آدمی کی چار قسميں

پہلا ۔ جس کے پاس عِلم اور دولت دونو ہوں اور وہ اپنے علم کو استعمال کر کے اللہ کے احکام کی حدود ميں اپنا مال خرچ کرے

دوسرا ۔ جس کے پاس عِلم ہو ليکن دولت نہ ہو اور وہ نيّت کرے کہ اگر اُس کے پاس دولت آئے تو وہ پہلے آدمی کی طرح خرچ کرے گا

تيسرا ۔ جس کے پاس علم نافع نہ ہو اور دولت ہو اور وہ اللہ کے احکام کی پروہ کئے بغير دولت خرچ کرے

چوتھا ۔ جس کے پاس نہ علم نافع ہو نہ دولت اور وہ تيسرے آدمی کے جاہ و جلال سے متأثر ہو اور نيّت کرے کہ دولت مل جائے تو وہ بھی تيسرے آدمی کی طرح رہے گا

مندرجہ بالا حديث ہے رسول اللہ صلی اللہ عليہ و آلہ و سلم کی اور انہوں نے فرمايا کہ پہلے اور دوسرے آدمی کو برابر اجر ملے گا اور بہترين اجر ہو گا جبکہ تيسرے اور چوتھے آدميوں کيلئے تباہی ہے ۔

تشريح :۔ نیت محظ خيال یا سوچ کو نہيں کہتے ۔ نيّت فيصلے يا پکّے ارادے کو کہتے ہيں جس پر عمل کرنے کی پوری کوشش کی جائے ۔

نیا سال ۔ معاشرے کی ترقی

آج گرِیگورین یا عیسوی سال 2008 کی پہلی تاریخ ہے ۔ میں پچھلے سال یعنی 2007ء کے آخری دن سے اس سوچ میں گم ہوں کہ برس ہا برس بیت گئے ۔ لوگوں سے سنتے اور اخبارات میں پڑھتے رہے کہ لوگوں نے نئے سال سے پہلے رات بڑے جوش و خروش سے منائی ۔ کسی نے پٹاخے چلائے ۔ کوئی ناچا ۔ کوئی اُمِ الْخبائث کے مزے لوٹتا رہا ۔ گذشتہ رات کو بھی ایسا ہی ہوا ہو گا ۔ مجھ جیسے [آج کی دنیا کے مطابق] بے ذوق آدمی صرف اپنی غلطیوں کی معافی اپنے اللہ سے مانگتے رہے اور ہر سال اسی سوچ میں گم رہے کہ اس خوشیوں کے بے ہنگم اظہار کی وجہ کیا ہے ؟ کیا ہم نے بہت ترقی کر لی ہے ؟ کیا ہم بہت پڑھ لکھ گئے ہیں ؟ کیا ہم خود کفیل ہو گئے ہیں ؟ کیا ہمارے تمام ہموطنوں کو دو وقت کا کھانا مل رہا ہے ؟

میری عمر 70 سال ہے ۔ دیکھتے ہیں پچھلے 50 سال میں ہم نے کتنی اور کیا ترقی کی ہے ۔ تب یعنی 50 سال قبل ہم تانبے یا پیتل کی تھالیوں میں کھانا کھاتے تھے ۔ شادی میں صرف پلاؤ ۔ زردہ اور ایک سالن ہوتا تھا اور کبھی ساتھ دہی بھی ۔ ہاتھ سے چاول کھاتے تھے ۔ پینے کو پانی ملتا تھا ۔ زمین پر دریاں بچھا کر بیٹھتے تھے ۔ شادی یا دوسری دعوت ہو تو کھا چکنے کے بعد کوئی تھالیوں میں کھانا یا گلاس میں پانی نہیں چھوڑتا تھا ۔ دعوت ختم ہونے پر زمین پر نہ کوئی ہڈی ہوتی تھی نہ چاول کا دانہ ۔

تب کوئی آپ کہہ کر مخاطب ہو تو بڑے ادب سے اور آپ کہہ کر ہی جواب دیتے تھے ۔ چاہے کوئی اپنے ماتحت یا کسی بہت کم عہدہ پر ہو لیکن عمر میں اپنے سے کافی بڑا ہو تو اسے ادب سے مخاطب کرتے تھے ۔ چھوٹے بیٹھے ہوں اور کوئی بڑا آ جائے تو بڑے کو جگہ دے دیتے ۔ بڑوں سے ملنے پر چھوٹے مؤدبانہ طریقہ سے سلام کرتے ۔ بڑوں کے سامنے چھوٹے ٹھٹھہ مذاق نہ کرتے ۔

