ہر سال جب ستمبر کا مہینہ شروع ہوتا ہے تو مجھے ستمبر سے دسمبر 1947ء کے دن یاد آتے ہیں جب ہم ہر وقت اِنتطار میں ہوتے تھے کہ ابھی حملہ ہو گا اور ہمارے ٹکڑے ٹکڑے کر دیئے جائیں گے
ہمارے ہمسایہ عبدالمجید ریاست کی فوج میں کرنل تھے ۔ اُن دنوں اُن کی تعیناتی برفانی علاقہ گِلگِت بَلتِستان میں تھی ۔ پتہ چلا کہ ستمبر 1947ء کے آخری ہفتہ میں اُن کے بیوی بچے ستواری (جموں چھاؤنی) جا رہے ہیں ۔ ہمارے بزرگوں کے کہنے پر وہ لوگ ہم 6 بچوں کو ساتھ لے جانے کو تیار ہو گئے ۔ اگلی رات ایک اور 2 بجے کے درمیان ایک فوجی ٹرک پر میں ۔ میری دونوں بڑی بہنیں ۔ 2سيکنڈ کزن اور ايک اُن کی پھوپھو اُن کے ساتھ چلے گئے
ہم میں سے سب سے بڑی میری سیکنڈ کزن 17 سال کی تھیں اور میں سب سے چھوٹا 10 سال کا تھا
جو کچھ گھر ميں موجود تھا اُس ميں سے کچھ آٹا ۔ چاول ۔ دالیں اور کچھ پیسے ہمیں دے دیئے گئے
چھاؤنی میں بعض اوقات رات کو “جے ہند” اور” سَت سِری اکال” کے نعروں کی آوازیں آتیں جو کہ کبھی بہت قریب سے ہوتیں ۔ پتہ چلا کہ بھارت سے راشٹریہ سیوِک سِنگ (آر ایس ایس) اور ہِندو مہا سبھا کے ہِندُو اور اکالی دَل کے سِکھ 50 یا زیادہ کے تربیت یافتہ مسلح جَتھے مُسلمانوں پر حملے کرنے کے لئے کبھی وہاں سے بھی گذرتے ہیں ۔ حفاظت کا معقول اِنتظام نہ ہونے کے باعث ہم ہر وقت موت کے لئے تیار رہتے
کھانا پکانے کے لئے میں اپنے سيکنڈ کزَن کے ساتھ باہر سے سوکھی تھور توڑ کے لاتا تھا جس سے میری ہتھیلیاں کانٹوں سے چھَلنی ہوگئیں تھیں ۔ جب تک ہم واپس نہ آتے ہماری بہنیں ہماری خیریت سے واپسی کی دعائیں مانگتی رہتیں
ايک دن ہم واپس آئے ۔ ہمارے دروازہ کھٹکھٹانے پر کِسی نے دروازہ کھولا تو ہم نے سب خواتين اور لڑکیوں کو دیکھا جیسے نوافل پڑھنے کے بعد بیٹھی دعا کر رہی ہوں ۔ میری سیکنڈ کزن فوراً اُٹھ کر آئیں ۔ مجھے پيار کيا پھر ميرے دونوں ہاتھوں کی ہتھليوں کو چومتی اور ديکھتی رہیں ۔ ميں نے ديکھا اُن کی آنکھوں سے برسات جاری تھی
میرے بعد اُنہوں نے اپنے بھائی کو گلے لگايا
اس کے بعد کرنل عبدالمجيد صاحب کی بيگم آئيں اور ميرے سر پر ہاتھ پھير کر دعائيں ديں ۔ پھر ميرے سيکنڈ کزن (بھائی ارشد حفیظ) کے سر پر ہاتھ پھیرا اور دعا دی
ہمارے پاس کھانے کا سامان تھوڑا تھا اور مزید لانے کا کوئی ذریعہ نہ تھا اس لئے ہم بالکل تھوڑا تھوڑا کھاتے تھے اور وہ بھی صرف دِن میں 2 وقت ۔ پہلے روٹیوں کے ساتھ پھر جب آٹا ختم ہو گیا تو اُبلے ہوئے چاولوں پر بغیر پیاز لہسن نمک مرچ مصالحہ صرف اُبلی ہوئی دال ڈال کر کھا لیتے
رات کو سونے کے لئے ایک 4 فُٹ چوڑا 5 فُٹ لمبا نمدا فرش پر بچھا کر اُوپر ایک 5 فُٹ چوڑی ساڑھے 6 فُٹ لمبی رضائی لیتے اور اُس کے نیچے ہم 6 آپس میں چِمَٹ کر لیٹ جاتے
پانی کی کمی کی وجہ سے ہم نہائے بھی نہیں
ہمارے پونے 3 مہینے اِسی طرح گزرے