Category Archives: روز و شب

قربانی اور واویلا

عیدالاضحٰے کی قربانی کے حوالے سے واویلا چند سالوں سے سُن اور اخبارات میں پڑھ رہا تھا ۔ اس سال میں نے سوچا کہ اس پر میں بھی اپنے خیالات اور تجربہ کا خلاصہ پیش کروں ۔ لیکن مجھے توقع نہیں تھی شگفتہ صاحبہ ہماری قوم کے ایک قبیح پہلو کو اُجاگر کرنے کی کوشش میں لکھیں گی “ہم قربانی کے نام پر پہلے دن دوسرے دن حتی کہ تیسرے دن بھی بھاری رقوم خرچ کرتے ہیں ۔ لیکن ہاں حساب لگا کے یہ نہیں کہنے کی ضرورت کہ کچھ حصہ ہی سہی تعلیم کے لیے خرچ کر لیں ان رقوم سے”

قربانی جو عام ہوئی وہ تو سنّتِ سیّدنا ابراہیم علیہ السلام ہی ہے لیکن قربانی انسان کی ابتداء سے جاری ہے ۔ انسانوں کے باپ سیّدنا آدم علیہ السلام کے بیٹوں ہابیل اور قابیل نے بھی جانوروں کی قربانی دی ۔ ایک کی قربانی قبول ہو گئی اور دوسرے کی قبول نہ ہوئی ۔ شروع زمانہ میں طریقہ یہ تھا کہ کہیں سے آگ آتی اور جس کی قربانی کو کھا جاتی اس کی قربانی قبول سمجھی جاتی اور جس کی قربانی کو آگ نہ کھاتی وہ قبول نہ سمجھی جاتی ۔ یہ طریقہ کار اس وقت تک جاری رہا جب سیّدنا ابراہیم علیہ السلام کے اپنے بیٹے کی قربانی کیلئے تیار ہو جانے پر اللہ سُبحانُہُ و تعالٰی نے ان کی قربانی اس طرح قبول کر لی کہ بیٹے کو تو کچھ نہ ہوا اور اس کی جگہ دُنبے یا مینڈے ذبح ہوئے ۔ اس وقت سے آج تک دُنبے ۔ مینڈے ۔ بکرے ۔ گائے یا اُونٹ کی قربانی 10 ذوالحجہ کو کی جاتی ہے ۔

دین اسلام میں تعلیم کی اہمیت واضح ہے لیکن سنّت سیّدنا ابراھیم علیہ السلام پر اُٹھنے والے خرچ کو تعلیم پر اُٹھنے والے خرچ سے کوئی واسطہ نہیں ۔ عجب بات تو یہ ہے کہ اس پر اعتراض کرنے والے کروڑوں روپیہ فضولیات پر خرچ کرتے ہیں جو دین سے تعلق ہونا تو کجا اُلٹا گناہ کا سبب ہوتا ہے مثال کے طور پر آتش بازی ۔ قبروں پر چڑھاوے ۔ صدر ۔ وزیر اعظم ۔ گورنروں ۔ وزراء اعلٰی اور دیگر وزراء کے لاحاصل دورے اور جشن جن پر قوم کا اربوں روپیہ خاک کی طرح اُڑایا جاتا ہے ۔ صدرِ پاکستان کے ایک چھوٹے سے پروٹوکال پر کروڑوں روپیہ برباد کر دیا جاتا ہے ۔ صدر ۔ وزیراعظم ۔ وزراء اعلٰی وغیرہ کی حفاظت پر مامور عملہ پر اربوں روپیہ ماہانہ خرچ اُٹھتا ہے ۔ ان تمام فضول اخراجات کا اگر آدھا بھی تعلیم اور صحت پر خرچ کیا جائے تو تمام غریبوں کے بچے بھی تعلیم حاصل کر سکتے ہیں اور سب کو اپنے ہی شہر میں مناسب علاج کی سہولت مل سکتی ہے ۔

قربانی کے سلسلے میں یہ بات نہیں بھولنا چاہئیے کہ ایسے لاکھوں لوگوں کو سال میں ایک بار گوشت کھانا نصیب ہوتا ہے جو سال بھر گوشت کو صرف حسرت سے دیکھتے ہیں ۔

آدمی کی چار قسميں

پہلا ۔ جس کے پاس عِلم اور دولت دونو ہوں اور وہ اپنے علم کو استعمال کر کے اللہ کے احکام کی حدود ميں اپنا مال خرچ کرے

دوسرا ۔ جس کے پاس عِلم ہو ليکن دولت نہ ہو اور وہ نيّت کرے کہ اگر اُس کے پاس دولت آئے تو وہ پہلے آدمی کی طرح خرچ کرے گا

تيسرا ۔ جس کے پاس علم نافع نہ ہو اور دولت ہو اور وہ اللہ کے احکام کی پروہ کئے بغير دولت خرچ کرے

