Category Archives: روز و شب

سیاست ۔ جھوٹ ۔ تبدیلی ؟

صرف وطنِ عزیز ہی میں نہیں ساری دنیا میں سیاستدانوں کی تقاریر اور وعدوں پر نظر ڈالی جائے اکثریت جھوٹ بولتی محسوس ہوتی ہے ۔ الیکشن 2013ء کے سلسلہ میں زیادہ تر سیاسی جماعتیں تبدیلی کی بات کر رہی ہیں ۔ تبدیلی کیسے آئے گی ؟

تبدیلی لانے کا مؤثر طریقہ یہ ہے کہ عوام میں اچھے اور بُرے کا شعور پیدا کیا جائے اور سمجھایا جائے کہ اپنی اور مُلک و قوم کی ترقی کیلئے مَل جُل کر خلوصِ نیت سے محنت کے ساتھ کام کیا جائے ۔ حکمرانی کے ذریعہ تبدیلی لانے کیلئے لازم ہے کہ تبدیلی لانے والی سیاسی جماعتقومی اسمبلی کی کم از کم 172 نشِستیں حاصل کرے ۔ پھر اس کے پاس کم از کم ایک درجن باشعور مخلص اور محنتی وزراء ہوں

تحریکِ انصاف سے تعلق رکھنے والے فاروق عالم انصاری کی ایک تحریر میں بھی دکھائی دی ہے۔ اقتباس ملاحظہ فرمائیں

