میں نے مُسلم ہائی سکول اصغر مال راولپنڈی سے 1953ء میں پنجاب یونیورسٹی کا میٹرک کا امتحان پاس کیا تھا ۔ اس سکول میں ہم پہلی سے دسویں تک کے لڑکے صبح یہ دعا پڑھتے تھے
آہ جاتی ہے فلک پر رحم لانے کے لئے
بادلو ہٹ جاؤ دے دو راہ جانے کے لئے
اے دُعا ہاں عرض کر عرشِ الہی تھام کے
اے خدا اب پھیر دے رُخ گردشِ ایام کے
ڈھونڈتے ہیں اب مداوا سوزشِ غم کے لئے
کر رہے ہیں زخمِ دل فریاد مرہم کے لئے
صُلح تھی کل جن سے اب وہ بر سر پیکار ہیں
وقت اور تقدیر دونوں درپئے آزار ہیں
اے مددگار ِ غریباں، اے پناہِ بے کـساں
اے نصیر ِ عاجزاں، اے مایۂِ بے مائیگاں
رحم کر اپنے نہ آئین کرم کو بھول جا
ہم تجھے بھولے ہیں لیکن تو نہ ہم کو بھول جا
اِک نظر ہو جائے آقا ۔ اب ہمارے حال پر
ڈال دے پردے ہماری شامت اعمال پر
خَلق کے راندے ہوئے، دنیا کے ٹھکرائے ہوئے
آئے ہیں اب تیرے دَر پر ہاتھ پھیلائے ہوئے
خوار ہیں، بدکار ہیں، ڈوبے ہوئے ذلت میں ہیں
کچھ بھی ہیں لیکن ترے محبوب کی اُمت میں ہیں
حق پرستوں کی اگر کی تُو نے دِلجوئی نہیں
طعنہ دیں گے بُت کہ مسلم کا خدا کوئی نہیں کلام ۔ آغا حشر کاشمیری (1879ء تا 1935ء)
The poem’s opening line—“ہم پہلی سے دسویں تک کے لڑکے صبح یہ دعا پڑھتے تھے”—captures how prayer was woven into daily school life, turning a simple ritual into a communal lifeline. By recalling that practice, the author underscores how collective faith can offer solace even when personal doubts, like “میں کیا ہوں,” loom large. This vivid memory reminds us that shared devotion often sustains us through the deepest uncertainties.
For diagrams and charts I use PDF Dark’s color inverter with images set to Original, which keeps the colour coding readable.