Category Archives: روز و شب

صنفِ مخالف کی کشش

مندرجہ ذیل مضمون میری 17 دسمبر 2007ء اور 14 جنوری 2008ء کی تحاریر کی تیسری اور آخری قسط ہے ۔

اللہ سُبحانُہُ و تعالٰی نے تمام مخلوقات کے جوڑے بنائے ہیں ۔ اگر ان میں کوئی باہمی کشش نہ ہوتی تو یہ نظام چل نہ پاتا ۔ دیکھا جائے تو پوری کائنات کے نظام کے چلنے کی بنیاد ہی باہمی کشش ہے ۔ اس کشش کا متوازن ہونا پائیداری کیلئے ضروری ہے ۔ بات کریں حضرتِ انسان کی تو یہ کشش ازل سے ہے اور جس دن یہ ختم ہو گی میرا خیال ہے کہ اس وقت یا اس کے بہت جلد بعد قیامت وقوع پذیر ہو جائے گی ۔ اس کشش کا عدم توازن یا تجاوز ارتعاش یا انتشار کا باعث بنتا ہے

میں سوچتا ہوں کہ اگر مجھ میں عورت کی کشش نہ ہوتی تو میں نہ شادی کرتا نہ میرے بچے ہوتے ۔ میں صرف کماتا ۔ سیروسیاحت اور مہم جوئی کرتا اور اس کے علاوہ اپنے کمرہ میں بند نئی سے نئی ایجاد کیلئے سرگرم ہوتا ۔ شائد یہ عمل عجیب محسوس ہو کہ صنفِ مخالف کی کشش کا قائل ہونے کے باوجود میں نے کبھی کسی لڑکی کو دیکھنے کی کوشش نہیں کی اور اس کے نتیجہ میں اب تک بہت گلے شکوے سننا پڑتے ہیں ۔ عزیز و اقارب خواتین کہتیں ہیں “مانا کہ تم بلندیوں کی طرف نظر رکھتے ہو لیکن کبھی زمین پر بھی نظر ڈال لیا کرو جس پر ہم جیسے غریب چل رہے ہوتے ہیں”۔ یہ شکائت اس دور سے ہے جب میں پیدل یا بائیسائکل پر ہوتا تھا اور اب بھی ہے کہ کار پر ہوتا ہوں ۔ میں کہہ دیتا ہوں کہ اگر اِدھر اُدھر دیکھوں گا تو کسی گاڑی سے ٹکرا جاؤں گا ۔ ایک بار ایک محترمہ [کزن] نے کہا “باتیں مت بناؤ ۔ میں تمہارے سامنے سے گذری تھی”۔ میں نے بھی نہلے پر دیہلا لگا دیا “باجی ۔ میں نظر نیچی رکھ کر چلتا ہوں کہ کسی غیر عورت کو دیکھ کر گناہگار نہ ہو جاؤں”۔

ہر چیز کا طریقہ اور سلیقہ ہوتا ہے جس کے بغیر مضبوط معاشرہ کا قائم ہونا بہت مشکل ہوتا ہے ۔ عورت مرد کی باہمی کشش کے زیرِاثر تجاوزات آج کی بات نہیں ۔ صرف اس کی مقدار اور پھیلاؤ گھٹتے بڑھتے رہے ہیں اور مختلف معاشروں میں بھی مختلف ہوتے ہیں ۔ میں نے اس فعل یا عمل کا بہت مطالعہ کیا اور اس میں ملوث ہونے والے کئی لڑکوں کے ساتھ تبادلہ خیال بھی کیا ۔ مجھے اس کی صرف ایک ہی وجہ نظر آئی اور وہ ہے کہ ہر لڑکا جب ایک خاص عمر کو پہنچتا ہے تو وہ خواہش کرتا ہے کہ لڑکیاں اس کی طرف متوجہ ہوں ۔ یہی جذبہ لڑکیوں میں بھی پایا جاتا ہے ۔ ایک خاص عمر کو پہنچ کر لڑکیوں کے دل میں لڑکوں کی ستائش حاصل کرنا چُٹکیاں لینے لگتا ہے ۔ اسی وجہ سے کئی لڑکے لڑکیاں بار بار آئینہ دیکھتے ہیں کہ وہ کیسے لگ رہے ہیں ۔ اس خواہش کے زیرِ اثر کچھ لڑکے لڑکیاں غلط راہ پر چل پڑتے ہیں جسے وہ وقتی شغل میلہ قرار دیتے ہیں ۔ اسی شغل میلے میں چند بے راہروی اختیار کر لیتے ہیں ۔ فرعون نے اپنی اسی خواہش کے تحت لڑکوں کے قتل اور خوبصورت لڑکیوں کے زندہ رکھنے کا حکم دیا ۔ کلوپٹرا کی حکومت آئی تو اس نے ہر خوبصورت مرد کو اپنے قریب رکھا ۔

