میاں چنوں میں ایک شخص شوکت علی نے اپنی غربت کے باعث بچوں کے گلے میں برائے فروخت کے چارٹ لٹکا کر مظاہرہ کیا ۔ سننے میں آیا ہے کہ اس خبر کی اشاعت کے بعد حکومت ۔ مختلف این جی اوز ۔ مخیر حضرات اورخیراتی اداروں نے میاں چنوں کا رخ کر لیا ۔تفصیلات کے مطابق وزیراعظم سیکرٹریٹ نے میاں محمد امیر بودلہ چیئرمین پبلک سیفٹی کمیشن کے توسط سے شوکت علی کو بینک سکیورٹی گارڈ کی نوکری کی پیشکش کی ہے۔ ایک ٹیکسٹائل کے منیجر نے 6000 ہزار روپے تک کی نوکری، لاہور کے ایک شہری نے پاک پتن میں واقع اپنے بورڈنگ اسکول میں اس کے بچوں کی تعلیم رہائش اور مکمل اخراجات برداشت کرنے کی آفر دی ہے جبکہ کراچی چیمبر آف کامرس نے بھی شوکت علی کو مالی امداد کا عندیہ دیا ہے علاوہ ازیں بیرون ممالک ناروے، انگلینڈ، امریکا، و دیگر ممالک سے درد دل رکھنے والے پاکستانیوں نے بھی رابطہ کر کے مدد کرنے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔
Category Archives: روز و شب
جموں کشمير آزاد کيوں نہ ہوا ؟ تيسری اور آخری قسط
دوسری قسط 9 فروری 2007 کو لکھی گئی
جب ذوالفقار علی بھٹو صاحب حکمران بنے تو اُنہوں نے بھارت ميں اپنی موروثی جائداد واگذار کرانے کی خاطر بھارت نواز شملہ معاہدہ پر دستخط کردئيے ۔ جنگ بندی لائين کو لائين آف کنٹرول مانا اور مسئلہ کشمير کا فيصلہ صرف گفت و شنيد کے ذريعہ کرنے کا اقرار کيا اس کے علاوہ شمالی علاقہ ميں جان نثار فوجيوں کی قيمتی جانوں کی قربانی دے کر بھارت سے واپس ليا ہوا علاقہ بھارت کو دے ديا جس کے نتيجہ ميں سياچين کا مسئلہ پيدا ہوا ۔
جنرل ضياء الحق صاحب نے جموں کشمير کی بجائے افغانستان کی جنگ ميں دلچسپی لی ۔
بےنظیر بھٹو صاحبہ نے 1988 عیسوی میں حکومت سنبھالتے ہی بھارت کے پردھان منتری راجیو گاندھی سے دوستی شروع کی ۔ دسمبر 1988 عیسوی میں راجیو گاندھی کے پاکستان کے دورہ سے پہلے جہاں کہیں “کشمیر بنے گا پاکستان” یا ویسے ہی جموں کشمیر کا نام لکھا تھا وہ مِٹوا دیا گیا یہاں تک کہ راولپنڈی میں کشمیر ہاؤس کے سامنے سے وہ بورڈ بھی اتار دیا گیا جس پر کشمیر ہاؤس لکھا تھا ۔ مشترکہ پريس کانفرنس ميں جب ايک سوال کے جواب ميں راجيو گاندھی نے بڑے تلخ لہجہ ميں جموں کشمير کو بھارت کا حصہ کہا تو محترمہ منہ دوسری طرف کر کے ہنس ديں ۔ اُسی زمانہ میں خیر سگالی کرتے ہوئے اُن راستوں کی نشان دہی بھارت کو کر دی گئی جن سے مقبوضہ علاقہ ميں بھارتی ظُلم کی چکی میں پسے ہوئے لوگوں کے لئے رضاکار آزاد جموں کشمیر سے کپڑے ۔ جوتے ۔ کمبل وغیرہ لے کر جاتے تھے ۔ بھارتی فوج نے ان راستوں کی کڑی نگرانی شروع کر دی ۔ اس طرح جموں کشمیر کے کئی سو رضاکار مارے گئے اور بے خانماں کشمیریوں کی امداد بند ہو گئی ۔
