جانچا تو دو کوڑی کا نہ نکلا ایمان اپنا

عبداللہ سوات کے پہاڑوں کی ایک خطرناک ڈھلوان پر چل رہا تھا کہ اس کا پاؤں پھسل گیا ۔ کچھ لڑھکنے کے بعد اس کے ہاتھ میں ایک جھاڑی کی ٹہنیاں آ گئیں اور وہ ان سے لٹک گیا ۔ اس نے نیچے کی طرف جانکا تو نیچے سیدھی ڈھیڑ دو سو فٹ گہری کھڈ دیکھ کر بہت پریشان ہوا ۔ جن ٹہنیوں سے وہ لٹکا ہوا تھا وہ کسی بھی لمحے ٹوٹ سکتی تھیں ۔ ایک ایک لمحہ بہت بھاری گذر رہا تھا یہاں تک کہ عبداللہ کی گرفت کمزور ہونے لگی ۔ وہ اپنی پوری قوت سے چلّایا ” کوئی ہے ۔ کوئی ہے ۔ بچاؤ بچاؤ “

اچانک کہیں سے ایک بہت بھلی آواز آئی ۔ ” عبد عبد ۔ سنو عبد “

عبداللہ نے جلدی سے کہا ” ہاں میں سن رہا ہوں تم کون ہو اور کہاں ہو ؟ “

جواب آیا ۔ ” میں ہوں تمہارا پیدا کرنے والا تمہارا رب ۔ میں ہر جگہ موجود رہتا ہوں “

عبداللہ حیرانی سے بولا ۔ ”  آپ ۔۔۔ اللہ ۔۔۔ اللہ تعالی ہو ۔ یا اللہ میں وعدہ کرتا ہوں میں اب کبھی کوئی برا کام نہیں کروں گا ۔ ساری زندگی عبادت میں گذار دوں گا “

آواز آئی ۔ ” حوصلہ کرو عبد پہلے تمہیں بحفاظت اتار لیں پھر آرام سے بات کریں گے “

 عبداللہ بولا ۔ ” مولا کریم پھر جلدی کریں”

آواز آئی ۔ ” میری بات غور سے سنو عبد اور جو کہوں وہ کرو ”    

عبداللہ بولا ۔ ” میرے مالک میں سب کچھ کرنے کے لئے تیار ہوں “

آواز آئی ۔ ” عبد شاخ کو چھوڑ دو “

عبداللہ سخت پریشانی میں بولا ۔”  کے کے کے کیا  آ  آ  آ  آ  ؟ “

آواز آئی ۔ ” ہاں عبد مجھ پر بھروسہ کرو اور بے فکر ہو کر شاخ چھوڑ دو “

کچھ دیر خاموشی رہی اور پھر عبداللہ کی آواز گونجی ۔ ” کوئی ہے ۔ کوئی ہے ۔ بچاؤ بچاؤ “

فراغت

بچپن میں سنا کرتے تھے “خالی بیٹھے شیطان سوجھے”۔ اللہ کروٹ کروٹ جنت نصیب فرماۓ ہمارے اساتذہ کو ۔ انہوں نے ہماری تربیّت بھی کچھ ایسی کی ۔ مجھے نہ گلی کی نکّڑ پر کھڑے ہو کر یا پُلّی پر بیٹھ کر گپیں ہانکنے کی عادت تھی اور نہ آوارہ گردی کی ۔ اپنا وقت گذارنے کے لئے میں اچھی کتابیں پڑھتا اور چھوٹی چھوٹی کہانیاں لکھا کرتا تھا ۔ جن پر میرے اساتذہ مجھے شاباش دیا کرتے تھے اور میں خوشی سے پھولا نہ سمایا کرتا تھا ۔ کچھ دن پہلے میں اپنے کاغذات پھرول رہا تھا کہ مجھے بچپن کی لکھی ایک کہانی ملی جس پر میرے استاد اتنے خوش ہوۓ تھے کہ صبح دعا کے وقت انہوں نے سارے سکول کے طلباء اور اساتذہ کے سامنے پڑھ کر سنائی تھی

وہ کہانی اِن شاء الله کچھ دن بعد پیشِ خدمت کروں گا

علّامہ اقبال فراغت کے سلسلہ میں کہتے ہیں ۔

ملے گا  منزل  مقصود  کا  اُسی کو  سُراغ 

اندھیری شَب میں ہے چِیتے کی آنکھ جس کا چراغ

میّسر  آتی  ہے  فُرصت  فقط  غلاموں کو

نہیں ہے بندہءِ حُر کے لئے جہاں میں فراغ

وہ 15 فٹ گہرے پانی میں کود گیا

نوٹ فرمایئے ۔ واقعہ حقیقی ہے لیکن نام فرضی ہیں

آدھی صدی سے پہلے کا واقعہ ہے۔ جمیل کو اس ادارے کی ملازمت شروع کئے سوا دو سال ہو چکے تھے۔ وہ آفیسرز کلب میں سکواش کھیلنے جاتا تھا ۔ آفیسرز کلب میں ایک سویمنگ پول تھا ۔ نزدیکی کنارے پر پانی 2 فٹ گہرا تھا اور دور  والے کنارے کی طرف گہرا ہوتا جاتا تھا حتی کہ آخر میں لمبائی کے 20 فٹ حصّہ میں پانی 15 فٹ گہرا تھا۔ وہاں سپرنگ بورڈ لگے ہوئے تھے