گوجرانوالہ ایشیا کا گندہ ترین شہر سہی لیکن تحریک ِ انصاف کی ٹکٹوں کی کہانی میرے شہر کی گندگی سے بھی بڑھ کر ہے۔ دوگنی، چوگنی اور کتنے گنا ہوگی؟ بھئی انت شمار سے باہر ہے۔ ہمارے چیئرمین تحریک ِ انصاف کہہ رہے ہیں کہ ہم سے ٹکٹو ں کے معاملے میں کچھ غلطیاں ضرور ہوئی ہیں۔ یہ بے خبری اور بھولپن کی انتہا ہے کہ اسے ”محض“ سمجھا جائے۔ کیا یہ غلطی ہے؟ خود ہی جواب تلاش کریں۔ میں صرف چند واقعات لکھ کر بری الذمہ ہوتاہوں۔ وما علینا الا البلاغ المبین
(1) گوجرانوالہ میں چیئرمین کے 2مئی کے منسوخ شدہ جلسہ کے لئے ایک امیدوار صوبائی اسمبلی سے چندہ مانگا گیا تو وہ کہنے لگا کہ 42 لاکھ دے کر ٹکٹ لیا ہے اب مجھ سے اور کیا مانگتے ہو ؟
(2) وزیرآباد سے ایک امیدوار صوبائی اسمبلی اسی جلسہ کے لئے چندہ مانگنے پر پھٹ پڑا ”جتنے روپے آپ مانگ رہے ہیں اس کے آگے کئی صفرے لگانے پر وہ رقم بنتی ہے جو دے کر میں نے ٹکٹ خریدا ہے، اب مجھ میں ادائیگی کی اور کوئی سکت نہیں رہی“ یاد رہے کہ اس سے چیئرمین کے جلسہ کے لئے ڈیڑھ لاکھ روپے کا مطالبہ کیا گیا
(3) گوجرانوالہ پی ٹی آئی کے سابق ضلعی صدر اظہر چیمہ کو ایک امیدوار نے بتایا کہ اس نے یہ ٹکٹ 50لاکھ روپے میں خریدا ہے۔ اظہر چیمہ بڑے بھولپن سے پوچھ بیٹھا کہ ”آپ تو پی ٹی آئی کے ممبر بھی نہیں تھے“ اس نے جواب دیا ”پی ٹی آئی کی ممبرشپ انتخابی ٹکٹ کے
ساتھ خود بخود ہی مل جاتی ہے۔“ اب یہ خبر جو میں ابھی بتانے والا ہوں پی ٹی آئی پنجاب کے صدر اعجاز چودھری کے لئے بڑی تکلیف دہ ہوگی۔ خبریوں ہے کہ اس موقع پر اظہر چیمہ کف افسوس ملتے ہوئے بولا ”مجھے علم نہیں تھا کہ پی ٹی آئی کے ٹکٹ فروخت ہو رہے ہیں ورنہ میں اس ٹکٹ کا ایک کروڑ روپے بھی ادا کرنے کو تیار تھا“
(4) میریٹ ہوٹل اسلام آباد میں پی ٹی آئی کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس ہو رہا تھا۔ موضع کوہلو والہ تحصیل گوجرانوالہ کے بلال سانسی کو پچاس لاکھ روپے لے کر پہنچنے کاحکم ملا۔ اس نے نوٹوں کی گڈیوں سے تھیلا بھرا اور اسلام آباد کی طرف چل پڑا۔ میریٹ ہوٹل کے قریب پولیس چیک پوسٹ پر سپاہی نے ڈگی کی تلاشی لیتے ہوئے پوچھا ”اس تھیلے میں کیا ہے؟ بلال سانسی نے جواب دیا”کرنسی نوٹ ہیں“ سپاہی بے ساختہ بولا ”اچھا تو آپ بھی میریٹ ہوٹل جارہے ہیں؟ وہاں جوبھی جارہا ہے نوٹوں سے لدا پھندا جارہا ہے نجانے وہاں کیا کاروبار ہو رہاہے؟“ اب بلال سانسی کی بدقسمتی کہ اس کے حلقے کا ٹکٹ اس کے پہنچنے سے پہلے فروخت کیا جاچکا تھا
(5) ایک امیرزادہ بڑا کایاں نکلا اسے رقم کا کوئی مسئلہ نہیں تھا اس نے بیک وقت ملتان کے دونوں سیاسی آڑھتیوں کو رقم کی ادائیگی کردی زیادہ سے زیاد ہ کیا ہوا؟ ٹکٹ تو دوگنی قیمت کا ہو گیا لیکن اس کاملنا تو یقینی ہوگیا
(6) میں پوری ذمہ داری سے لکھ رہا ہوں کہ ٹکٹ کی مد میں ہمارے عزت مآب ضلعی صدر رانا نعیم الرحمن خان صاحب سے بھی ایک معقول رقم بٹوری گئی ہے اس بیچارے کو آخری دم تک خواجہ محمد صالح کے بھوت سے ڈرایا جاتا رہا تھا
(7) گوجرانوالہ سے تعلق رکھنے والا سنٹرل پنجاب پی ٹی آئی کا ایک نوجوان عہدیدار ٹکٹوں کے بیوپار میں مالامال ہوگیا ہے۔ ٹکٹوں کی دلالی کوئلوں کی دلالی نہیں کہ اس میں منہ کالا ہو جائے بڑا صاف ستھرا کام ہے۔ اس نفیس کام میں رنگت کچھ اور نکھر آتی ہے۔ اسے تین ضلعوں کے ٹکٹوں کے سودے کروانے کی سعادت نصیب ہوئی
(8) پی ٹی آئی کاایک امیدوار مجھے یہ کہتے ہوئے بات ختم کرنے کی تلقین کرنے لگا کہ ضلع گوجرانوالہ میں کون ہے جسے تحریک ِ انصاف کا ٹکٹ مفت ہاتھ آیا ہو؟
میں اس بات کاحلف دینے کو تیار ہوں کہ میرے اس کالم میں کوئی ایک بات بھی کسی شخص سے غلط طور پر منسوب نہیں کی گئی۔ میں سوچتا ہوں کہ ایسے امیدوار جو اپنے وافر مال منال کے باعث پی ٹی آئی کے ٹکٹ خریدنے میں کامیاب ہوگئے
ہیں اگر منتخب ہونے میں بھی کامیاب ہوگئے تو بھلا کیا تبدیلی آجائے گی
شب گزرتی دکھائی دیتی ہے
دن نکلتا نظر نہیں آتا

ذمہ داری پوری کیجئے

اگر آپ اپنی ذمہ داری احسن طریقے سے پوری نہیں کرتے تو آپ کو اپنے حقوق کی بات کرنے کا حق نہیں ہےMy Id Pak