بھارتی سکیورٹی فورسز کے ہر دن کے مظالم سے تنگ آئے ہوئے مقبوضہ جموں کشمیر کے مسلمانوں کو پاکستان سے بھی مایوسی ملی ۔ پہلے بوڑھے جوانوں کو ٹھنڈا رکھتے تھے ۔ جب بوڑھوں کے پاس جوانوں کو دلاسہ دینے کے لئے کچھ نہ رہا تو جوانوں نے اپنی قسمت کا فیصلہ خود کرنے کی ٹھانی ۔ ابتداء یوں ہوئی کہ 1989 عيسوی ميں بھارتی فوجیوں نے ایک گاؤں کو محاصرہ میں لے کر مردوں پر تشدّد کیا اور کچھ خواتین کی بے حُرمتی کی ۔ یہ سب کچھ پہلے بھی ہوتا رہا تھا مگر اس دفعہ بھارتی فوجيوں نے خواتین کی بےحرمتی ان کےگاؤں والوں کے سامنے کی ۔ اس گاؤں کے جوانوں نے اگلے ہی روز بھارتی فوج کی ایک کانوائے پر اچانک حملہ کیا ۔ بھارتی فوجی کسی حملے کی توقع نہیں رکھتے تھے اس لئے مسلمان نوجوانوں کا یہ حملہ کامیاب رہا اور کافی اسلحہ ان کے ہاتھ آیا ۔ پھر دوسرے دیہات میں بھی جوابی کاروائیاں شروع ہو گئیں اور ہوتے ہوتے آزادی کی یہ مسلحہ تحریک پورے مقبوضہ جموں کشمیر میں پھیل گئی ۔
موجودہ حکومت کی مہربانی سے بھارت نے جنگ بندی لائين پر کہيں ديوار بنا لی ہے اور کہيں خاردار تار لگا دی گئی ہے کہ مقبوضہ جموں کشمير سے کوئی ظُلم کا مارا بھاگ کر آزاد جموں کشمير ميں پناہ بھی نہ لے سکے ۔ مقبوضہ جموں کشمير کے مسلمانوں کا ايک پُرامن اور بے ضرر سياسی اتحاد تھا حُريّت کانفرنس جو جموں کشمير کے لوگوں کی آواز دنيا تک پہنچاتا تھا ۔ ہماری موجودہ حکومت بڑی محنت و کوشش سے اس کے دو ٹکڑے کرنے ميں کامياب ہو گئی ہے گويا مقبوضہ جموں کشمير کے مسلمانوں کی زبان کے دو ٹکڑے کر دئیے ہیں ۔ اپنے ملک ميں حق کی آواز اُٹھانے والا غائب ہو جاتا ہے اور اعلٰی عدالتيں ان کی بازيابی کے حکم ديتے ديتے تھکتی جا رہی ہيں ۔
جہاد تو کيا دين اسلام پر عمل کرنے والوں کيلئے پاکستان کی زمين تنگ کی جا رہی ہے ۔ قرآن شريف کی آيات جو جہاد فی سبيل اللہ کے متعلق ہيں يا کفّار کے خصائل بيان کرتی ہيں کو نفرت انگيز [Hate literature] کہہ کر تعليمی نصاب سے نکالا جا رہا ہے ۔ دين اسلام کی پابندی کرنے والے ہر شخص کو مشکوک سمجھا جانے لگا ہے ۔