مئی کا مہینہ تھا۔ ایک سینئر آفیسر نے جمیل سے کہا ” آپ سویمنگ پول پر نظر نہیں آئے”۔

جمیل نے بتایا کہ اسے تیرنا نہیں آتا۔ آفیسر نے مُسکرا کر کہا “پانی میں جاؤ گے تو تیرنا سیکھو گے نا”۔

دوسرے دن جمیل سویمنگ پول پر پہنچ گیا۔ وہ آفیسر بھی آئے اور انہوں نے دو اچھے تیراکوں طلعت اور جمشید کے ذمّہ کیا کہ وہ جمیل کو تیرنا سیکھائیں۔ محنت کر کے ایک ماہ میں جمیل اس قابل ہو گیا کہ چار ساڑھے چار فٹ گہرے پانی میں چند منٹ تیر لیتا

ایک دن جمیل سویمنگ پول پر پہنچا تو وہاں اور ابھی کوئی بھی نہیں آیا تھا۔ شاور لے کر آیا تو دیکھا کہ ایک بارہ تیرا سالہ لڑکے نے سپرنگ بورڈ پر سے اُچھل کر چھلانگ لگائی اور کوئی 12 فٹ پانی کی تہہ میں پہنچ کر ہاتھ پاؤں مار نے لگا

جمیل کو احساس ہوا کہ لڑکا ڈوب جائے گا ۔ وہ بھاگتا ہوا دوسرے کنارے پر پہنچا دل میں کہا ”یا اللہ اسے بچا“ اور 15 فٹ گہرے پانی میں چھلانگ لگا دی۔ اتفاق سے وہ سیدھا تہہ تک پہنچا ۔ اس نے اپنے پاؤں سے فرش کو دھکا دیا جس سے وہ تیزی سے اُوپر کی طرف اٹھا۔ اُوپر اُٹھتے ہوئے اس نے لڑکے کو اوپر کی طرف دھکا دیا ۔ جونہی جمیل کا سر پانی سے باہر نکلا اس نے اچھل کر غوطہ لگایا اور دوبارہ لڑکے کو اُوپر دھکیلا۔ اس بار کچھ پانی جمیل کی ناک میں گھس گیا

جب جمیل کا سر باہر نکلا تھا تو اسے آوازیں سنائی دی تھیں ” سر ۔ ایک دم پیچھے ہٹ جائیں”۔

چنانچہ دوسری بار جمیل کا سر پانی سے باہر نکلا تو وہ کوشش کر کے 4 فٹ دور کنارہ پر لگی سیڑھی تک پہنچا اور سویمنگ پول سے باہر نکل آیا

جمیل چند منٹ کھانستا رہا ۔ اس کے بعد اس نے دیکھا کہ ایمبولنس لڑکے کو لے کر جا رہی ہے ۔ ایمبولنس جانے کے بعد طلعت اور جمشید جمیل کے پاس آئے اور کہا “سر ۔ یہ آپ نے کیا کیا ؟  آپ کو تیرنا بھی نہیں آتا اور آپ نے گہرے پانی میں چھلانگ لگا دی” ۔

جمیل بولا “میں لڑکے کو ڈوبتا ہوا نہیں دیکھ سکتا تھا ۔ اچھا ہوا آپ لوگ پہنچ گئے اور لڑکے کو بچا لیا”۔

طلعت بولا “سر۔ لڑکے کو ہم نے نہیں آپ ہی نے بچایا۔ آپ لڑکے کو پانی کی سطح پر لے آئے تھے۔ ہم نے تو اسے صرف پول سے باہر نکالا “

حقیقی حسن



ظاہری حسن پہ نہ جائیے ۔ دھوکا ہو سکتا ہے

دولت پہ نہ جائیے ۔ ختم ہو جاتی ہے

پہچانئے اسے جو آپ کو مسکراہٹ دے

مسکراہٹ تاریک دن کو بھی روشن بنا دیتی ہے

تلاش کیجئے اسے جو آپ کے دل کو مسکراہٹ دے

جب الله چاہے

پرانی بات ہے  مگر اب بھی تازہ ہے ۔ رات کے ساڑھے گیارہ بجے تھے ۔ تیز طوفانی بارش تھی ایسے میں ایک شاہراہ کے کسی ویران حصّے میں ایک کار خراب ہوگئی ۔ اسے ایک ادھڑ عمر خاتون چلا رہی تھی جو اکیلی تھی ۔  وہ خاتون کار سے باہر نکل کر شاہراہ کے کنارے کھڑی ہوگئی تا کہ کسی گذرنے والی گاڑی سے مدد لے سکے ۔

