Category Archives: روز و شب

پچھلے 8 سال میں ہوشرُبا ترقی

صدر جنرل پرویز مشرف نے پچھلے سال کہا تھا کہ پاکستان کی معیشت بہت ترقی کر گئی ہے جس کا ثبوت موبائل فون کے 5 ملین کنکشن بتا تھا ۔ میرے خیال کے مطابق ایسا سرکاری ادارے پی ٹی سی ایل کی عوام کو سستے اور آسان طریقہ سے کنکشن مہیاء مین ناکامی کے باعث ہوا تھا ۔ ہاں حکومتی اخراجات کے لحاظ سے پاکستان نے پچھلے 7 سال میں بہت ترقی کی ہے ۔ ملاحظہ ہو ۔

جب سپریم کورٹ نے پرویز مشرف کی غیرآئینی حکومت کو نظریہ ضرورت کا جواز مہیا کیا تو ساتھ ہی الیکشن کروانے کی شرط لگا دی تھی ۔ پرویز مشرف نے تمام سیاسی لوٹوں کو لُڑھکنے میں مدد دی جس کے عوض انہیں لُوٹ مار کی کھُلی اجازت دے دی ۔ خود بھی دونوں ہاتھوں سے مال لُوٹا مگر پارسائی کے نعرے لگاتے رہے ۔ کچھ اعداد و شمار یہ ہیں

اخراجات کی مد ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جولائی 1999 تا جون 2000 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جولائی 2006 تا جون 2007 ۔ ۔ اضافہ
ایوانِ صدر [پرزیڈنٹ ہاؤس] ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 7 کروڑ 50 لاکھ روپے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 30 کروڑ 80 لاکھ روپے ۔ ۔ ۔ 412 فیصد
ایوانِ وزیر اعظم [پرائم منسٹر ہاؤس] ۔ ۔ ۔ 9 کروڑ 80 لاکھ روپے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 36 کروڑ 70 لاکھ روپے ۔ ۔ ۔ 375 فیصد
قومی اسمبلی [نیشنل اسمبلی] ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 25 کروڑ روپے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ایک ارب 60 لاکھ روپے ۔ ۔ ۔ 403 فیصد
سینٹ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 11 کروڑ 10 لاکھ روپے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 57 کروڑ 70 لاکھ روپے ۔ ۔ ۔ ۔ 520 فیصد
وزراء اور مشیر وغیرہ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 2 کروڑ 40 لاکھ روپے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 15 کروڑ 50 لاکھ روپے ۔ ۔ ۔ ۔ 646 فیصد

کل اخراجات ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 55 کروڑ 80 لاکھ روپے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 2 ارب 41 کروڑ 30 لاکھ روپے ۔ ۔ 433 فیصد 

ہماری قومی اسمبلی کا ایک رُکن قوم کو اوسطاً 30 لاکھ روپے سالانہ اور ایک سینیٹر 60 لاکھ روپے سالانہ میں پڑتا ہے ۔

اس کے علاوہ ہائر ایجوکیشن کمشن نے غیر ملکی دوروں پر 18 کروڑ روپے خرچ کئے اور ان دوروں کا پاکستان یا اس کے عوام کو کوئی فائدہ نہ ہوا ۔ اگر یہی روپیہ پاکستان میں تعلیمی اداروں پر خرچ کیا جاتا تو 70 ہزار سکولوں میں پینے کے پانی اور ٹائلٹس کا بندوبست کیا جا سکتا تھا جو کہ اب تک موجود نہیں ہے اسی رقم کے اندر اساتذہ کی وہ ہزاروں اسامیاں بھی پُر کی جا سکتی تھیں جو مالی وسائل کی کمی کی وجہ سے خالی پڑی ہیں ۔

صوبائی اخراجات کا حال بھی اس سے مختلف نہیں ہے ۔

کیا مدرسوں میں پڑھے جاہل اور دہشتگرد ہوتے ہیں ؟

نام نہاد روشن خیال کہتے ہیں کہ مدرسوں میں پڑھنے والے طلباء و طالبات سائنسی دنیا کے لحاظ سے جاہل ہوتے ہیں اور مدرسے ان کو دہشت گرد بناتے ہیں ۔ موجودہ حکومت نے اپنے آقاؤں کو خوش کرنے کیلئے پاکستان میں لڑکیوں کا سب سے بڑا مدرسہ ۔ جامعہ حفصہ اسلام آباد تباہ کر دیا ہے اور پاکستان میں لڑکوں کے چند بڑے مدرسوں میں سے ایک ۔ جامعہ فریدیہ کو حکومت نے ختم کر دیا ہے ۔ سینکڑوں طالبات و طلباء مار دیئے جو باقی بچے وہ قید میں ہیں اسلئے اُن میں پڑھنے والے طالبات اور طلباء کے بارے معلومات حاصل کرنا بہت مشکل ہے ۔ البتہ اسلام آباد میں 1999 میں قائم ہونے والے ایک چھوٹے سے مدرسہ ۔ ادارہ علومِ اسلامیہ ۔ کے فیڈرل بورڈ کے چند نتائج نمونہ کے طور پر نقل کر رہا ہوں ۔ عمدہ کارکردگی اس مدرسے کا اول روز سے معمول ہے جس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ان مدرسوں میں لڑکے لڑکیاں اپنے شوق سے پڑھتے ہیں بڑا افسر بننے کیلئے نہیں ۔