ذرائع ابلاغ اس معاملہ ميں اہم کردار ادا کرتے ہيں ۔ ہمارے ملک کے ايک دو اخبار چھوڑ کر باقی سارے جہاد کو دہشتگردی کا نام ديتے ہيں ۔ یہاں انیل خان لُونی اور جلیل امر جیسے قلکاروں کے مضامین اخباروں میں چھپتے ہیں جو پاکستان بننے کو ہی غلط کہتے ہیں اور قائد اعظم کو انگریزوں کا ایجنٹ ثابت کرنے کی کوشش میں رہتے ہیں ۔ اليکٹرانک ميڈيا قوم کو ننگے فيشن اور ناچ گانا سکھانے کے علاوہ جہاد کے خلاف زہر اُگل رہا ہے ۔ 
پاکستان کے عوام ميں کچھ کو لُوٹ گھسُوٹ سے فرصت نہيں اور کچھ کو بے پناہ مہنگائی کے باعث نان نقفہ کی تگ و دو ميں گِرد و پيش کا ہوش نہيں ۔
ہماری قوم کے ڈھنڈورچی [big mouths] جو کہ اکثر اين جی اوز کی صورت ميں مجتمع ہيں اُنہيں جموں کشمير کے بے کس لوگوں پر ظلم ہوتا نظر نہيں آتا ۔ اُن کے ساتھ اگر يہ لوگ بہت رعائت کريں تو اُنہيں جہادی اور اِنتہاء پسند کہتے ہيں ورنہ دہشتگرد ۔ کچھ لوگ ايسے بھی ہيں جو کہتے ہيں کہ پاکستان کو کشمير سے کيا ملے گا خواہ مخوا کشميريوں کی مدد کر کے بھارت سے لڑائی کا خطرہ مول ليا ہوا ہے ۔
اب ثاقب سعود صاحب ہی بتائيں کہ کہاں ہيں افراد ۔ بیرونی امداد ۔ اسلحہ اورچھُپنے کے لئے جگہ ؟
پڑھنے کے لائق
اسلام آباد میں 26 جنوری اور 6 فروری کو ہونے والے دھماکوں کے پسِ منظر کا یہ تجزیہ اسلام آباد کے تعلیم یافتہ اور تجربہ کار طبقہ کے تأثرات کی ترجمانی کرتا ہے اور ہر پاکستانی کو غور و فکر کی دعوت دیتا ہے ۔ نیچے دئیے رابطہ پر کلِک کر کے یا اسے براؤزر میں لکھ کر کھولئے ۔
سمجھا تو رکشا والا سمجھا
کيا ہوتا ۔ ۔ ۔
اُنيس دن قبل جب رات کو درجہ حرارت نقطہ انجماد سے نيچے تھا سردی لگنے سے مجھے بخار ہو گيا ۔ ليٹے ليٹے ميرا دماغ چل پڑا اور ذہن سے جو شعر نکلے وہ نذرِ قارئين ہيں ۔ خيال رہے کہ ميں شاعر نہيں ہوں اسلئے کوئی غلطی ہو تو درگذر کيجئے
ميں دنيا ميں ہوں تو کيا ہوا ۔ گر نہ ہوتا تو کيا ہوتا
بچايا گناہوں سے اللہ نے ۔ مجھ پہ ہوتا تو کيا ہوتا
اپنائی نہ زمانے کی روِش کھائی ٹھوکريں زمانہ کی
چلتا گر ڈگر پر زمانے کی تو ترقی کر کے بھی تباہ ہوتا
لمبی تقريريں کرتے ہيں اوروں کو سبق دينے والے
خود کرتے بھلائی دوسروں کی تو اُن کا بھی بھلا ہوتا
کرو اعتراض تو کہتے ہيں تجھے پرائی کيا اپنی نبيڑ تو
اپنا بھلا سوچنے والے سوچتے دوسروں کا تو کيا ہوتا
کر کے بُرائی اکڑ کے چلتے ہيں ذرا ان سے پوچھو
نہ ہوتا اگر اللہ رحمٰن و رحيم و کريم تو کيا ہوتا
ياد رکھنا ميرے بچو ۔ ميرے مرنے کے بعد بھی
چلنے والا صراط المستقيم پر ہے کامياب ہوتا
خواتين کے حقوق محفوظ ہوگئے ؟ ؟ ؟
