریکوں اور خاص کر کشمیر کے مسئلے سے توجہ ہٹائی جاسکے اور پاکستان کی افواج کو اس کے اپنے پاکستانی خون سے نہلا دیا جائے۔ اور پاکستان کو ایک ناکام ، انتہاپسند اور جنونی لوگوں کی ریاست قرار دلوا دیا جائے۔ اسرائیل کے مفادات پاکستان کے جوہری اثاثوں کی وجہ سے اسکے اپنے خدشات ہیں کہ پاکستان کا ایٹمی طاقت ہونا اسرائیل کے پھیلاؤ اور علاقے کی چوہدراہٹ میں مستقبل میں رکاوٹ بن سکتا ہے ۔ اس شیطانی ٹرائیکا میں افغانستان کے شمالی اتحاد کے عناصر سے وجود میں آنے والی پاکستان مخالف حکومت جس کی سربراہی کرزئی کرتے ہیں بھی شامل ہے۔

ممبئی پہ دہشت گرد حملوں کے جواب میں نئے نئے وزیرِ داخلہ بننے والے چدامپرم کا وہ بیان بھی ہمیں ذہن میں رکھنا چاہئیے جو موصوف نے ممبئے حملوں کا الزام ریاستِ پاکستان پہ رکھتے ہوئے یہ کہا تھا۔” کہ اب بھارت کا جو جواب ہوگا وہ ساری دنیا دیکھے گی”۔ کیا وہ یہی جواب تھا ۔؟ جو آجکل پاکستان کے حساس ترین اداروں پہ حملے کر کے ساری دنیا کو یہ باور کرانے کوشش کی جارہی ہے کہ پاکستان دنیا کی غیر محفوط ترین ریاست ہے۔ افغانستان سے بھی زیادہ غیر محفوظ۔؟ تاکہ پاکستان سے لوگ اپنا سرمایہ سمیٹ کر نکل جائیں۔ پاکستان کے حالات غیریقینی ہونے سے پاکستان کی تجارت ، صنعت ۔ سب تباہ ہوجائیں۔ عام آدمی عدم تحفظ کا شکار ہوجائے۔ کیونکہ ممالک اور قومیں امداد کے سر پہ ترقی نہیں کرتیں بلکہ وہ اپنی اکنامکس کو ترقی دے کر ہی کوئی مقام حاصل کر سکتی ہیں

اس شیطانی اتحادِ ثلاثہ۔ امریکہ، اسرائیل اور بھارت کے گٹھ جوڑ اور پاکستان کے خلاف بے تحاشہ وسائل جھونکنے کے باوجود یہ اتحاد کبھی پاکستان کے خلاف کامیاب نہیں ہو سکتا جب تک ہماری حکومت اور حکومت میں شامل حد سے زیادہ امریکہ نواز طبقہ ان کڑوے حقائق پہ اپنی آنکھیں نہ بند کریں۔ یہ آنکھیں کیوں بند ہیں۔ یہ زبان پہ تالہ بندیاں کیوں ہیں۔ آخر اسقدر زیادہ ثبوت ہونے کے باوجود بھارت کا نام کھُل کر کیوں نہیں لیا جاتا ۔؟

بھارتی فوج اور خفیہ اداروں کے اسقدر اہلکار پاکستان مخالف کاروائیوں میں ملوث ہیں اور پاکستان کے شمال میں افغانستان میں سب بڑے
شہروں میں بھارت نے اپنے قونصلیٹ جن مذموم مقاصد کے لئیے کھول رکھے ہیں وہ کسی سے پوشیدہ نہیں ہیں۔

افغانستان میں چونکہ امریکہ کی عملداری ہے ۔ایک طریقہ یہ بھی ہوسکتا تھا کہ امریکہ سے سخت احتجاج کیا جاتا اور پاکستان کے
اندر موجودہ دہشت گردی کی وجہ سے دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ میں امریکہ سے تعاون کو اسوقت تک محدود کر دیا جاتا جب تک امریکہ افغانستان کے اندر سے بھارتی قونصلیٹس اور پاکستان کے خلاف چلنے والے دہشت گردی کی تریبت کے کیمپس بند نہ کرواتا اور غیر ضروری طور پہ بھارتی خفیہ ایجنسیوں کے اہلکاروں سے وہاں سے نہ نکالتا۔ اور ایسا نہ کرنے پہ اسے دہشت گردی کے خلاف پاکستانی تعاون کو مکمل طور پہ ختم کرنے کی دہمکی دی جاتی کہ اس دہشت گردی کی آگ متواتر پاکستان کے اندر لگی ہوئی ہے اور جب تک ہم اپنے گھر کے معاملات پہ قابو نہیں پالیتے اسوقت تک ہم اپنی توانائی امریکی تعاون پہ خرچ نہیں کر سکتے