چوتھا ۔ جس کے پاس نہ علم نافع ہو نہ دولت اور وہ تيسرے آدمی کے جاہ و جلال سے متأثر ہو اور نيّت کرے کہ دولت مل جائے تو وہ بھی تيسرے آدمی کی طرح رہے گا

مندرجہ بالا حديث ہے رسول اللہ صلی اللہ عليہ و آلہ و سلم کی اور انہوں نے فرمايا کہ پہلے اور دوسرے آدمی کو برابر اجر ملے گا اور بہترين اجر ہو گا جبکہ تيسرے اور چوتھے آدميوں کيلئے تباہی ہے ۔

تشريح :۔ نیت محظ خيال یا سوچ کو نہيں کہتے ۔ نيّت فيصلے يا پکّے ارادے کو کہتے ہيں جس پر عمل کرنے کی پوری کوشش کی جائے ۔

نیا سال ۔ معاشرے کی ترقی

آج گرِیگورین یا عیسوی سال 2008 کی پہلی تاریخ ہے ۔ میں پچھلے سال یعنی 2007ء کے آخری دن سے اس سوچ میں گم ہوں کہ برس ہا برس بیت گئے ۔ لوگوں سے سنتے اور اخبارات میں پڑھتے رہے کہ لوگوں نے نئے سال سے پہلے رات بڑے جوش و خروش سے منائی ۔ کسی نے پٹاخے چلائے ۔ کوئی ناچا ۔ کوئی اُمِ الْخبائث کے مزے لوٹتا رہا ۔ گذشتہ رات کو بھی ایسا ہی ہوا ہو گا ۔ مجھ جیسے [آج کی دنیا کے مطابق] بے ذوق آدمی صرف اپنی غلطیوں کی معافی اپنے اللہ سے مانگتے رہے اور ہر سال اسی سوچ میں گم رہے کہ اس خوشیوں کے بے ہنگم اظہار کی وجہ کیا ہے ؟ کیا ہم نے بہت ترقی کر لی ہے ؟ کیا ہم بہت پڑھ لکھ گئے ہیں ؟ کیا ہم خود کفیل ہو گئے ہیں ؟ کیا ہمارے تمام ہموطنوں کو دو وقت کا کھانا مل رہا ہے ؟

میری عمر 70 سال ہے ۔ دیکھتے ہیں پچھلے 50 سال میں ہم نے کتنی اور کیا ترقی کی ہے ۔ تب یعنی 50 سال قبل ہم تانبے یا پیتل کی تھالیوں میں کھانا کھاتے تھے ۔ شادی میں صرف پلاؤ ۔ زردہ اور ایک سالن ہوتا تھا اور کبھی ساتھ دہی بھی ۔ ہاتھ سے چاول کھاتے تھے ۔ پینے کو پانی ملتا تھا ۔ زمین پر دریاں بچھا کر بیٹھتے تھے ۔ شادی یا دوسری دعوت ہو تو کھا چکنے کے بعد کوئی تھالیوں میں کھانا یا گلاس میں پانی نہیں چھوڑتا تھا ۔ دعوت ختم ہونے پر زمین پر نہ کوئی ہڈی ہوتی تھی نہ چاول کا دانہ ۔

تب کوئی آپ کہہ کر مخاطب ہو تو بڑے ادب سے اور آپ کہہ کر ہی جواب دیتے تھے ۔ چاہے کوئی اپنے ماتحت یا کسی بہت کم عہدہ پر ہو لیکن عمر میں اپنے سے کافی بڑا ہو تو اسے ادب سے مخاطب کرتے تھے ۔ چھوٹے بیٹھے ہوں اور کوئی بڑا آ جائے تو بڑے کو جگہ دے دیتے ۔ بڑوں سے ملنے پر چھوٹے مؤدبانہ طریقہ سے سلام کرتے ۔ بڑوں کے سامنے چھوٹے ٹھٹھہ مذاق نہ کرتے ۔

اب چینی کی پلیٹوں میں کھاتے ہیں ۔ چمچے اور کانٹے سے کھاتے ہیں ۔ دس بارہ قسم کے کھانے ہوتے ہیں جس میں انگریزی ۔ اطالوی اور چینی کھانے شامل ہوتے ہیں ۔ کئی قسم کے مشروب ہوتے ہیں ۔ کرسی میزوں پر مزیّن ہوتے ہیں ۔ اگر کھانا علیحدہ میزوں پر سجا ہو تو کھانے کے گرد جمگھٹا کر لیتے ہیں اور کچھ لوگ پیچھے سے زبردستی آگے گھُس کر کھانا ڈالنے کی کوشش میں آگے کھڑے شخص کے کپڑے سالن آلود کر دیتے ہیں ۔ دعوتوں میں کئی لوگ پلیٹوں میں کھانا اور گلاسوں میں مشروب چھوڑنا تہذیب کی نشانی سمجھتے ہیں ۔ دعوت کے بعد عام طور پر زمین پر بلکہ قالین پر مرغی کی ہڈیاں بکھری ہوئی ہوتی ہیں ۔