اس سال یعنی 2007ء میں 25 طلباء نے ا انٹرمیڈیٹ [بارہویں جماعت] کا امتحان دیا جن میں سے 3 نے گریڈ اے وَن ۔ 18 نے گریڈ اے اور 4 نے گریڈ بی حاصل کیا ۔
سن 2006ء میں ا انٹرمیڈیٹ جنرل گروپ میں پہلی اور تیسری سے دسویں پوزیشنیں اسی مدرسہ کے طالب علموں نے حاصل کیں ۔
سن 2005 میں میٹرک کے امتحان میں لڑکوں میں پہلی گیارہ پوزیشنیں اس مدرسہ کے طلباء نے حاصل کیں ۔
سن 2004 میں میٹرک کے امتحان میں لڑکوں میں پہلی چودہ پوزیشنیں اس مدرسہ کے طلباء نے حاصل کیں اور حافظ حارث سلیم نے جنرل سائنس میں پورے پاکستان میں سب سے زیادہ نمبر حاصل کئے ۔ اس مدرسہ کا کوئی طالب علم آج تک فیڈرل بورڈ کے امتحان میں فیل نہیں ہوا ۔

قبائلی علاقہ کے دہشت گرد ؟

کنور ادریس صاحب جو کہ روشن خیال شخص ہیں اور سابق بیوروکریٹ ہیں لکھتے ہیں کہ کسی زمانہ میں وہ قبائلی علاقہ میں تعینات تھے ۔ اس قیام کے دوران وہ قبائلیوں کی قانون کی پاسداری سے بہت متأثر ہوئے ۔ میں خود 1964 سے 1975 تک قبائلی علاقوں میں دور تک اندر جاتا رہا ہوں اور اس کے بعد مختلف سرکاری اور غیر سرکاری معاملات میں قبائلیوں سے واسطہ پڑتا رہا ۔ میں نے جتنا ان لوگوں کو انسانیت کے قریب پایا اتنا پاکستان کے کسی اور علاقہ میں بسنے والوں کو نہیں پایا ۔ ان جیسا حسنِ سلوک بھی پاکستان کے دوسرے علاقوں میں کم کم ہی ملتا ہے ۔ پچھلے چند سال سے ہمارے حکمران اپنے آقا کو خوش کرنے کیلئے ۔ ان محبِ وطن غریب لوگوں کو بم برسا کر مار رہے ہیں ۔ پچھلے ماہ میں کسی کام سے اسلام آباد کے ایک سرکاری دفتر گیا وہاں ایک آفیسر قبائلی علاقہ سے تعلق رکھتے ہیں ۔ میں نے خیریت دریافت کی تو کہنے لگے “خیریت کیا ؟ ظلم ہو رہا ہے ۔ ہماری حکومت امریکا کی خوشنودی کیلئے محبِ وطن اور پاکستان کے محافظ لوگوں کو بیوی بچوں سمیت مار مار کر ختم کر رہی ہے ۔ آج تک انہی لوگوں نے بغیر حکومت کی مدد کے ملک کی حفاظت کی ہے”۔ میں نے کہا “حکومت کہتی ہے وہ تاجک ہیں”۔ اس پر اس نے کہا ” اس سال کے شروع میں جب سی ڈی اے والے بُلڈوزر لے کر جامعہ حفصہ کو گرانے آئے تھے تو طالبات ایک دو دن ڈنڈے لے کر سڑک پر کھڑی ہوئی تھیں ۔ اس کی فلم کئی ماہ ٹی وی پر چلتی رہی ۔ اگر ایک بھی تاجک مارا گیا ہوتا تو اس کی تصویر حکمران ٹی وی پر نہ دکھاتے ؟”

فیصلہ کا وقت قریب ہے

 

جاوید ہاشمی وہ شخص ہے جو پاکستان ٹوٹنے سے چند ماہ قبل ڈھاکہ جا پہنچا۔ وہ ناراض بنگالی نوجوانوں سے ملنا چاہتا تھا، انہیں بتانا چاہتا تھا کہ مغربی پاکستان کے عوام کی اکثریت فوجی جرنیلوں کو پسند نہیں کرتی لیکن جاوید ہاشمی سے کہا گیا کہ بنگالیوں سے دور رہو وہ تمہیں گولی مار دیں گے۔ یہ دیوانہ شخص چاک گریبان کے ساتھ سینے پر گولی کھانے کیلئے تیار ہو گیا۔ اس نے کہا کہ اگر میرے لہو سے کسی کی نفرت کی آگ بجھتی ہے اور پاکستان بچ جاتا ہے تو میں گولی سے نہیں ڈرتا۔ [حامد میر کے قلم کمان سے اقتباس ۔ ۔ ۔ جاری ہے]