مگر اسکے لئیے کیری، لوگر بل امداد خیرات وغیرہ سے نجات پانا ضروری ہے۔ جب تک ہم بھیک میں ملی خیرات پہ خوشی کے شادیانے بجاتے رہیں گے۔ تب تک ایسا ہونا ناممکن ہے۔ تو اسکا مطلب ہے کہ پاکستان کے اندر ہونے والی یہ ننگی جارحیت اور دہشت گردی ہمیں ٹھنڈے پیٹوں پینا پڑے گی

طالبان طالبان کی رَٹ ۔ حقائق سے چشم پوشی

میرے ہموطنوں کی اکثریت کو ٹی وی نشریات اور اخبارات نے اتنا محصور [hypnotise] کیا ہے کہ وہ بھی افسانوی راگ الاپنے لگ گئے ہیں ۔ میں نے پہلے 25 جولائی 2008ء کو طالبان کی پوری تاریخ لکھی پھر سوات کے حوالے سے 24 اور 25 فروری 2009ء کو لکھا ۔ 7 مئی 2009ء کو اسی سلسلہ میں قارئین کے سوالات کے جوابات لکھے ۔ میرے ہموطنوں کے عمومی رویہ سے متعلق میں اپنی 25 فروری 2009ء کی تحریر میں سے ایک اقتباس نقل کر رہا ہوں

یہ واقعہ پینتیس چھتیس سال پیچھے کا ہے جب میں پاکستان آرڈننس فیکٹریز کی پانچ بڑی فیکٹریوں میں سے ایک ویپنز فیکٹری میں دس گیارہ سال نہ صرف گذار چکا تھا بلکہ اللہ کے فضل سے اُسے سمال آرمز گروپ سے ویپنز فیکٹری بنانے میں میرا بہت بڑا حصہ تھا اور اُن دنوں ویپنز فیکٹری کا قائم مقام سربراہ [Acting General Manager] تھا ۔ ایک دن میں ایک عوامی جگہ [public place] پر بیٹھا تھا ۔ میرے قریب ایک شخص بڑی سنجیدگی سے ویپنز فیکٹری کے متعلق اپنی معلومات کے خزانے اپنے دو ساتھیوں پر لُٹا رہا تھا اور وہ بڑے انہماک کے ساتھ سُن رہے تھے ۔ اُس شخص کی یاوہ گوئی جب ناممکنات کی حد پار کر گئی تو مجھ سے نہ رہا گیا ۔ میں نے معذرت طلب کرتے ہوئے مداخلت کی اور کہا “بھائی صاحب ۔ ایسا ممکن نہیں ہے”۔ وہ شخص بڑے وثوق سے بولا “جناب ۔ آپ کو نہیں معلوم میں سب جانتا ہوں ۔ بالکل ایسا ہی ہے”۔ میں نے اُسے پوچھا “آپ فیکٹری میں ملازم ہیں ؟” جواب ملا “نہیں”۔ میں نے پوچھا “آپ کا کوئی قریبی عزیز فیکٹری میں ملازم ہے ؟” جواب ملا “نہیں”

دورِ حاضر کی جواں نسل [عمر 20 تا 40 سال] کی اکثریت کی پہچان ہے کہ ان کا پہلا فقرہ یا ردِ عمل ہوتا ہے “آپ نہیں جانتے” بلکہ درست فقرہ یہ ہے “آپ کو کچھ پتہ نہیں”۔ کوئی اور مزید آگے بڑھے گا اور کہہ دے گا “آپ اب اپنے مصنوعی خول سے نکلیں اور حقائق کو تسلیم کر لیں”۔ پچھلے ماہ میں اپنے ایک ساتھی کے سامنے يہی بات کہہ رہا تھا تو ایک چونتیس پینتیس سالہ اعلٰی تعلیم يافتہ جوان بولا ” آجکل چھوٹے چھوٹے بچے ہمیں کہتے ہیں ۔ آپ کو کیا پتہ”