اب چینی کی پلیٹوں میں کھاتے ہیں ۔ چمچے اور کانٹے سے کھاتے ہیں ۔ دس بارہ قسم کے کھانے ہوتے ہیں جس میں انگریزی ۔ اطالوی اور چینی کھانے شامل ہوتے ہیں ۔ کئی قسم کے مشروب ہوتے ہیں ۔ کرسی میزوں پر مزیّن ہوتے ہیں ۔ اگر کھانا علیحدہ میزوں پر سجا ہو تو کھانے کے گرد جمگھٹا کر لیتے ہیں اور کچھ لوگ پیچھے سے زبردستی آگے گھُس کر کھانا ڈالنے کی کوشش میں آگے کھڑے شخص کے کپڑے سالن آلود کر دیتے ہیں ۔ دعوتوں میں کئی لوگ پلیٹوں میں کھانا اور گلاسوں میں مشروب چھوڑنا تہذیب کی نشانی سمجھتے ہیں ۔ دعوت کے بعد عام طور پر زمین پر بلکہ قالین پر مرغی کی ہڈیاں بکھری ہوئی ہوتی ہیں ۔

اب نام سے مخاطب کیا جاتا ہے چاہے عمر میں مخاطب شخص والدین سے بھی بڑا ہو ۔ بزرگ سے بزرگ شخص بھی اگر عہدہ میں کمتر ہو تو اسے نام سے اور اکڑ کر مخاطب کیا جاتا ہے ۔ چھوٹے بیٹھے ہوں اور کوئی بڑا آ جائے تو چھوٹے اسی طرح پڑے رہتے ہیں ۔ بڑے کے آنے پر چھوٹے سلام تو کُجا بعض اوقات ان کی طرف دیکھنا بھی گورا نہیں کرتے ۔ بڑوں کے سامنے چھوٹے ٹھٹھہ مذاق کرنا شاید اپنا فرض سمجھتے ہیں ۔

کیا خوب ترقی ہے یہ ۔ ۔ ۔

حکومت کا میں نہ مانوں

گاڑی کے سن روف کے لیور سے ٹکرا کر قاتل زخم والی بات تو زخم کی نوعیت نے ہی مسترد کر دی تھی ۔ 30 دسمبر کو آصف علی زرداری نے بتا کہ گاڑی کے سن روف کے لیور ربڑ کے ہیں ۔ ڈاکٹر مصدق اور ساتھیوں کی لکھی میڈیکل رپورٹ نامکمل ہے ۔ ریٹائرڈ برگیڈیئر جاوید اقبال چیمہ نے کہا تھا کہ آٹوپسی آصف زرداری نے نہیں کرنے دی جو کہ جھوٹ نکلا ۔ آٹوپسی راولپنڈی کے پولیس چیف نے نہیں کرنے دی تھی ۔ بینظیر کے قتل کی وڈیو کے متعلق ریٹائرڈ برگیڈیئر جاوید اقبال چیمہ نے کہا “یہ کون ثابت کرے گا کہ یہ وڈیو بینظیر ہی کے قتل کی ہے ؟” نیچے ملاحظہ کیجئے مختلف کیمرہ مینوں کی لی ہوئی وڈیوز جن سے واضح ہے کہ بینظیر گولی لگنے کے بعد گاڑی کے اندر گر گئیں پھر دھماکہ ہوا ۔ چینل 4 کی وڈیو میں نظر آتا ہے کہ گولی چلنے کے بعد بینظیر کا دوپٹہ اور بال اُوپر کو اُچھلے اور وہ نیچے گاڑی میں گر گئی پھر دھماکہ ہوا ۔