ميں شعيب صفدر صاحب کا مشکور ہوں کہ نئے قانون تحفظِ حقوق خواتين کے ويب پر شائع ہوتے ہی اس کا لِنک مجھے بھيج ديا ۔ اس کا مطالعہ سکون سے کرنا ضروری تھا ۔ ميں کچھ ذاتی کاموں ميں مصروف تھا ۔ پھر ايک رات جب کہ درجہ حرارت نقطہ انجماد سے نيچے تھا ميں آدھی رات کو لحاف سے نکل کر قدير احمد رانا صاحب کی طرح صرف شلوار قميص پہنے غسلخانہ چلا گيا جو کہ غسلخانہ کيا برف خانہ تھا ۔ سو مجھے تيز بخار ہو گيا ۔ بخار کم ہوا تو ميرے کمپيوٹر کے سرور [Server] نے نخرے دکھانے شروع کر ديئے ۔ چنانچہ تاخير ہو گئی ۔
زنا زبردستی سے کيا جائے يا باہمی رضامندی سےقرآن شريف اور سنّتِ رسول اللہ محمد صَلَّ اللہُ عَلَيہِ وَ سَلَّم کے مطابق زانی اور زانيہ کی سزا ميں کوئی فرق نہيں ہے اور سزاسو کوڑے يا رجم ہے البتہ زنا بالجبر کی صورت ميں عورت کو باعزت بری کر ديا جاتا ہے اور زانی مرد کو سزا دی جاتی ہے ۔
تحفظِ حقوق خواتين کا قانون منظور کرانے کا مقصد خواتين کے حقوق محفوظ کرنا ہے يا بے راہ روی کو محفوظ کرنا ۔ يہ نئے قانون کی مندرجہ ذيل صرف تين دفعات پڑھنے سے ہی واضح ہو جاتا ہے ۔
زنابالجبر کے لئے سزا 376
[1] جو کوئی زنا بالجبر کا ارتکاب کرتا ہے اسے سزائے موت یا کسی ایک قسم کی سزائے قید جو کم سے کم پانچ سال یا زیادہ سے زیادہ پچیس سال تک ہو سکتی ہے دی جائے گی اور جرمانے کی سزا کا بھی مستوجب ہو گا۔
٤٩496۔ ب ۔ باہمی رضا مندی سے زنا کی سزا
[2] اگر عورت اور مرد باہمی رضامندی سے زنا کے مرتکب ہوں تو انہيں قيد کی سزا دی جا سکتی ہے جس کی معياد پانچ سال تک بڑھائی جا سکتی ہے ۔ اس کے علاوہ جرمانہ بھی کيا جا سکتا ہے جو دس ہزار روپے سے زيادہ نہ ہو ۔
٢٠٣ 203 ۔ الف ۔ زنا کی صورت ميں نالش
[1] کوئی عدالت زناء کے جرم (نفاذ حدود) آرڈیننس کے تحت کسی جرم کی سماعت نہیں کرے گی ماسوائے اس نالش کے جو کسی اختیار سماعت رکھنے والی مجاز عدالت میں دائر کی جائے۔
[2] کسی نالش جرم کا اختیار سماعت رکھنے والی عدالت کا افسر صدارت کنندہ فوری طور پر مستغیث اور زنا کے فعل کے کم از کم چار چشم دید بالغ گواہوں کی حلف پر جرم کے لئے ضروری جانچ پڑتال کرے گا۔
[3] مستغیث اور عینی گواہوں کی جانچ پڑتال کرنے کے لئے مواد کو تحریر تک محدود کر دیا جائے گا اور اس پر مستغیث اور عینی گواہوں کے علاوہ عدالت کے افسر صدارت کنندہ کے بھی دستخط ہوں گے۔
[4] اگر عدالت کے افسر صدارت کنندہ کی یہ رائے ہو کہ کاروائی کے لئے کافی وجہ موجود ہے تو عدالت ملزم کی اصالتاَ حاضری کے لئے سمن جاری کرے گا۔