حقیقت یہ ہے دورِ حاضر کے اکثر لوگوں کو سطحی معلومات تو بہت ہوتی ہیں ۔کسی معاملہ کی گہرائی میں جانے کی یا تو وہ کوشش نہیں کرتے یا زیادہ سے زیادہ معلومات اکٹھا کرنے کی وجہ سے گہرائی میں جانے کا وقت نہیں ملتا ۔ بعض اوقات صورتِ حال یہاں تک پہنچ جاتی ہے کہ سچ سامنے رکھ دیا جائے تو اُسے کسی بہانے ٹالنے پر اصرار ہوتا ہے

مجھے ایک لطیفہ یاد آیا ۔ بے تکلّف احباب کی محفل میں بیٹھے اگر کوئی پوچھے “آجکل کیا ہو رہا ہے ؟” تو میں کہہ دیتا “اپنے تو دو ہی شوق ہیں ۔ کھانا اور سونا”۔ ایک دن جب میں نے ایسا کہا تو وہاں ایک پڑھا لکھا جوان جو مجھے نہیں جانتا تھا موجود تھا ۔ بعد میں اُس جوان کو کچھ عِلمی معلومات کی ضرورت پڑی تو اُس کے ایک بزرگ نے اُسے میرے پاس آنے کو کہا مگر وہ نہ آیا ۔ اتفاق ایسا ہوا کہ وہ معلومات اُسے حاصل نہ ہو سکیں ۔ اس پر اس بزرگ نے اسے کہا “کیا اجمل بھوپال صاحب کو بھی معلوم نہیں ؟” تو جوان بولا “جسے کھانے اور سونے سے فرصت نہیں وہ کیا بتائے گا”۔ اُس کے بزرگ نے اُسے صرف اتنا کہا ” تم لوگ بدقسمت ہو”

میں جب بچپن میں قرآن شریف میں پڑھتا تھا ” اُن کی آنکھوں پر پردہ پڑا ہے”۔ تو سوچتا تھا کہ شاید اُس زمانہ کے لوگ بے علم تھے جب یہ آیت اُتری ۔ 1970ء کی دہائی کے عوامی دور میں معلوم ہوا کے بڑے بڑے تعلیم یافتہ کہلانے والوں کی عقل پر پردہ پڑ جاتا ہے ۔ سو یہ وصف ہماری قوم کی اکثریت کا ہے کہ نجانے کس انجانے خوف کے زیرِ اثر حقائق کا خود سامنا نہیں کرنا چاہتے اور دوسرے کو غیرمصدقہ بات کو حقیقت ماننے پر مجبور کرتے ہیں

اس صورتِ حال کے نتیجہ میں قوم ایک غیر معیّن تیر [misguided missile] بن کے رہ گئی ہے ۔ شور شرابا بہت ہے سُدھار کیلئے عملی طور پر آگے کوئی نہیں بڑھتا ۔ سال سے زائد عرصہ گذرا کہ غریب پختون بچوں کو تعلیم میسر نہ ہونے کا بہت واویلا تھا ۔ ساتھ یہ بھی کہا جاتا تھا کہ اگر وہ مدرسوں کی بجائے انگریزی سکولوں میں نہ گئے تو دہشتگرد بن جائیں گے ۔ میں نے اس سلسلہ میں اپنے بلاگ پر عملی تعاون کی درخواست کی ۔ دو تین جوانوں نے اسلام آباد میں میرے گھر آ کر میری ہمت افزائی کی ۔ میں نے صورتِ حال کی وضاحت کی ۔ بڑا نہیں چھوٹا سا منصوبہ تھا ۔ درجن سے زیادہ بچوں کی ایک اچھے سکول میں تعلیم کی کفالت کی جا چکی تھی ۔ اس سے قبل یہ بچے کوڑا کرکٹ اکٹھا کرتے تھے ۔ اس تعداد کو 24 تک لیجانا چاہ رہے تھے مگر مالی وسائل نہ تھے ۔ فی بچہ 600 روپیہ ماہانہ فیس ۔ اس کے علاوہ کتابیں کاپیاں پنسل وغیرہ اور روزانہ ایک وقت کا کھانا ۔ بس اتنا ہی کرنا تھا

