Category Archives: روز و شب

لال مسجد کا معاملہ اور ہمارا رویّہ

حالات و واقعات ۔ ایک محقق شیخ محمد علی صاحب کی نظر میں
لال مسجد و مدرسہ حفصہ کے معاملے میں جو کچھ بھی صورت حال گزشتہ کئی ماہ سے ہویدا ہو رہی تھی اس کی تفصیلات میں جانا یقیناً اس اعتبار سے غیر ضروری ہے کہ تقریباً ہر شخص اس کے ہر پہلو سے بخوبی آگاہ ہے۔ حکومتی سطح پر اس معاملے میں جو رویہ اپنایا گیا اور اس خصوصی تناظر میں پروپیگنڈے کے لئے جو ہتھیار استعمال کئے گئے بلاشبہ صاحب علم و ظرف اس سے بھی بخوبی آگاہ ہیں۔ اس سارے معاملے کا سب سے المناک، دلگیر اور خون کے آنسو رلا دینے والا پہلو وہ آپریشن ہے جس کا اختتام 10 جولائی 2007ء کو سینکڑوں ہلاکتوں اور خود مسجد کے تقدس کی پامالی کی صورت میں سامنے آیا، وہ اپنوں کے مقابل اپنے، وہی مٹھی بھر مسلمانوں کی جماعت کے آگے صف آرا فوج، وہی پھول جیسے معصوم بچے، وہی پانی و تراسیل کی بندش اور وہی مقتل میں اذانیں، اللہ اکبر! یہ سب کچھ اس مملکت خداداد پاکستان میں ہوا جسے بقول شخصے اسلام کے نام پر حاصل کیا گیا تھا اور جس کے آئین میں قرآن و سنت کی بالادستی کی قسم بھی کھائی گئی تھی۔

اس ٹولے نے تو انتہا کردی جسے اپنے سیاستداں ہونے پر فخر ہے اور جو صرف جی حضوری کی روٹی کھا رہا ہے اور جس کے نزدیک کسی کی عزت، کسی کا دکھ اور کسی کی موت کوئی معنی نہیں رکھتی سوائے وزارت و نیابت کے مزے لوٹنے کے۔ ان لوگوں نے اس قیامت کے ڈھائے جانے میں اپنا بھرپور کردار ادا کیا اور کسی مرحلے پر بھی یہ گمان تک پیدا نہ ہونے دیا کہ انہیں اس بدترین خون خرابے پر دکھ، پریشانی اور اذیت ہے۔ ان کے سپاٹ چہروں کے پیچھے دوسروں کے خوف کو بخوبی محسوس کیا جاسکتا تھا کہ کہیں مدرسہ و مسجد والوں سے ذرا سی ہمدردی بھی بھاری نہ پڑ جائے اور کرسی سے محرومی کے ساتھ ساتھ عتاب بھی ان کا مقدر بن جائے انہوں نے صرف اور صرف اسلام اور مسلمانوں کے دشمنوں کی نظروں میں اعتبار کی خاطر اور اپنی دنیوی راحتوں کی خاطر مسلمانوں کے خون کی اتنی بڑی ہولی کھیلی۔ ان کے دلوں میں مسلمانوں کا کتنا درد ہے یہ بات بھی آج اس مرحلے پر ڈھکی چھپی نہیں رہی۔

اس واقعہ کا دوسرا افسوسناک پہلو خود ہمارے علماء کرام کا کردار ہے جنہوں نے خدا معلوم مصلحتاً یا کسی اور لالچ و خوف میں اپنے آپ کو اس سارے معاملے سے دور رکھا اور شتر مرغ کی طرح ریت میں اپنے منہ کو چھپا کر یہ سمجھ لیا کہ شاید ان کا یہ عمل انہیں اپنے ساتھ ہونے والی کسی ایسی ہی زیادتی سے بچا لے گا اور یہ اپنے اس کردار کے باعث امان پا جائیں گے۔ اخبارات گواہ ہیں کہ ماضی میں ان کی طرف سے جو بھی کوششیں ہوئی تھیں ان کے پس پشت بھی صرف سرکار کا ہاتھ تھا جو اپنے موقف پر اہل مسجد و مدرسہ کو جھکانا چاہتی تھی۔ یہ اگر کسی مصلحانہ کردار کی کوشش کرتے اور حکومت و فریقین کو کسی ایک یا چند نکات پر اکٹھا کر لیتے تو یقیناً حرمت دین و مسجد قائم رکھنے میں ان کے کردار کو سراہا جاتا اور یہ بدترین سانحہ شاید رونما نہ ہوتا لیکن انہیں تو صرف حکومتی ایجنڈے پر اہل مسجد و مدرسہ کی تائید درکار تھی اور ساری ہی گفت و شنید اسی ایک مرکز کے گرد گھوم رہی تھی۔ انہیں خوف تھا کہ اگر انہوں نے حق و سچائی اور واقعات کے حقیقی پہلو کے حوالے سے کوئی کردار ادا کیا تو شاید حکومت کا عتاب ان پر بھی نہ آ گرے سو انہوں نے خاموشی سے کنارہ کشی میں عافیت جانی اور ایک محفوظ مستقبل کی امید میں پردہ سیمیں سے غائب ہوگئے۔ حالات تیزی کے ساتھ خراب ہونا شروع ہوگئے حتٰی کہ قیامت صغریٰ نازل ہو رہی تب کہیں جا کر ان علماء کا سویا ضمیر جاگا لیکن اب بہت دیر ہو چکی تھی۔ مذاکرات، مصالحتوں اور ثالثی کا بھی ایک وقت اور حالات ہوتے ہیں، جس وقت اہل مسجد و مدرسہ محبوس و مقید تھے، فائرنگ و گولہ باری کی ایک یلغار تھی، پانی، بجلی، گیس، خوراک اور دیگر رسیدیں کاٹی جا چکی تھیں، وزراء و سیاستدانوں نے اعتماد کی فضا کو الگ تار تار کر چھوڑا تھا اور طرح طرح کے حیلے انہیں جائے پناہ سے باہر نکالنے کی خاطر برتے جا رہے تھے آپ ہی بتایئے ان حالات میں مثبت مذاکرات پر کوئی پیش رفت کیسے و کیونکر ممکن تھی؟ ایسا ہر دعویٰ عبث و لغو تھا سو اس بدترین مرحلے پر علماء کا یہ مذاکرات کردار ماسوائے مُردے کو دوا پلانے کے کچھ نہ تھا۔ اپنے آپ کو اس سارے قضیے سے جدا و الگ تھلگ رکھنے والے اور اپنے مدارس کی فکر میں پریشان ہونے والوں کے لئے یقیناً یہ خبر کوئی نوید نہ لائی ہوگی کہ حکومت نے بجائے ان کی پیٹھ تھپتھپانے کے ان کے مدارس کی طرف بھی نگاہیں کرنے کا عندیہ دے ہی ڈالا۔