ایک کُلیہ ہے معاشیات کا طلب اور رسد کا جو اس معاملہ میں بڑا معاون ثابت ہو سکتا ہے کہ صنفِ مخالف کی توجہ بھی مل جائے اور بدتہذیبی بھی نہ ہو لیکن اس کیلئے کچھ محنت بھی کرنا پرتی ہے ۔ ظاہر ہے کہ بغیر محنت کے تو کچھ نہیں ملتا ۔ کوئی نوالا منہ بھی ڈال دے تو چبانا اور نگلنا خود ہی پڑتا ہے ۔ لڑکا اگر سَستی قسم کی بڑھائی کی بجائے اپنے اندر ایسی بڑھائی پیدا کرے جو ہمیش ہو تو وہ ایک لڑکی نہیں بلکہ کئی لڑکیوں کو متوجہ کر سکتا ہے لیکن نیت لڑکی کی توجہ حاصل کرنے کی بجائے اپنے اندر اچھائی پیدا کرنے کی ہو ۔ کیونکہ معاشیات کا کلیہ کہتا ہے کہ طلب زیادہ ہو تو رسد کم ہو جاتی ہے اور اس کے برعکس رسد زیادہ ہو تو طلب کم ہو جاتی ہے ۔

لڑکے ان طریقوں سے لڑکیوں کو متوجہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ بال بنا کر ۔ سردیوں میں صرف قمیض پہن کر ۔ مہنگی خوشبو لگا کر ۔ خطرناک طریقہ سے سائیکل یا موٹر سائیکل چلا کر [آجکل کار] ۔ گانا گا کر ۔ قیمتی گھڑی پہن کر جسے بار بار وہ ننگا کرتے ہیں ۔ باڈی بلڈنگ کر کے ۔ مجھے ایسے لڑکوں کی عقل پر ہی شک رہا ۔ ان چیزوں پر میں نے لڑکیوں کو ہنستے تو دیکھا ہے لیکن متاثر ہوتے نہیں دیکھا ۔ گو کچھ لڑکیاں اداکاروں یا کھلاڑیوں پر دل نچھاور کر دیتی ہیں اور بعد میں پچھتاتی ہیں ۔ شادی شدہ مردوں کے اس عمل میں ملوث ہونے کا سبب احساسی کمتری یا احساسِ محرومی ہوتا ہے ۔ مرد ہی نہیں کچھ شادی شدہ عورتیں بھی یہ حرکات کرتی ہیں ۔ اس کی وجہ خاوند کی بے توجہی یا خاوند کا غلط چال چلن ہوتا ہے ۔ جن عورتوں کے خاوند سالہا سال ان سے دور رہتے ہیں ان میں سے بھی چند اس راہ پر چل پڑتی ہیں ۔

بلاشُبہ چہرے یا جسم کی ظاہری خوبصورتی بہت کشش رکھتی ہے مگر یہ دائمی نہیں ہوتی ۔ کچھ عرصہ بعد وہی چہرہ وہی جسم اپنی کشش کھو دیتا ہے یا عام سا لگنے لگتا ہے ۔ سیرت ایک ایسی خوبی ہے جسے قائم کیا جائے تو وقت کے ساتھ ساتھ اس کی کشش بڑھتی جاتی ہے ۔ سیرت کے کئی پہلو ہیں ۔ محنت سے پڑھنا ۔ صاف ستھرا رہنا ۔ لڑکی ۔ خواتین یا بزرگوں سے بات کرتے ہوئے نظریں نیچی رکھنا ۔ بے لوث خدمت یعنی کسی مادی لالچ اور امیر غریب یا چھوٹے بڑے کی تمیز کے بغیر ۔ ہمیشہ سچ بولنا اور سچ کا ساتھ دینا ۔