ڈٹھا کھوتیوں غصہ کمیار تے

عنوان پوٹھوہاری زبان کی ضرب المثل ہے جس کا مطلب ہے کہ ایک شخص کمہار سے گدھا مستعار لے کر اس پر سواری کر رہا تھا کہ گر گیا اور گالیاں کمہار کو دینے لگا ۔ اسی طرح اگر روٹی پکانے والا روٹی جلا دے یا ٹھیک نہ پکائے اور گالیاں گندم اُگانے والے کسان کو دی جائیں ۔ کوئی ریاضی کو سمجھے بغیر ہی کہے کہ ریاضی بہت بُرا مضمون ہے یا طب کی تعلیم تو حاصل نہ کرے اور کہے کہ سب طبیب یعنی ڈاکٹر جاہل ہیں یا ظالم ہیں کہ لوگوں کے پیٹ چاک کر دیتے ہیں ۔ یہ سب کہاں کی عقلمندی ہے ؟ اور ایسے شخص کو کون تعلیم یافتہ کہے گا ؟ لیکن دورِ حاضر میں انسانوں کی اکثریت کی یہی عادت ہے جو ستاروں پہ کمندیں تو ڈالنے لگ گئے ہیں لیکن اپنے ذہن کی تربیت کرنے میں معذور دکھائی دیتے ہیں ۔

دورِ حاضر کا انسان عقل کو حیران کرنے والی نئی نئی ایجادات سے اتنا محسور ہو گیا ہے کہ اس نے اپنی عقل سے سوچنا چھوڑ دیا ہے اور ذرائع ابلاغ پر تکیہ کر لیا ہے جو کہ ایک مخصوص طبقہ کے دستِ نگر ہیں اور یہ مخصوص طبقہ آج کی دنیا میں بسنے والوں کا خدا بن بیٹھا ہے ۔ جو خبر ٹی وی ۔ اخبار یا انٹرنیٹ پر آ جائے وہ حرفِ آخر بن جاتی ہے خواہ کتنی ہی غلط ہو اور انہی کچھ سچی کچھ جھوٹی اور کچھ من گھڑت خبروں میں حقائق گم ہو کر رہ جاتے ہیں ۔

بلاشبہ اسلام دشمنی محسوس اور غیر محسوس طور پر شیطان کے پیروکاروں کا اولین ہدف رہا ہے لیکن دنیا میں کمیونزم کا زور ٹوٹنے کے بعد اسلام دشمن قوتوں نے تماتر توجہ اسلام کی بیخ کنی پر لگا دی ۔ اسلام کے پروکاروں کو اصل راستہ سے ہٹانے کیلئے ان میں تفرقہ ڈالنے کی کوششین تو کئی صدیاں قبل ہی شروع کر دی گئی تھیں ۔ پچھلی صدی میں ان کوششوں کو نیا رنگ اور نیا جذبہ عطا کیا گیا ۔ راہ گم کردہ مسلمانوں کو پُرکشش نئے نعرے دیئے گئے جن میں انسانی حقوق ۔ عورتوں کی برابری سرِ فہرست ہیں ۔ حالانکہ اسلام ہی وہ دین ہے جو انسانی حقوق کو اولیں ترجیح دیتا ہے اور جس نے نہ صرف عورتوں کو مردوں کے برابر حقوق دیئے ہیں بلکہ عورت کو ہر ایک کیلئے قابلِ احتران ٹھہرایا ہے ۔ کچھ دُور اُفتادہ علم حاصل کرنے کی دسترس نہ رکھنے والوں کی کچھ سچی اور زیادہ جھوٹی مثالیں بیان کر کے انہیں ہوا دی گئی اور ساری دنیا کے ذرائع ابلاغ پر ہاہا کار مچ گئی ۔ دین اسلام کے علم سے عاری مسلمان پے در پے اس اشتہاربازی کا شکار ہونے لگے ۔

افسوس تو اس بات کا ہے کہ مسلمان کے فرائض و حقوق سے ناواقف مسلمان کہلانے والے خود اپنے ہی دین کے خلاف زبان درازی کرنے لگے ۔ کوئی بیٹا اپنی اس ماں جس کے بطن سے وہ پیدا ہوا تھا کو فاحشہ کہے تو اکثر لوگ اس پر لعنت بھیجیں گے لیکن کچھ اس پر تالیاں بجانے والے بھی ہوں گے ۔ صد افسوس کہ دین اسلام جس کا درجہ ۔ احترام اور اطاعت ماں سے بھی بہت بڑھ کر لازم ہے اس کے خلاف مسلمان زبان درازی کرنے پر اُتر آئے ۔ اور پھر انہیں دعوٰی مسلمانی کا ہے ۔