پاکستان کی خاطر اپنی جان قربان کرنے کی خواہش رکھنے والے اس شخص کو موجودہ دور حکومت میں غدّار قرار دیا گیا۔ بغاوت کا مقدمہ بنانے والوں کو بھی پتہ تھا کہ جاوید ہاشمی غدّار نہیں۔ اسے کہا گیا کہ اگر وہ نواز شریف کے ساتھ غدّاری پر راضی ہو جائے تو اسے سیاسی شان و شوکت سے مالا مال کر دیا جائے گا لیکن اسے یہ شوکت کبھی عزیز نہیں رہی۔ وہ انکار کرتا رہا۔ اعلیٰ عدالتوں سے اس کی درخواست ضمانت مسترد ہوتی رہی لیکن آخر کار 3 اگست کو سپریم کورٹ آف پاکستان نے ایک اور تاریخی فیصلے کے ذریعہ جاوید ہاشمی کو رہا کرنے کا حکم دیدیا۔ افسوس صد افسوس کہ جاوید ہاشمی چار سال تک پابند سلاسل رہا لیکن قومی اسمبلی کے اسپیکر چوہدری امیر حسین نے ایک مرتبہ بھی جاوید ہاشمی کو اسمبلی کے اجلاس میں لانے کیلئے پروڈکشن آرڈر جاری نہیں کئے۔

یہ درست ہے کہ ایک طویل عرصے کے بعد موجودہ قومی اسمبلی اپنی مدت پوری کرنے جا رہی ہے لیکن اسمبلی کی تاریخ کا یہ واقعہ شرمناک ہے۔ اس اسمبلی کا ایک رکن چار سال تک جیل میں تھا ، اس کی رکنیت برقرار رہی لیکن اسے اسمبلی کے اجلاس میں حاضر کرنے کا حکم صادر نہ ہو سکا ؟ اس ایک مثال سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ ایک کمزور اسمبلی تھی، اس اسمبلی نے جاوید ہاشمی کو کوئی عزت نہیں دی لیکن جاوید ہاشمی جیسے بہادر شخص کی رکنیت کے باعث اس اسمبلی کو عزت ضرور ملی ہے۔

اسیّ سالہ بھارتی دانشور کلدیپ نیّر پاکستانیوں پر حیران ہیں۔ پاکستان بنا تو ان کی عمر 24 سال تھی۔ وہ سیالکوٹ میں اپنا سب کچھ چھوڑ کر دہلی پہنچے تو انہیں یقین نہیں تھا کہ پاکستان قائم رہے گا۔ انہیں دہلی پہنچے 60 سال گزر گئے لیکن پاکستان بدستور قائم ہے۔ وہ حیران ہیں کہ 60 میں سے 32 سال تک پاکستان پر فوجی سربراہوں نے حکومت کی۔ سیاسی حکومتوں کا دورانیہ 28 سال رہا لیکن اس کے باوجود پاکستان دنیا کے نقشے پر موجود ہے۔

کلدیپ نیّر مزید حیران ہونے والے ہیں کیونکہ پاکستان میں آئین اور جمہوریت کیلئے جدوجہد ابھی ختم نہیں ہوئی۔ منزل بہت دور ہے۔ ایک جاوید ہاشمی تو رہا ہو گیا لیکن ابھی جاوید ہاشمی کو اختر مینگل اور ان کے کئی دیگر ساتھیوں کی رہائی کیلئے مزید جدوجہد کرنی ہے۔ ان سب پر بھی بغاوت کے مقدمے ہیں۔ ابھی تو ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو بھی رہا کروانا ہے۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی رہائی پر پاکستان کے دشمن خوش نہیں ہوں گے اور اسی لئے مجھے یقین ہے کہ پاکستان کے دشمن اس ملک میں حقیقی جمہوریت اور قانون کی بالادستی نہیں چاہتے۔ کیا وجہ ہے کہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کا دشمن جاوید ہاشمی کا بھی دشمن ہے ؟ کیا دونوں غدّار ہیں ؟ سپریم کورٹ آف پاکستان نے فیصلہ کر دیا کہ جاوید ہاشمی غدّار نہیں اور ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی رہائی کے بعد تاریخ کو بھی ایک فیصلہ کرنا ہے۔ یہ فیصلہ انہیں نظر بند کرنے والوں کے بارے میں ہو گا اور اس فیصلے کا وقت بھی قریب ہے۔