اب نام سے مخاطب کیا جاتا ہے چاہے عمر میں مخاطب شخص والدین سے بھی بڑا ہو ۔ بزرگ سے بزرگ شخص بھی اگر عہدہ میں کمتر ہو تو اسے نام سے اور اکڑ کر مخاطب کیا جاتا ہے ۔ چھوٹے بیٹھے ہوں اور کوئی بڑا آ جائے تو چھوٹے اسی طرح پڑے رہتے ہیں ۔ بڑے کے آنے پر چھوٹے سلام تو کُجا بعض اوقات ان کی طرف دیکھنا بھی گورا نہیں کرتے ۔ بڑوں کے سامنے چھوٹے ٹھٹھہ مذاق کرنا شاید اپنا فرض سمجھتے ہیں ۔

کیا خوب ترقی ہے یہ ۔ ۔ ۔

ڈٹھا کھوتیوں غصہ کمیار تے

عنوان پوٹھوہاری زبان کی ضرب المثل ہے جس کا مطلب ہے کہ ایک شخص کمہار سے گدھا مستعار لے کر اس پر سواری کر رہا تھا کہ گر گیا اور گالیاں کمہار کو دینے لگا ۔ اسی طرح اگر روٹی پکانے والا روٹی جلا دے یا ٹھیک نہ پکائے اور گالیاں گندم اُگانے والے کسان کو دی جائیں ۔ کوئی ریاضی کو سمجھے بغیر ہی کہے کہ ریاضی بہت بُرا مضمون ہے یا طب کی تعلیم تو حاصل نہ کرے اور کہے کہ سب طبیب یعنی ڈاکٹر جاہل ہیں یا ظالم ہیں کہ لوگوں کے پیٹ چاک کر دیتے ہیں ۔ یہ سب کہاں کی عقلمندی ہے ؟ اور ایسے شخص کو کون تعلیم یافتہ کہے گا ؟ لیکن دورِ حاضر میں انسانوں کی اکثریت کی یہی عادت ہے جو ستاروں پہ کمندیں تو ڈالنے لگ گئے ہیں لیکن اپنے ذہن کی تربیت کرنے میں معذور دکھائی دیتے ہیں ۔

دورِ حاضر کا انسان عقل کو حیران کرنے والی نئی نئی ایجادات سے اتنا محسور ہو گیا ہے کہ اس نے اپنی عقل سے سوچنا چھوڑ دیا ہے اور ذرائع ابلاغ پر تکیہ کر لیا ہے جو کہ ایک مخصوص طبقہ کے دستِ نگر ہیں اور یہ مخصوص طبقہ آج کی دنیا میں بسنے والوں کا خدا بن بیٹھا ہے ۔ جو خبر ٹی وی ۔ اخبار یا انٹرنیٹ پر آ جائے وہ حرفِ آخر بن جاتی ہے خواہ کتنی ہی غلط ہو اور انہی کچھ سچی کچھ جھوٹی اور کچھ من گھڑت خبروں میں حقائق گم ہو کر رہ جاتے ہیں ۔

بلاشبہ اسلام دشمنی محسوس اور غیر محسوس طور پر شیطان کے پیروکاروں کا اولین ہدف رہا ہے لیکن دنیا میں کمیونزم کا زور ٹوٹنے کے بعد اسلام دشمن قوتوں نے تماتر توجہ اسلام کی بیخ کنی پر لگا دی ۔ اسلام کے پروکاروں کو اصل راستہ سے ہٹانے کیلئے ان میں تفرقہ ڈالنے کی کوششین تو کئی صدیاں قبل ہی شروع کر دی گئی تھیں ۔ پچھلی صدی میں ان کوششوں کو نیا رنگ اور نیا جذبہ عطا کیا گیا ۔ راہ گم کردہ مسلمانوں کو پُرکشش نئے نعرے دیئے گئے جن میں انسانی حقوق ۔ عورتوں کی برابری سرِ فہرست ہیں ۔ حالانکہ اسلام ہی وہ دین ہے جو انسانی حقوق کو اولیں ترجیح دیتا ہے اور جس نے نہ صرف عورتوں کو مردوں کے برابر حقوق دیئے ہیں بلکہ عورت کو ہر ایک کیلئے قابلِ احتران ٹھہرایا ہے ۔ کچھ دُور اُفتادہ علم حاصل کرنے کی دسترس نہ رکھنے والوں کی کچھ سچی اور زیادہ جھوٹی مثالیں بیان کر کے انہیں ہوا دی گئی اور ساری دنیا کے ذرائع ابلاغ پر ہاہا کار مچ گئی ۔ دین اسلام کے علم سے عاری مسلمان پے در پے اس اشتہاربازی کا شکار ہونے لگے ۔

