میں ممنون ہوں

میں تمام قارئین کا ممنون ہوں جنہوں نے میری بیماری میں میرے لئے دعا کی اور ان کی دعاؤں اور اللہ کے کرم سے الحمدللہ اب میری طبیعت بہت بہتر ہے ۔ میں بالخصوص مندرجہ ذیل خواتین و حضرات کا ممنون ہوں جنہوں نے مجھ سے رابطہ کیا ۔ اللہ آپ سب کو خوش و صحتمند رکھے ۔ آمین ۔ محمد شاکر عزیز صاحب ۔ طارق کمال صاحب ۔ الف نظامی ۔ شعیب صفدر صاحب ۔ شگفتہ صاحبہ ۔ روسی شہری صاحب ۔ بوچھی صاحبہ ۔ وقار علی روغانی صاحب اور فیصل صاحب ۔

بیٹیاں اللہ کی نعمت ہوتی ہیں ۔ انہیں اللہ تعالٰی نے بہت محبت کرنے والا دل دیا ہوتا ہے ۔ اسی لئے شگفتہ صاحبہ اور بوچھی صاحبہ نے بار بار میری عیادت کی ۔

میں سوچتا ہوں اللہ سُبحانُہُ و تعالٰی نے مجھے کتنا مالدار بنایا ہے ۔ زر و جواہر میرے پاس نہیں تو کیا ہوا ۔ ان کی حقیقت ہی کیا ہے ؟ ایک محبت ساری دنیا کی دولت سے نہیں خریدی جا سکتی اور میں اتنی ساری محبتیں سمیٹ رہا ہوں ۔ سُبحان اللہ بعدد خلقِہِ ۔

مجھے کوئی خطرناک بیماری نہ تھی ۔ میرا جسم اللہ تعالٰی نے بہت حساس بنایا ہے اور اسلام آباد میں اب الرجی بہت زیادہ ہو چکی ہے ۔ مجھے نزلہ ۔ بخار اور کھانسی نے گھیر لیا ۔ کھانسی اس قدر شدید تھی کہ میں تین دن اور دو راتیں بالکل نہ سو سکا ۔ کسی وقت تو سانس لینا ہی دشوار ہو جاتا ۔ یہ وقت بہت تکلیف دہ ہوتا ۔ اللہ کا جتنا شکر ادا کیا جائے اتنا ہی کم ہے کہ اپنی رحمتیں نازل فرماتا رہتا ہے ۔

جمہوریت کا قتل

اِنّا للہِ وَ اِنّا اِلَیہِ رَاجِعُون
یہ سال جو 3 دن بعد ختم ہونے والا ہے ۔ ملک کی 60 سالہ زندگی کا بد ترین سال بن کر رہ گیا ہے ۔ ستم تو فوجی آمر ڈھاتے ہی ہیں مگر پرویز مشرف نے ظُلم میں پاکستان کے دُشمنوں کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ۔ اس سال میں ظُلم کے چیدہ چیدہ واقعات یہ ہیں

باجوڑ کے دینی مدرسہ پر میزائل یا بم مار کر 80 سے زائد طلباء اور اساتذہ شہید کئے گئے جن میں 30 طلباء کی عمریں 9 اور 15 سال کے درمیان تھیں ۔ اِنّا للہِ وَ اِنّا اِلَیہِ رَاجِعُون
جنوبی اور پھر شمالی وزیرستان پر فوج کشی اور بمباری جس میں بوڑھوں ۔ بچوں اور عورتوں سمیت سینکڑوں لوگ ہلاک ہوئے ۔ اِنّا للہِ وَ اِنّا اِلَیہِ رَاجِعُون ۔
پاکستان کے چیف جسٹس جناب افتخار محمد چوہدری کی معطلی
کراچی میں 12 مئی کا قتلِ عام ۔ اِنّا للہِ وَ اِنّا اِلَیہِ رَاجِعُون
لال مسجد جامعہ حفصہ آپریشن جس میں سینکڑوں طلباء و طالبات ہلاک ہوئے جن میں زیادہ تر 4 سے 17 سال کی بچیاں تھیں ۔ اِنّا للہِ وَ اِنّا اِلَیہِ رَاجِعُون ۔
کراچی میں بینظیر کے جلوس میں دھماکے جس میں 150 بیگناہ ہلاک ہوئے ۔ اِنّا للہِ وَ اِنّا اِلَیہِ رَاجِعُون
سوات پر فوج کشی جس میں اب تک سینکڑوں شہری اور فوجی ہلاک ہو چکے ہیں ۔ اِنّا للہِ وَ اِنّا اِلَیہِ رَاجِعُون
ایمرجنسی کے نام پر پرویز مشرف کا دوسرا مارشل لاء
پانچ درجن سے زائد سینئر ترین جج صاحبان کو سبکدوش کر کے قید کرنا
وکلاء اور صحافیوں پر بیہیمانہ پولیس تشدد
چارسدہ کی مسجد میں بم دھماکہ جس میں 60 نمازی شہید ہوئے ۔ اِنّا للہِ وَ اِنّا اِلَیہِ رَاجِعُون ۔
پورے ملک میں ڈکیتیوں میں بے پناہ اضافہ