میں اس دنیا کی مخلوق نہیں ہوں اگر کوئی مجھے اس معاشرے کے حساب سے دیکھے تو میں اُجڈ شخص ہوں ۔ میں ہمیشہ صنفِ مخالف سے کتراتا رہا ہوں ۔ اپنے خاندان میں سوائے دو کے سب لڑکیاں یا مجھ سے بہت بڑی ہیں یا بہت چھوٹی ۔ دوسری لڑکیاں رشتہ دار ہوں یا غیر ہوں جوانی میں ان کے ساتھ میرا رویہ بڑا خشک ہوتا تھا ۔ میرے کچھ قریبی ہمجماعت کبھی کبھار کہہ دیتے “یار اجمل ۔ تم ہم سب کے ساتھ اتنے نرم لہجہ میں بات کرتے ہو ۔ لڑکیوں کے سامنے تمہیں کیا ہو جاتا ہے ؟”کمال یہ ہے کہ میرے خشک رویئے کے نتیجہ میں کسی لڑکی نے میرے ساتھ کبھی بُرا سلوک کرنا تو درکنار کبھی ماتھے پر بل بھی نہ ڈالے ۔ اس خشک رویئے کے باوجود لڑکیاں مجھ سے بات کرنے کی کوشش کرتیں ۔ عشق کو میں ہمیشہ دماغ کا خلل سمجھتا رہا ہوں ۔ لڑکیوں کے پیچھے پھرنا یا صرف دیکھنے کی خاطر ان پر نظریں ڈالنا میری نظر میں ایک انتہائی گھٹیا فعل رہا ۔ بلا تفریق امیر و غریب یا لڑکی لڑکا ہر کسی کی خدمت کرنا میں اپنا فرض سمجھتا رہا ہوں ۔ میں ساری عمر میں زر تو نہ اکٹھا کر سکا لیکن مجھ پر اللہ سُبحانہُ والحَمْدُللہ بعَدَدِ خَلْقِہِ کی بہت کرم نوازی رہی کہ ہر کسی نے مجھے عزت دی ۔

کیا صرف پاکستانی گھورتے ہیں ؟

یہ میری 17 دسمبر 2007ء کی تحریر کا دوسرا باب سمجھ لیجئے ۔ میرا مشاہدہ ہے کہ پاکستانیوں کو جتنی اپنے ہموطنوں سے شکائت رہتی ہے کسی اور قوم کو نہیں ۔ اس کی وجہ یہ نہیں کہ سب پاکستانی بُرے ہیں بلکہ پاکستانیوں کی اکثریت کسی وجہ سے احساسِ کمتری میں مبتلا ہے اور ایسے لوگوں کو غیر کے سامنے اچھا بننے کا ایک ہی طریقہ سمجھ آیا ہے کہ اپنوں کو بُرا کہیں ۔ اس طرح وہ دوسرے لفظوں میں اپنے آپ کو بُرا کہہ رہے ہوتے ہیں ۔