افسوس تو اس بات کا ہے کہ مسلمان کے فرائض و حقوق سے ناواقف مسلمان کہلانے والے خود اپنے ہی دین کے خلاف زبان درازی کرنے لگے ۔ کوئی بیٹا اپنی اس ماں جس کے بطن سے وہ پیدا ہوا تھا کو فاحشہ کہے تو اکثر لوگ اس پر لعنت بھیجیں گے لیکن کچھ اس پر تالیاں بجانے والے بھی ہوں گے ۔ صد افسوس کہ دین اسلام جس کا درجہ ۔ احترام اور اطاعت ماں سے بھی بہت بڑھ کر لازم ہے اس کے خلاف مسلمان زبان درازی کرنے پر اُتر آئے ۔ اور پھر انہیں دعوٰی مسلمانی کا ہے ۔

ایک بلاگر کا دماغ کسی ناگہانی صدمہ کو برداشت نہ کر سکا اور ماؤف ہو کر اپنی مسلمانی پر ہی دشنام طرازی کرنے لگا ۔ اسی پر بس نہیں چند اپنے آپ کو ارسطو اور سقراط سمجھنے والوں کو گویا اپنے حلق کی صفائی کرنے کا موقع مل گیا اور انہوں نے اپنے دل کی حسرتیں جی بھر کر پوری کیں ۔

مثل مشہور ہے کہ کسی نے چاند پر تھوکا اور اپنا ہی منہ گندا ہوا ۔ ان عقلمندوں کو یہ بھی علم نہیں کہ اگر پانی کو آگ کہہ دیا جائے پھر بھی وہ پانی ہی رہے گا آگ نہیں بنے گا ۔

آج کی انفارمیشن ٹیکنالوجی کی دنیا کا تحقیقتی نتیجہ جو ہزاروں سال قبل الہامی کتاب میں موجود تھا یہ ہے کہ “ہم چیزوں کو اس طرح نہیں دیکھتے جس طرح کی وہ ہیں بلکہ اس طرح دیکھتے ہیں جس طرح کے ہم ہیں”

عقلمند اور تعلیم یافتہ انسانوں کو چاہیئے کہ اس اصول کو یاد رکھ کر اپنے باعلم ہونے کا ثبوت دیں ۔ اللہ ہمیں کفر اور شیطان کی پیروی سے بچائے ۔ آمین یا رب العالمین آمین ۔

تمام انسان برابر ہیں سوائے ۔ ۔ ۔

تمام انسان برابر ہیں سوائے اس کے کوئی تقوٰی کی وجہ سے اعلٰی ہو ۔

راشد کامران صاحب کے ایک تبصرہ “بر صغیر ۔ جہاں‌ ہر عمل اور ہر بات صرف اپنی یا اپنی ذات کی بڑائی دکھانے کے لیے کی جاتی ہے ۔ ۔ ۔ یہ سلسہ تبھی تھمے گا جب ہم “تقوی”‌ کے عزت کا میعار بنائیں” نے مجھے یہ مضمون لکھنے پر مائل کیا ۔ ‌

تقوٰی کے متعلق محققین علماء نے کتابیں لکھی ہیں جن کا احاطہ کرنا مجھ جیسے دو جماعت پاس کے بس کی بات نہیں ۔ میں تو اتنا جانتا ہوں کہ تقوٰی کے معنی ہیں چھوڑ دینا اور دین اسلام کے تحت تقوٰی کا مطلب ہوا کہ ہر اس چیز اور عمل کو چھوڑ دینا جس کا تعلق اللہ کے ساتھ نہ ہو ۔ دوسرے طریقہ سے بیان کریں تو تقوٰی کا مطلب ہے کہ ہر وہ چیز اور عمل چھوڑ دینا جس کے چھوڑنے کا اللہ نے کہا ہے اور ہر اس چیز اور عمل کو اپنا لینا جس کا تعلق اللہ کی خوشنودی سے ہو ۔

مسلمان ہونے کے ناطے ہمارا فرض ہے کہ ہم اللہ کی اطاعت کریں ۔ اطاعت اس طرح کی نہیں جیسی ہم بازاروں مں اور دفتروں میں کرتے ہیں کہ سامنے تو بہت اچھے اور پیچھے کسی کی پرواہ نہیں ۔ ہاں اگر ہم یہ یاد رکھیں اللہ ہر وقت دیکھ رہے ہیں اور فرشتے ہمارے عمل کی مکمل سند تیار کر رہے ہیں جس کیلئے ہماری پیشی ہو گی اور ہر غلط کام کی سزا بھُگتنا پڑے گی تو پھر ہم کبھی بھول کر بھی کوئی ایسا کام نہیں کریں گے جو اللہ کے حکم کے خلاف ہو یا جس سے اللہ کی خوشنودی حاصل نہ ہو ۔ ایسا کرنے والا آدمی ہی متقی ہے ۔ اور متقی بہادر اور مطمئن ہوتا ہے ۔