ملک کے 18 کروڑ عوام جن میں بوڑھے ۔ جوان ۔ بچے ۔ عورتیں ۔ مرد ۔ لڑکیاں اور لڑکے سب شامل ہیں کی قسمت کا اختیار کسی کے ہاتھ میں دینا ہے ۔ گویا نہ صرف اپنے ماں ۔ باپ ۔ بہن ۔ بھائی ۔ خاوند یا بیوی ۔ بیٹا ۔ بیٹی بلکہ خود اپنی گردن بھی کسی کے ہاتھ میں دینا ہے ۔ اسلئے یاد رکھیئے کہ

انتخابات کھیل تماشہ نہیں اور نہ ہی چھٹی آرام کرنے کیلئے دی جاتی ہے ۔ خواہ کتنے ہی لاغر یا بیمار ہوں ۔ آپ ووٹ ڈالنے ضرور جائیے

فرشتے تلاش نہ کیجئے ۔ آپ کے علاقہ کے اُمید واروں میں سے جو کردار کے لحاظ سے سب سے بہتر ہو اُسے ووٹ دیجئے

تمام رنجشیں ۔ تمام دوستیاں ۔ تمام لالچ ۔ تمام اثر و رسوخ بھُلا کر ووٹ اُسے دیجئے جس کا ماضی باقی اُمیدواروں کے مقابلے میں زیادہ دیانتدار ہو اور بے لوث عوامی خدمت کرتا ہو

ووٹ ڈالنے کیلئے خواہ کوئی بھی لے کر جائے ۔ ووٹ اسے دیجئے جس کا ماضی زیادہ دیانتدار ہو اور بے لوث عوامی خدمت کرتا ہو

جس آدمی سے آپ ڈرتے ہوں اسے بتانے کی ضرورت ہی کیا ہے کہ آپ ووٹ کس کو دیں گے ۔ کہہ دیجئے ” آپ بالکل فکر نہ کریں ”

اپنے اہلِ خاندان اور دوسرے احباب کو بھی اسی راستے پر لانے کی کوشش کیجئے

ورنہ اگلے 5 سال بھی پچھتانے میں گذریں گے

دوا بھی کیجئے

دعا کے ساتھ ساتھ دوا بھی کیجئے کہ 11 مئی 2013ء کو ہونے والی کاروائی کے نتیجے میں My Id Pak

خدا کرےکہ میری ارضِ پاک پہ اُترے
وہ فصلِ گُل جسے اندیشہِ زوال نہ ہو

یہاں جو پھول کھِلے وہ کِھلا رہے برسوں
یہاں خزاں کو گزرنے کی بھی مجال نہ ہو

یہاں جو سبزہ اُگے وہ ہمیشہ سبز رہے
اور ایسا سبز کہ جس کی کوئی مثال نہ ہو

گھنی گھٹائیں یہاں ایسی بارشیں برسائیں
کہ پتھروں سے بھی روئدگی محال نہ ہو

خدا کرے کہ وقار اس کا غیر فانی ہو
اور اس کے حُسن کو تشویش ماہ و سال نہ ہو

ہر ایک فرد ہو تہذیب و فن کا اوجِ کمال
کوئی ملول نہ ہو کوئی خستہ حال نہ ہو

خدا کرے میرے ایک بھی ہموطن کیلئے
حیات جرم نہ ہو ۔ زندگی وبال نہ ہو

ذرا ہوش سے

ویسے تو بہت سے لوگوں کا معمول بن چکا ہے کہ ہر بات ہر عمل سے اللہ اور اُس کے رسول ﷺ کو جوڑتے ہیں خواہ بے جا ہو لیکن عمل سے قبل اللہ کے احکامات ذہن میں نہیں رکھتے ۔ دین اسلام کے ذریعہ اللہ سُبحانُہُ و تعالٰی نے انسان کی زندگی میں ہر عمل کیلئے رہنما اصول نہ صرف وضع کئے ہیں بلکہ کئی معاملات میں حُکم دیا ہے اور حُکم عدولی گناہ ہے

قارئین سے درخواست ہے کہ ووٹ ڈالنے کا فیصلہ کرتے وقت اللہ کے مُجرم بننے سے احتراز کریں ۔ انتخابات میں پیش آنے والے عوامل کے متعلق چند چیدہ چیدہ احکامات

