رُسے ساہنُوں یاد نہیں کردے
تے راضِیاں وی بھُل جانا اے
مِٹی دا اَیہہ جُسا جس دن
اے مٹی وِچ رَل جانا اے
کِیہ کھویا ، کِیہ کھَٹیا ای
کِیہ لُٹیا ای، کِیہ وَٹیا ای
عَملاں والا کھاتہ تیرا
وِچ قبرِیں کھُل جانا اے
کاہدی آکڑ، کاہدی پھُو پھاں
چھَڈ دے بَندیا کرنی تُو تاں
جِیویں لُون کھُرے وِچ پانی
سَبھ اَوہداں گھُل جانا اے
پَیسہ پَیسہ لائی رکھی
جِند اپنی کملائی رکھی
اِک کفنی وِچ ہوکے رُخصت
کِیہ تیرا مُل رہ جانا اے
چَنگا کر ۔ تے مَندڑا چھَڈ دے
مَن اَندرَوں کھوٹ نُوں کڈھ دے
تِن دیہاڑے جِندڑی تیری
دِن چَوتھے تُوں ٹُر جانا اے کلام ۔ طارق اقبال حاوی
یہ کلام زندگی کی حقیقتوں اور بے ثباتی کا کتنی خوبصورتی سے احاطہ کرتا ہے۔ کمال کی بات کہی ہے کہ “عملوں والا خاته تیرا وِچ قبرِیں کُھل جانا اے”۔ یہ انسان کو فانی دنیا میں نیک اعمال کرنے اور آخرت کی تیاری کی جانب مائل کرتا ہے۔ الفاظ کا چناؤ اور پیغام کی گہرائی پڑھنے والے پر اثر ڈالتی ہے۔ مجھے ایسے موضوعات بہت متاثر کرتے ہیں جو ہمیں اپنی زندگی کے مقاصد پر غور کرنے پر مجبور کریں۔ زندگی میں مالی منصوبہ بندی جیسے Loan Amortization Calculator کا استعمال بھی ضروری ہے، لیکن روح کی غذا کے لیے یہ کلام بہت خاص ہے۔