ہمارے ہموطنوں میں قباحت یہ ہے کہ ٹکٹِکی لگا کر دیکھتے ہی چلے جاتے ہیں جو معیوب سمجھا جاتا ہے ۔ اگر لفظ گھورنا کی بجائے بُری نظر سے دیکھنا کہا جائے تو ایسا یورپ اور امریکہ میں بھی ہوتا ہے حالانکہ ان ملکوں میں جنسی آزادی انتہاء کو پہنچ چکی ہے ۔ یورپ اور امریکہ میں کسی لڑکی یا عورت کو گھورنے یا غلط نظروں سے دیکھنے کے علاوہ اور بھی بہت کچھ ہوتا ہے یعنی کسی عورت یا لڑکی میں کشش محسوس ہوئی تو موقع پا کر اس کا بھوسہ لے لیا ۔ یہ عمل زبردستی بھی کیا جاتا ہے ۔ میں یورپ کے ایک شاپنگ سنٹر میں کچھ خریدنے کیلئے اس کی تلاش میں تھا ۔ دوپہر کے کھانے کا وقت تھا اور بہت کم لوگ موجود تھے ۔ میں نے دیکھا کہ ایک کونے میں ایک مرد گاہک نے ایک سیلز وومن کا بھوسہ لینے کی کوشش کی وہ ایکدم پیچھے ہٹ گئی تو اس نے آگے بڑھ کر اسے دبوچ کر بھوسہ لینے کی کوشش کی ۔ عورت نے اپنے آپ کو چھڑانے کی پوری کوشش کی ۔ اتنی دیر میں میں قریب پہنچ گیا ۔ جونہی مرد نے مجھے دیکھا وہ عورت کو چھوڑ کر بھاگ گیا ۔

اطالوی چُٹکی لینے میں مشہور ہیں ۔ یہ میرا مشاہدہ بھی ہے ۔ کئی ملکوں میں مرد یا لڑکا گذرتے گذرتے کسی عورت یا لڑکی کے ساتھ کچھ کر جاتا ہے جس پر عام طور پر لڑکی یا عورت مسکرا دیتی ہے لیکن کبھی کبھی لال پیلی ہو جاتی ہے ۔ ایک بار پیرس ۔ فرانس میں ایک عورت نے پیچھے بھاگ کر مرد کو تھپڑ لگایا ۔ 1980ء یا اس کے آس پاس کا واقعہ ہے کہ طرابلس ۔ لبیا میں ایک سوڈانی عورت گوشت کی دکان پر کھڑی تھی کہ ایک یورپین مرد نے ناجانے کیا کیا کہ عورت نے تیزی سے پلٹ کر اُسے دو چار دوہتھڑ مارے ۔ قبل اس کے کہ کوئی یورپین کو پکڑنے کا سوچتا وہ بھاگ کر مارکیٹ سے باہر نکل گیا ۔

یورپ اور امریکہ میں لڑکیاں اور عورتیں بھی لڑکوں یا مردوں سے اس سلسلہ میں پیچھے نہیں ۔ میں امریکہ میں صرف 20 دن رہا اور اس دوران اس قسم کے 2 واقعات دیکھنے کو ملے ۔ البتہ یورپ میں ایسے بہت سے واقعات دیکھنے میں آئے ۔

یاری پرویز مشرف کی

امریکی صدر جارج ڈبلیو بش کے سیکورٹی مشیروں نےخفیہ ادارے سی آئی آے اور امریکی فوج کو پاکستان میں خفیہ آپریشن کرنے کا اختیار دینے کے معاملے پر غور شروع کر دیا ہے۔ جمعہ کے روز وائٹ ہاؤس میں ہونے والی اس میٹنگ میں امریکہ کے نائب صدر ڈک چینی، وزیر خارجہ کانڈولیزا رائس سمیت سیکورٹی کے اعلی مشیروں نے شرکت کی۔ اس میٹنگ میں پاکستانی سرزمین پر سی آئی اے اور امریکی فوج کو پاکستان کے قبائلی علاقوں میں دہشگردوں [غریب مسلمانوں] کے خلاف جارحانہ مگر خفیہ کارروائی کرنے پرغور کیا گیا۔

امریکی سیکورٹی مشیروں کی اس میٹنگ میں کئی مشیروں کا موقف تھا کہ اس وقت پاکستانی صدر جنرل پرویز مشرف انتہائی غیر مقبول ہو چکے ہیں اور انہیں امریکی فوج اور سی آئی اے کی طرف سے پاکستان کے قبائلی علاقوں میں کاررائیوں کی کھلی چھٹی دینے پر اعتراض نہیں ہوگا۔ امریکہ کے پالیسی سازوں کا خیال ہے کہ پاکستان کے نئے آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی امریکی تحفظات پر زیادہ ہمدردانہ رویہ رکھیں گے۔ امریکی مشیروں کا خیال ہے کہ اس وقت پاکستان کے قبائلی علاقوں تک اپنا اثرو رسوخ بڑھانے کا بہترین موقع ہے۔