کاش کہ ریت میں منہ دینے کے بجائے حقائق کے ادراک پر توجہ دی جاتی اور ان حالات کو سمجھا جاتا جو آج سے نہیں 11 ستمبر 2001 سے ہویدا ہیں اور بالخصوص جس کا شکار پاکستان ہے۔ مغربی پالیسیوں اور ان کی تمام تر حکمت عملیوں کا مرکز مساجد و مدارس ہی ہیں کیونکہ یہاں سے وہ مسلمان پیدا ہوتے ہیں جن کے دلوں میں صرف اللہ کا خوف اور نبی ﷺ کی اطاعت کا جذبہ کارفرما ہوتا ہے اور یہی دونوں چیزیں اہل مغرب کی سراسیمگی و وحشت کا باعث ہیں۔

وہ علماء جو سیاسی بساط کا مہرہ ہیں ۔ بقول شخصے سیاست جن کا اوڑھنا بچھونا ہے انہوں نے تو بے حسی کی انتہا کردی اور اپنی سیاسی سرگرمیوں پر وقت کے اس اہم و نازک مسئلے کو تج دیا اور آل پارٹی کانفرنس کے لئے لندن جا بیٹھے۔ غضب خدا کا ۔ اللہ اور اس کے رسول کے نام لیوا موت و زندگی کی کشاکش میں مبتلا تھے، کسی بھی لمحے یہ قیامت صغریٰ برپا ہونے جا رہی تھی، سینکڑوں معصوم بچوں اور بچیوں کی زندگی کا سوال تھا، اک عالم کرب و بلا کا سا منظر تھا، ہر دل آنے والے لمحوں کے تصور سے ہی لرزاں تھا اور یہ حسب روایت اپنی بے حسی کا مظاہرہ فرما رہے تھے اور بازار سیاست میں کرسی اقتدار کے سودے کی فکر میں غلطاں تھے۔ اس موقع پر یہ کانفرنس اور بعدہ، اس کا جاری رہنا ازخود سیاست دانوں کے لئے بے حسی کا مظہر تھا، حیرت ہے کہ یہ واقعہ رونما بھی ہوگیا، آپریشن کے نام پر مسلمانوں کے خون سے ہولی کھیلی جانے لگی، ہر حساس دل پاکستانی مضطرب و بے چین دکھائی دینے لگا، لوگ ٹی وی کے آگے بیٹھے بہتے آنسوؤں میں تفصیلات جانتے رہے اور ان کی سیاست کا بازار بدترین بے حسی کے ساتھ گرم رہا۔ ذرا خیال فرمایئے خدانخواستہ ان میں سے اگر کسی کا اپنا بچہ یا بچی اس عذاب میں مبتلا ہوتی تو کیا تب بھی ان کے یہی مشاغل جاری رہتے۔ انہیں تو قوم کے دکھ و درد کا دعویٰ ہے یہ اس خونچکاں سانحے پر کیونکر بے حس ہو رہے یہی بات سمجھ سے بالاتر ہے۔

جہاں تک مولانا و مولانا نما کی بات ہے تو میں اس تناظر میں بہت سخت جملے لکھنے سے اپنے آپ کو باز رکھ رہا ہوں لیکن سچ صرف یہی ہے کہ یہ مسلمانوں کے بہی خواہ، ان کے ہمدرد اور مخلص نہیں، ان کے دل سخت ہو چکے ہیں جنہیں کسی کے دکھ، درد اور وحشتوں کا ادراک نہیں حالانکہ یہ اپنے کو اس نبی کا وارث قرار دیتے ہیں جس کی ریش مبارک کو صحابہ کرام نے دوسروں کے دکھوں پر تر ہوتے دیکھا ہے اور مسلسل دیکھا ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ [جاری ہے]

استفسارات کا جواب

میں نے حدیث اور سنت کی اہمیت بارے اظہارِ خیال کیا تو استفسارات کا سامنا ہوا ۔ جن میں نعمان اور افضل صاحبان کا استتفسار ہے کہ نماز کی اہمیت ۔ قرآن اور احادیث مبارکہ پڑھنے ۔ دین کے مطالعے کا طریقہ کار ۔ خصوصاً انٹرنیٹ اور کمپیوٹر کے ذریعے دین کا درست مطالعہ اور کس طرح کیا جائے اور یہ کہ کیسے اندازہ لگایا جائے کہ جو معلومات حاصل کررہے ہیں وہ مستند ہے یا نہیں ۔ کچھ دیگر حضرات شک میں ہیں کہ کونسی حدیث درست ہے اور کونسی نہیں ۔