اور کل یعنی جمعرات 27 دسمبر 2007ء کو

سہ پہر کے وقت مسلم لیگ نواز کا جلوس جب شاہراہ اسلام آباد پر کرال چوک کے قریب تھا تو سڑک کے کنارے اُونچی جگہ پر کیو لیگ کےرہنما نواز کھوکر کے گھر کی چھت سے جلوس پر گولیاں چلائی گئیں جس میں 11 آدمی ہلاک اور 3 درجن زخمی ہوئے ۔ اِنّا للہِ وَ اِنّا اِلَیہِ رَاجِعُون ۔ پہلے خبر پھیلی کہ نواز شریف پر فائرنگ کی گئی ہے لیکن بعد میں معلوم ہوا کہ نواز شریف اس جلوس میں شامل نہیں تھا ۔ اس نے راستہ بدل لیا تھا چنانہ یہ جلوس اس کے ساتھ شامل ہونے کیلئے جا رہا تھا ۔

پھر سورج غروب ہونے کے وقت یعنی 5 بج کر 5 اور 7 منٹ کے درمیان بینظیر بھٹو پر بالکل قریب سے گولیاں چلائی گئیں اور پھر زوردار دھماکہ ہوا ۔ بینظیر کو راولپنڈی جنرل ہسپتال ہسپتال لیجایا گیا جو وہاں سے ڈیڑھ کلو میٹر کے فاصلہ پر ہے جہاں ڈاکڑ پروفیسر مصدق اس کی جان بچانے میں ناکام رہے ۔ اِنّا للہِ وَ اِنّا اِلَیہِ رَاجِعُون ۔ سرکاری مسلک ہے کہ بینظیر خودکُش حملہ کے نتیجہ میں ہلاک ہوئیں جبکہ قُرب و جوار میں موجود لوگوں اور کچھ صحافیوں کے مطابق بینظیر گولیوں سے اور باقی 29 لوگ دھماکے کے نتیجہ میں ہلاک ہوئے ۔ اِنّا للہِ وَ اِنّا اِلَیہِ رَاجِعُون ۔ 100 کے قریب زخمی ہوئے جن میں ناہید خان کی حالت تشویشناک ہے ۔

بلاشبہ میں بینظیر کا حامی کبھی نہیں رہا اور اس کے کئی خیالات کی مخالفت بھی کرتا رہا لیکن بینظیر ہمارے ملک کے دو مقبول ترین رہنماؤں میں سے ایک تھیں ۔ ظُلم ظُلم ہوتا ہے اور اللہ نے ایک انسان کا قتل پوری انسانیت کا قتل قرار دیا ہے ۔ میں اس کی پرزور مذمت کرتا ہوں اور میری ہمدردیاں ان بچوں کے ساتھ ہیں جو ماں سے محروم ہو گئے ۔ بینظیر کا قتل بقول نواز شریف “جمہوریت کا قتل ہے ۔ عوام کی خواہشات کا قتل ہے ۔ عوام کا قتل ہے ۔ ملک کا قتل ہے “۔

جمرات 27 دسمبر کے دونوں واقعات پاکستان کے خلاف ایک گہری سازش معلوم ہوتے ہیں جسے روکنے میں موجودہ خودغرض حکومت بُری طرح ناکام رہی ہے ۔ موجودہ حکومت کی نااہلی اور غلط پالیسیوں نے اس ملک کو تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے ۔ میری دعا ہے ” اللہ سُبحانُہُ و تعالٰی ہمارے گناہ معاف فرمائے ۔ ہمیں ان نااہل اور خودغرض حکمرانوں سے نجات دلائے اور ان کی جگہ مُلک و ملت کا درد رکھنے والے حکمران عطا فرمائے”۔