سورت 2 البقرۃ آیت 42 ۔ اور حق کو باطل کے ساتھ نہ ملاؤ اور سچی بات کو جان بوجھ کر نہ چھپاؤ ‏
( یعنی سب سے اچھے اُمیدوار کو چھوڑ کر کم اچھے اُمیدوار کو ووٹ نہ دیں)

سورت 2 البقرۃ آیت 283 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور گواہی کو نہ چھپاؤ اور جو اسے چھپالے وہ گناہ گار دل والا ہے اور جو کچھ تم کرتے ہو اسے اللہ تعالٰی خوب جانتا ہے،‏
( ووٹ دینا گواہی ہے اسلئے ووٹ نہ دینا گناہ کے ذمرہ میں آئے گا)

سورت 4 النساء آیت 58 ۔ اللہ تعالٰی تمہیں تاکیدی حکم دیتا ہے کہ امانت والوں کی امانتیں انہیں پہنچاؤ اور جب لوگوں کا فیصلہ کرو تو عدل اور انصاف سے فیصلہ کرو یقیناً وہ بہتر چیز ہے جس کی نصیحت تمہیں اللہ تعالٰی کر رہا ہے، بیشک اللہ تعالٰی سنتا ہے دیکھتا ہے۔‏
(ووٹ قوم کی امانت ہے اسے درست حقدار کو دیں)

سورت 5 المائدہ آیت 8 ۔ اے ایمان والو! تم اللہ کی خاطر حق پر قائم ہو جاؤ، راستی اور انصاف کے ساتھ گواہی دینے والے بن جاؤ کسی قوم کی عداوت تمہیں خلاف عدل پر آمادہ نہ کر دے عدل کیا کرو جو پرہزگاری کے زیادہ قریب ہے، اور اللہ تعالٰی سے ڈرتے رہو، یقین مانو کہ اللہ تعالٰی تمہارے اعمال سے باخبر ہے۔‏
(ووٹ ڈالنا گواہی دینا ہے اسلئے اس کے استعمال کو اللہ کے احکام کے تابع رکھیں)

سورت 104 الھمزۃ آیت 1 ۔ بڑی خرابی ہے ہر ایسے شخص کی جو عیب ٹٹولنے والا غیبت کرنے والا ہو۔‏
(چنانچہ دوسروں کے عیب نہ گِنیئے)

واللہ اعلم ۔ وما علینا الالبلاغ

وقت کی پُکار ؟؟؟

مایوسی گناہ ہے اور یہ آدمی کی اپنی کمزوریوں سے جنم لیتی ہےMy Id Pak
فرشتے آسمانوں پر ہوتے ہیں اس دنیا میں بہتر انسان کو تلاش کیجئے

دوسروں سے بھلائی کی اُمید میں وقت ضائع نہ کیجئے
”میں اکیلا کیا کروں“ کو ذہن سے نکال دیجئے

جو کرنا ہے آپ نے کرنا ہے

ایک اکیلا ہوتا ہے
اگر اپنے خلوص اور محنت سے وہ ایک ساتھی بنا لے تو 11 کے برابر ہوتے ہیں
اگر یہ دونوں اپنے خلوص اور محنت سے ایک اور ساتھی تلاش کر لیں تو 111 کے برابر ہو جاتے ہیں
11 مئی کو ووٹ ڈالنے ضرور جایئے اور ووٹ اُس اُمیدوار کو دیجئے جو آپ کے حلقہ کے اُمیدواروں میں سب سے زیادہ سچا ہو

