
لاہور کے ایک بڑے نام والے ہسپتال [Doctor’s Hospital] میں ایک ننھے فرشتے 3 سالہ بچی کو جسے ہاتھ پر گرم پانی پڑ جانے کی وجہ سے ہسپتال لایا گیا تھا کس طرح ڈاکٹروں نے موت کی نیند سُلا دیا ۔ یہاں کلک کر کے پڑھیئے پورا واقعہ ۔ پنجاب حکومت اخبار میں خبر پڑھنے کے بعد قانونی کاروائی شروع کر چکی ہے ۔ ہسپتال کے ذمہ دار ڈاکٹروں کے خلاف ایف آئی آر درج ہو چکی ہے اور انہیں گرفتار کرنے کیلئے چھاپے مارے جا رہے ہیں
Author Archives: افتخار اجمل بھوپال
اگر کاریں کمپیوٹر ہوتیں ۔ ۔ ۔
چند سال قبل ایک کمپیوٹر ایکسپو “کامڈیکس” میں بِل گیٹس نے کمپیوٹر کی صنعت کا کاروں کی صنعت سے مقابلہ کرتے ہوئے کہا “اگر جی ایم موٹرز ٹیکنالوجی کی ترقی کے ساتھ کمپیوٹر کی صنعت کی طرح آگے بڑھتی رہتی تو آج ہم 25 ڈالر کی کار چلا رہے ہوتے جو 1000 میل فی گیلن چلتی”
بِل گیٹس کے اس جملے کا جی ایم موٹرز نے کیا جواب دیا یہاں کلِک کر کے پڑھیئے
چھوٹی چھوٹی باتیں ۔ وقت
میں کچھ عرصہ سے سوچ رہا تھا کہ اس عنوان کے تحت ساری زندگی میرے مشاہدہ میں آنے والی ایسی چھوٹی چھوٹی باتیں لکھوں جو قابل غور و عمل ہوتی ہیں لیکن ان پر عام طور پر غور نہیں کیا جاتا یا انہیں کوئی اہمیت نہیں دی جاتی ۔ وجہ یہ ہے کہ بڑی باتوں پر تو عام طور پر آدمی نظر رکھتا ہے لیکن کسی کو تکلیف پہنچتی ہے یا کوئی ناکامی ہوتی ہے وہ انہی چھوٹی چھوٹی باتوں پر توجہ نہ دینے کی وجہ سے ہوتی ہے ۔ زمانہ کے ساتھ چلنے والے کئی لطیفے ۔ محاورے یا قول بھی آدمی کی رہنمائی کر سکتے ہیں ۔ اسی طرح کسی چرند ۔ پرند یا زمین پر رینگنے والے کیڑے کی کوئی حرکت بھی بڑی سبق آموز ہو سکتی ہے
ایک بادشاہ نے اپنی انگوٹھی اُتار کر اپنے وزیر کو دی اور کہا “اس پر ایسا فقرہ لکھوا دو کہ اگر میں بہت خوش ہوں تو دیکھ کر غمگین ہو جاؤں اور غمگین ہوں تو دیکھ کر خوش ہو جاؤں”
وزیر نے لکھوا دیا ” وقت ہمیشہ ایک سا نہیں رہتا”
ایک لطیفہ
یہ لطیفہ آجکل موبائل فونوں پر گردش کر رہا ہے
ایک گرم مزاج آدمی چینی خریدنے کے لئے قطار میں لگا تھا ۔ قطار بہت لمبی تھی ۔ ایک گھنٹہ کھڑے رہنے کے بعد اُسے غُصہ آ گیا ۔ اُس نے پستول نکالا اور کہتا ہوا چلا گیا “یہ صدر زرداری نے کیا تماشہ بنایا ہے ۔ میں آج اُسے مار ڈالوں گا”۔ بعد میں واپس آ کر پھر قطار میں کھڑا ہو گیا ۔ ایک آدمی نے اسے پوچھا ” زرداری کو مار دیا ؟” بولا “نہیں ۔ وہاں اس سے بھی لمبی قطار لگی ہے”
دینِ جمہور