معذرت

میں معذرت خواہ ہوں کہ عید الاضحٰے سے ایک دن پہلے شدید بیمار ہو جانے کی وجہ سے آج ہی کمپوٹر چلایا ہے اسلئے کسی کا بلاگ یا اپنے بلاگ پر تبصرہ نہ دیکھ سکا اور نہ کسی کی ای میل دیکھ کر جواب دے سکا ۔ اب میں انشاء اللہ آہستہ آہستہ سب کام کروں گا کیونکہ ابھی پوری طرح صحتیاب نہیں ہوا ۔

انوکھا اُستاذ

پاکستان بننے سے پہلے کے بھی مُجھے سارے اساتذہ ياد ہيں اور ميں اب تک اُن کو ياد کر کے دعائيں ديتا رہتا ہوں ۔ وہ تھے اُردو کے ہدائت حسين ۔ حساب کے بھگوان داس ۔ انگريزی کی مِسِز گُپتا ۔ تينوں بہت مُشفق اور محنت سے پڑھانے والے ۔ پاکستان بننے کے بعد اسلاميہ مڈل سکول اور مُسلم ہائی سکول ميں جنہوں نے مُجھے پڑھايا ۔ انگريزی کے نبی بخش ۔ نذير احمد قريشی ۔ ظہور احمد ۔ رياضی کے نور حسين ۔ آُميد علی ۔ طفيل قريشی ۔ ہدائت اللہ ۔ سائنس کے ہدائت اللہ ۔ تاريخ جغرافيہ کے سبغت اللہ قريشی ۔ دينيات کے مولوی عبدالحکيم جو بعد ميں رُکن قومی اسمبلی مُنتخب ہوئے ۔ گارڈن کالج ميں رياضی کے خواجہ مسعود ۔ انگريزی کے وِکٹر کے مَل اور برک ۔ کيمياء کے نسيم اللہ اور ڈاکٹر ٹَيبی ۔ طبيعات کے مسعود انوراور ملِک محبوب الٰہی ۔ انجيئرنگ کالج کے ڈاکٹر احمد حسن قريشی ۔ ڈاکٹر اکرام اللہ ۔ ڈاکٹر مُبشّر حسن ۔ عنائت علی قريشی ۔ سلطان حسين ۔ عبدالرّحمٰن ناصر ۔ چوہدری محمد رشيد ۔ مختار احمد ۔ ايم ۔ ايچ قريشی ۔ ظفر محمود خلجی ۔ وليم آرتھر ميلرز ۔ غرضیکہ سب ہی بڑی محنت سے پڑھاتے تھے ۔ بعد ميں جب بھی کبھی ان ميں سے کسی سے ملاقات ہوئی بہت اچھی طرح پيش آئے ۔ اِن ميں سے سوائے ايک اُستاذ کے ميرے دل ميں اب بھی سب کيلئے بڑی عزت ہے ۔

انجنيئرنگ کالج لاہور سے بی ايس ای انجنيئرنگ پاس کرنے کے بعد ميں نے دسمبر 1962 ميں پولی ٹيکنِک انسٹيٹيوٹ راولپنڈی ميں ملازمت شروع کی اور اللہ کی مہربانی اور اپنی محنت سے دو تين ماہ ہی ميں سينِئر اساتذہ اور پرنسپل صاحب کا منظورِ نظر بن گيا ۔ انسٹيٹيوٹ ميں پہلے سے ايک صاحب جو ميرے اُستاذ رہ چُکے تھے عارضی بندوبست کے تحت ملازم تھے ميں اُن کا احترام اپنے ساتھی کی بجائے اپنے اُستاذ کے طور پر ہی کرتا تھا ۔