[5] کسی عدالت کا افسر صدارت کنندہ جس کے روبرو نالش دائر کی گئی ہو یا جس کو یہ منتقل کی گئی ہو اگر وہ مستغیث اور چار یا زائد عینی گواہوں کے حلفیہ بیانات کے بعد یہ فیصلہ دے کہ کاروائی کے لئے کافی وجہ موجود نہیں ہے، نالش کو خارج کر سکے گا اور ایسی صورت میں وہ اس کی وجوہات قلمبند کرے گا۔
ڈسٹرکٹ اينڈ سيشن جج کو مجاز جج قرار ديا گيا ہے ۔
تبصرہ ۔
زنا بالجبر ثابت ہو جانے پر بھی موت کی سزا دينا ضروری نہيں رہا بلکہ پانچ سال قيد کی سزا دے کر بھی فارغ کيا جا سکتا ہے ۔ سو کوڑے يا رجم کی سزا ختم کر دی گئی ہے جو اللہ تعالٰی کے حکم کی صريح خلاف ورزی ہے ۔
اگر باہمی رضامندی سے زنا کا ارتکاب ثابت ہو جائے تو زيادہ سے زيادہ پانچ سال قيد کی سزا دی جا سکتی ہے ۔ اس ميں بھی سو کوڑے يا رجم کی سزا ختم کر دی گئی ہے جو اللہ تعالٰی کے حکم کی صريح خلاف ورزی ہے ۔
چار تزکيۂِ نفس رکھنے والے چشم ديد گواہ کہاں سے آئيں گے جن پر مجاز جج کو بھی اعتبار ہو ؟
کيا متذکّرہ تخفيف شدہ سزا بھی صرف کھُلے عام زنا کرنے والوں کيلئے ہے ؟ قانون کی شِقوں سے تو ايسا ہی ظاہر ہوتا ہے ۔
ڈسٹرکٹ اينڈ سيشن جج کو مجاز جج قرار ديا گيا ہے ۔ نہ پوليس اور نہ کسی اور جج کو زنا کے سلسلہ ميں کسی قسم کی کاروائی کا کوئی اختيار ہو گا اور نہ کوئی جج از خود نوٹس لے کر کاروائی کر نے کا مجاز ہو گا ۔ چنانچہ کسی دُور دراز علاقہ ميں بھی کوئی زنا کا مرتکب ہو گا تو مستغيث اور چار چشم ديد گواہوں کو ڈسٹرکٹ ہيڈکوارٹر جا کر ڈسٹرکٹ اينڈ سيشن جج کے سامنے پيش ہو کر اپنے بيانات قلمبند کرانا ہوں گے جبکہ ہمارے ملک ميں تو اپنے ہی شہر ميں مقدمہ درج کروانا مشکل ہوتا ہے ۔
اس قانون سے تو يہی اخذ کيا جا سکتا ہے کہ زنا کے مرتکب مرد اور عورت کو صرف اسی وقت سزا ملے گی جب کوئی بااثر شخص اُنہيں سزا دينا چاہے گا اور وہ سچے يا جھوٹے گواہ مہيّا کر دے گا ۔ جہاں تک بااثر لوگوں کا تعلق ہے وہ اب بغير خطرے کے پہلے سے زيادہ رنگ رلياں منائيں گے ۔
کہاں گئے مغرب زدہ اين جی اوز اور دوسرے روشن خيالوں کے جديد طريقوں کے وہ بلند بانگ دعوے جن کو قرآن شريف پر ترجيح دی جا رہی تھی ؟ حقيقت يہ ہے کہ اُن کی عياشی پر قدغن تھی سو اب وہ مکمل طور پر آزاد ہو گئے ہيں ۔ جس دن يہ قانون منظور ہوا لاہور کے بازارِ حُسن ميں جشن منايا گيا تھا اور مٹھائی بانٹی گئی تھی ۔ چند مادر پدر آزاد اين جی اوز نے بھی مٹھائی بانٹی اور ايک دوسرے کو مبارکباد دی ۔ يہ ہے وہ تاريک اور گھناؤنا غار جس ميں ہمارے روشن خيال حکمران ہماری قوم کو دھکيل رہے ہيں ۔
میراتھان ریس اور اِسلام