قرآن شریف سے پہلے کی الہامی کتب یعنی زبور ۔ تورات اور انجیل میں بہت تحریفات کی جا چکی ہیں لیکن ابھی بھی ان میں کچھ باتیں صحیح حالت میں موجود ہیں ۔ آج لوگوں کی اکثریت کا یہ حال ہے کہ بمطابق انجیل “انہیں دوسروں کی آنکھ کا تنکا تو نظر آتا ہے لیکن وہ اپنی آنکھ کے شہتیر کو نہیں دیکھ سکتے”۔ تورات میں ہے “ہم چیزوں کو اس طرح نہیں دیکھتے جس طرح کی وہ ہیں بلکہ اس طرح دیکھتے ہیں جس طرح کے ہم ہیں”۔ ہمارے ہاں ایک محاورہ عام استعمال ہوتا ہے “آئینہ میں اپنی ہی شکل نظر آتی ہے”۔

اگر دوسروں کے اندر عیب تلاش کرنا اور دوسروں کے عیب گننا چھوڑ کر اپنی اصلاح پر توجہ دی جائے تو انسان تقوٰی کی منزل کو پہنچ سکتا ہے ۔

لڑکے گھورتے ہیں

موضوع اس سے شروع ہوا کہ لڑکے اور مرد لڑکیوں اور خواتین کو گھورتے ہیں اور دیگر نازیبا حرکات کرتے ہیں ۔ یہ حرکات میں نے اپنی زندگی میں اس وقت پہلی بار دیکھی تھیں جب میں آٹھویں جماعت میں پڑھتا تھا یعنی 1951ء میں ۔ میں مندرجہ ذیل خواتین و حضرات کی تحاریر اس سلسلہ میں پڑھ چکا ہوں

راشد کامران صاحب نے 3 دسمبر 2007ء کو
فرحت صاحبہ نے 6 دسمبر 2007ء کو
عورت کی مجموعی مظلومیت پر لکھا جو کہ ایک الگ تحقیق طلب ہے
قدیر احمد صاحب نے 7 دسمبر 2007ء کو
اپنے آپ کو بدتمیز کہنے والے صاحب نے 7 دسمبر 2007ء کو
میرا پاکستان والے صاحب نے 7 دسمبر 2007ء کو
ماوراء صاحبہ نے 9 دسمبر 2007ء کو

اللہ سُبحانُہُ و تعالٰی نے میرا ذہن کچھ ایسا بنایا ہے کہ اس میں جو بات گھُس جائے اس کی جڑ تک پہنچنے کی کوشش کرتا ہوں ۔ چنانچہ 1951ء سے میں نے دیکھنا شروع کر دیا کہ جب جوان لڑکی یا عورت گذر رہی ہوتی ہے تو کون کیا کرتا ہے ۔ اس کی عمر کتنی ہے اور بظاہر ماحول کیسا ہے ۔ ہم اس زمانہ میں راولپنڈی شہر کے وسطی علاقہ میں رہتے تھے ۔ میں نے دیکھا کہ راولپنڈی اور گرد و نواح کے رہنے والے عورتوں پر جُملے کسنا شائد اپنا فرض سمجھتے تھے اور جملہ کسنے کے بعد ادھر اُدھر دیکھ کر داد و تحسین وصول کرنے کی کوشش کرتے تھے ۔ عورت کے پاس سے ٹکراتے ہوئے گذرنا یا عورت کے جسم کے کسی حصے کو ہاتھ لگانا یا چُٹکی لینا بھی ہوتا تھا ۔ یہ حرکات کرنے والوں میں نوجوان اور شادی شدہ دونوں شامل ہوتے لیکن ان میں زیادہ تر کم پڑھے لکھے ہوتے ۔ پڑھے لکھے لوگوں میں سے بہت ہی کم کو ایسی حرکت کرتے دیکھا گیا

میں گارڈن کالج میں داخل ہوا تو وہاں مخلوط تعلیم تھی مگر لڑکیوں کی ڈین ایک بڑی عمر کی عیسائی خاتون مس خان تھیں جو ہر وقت لڑکیوں کی تربیت اور حفاظت کرتی تھیں ۔ لڑکیاں کیا لڑکے بھی ان سے بہت ڈرتے تھے ۔ اسلئے کالج کے اندر تو ممکن تھا ہی نہیں کہ کوئی لڑکا کوئی نازیبا حرکت کرے ۔ کالج سے باہر بھی پروفیسر صاحبان خیال رکھتے تھے ۔ ہمارے ہمجماعت لڑکے کو ہمارے پروفیسر خواجہ مسعود صاحب نے کسی بس سٹاپ پر لڑکیوں کے پاس کھڑا دیکھا اور کالج میں اس کو اتنا شرمندہ کیا کہ دوبارہ اس نے ایسی حرکت نہ کی ۔ سنا ہے کہ دس بارہ سال بعد گارڈن کالج میں حالات خراب ہونا شروع ہو گئے تھے بلکہ یوں کہنا چاہیئے کہ معاشرہ ہی بگڑنا شروع ہو گیا تھا

