جہاد یا دہشتگردی
نیچے نقل کردہ آیات کو غور سے پڑھ کر دیکھئے کہ کیا جموں کشمیر ۔ فلسطین ۔ افغانستان اور عراق کے مسلمان ظالم قابض طاغوتی طاقتوں کے خلاف لڑنے میں حق بجانب ہیں یا نہیں اور کیا وہ جہاد کر رہے ہیں یا دہشتگردی کے مرتکب ہو رہے ہیں ؟
سورت ۔ 2 ۔ الْبَقَرَہ
[آیت 190] ۔ اور اﷲ کی راہ میں ان سے جنگ کرو جو تم سے جنگ کرتے ہیں مگر حد سے نہ بڑھو، بیشک اﷲ حد سے بڑھنے والوں کو پسند نہیں فرماتا ۔ [آیت 191] ۔ اور ان کو جہاں بھی پاؤ مار ڈالو اور انہیں وہاں سے باہر نکال دو جہاں سے انہوں نے تمہیں نکالا تھا اور فتنہ انگیزی تو قتل سے بھی زیادہ سخت ہے اور ان سے مسجدِ حرام کے پاس جنگ نہ کرو جب تک وہ خود تم سے وہاں جنگ نہ کریں، پھر اگر وہ تم سے قتال کریں تو انہیں قتل کر ڈالو، کافروں کی یہی سزا ہے ۔ [آیت 192] ۔ پھر اگر وہ باز آجائیں تو بیشک اﷲ نہایت بخشنے والا مہربان ہے ۔ [آیت 193] ۔ اور ان سے جنگ کرتے رہو حتٰی کہ کوئی فتنہ باقی نہ رہے اور دین اﷲ ہی کے تابع ہو جائے، پھر اگر وہ باز آجائیں تو سوائے ظالموں کے کسی پر زیادتی روا نہیں
سُورت ۔ 8 ۔ الْأَنْفَال
[آیت ۔ 39] ۔ اے ایمان لانے والو ۔ ان کافروں سے جنگ کرو یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے اور دین پورے کا پورا اللہ کیلئے ہو جائے پھر اگر وہ فتنہ سے رُک جائیں تو اُن کے اعمال کا دیکھنے والا اللہ ہے ۔ اور اگر وہ نہ مانیں تو جان رکھو کہ اللہ تمہارا سرپرست ہے اور وہ بہترین حامی اور مددگار ہے ۔
سُورت۔ 9 ۔ التَّوْبَہ
[آیت ۔ 29] ۔ جنگ کرو اہلِ کتاب میں سے اُن لوگوں کے خلاف جو اللہ اور روزِ آخر پر ایمان نہیں لاتے اور جو کچھ اللہ اور اس کے رسول نے حرام قرار دیا ہے اسے حرام نہیں کرتے اور دینِ حق کو اپنا دین نہیں بناتے ۔ [ان سے لڑو] یہاں تک کہ وہ اپنے ہاتھ سے جزیہ دیں اور چھوٹے بن جائیں ۔
محکوم یا مجبور مسلمانوں کی امداد
مسلمانوں کی مدد کرنے والوں کو بڑی تحقیر سے جہادی کہنے اور دہشتگرد قرار دینے اور اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرنے والے ذرا نیچے منقولہ آیات کو غور سے پڑھیں اور اپنی حالت پر غور فرمائیں اور دیکھیں کہ کیا یہ آیات مسلمانوں کو مقبوضہ جموں کشمیر ۔ فلسطین ۔ افغانستان ۔ عراق اور شیشان کے مسلمانوں کی مدد کا حُکم ہیں یا نہیں ؟ اور مدد نہ کر کے کہِیں وہ طاغوت کے تابع اور شیطان کے ساتھی تو نہیں بن رہے ؟ دیگر ہماری حکومت نے طالبان کے خلاف جو امریکہ کا ساتھ دیا اور وزیرستان میں جو کچھ کر رہی ہے وہ کہاں تک جائز ہے ۔
سُورت ۔ 2 ۔ النِّسَآء
[آیت ۔ 75] ۔ اور مسلمانو تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ تم اللہ کی راہ میں ان بے بس مردوں، عورتوں اور بچوں کے لئے جنگ نہیں کرتے جو کمزور پا کر دبا لئے گئے ہیں اور فریاد کر رہے ہیں کہ یا اللہ ہمیں اس بستی سے نکال لے جس کے لوگ ظالم ہیں، اور اپنی بارگاہ سے ہمارا کوئی حامی و مددگار پیدا کر دے ۔ اور کسی کو اپنی بارگاہ سے ہمارا مددگار بنا دے ۔ [آیت ۔ 76] ۔جن لوگوں نے ایمان کا راستہ اختیار کیا وہ اللہ کی راہ میں جنگ کرتے ہیں اور جنہوں نے کفر کا راستہ اختیار کیا وہ طاغوت کی راہ میں جنگ کرتے ہیں، پس شیطان کے ساتھیوں سے لڑو، اور یقین جانو شیطان کی چالیں حقیقت میں بہت کمزور ہیں ۔ [آیت ۔ 78] ۔ رہی موت تو جہاں بھی تم ہو وہ بہرحال تمہیں آ کر رہے گی خواہ تم کیسی ہی مضبوط عمارتوں میں ہو ۔ ۔ ۔ ۔
سُورت۔ 9 ۔ التَّوْبَہ