میں نے پچھلی تحریر میں حفظانِ صحت کے اصولوں اور لمبی دوڑ [Marathon Race]کا جائزہ پیش کیا تھا ۔ اب لمبی دوڑ اور دِین اِسلام کا تقابل ۔ تقابل میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا دین اِسلام ورزش یا کھیل یا حفظانِ صحت کی مخالفت کرتا ہے ؟ ۔ صحیح جواب ہے ” نہیں ایسا بالکل نہیں ہے” ۔
ہماری یہ عادت بن چُکی ہے کہ ہم پراپیگنڈا سے بہت جلد اور بہت زیادہ مُتأثر ہوتے ہیں ۔ دین کے معاملہ میں بھی ہم گھر میں مترجم قُرآن شریف موجود ہونے کے باوجود اُسے پڑھ کر اُس پر عمل کرنے کی بجائے پراپیگنڈہ کے دین پر عمل کرتے ہیں اور ایسا کرتے ہوئے متعدد بار [بِلا ارادہ] قُرآن اور اللہ کے احکام کی خلاف ورزی کرتے ہیں ۔ ہم اَلْحَمْدُللہ مسلمان ہیں اِسلئے ہمارا فرض بنتا ہے کہ ہم قرآن الحکیم ۔ احادیث اور اسواءِ حَسَنہ سے اِستفادہ حاصل کریں ۔
قُرآن الحکیم کی سورت اَلْانْفَالْ کی آیت 60 کا ترجمہ ہے ” اور جس قدر ہو سکے طاقت اور تیار بندھے رہنے والے گھوڑے مہیا رکھو تا کہ تم اللہ کے اور اپنے دشمنوں کو ڈراتے رہو اور اُن دوسرے دشمنوں کو بھی جن کو تم نہیں جانتے مگر اللہ جانتا ہے ۔ “
یہ آیت دفاعی تیاری کے متعلق ہے ۔ اِس میں دو چیزوں کا واضح ذکر ہے ۔ ایک طاقت اور دوسری تیار گھوڑے ۔ طاقت کے لئے مناسب اور باقاعدہ ورزش بہت ضروری ہے جس میں کھیل کود بھی شامل ہے ۔ تیار گھوڑے سے مُراد سِدھائے ہوئے گھوڑے ہے اور اِن کا استعمال سواری ہے ۔ گھوڑوں کو سِدھانے اور سواری کے لئے بھی خاص قسم کی ورزش کی باقاعدہ ضرورت ہے ۔ خيال رہے کہ اُس زمانہ ميں آجکل کی طرح فوج ايک عليحدہ گروہ نہيں ہوتی تھی بلکہ ہر عاقل بالغ مرد فوجی ہوتا تھا ۔ چنانچہ يہ حُکم ہر مُسلمان کيلئے ہے ۔
قرآن شریف میں کھانے پینے اور رہنے سہنے کے جو طریقے سمجھائے گئے ہیں وہ سب حِفظانِ صحت کے اُصُولوں کے عین مطابق ہیں ۔ احادیث اور اسواءِ حسنہ کے مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ رسول اللہ صَلّ اللہِ عَلَیہِ وَ سَلَّم نے دوڑ لگانے ۔ تیر اندازی ۔ تلوار بازی اور نیزہ بازی کی ترغیب دی ۔ اِس سے ثابت ہوتا ہے کہ اسلام نہ صرف صحتمند کھیلوں کا مخالف نہیں بلکہ اُن کی حمائت کرتا ہے ۔
لاہور کی لمبی دوڑ کی مخالفت میں مولوی حضرات نے جو مؤقف اِختیار کیا وہ یہ تھا کہ خواتین مردوں کے شانہ بشانہ نہ بھاگیں ۔ چنانچہ یہ کہنا درست نہیں ہے کہ مولوی صحتمند عمل کی مخالفت کرتے ہیں ۔ جس بناء پر مولوی حضرات نے مخالفت کی وہ ایک الگ اور وسیع موضوع ہے اور اُسے بھی قرآن اور سُنّت کی روشنی میں دیکھنا ضروری ہے ۔