میں مزید تعلیم کیلئے 1956ء میں لاہور چلاگیا ۔ وہاں انارکلی میں ایسی حرکات ہوتے دیکھیں مگر اس کے مرتکب بالخصوص اسی کام کیلئے آئے ہوتے تھے ۔ ان میں کالجوں کے طلباء بھی شامل ہوتے تھے ۔ دکاندار عزت و احترام کے ساتھ باجی یا خالہ جی کہہ کر پیش آتے ۔ اس کے برعکس راولپنڈی میں کچھ دکان دار بھی ان بُری حرکات میں شامل ہوتے تھے ۔

ایک بات جو کسی نے نہیں لکھی یہ ہے کہ کچھ لڑکیاں ایسی حرکات سے محظوظ ہوتے بھی دیکھیں ۔ کبھی کبھی ایسی لڑکی بھی دیکھی جو خود جان بوجھ کر نوجوان لڑکے کے قریب سے یا سامنے سے گذری

مندرجہ بالا مشاہدات 1962ء تک کے ہیں ۔ اسلام آباد ہو ۔ کراچی ہو یا لاہور ۔ اب تو یہ حال ہے کہ غریب سے لے کر امیر ترین والدین کی اولاد بے راہ روی کا شکار ہے ۔ دولت کی فراوانی نے تو چار چاند لگا دیئے ہیں ۔ کسی ریستوراں میں چلے جائیے یا کسی سیر و تفریح کی جگہ ۔ ہر جگہ فلمی مناظر دیکھنے کو ملتے ہیں ۔ یومِ آزادی ہو یا نئے سال کی پچھلی رات ۔ کیا لڑکے اور کیا لڑکیاں وہ طوفانِ بد تمیزی ہوتا ہے کہ ایک بار دیکھنے کے بعد توبہ کی اور پھر کوئی ضروری کام بھی ہوا تو ایسی رات میں گھر میں دُبکے رہے

اسلام آباد کی منصوبہ بندی

بسلسلہ 9 دسمبر 2007ء

فیصلہ ہوا کہ راولپنڈی تحصیل کو مرکزی حکومت کا گھر بنا دیا جائے اور راولپنڈی کے ضلعی دفاتر گوجرخان منتقل کر دیئے جائیں ۔ ان دنوں ٹیکسلا تحصیل نہیں تھی اور ٹیکسلا راولپنڈی تحصیل میں شامل تھا اور واہ چھاونی بھی ۔ اس منصوبہ بندی کے تحت پرانے راولپنڈی شہر کی تعمیرِ نو کی جانا تھی ۔ انگریزوں سے تربیت یافتہ انڈین سول سروس اور ان کے پیروکار پاکستان سنٹرل سروسز [اب سی ایس ایس] کے افسران کو راولپنڈی جیسا شہر چھوڑ کر گوجرخان جانا منظور نہ تھا ۔ چنانچہ اس پر عمل درآمد پر لیت و لعل ہوتا رہا اور اس منصوبہ کے علمبردار فیلڈ مارشل محمد ایوب خان کے کرسی سے ہٹتے ہی اسلام آباد کو اس طرح سے سکیڑا گیا کہ مستقبل میں توسیع کا امکان بھی نہ رہا ۔

اسلام آباد کی منصوبہ بندی شہری منصوبہ بندی کی ایک مشہور یونانی کمپنی نے کی ۔تقریباً ڈیڑھ کلو میٹر مربع کا ہر سیکٹر بنایا گیا ۔ ہر سیکٹر میں لڑکوں اور لڑکیوں کا ایک ایک انٹر کالج جس میں چھٹی سے بارہویں جماعت تک پڑھائی ہو اور ایک بڑی کمرشل مارکیٹ ۔ ہر چوتھائی سیکٹر میں لڑکوں اور لڑکیوں کیلئے ایک ایک پرائمری سکول ۔ ایک چھوٹی مارکیٹ ۔ ایک مسجد اور ایک چلڈرن پارک ہونا تھا ۔ مری کی طرف پہاڑیوں کے دامن میں بہت بڑا علاقہ مکمل رہائشی یونیورسٹیوں کیلئے رکھا گیا جن میں ہر قسم کی تعلیم شامل تھی ۔ اس کے علاوہ سیکٹر جی 8 میں ایک بہت بڑا تعلیمی ہسپتال بننا تھا ۔