اس وقت 50 امریکی فوجی پاکستانی سر زمین پرموجود ہیں اور اگر سی آئی اے کو پاکستان میں آپریشنز کی اجازت دے دی گئی تو وہ امریکی فوج کی سپیشل آپریشن کمانڈ کی مدد حاصل کر سکے گی۔

ماضی میں عمومی طور پر امریکہ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں آپریشن کرنے سے باز رہا ہے اور القاعدہ کے رہنماؤں پر اکا دکا حملوں کےعلاوہ اس نے پاکستانی علاقے میں کوئی بڑی کارروائی نہیں کی ہے۔امریکی ذرائع مانتے ہیں کہ انہوں نے پاکستانی ایجنسی باجوڑ کے ڈمہ ڈولا میں ایمن الظہوری کو نشانہ بنانے کی کوشش کی تھی جس میں وہ بال بال بچ گئے تھے۔ [وہاں ایمن الظواہری نہیں تھے ۔ امریکی میزائل کا نشانہ ایک دینی مدرسہ تھا جس میں تین درجن نابالغ بچوں اور تین اساتذہ سمیت 80 لوگ شہید ہوئے تھے]

قربانی اور واویلا

عیدالاضحٰے کی قربانی کے حوالے سے واویلا چند سالوں سے سُن اور اخبارات میں پڑھ رہا تھا ۔ اس سال میں نے سوچا کہ اس پر میں بھی اپنے خیالات اور تجربہ کا خلاصہ پیش کروں ۔ لیکن مجھے توقع نہیں تھی شگفتہ صاحبہ ہماری قوم کے ایک قبیح پہلو کو اُجاگر کرنے کی کوشش میں لکھیں گی “ہم قربانی کے نام پر پہلے دن دوسرے دن حتی کہ تیسرے دن بھی بھاری رقوم خرچ کرتے ہیں ۔ لیکن ہاں حساب لگا کے یہ نہیں کہنے کی ضرورت کہ کچھ حصہ ہی سہی تعلیم کے لیے خرچ کر لیں ان رقوم سے”

قربانی جو عام ہوئی وہ تو سنّتِ سیّدنا ابراہیم علیہ السلام ہی ہے لیکن قربانی انسان کی ابتداء سے جاری ہے ۔ انسانوں کے باپ سیّدنا آدم علیہ السلام کے بیٹوں ہابیل اور قابیل نے بھی جانوروں کی قربانی دی ۔ ایک کی قربانی قبول ہو گئی اور دوسرے کی قبول نہ ہوئی ۔ شروع زمانہ میں طریقہ یہ تھا کہ کہیں سے آگ آتی اور جس کی قربانی کو کھا جاتی اس کی قربانی قبول سمجھی جاتی اور جس کی قربانی کو آگ نہ کھاتی وہ قبول نہ سمجھی جاتی ۔ یہ طریقہ کار اس وقت تک جاری رہا جب سیّدنا ابراہیم علیہ السلام کے اپنے بیٹے کی قربانی کیلئے تیار ہو جانے پر اللہ سُبحانُہُ و تعالٰی نے ان کی قربانی اس طرح قبول کر لی کہ بیٹے کو تو کچھ نہ ہوا اور اس کی جگہ دُنبے یا مینڈے ذبح ہوئے ۔ اس وقت سے آج تک دُنبے ۔ مینڈے ۔ بکرے ۔ گائے یا اُونٹ کی قربانی 10 ذوالحجہ کو کی جاتی ہے ۔