ايک دن صبح سويرے انسٹيٹيوٹ پہنچ کر ميں اپنے دفتر کی طرف جا رہا تھا کہ پرنسپل صاحب کے دفتر کے پاس سے گذرنے کے بعد راستہ ميں اپنے سابق اُستاذ سے ملاقات ہوئی ۔ ميں نے سلام و نياز پيش کئے ۔ چلتے وقت اُنہون نے مجھ سے پوچھا ۔ آپ پرنسِپل صاحب سے مل کر آ رہے ہيں ؟ ميں نے کہا ۔ نہيں ميں پرنسپل صاحب سے نہيں ملا ۔ ميری پہلی کلاس ہے اس لئے جلدی ميں ہوں ۔ ميں اپنے دفتر پہنچا اور نوٹس اور کتاب لے کر کلاس روم ميں چلا گيا ۔ 40 منٹ بعد کلاس ختم ہوئی تو ايک سينيئر اُستاذ ميرے دفتر ميں آئے اور پوچھا کہ آپ صبح دير سے آئے تھے ؟ ميرے نہيں کہنے پر وہ کہنے لگے کہ ميں پرنسپل صاحب کے پاس بيٹھا تھا کہ آدھا گھينٹہ قبل آپ کے سابق اُستاذ تشريف لائے اور بولے ” آپ نے اجمل بھوپال کو تو نہيں ديکھا ؟” اور ميرے جواب کا انتظار کئے بغير پرنسپل صاحب کی طرف رُخ کر کے کہا “سَر ۔ ميں صبح سے اجمل بھوپال کو ڈھونڈ رہا ہوں ليکن نہيں ملے ۔ وہ چھُٹی پر تو نہيں ؟”

ميں آج پہلی بار اس واقعہ کا ذکر کر رہا ہوں ۔ اللہ سُبحانُہُ و تعالٰی کی قُدرت ديکھئے کہ وہ صاحب اپنی اس غَلَط حرکت سے ميرا تو کچھ نہ بگاڑ سکے البتہ خود وہ کم از کم ميری اور ايک اپنے سے سينئر اُستاذ کی نظروں ميں گِر گئے ۔ يہ حقيقت ہے کہ جو انسان حَسَد کا شکار ہو جائے اُس کا ضمير مر جاتا ہے ۔ اللہ ہميں حَسَد کرنے اور جھوٹ بولنے سے بچائے ۔ آمين

عیدالاضحٰے مبارک

اللہُ اکبر اللہُ اکبر لَا اِلَہَ اِلْاللہ وَحْدَہُ لَا شَرِیْکَ لَہُ لَہُ الّمُلْکُ وَ لَہُ الْحَمْدُ وَ ھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیٍ قَدِیر
اللہُ اکبر اللہُ اکبر لا اِلہَ اِلاللہ و اللہُ اکبر اللہُ اکبر و للہِ الحمد
اللہُ اکبر کبِیرہ والحمدُللہِ کثیِرہ و سُبحَان اللہِ بکرۃً و أصِیلا

سب قارئین اور ان کے اہلِ خانہ کو عیدالاضحٰے مبارک ۔ جنہوں نے حج کیا ہے انہیں حج مبارک ۔ اللہ سُبحانُہُ و تعالٰی ان کا حج قبول فرمائے ۔ اللہ الرحمٰن الرحیم سب کو اچھی صحت عطا فرمائے اور خوشی اور خوشحالی نصیب کرے ۔ برائیوں سے بچائے اور نیکی کی راہ پر ثابت قدم کرے ۔ بُرے حاکموں سے نجات دلائے اور باعمل مسلمان حاکم نصیب فرمائے جو اپنی جیبیں بھرنے کی بجائے عوام کی خوشحالی کیلئے کوشاں ہوں اور اپنی کرسی مضبوط کرنے کی بجائے قوم اور ملک کو مضبوط کریں ۔ آمین یا رب العالمین ۔

تمام انسان برابر ہیں سوائے ۔ ۔ ۔

تمام انسان برابر ہیں سوائے اس کے کوئی تقوٰی کی وجہ سے اعلٰی ہو ۔

راشد کامران صاحب کے ایک تبصرہ “بر صغیر ۔ جہاں‌ ہر عمل اور ہر بات صرف اپنی یا اپنی ذات کی بڑائی دکھانے کے لیے کی جاتی ہے ۔ ۔ ۔ یہ سلسہ تبھی تھمے گا جب ہم “تقوی”‌ کے عزت کا میعار بنائیں” نے مجھے یہ مضمون لکھنے پر مائل کیا ۔ ‌