قدم بڑھاؤ ساتھیو ۔ قدم بڑھاؤ ساتھیو

تم وطن کے شیر ہو ۔ شیر ہو دلیر ہو
تم اگر جھپٹ پڑو تو آسماں بھی زیر ہو

تمہارے دم سے ہے وطن یہ مرغزار یہ چمن
دہک اُٹھے دمن دمن وہ گیت گاؤ ساتھیو

یہ زمیں یہ مکاں ۔ یہ حسین کھیتیاں
ان کی شان تم سے ہے تُمہی ہو ان کے پاسباں

بچاؤ ان کی آبرو ۔ گرج کے چھاؤ چار سُو
جو موت بھی ہو روبرو تو مسکراؤ ساتھیو

ظلم کو پچھاڑ کے ۔ موت کو لتاڑ کے
دم بدم بڑھے چلو صفوں کو توڑ تاڑ کے

گھڑی ہے امتحان کی ۔ دکھاؤ وہ دلاوری
دہک رہی ہو آگ بھی تو کود جاؤ ساتھیو

قدم بڑھاؤ ساتھیو ۔ قدم بڑھاؤ ساتھیو

آج مجھے کہنے دیں

میرے اس بلاگ کا عنوان ہے “میں کیا ہوں”۔ مطلب یہ کہ ہم سب کیا ہیں ؟My Id Pak
تبدیلی اگر لانا ہے تو پہلے اپنے آپ کو بدلنا لازم ہے ۔
ہم ہیں کیا ؟ پوری دیگ میں سے صرف چند چاول
اور ہاں یہ اَن پڑھ یا مُفلس عوام کی باتیں نہیں ہیں بلکہ پڑھے لکھے سُوٹِڈ بُوٹِڈ لوگوں کی جن میں مُلکی نظامِ تعلیم کو حقیر سمجھنے والے بھی شامل ہیں

میں جرمنی ۔ برطانیہ ۔ ہالینڈ ۔ بیلجیم ۔ فرانس ۔ ترکی ۔ لبیا ۔ امریکہ ۔سعودی عرب ۔ متحدہ عرب امارات وغیرہ ممالک میں رہا ہوں

متذکرہ ممالک میں بنک ہو یا کوئی اور دفتر حتٰی کہ بس یا ٹرام کے انتظار میں سب لوگ آرام سے قطار میں کھڑے ہو کر اپنی باری کا انتظار کرتے ہیں ۔ ہمارے ہاں قطار میں کھڑا ہونا شاید جاہلیت کی علامت سمجھا جاتا ہے

متذکرہ ممالک میں کسی کو سلام کریں تو وہ مسکرا کر جواب دیتا ہے ۔
ہمارے ہاں سلام کرنا شاید غریب یا چھوٹے آدمی کا فرض سمجھا جاتا ہے

متذکرہ ممالک میں کسی مقامی کو مُلک کے خلاف بولتے نہیں سُنا
ہمارے ہاں لوگ کماتے کھاتے اسی مُلک سے ہیں اور بڑے فخر سے کہتے ہیں ”یہ مُلک کوئی رہنے کے قابل ہے“۔

متذکرہ ممالک میں ٹریفک پولیس والا موجود ہو یا نہ ہو ۔ دن ہو یا رات ہو کوئی گاڑی والا سُرخ بتی کراس نہیں کرتا خواہ دوسری طرف سے کوئی گاڑی نہ آ رہی ہو ۔
ہمارے ہاں ۔ ٹریفک پولیس والا نہ ہو تو گاڑی چلانے والے سُرخ بتی پر نہیں رُکتے چاہے کسی اور گاڑی والے کو رُکنے پر مجبور ہونا پڑے

متذکرہ ممالک میں سڑک کے کنارے کوئی ضعیف آدمی یا عورت سڑک پار کرنے کے انتظار میں دیکھیں تو گاڑیوں والے گاڑیاں روک کر اُنہیں گذرنے کا اشارہ کرتے ہیں ۔
ہمارے ہاں گاڑی والوں کی پوری کوشش ہوتی ہے کہ کوئی پیدل شخص خواہ کتنا ہی ضعیف ہو سڑک پار کرنے کی گُستاخی نہ کرے

متذکرہ ممالک میں جب کوئی گاڑی والا اپنی قطار سے دوسری قطار میں جانے لگتا ہے تو اشارہ دیتا ہے ۔
ہمارے ہاں بغیر اشارہ دیئے دوسری قطار میں جاتی گاڑی کے سامنے زبردستی گھُس جانا شاید بڑائی کی نشانی سمجھا جاتا ہے

کوئی عام دعوت ہو یا شادی کی دعوت متذکرہ ممالک میں لوگ بڑے تحمل سے اُٹھتے ہیں اور بڑی عمر کے لوگوں اور عورتوں کو آگے جانے کی درخواست کرتے ہیں۔
ہمارے ہاں کھانا کھُلتے ہی زیادہ تر لوگ اس طرح ٹوٹ پڑتے ہیں جیسے باہر دانہ ڈال کر چوزوں کا ڈربہ کھولا جائے تو سب گرتے پڑتے ایک دوسرے کو دھکیلتے دانے پر پہنچتے ہیں