دین اسلام میں تعلیم کی اہمیت واضح ہے لیکن سنّت سیّدنا ابراھیم علیہ السلام پر اُٹھنے والے خرچ کو تعلیم پر اُٹھنے والے خرچ سے کوئی واسطہ نہیں ۔ عجب بات تو یہ ہے کہ اس پر اعتراض کرنے والے کروڑوں روپیہ فضولیات پر خرچ کرتے ہیں جو دین سے تعلق ہونا تو کجا اُلٹا گناہ کا سبب ہوتا ہے مثال کے طور پر آتش بازی ۔ قبروں پر چڑھاوے ۔ صدر ۔ وزیر اعظم ۔ گورنروں ۔ وزراء اعلٰی اور دیگر وزراء کے لاحاصل دورے اور جشن جن پر قوم کا اربوں روپیہ خاک کی طرح اُڑایا جاتا ہے ۔ صدرِ پاکستان کے ایک چھوٹے سے پروٹوکال پر کروڑوں روپیہ برباد کر دیا جاتا ہے ۔ صدر ۔ وزیراعظم ۔ وزراء اعلٰی وغیرہ کی حفاظت پر مامور عملہ پر اربوں روپیہ ماہانہ خرچ اُٹھتا ہے ۔ ان تمام فضول اخراجات کا اگر آدھا بھی تعلیم اور صحت پر خرچ کیا جائے تو تمام غریبوں کے بچے بھی تعلیم حاصل کر سکتے ہیں اور سب کو اپنے ہی شہر میں مناسب علاج کی سہولت مل سکتی ہے ۔

قربانی کے سلسلے میں یہ بات نہیں بھولنا چاہئیے کہ ایسے لاکھوں لوگوں کو سال میں ایک بار گوشت کھانا نصیب ہوتا ہے جو سال بھر گوشت کو صرف حسرت سے دیکھتے ہیں ۔

آدمی کی چار قسميں

پہلا ۔ جس کے پاس عِلم اور دولت دونو ہوں اور وہ اپنے علم کو استعمال کر کے اللہ کے احکام کی حدود ميں اپنا مال خرچ کرے

دوسرا ۔ جس کے پاس عِلم ہو ليکن دولت نہ ہو اور وہ نيّت کرے کہ اگر اُس کے پاس دولت آئے تو وہ پہلے آدمی کی طرح خرچ کرے گا

تيسرا ۔ جس کے پاس علم نافع نہ ہو اور دولت ہو اور وہ اللہ کے احکام کی پروہ کئے بغير دولت خرچ کرے

چوتھا ۔ جس کے پاس نہ علم نافع ہو نہ دولت اور وہ تيسرے آدمی کے جاہ و جلال سے متأثر ہو اور نيّت کرے کہ دولت مل جائے تو وہ بھی تيسرے آدمی کی طرح رہے گا

مندرجہ بالا حديث ہے رسول اللہ صلی اللہ عليہ و آلہ و سلم کی اور انہوں نے فرمايا کہ پہلے اور دوسرے آدمی کو برابر اجر ملے گا اور بہترين اجر ہو گا جبکہ تيسرے اور چوتھے آدميوں کيلئے تباہی ہے ۔

تشريح :۔ نیت محظ خيال یا سوچ کو نہيں کہتے ۔ نيّت فيصلے يا پکّے ارادے کو کہتے ہيں جس پر عمل کرنے کی پوری کوشش کی جائے ۔

نیا سال ۔ معاشرے کی ترقی

آج گرِیگورین یا عیسوی سال 2008 کی پہلی تاریخ ہے ۔ میں پچھلے سال یعنی 2007ء کے آخری دن سے اس سوچ میں گم ہوں کہ برس ہا برس بیت گئے ۔ لوگوں سے سنتے اور اخبارات میں پڑھتے رہے کہ لوگوں نے نئے سال سے پہلے رات بڑے جوش و خروش سے منائی ۔ کسی نے پٹاخے چلائے ۔ کوئی ناچا ۔ کوئی اُمِ الْخبائث کے مزے لوٹتا رہا ۔ گذشتہ رات کو بھی ایسا ہی ہوا ہو گا ۔ مجھ جیسے [آج کی دنیا کے مطابق] بے ذوق آدمی صرف اپنی غلطیوں کی معافی اپنے اللہ سے مانگتے رہے اور ہر سال اسی سوچ میں گم رہے کہ اس خوشیوں کے بے ہنگم اظہار کی وجہ کیا ہے ؟ کیا ہم نے بہت ترقی کر لی ہے ؟ کیا ہم بہت پڑھ لکھ گئے ہیں ؟ کیا ہم خود کفیل ہو گئے ہیں ؟ کیا ہمارے تمام ہموطنوں کو دو وقت کا کھانا مل رہا ہے ؟