ابھی پھر کوئی اسی طرح کا عنوان چھیڑ دیجئے ۔ اس پر لمبی لمبی تحاریر لکھی جائیں گی مگر جب باری عمل کی آئے گی تو شاید کوئی ڈھونڈے سے نہ ملے ۔ حقیقت یہ ہے کہ وطنِ عزیز کے خواندہ گنے لوگوں میں سے نصف مدرسوں سے پڑھے ہوئے ہیں ۔ دینی مدارس میں پڑھنے والوں کی جاہلیت کے متعلق پچھلے چند سالوں میں سینکڑوں مضامین لکھے گئے ہیں جن میں سے درجنوں بلاگرز نے لکھے ہیں ۔ ان سب لکھنے والوں میں کتنے ہیں جنہوں نے دور نہیں اپنے علاقے کے مدرسہ کی ہی بہتری کیلئے عملی کام کیا ہے ؟ اسے بھی چھوڑیئے کیا کسی نے کبھی کسی مدرسہ کا مطالعاتی دورہ بھی کیا ہے ؟ پوچھیئے تو محلے کی مسجد کے مدرسہ کی بات کریں گے جہاں بچوں کو طوطوں کی طرح قرآن شریف رٹایا جاتا ہے اور وہاں کا بھی مطالعاتی دورہ نہیں کیا ہو گا

بیت اللہ محسود جسے پاکستانی طالبان کا سربراہ کہا جاتا ہے ۔ اس کے متعلق معروف ہے کہ گونٹانامو بے میں 11 ماہ قید کے بعد رہا کر ديا گیا بلکہ کھُلا چھوڑ دیا گیا جبکہ 80 سالہ بوڑھے بیگناہ پاکستانی کو بھی ڈھائی سال بعد اُس وقت چھوڑا گیا تھا جب وہ قریب مرگ تھا اور بات بھی نہیں کر سکتا تھا ۔ باقی پاکستانی جو ڈھائی تین سال بعد وہاں سے چھوٹے وہ کسی اور جگہ قید ہیں ۔ اب شُنید ہے کہ بیت اللہ محسود کی ہلاکت کھیلے جانے والے ڈرامہ کا حصہ ہے اور وہ زندہ ہے مگر غائب ہے ۔ حقیقت جو میں ایک سے زیادہ بار لکھ چکا ہوں یہی ہے کہ پاکستان کے بے گناہ شہریوں کو ہلاک کرنے والے اور فوج کے خلاف لڑنے والے کرائے کے قاتل ہیں جن کے آقا غیر ملک یا ممالک کی حکومتیں ہیں ۔ ان کا افغانستان کے طالبان کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے البتٰہ افغانستان کی کٹھپتلی حکومت کے ساتھ تعلق ہو سکتا ہے

جب تک غیرملکی مفاد کو چھوڑ کر ملکی مفاد کے تحت کام نہیں کیا جائے گا ملک کے حالات بد سے بد تر ہوتے رہیں گے اس وقت صورتِ حال یہ ہے کہ جنگجو حملہ آوروں کی تعداد پہلے سے کہیں زیاد ہو چکی ہے ۔ وہ پہلے سے زیادہ منظم ہیں اور پہلے سے زیادہ بے جگری سے لڑ رہے ہیں ۔ سب کچھ ہمارے سامنے ہو رہا ہے اور ہمیں پھر بھی سمجھ نہیں آتی ۔ اسلام آباد اقوامِ متحدہ کے امدادی دفتر پر حملہ ۔ پھر پشاور میں اہم شہری علاقہ میں دھماکہ پھر فوج کے ہیڈ کوارٹر میں داخل ہو کر حملہ اور آج لاہور شہر کے اہم علاقہ میں واقعہ ایف آئی اے کے دفتر مناواں میں پولیس کے تربیتی مرکز اور بیدیاں میں پولیس کمانڈو تربیتی مرکز پر حملے ہوئے ۔ بڑی ڈھٹائی سے کہہ دیا جاتا ہے کہ حملے کی پہلے سے اطلاع تھی