تقوٰی کے متعلق محققین علماء نے کتابیں لکھی ہیں جن کا احاطہ کرنا مجھ جیسے دو جماعت پاس کے بس کی بات نہیں ۔ میں تو اتنا جانتا ہوں کہ تقوٰی کے معنی ہیں چھوڑ دینا اور دین اسلام کے تحت تقوٰی کا مطلب ہوا کہ ہر اس چیز اور عمل کو چھوڑ دینا جس کا تعلق اللہ کے ساتھ نہ ہو ۔ دوسرے طریقہ سے بیان کریں تو تقوٰی کا مطلب ہے کہ ہر وہ چیز اور عمل چھوڑ دینا جس کے چھوڑنے کا اللہ نے کہا ہے اور ہر اس چیز اور عمل کو اپنا لینا جس کا تعلق اللہ کی خوشنودی سے ہو ۔

مسلمان ہونے کے ناطے ہمارا فرض ہے کہ ہم اللہ کی اطاعت کریں ۔ اطاعت اس طرح کی نہیں جیسی ہم بازاروں مں اور دفتروں میں کرتے ہیں کہ سامنے تو بہت اچھے اور پیچھے کسی کی پرواہ نہیں ۔ ہاں اگر ہم یہ یاد رکھیں اللہ ہر وقت دیکھ رہے ہیں اور فرشتے ہمارے عمل کی مکمل سند تیار کر رہے ہیں جس کیلئے ہماری پیشی ہو گی اور ہر غلط کام کی سزا بھُگتنا پڑے گی تو پھر ہم کبھی بھول کر بھی کوئی ایسا کام نہیں کریں گے جو اللہ کے حکم کے خلاف ہو یا جس سے اللہ کی خوشنودی حاصل نہ ہو ۔ ایسا کرنے والا آدمی ہی متقی ہے ۔ اور متقی بہادر اور مطمئن ہوتا ہے ۔

قرآن شریف سے پہلے کی الہامی کتب یعنی زبور ۔ تورات اور انجیل میں بہت تحریفات کی جا چکی ہیں لیکن ابھی بھی ان میں کچھ باتیں صحیح حالت میں موجود ہیں ۔ آج لوگوں کی اکثریت کا یہ حال ہے کہ بمطابق انجیل “انہیں دوسروں کی آنکھ کا تنکا تو نظر آتا ہے لیکن وہ اپنی آنکھ کے شہتیر کو نہیں دیکھ سکتے”۔ تورات میں ہے “ہم چیزوں کو اس طرح نہیں دیکھتے جس طرح کی وہ ہیں بلکہ اس طرح دیکھتے ہیں جس طرح کے ہم ہیں”۔ ہمارے ہاں ایک محاورہ عام استعمال ہوتا ہے “آئینہ میں اپنی ہی شکل نظر آتی ہے”۔

اگر دوسروں کے اندر عیب تلاش کرنا اور دوسروں کے عیب گننا چھوڑ کر اپنی اصلاح پر توجہ دی جائے تو انسان تقوٰی کی منزل کو پہنچ سکتا ہے ۔

لڑکے گھورتے ہیں

موضوع اس سے شروع ہوا کہ لڑکے اور مرد لڑکیوں اور خواتین کو گھورتے ہیں اور دیگر نازیبا حرکات کرتے ہیں ۔ یہ حرکات میں نے اپنی زندگی میں اس وقت پہلی بار دیکھی تھیں جب میں آٹھویں جماعت میں پڑھتا تھا یعنی 1951ء میں ۔ میں مندرجہ ذیل خواتین و حضرات کی تحاریر اس سلسلہ میں پڑھ چکا ہوں

راشد کامران صاحب نے 3 دسمبر 2007ء کو
فرحت صاحبہ نے 6 دسمبر 2007ء کو
عورت کی مجموعی مظلومیت پر لکھا جو کہ ایک الگ تحقیق طلب ہے
قدیر احمد صاحب نے 7 دسمبر 2007ء کو
اپنے آپ کو بدتمیز کہنے والے صاحب نے 7 دسمبر 2007ء کو
میرا پاکستان والے صاحب نے 7 دسمبر 2007ء کو
ماوراء صاحبہ نے 9 دسمبر 2007ء کو