ایک بلاگر کا دماغ کسی ناگہانی صدمہ کو برداشت نہ کر سکا اور ماؤف ہو کر اپنی مسلمانی پر ہی دشنام طرازی کرنے لگا ۔ اسی پر بس نہیں چند اپنے آپ کو ارسطو اور سقراط سمجھنے والوں کو گویا اپنے حلق کی صفائی کرنے کا موقع مل گیا اور انہوں نے اپنے دل کی حسرتیں جی بھر کر پوری کیں ۔

مثل مشہور ہے کہ کسی نے چاند پر تھوکا اور اپنا ہی منہ گندا ہوا ۔ ان عقلمندوں کو یہ بھی علم نہیں کہ اگر پانی کو آگ کہہ دیا جائے پھر بھی وہ پانی ہی رہے گا آگ نہیں بنے گا ۔

آج کی انفارمیشن ٹیکنالوجی کی دنیا کا تحقیقتی نتیجہ جو ہزاروں سال قبل الہامی کتاب میں موجود تھا یہ ہے کہ “ہم چیزوں کو اس طرح نہیں دیکھتے جس طرح کی وہ ہیں بلکہ اس طرح دیکھتے ہیں جس طرح کے ہم ہیں”

عقلمند اور تعلیم یافتہ انسانوں کو چاہیئے کہ اس اصول کو یاد رکھ کر اپنے باعلم ہونے کا ثبوت دیں ۔ اللہ ہمیں کفر اور شیطان کی پیروی سے بچائے ۔ آمین یا رب العالمین آمین ۔

قاتل کون ؟ ۔ ۔ ۔ مزید معلومات

میں نے کل لکھا تھا ۔ ۔ ۔

میں نے نہیں دیکھا لیکن مجھے کچھ قابلِ اعتبار لوگوں نے بتایا ہے کہ اے آر وائی ون کے مطابق امین فہیم نے کہا “دھماکے کی آواز پر محترمہ باہر نکلیں اور ایکدم نیچے گر گئیں”۔

میری بیوی نے خبر کا یہ حصہ دیکھا تھا ۔ اس نے رات گئے مجھے بتایا کہ دھماکے کی آواز نہیں بلکہ لوگوں کے نعروں کا شور سُن کر وہ سَن روف سے سر باہر نکال کر کھڑی ہو گئیں تو صحیح خبر یوں بنتی ہے ۔

امین فہیم نے کہا “شور سُن کر محترمہ سَن روف سے باہر نکلیں اور ایکدم نیچے گر گئیں”۔

میں نے مزید لکھا تھا ۔ ۔ ۔

ایک اہم حقیقت یہ ہے کہ ایک ٹی وی کیمرہ میں ایک پستول جس کا رُخ بینظیر کی طرف ہے سے گولیاں چلتی نظر آتی ہیں

کل رات گئے حکومتی جھوٹ در جھوٹ سے مجبور ہو کر ڈان نیوز ٹی وی نے یہ فلم دکھا دی اور اس میں قاتل اور خودکُش بمبار دونوں نظر آتے ہیں ۔ مزید تفصیل یہاں کلک کر کے آج کا ڈان پڑھئے

قاتل کون ؟

نشر ہونے والے بیانات

پروفیسر ڈاکٹر مصدق نے جمعرات 27 دسمبر کی شام کہا کہ موت گردن میں گولی لگنے سے ہوئی جو سانس کی نالی کو کاٹتے ہوئے نکل گئی ۔

بینظیر کے انتہائی قریبی ساتھی ڈاکٹر بابر اعوان نے جمعرات کی شام کو کہا کہ بینظیر پر نشانہ لیکر گولیاں چلائی گئیں جس کے نتیجہ میں ہلاکت ہوئی ۔

نگران وزیرِ داخلہ ریٹائرڈ لیفٹننٹ جنرل حامد نواز نے کہا کہ بینظیر کی موت بم کا ٹکڑا کنپٹی پر لگنے سے ہوئی جو کھوپڑی کو توڑتا ہوا نکل گیا ۔