اسلام آباد میں جگہ جگہ ناکہ بندیاں ہیں ۔ میرے اپنے گھر کے تین راستے مکمل بند کر کے ایک راستہ میں جگہ جگہ بلاک رکھے ہیں جن میں سے بالکل آہستہ ہی گذرا جا سکتا ہے ۔ اقوامِ متحدہ کا امدادی دفتر میرے گھر سے آدھے کلو میٹر کے فاصلہ پر ہے ۔ اُس کی حفاظت کیوں نہ کی جا سکی ؟ آخر ان علاقوں کی درست حفاظت کا بندوبست کیوں نہیں کیا جاتا ؟ وزارتِ داخلہ کیا کر رہی ہے ؟ رحمٰن ملک صرف بیان داغنے کے کی بجائے کوئی عملی کام کیوں نہیں کرتا ؟

آنکھوں [عقل] پر پردہ پڑنا اور کسے کہتے ہیں ؟ اللہ ہمارے حکمرانوں اور ہموطنوں کو سیدھی راہ پر لگائے اور ہمارے ملک کو مزید تباہی سے بچائے

مدد درکار ہے

میں کسی کا امتحان نہیں لے رہا بلکہ ایک معاشرتی مسئلہ حل کرنے کی کوشش کر رہا ہوں ۔ اسلئے مندرجہ ذیل معلومات فراہم کردیں تو نوازش ہو گی خواہ اس کے لئے مطالع کرنا پڑے یا کسی عالِم کی مدد لینا پڑے ۔ میں اپنے گھر اسلام آباد میں ہوتا تو شاید یہ اشتہار نہ دینا پڑتا

سوال ۔ 1 ۔ اگر مندرجہ ذیل کے علاوہ کوئی اور مستند مجموعات حدیث اُردو ترجمہ کے ساتھ ہیں تو ان کے نام اور ان کے مصنفین کے نام بتایئے اور اگر انٹرنیٹ پرچاہے انگریزی میں ہوں تو ربط دے دیجئے
1 ۔ صحیح بخاری
2 ۔ صحیح مُسلم
3 ۔ سُنن ابو داؤد
4 ۔ سنن ترمذی
5 ۔ سنن ابنِ ماجہ
6 ۔ موطاء عبدالمالک

سوال ۔ 2 ۔ میرے علم کے مطابق اگر فرض نماز شروع ہو جائے یا فرض نماز کی تکبیر اقامت شروع ہو جائے تو پھر کسی اور نماز یعنی نفل یا سُنت کی نیّت کرنا منع ہے ۔ یہ بھی واقعہ ہے کہ اگر 4 رکعت سُنّت نماز شروع کر لی ہو اور تکبیر اقامت شروع ہو جائے تو 2 رکعت مکمل کر کے سلام پھیر کر جماعت میں شامل ہو جانا چاہیئے ۔ کیا یہ شرط فجر کی نماز پر لاگو نہیں ہوتی ؟ اگر لاگو نہیں ہوتی تو مستند حدیث کا حوالہ دیجئے ۔ اگر انٹرنیٹ پرچاہے انگریزی میں ہو تو ربط دے دیجئے

پتھر دل سفّاک

ایک محاورہ سکول کے زمانہ میں پڑھا تھا ۔ ” آنکھ کے اندھے نام نَین سُکھ ” ۔ دورِ حاضر میں جس طرح باقی چیزوں کی تجدید ہو رہی ہے اس محاورہ کی تجدید بھی ضروری ہے چنانچہ اس کا ہمزاد کچھ اس طرح ہونا چاہيئے ” پتھر دل سفّاک ۔ نام روشن خيال” ۔ غزہ میں ايک سکول پر اسرائیل نے حملہ کیا جس میں فاسفورس بم استعمال کئے گئے ۔ نیچے اس کی چند تصاویر ہیں