میں کئی بار لکھ چکا ہوں کہ میں تو صرف ایک طالبِ علم ہوں ۔ بہرحال میں ان حضرات کا ممنون ہوں کہ مجھے اس قابل سمجھا ۔ میں اپنی سے طرف دین کی ترویج کی پوری کوشش کروں گا ۔ یہ استفسارات طویل تشریح طلب ہیں جس کیلئے کئی نشستیں درکار ہیں ۔ سب سے اہم معاملہ درست اور نادرست یا مستند اور غیرمستند کا ہے ۔ اس کا سبب نفساتی بھی ہے اور غیر مستند کتب کی اشاعت بھی ۔ کسی بھی تحریر کو سمجھنے کیلئے ضروری ہے کہ انسان اپنے وسوسوں کو کچھ دیر کیلئے پکی نیند سُلا دے ورنہ ہر بات غلط محسوس ہو گی ۔ علم حاصل کرنے کیلئے دوسرا اہم قدم یہ ہے کہ جو کچھ پڑھا جائے اسے اپنے نظریات یا مفروضات پر منطبق کرنے کی کوشش نہ کی جائے بلکہ مطالعہ سے حقائق کی شناخت کے بعد اپنے نظریات درست کئے جائیں ۔

اردو میں قرآن شریف اور اُردو ترجمہ پڑھنے اور تلاوت سننے کیلئے مندرجہ ذیل ربط پر جائیے ۔
http://www.asanquran.com/Quran.cfm
یہاں پر صرف قرآن شریف کا اردو ترجمہ پڑ سکتے ہیں ۔
http://www.quranweb.org/urdu/index.htm

یہاں پر آپ کو دین اسلام کے متعلق بہت کچھ پڑھنے کو ملے گا
http://www.islamicity.com/mosque/quran

قرآن شریف کا انگریزی ترجمہ مندرجہ ذیل ربط پر دیکھئے ۔ اسی ربط پر انگریزی میں حدیث بھی ملے گی اور تلاش کا بندوبست بھی ہے ۔ اس کے علاوہ اور بھی مفید معلومات اور مضامین اسلام کے متعلق ہیں
http://www.usc.edu/dept/MSA/quran

جہاں تک میرا تعلق ہے میرے پاس اللہ کے فضل سے کئی مفسرین کی تفاسیر ہیں اور حدیث کی کتاب صحیح بخاری ہے ۔ جامعہ اظہر کی کتاب الفقہ ہے ۔ سیرت النبی مولانا شبلی نعمانی کی لکھی ہوئی ہے ۔ میرے پاس وڈیو آڈیو سی ڈیز بھی ہیں ۔ اس کے علاوہ میں کئی ویب سائٹس سے بھی استفادہ کرتا ہوں ۔

انشاء اللہ یہ سلسلہ وقفہ کے ساتھ جاری رہے گا

اہلِ کتاب سے شادی

سُبْحَانَكَ لاَ عِلْمَ لَنَا إِلاَّ مَا عَلَّمْتَنَا إِنَّكَ أَنتَ الْعَلِيمُ الْحَكِيمُ ۔ صَدَقَ اللہُ العَظِیم

ترجمہ ۔ تیری ذات پاک ہے ہمیں کچھ علم نہیں مگر اُسی قدر جو تُو نے ہمیں سِکھایا ہے، بیشک تُو ہی جاننے والا حکمت والا ہے

میں نہ تو عالِمِ دین ہوں اور نہ ہی ایسا سوچ سکتا ہوں لیکن اللہ کے فضل ہے کہ جو بات میری سمجھ میں آتی ہے اس کو لکھنے سے پہلے میں حتٰی الوسع تحقیق کرنے کا عادی ہوں ۔ اصولِ فقہ ہے کہ سب سے پہلے قرآن شریف سے رجوع کیا جائے ۔ جو چیز قرآن شریف میں نہ ملے اسے سنّت میں تلاش کیا جائے ۔ جب کوئی چیز قرآن اور سنّت میں نہ ملے تو اصحابہ مقربین میں تلاش کیا جائے ۔ اگر اصحابہ مقربین کے قول و فعل سے بھی وہ چیز نہ ملے تو پھر علماء دین کا اجماع کیا جائے ۔ جو حُکم قرآن شریف سے مل جائے اسے پھر کہیں اور ڈھونڈنے کی حاجت نہیں رہتی اور جو حُکم قرآن شریف میں واضح ہو اس پر کسی انسان کی رائے مقدم نہیں ہو سکتی ۔ اختلاف رائے انسان کا حق صرور ہے لیکن اختلاف کی بنیاد علم کا حصول ہو تو صحتمند بحث ہوتی ہے ورنہ فضول تکرار ۔ ملاحظہ ہو کہ اللہ سبحانُہُ و تعالٰی نے کیا فرمایا ہے ۔

سُورة ۔ 2 ۔ الْبَقَرَة ۔ آیة ۔ 221

وَلاَ تَنكِحُواْ الْمُشْرِكَاتِ حَتَّى يُؤْمِنَّ وَلَأَمَةٌ مُّؤْمِنَةٌ خَيْرٌ مِّن مُّشْرِكَةٍ وَلَوْ أَعْجَبَتْكُمْ وَلاَ تُنكِحُواْ الْمُشْرِكِينَ حَتَّى يُؤْمِنُواْ  َلَعَبْدٌ مُّؤْمِنٌ خَيْرٌ مِّن مُّشْرِكٍ وَلَوْ أَعْجَبَكُمْ أُوْلَـئِكَ يَدْعُونَ إِلَى النَّارِ وَاللّهُ يَدْعُوَ إِلَى الْجَنَّةِ وَالْمَغْفِرَةِ بِإِذْنِهِ وَيُبَيِّنُ آيَاتِهِ لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ يَتَذَكَّرُونَ