جمعہ 28 دسمبر کی شام کو پریس کانفرنس میں وزارتِ داخلہ کے ترجمان ریٹائرڈ بریگیڈئر جاوید اقبال چیمہ نے کہا کہ 3 گولیاں چلیں مگر بینظیر کو کوئی نہ لگی ۔ بینظیر ڈر کر ایکدم نیچے ہونے لگی تو اس کی کنپٹی گاڑی کے کھلے چھت کے لیور سے ٹکرائی جس سے اس کی موت واقع ہوئی ۔

پروفیسر ڈاکٹر مصدق نے جمعہ 28 دسمبر کی شام کہا کہ موت کنپٹی لیور سے ٹکرانے کے باعث ہوئی ۔

دھماکے میں زخمی ہونے والے ایک شخص نے کہا “میں صرف چند فٹ کے فاصلہ پر تھا ۔ محترمہ پر ایک نوجوان شخص نے کلاشنکوف سے فائرنگ کی “۔

ایک اور عینی شاہد نے کہا ” محترمہ پر فارنگ پولیس کی گاڑی سےکی گئی”۔

ایک اور عینی شاہد کا کہنا ہے کہ تھوڑا دور کسی اُونچی جگہ سے محترمہ پر فائرنگ کی گئی ۔ [یعنی زمین سے نہیں کی گئی]

پیپلز پارٹی کے اسلام آباد سے مستقل اُمیدوار سیّد نیّر بخاری جن کی گاڑی بینظیر کی گاڑی کے بالکل قریب تھی نے کہا کہ بینظیر پر تین گولیاں چلائی گئیں ۔

بینظیر کے قانونی مشیر فاروق نائیک نے جمعہ کی شام کو کہا “حکومت کا مسلک جھوٹ کا پلندہ ہے ۔ ایک گولی محترمہ کے سر میں اور ایک پیٹ میں لگی ۔ خون بہہ رہا تھا جب اسے ہسپتال لے کر گئے ۔ محترمہ کی گاڑی میں ناہید خان اور اور امین فہیم تھے اور انہوں نے دیکھا کیا ہوا “۔

میں نے نہیں دیکھا لیکن مجھے کچھ قابلِ اعتبار لوگوں نے بتایا ہے کہ اے آر وائی ون کے مطابق امین فہیم نے کہا “دھماکے کی آواز پر محترمہ باہر نکلیں اور ایکدم نیچے گر گئیں”۔

تجزیہ

اُوپر لکھے گئے بیانات کے علاوہ میرے علم میں کچھ مصدقہ اطلاعات ہیں ۔ بینظیر کے سر کا زخم جس سے خون بہتا رہا کسی کُند دھاتی ٹکڑے کا لگایا ہوا تھا جو سر سے اتنی قوت سے ٹکرایا کہ سطح 16 ملی میٹر اندر دھنس گئی ۔ انسان اگر اپنا سر کسی ساکن چیز سے ٹکرائے تو اس سے کھوپڑی کی ہڈی کا اتنا اندر دھنس جانا بعید از قیاس ہے ۔ چنانچہ سرکاری بیان غلط ہے ۔

خود کش بمبار اتنا اور اس طرح لدا ہوا ہوتا ہے کہ وہ صحیح نشانہ نہیں لے سکتا ۔ اسلئے گولی چلانے والا شخص کوئی اور تھا ۔

ایک اہم حقیقت یہ ہے کہ ایک ٹی وی کیمرہ میں ایک پستول جس کا رُخ بینظیر کی طرف ہے سے گولیاں چلتی نظر آتی ہیں جبکہ ایک عینی شاہد نے خودکار بندوق سے گولیاں چلتی دیکھیں ۔ اسی شاہد کے مطابق پہلے گولیاں چلیں پھر دھماکہ ہوا جبکہ امین فہیم کے بیان کے مطابق بعد میں چلنے والی گولیوں سے بینظیر گر گئیں ۔

مختلف بیانات میں بظاہر تضاد لگتا ہے لیکن گولی چلانے والے دو مختلف اشخاص ہوں تو تضاد ختم ہو جاتا ہے ۔ اگر یوں کہا جائے کہ پہلے گولیاں چلیں پھر دھماکہ ہوا اس کے بعد پھر گولیاں چلیں تو سوائے حکومتی بیان کے سب بیان صحیح لگتے ہیں ۔ تعجب خیز حکومت کا یہ عمل ہے کہ اول تو فلم پوری نہیں دکھائی گئی ۔ دوسرے اس فلم کی رفتار کم [Slow motion] کر کے کیوں نہیں دکھایا گیا ؟