کمان سے نکلا تیر

Flag-1ایک جوان لڑکی ایئر پورٹ کے روانگی کے لاؤنج میں داخل ہوئی تو جہاز کی روانگی میں ابھی ایک گھنٹہ باقی تھا ۔ اس نے وقت گذارنے کیلئے بسکٹوں کا ایک پیکٹ اور ایک رسالہ خریدا اور لاؤنج میں میز کے ساتھ والی کرسی پر بیٹھ کر رسالہ پڑھنے لگی ۔ چند منٹ بعد ایک جوان لڑکا آیا اور اسی میز کے دوسری طرف والی کرسی پر بیٹھ کر ناول پڑھنے لگ گیا ۔ کچھ دیر بعد خاتون نے میز پر پڑے پیکٹ کو کھولا اور ایک بسکٹ لے کر کھانے لگی ۔ اس نے دیکھا کہ اس کے بعد لڑکے نے بھی اسی پیکٹ میں سے ایک بسکٹ نکال کر کھا لیا ۔ اسے یہ بات ناگوار گذری لیکن وہ خاموش رہی ۔ چند منٹ بعد خاتون نے دوسرا بسکٹ لے کر کھایا تو پھر لڑکے نے ایک بسکٹ لے کر کھا لیا ۔ لڑکی تَلملا اُٹھی لیکن ضبط سے کام لیا کہ اس کے چیخنے سے لاؤنج میں بیٹھے سب لوگ اس کی طرف متوجہ ہو جائیں گے اور ہو سکتا تھا کہ اسے گنوار جانیں ۔ یہ سلسلہ چلتا رہا ۔ آخر ایک بسکٹ رہ گیا اور وہ کنکھیوں سے دیکھنے لگی کہ وہ لڑکا کیا کرتا ہے ۔ اس لڑکے نے آخری بسکٹ نکالا اسے توڑ کر آدھا لڑکی کو دیا اور آدھا خود کھا لیا ۔ لڑکی آگ بگولا ہو کر لڑکے پر برس پڑی ۔ اسی وقت ہوائی جہاز کی روانگی کا اعلان ہو گیا اور وہ “ہونہہ” کہہ کر اپنا بیگ اُٹھا کر تیزی سے چلی گئی ۔

جہاز میں بیٹھنے کے تھوڑی دیر بعد وہ اپنے بیگ میں سے کنگھی نکالنے لگی تو دیکھا کہ اس کا بسکٹوں کا پیکٹ بیگ میں بند کا بند پڑا تھا ۔ اب اسے احساس ہوا کہ جس لڑکے کو اس نے بد تمیز اور نامعلوم کیا کیا کہا تھا وہ دراصل شریف اور اعلٰی کردار کا جوان تھا ۔

یاد رکھیئے کم از کم پانچ چیزیں واپس نہیں ہو سکتیں

1۔ کمان سے نکلا تیر
2 ۔ لفظ جو کہہ دیا یا لکھ کر بھیج دیا
3 ۔ موقع جو ہاتھ سے نکل گیا
4 ۔ گذرا ہوا لمحہ
5 ۔ عزّت یا عفّت جو جاتی رہی

لال مسجد کا معاملہ اور ہمارا رویّہ ۔ چوتھی اور آخری قسط

حالات و واقعات ۔ ایک محقق شیخ محمد علی صاحب کی نظر میں
آپریشن سے قبل بھی اور بعد میں بھی سرکار و حلیفان سرکار کی جانب سے بھانت بھانت کی وجوہات پیش کی جا رہی ہیں، کہیں زمینوں پر قبضے کی بات ہے تو کہیں شریعت کے ازخود نفاذ کی بات یا پھر اندر اسلحہ و غیرملکیوں کی موجودگی کی، لیکن دل پر ہاتھ رکھ کر بتایئے کہ سچ کیا ہے، کیا یہ سچ نہیں کہ ان معصوموں کی اموات کے فیصلے کہیں اور ہوئے تھے اور جن پر عملدرآمد اسی پالیسی کا حصہ ہے جو آج اقوام مغرب نے اسلام و مسلمان دشمنی کے تناظر میں ہر سمت جاری کر رکھی ہے۔ امریکا بہادر نے عراق پر ہاتھ ڈالنے کے لئے آخر یہی تو جواز تراشا تھا کہ وہاں بڑی مقدار میں کیمیاوی ہتھیار موجود ہیں لیکن ایک بڑی تباہی و بربادی کے بعد وہاں سے کیا برآمد کیا؟ یہ صرف مخالفین کو دبانے اور تباہ و برباد کر دینے کے ہتھکنڈے ہیں اس کے سوا کچھ نہیں۔ افسوس تو ان علماء پر بھی ہے جو اگر چاہتے تو شاید یہ نوبت نہ آنے پاتی لیکن آج اس خون ناحق پر بھی سیاست کی بساط بچھا لی گئی ہے، کہیں جوڈیشنل انکوائری کی بات ہو رہی ہے تو کہیں مذمت۔ اسلام نے ہمیشہ اپنے پیروکاروں سے عمل کا مطالبہ کیا ہے اور اس خصوصی معاملے میں عمل وہی قبول تھا جس سے ان کی جانیں بچ سکتیں اگر یہ علماء اور یہاں کے مسلمان یہ نہیں کرسکے تو ہزار مذمتیں کریں، ہزار انکوائریوں کا مطالبہ کریں انہیں بھی اس خون ناحق کا حساب دینا ہوگا۔ بشری زندگی کا ہر موضوع اور ہر پہلو اسلام کی گرفت میں ہے اور سیاست و سیادت کا ایک واضح و نمایاں خاکہ بھی اس نے پیش کیا ہے۔