فہرست اتنی طویل ہے کہ شاید لکھتے لکھتے میرا وقت ختم ہو جائے

سب سے پہلے اپنے اوصاف تو درست کیجئے پھر لگایئے نعرہ تبدیلی کا
تبدیلی اگر لانا ہے تو پہلے اپنے آپ کو بدلنا لازم ہے

سیانے لوگ جانتے ہیں کہ اگر جنگلی جھاڑی بڑی ہو جائے تو اُس کی اُوپر سے ٹہنیاں کاٹنے سے وہ ختم ہونے کی بجائے اور زیادہ پھیل جاتی ہے ۔ جنگلی گھاس اُگ کر بڑھ جائے تو اسے تلف کرنے کیلئے ایک فٹ گہرائی تک کھدائی کر کے ساری گھاس ایک طرف کر کے جلا دی جاتی ہے ۔ پھر نئی مٹی ڈال کر اچھی گھاس لگا کر سالہا سال اس کی حفاظت کی جاتی ہے

کہاں جنگلی جھاڑی یا جنگلی گھاس کی طرح پلے آدمی جو جھاڑی یا گھاس کی طرح ساکن نہیں ہوتے بلکہ دوڑتے پھرتے ہیں ۔

جب تک آدمی انسان نہیں بن جاتے لیٰڈر یا جماعتیں تبدیل کرنے سے کچھ نہ ہو گا

بہتری کیلئے ضروری ہے کہ آپ کے علاقہ سے جو اُمیدوار ہیں اُن میں سے جو سب سے زیادہ دیانت دار یا یوں کہہ لیجئے کہ جو سب سے کم بد دیانت ہو اور جس کے ماضی کی بنیاد پر کہا جا سکتا ہو کہ وہ باقیوں کی نسبت زیادہ اچھا کام کرے گا اُسے کامیاب کرایئے ۔ پارٹیوں کو بھول جایئے اور پارٹیوں کے سربراہوں کو بھی بھول جایئے ۔ کام آپ کیلئے آپ کے علاقہ سے منتخب ہونے والے نے کرنا ہے اور اسی کو آپ پکڑ بھی سکتے ہیں ۔ پارٹی کے سربراہ کو تو آپ صرف ٹی وی پر دیکھ سکیں گے

میں کانپ گیا

کچھ دنوں سے مجھے ماضی بعید میں پی ٹی وی پر دکھایا جانے والا رائٹر پروڈیوسر فاروق قیصر کا پروگرام”انکل سرگم“ یاد آ رہا ہے ۔ انکل سرگم کہا کرتا تھا ”سمال کراکری ۔ چھوٹا پانڈا“۔

گریٹ کرکٹ کیپٹن کے تقریری سٹائل نے انکل سرگم کی یاد دلائی ہے

عمران خان ایک بال سے 2 وکٹیں لینے سے شروع ہوا
پھر کہا “بلّے سے چھکّا ہی نہیں ۔ پھینٹی بھی لگائیں گے
پھر اخلاقیات کی دھجیاں اُڑاتے ہوئے نواز شریف پر تابڑ توڑ ذاتی حملے کرنا شروع کئے

مگر میں اُس وقت کانپ گیا جب بہاولپور کے جلسے میں عمران خان نے بڑی لہر میں آتے ہوئے کہا

(میرے اللہ ۔ تیرا یہ بندہ افتخار اجمل بھوپال دست بستہ عرض کرتا ہے کہ عمران خان کے بیہودہ بیان کو نقل کرنے کی جسارت کرنے پر مجھے معاف کر دینا)

عمران خان نے کہا ” اللہ نے سُوئَو مَوٹَو نوٹس لے لیا ہے“۔

یہ بھی پڑھیئے ” کہاں ہیں وہ مَور پنکھ ؟ “۔

بدنامِ زمانہ شیخ رشید کے ساتھ سپورٹ کا معاہدہ کرنا ہی کم نہ تھا کہ ٹیکسلا کے بدنام قبضہ مافیا کے سردار ” غلام سرور خان“ کو عمران خان نے ٹکٹ دے دیا