بینظیر کو سکیورٹی اور حادثہ کی صورت میں فوری امداد حکومت کا فرض تھا اور وعدہ بھی مگر یا تو سکیورٹی تھی نہیں یا یہ کارستانی ہے ہی سکیورٹی والوں کی ۔ بینظیر کے بھائی مرتضٰی بھٹو کا قتل قارئین کو یاد ہو گا ۔ فوری طبی امداد کا بھی کوئی بندوبست نہ تھا ۔

راولپنڈی میں حادثات سے نبٹنے کیلئے رسکیو 1122 پولیس ہے جو کہ ایک فعال ادارہ ہے ۔ اسے کام نہیں کرنے دیا گیا ۔

لیاقت باغ کی ایک تہائی حدود کے ساتھ لیاقت روڈ ہے جسے سکیورٹی پروٹوکال کے تحت خالی رکھا گیا تھا ۔ حادثہ لیاقت باغ کے گیٹ کے قریب ہوا ۔ لیاقت باغ کے گیٹ سے ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال کا فاصلہ جوکہ لیاقت روڈ کے دوسرے سرے پر ہے ایک سے ڈیڑھ کلو میٹر کے درمیان ہے ۔ حادثات کا بنیادی مرکز بھی یہی ہسپتال ہے ۔ اگر بینظیر کو اس ہسپتال لیجایا جاتا تو آدھے منٹ میں ہسپتال پہنچ جاتی اور اس کا علاج شروع ہو جاتا کیونکہ سڑک خالی تھی لیکن اسے انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز ۔ اسلام آباد لیجانے کی کوشش کی گئی جو کہ وہاں سے 16 کلومیٹر دور ہے ۔ پھر مری روڈ پر ٹریفک بھی بہت تھی اور جلوس بھی تھا ۔ مری روڈ پر راولپنڈی جنرل ہسپتال لیاقت باغ سے کوئی ڈیڑھ کلومیٹر کے فاصلہ پر ہے ۔ اس سے آگے گذرنے کے بعد یو ٹرن کر کے واپس آئے اور جنرل ہسپتال لے گئے ۔ اس طرح 35 قیمتی منٹ ضائع ہو گئے جس دوران بیشمار خون بہہ چکا تھا ۔

ان حقائق کی روشنی میں قارئین آسانی سے تعین کر سکتے ہیں کہ قاتل کون ہے ۔

ایک اچھا مشورہ

میں نے اک عمر گذاری ہے گردشِ دوراں کے ساتھ لیکن میرے خالق و مالک نے مجھے اس سَیلِ رواں کے ساتھ بہہ جانے سے ہمیشہ بچایا ۔ میں اپنے اللہ الرحمٰن الرحیم کا جتنا بھی شکر بجا لاؤں کم ہے ۔ میرے پرانے قارئین جانتے ہونگے کہ میں نے بینظیر کے جس مسلک کو غلط سمجھا اس کی کھُل کر مخالفت کی ۔ میں اس کا کبھی ووٹر بھی نہیں رہا ۔

میری تمام مسلمان قارئین سے درخواست ہے کہ صرف اپنی بہتری اور اپنی اچھی عاقبت کیلئے کسی بھی مرنے والے کے خلاف کوئی کلمہ لکھنا یا زبان پر لانا تو کیا سوچیں بھی نہیں کیونکہ روح قفسِ عنصری سے پرواز کرتے ہی مرنے والے کا حساب کتاب اللہ کے ہاں شروع ہو جاتا ہے ۔ ایسی صورت میں اس کی اچھائی بیان کرنا یا اس کیلئے مغفرت کی دعا کرنا نیک عمل ہے بشرطیکہ وہ مسلمان ہو بیشک گنہگار ہو مگر اس کی برائی بیان کرنا اپنے گناہوں میں اضافے کا سبب بن سکتا ہے ۔ اسلئے اب جبکہ کہ بینظیر عالمِ برزخ میں پہنچ چکی ہے اس کی برائیاں بیان نہ کریں ۔

وما علینا الالبلاغ