ترجمہ ۔ اور تم مشرک عورتوں کے ساتھ نکاح مت کرو جب تک وہ مسلمان نہ ہو جائیں، اور بیشک مسلمان لونڈی [آزاد] مشرک عورت سے بہتر ہے خواہ وہ تمہیں بھلی ہی لگے، اور [مسلمان عورتوں کا] مشرک مردوں سے بھی نکاح نہ کرو جب تک وہ مسلمان نہ ہو جائیں، اور یقیناً مشرک مرد سے مؤمن غلام بہتر ہے خواہ وہ تمہیں بھلا ہی لگے، وہ [کافر اور مشرک] دوزخ کی طرف بلاتے ہیں، اور اﷲ اپنے حکم سے جنت اور مغفرت کی طرف بلاتا ہے، اور اپنی آیتیں لوگوں کے لئے کھول کر بیان فرماتا ہے تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں

سُورة ۔ 5 ۔ الْمَآئِدَة ۔ آیة ۔ 5

الْيَوْمَ أُحِلَّ لَكُمُ الطَّيِّبَاتُ وَطَعَامُ الَّذِينَ أُوتُواْ الْكِتَابَ حِلٌّ لَّكُمْ وَطَعَامُكُمْ حِلٌّ لَّهُمْ وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ الْمُؤْمِنَاتِ وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ الَّذِينَ أُوتُواْ الْكِتَابَ مِن قَبْلِكُمْ إِذَا آتَيْتُمُوهُنَّ أُجُورَهُنَّ مُحْصِنِينَ غَيْرَ مُسَافِحِينَ وَلاَ مُتَّخِذِي أَخْدَانٍ وَمَن يَكْفُرْ بِالْإِيمَانِ فَقَدْ حَبِطَ عَمَلُهُ وَهُوَ فِي الْآخِرَةِ مِنَ الْخَاسِرِينَ

ترجمہ ۔ آج تمہارے لئے پاکیزہ چیزیں حلال کر دی گئیں، اور ان لوگوں کا ذبیحہ جنہیں کتاب دی گئی تمہارے لئے حلال ہے اور تمہارا ذبیحہ ان کے لئے حلال ہے، اور پاک دامن مسلمان عورتیں اور ان لوگوں میں سے پاک دامن عورتیں جنہیں تم سے پہلے کتاب دی گئی تھی جب کہ تم انہیں ان کے مَہر ادا کر دو، [مگر شرط] یہ کہ تم [انہیں] قیدِ نکاح میں لانے والے بنو نہ کہ اِعلانیہ بدکاری کرنے والے اور نہ خفیہ آشنائی کرنے والے، اور جو شخص َحکامِ الٰہی پرایمان [لانے] سے انکار کرے تو اس کا سارا عمل برباد ہوگیا اور وہ آخرت میں نقصان اٹھانے والوں میں سے ہوگا

مندرجہ بالا پہلی آیت کے مطابق مسلمان مردوں کا نکاح مشرک عورتوں سے اور مسلمان عورتوں کا نکاح مشرک مردوں سے ممنوع قرار دے دیا گیا جب تک کہ وہ مسلمان نہ ہو جائیں ۔ دوسری آیت کے مطابق صرف مردوں کو اہلِ کتاب عورتوں سے نکاح کی اجازت دی گئی بشرطیکہ وہ پاکدامن ہوں لیکن پہلی آیت والی شرط بہرصورت موجود رہے گی یعنی وہ مشرک نہ ہوں اور اگر تھیں تو نکاح سے قبل مسلمان ہو جائیں ۔

حدیث اور سُنّت کی اہمیت

مسلمان ہونے کا دعویدار ایک گروہ ایسا بھی ہے جو کہتا ہے کہ وہ صرف قرآن شریف کو مانتے ہیں اور حدیث کو نہیں ۔ ایسے لوگوں نے یا تو قرآن شریف پڑھا ہی نہیں یا صرف طوطے کی طرح پڑھا ہے ۔ سوائے اس مسلمان کے جو پاگل یا بیہوش ہو نماز کسی صورت میں معاف نہیں ۔ قرآن شریف میں نماز پڑھنے کا طریقہ ۔ ہر نماز میں کتنی رکعتیں پڑھی جائیں اور کیا پڑھا جائے کہیں بھی درج نہیں ۔ اسی طرح روزے کیسے رکھے جائیں ۔ زکوٰۃ کیسے دی جائے اور حج کیسے کیا جائے ۔ اس سب کی بھی تفصیل قرآن شریف میں نہیں ہے ۔ یہ سب ہمیں سیّدنا محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اپنی زبان اور اپنے عمل سے بتایا اور اسی کو علٰی الترتیب حدیث اور سنّت کہتے ہیں جو پہلے تو مسلمانوں کو یاد تھیں مگر ان کے بھول جانے یا بدل جانے کے خدشہ کی وجہ سے انہیں بہت احتیاط اور چھانٹ پھٹک کے بعد کتابی شکل دی گئی ۔

سیّدنا محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی اطاعت کرنے کے متعلق آیات ۔

سورت ۔ 3 ۔ آل عمران ۔ آیت 31 و 32 ۔ اے نبی لوگوں سے کہہ دو “اگر تم حقیقت میں اللہ سے محبت رکھتے ہو تو میری پیروی اختیار کرو ۔ اللہ تم سے محبت کرے گا اور تمہاری خطاؤں سے درگذر فرمائے گا ۔ وہ بڑا معاف کرنے والا رحیم ہے”۔ اُن سے کہو “اللہ اور رسول کی اطاعت قبول کر لو”۔ پھر اگر وہ تمہاری یہ دعوت قبول نہ کریں تو یقیناً یہ ممکن نہیں ہے کہ اللہ ایسے لوگوں سے محبت کرے جو اس کی اور اسکے رسول کی اطاعت سے انکار کرتے ہوں ۔