ان واضح و بیّن احکامات کی موجودگی میں کسی کج بحثی کی گنجائش نہیں اور نہ میں اس حوالے سے کسی لمبی بحث میں الجھنا چاہتا ہوں، وہ لوگ جو لال مسجد والوں کے مطالبات، نفاذ شریعت کورٹ کی آڑ میں غلط قرار دیتے ہیں اور اپنے مباحثوں میں یہ فرماتے ہیں کہ کسی فرد یا ٹولے کو اس بات کا اختیار نہیں دیا جاسکتا کہ وہ جب چاہے ایسے مطالبات لے کر اٹھ کھڑا ہو اور حکومت کی رِٹ کو چیلنج کرے انہیں دلوں میں خوف پیدا کرنا چاہئے اور اعمال میں اصلاح کی فکر بھی کیونکہ ان کا یہ ارشاد سراسر اسلامی سیاست و شریعت کے خلاف ہے۔ وہ یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ اسلامی تاریخ لاتعداد ایسی نظیریں پیش کرتی ہے جہاں فرد سے لے کر افراد تک اور افراد سے لے کر گروہوں تک نے نفاذ شریعت کا مطالبہ بھی کیا اور اس کے لئے حاکموں، جابروں اور آمروں سے ٹکر بھی لی، خود واقعہ کربلا سے بڑھ کر اس کی مثال کیا ہوگی کہ بہتّر افراد کے ٹولے نے محض شریعت کی سربلندی کے لئے بدترین آمر سے ٹکر لی اور خود تو دنیوی اعتبار سے ختم ہوگئے لیکن اپنی سنت پر چلنے کا ایک واضح اصول چھوڑ گئے۔ حکومت کی رِٹ کا فلسفہ گھڑنے والے اور اس کے خلاف ایسی آوازوں کو ناپسند کرنے والے کیا واقعہ کربلا کو بھی خاکم بدہن ایسا ہی کوئی واقعہ قرار دیں گے؟

سچ صرف ایک ہے کہ کھوٹ سارا ہمارے اپنے دلوں میں ہے، ہم نفس کے غلام، بے حمیّت اور ایمانی حوالوں سے کھوکھلے ہو چکے ہیں۔ دنیا بھر میں دشمنان اسلام اسلامی عقائد کے خلاف اپنی گندی زبانیں استعمال کر رہے ہیں، پیغمبر اسلام پر ہرزہ سرائی ہو رہی ہے، کفر و الحاد پرست انہیں زر و جواہر میں تول رہے ہیں جو ایسے رذیل و قابل گرفت کام انجام دے رہے ہیں اور ہم صرف زبانی کلامی بڑھکیں مار رہے ہیں۔ اب تو لال مسجد و مدرسہ حفصہ کے اندوہناک سانحے نے ہمارے ایمان کی قلعی کھول کر رکھ دی ہے اور ہمیں اپنی ہی نظروں میں شرمندہ و نیچ ٹھہرا ڈالا ہے اور ہم یہ جان چکے ہیں کہ دعویٰ ایمانی کے تناظر میں ہم کتنے پانی میں ہیں۔

سائنس و ٹیکنالوجی کے اس کمرشل دور میں جبکہ لوگ محض دنیوی کامیابیوں اور فراوانی دولت کی خاطر تعلیم کے مختلف میدان اپنے بچوں کے لئے منتخب کر رہے ہیں ان بچوں سے یہ بدترین انتقام کیا معنی رکھتا ہے جو دین کی محبت میں ان مدرسوں کا رخ کر رہے ہیں اور یہ جانتے ہیں کہ یہ سودا دنیوی کامیابی کا نہیں بلکہ آخری کامیابی و سرفرازی کا ہے۔ کاش کہ طوق غلامی گردنوں سے اتار کر حکام وقت یہ سوچ سکیں کہ وہ کتنے بدترین خساروں کا سودا کر رہے ہیں۔ بے شک اللہ کے ہاں دیر ہے اندھیر نہیں

تحریر ۔ شیخ محمد علی ۔ یہ مضمون دو قسطوں میں تھا جو میں نے قارئین کی سہولت کیلئے چار اقساط میں لکھا ۔ اصل مضمون کی پہلی قسط یہاں کلک کر کے دیکھ سکتے ہیں اور دوسری قسط یہاں پر کلک کر کے

لال مسجد کا معاملہ اور ہمارا رویّہ ۔ تیسری قسط

حالات و واقعات ۔ ایک محقق شیخ محمد علی صاحب کی نظر میں
اس مملکت خداداد پاکستان میں اگر لوگ شریعت کو پسند نہیں کرتے اور خواہشات نفس کی پیروی میں زندگی گزارنا چاہتے ہیں تو یہ ان کا اور اللہ کا معاملہ ہے لیکن انہیں کیوں سزائیں دی جا رہی ہیں جو ایسا کرنا نہیں چاہتے۔ وہ شخص جو ایمان کا دعویدار ہے یاد رکھئے وہ کمزور سے کمزور حیثیت میں بھی منکرات کے خلاف اپنا ردعمل ظاہر کرے گا اگر وہ ایسا نہیں کرتا تو پھر سمجھ لیجئے کہ ایمان کا معاملہ گڑبڑ ہے اور دال میں کچھ کالا ہے۔ صحیحین کی اس حدیث کو ملاحظہ فرمایئے جس میں اسی طرف واضح اشارہ موجود ہے، ارشاد ہے:

”تم میں سے جو شخص کوئی بدی دیکھے، اس کو ہاتھ سے (نیکی سے) بدل دے، اگر ایسا نہ کرسکے تو زبان سے روکے، اگر زبان سے بھی نہ روک سکے تو دل سے برا سمجھے اور یہ (آخری درجہ) ایمان کا سب سے کمزور درجہ ہے۔ (بخاری و مسلم)

آج لمحہ فکریہ بحیثیت مجموعی تمام امت مسلمہ کے تناظر میں اور بالخصوص ہم پاکستانی مسلمانوں کے حوالے سے یہی ہے کہ اگر اسی فارمولے کو سامنے رکھ کر جو مندرجہ بالا حدیث میں پیش کیا گیا ہے اہل ایمان الگ کئے جائیں تو شاید چند ہی افراد اپنا شمار کسی ایک درجے میں کرا سکیں گے باقی سب ہی کا معاملہ ناگفتہ بہ ہوگا اور وجہ وہی ہے جس کا مشاہدہ کھلی آنکھوں سے بھی کیا جاسکتا ہے اور یہ شعر بھی اس کی خوب ترجمانی کر رہا ہے

تھا جو ناخوب بتدریج وہی خوب ہوا ۔ ۔ ۔ کہ غلامی میں بدل جاتا ہے قوموں کا ضمیر

یہ ہیں وہ تقاضے جو اسلام ہر مسلمان سے کرتا ہے اب اس صورتحال میں میری سمجھ میں یہ نہیں آتا کہ وہ لوگ جو مسلمان ہیں اور اس بات کے دعویدار بھی کہ پاکستان ایک مسلمان ملک ہے اور یہاں شریعت قائم ہونی چاہئے کیسے اس بدترین ظلم میں ایک حصہ دار بن بیٹھے اور کیسے انہوں نے حقائق و واقعات کو یکسر فراموش کردیا۔ سچ پوچھئے تو شریعت کا نام لینے والے یا بظاہر اس کا مطالبہ کرنے والے سب شریعت سے خوفزدہ ہیں اور اسے پسند نہیں کرتے کیونکہ بہرحال شریعت کے تمام مطالبات و تقاضے وہ ہیں جو انہیں مرغوباتِ نفس سے دور کردیں گے اور جبراً انہیں ان تمام باتوں سے اجتناب کرنا پڑے گا جن کے لئے یہ بے چین و مضطرب رہتے ہیں۔ عوام الناس کی سطح پر یہ ایک عمومی خیال اپنی جگہ موجود ہے کہ شریعت کا مطالبہ کرنے والے علماء کبھی نفاذ شریعت کے لئے کچھ نہیں کرسکتے اس لئے کہ عملاً یہ کچھ کرنے کے اہل ہی نہیں سو کبھی کسی نے ایسے کسی مطالبے پر نہ کان دھرا اور نہ ایسے مطالبات کرنے والوں سے خوفزدہ ہوئے۔ یہ خوف تو ایسے گروہوں نے پیدا کیا جن کے طور طریقوں سے نفاذ شریعت کے امکانات ہویدا ہونے لگے تھے یا کم از کم یہ اندیشے جنم لینے لگے تھے کہ اگر واقعی کبھی نفاذ شریعت ممکن ہو رہی تو پھر کیا ہوگا؟ یہ سُود کا لین دین، یہ فحاشی، یہ بدقماشیاں، یہ قحبہ گری اور آنکھوں کے یہ مزے جو ہمہ وقت مختلف پہلوؤں سے میسر ہیں کیسے مہیا و دستیاب ہوں گے؟ سو ایک بڑے جتھے نے یکسر اس گروہ کی آواز کو مسترد کردیا اور حکومت کی رِٹ ملکی قوانین اور حکمرانوں سے بغاوت کا نام لے کر حلیفانِ حکومت میں شامل ہوگئے۔

اختلاف کرنا ایک مستحب عمل ہے اور اس کی پوری گنجائش بعض معاملات میں موجود ہے اگر سرکاری و عوامی سطح پر اس گروہ کے مطالبات شریعت پر اختلاف تھا یا کچھ ابہام تھا تو پھر اس کے اظہار کا طریقہ بھی معروف و مستحب اور جائز ہونا چاہئے تھا اور وہ یہ کہ اس پر جید دینی حلقوں کے حوالے سے بحث و مباحثے ہوتے اور اسی پلیٹ فارم کی سطح پر گفتگو کے ذریعہ کسی منطقی انجام تک پہنچنے کی کوشش کی جاتی۔ حکومت کا تو دعویٰ یہ ہے کہ اس نے ایسا کرنے کی کوشش کی تھی لیکن حقیقت کیا ہے یہ ہم آپ خوب جانتے ہیں۔ جو علماء اس بات کے دعویدار ہیں کہ وہ ایسی مساعی کا حصہ بنے تھے وہ بھی خوب جانتے تھے کہ ان کا کردار حکومتی نکات پر اہل مسجد و مدرسہ کو قائل و آمادہ کرنے کے سوا کچھ نہ تھا۔ مسائل کچھ لو اور کچھ دو کی بنیاد پر حل ہوتے ہیں اگر ایسا بھی ہو جاتا تو شاید خون ناحق سے مسجد و مدرسہ کی زمین سرخ نہ ہوتی حالانکہ علماء خوب جانتے ہیں کہ شریعت کے معاملے میں کچھ لو اور کچھ دو والا اصول درست نہیں ہے۔ یہ تو سراسر ظلم و ناانصافی ہے کہ جو بات طبعیت کو گوارہ نہ ہو قطع نظر اس کے کہ وہ کہاں تک درست ہے تشدد کا راستہ اختیار کرلیا جائے اور وہ بھی ایسے تشدد کا جس سے قتال وابستہ ہو۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ [جاری ہے]