جولائی 2007ء میں اسلام آباد کی مرکزی جامعہ مسجد المعروف لال مسجد سے ملحقہ جامعہ حفصہ پر اپنے ہی ملک کے بدبخت سربراہ کے حکم پر اپنی ہی فوج نے فاسفورس بم برسائے تھے جس کے نتیجہ میں سینکڑوں بے قصور کم سِن بچیاں جل کر کوئلہ ہو گئی تھیں ۔ ان یتیم اور لاوارث بچیوں کا رونے والا بھی کوئی نہ تھا ۔ غزہ میں تو اقوامِ متحدہ کے مددگار موجود تھے اُنہوں نے اُن کے جلے جسموں کو صحیح طرح دفنا دیا ہو گا ۔ جامعہ حفصہ کی معصوموں کے قتل عام کی کاروائی کے بعد ان معصوموں کے جسموں کا جو کچھ بچا تھا رات کے اندھیرے میں لَوڈروں [Loaders] کے ذریعہ ڈَمپروں [Dumpers] میں بھر کر اسلام آباد کے قریبی جنگلوں میں دبا دیا گیا تھا اور جلی ہوئی جامعہ حفصہ کی عمارت کو گِرا کر ملبہ کا ڈھیر بنا دیا گیا تھا تاکہ اصل صورتِ حال عوام کے علم میں نہ آ سکے ۔ سِتم ظریفی یہ کہ اس بہیمانہ کاروائی کے دوران کراچی بلکہ لندن سے اسلام آباد تک ہمہ وقت اپنے حقوق کا رونا رونے والے دھاڑ رہے تھے “مار دو انہیں ۔ ختم کر دو انہیں”

داغے گئے سفید فاسفورس والے دو گولے
MIDEAST-ISRAEL-GAZA-CONFLICT-UN
گولے گر چکے ہیں
MIDEAST-ISRAEL-PALESTINIAN-CONFLICT-GAZA
گولے پھٹنے کا منظر
CORRECTION-MIDEAST-ISRAEL-GAZA-CONFLICT-UN
فاسفورس بم کی تباہ کاری ۔ بچے مکمل طور پر جل کر کوئلہ ہو چکے ہیں اور سب فرنیچر بھی راکھ ہو چکا ہے
AK00000001
MIDEAST-ISRAEL-GAZA-CONFLICT-UN
MIDEAST-PALESTINIAN-ISRAEL-GAZA
AK00000001

اب سمجھ آئی امریکہ کیسے دریافت ہوا تھا

مجھے ایک کارٹون یاد آ گیا ہے جو میں نے رسالہ تعلیم و تربیت میں اُن دنوں دیکھا تھا جب میں آٹھویں جماعت میں پڑھتا تھا [1951ء]
ماں بچے سے ” بولنے سے پہلے سوچ لیا کرو”
بچہ ماں سے”ماں ۔ اور سوچنے سے پہلے ؟”
ماں ” یہ سوچا کرو کہ سوچنا چاہیئے یا نہیں ”

میں نے یکم جولائی 2009ء کو تمام قارئین کی خدمت میں ایک تحریر پیش کی تھی جس میں نے گوگل کا ربط دیا تھا ۔ اس کا پہلا فقرہ ملاحظہ ہو

میں مخاطب ہوں اُن قارئین و قاریات سے جن کے کمپیوٹر پر اُردو نصب [install] نہیں ہے یا اُن کے کمپیوٹر کا کلیدی تختہ [keyboard] اُردو نہیں لکھتا اس لئے پریشانی اُٹھانا پڑتی ہے یا وہ مجبور ہو کر انگریزی حروف [English letters] میں اُردو لکھتے ہیں جسے رومن اُردو [Roman Urdu] بھی کہا جاتا ہے ۔ آپ سب کی مُشکل اللہ نے آسان کر دی ہے ۔ آپ مندرجہ ذیل ربط کو اپنے پاس محفوظ کر لیجئے

اس پر شاید صرف 4 قارئین [ منیر عباسی ۔ سعود اور احمد صاحبان اور شاہدہ اکرم صاحبہ] سوا کسی نے توجہ نہ دی چنانچہ چند ہفتوں کے وقفہ سے کچھ حضرات نے باری باری اسے دریافت کر کے قارئین کو آگاہ کیا