سورت ۔ 4 ۔ النّسآء ۔ آیت 13 و 14 ۔ یہ اللہ کی مقرر کی ہوئی حدیں ہیں ۔ جو اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے گا اُسے اللہ ایسے باغوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی اور ان باغوں میں وہ ہمیشہ رہے گا اور یہی بڑی کامیابی ہے ۔ اور جو اللہ اور اُس کے رسول کی نافرمانی کرے گا اور اس کی مقرر کی ہوئی حدوں سے تجاوز کرے گا اُسے اللہ آگ میں ڈالے گا جس میں وہ ہمیشہ رہے گا اور اُس کیلئے رسواکُن سزا ہے ۔

سورت ۔ 4 ۔ النّسآء ۔ آیت 59 ۔ اے لوگو جو ایمان لائے ہو اطاعت کرو اللہ کی اور اطاعت کرو اللہ کے رسول کی اور اُن کی جو تم میں سے صاحبِ امر ہوں ۔ پھر اگر تمہارے درمیان کسی معاملہ میں نزاع ہو جائے تو اسے اللہ اور رسول کی طرف پھیر دو اگر تم واقعی اللہ اور روزِ آخر پر ایمان رکھتے ہو ۔ یہی ایک طریقِ کار ہے اور انجام کے اعتبار سے بھی بہتر ہے ۔

سورت 8 الانفال آیت 1 ۔ تم سے غنیمت کے مال کے بارے میں دریافت کرتے ہیں ۔ کہہ دو کہ غنیمت خدا اور اس کے رسول کا مال ہے ۔ خدا سے ڈرو اور آپس میں صلح رکھو ۔ اور اگر ایمان رکھتے ہو تو خدا اور اس کے رسول کے حکم پر چلو

سورت 8 الانفال آیت 20 ۔ اے ایمان والو ۔ خدا اور اس کے رسول کے حکم پر چلو اور اس سے رُو گردانی نہ کرو اور تم سنتے ہو

سورت 8 الانفال آیت 46 ۔ اور خدا اور اس کے رسول کے حکم پر چلو اور آپس میں جھگڑا نہ کرو کہ (ایسا کرو گے تو) تم بزدل ہو جاؤ گے اور تمہارا اقبال جاتا رہے گا اور صبر سے کام لو کہ خدا صبر کرنے والوں کی مددگار ہے
سورت 24 النّور آیت 52 ۔ اور جو شخص خدا اور اسکے رسول کی فرمانبرداری کرے گا اور اس سے ڈرے گا تو ایسے ہی لوگ مراد کو پہنچنے والے ہیں

سورت 33 الاحزاب آیت 71 ۔ وہ تمہارے سب اعمال درست کر دے گا اور تمہارے گناہ بخش دے گا اور جو شخص خدا اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرے گا تو بیشک بڑی مراد پائے گا

سورت 48 الفتح آیت 17 ۔ نہ تو اندھے پر گناہ ہے (کہ سفر جنگ سے) پیچھے رہ جائے اور نہ لنگڑے پر گناہ ہے اور نہ بیمار پر گناہ ہے اور جو شخص خدا اور اسکے پیغمبر کے فرمان پر چلے گا خدا اس کو بہشتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہیں اور جو روگردانی کرے گا اسے بڑے دکھ کی سزا دے گا

سورت 49 الحُجرات آیت 14 ۔ اعراب کہتے ہیں کہ ہم ایمان لے آئے کہہ دو کہ تم ایمان نہیں لائے (بلکہ) یوں کہو کہ ہم اسلام لائے ہیں اور ایمان تو ہنوز تمہارے دلوں میں داخل ہی نہیں ہوا اور اگر تم خدا اور اس کے رسول کی فرماں برداری کرو گے تو خدا تمہارے اعمال میں سے کچھ کم نہیں کرے گا بیشک خدا بخشنے والا مہربان ہے

سورت 58 مجادلہ آیت 13 ۔ کیا تم اس سے کہ پیغمبر کے کان میں کوئی بات کہنے سے پہلے خیرات دیا کرو ڈر گئے پھر جب تم نے (ایسا) نہ کیا اور خدا نے تمہیں معاف کر دیا تو نماز پڑھتے اور زکٰوۃ دیتے رہو اور خدا اور اس کے پیغبر کی فرمانبرداری کرتے رہو اور جو کچھ تم کرتے ہو خدا اس سے خبردار ہے ‏

ایوانِ صدر اور صحافیوں کا کردار

لال مسجد تنازع بظاہر تو اپنے منطقی انجام کو پہنچ گیا ہے اور حکومت نے بہت سے ” محب وطن حلقوں “ کے پُرزور اصرار اور دباؤ پر لال مسجد اور جامعہ حفصہ کے خلاف خونی آپریشن کرکے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں اپنی ”رِٹ” قائم کر دی ہے لیکن اس سارے معاملے کو شروع سے آخر تک جس انداز سے ہینڈل کیاگیا اور اب اس آپریشن کے جو مابعد اثرات سامنے آرہے ہیں، ان کے پیش نظر بحیثیت قوم بحرانوں اور مسائل سے نمٹنے کی ہماری صلاحیت اور بالخصوص ہماری قیادت کی اہلیت کا سوال سب سے زیادہ توجہ اور غور وفکر کا مستحق ہے۔ جیساکہ سب جانتے ہیں لال مسجد کا تنازع اس سال جنوری میں سی ڈی اے کی جانب سے اسلام آباد کی سات مساجد کو تجاوزات قرار دے کر منہدم کرنے اور دیگر بہت سی مساجد اور جامعہ حفصہ سمیت کئی مدارس کو انہدام کا نوٹس دیئے جانے پر شروع ہوا تھا، اگر یہ تسلیم بھی کرلیاجائے کہ یہ تمام مساجد ومدارس واقعی سر کاری زمین پر قائم تھے اورغیر قانونی طور پر قائم کئے گئے تھے تو سب سے پہلا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا اسلام آباد میں ان چند مساجد ومدارس کے علاوہ باقی تمام عمارات سو فیصد قانونی طور پر قائم تھیں؟ اورکیا وفاقی دارالحکومت میں لینڈ مافیا کا صفایا کردیاگیا تھا کہ اب صرف مساجد و مدارس سے قبضہ واگزار کروانا باقی رہ گیا تھا؟ اگر اس کاجواب نفی میں ہے اور اخباری ریکارڈ کے مطابق یقینا نفی میں ہے تو پھر ایک ایسے موقع پر جب پاکستان کو گوناگوں داخلی چیلنجوں کا سامنا تھا، صرف مساجد و مدارس کے خلاف کارروائی کس کے کہنے پر کن مقاصد کیلئے کی گئی تھی؟ اس سوال کا جواب سب سے پہلے تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔

جس انداز سے اس کارروائی کے بعد ملک میں علماء اور دینی مدارس کا میڈیا ٹرائل شروع کیا گیا اور اس سلسلے میں ہونے والے مذاکرات اور معاہدوں کو بار بارسبوتاژ کرکے علماء ، دینی طبقوں اور بالخصوص لال مسجد انتظامیہ کو اشتعال دلانے اور انتہائی اقدامات پر مجبور کرنے کی کو ششیں کی گئیں وہ کوئی راز کی بات نہیں ہے بلکہ ان مذاکرات میں شریک اعلیٰ حکومتی شخصیت چوہدری شجاعت حسین نے خود تسلیم کیا تھا کہ نادیدہ قوت نے لال مسجد انتظامیہ کے ساتھ مساجد کے معاملے میں طے پانے والے معاہدے کو سبوتاژ کردیا، لال مسجد انتظامیہ کے بعض اقدامات سے تمام قومی حلقوں اورخود علماء نے شدید اختلاف کیا لیکن یہ بات سب جانتے ہیں کہ مولانا برادران نے کسی بھی مرحلے پر مذاکرات اور گفت وشنید سے انکا ر نہیں کیا، جبکہ حکومت نے 3 جولائی کو آپریشن کے آغاز پر ہی اعلان کردیا تھا کہ اب لال مسجد انتظامیہ سے کوئی مذاکرات نہیں ہوں گے، یہ اعلان لال مسجد کے اندر موجود افراد کی کئی دنوں تک کی زبردست مزاحمت اور بعض سنجیدہ رہنماؤں کی مداخلت پر واپس لے لیاگیا اور 9 جولائی کو علماء اور چوہدری شجاعت حسین کی کوششوں سے دوبارہ لال مسجد انتظامیہ سے رابطہ کیا گیا اور کئی گھنٹوں تک گفت وشنید کے بعد بالآخر تینوں فریقوں کی رضامندی سے معاہدے کا ایک ڈرافٹ تیارکرلیا گیا لیکن مذاکرات میں شامل علماء کے مطابق جب ڈرافٹ پر دستخط کرنے کا مرحلہ آیا تو چوہدری شجاعت حسین اور ان کے رفقاء نے انکشاف کیا کہ ان کے پاس اس کا مینڈیٹ ہی نہیں ہے اور یہ کہ اس کا فیصلہ ایوان صدر میں ہی ہوگا،

ایوان صدر میں اس ڈرافٹ میں یکطرفہ طور پر تبدیلیاں کی گئیں اور علماء کوتبدیل شدہ ڈرافٹ پر صرف ”ہاں یا نہ“ میں جواب دینے کا پیغام دیاگیا جو ظاہر ہے کہ علماء کیلئے ناقابل قبول تھا۔”جنگ “کی ایک تازہ رپورٹ کے مطابق علامہ غازی بعد میں ایوان صدر کے منظور شدہ ڈرافٹ پر بھی راضی ہوگئے تھے لیکن حکو مت نے آپریشن روکنے کی ضرورت محسوس نہیں کی، اس کا اس کے سوا اور کیا مطلب لیاجاسکتا ہے کہ حکومت نے نامعلوم مصلحتوں کی بنا پر ہر حال میں آپریشن کرنے کا تہیہ کیا ہوا تھا اور مذاکرات کو محض ایک اسٹریٹجی کے طور پر استعمال کیا جارہا تھا۔

حکومت کا یہ طرز عمل اپنی جگہ ، اس کے ساتھ ساتھ بعض مخصوصہ ذہنیت کے حامل سیاستدانوں، دانشوروں اور کالم نگاروں نے اس سارے معاملے کو خرابی تک لے جانے میں جو کردار ادا کیا وہ بھی کچھ کم افسوسناک نہیں ہے، بعض کالم نگاروں کو لال مسجد تنازع کی شکل میں علماء ، دینی مدارس اور مذہبی طبقے کے خلاف اپنے بغض کے اظہار کا گویا ایک اچھا موقع ہاتھ آگیا تھا اور انہوں نے یہ موقع ایسے وقت میں بھی ضائع نہیں ہونے دیا جب پوری قوم لال مسجد اور جامعہ حفصہ کے اندر موجود ہزاروں بچوں اور بچیوں کی زندگی کے حوالے سے سخت تشویش میں مبتلا تھی ، ایسے وقت میں دونوں فریقوں کو فہم وتدبر اور صبروتحمل کی تلقین کرنے کی بجائے ملک کے بعض نامی گرامی دانشوروں اور کالم نگاروں نے حکومت کو فوری آپریشن کرنے، ” دہشت گردوں“ کو ”کچل دینے“ کے مشورے دیے اورمولانا عبدالعزیز کی برقع میں گرفتاری کے [ڈرامہ کے] بعد علماء اوردینی مدارس کے خلاف ایسی زبان استعمال کی گئی جس نے لال مسجد انتظامیہ کی مخالف دینی قوتوں کو بھی ان کی حمایت کرنے اور خود علامہ غازی اور ان کے ساتھیوں کو آخر دم تک مزاحمت کرنے پر مجبور کردیا۔