[آیت ۔ 38] ۔ اے ایمان والو! تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ جب تم سے کہا جاتا ہے کہ تم اللہ کی راہ میں [جہاد کے لئے] نکلو تو تم بوجھل ہو کر زمین کی طرف جھک جاتے ہو، کیا تم آخرت کے بدلے دنیا کی زندگی سے راضی ہو گئے ہو؟ سو آخرت [کے مقابلہ] میں دُنیوی زندگی کا ساز و سامان کچھ بھی نہیں مگر بہت ہی کم [حیثیت رکھتا ہے] ۔ [آیت ۔ 39] ۔ اگر تم [جہاد کے لئے] نہ نکلو گے تو وہ تمہیں دردناک عذاب میں مبتلا فرمائے گا اور تمہاری جگہ [کسی] اور قوم کو لے آئے گا اور تم اسے کچھ بھی نقصان نہیں پہنچا سکو گے، اور اللہ ہر چیز پر بڑی قدرت رکھتا ہے ۔
ہتھیار ڈالنا
ہمارے جَرّی جرنیل نے 1971ء میں بڑے ٹھاٹھ سے ہتھیار ڈال دیئے تھے [کہ اس کی جان بچ جائے چاہے مُلک ٹوٹ جائے] ۔ ہمارے موجودہ کمانڈو جرنیل نے کہا تھا کہ افغان مسلمانوں کے خلاف امریکہ کی مدد کر کے پاکستان کو بچا لیا ہے کیونکہ امریکہ بہت بڑی طاقت ہے ۔ نیچے نقل کردہ آیات کو پڑھ کر دیکھئے کہ اللہ نے ان کیلئے کیا معاوضہ مقرر کر رکھا ہے ۔
سُورت ۔ 3 ۔ آل عِمْرَان
[آیت 173] ۔ اور وہ جن سے لوگوں نے کہا کہ تمہارے خلاف بڑی فوجیں جمع ہوئی ہیں ان سے ڈرو، تو یہ سن کر ان کا ایمان اور بڑھ گیا اور وہ کہنے لگے: ہمیں اللہ کافی ہے اور وہی بہترین کارساز ہے ۔ [آیت 174] ۔ آخر کار وہ اللہ کی نعمت اور فضل کے ساتھ واپس پلٹ آئے ۔ انہیں کوئی گزند نہ پہنچی اور اللہ کی راہ پر چلنے کا شرف بھی حاصل ہوا ۔ اور اللہ بڑا فضل فرمانے والا ہے ۔ [آیت 175] ۔ اب تمہیں معلوم ہوگیا کہ وہ دراصل شیطان تھا جو اپنے دوستوں سے خواہ مخوا ڈرا رہا تھا ۔ پس آئندہ تم انسانوں سے نہ ڈرنا اگر تم حقیقت میں مسلمان ہو
سُورت ۔ 8 ۔ الْأَنْفَال
[آیت ۔ 15] ۔ اے ایمان والو ۔ جب تم ایک لشکر کی صورت کفّار سے دو چار ہو تو ان [کفّار] کے مقابلہ میں پیٹھ نہ پھیرو ۔ [آیت ۔ 16] ۔ جس نے ایسے موقع پر پیٹھ پھیری — الّا یہ کہ جنگی چال کے طور پر ایسا کرے یا کسی دوسری فوج سے جا ملنے کیلئے — تو وہ اللہ کے غضب میں گھر جائے گا ۔ اُس کا ٹھکانہ جہنم ہو گا ۔ اور وہ بہت بُری جائے بازگشت ہے ۔
سُورت۔ 9 ۔ التَّوْبَہ
[آیت ۔ 24] ۔ اے نبی ۔ کہہ دو کہ اگر تمہارے باپ اور تمہارے بیٹے اور تمہارے بھائی اور تمہاری بیویاں اور تمہارے عزیزواقارب اور تمہارے وہ مال جو تم نے کمائے ہیں اور تمہارے وہ کاروبار جن کے ماند پڑ جانے کا تم کو خوف ہے اور تمہارے وہ گھر جو تم کو پسند ہیں تم اللہ اور اس کے رسول اور اس کی راہ میں جہاد سے زیادہ عزیز ہیں تو انتظار کرو یہاں تک کہ اللہ اپنا فیصلہ تمہارے سامنے لے آئے اور اللہ فاسق لوگوں کی رہنمائی نہیں کیا کرتا ۔
دو مسلمان گروہوں کا آپس میں لڑنا
وزیرستان میں جو کچھ ہو رہا ہے جسے کہا جا رہا ہے کہ مقامی غیرملکیوں کو مار رہے ہیں ۔ دونوں مسلمان ہیں ۔ مندرجہ ذیل آیات میں دیکھیئے کہ اگر ہمارے حُکمران مسلمان ہیں تو اُن کا فرض کیا ہے اور وہ کر کیا رہے ہیں ؟
سُورت ۔ 49 ۔ الْحُجُرَات
[آیت ۔ 9] ۔ اور اگر مسلمانوں کے دو گروہ آپس میں جنگ کریں تو اُن کے درمیان صلح کرا دیا کرو، پھر اگر ان میں سے ایک دوسرے پر زیادتی اور سرکشی کرے تو اس سے لڑو جو زیادتی کا مرتکب ہو رہا ہے یہاں تک کہ وہ اﷲ کے حکم کی طرف لوٹ آئے، پھر اگر وہ رجوع کر لے تو دونوں کے درمیان عدل کے ساتھ صُلح کرا دو اور انصاف سے کام لو، بیشک اﷲ انصاف کرنے والوں کو بہت پسند فرماتا ہے ۔ [آیت ۔ 10] ۔ بات یہی ہے کہ اہلِ ایمان [آپس میں] بھائی ہیں۔ سو تم اپنے دو بھائیوں کے درمیان صلح کرایا کرو، اور اﷲ سے ڈرتے رہو تاکہ تم پر رحم کیا جائے ۔