ڈویلوپمنٹ شروع کرنے سے پہلے اسلام آباد کے تمام درخت اور جھاڑیاں کاٹ کر ان کی جڑیں بھی نکال دی گئیں ۔ جب سڑکیں بننا شروع ہو گئیں تو کسی کو خیال آیا کہ درختوں کا کیا ہو گا ۔ کسی غلامانہ ذہنیت کے لال بجھکڑ نے رائے دی کہ جنگلی توت کا بیج برطانیہ سے منگوا کر چھوٹے ہوائی جہاز سے چھڑکاؤ کر دیا جائے کیونکہ وہ بہت جلد اُگتا ہے اور تیزی سے پھیلتا ہے ۔ اس توت کو پھل نہیں لگتا ۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا ۔ اب اس جنگلی توت کی مہربانی سے پورے اسلام آباد کے باشندے ایک ایسی الرجی میں مبتلا ہو چکے ہیں جو انسان کو زکام اور سانس کی تکلیف میں مبتلا کرتی ہے اور بڑھ کر دمہ کی صورت اختیار کر لیتی ہے ۔ سات آٹھ سال قبل سی ڈی اے نے جنگلی توت کے سارے درخت تلف کرنے کا ٹھیکہ دیا ۔ دو تین سال میں درخت کاٹ دیئے گئے مگر جڑیں نہ نکالی جا سکیں جس کے نتیجہ میں میں جنگلی توت کے درخت اُگ گئے ہیں ۔

ذوالفقار علی بھٹو کے عوامی دور میں سوچا گیا کہ پاکستانی عوام کے بچے پڑھ کر کیا کریں گے اور یہ پارک تو زمین ضائع کرنے کے مترادف ہیں پھر اتنی ساری مساجد کیا کرنا ہیں ۔ اسلئے کئی سکولوں ۔ پارکوں اور مسجدوں کی زمینیں اپنے لوگوں کو مکان اور دکانیں بنانے کیلئے دے دی گئیں ۔ مشرقی طرز پر زیرِ تعمیر وزیر اعظم ہاؤس کو توڑ پھوڑ کر مغربی طرز کا قلعہ نما محل بنایا گیا ۔ شاہراہ قائد اعظم جو کہ ایف ۔ جی 5 سے ایف ۔ جی 17 تک بننا تھی کا نام بدل کر انگریزی نام جناح ایونیو رکھ کر اسے ایف ۔ جی 5 سے ایف ۔ جی 9 تک محدود کر دیا گیا مگر اس کی تعمیر جو ایف ۔ جی 7 تک ہو چکی تھی اس سے آگے نہ کی گئی ۔ ایف 10 میں شاہراہ قائد اعظم کی زمین قائدِ عوام کے چہیتوں میں بانٹ دی گئی ۔ اسلام آباد کی مزید ترقی روک دی گئی ۔ اسلام آباد کا بڑے ہسپتال کا منصوبہ روک دیا گیا ۔ نہ اسلام آباد کی ضلع کچہری بنی نہ دوسرے مرکزی دفاتر اور ان کو مختلف مارکیٹوں پر قبضہ کر کے ان میں بسا دیا گیا ۔ لاڑکانہ کو ترقی دینے کا منصوبہ بنا اور اس پر عمل شروع ہو گیا ۔ اس وقت تک ایف 6 سے 8 اور جی 6 سے 9 تک ڈویلوپ ہو کر بن رہے تھے ۔

اس کے علاوہ لبیا کے معمر قذافی کے نعرہ “بیت لِساکنہُ” یعنی مکان اس کا جو اس میں رہتا ہو کی نقل کرتے ہوئے جیالوں کو سرکاری زمینوں پر راتوں رات قبضہ کا اشارہ ملا جس کے نتجہ میں بہت سی سرکاری املاک انہیں کوڑیوں کے مول دے دی گئی ۔ اس کا ایک نمونہ سب سیکٹر ایف 8/1 میں ہماری رہائش گاہ سے چند قدم کے فاصلہ پر ہے جہاں بچوں کے پارک کی زمین میں سے بہتر حصہ پر پانچ پانچ مرلے کے 10 پلاٹ جیالوں کو دئیے گئے ۔ ان میں سے 7 تو جلد ہی پلاٹ بیچ کر فارغ ہو گئے اور باقی 3 نے مکان بنائے ۔ اب معلوم نہیں وہ ان میں رہ رہے ہیں یا کرائے پر دیئے ہیں یا مکان بیچ کر جا چکے ہیں ۔

جنرل ضیاء الحق کے زمانہ میں ایف اور جی 10 اور ایف 11 کی ڈیویلوپمنٹ شروع ہوئی ۔ ایف 9 پارک ہے ۔ اس کے علاوہ پاکستان انسٹیٹوٹ آف میڈیکل سائینسز بننا شروع ہوا ۔