مولانا برادران پر الزام لگایا گیا کہ انہوں نے سرکاری زمین پر اپنا ایک ذاتی”قلعہ“ بنایا ہوا ہے جہاں انہیں تمام سہولتیں حاصل ہیں، آپریشن کے اختتام پر صحافی خاص طور پر اس ”قلعے“ کو دیکھنے کیلئے اندر گئے اور یہ رپورٹ دی کہ دس ہزار کے قریب طلبا وطالبات کو مفت تعلیم ، رہائش اور طعام فراہم کرنے والے مولانا برادران کے تین تین کمروں پر مشتمل سادہ سے مکانات کے کسی کمرے میں ایئر کنڈیشنر تو درکنار ائیر کولر اور صوفہ سیٹ تک نہیں تھے، بھاری اسلحے اور” غیر ملکی دہشت گردوں کی موجودگی کے الزامات بھی محض افسانہ تھے، اسی سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ہمارے بعض دانشور قومی معاملات پر گفتگو کرتے ہوئے کس قسم کے تحقیقی معیار کا ثبوت دیتے ہیں۔ لال مسجد تنازع کے دوران مذکورہ حلقوں کی جانب سے ”حکومتی رٹ“ کی اہمیت پر بہت زور دیا گیا اور لال مسجد انتظامیہ کو حکومتی رٹ کو چیلنج کرنے پر گردن زدنے کے لائق قرار دیا گیا ۔ اصولی طور پر اس موقف کے درست ہونے میں کوئی کلام نہیں ہے لیکن اگر ماضی قریب میں خود انہی حلقوں کے طرز عمل پر غور کیا جائے تو کم از کم ان کی جانب سے یہ موقف بڑا عجیب لگتا ہے۔

قارئین کو یاد ہوگا کہ ایک سال قبل اکبر بگٹی مرحوم نے جب حکومت سے باقاعدہ طور پر بغاوت کرکے اور بھاری ہتھیاروں سے لیس لشکر تشکیل دے کر بلوچستان میں ایک جنگ شروع کردی تھی اور حکومت اپنی رٹ قائم کرنے کیلئے وہاں کارروائیاں کر رہی تھی تو انہی دانشوروں اورسیاسی جماعتوں نے نہ صرف حکومت کی مخالفت کی تھی بلکہ حکومت کے خلاف اکبر بگٹی کی بغاوت کو ”حقوق“ کی جائز جدوجہد سے تعبیر کیاتھا، لال مسجد آپریشن کی سب سے بڑھ کر حمایت کرنے والی ایک حکومتی حلیف جماعت نے تو حکومتی رٹ قائم کرنے کیلئے کسی بھی قسم کی آپریشن کی صورت میں حکومت سے الگ ہونے تک کی دھمکی دی تھی (جس پر اکبر بگٹی کی ہلاکت کے باوجود بھی عمل نہیں کیا گیا)۔ کیا بلوچستان میں حکومتی رٹ اہم نہیں تھی ؟ اس کاجواب ان حلقوں کے ذمے ہے۔ پاکستان کو بحرانوں سے نکالنے کیلئے ہمیں سب سے پہلے اپنے دہرے معیارات سے نجات حاصل کرنے اور قومی معاملات پر تعصبات سے ہٹ کر متوازن سوچ اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔

تحریر ۔ مولوی محمد شفیع چترالی

گناہِ بے لذّت

گناہِ بے لذّت اس عمل کو کہا جاتا ہے جس کے کرنے سے فائدہ کچھ نہ ہو لیکن نقصان ہوتا ہو ۔

اگر کوئی شخص میڈیکل کی ایک یا دو کتابیں سرسری طور پر پڑھ لے اورپھر اتنے پر بھی عمل کئے بغیر دعوٰی کرے کہ وہ ڈاکٹر بن گیا ہے تو کوئی شخص اس کو ڈاکتر نہیں سمجھے گا بلکہ اس کی دماغی حالت پر شک کیا جائے گا ۔ اسی طرح کسی بھی موضوع پر بولنے یا لکھنے سے پہلے اس کے متعلق گہرا مطالعہ ضروری ہوتا ہے ۔ لیکن حیرت ہے کہ ہمارے مُلک میں مسلمان باوجود مندرجہ بالا مثال سے متفق ہونے کے دین اسلام کا صحیح طور سے علم حاصل کئے بغیر اسکے بارے میں جو جی میں آتا ہے کہہ یا لکھ دیتے ہیں ۔

مزید آجکل فيشن ہو گيا ہے کہ کچھ لوگ اپنی قابليت يا دريا دلی يا نام نہاد روشن خيالی دکھانے کيلئے ايسی ايسی تحارير لکھتے ہيں جن سے اُن کو کوئی فائدہ پہنچے نہ پہنچے البتہ نقصان ضرور ہوتا ہے جس کا اُنہيں احساس تک نہيں ہوتا ۔ کوئی اللہ کے احکامات کے مخالف لکھتا ہے تو کوئی اللہ کے احکام کو مُلّاؤں کی اختراع قرار ديتا ہے ۔ کچھ ايسے بھی ہيں جو اللہ کی طرف سے مقرر کردہ حدوں کو نُعُوذ بِاللہِ مِن ذالِک انسانی حقوق کے خلاف اور ظالمانہ لکھتے ہيں ۔ گويا وہ اللہ سے زيادہ انسانيت پسند ہيں ۔

کوئی مزيد آگے بڑھتا ہے اور 1400 سال پرانے اسلام کو سائنس کے اس دورِ جديد ميں ناقابلِ عمل قرار دے ديتا ہے ۔ کيا ان لوگوں کے خيال ميں نُعُوذ بِاللہِ مِن ذالِک اس کائنات کے خالق اور اس کے نظام کو چلانے والے کے عِلم ميں نہ تھا کہ چودہ سو سال بعد کيا ہونے والا ہے ؟ اور کيا يہ لوگ سمجھتے ہيں کہ نُعُوذ بِاللہِ مِن ذالِک وہ اللہ سُبحانُہُ و تعالٰی سے زيادہ سمجھدار ہيں يا زيادہ جانتے ہيں ؟