ہماری فوج کے “القاعدہ عمومی” پر “کرائے کے قاتلوں” کی طالبان کے تخیّلی اور فوج کے ظاہری بہروپ میں یلغار ایک افسوسناک واقع ہے کیونکہ اس میں ہمارے 11 محبِ وطن کام آئے ۔ اس کے ساتھ ہی یہ ہمارے لئے فخر کی بات ہونا چاہیئے کہ ہمارے ملک کے پاسبانوں نے اپنی جانیں قربان کر کے اپنا فرضِ منصبی احسن طریقہ سے انجام دیا ۔ میں نے انگریزی کے لفظ “جنرل ہیڈ کوارٹر” کا ترجمہ “القاعدہ عمومی” اس لئے کیا ہے کہ اس عام سے بے ضرر لفظ کو مسلم دُشمن دنیا نے اپنے ذرائع ابلاغ کے زور سے سفّاک مُجرم بنا کے رکھ دیا ہے

ماضی کی طرح حملہ کی خبر نکلتے ہیں “طالبان” “طالبان” کا شور اُٹھا اور کْرّہ ارض پر چھا گیا ۔ امریکہ اور یورپ والے بھی جانتے ہیں مگر میرے ہموطنوں میں سے کون ہے جو طُلباء یا طالبان کا مطلب نہیں جانتا ؟ یہ الگ بات ہے کہ دورِ حاضر کے باعِلم ہموطن آجکل “طلباء” کو “طلبہ” لکھتے ہیں

آمدن برسرِ مطلب [ماضی میں اعتراض ہوا تھا کہ آمدم ہونا چاہیئے۔ آمدم کا مطلب ہے “ہم آئے” يعنی ایک سے زیادہ لوگ آئے ۔ دوسرے یہ ماضی کا صیغہ ہے اور آمدن بسرِ مطلب کے معنی ہیں “آنا مطلب کی طرف”] ۔ دورِ حاضر میں “طالبان” نام دیا گیا ہے دینی مدارس کے فارغ التحصیل کو اور فرض کر لیا گیا ہے کہ دینی مدارس کے فارغ التحصیل جاہل اور دہشتگرد ہوتے ہیں ۔ اگر یہ تشریح جو بے بنیاد ہے کو مان بھی لیا جائے تو جو شخص کبھی دینی مدرسہ گیا ہی نہ ہو وہ کیسے طالبان ہو گیا ؟ ایک اور بھی اصطلاح ہے دورِ حاضر کے سندیافتہ لوگوں کی جس میں پی ایچ ڈی بھی شامل ہیں کہ پاکستان کے پختون قبائلی دہشتگرد ہیں ۔ کوئی بھی واقعہ ہو اسے اُن سے جوڑنے میں تاخیر کو شاید حرام سمجھا جاتا ہے ۔ آج تک کسی نے سوچنے کی زحمت نہیں کی کہ واردات کرنے والوں کی پہچان کیا ہے ۔ بس ایک اعلان آتا ہے طالبان نے اس کی ذمہ داری قبول کر لی ۔ سب کو تسلی ہو گئی اور پھر استراحت فرمانے لگے یا ضیافتیں اُڑانے لگے ۔ ذمہ داری قبول کرنے والا درحقیقت کون ہے اور اُس کا آقا کون ہے ؟ اس سے ہمیں کوئی سروکار نہیں ہمیں صرف ایک بیان چاہیئے ہوتا ہے

سب سے پہلا حملہ پاکستان کی سپاہ پر پرویز مشرف کے زمانہ میں ہوا تھا ۔ اُس کے ردِ عمل میں کاروائی کی گئی تو 9 حملہ آور مارے گئے ۔ وہ نہ مسلمان تھے نہ یہودی کیونکہ اُن کے ختنے نہیں ہوئے تھے اور قبائلیوں نے انہیں نہلانے اور دفن کرنے سے انکار کر دیا تھا ۔ اس بات کو سختی سے دبا دیا گیا ۔ اور آج تک بار بار حقائق کو دبا کر تمام گندگی طالبان اور القاعدہ کے ناموں پر گرائی جا رہی ہے ۔ اور ايسا کرنے پر میرے بہت سے پڑھے لکھے ہموطن جن میں کچھ بلاگر اور میرے قارئین بھی ہیں فاتحانہ انداز اختیار کرتے ہیں

یہ حقیقت ثابت شدہ ہے کہ لاہور میں سری لنکا کے کھلاڑیوں اور اب جی ایچ کیو پر حملہ دونوں کمانڈو حملے تھے اور ان دونوں میں تمام تر دعووں کے باوجود نہ کوئی پختون قبائلی تھا نہ طالبان ۔ غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق ان کا تعلق پنجاب ۔ سرحد [قبائلی علاقہ نہیں] اور سندھ سے ہے