بینظیر کی حکومت آئی تو سیکٹر آئی 8 جو ریلوے سٹیشن ۔ جنرل بس سٹینڈ اور دیگر مختلف عوامی ضروریات کیلئے مختص تھا رہائشی علاقہ قرار دے کر اپنے مداحوں میں بانٹ دیا اور سیکٹر جی 8 کے وہ خالی پلاٹ جہاں مسجد ۔ پارک یا سکول بننے تھے ان میں سے کچھ پر رہائشی پلاٹ بنا کر مزید لوگوں کو خوش کیا گیا ۔ جو وڈیرے بچ گئے تھے انہیں قائد اعظم یونیورسٹی کی زمین کاٹ کر پلاٹ الاٹ کر دیئے گئے ۔ سیون سٹار سٹینڈرڈ کا وزیر اعظم سیکریٹیریٹ بنایا گیا جس کے نتیجہ میں کسی سیکٹر کی ڈیویلوپمنٹ نہ ہو سکی ۔

نواز شریف کا دور آیا تو جناح ایونیو کو ایف ۔ جی 8 اور 9 کے علاقہ میں مکمل کیا گیا اور دوسری کئی سڑکیں تعمیر ہوئیں جس سے نہ صرف اسلام آباد سے دوسرے شہروں کو جانے میں سہولت ہوئی بلکہ اسلام آباد کے اندر بھی کافی سہولت ہو گئی ۔

موجودہ دور کی کارستانیاں لکھنے کیلئے بہت وقت اور جگہ چاہیئے جس کا میں اپنے آپ کو متحمل نہیں پاتا ۔ صرف تین مثالیں پیش کرتا ہوں ۔ مرگلہ کی خوبصورت پہاڑیوں کے دامن میں نیشنل پارک کے علاقہ میں ایک سیکٹر پر نیوی نے بینظیر بھٹو کے زمانہ میں کالونی بنا لی ۔ اس کے بعد ایئر فورس نے ملحقہ سیکٹر میں کالونی بنا لی اور اب فوج کا جنرل ہیڈ کوارٹر اور جرنیلوں کی رہائش گاہیں بنانے کیلئے دو مزید سیکٹروں پر قبضہ کر لیا گیا ہے اور ان کو پشاور ۔ راولپنڈی ۔ چکلالہ ۔ مری اور لاہور سے ملانے کیلئے سُپر ہائی ویز کی تعمیر شروع ہو چکی ہے ۔

اسلام آباد زیرو پوائنٹ پر شاہراہ کشمیر شاہراہ اسلام آباد کے اوپر سے گذرتی ہے اور شاہراہ سہروردی شاہراہ اسلام آباد کی سطح پر زیرو پوائنٹ سے شروع ہو کر آبپارہ کی طرف جاتی ہے ۔ یہاں پر انٹرسیکشن بنانا اولین منصوبہ بندی کا حصہ ہے ۔ اس چوک کے ایک طرف شکرپڑیاں کی پہاڑی ہے ۔ دوسری طرف نالہ ۔ کھڈ اور قبرستان ۔ تیسری طرف بلند عمارت اور چوتھی طرف زمین ہے ۔ ایک سال قبل صدر جنرل پرویز مشرف کے حکم سے شکرپڑیاں پہاڑی کی قریبی چوٹی پر کروڑوں روپے کے خرچ سے ایک مانومنٹ بنا دیا گیا ہے ۔ اب انٹر سیکشن بنایا جائے تو مانومنٹ گرانا پڑتا ہے یا پھر چوک کو پہاڑی سے دور ہٹایا جائے ۔ پہلی بات یہ ہے کہ جگہ کی ہیئت کی بنا پر یہ ممکن نظر نہیں آتا ۔ اگر ممکن ہو بھی تو چوک منتقل کرنے پر وہاں ملنے والی سب سڑکیں اور پل نئے سرے سے بنانے پڑیں گے جس پر دو سے تین گنا زیادہ خرچ ہو گا ۔

دوسری مثال متذکرہ بالا سُپر ہائی ویز میں سے ایک “ساتویں ایونیو [7th Avenue]” کی ہے جو حال ہی میں مکمل ہوئی ہے ۔ اگر یہ اصل جگہ پر بنائی جاتی تو چوک کے ایک کونے پر کھڑے کلثوم پلازہ کا کچھ حصہ گرانا پڑتا کیونکہ اس پلازہ کا کچھ حصہ مجوزہ سڑک کی زمین پر بنا ہوا ہے ۔ یہ پلازہ سلیم سیف اللہ کی ملکیت ہے جو وفاقی وزیر اور صدر جنرل پرویز مشرف کا خاص آدمی ہے ۔ اسلئے اس سڑک کی جگہ بدلی گئی جس کی وجہ سے اس کی تعمیر پر ساڑھے چوبیس کروڑ کی بجائے 50 کروڑ روپے خرچ آیا ۔

جاری ہے ۔ ۔ ۔