لال مسجد کا معاملہ اور ہمارا رویّہ ۔ دوسری قسط

حالات و واقعات ۔ ایک محقق شیخ محمد علی صاحب کی نظر میں
حکومت نے یہ تاثر پیدا کرنے کی کوشش کی کہ یہ ریاست کی رٹ، قانون کی بالادستی اور حاکموں سے بغاوت کا معاملہ تھا اور حلیفان حکومت نے بھی جن میں عوام و خواص دونوں شامل ہیں اسی اصول پر اتفاق کر لیا اور اتنے بڑے سانحے و ظلم کے لئے محض اسی کو وجہ بنا ڈالا اور یقیناً علماء و مدارس تک بھی اس وحشت انگیز کارروائی کے ذریعہ یہ پیغام کامیابی سے پہنچایا گیا کہ دیکھ لو یہ ہے انجام ان کا جو زمین پر اللہ اور اس کے رسول کی شریعت کا مطالبہ کرتے ہیں۔ پاکستان ایک مسلم ملک ہے یا سیکولر، اس پر بحث کر کے میں اپنا وقت ضائع کرنا نہیں چاہتا کیونکہ کہنے والے یہ بھی کہتے ہیں کہ مسلمان ملک ہے اور اسلام کے نام پر حاصل کیا گیا تھا لیکن یہی کہنے والے عملاً اپنے نظریات و افکار سے اس کی نفی بھی کرتے ہیں۔ اب تو مغربی تعلیم کے زیر اثر وہ گروہ بھی پیدا ہو چلے ہیں جو اس کے سیکولر ہونے کے دعویدار ہیں اور اس بات کے خواہاں کہ یہاں کا طرز زندگی وہی ہو رہے جو کسی سیکولر اسٹیٹ کا ہوتا ہے تاکہ انہیں شہوات کے بہتے ہوئے دریا میں بے لباس ہو کر نہانے کے مواقع میسر آسکیں۔ میں خود بہت گنہگار مسلمان ہوں لیکن میرا ایمان ہے کہ گناہ تسلیم کر لینا اور گناہ کو گناہ نہ تصور کرنا بالکل دو مختلف چیزیں ہیں۔ اول الذکر میں خلاصی و نجات کے پورے راستے موجود ہیں جبکہ ثانی الذکر میں نجات کا کوئی راستہ نہیں۔

سچ صرف اسلام ہے اور بقا صرف اسلام میں ہی ہے۔ وہ لوگ جو حکومت کی رِٹ کی رَٹ لگائے ہوئے ہیں اور اس کے اختیارات و قوانین کی بات کرتے ہیں یا حکمرانوں سے بغاوت کی انہیں یہ بھی دیکھنا چاہئے کہ حقیقی صورتحال اس ملک میں کیا ہے جو اسلامی نہ سہی مسلم تو ہے۔ اس بات سے قطع نظر کہ اسلامی ریاست یا مملکت کیا ہوتی ہے، ایک اولی الامر یا حاکم کی تعریف اور اس کے فرائض و ذمہ داریاں کیا ہیں کم از کم یہ تو دیکھئے کہ آپ مسلمان ہیں اور ایک مسلمان ملک میں رہتے ہیں، آپ سے اللہ کی ذات کیا مطالبہ کرتی ہے بالخصوص ان علماؤں سے جو اپنے آپ کو انبیاء کا وارث قرار دینے میں آگے ہیں۔ پاکستان کو اسلامی مملکت بنانا آپ کی ذمہ داری ہے لیکن نہیں بنانا چاہتے تو یہ آپ جانیں اور اللہ لیکن اگر کوئی خوفِ خدا رکھنے والا شخص یا گروہ حاکم وقت کو اس کے فرائض و ذمہ داریاں یاد دلائے اور اس بات پر زور دے کہ اسے کیا کرنا ہے تو یہ کون سا گناہ ہے؟ حاکم کی اطاعت واجب ہے اور اس کا حکم بھی دوٹوک اللہ نے دیا ہے لیکن ذرا یہ بھی دیکھئے کہ وہ کون سے حاکم ہوتے ہیں جن کی اطاعت فرض و واجب کے کھاتے میں ڈالی گئی ہے۔ اطاعت کا حکم ملاحظہ فرمایئے :