یقین

بِلُو بِلا صاحب نے “کرتوتوں کی سزا” کے عنوان کے تحت ایک رکشا والے کی بات بیان کی تو مجھے ایک اپنا آنکھوں دیکھا واقعہ یاد آیا لیکن پہلے میں یہ بتا دوں کہ یقین کسے کہتے ہیں ۔ یقین یا ایمان ایک ہی عمل کے دو نام ہیں ۔ آج دنیا کی آبادی کا چوتھا حصہ مسلمان ہیں مگر بے کس اور مجبور ۔ ہر مسلمان دعوٰی کرتا ہے کہ وہ اللہ پر ایمان رکھتا ہے ۔ حقیقت میں یہ بات بھاری اکثریت کے صرف ہونٹوں یا زیادہ سے زیادہ زبان کی نوک سے آگے اندر نہیں جاتی ۔ دل و دماغ میں یقین غیراللہ پر ہوتا ہے ۔ ورنہ کیا وجہ ہے کہ مسلمان اللہ پر یقین رکھتے ہوئے اللہ کی مدد کیلئے پکارے اور مدد نہ آئے

جو ہو ذوقِ یقیں پیدا تو کٹ جاتی ہیں زنجیریں

آدھی صدی کے قریب پرانا واقعہ ہے ۔بارشں نہیں ہو رہی تھی ۔ محکمہ موسمیات کے مطابق کئی دن تک بارش کے کوئی آثار نہ تھے ۔ خشک سالی کا اندیشہ تھا جس کا نتیجہ قحط ہو سکتا تھا ۔ راولپنڈی کی مساجد میں نمازِ استسقاء ادا کرنے کا اعلان کیا گیا ۔ بتایا گیا کہ شہر سے باہر پیدل جا کر پڑھی جائے گی ۔ ایک اجتماع ہیلی واٹر ورکس جو بعد میں کالی ٹینکی کے نام سے موسوم ہوا کے قریب اور دوسرا ٹوپی رکھ میں جو بعد میں ایوب نیشنل پارک کے نام سے موسوم ہوئی ۔ یہ راولپنڈی کی دو اطراف تھیں آبادی سے باہر ۔ مرد اور لڑکے جوق در جوق گھروں سے نکلے ۔ اس وقت کے صدر اور مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر جنرل ایوب خان بھی ٹوپی رکھ پہنچے ۔ میں دوسروی طرف یعنی ہیلی واٹر ورکس کی طرف گیا ۔ وہاں اتنے لوگ تھے کہ دور دور تک زمین نظر نہ آتی تھی ۔ نہ کوئی لاؤڈ سپیکر تھا اور نہ کوئی صف بچھی تھی ۔ کرتار پورہ کی بڑی مسجد کے خطیب مولوی عبدالحکیم صاحب جو ہمارے سکول میں اُستاذ رہ چکے تھے اور بعد میں رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے نے امامت کرائی ۔ نماز کے بعد دعا شروع ہوئی ۔ اتنی خاموشی تھی اور اللہ سُبحانُہُ و تعالٰی کی قدرت کہ دور دور تک آواز سنائی دی ۔ امام رو رہے تھے اور مقتدی بھی سسکیاں لینے لگے ۔ نہ ہمیں وقت کا احساس ہوا نہ پتہ چلا کہ کب بادل آئے ۔ دعا ختم ہونے پر گھروں کا رُخ کیا ۔ ابھی تھوڑا ہی چلے تھے کہ بارش شروع ہو گئی گھر پہنچنے تک تیز بارش شروع ہو چکی تھی

سابق صدر جنرل پرویز مشرف کے زمانہ میں بھی نمازِ استسقاء پڑھی گۓي تھی مگر ایوانِ صدر میں اور مساجد میں ۔ نہ کوئی گڑگڑایا نہ کسی نے آنسو بہائے اور بادل بھی شاید دور قہقہے لگاتے رہے ہوں مگر قریب نہ آئے ۔ ايوب خان بھی جنرل اور صدر تھا اور پرویز مسرف بھی جنرل اور صدر لیکن فرق واضح ہے