سُنا تھا
جذبہ عشق ہو باقی تو کچے دھاگے سے چلیں آئیں گے سرکار بندھے ۔
یہ صرف لڑکا لڑکی کے درمیان جو وقتی اُبال ہوتا ہے وہ بات نہیں ہے بلکہ انسان کسی بھی کام کو خلوصِ نیّت سے کرنے لگے تو راستے کھُلتے چلے جاتے ہیں ۔
میں نے کل “چور چوری سے جائے” کے تحت ایک سکول کا ذکر کیا تھا ۔ یہ واقعہ میں نے کسی تیسرے شخص سے سُنا تھا ۔ اتفاق سے اس سکول کے متعلقہ ایک شخص سے گذشتہ شام ملاقات ہو گئی ۔ علیک سلیک اور حال احوال کے بعد میں نے پوچھا “وہ سکول کا کیا قصہ ہے ؟” جو اُنہوں نے بتایا اُس کا خلاصہ یہ ہے
“اس سکول کی مالکہ بینظیر بھٹو کی سہیلی تھیں ۔ اس کی درخواست پر بینظیر بھٹو نے ان کے سکول کیلئے متذکرہ گرین بیلٹ میں سے زمین تحفہ کے طور دلوا دی یعنی سرکاری قیمت پر ۔ زرداری نے نئے چیئرمین سی ڈی اے کو ٹارگٹ دیا ہے کہ دو ارب روپیہ مہیا کرے ۔ چنانچہ متذکرہ سکول سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنی زمین کی قیمت موجودہ مارکیٹ ریٹ کے حساب سے لگا کر بقایا رقم ادا کریں جو کہ شاید ڈھائی کروڑ روپیہ فی کنال بنتی ہے ۔ اگر زمین 20 کنال ہے تو سکول والوں کو 50 کروڑ روپیہ ادا کرنا ہو گا “
چور چوری سے ۔۔۔۔۔۔ اور سکول اور میریاٹ ھوٹل پڑھ کے ایک واقعہ یاد آ رھا ھے
دروغ بر گردنے راوی، یہ اس وقت کی بات ھے جب بینظیر حکومت تھی
ایک بچارا ھارٹ سپیشلسٹ امریکا سے اسلام آباد آیا اور ایک خوبصورت گھر بنوایا
ایک روز زرداری صاحب کا وھان سے گزر ھوا -آپ کو وہ گھر پسند آیا
بیچارے ڈاکٹر نے بیچنے سے انکار کر دیا
دو روز بعد اس کا بیٹا غاءب ھو گیا
ڈاکٹر صاحب نے فٹافٹ مکان اور پاکستان چھوڑا اور بیٹے کو لے کے واپس امریکہ پہنچے
ان صاحبہ نے گرین بیلٹ میں زمین لی ہی کیوں، وہاں تو تعمیر ویسے بھی غیر قانونی ہے، اب بھگتیں
یہاں تو بس میں یہ کہنا چاہوں گی
اے جذبہ عشق گر میں چاہوں ہر چیز مقابل آجائے۔
منزل کے لیے دو گام چلوں ۔اور سامنے منزل آجائے
زمین والا قصھ سن کر میں ایک مھاورہ آپ محترم ممبران سے SHARE کرو گا-
” چوروں کو پڑگئے— مور” :razz:
بھائی وہاج الدین احمد صاحب
یہ واقعہ بالکل درست ہے
فیصل صاحب
کہاں تک سُنیں گے ۔ کہاں تک سُناؤں ۔ ہزاروں ہی باتیں ہیں ۔ کیا کیا بتاؤں ۔
ایف ۔ 10 میں جناح ایونیو کی زمین ۔ بلیو ایریا کے پارکنگ ایریاز ۔ آئی 8 کا بین الاضلاعی بس سٹینڈ ۔ ریلوے سٹیشن اور حکومت کے تعلیمی اور دوسرے اداروں کی زمینیں ۔ کئی سیکٹرز کے پارک ۔ سکولوں اور مساجد کی زمینیں ۔ سب بانٹ دی گئیں اور لاٹیوں سے حاصل کی ہوئی رشوتیں اپنے غیر ملکی بنکوں میں پہنچ گئیں ۔ کیا ذوالفقار علی بھٹو اور کیا بینظیر کی حکومت ۔
آپ نے جذبہ عشق کو وقتی جذباتی اُبال سے الگ کر کے خلوصِ نیت سے جوڑا ہے، یہ بات دل کو لگتی ہے۔ تاہم سکول والے واقعے میں آپ نے خود لکھا ہے کہ یہ بات آپ نے کسی تیسرے شخص سے سنی اور پھر ایک متعلقہ فرد سے مل کر اس کی تصدیق کی کوشش کی۔ سوال یہ ہے کہ کیا ایک زبانی روایت اور ایک ملاقات ہی کسی الزام کو حقیقت کا درجہ دے سکتی ہے؟ بینظیر بھٹو کی سہیلی، زمین کی gift اور زرداری کا ٹارگٹ، یہ سب باتیں ابھی تک دستاویزی ثبوت کے بغیر ہیں۔ اگر آپ کا نکتہ یہ ہے کہ نیک نیتی سے کیا گیا کام راستے کھول دیتا ہے تو پھر اسی نیک نیتی کا تقاضا ہے کہ ایسے معاملات میں نام لینے سے پہلے ٹھوس شواہد سامنے لائے جائیں، ورنہ اچھی نیت والا سبق بھی ایک بے بنیاد الزام کے سائے میں آ جاتا ہے۔