میرے کچھ قارئین کا استدلال ہے کہ ہر شخص کا مذہب ہوتا ہے ۔ کہتے وہ درست ہیں ۔ ہر شخص کا کوئی نا کوئی عقیدہ ہوتا ہے اور اسی کا نام مذہب ہے ۔ اگر مذہب کا ترجمہ دیکھا جائے یعنی فرقہ تو بھی یہ استدلال درست نظر آتا ہے ۔ اللہ کا تفویض کردہ دین اسلام ہے جو ایک ایسا مذہب ہے جس میں ہر لحاظ سے اللہ کی تابعداری واجب [compulsory] ہے ۔ تمام نبیوں کا دین اسلام ہی تھا کیونکہ وہ اللہ کے مُسلِم یعنی تابعدار تھے [سورت 2 ۔البقرہ آیت127 ، 128 ۔ 131تا 133 ۔ سورت 3 آلِ عمران آیت 19 ، 67 ، 102 ۔ سورت 5 المآئدہ آیت 3 ، 44 سورت 10 یونس آیت 72 ، 84 ۔ سورت 27 النمل آیت 91 ، 92 ۔ سورت 42 الشورٰی آیت 13 ۔ مزید کچھ اور بھی ہیں]۔ سیکولر ازم کی وضاحت کیلئے یہاں کلِک کیجئے اور اس کے اثرات کا ایک پہلو دیکھنے کیلئے یہاں کلِک کیجئے
میرے متذکرہ قارئین کرام Secularism کا ترجمہ “دینِ جمہور” کرتے ہیں ۔ ایک قاری ‘طاہر سلیم مغل” صاحب نے “دینِ جمہور” کی تشریح کچھ اس طرح سے کی ہے
اُردو اِسپِیکِنگ
یہ واقعہ ہے اُس زمانے کا جب مجھے نویں جماعت [اپریل 1951ء] میں بیٹھے چند یوم ہوئے تھے ۔ ہمارے مُہتمم استاذ صاحب نے پوری جماعت کو تین حصوں میں تقسیم کیا ۔ بہت لائق ۔ لائق اور درمیانے درجے کے طالب علم ۔ نالائق ہماری جماعت میں کوئی نہیں تھا ۔ پھر ہر گروہ میں سے ایک ایک لڑکا لے کر تین تین کو اکٹھا بٹھا دیا ۔ میرے ساتھ “م” اور “ی” کو بٹھایا گیا جن سے میری خاص واقفیت نہ تھی ۔ میں نے تعارف کی غرض سے “م” سے جو میرے ساتھ بیٹھا تھا پوچھا “آپ کی تعریف ؟” جواب ملا “ہم Urdu Speaking ہیں”۔ یہ پہلا موقع تھا کہ میں لفظ “اُردو اِسپِیکِنگ” سے متعارف ہوا۔ میں نے “ی” سے وہی سوال دہرایا تو اس نے جواب دیا “ہم محلہ ۔ ۔ ۔ میں رہتے ہیں۔ پاکستان بننے سے پہلے بنگلورمیں رہتے تھے” ۔ بعد میں مجھے معلوم ہوا کہ “م” اپنے خاندان کے ساتھ بہار سے ہجرت کر کے آئے تھے
اُردو نے پنجاب میں جنم لیا اور پنجاب کے علاوہ حیدرآباد دکن میں پروان چڑھی ۔ میں پہلے بھی لکھ چکا ہوں کہ وہ علاقہ جس کا نام مغلوں نے پنجاب رکھا تھا دہلی اور دہرہ دون وغیرہ اس میں شامل تھے اور اس کی سرحدیں مشرق میں سہارنپور ۔ مراد آباد اور علیگڑھ تک تھیں ۔ انگریزوں نے ہندوستان پر قبضہ کرنے کے بعد دہلی اور اس کے شمال اور مشرق کا علاقہ اس میں سے نکال دیا تھا ۔ میں تاریخی ثبوت کے ساتھ یہ بھی واضح کر چکا ہوں کہ اُنیسویں صدی تک اُردو میں اُن الفاظ کی کثرت تھی جنہیں پنجابی سمجھا جاتا ہے
میں اپنی زندگی میں بے شمار ایسے لوگوں سے ملا ہوں کہ اُردو بولتے تھے مگر وہ اپنے آپ کو Urdu Speaking نہیں کہتے تھے ان کا تعلق بھی پاکستان کے معرضِ وجود میں آنے سے پہلے اُن علاقوں سے تھا جہاں صرف اُردو بولی جاتی تھی ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ حیدرآباد دکن جہاں اُردو کی افزائش ہوئی اور جہاں 1947ء سے قبل واحد اُردو یونیورسٹی تھی کے لوگ بھی اپنے آپ کو Urdu Speaking نہیں کہتے تھے
