سُبْحَانَكَ لاَ عِلْمَ لَنَا إِلاَّ مَا عَلَّمْتَنَا إِنَّكَ أَنتَ الْعَلِيمُ الْحَكِيمُ ۔ صَدَقَ اللہُ العَظِیم
ترجمہ ۔ تیری ذات پاک ہے ہمیں کچھ علم نہیں مگر اُسی قدر جو تُو نے ہمیں سِکھایا ہے، بیشک تُو ہی جاننے والا حکمت والا ہے
میں نہ تو عالِمِ دین ہوں اور نہ ہی ایسا سوچ سکتا ہوں لیکن اللہ کے فضل ہے کہ جو بات میری سمجھ میں آتی ہے اس کو لکھنے سے پہلے میں حتٰی الوسع تحقیق کرنے کا عادی ہوں ۔ اصولِ فقہ ہے کہ سب سے پہلے قرآن شریف سے رجوع کیا جائے ۔ جو چیز قرآن شریف میں نہ ملے اسے سنّت میں تلاش کیا جائے ۔ جب کوئی چیز قرآن اور سنّت میں نہ ملے تو اصحابہ مقربین میں تلاش کیا جائے ۔ اگر اصحابہ مقربین کے قول و فعل سے بھی وہ چیز نہ ملے تو پھر علماء دین کا اجماع کیا جائے ۔ جو حُکم قرآن شریف سے مل جائے اسے پھر کہیں اور ڈھونڈنے کی حاجت نہیں رہتی اور جو حُکم قرآن شریف میں واضح ہو اس پر کسی انسان کی رائے مقدم نہیں ہو سکتی ۔ اختلاف رائے انسان کا حق صرور ہے لیکن اختلاف کی بنیاد علم کا حصول ہو تو صحتمند بحث ہوتی ہے ورنہ فضول تکرار ۔ ملاحظہ ہو کہ اللہ سبحانُہُ و تعالٰی نے کیا فرمایا ہے ۔
سُورة ۔ 2 ۔ الْبَقَرَة ۔ آیة ۔ 221
وَلاَ تَنكِحُواْ الْمُشْرِكَاتِ حَتَّى يُؤْمِنَّ وَلَأَمَةٌ مُّؤْمِنَةٌ خَيْرٌ مِّن مُّشْرِكَةٍ وَلَوْ أَعْجَبَتْكُمْ وَلاَ تُنكِحُواْ الْمُشْرِكِينَ حَتَّى يُؤْمِنُواْ َلَعَبْدٌ مُّؤْمِنٌ خَيْرٌ مِّن مُّشْرِكٍ وَلَوْ أَعْجَبَكُمْ أُوْلَـئِكَ يَدْعُونَ إِلَى النَّارِ وَاللّهُ يَدْعُوَ إِلَى الْجَنَّةِ وَالْمَغْفِرَةِ بِإِذْنِهِ وَيُبَيِّنُ آيَاتِهِ لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ يَتَذَكَّرُونَ
ترجمہ ۔ اور تم مشرک عورتوں کے ساتھ نکاح مت کرو جب تک وہ مسلمان نہ ہو جائیں، اور بیشک مسلمان لونڈی [آزاد] مشرک عورت سے بہتر ہے خواہ وہ تمہیں بھلی ہی لگے، اور [مسلمان عورتوں کا] مشرک مردوں سے بھی نکاح نہ کرو جب تک وہ مسلمان نہ ہو جائیں، اور یقیناً مشرک مرد سے مؤمن غلام بہتر ہے خواہ وہ تمہیں بھلا ہی لگے، وہ [کافر اور مشرک] دوزخ کی طرف بلاتے ہیں، اور اﷲ اپنے حکم سے جنت اور مغفرت کی طرف بلاتا ہے، اور اپنی آیتیں لوگوں کے لئے کھول کر بیان فرماتا ہے تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں
سُورة ۔ 5 ۔ الْمَآئِدَة ۔ آیة ۔ 5
الْيَوْمَ أُحِلَّ لَكُمُ الطَّيِّبَاتُ وَطَعَامُ الَّذِينَ أُوتُواْ الْكِتَابَ حِلٌّ لَّكُمْ وَطَعَامُكُمْ حِلٌّ لَّهُمْ وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ الْمُؤْمِنَاتِ وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ الَّذِينَ أُوتُواْ الْكِتَابَ مِن قَبْلِكُمْ إِذَا آتَيْتُمُوهُنَّ أُجُورَهُنَّ مُحْصِنِينَ غَيْرَ مُسَافِحِينَ وَلاَ مُتَّخِذِي أَخْدَانٍ وَمَن يَكْفُرْ بِالْإِيمَانِ فَقَدْ حَبِطَ عَمَلُهُ وَهُوَ فِي الْآخِرَةِ مِنَ الْخَاسِرِينَ
ترجمہ ۔ آج تمہارے لئے پاکیزہ چیزیں حلال کر دی گئیں، اور ان لوگوں کا ذبیحہ جنہیں کتاب دی گئی تمہارے لئے حلال ہے اور تمہارا ذبیحہ ان کے لئے حلال ہے، اور پاک دامن مسلمان عورتیں اور ان لوگوں میں سے پاک دامن عورتیں جنہیں تم سے پہلے کتاب دی گئی تھی جب کہ تم انہیں ان کے مَہر ادا کر دو، [مگر شرط] یہ کہ تم [انہیں] قیدِ نکاح میں لانے والے بنو نہ کہ اِعلانیہ بدکاری کرنے والے اور نہ خفیہ آشنائی کرنے والے، اور جو شخص َحکامِ الٰہی پرایمان [لانے] سے انکار کرے تو اس کا سارا عمل برباد ہوگیا اور وہ آخرت میں نقصان اٹھانے والوں میں سے ہوگا
مندرجہ بالا پہلی آیت کے مطابق مسلمان مردوں کا نکاح مشرک عورتوں سے اور مسلمان عورتوں کا نکاح مشرک مردوں سے ممنوع قرار دے دیا گیا جب تک کہ وہ مسلمان نہ ہو جائیں ۔ دوسری آیت کے مطابق صرف مردوں کو اہلِ کتاب عورتوں سے نکاح کی اجازت دی گئی بشرطیکہ وہ پاکدامن ہوں لیکن پہلی آیت والی شرط بہرصورت موجود رہے گی یعنی وہ مشرک نہ ہوں اور اگر تھیں تو نکاح سے قبل مسلمان ہو جائیں ۔