اتفاق سے ایک البیلا جوان اپنی عمدہ نئی کار چلاتے جا رہا تھا کہ اس کی نظر اس بھیگی ہوئی خاتون پر پڑی ۔ نجانے وہ کیوں اپنی عادت کے خلاف رک گیا اور تیز بارش اور گاڑی گندی ہونے کی پروا کئے بغیر باہر نکل کر خاتون کا بیگ اٹھایا اور خاتون کو اپنی کار میں بٹھا کر چل پڑا ۔ آبادی میں پہنچ کر اسے ٹیکسی پر بٹھا کر رخصت کیا ۔ خاتون بہت پریشان اور جلدی میں تھی ۔ اس جوان کا پتہ نوٹ کیا اور شکریہ کہہ کر رخصت ہوئی ۔

ہفتہ عشرہ بعد اس جوان کے گھر کی گھنٹی بجی ۔ باہر نکلا تو ایک کوریئر کا ٹرک کھڑا تھا اس میں سے ایک شخص نکلا اور کہا “جناب آپ کا ٹی وی “۔ جوان حیران ہو ہی رہا تھا کہ کوریئر والے نے اسے ایک خط دیا ۔ جلدی سے کھولا ۔ لکھا تھا ”  میں آپ کی بہت مشکور ہوں ۔ آپ نے آدھی رات کے وقت شاہراہ پر میری مدد کی جس کے باعث میں اپنے قریب المرگ خاوند کے پاس اس کی زندگی میں پہنچ گئی اور اس کی آخری باتیں سن لیں ۔ میں آپ کی ہمیشہ مشکور رہوں گی ۔ اللہ آپ کو ہمیشہ خوش رکھے اور آپ دوسروں کی بے لوث خدمت کرتے رہیں ۔ آمین ۔ آپ کی ممنون  ۔ بیگم ۔ ۔ ۔ “

عید مبارک ۔ کلُ عام اَنتُم بخیر

رمضان کا مبارک مہینہ ختم ہونے کو ہے ۔ الله سبحانُهُ و تعالٰی سب کے روزے اور عبادتيں قبول فرمائے
عید کے دن فجر کی نماز سے مغرب کی نماز تک یہ ورد جاری رکھیئے ۔ نماز کیلئے جاتے ہوئے اور واپسی پر بلند آواز میں پڑھنا بہتر ہے

اللهُ اکبر اللهُ اکبر لَا اِلَہَ اِلْاللهُ وَحْدَہُ لَا شَرِیْکَ لَہُ
لَهُ الّمُلْکُ وَ لَهُ الْحَمْدُ وَ ھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیٍ قَدِیر
اللهُ اکبر اللهُ اکبر لَا اِلَہَ اِلْاللهُ و اللهُ اکبر اللهُ اکبر  و للهِ الحمد
اللهُ اکبر اللهُ اکبر لَا اِلَہَ اِلْاللهُ و اللهُ اکبر اللهُ اکبر  و للهِ الحمد
اللهُ اکبر اللهُ اکبر لَا اِلَہَ اِلْاللهُ و اللهُ اکبر اللهُ اکبر  و للهِ الحمد
اللهُ اکبر کبِیرہ والحمدُللهِ کثیِرہ و سُبحَان اللهِ بکرۃً و أصِیلا

اللّہُمَ صلٰ الله سیّدنا محمد و علٰی آلهِ و صحبهِ و سلِّمو تسلِما

میں اپنی اور اپنے اہلِ خانہ کی طرف سے آپ سب کی خدمت ميں عيدالفطر کا ہديہِ تبريک پيش کرتا ہوں
الله کریم آپ سب کو دائمی عمدہ صحت ۔ مُسرتوں اور خوشحالی سے نوازے ۔ آمين ثم آمين ۔

آیئے سب انکساری ۔ رغبت اور سچے دِل سے دعا کریں اے مالک و خالق و قادر و کریم و رحمٰن و رحیم و سمیع الدعا
رمضان المبارک میں ہوئی ہماری غلطیوں اور کوتاہیوں سے درگذر فرما اور ہمارے روزے اور دیگر عبادتیں قبول فرما
اپنا خاص کرم فرماتے ہوئے ہمارے ہموطنوں کو آپس کا نفاق ختم کر کے ایک قوم بننے کی توفیق عطا فرما
ہمارے ملک کو اندرونی اور بیرونی سازشوں سے محفوظ رکھ
ہمارے ملک کو امن کا گہوارہ بنا دے
ہمیں ۔ ہمارے حکمرانوں اور دوسرے رہنماؤں کو سیدھی راہ پر چلا
ہمارے ملک کو صحیح طور مُسلم ریاست بنا دے
آمین ثم آمین

محبت کا صلہ

جب کسی سے  آپ  بے  پناہ محبت کریں

ضروری نہیں کہ وہ آپ سے محبت کرنے لگے

محبت کے بدلے میں محبت کی امید نہ رکھیئے

اس کے دل میں محبت جاگنے کا انتظار کیجئے

اس کے دل میں نہ بھی جاگے تو کم از کم آپ کے دل میں تو پیدا ہوئی

اور یہی آپ کی محبت کا صلہ ہے