سکول کالج اور ملازمت کے شروع کے چند سالوں کے دوران مجھے کوئی دہلی سے آیا ہوا سمجھتا اور کوئی آگرہ سے کیونکہ میں اُردو بولتا تھا ۔ اس سے بھی آگے چلیں تو میرے تینوں بچے اُردو بولتے ہیں اور پنچابی نہیں جانتے ۔ اسلئے قاعدے کے لحاظ سے اُن کی مادری زبان اُردو ہوئی ۔ میرے تمام بھتیجے بھتیجیاں بھانجے بھانجیاں اُردو بولتے ہیں اور پنجابی نہیں بول سکتے یا اچھی طرح نہیں بول سکتے لیکن ان میں سے کوئی بھی اپنے آپ کو Urdu Speaking نہیں کہتا ۔ مجھے فخر ہے کہ میرے خاندان کے سب بڑے اور چھوٹے درست اُردو بولتے ہیں
اُردو ہماری قومی زبان ہونے کے علاوہ بھارت ۔ بنگلہ دیش اور پاکستان میں سب سے زیادہ سمجھی جانے والی زبان ہے اور دنیا کی پانچویں سب سے زیادہ بولی جانے والی زبان ہے ۔ افغانستان اور ایران کے بھی کئی باشندے اُردو سمجھتے ہیں ۔ پاکستان کے معرضِ وجود میں آنے سے قبل بھی اُردو پورے ہندوستان کی معتبر ترین زبان تھی ۔ اُردو کسی خاص قوم یا گروہ یا شہر کی زبان نہیں ہے ۔ یہ عجب بات ہے کہ ایک گروہ اپنے آپ کو ” Urdu Speaking ” کہتا ہے اور کہتے بھی انگریزی میں ہیں ۔ میں نے اس سلسلہ میں بہت سے لوگوں سے استفسار کیا اور کچھ سے براہِ راست کہا کہ وہ اپنے آپ کو Urdu Speaking کیوں نہیں کہتے ۔ عام تاءثر یہی تھا کہ جو لوگ اپنے آپ کو دوسروں سے بہتر سمجھتے ہیں وہ اپنے آپ کو Urdu Speaking کہتے ہیں
سیکولرزم کا ایک اور چھَکّا
میں بہت پہلے سیکولر ہو نے کا دعوٰی کرنے والی دنیا کی منافقت کے کئی پہلو اُجاگر کر چکا ہوں ۔ میرے کچھ ہموطنوں کو میری تحاریر پر پریشانی ہوتی رہی ہے ۔ مختصر یہ کہ بھارت میں سیکولر حکومت اور عیسائیوں کے گرجے جلائے جاتے ہیں اور حکومت کے بڑوں کی اشیرباد سے مساجد جلائی اور گرائی جاتی ہیں ۔ داڑھی سکھ ہندو عیسائی يہودی اور دہریئے سب رکھتے ہیں بلکہ یہودی مذہبی پیشواؤں کی داڑھی ویسی ہی ہوتی ہے جیسی افغانستان کے طالبان کی لیکن امریکا ہو یا یورپ داڑھی والا صرف مسلمان ہی بُرا سمجھا جاتا ہے ۔ سر پر رومال عیسائی یہودی اور دوسری عورتیں بھی باندھتی ہیں مگر مسلمان عورتیں اگر سر پر رومال باندھیں تو دنیا کو خطرہ لاحق ہو جاتا ہے اور اُن کے ساتھ بدتمیزی بھی کی جاتی ہے ۔ یہاں تک کہ سکول کی بچیوں کو رومال باندھنے کی سزا کے نتیجہ میں سکول سے نکال دیا جاتا ہے
ان تمام حقائق کے باوجود سمجھا جاتا تھا اور میرا بھی خیال تھا کہ سوٹزرلینڈ ایک سیکولر ملک ہے ۔ وہاں پر کسی کے مذہب یا عقیدہ یا ذاتی زندگی پر اعتراض نہیں کیا جاتا مگر حکومت میں اکثریت رکھنے والی سیاسی جماعت کی ایماء پر ریفرینڈم اور اس کے نتیجہ میں مسجد کے مینار یا گُنبد بنانے پر پابندی نے واضح طور پر ثابت کر دیا ہے کہ سیکولرزم ایک دھوکا ہے اور غیرمُسلم دنیا کی انسانیت پسندی کا دعوٰی منافقت کا ایک بہت بڑا ڈرامہ ہے ۔ کمال تو یہ ہے کہ عیسائیوں کے گرجاؤں کے مینار مسجد کے میناروں سے بھی اُونچے ہوتے ہیں مگر اُن پر کسی کو اعتراض نہیں