میری عمر 70 سال ہے ۔ دیکھتے ہیں پچھلے 50 سال میں ہم نے کتنی اور کیا ترقی کی ہے ۔ تب یعنی 50 سال قبل ہم تانبے یا پیتل کی تھالیوں میں کھانا کھاتے تھے ۔ شادی میں صرف پلاؤ ۔ زردہ اور ایک سالن ہوتا تھا اور کبھی ساتھ دہی بھی ۔ ہاتھ سے چاول کھاتے تھے ۔ پینے کو پانی ملتا تھا ۔ زمین پر دریاں بچھا کر بیٹھتے تھے ۔ شادی یا دوسری دعوت ہو تو کھا چکنے کے بعد کوئی تھالیوں میں کھانا یا گلاس میں پانی نہیں چھوڑتا تھا ۔ دعوت ختم ہونے پر زمین پر نہ کوئی ہڈی ہوتی تھی نہ چاول کا دانہ ۔

تب کوئی آپ کہہ کر مخاطب ہو تو بڑے ادب سے اور آپ کہہ کر ہی جواب دیتے تھے ۔ چاہے کوئی اپنے ماتحت یا کسی بہت کم عہدہ پر ہو لیکن عمر میں اپنے سے کافی بڑا ہو تو اسے ادب سے مخاطب کرتے تھے ۔ چھوٹے بیٹھے ہوں اور کوئی بڑا آ جائے تو بڑے کو جگہ دے دیتے ۔ بڑوں سے ملنے پر چھوٹے مؤدبانہ طریقہ سے سلام کرتے ۔ بڑوں کے سامنے چھوٹے ٹھٹھہ مذاق نہ کرتے ۔

اب چینی کی پلیٹوں میں کھاتے ہیں ۔ چمچے اور کانٹے سے کھاتے ہیں ۔ دس بارہ قسم کے کھانے ہوتے ہیں جس میں انگریزی ۔ اطالوی اور چینی کھانے شامل ہوتے ہیں ۔ کئی قسم کے مشروب ہوتے ہیں ۔ کرسی میزوں پر مزیّن ہوتے ہیں ۔ اگر کھانا علیحدہ میزوں پر سجا ہو تو کھانے کے گرد جمگھٹا کر لیتے ہیں اور کچھ لوگ پیچھے سے زبردستی آگے گھُس کر کھانا ڈالنے کی کوشش میں آگے کھڑے شخص کے کپڑے سالن آلود کر دیتے ہیں ۔ دعوتوں میں کئی لوگ پلیٹوں میں کھانا اور گلاسوں میں مشروب چھوڑنا تہذیب کی نشانی سمجھتے ہیں ۔ دعوت کے بعد عام طور پر زمین پر بلکہ قالین پر مرغی کی ہڈیاں بکھری ہوئی ہوتی ہیں ۔

اب نام سے مخاطب کیا جاتا ہے چاہے عمر میں مخاطب شخص والدین سے بھی بڑا ہو ۔ بزرگ سے بزرگ شخص بھی اگر عہدہ میں کمتر ہو تو اسے نام سے اور اکڑ کر مخاطب کیا جاتا ہے ۔ چھوٹے بیٹھے ہوں اور کوئی بڑا آ جائے تو چھوٹے اسی طرح پڑے رہتے ہیں ۔ بڑے کے آنے پر چھوٹے سلام تو کُجا بعض اوقات ان کی طرف دیکھنا بھی گورا نہیں کرتے ۔ بڑوں کے سامنے چھوٹے ٹھٹھہ مذاق کرنا شاید اپنا فرض سمجھتے ہیں ۔

کیا خوب ترقی ہے یہ ۔ ۔ ۔