مندرجہ بالا برتاؤ کے برعکس کچھ لوگ ایسے اعمال کو قرآن کا حکم قرار دے دیتے ہیں جو کہ قرآن میں موجود نہیں ہوتے ۔ سب سے عام فقرہ جو شادی کے دعوت ناموں پر بھی چھپا ہوتا ہے “رشتے آسمان پر بنتے ہیں اور زمین پر ان کے تکمیل کی جاتی ہے ۔ القرآن “۔ ایسی کوئی آیت نہیں ہے چناچہ ایسا عمل دین میں غلُو کے زمرے میں آتا ہے ۔

کيا آج کے مسلمانوں نے کبھی سوچا کہ اللہ کے بتائے ہوئے اصولوں کے خلاف اس طرح لکھ کر يا ان ميں ترميم کر کے وہ گناہِ بے لذّت کے علاوہ کچھ حاصل نہيں کر رہے ؟

بچ نکلنے والی طالبہ کا انٹرویو

بدھ 11 جولائی کو حکومت کے مطابق آخری 30 طالبات جامعہ حفصہ سے نکلیں تھیں ۔ انہیں حراست میں لے لیا گیا تھا اور دو دن بعد انہیں انکے والدین کے حوالہ کر دیا گیا تھا ۔ ان طالبات میں ایک مرگلہ کی پہاڑیوں پر کوٹلہ گاؤں سے تعلق رکھنے والی شہناز اختر بھی ہے ۔ شہناز اختر عام سکول سے آٹھویں جماعت پاس کرنے کے بعد گذشتہ 6 سال سے جامعہ حفصہ میں زیرِ تعلیم تھی اور اب عالِمہ کے کورس کے آخری سال میں تھی کہ سب کچھ آگ اور بارود کی نظر ہو گیا ۔ شہناز اختر کے مطابق ۔ 550 طالبات حدیث کی عالِمہ کا کورس مکمل کر چکی تھیں جس دن ان کی تقسیمِ اسناد کی تقریب ہونا تھی اسی دن نمازِ فجر کے وقت جامعہ حفصہ پر پہلی شدید فائرنگ اور گولہ باری ہوئی ۔

شہناز اختر نے بتایا کہ وہ 5 دوسری طالبات کے ساتھ ایک چھوٹے سے کمرہ میں تھی ۔ دوسرے کمروں میں سے ایک میں ایک میں گولہ آ کر گرا جس سے ایک دم آگ لگ گئی اور 30 طالبات جل کر شہید ہوگئیں ۔ اس کے بعد اُم حسّان نے کہا کہ تمام طالبات کی فہرست تیار کی جائے تو وہ فہرست بنانے میں لگ گئی مگر دوسرے دن تک ابھی 1000 طالبات کے کوائف لکھے تھے کہ ایک اور شدید حملہ ہوا جس میں 85 طالبات شہید ہو گئیں ۔ تیسرے دن حملہ اور بھی شدید تھا جس کے نتیجہ میں 270 طالبات شہید ہو گئیں اور 50 کے لگ بھگ زخمی ہوئیں جن کو کوئی طبّی امداد نہ ملی ۔

شہناز اختر نے بتایا کہ رات کو کامیاب مذاکرات کی بات ہوئی [10 اور 11 جولائی کی درمیانی رات والے آخری مذاکرات] لیکن فجر کے وقت اچانک دھماکوں اور شدید فائرنگ کی آوازیں آنے لگیں ۔ ہمیں تہہ خانے میں جانے کا کہا گیا ۔ وہاں اس وقت تقریباً 1500 طالبات تھیں ۔ دن نکلا اعلان ہوا کہ جو باہر نکل آئے گا اسے کچھ نہیں کہا جائے گا ۔ دن کو ساڑھے گیارہ بجے ہم 30 طالبات باہر نکل آئیں ۔ باقی نے یہ کہہ کر باہر جانے سے انکار کر دیا کہ یہ دھوکہ دے رہے ہیں اور پھر ہم باہر نکل کر جائیں گی کہاں ؟ [ان طالبات کی زیادہ تعداد زلزلہ سے متأثر علاقہ سے تعلق رکھتی تھی] ۔ جب ہم جامعہ سے باہر نکلے تو دیکھا کہ جامعہ کی چھت پر کمانڈو کھڑے تھے ۔ انہوں نے ہم پر فائرنگ شروع کردی ۔ بڑی مشکل سے ان کو چیخ کر بتایا کہ ہم باہر جا رہی ہیں ۔ ہم برستی گولیوں میں باہر نکل آئیں تو باہر پھر ہمیں کمانڈوز نے گھیر لیا ۔ پھر زنانہ پولیس نے ہماری تلاشی لی اور سب کچھ رکھوا لیا جس میں 1000 طالبات کے کوائف والی فہرست بھی شامل تھی ۔ کمانڈوز نے ہم پر طنز کیا اور ہمارے ساتھ بدتمیزی بھی کی ۔ پھر ہمیں نقاب اُتارنے کا حکم دیا گیا ۔ بعد میں ہمیں تھانہ آبپارہ لیجایا گیا وہاں پر بھی اہلکار بدتمیزی سے بات گفتگو کرتے رہے ۔ آبپارہ تھانہ سے ہمیں سپوٹس کمپلیکس لیجایا گیا جہاں سے بعد میں مجھے میرے گھر والے اپنا شناختی کارڈ جمع کرا کر لے آئے ۔

بشکریہ اُمّت ۔ مکمل انٹرویو پڑھنے کیلئے یہاں کلِک کیجئے ۔