اللہ سُبحانُہُ و تعالٰی نے میرا ذہن کچھ ایسا بنایا ہے کہ اس میں جو بات گھُس جائے اس کی جڑ تک پہنچنے کی کوشش کرتا ہوں ۔ چنانچہ 1951ء سے میں نے دیکھنا شروع کر دیا کہ جب جوان لڑکی یا عورت گذر رہی ہوتی ہے تو کون کیا کرتا ہے ۔ اس کی عمر کتنی ہے اور بظاہر ماحول کیسا ہے ۔ ہم اس زمانہ میں راولپنڈی شہر کے وسطی علاقہ میں رہتے تھے ۔ میں نے دیکھا کہ راولپنڈی اور گرد و نواح کے رہنے والے عورتوں پر جُملے کسنا شائد اپنا فرض سمجھتے تھے اور جملہ کسنے کے بعد ادھر اُدھر دیکھ کر داد و تحسین وصول کرنے کی کوشش کرتے تھے ۔ عورت کے پاس سے ٹکراتے ہوئے گذرنا یا عورت کے جسم کے کسی حصے کو ہاتھ لگانا یا چُٹکی لینا بھی ہوتا تھا ۔ یہ حرکات کرنے والوں میں نوجوان اور شادی شدہ دونوں شامل ہوتے لیکن ان میں زیادہ تر کم پڑھے لکھے ہوتے ۔ پڑھے لکھے لوگوں میں سے بہت ہی کم کو ایسی حرکت کرتے دیکھا گیا

میں گارڈن کالج میں داخل ہوا تو وہاں مخلوط تعلیم تھی مگر لڑکیوں کی ڈین ایک بڑی عمر کی عیسائی خاتون مس خان تھیں جو ہر وقت لڑکیوں کی تربیت اور حفاظت کرتی تھیں ۔ لڑکیاں کیا لڑکے بھی ان سے بہت ڈرتے تھے ۔ اسلئے کالج کے اندر تو ممکن تھا ہی نہیں کہ کوئی لڑکا کوئی نازیبا حرکت کرے ۔ کالج سے باہر بھی پروفیسر صاحبان خیال رکھتے تھے ۔ ہمارے ہمجماعت لڑکے کو ہمارے پروفیسر خواجہ مسعود صاحب نے کسی بس سٹاپ پر لڑکیوں کے پاس کھڑا دیکھا اور کالج میں اس کو اتنا شرمندہ کیا کہ دوبارہ اس نے ایسی حرکت نہ کی ۔ سنا ہے کہ دس بارہ سال بعد گارڈن کالج میں حالات خراب ہونا شروع ہو گئے تھے بلکہ یوں کہنا چاہیئے کہ معاشرہ ہی بگڑنا شروع ہو گیا تھا

میں مزید تعلیم کیلئے 1956ء میں لاہور چلاگیا ۔ وہاں انارکلی میں ایسی حرکات ہوتے دیکھیں مگر اس کے مرتکب بالخصوص اسی کام کیلئے آئے ہوتے تھے ۔ ان میں کالجوں کے طلباء بھی شامل ہوتے تھے ۔ دکاندار عزت و احترام کے ساتھ باجی یا خالہ جی کہہ کر پیش آتے ۔ اس کے برعکس راولپنڈی میں کچھ دکان دار بھی ان بُری حرکات میں شامل ہوتے تھے ۔

ایک بات جو کسی نے نہیں لکھی یہ ہے کہ کچھ لڑکیاں ایسی حرکات سے محظوظ ہوتے بھی دیکھیں ۔ کبھی کبھی ایسی لڑکی بھی دیکھی جو خود جان بوجھ کر نوجوان لڑکے کے قریب سے یا سامنے سے گذری

مندرجہ بالا مشاہدات 1962ء تک کے ہیں ۔ اسلام آباد ہو ۔ کراچی ہو یا لاہور ۔ اب تو یہ حال ہے کہ غریب سے لے کر امیر ترین والدین کی اولاد بے راہ روی کا شکار ہے ۔ دولت کی فراوانی نے تو چار چاند لگا دیئے ہیں ۔ کسی ریستوراں میں چلے جائیے یا کسی سیر و تفریح کی جگہ ۔ ہر جگہ فلمی مناظر دیکھنے کو ملتے ہیں ۔ یومِ آزادی ہو یا نئے سال کی پچھلی رات ۔ کیا لڑکے اور کیا لڑکیاں وہ طوفانِ بد تمیزی ہوتا ہے کہ ایک بار دیکھنے کے بعد توبہ کی اور پھر کوئی ضروری کام بھی ہوا تو ایسی رات میں گھر میں دُبکے رہے