”اے ایمان والو! اطاعت کرو اللہ کی اور اطاعت کرو رسول کی اور ان لوگوں کی جو تم میں صاحب امر ہوں۔“ (النساء:59) [نوٹ ۔ اس آیت کا بقیہ حصہ یہ ہے ۔ پھر اگر تمہارے درمیان کسی معاملہ پر نزاع ہو جائے تو اسے اللہ اور رسول کی طرف پھیر دو اگر تم واقعی اللہ اور روزِ آخر پر یقین رکھتے ہو ۔ یہی ایک صحیح طریقۂ کار ہے اور انجام کے اعتبار سے بھی بہتر ہے]

لیکن یہ صاحب امر ہوں گے کیسے جن کی اطاعت کو لازمی ٹھہرایا گیا ہے یہ بھی دیکھئے :

”یہ وہ مسلمان ہیں کہ اگر ہم نے انہیں زمین میں صاحب اقتدار کردیا تو وہ نماز قائم کریں گے، ادائے زکوٰة میں سرگرم رہیں گے، نیکیوں کا حکم دیں گے، برائیوں سے روکیں گے اور تمام باتوں کا انجام کار خدا کے ہاتھ میں ہے۔“ (الحج:41)

سو تو یہ طے ہے کہ حاکم کی اطاعت و فرمانبرداری مسلمان کے لئے ضروری ٹھہرائی گئی ہے تاکہ نظام زندگی مستحسن بنیادوں پر رواں رہے، ریاست میں اللہ کا قانون اور اس کا حکم نافذ ہو رہے، بدنظمی و عدم توازن پیدا نہ ہو، لاقانونیت جنم نہ لے سکے اور امن و سلامتی کا دور دورہ ہو لیکن یہ بھی یاد رکھئے کہ اول و آخر چیز اللہ کا حکم اور اس کی شریعت ہی ہے اور یہ سارا نظام اسی کے نفاذ کے لئے راہیں ہموار کرتا ہے اگر کوئی حاکم ان راہوں کی ہمواری کے آگے رکاوٹ بن رہا ہو اور اللہ اور اس کے رسولﷺ کے احکامات پس پشت ڈالے جا رہے ہوں تو پھر ان مسلمانوں کو جنہیں اس کی اطاعت کا پابند کیا گیا ہے انہیں اس سے بری الذمہ بھی ٹھہرایا گیا ہے اور اس کی وضاحت اللہ کے رسول ﷺ نے یوں کی ہے، آپ کا ارشاد ہے:

”مسلمان کو لازم ہے کہ اپنے اولی الامر کی بات سنے اور مانے خواہ اسے پسند ہو یا ناپسند، تاوقتکہ اسے معصیت کا حکم نہ دیا جائے اور جب اسے معصیت کا حکم دیا جائے تو پھر اسے نہ کچھ سننا چاہئے اور نہ ماننا چاہئے۔“ (بخاری و مسلم) [نوٹ ۔ اُوپر سورة النساء کا جو حصہ نوٹ کے تحت نقل کیا گیا ہے وہ یہی حکم دیتا ہے]

اب اس سے زیادہ جو سخت بات آپ نے ارشاد فرمائی ہے وہ بھی ملاحظہ فرما لیجئے جس کا اطلاق ہر مسلمان پر ہوتا ہے، آپ کا ارشاد ہے:

”تم میں ایسے لوگ بھی حکومت کریں گے جن کی بعض باتوں کو تم معروف پاؤ گے اور بعض کو منکر، تو جس نے ان کے منکرات پر اظہار ناراضی کیا وہ بری الذمہ ہوا اور جس نے ان کو ناپسند کیا وہ بھی بچ گیا مگر جو ان پر راضی ہوا اور پیروی کرنے لگا وہ ماخوذ ہوگا۔“ (مسلم)

لاتعداد احادیث ایسی ہیں جن میں حکمرانوں کے احکامات معصیت اور اعمال معصیت کی تشریحات و وضاحتیں موجود ہیں اور ان پر انفرادی و اجتماعی سطح پر آوازِ حق بلند کرنے کی تلقین کی گئی ہے یہاں تک کہ ایسے حاکموں کو ان کے منصب سے اتار دینے تک کے احکامات بھی موجود ہیں۔ پاکستان ایک اسلامی ریاست نہ سہی لیکن اگر یہ مسلمان ریاست بھی ہے تب بھی ایک مسلمان کے اس حق کو کوئی نہیں چھین سکتا جو اللہ اور اس کے رسولﷺ نے اسے دیا ہے اور جو محض ان دو مندرجہ بالا احادیث سے بھی واضح ہے۔ کوئی حکومت محض رِٹ، ہینڈ میڈ قوانین اور حکمرانوں سے بغاوت کی بات کر کے اپنے آپ کو احتساب سے نہیں بچا سکتی اور نہ ہی کسی ایسے حق سے کسی مسلمان فرد یا گروہ کو محروم کرسکتی ہے جو اس کی بنیادی دینی تربیت کا حصہ اور ایک اہم ذمہ داری ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ [جاری ہے]