Category Archives: روز و شب

کہا “کُوچ کرو” اور کُوچ کر گئے

سولہ ماہ قبل میں نے جو لکھا تھا مشیّت نے مجھے اس میں ایک اضافہ کے ساتھ دوبارہ لکھنے پر مجبور کر دیا ہے ۔

حسن اتفاق ۔ ایک غزل بہت معروف ہوئی وہ لکھنے والے کی مشہور غزلوں میں سے آخری بن گئی اور گانے والے کی مشہور غزلوں میں سے بھی آخری ثابت ہوئی ۔ ابن انشاء کی لکھی اور استاد امانت علی کی گائی ہوئی ۔

اور اب دوسرا گانے والا اسد امانت علی بھی چل بسا ۔ گویا وہ پوری طرح باپ کے نقشِ قدم پر چلا ۔

انشاء جی اُٹھو ۔ اب کوچ کرو
اس شہر میں جی کا لگانا کیا
وحشی کوسکوں سے کیا مطلب
جوگی کا ڈگر میں ٹھکانہ کیا
اس دل کے دریدہ دامن میں
دیکھو توسہی سوچو تو سہی
جس جھولی میں سو چھید ہوۓ
اس جھولی کو پھیلانا کیا
شب بیتی چاند بھی ڈوب چلا
زنجیر پڑی دروازے میں
کیوں دیر گئے گھر آۓ ہو
سجنی سے کرو گے بہانہ کیا
جب شہر کے لوگ نہ رستہ دیں
کیوں بن میں نہ جا بسرا ہم کریں
دیوانوں کی سی نہ بات کرے
تو اور کرے دیوانہ کیا

بلا تبصرہ

ڈان سے اقتباس


سی ڈیز اور وڈیو کیسٹس کو آگ

Armed with sticks, a group of religious activists set on fire thousands of video and audio cassettes and computer compact discs, ‘given up’ voluntarily by a shopowner who, according to them, had announced to abandon ‘this business’.

MARRIAGE PROPOSAL:

Maulana Aziz said that a ‘special centre’ had been set up in Madressah Hafsa titled ‘Taibaat Abidaat Centre’ to provide shelter to women who would voluntarily give up their ‘immoral activities’. He said these women would be provided ‘security and protection’ through ‘marriages’. Maulana Aziz announced that he would marry any woman who repented and gave up her immoral life. “I am now 46 years old and am ready to marry a woman who is between 35 to 40 years of age. If she promises to live a life of piety, I promise that I will never refer about her past life,” Maulana Aziz announced.

QAZI COURT:

Maulana Ghazi Abdul Rasheed, deputy in-charge of the mosque and a younger brother of Maulana Abdul Aziz, told reporters if Jirga and Panchayat system were not considered parallel judicial systems why was Qazi court being called a parallel system. “We will see whether people will come to the Qazi court or prefer going to courts of the state for seeking justice,” he said.

Describing the functions of the ‘Qazi court’, Maulana Ghazi said it would be mandatory for rival parties to submit an affidavit that they would accept the court’s decision. “They will have to obey the court’s verdicts,” he replied when some reporters asked him what action would the administration of Lal Masjid take against ‘disobedient people’. He said they would launch a campaign to ‘persuade’ people to bring their disputes and social problems to the ‘Qazi court’.


جنگ سے اقتباس

لال مسجد کے خطیب مولانا عبدالعزیز نے لال مسجد اور جامعہ حفصہ میں نفاذ شریعت کا اعلان کردیا ہے ۔ مولانا عبدالعزیز نے کہا ہے کہ اب ہر فیصلہ شریعت کے مطابق ہوگا۔ حکومت ایک ماہ کے اندر ملک سے پانچ لاکھ فحاشی کے اڈے بند اور شراب پر پابندی لگائے ۔ ہماری طرف سے مکمل امن اور سلامتی کا پیغام ہے ،حکومت کی طر ف سے طاقت کے زور پر آپریشن کا پیغام دیا جارہا ہے تو ہمارا بھی آخری راستہ فدائی حملے ہوسکتے ہیں۔ ہم ٹکراوٴ نہیں چاہتے لیکن نفاذ شریعت کی راہ میں رکاوٹ برداشت نہیں کرینگے۔ حکومت نے اللہ کی حکومت میں ساٹھ سال سے حکومت بنائی ہوئی ہے۔ اسلامی نظام کے ذریعے اس کا خاتمہ چاہتے ہیں ۔ سب کچھ اس [اللہ] نے بنایا ہے اسٹیٹ بھی اللہ کی ہے ۔ ان لوگوں نے پوری قوم کا جینا حرام کررکھا ہے ۔غریب ،صنعت کار، تاجر چیخ رہے ہیں، جن لوگوں کی بہنوں کی عصمتیں لُٹ رہی ہیں۔ کشمیر، بلوچستان ،وانا والے چیخ رہے ہیں ۔ ان سب مسائل کا حل یہ ہے کہ اللہ کی حکومت میں جو حکومت بنائی گئی ہے اسے ختم کیا جائے اور اللہ کی حکومت اور نظام کو بحال کیا جائے کیونکہ ساری پریشانیوں کا حل حکومت الٰیہہ میں ہے۔

ایک محتاط اندازے کے مطابق پورے ملک میں عصت فروشی اور بدکاری کے پانچ لاکھ ادارے قائم ہیں۔ ان اڈوں میں بیشمار بہنوں بیٹیوں کی عزتیں لوٹی جاتی ہیں لیکن اس گھناؤنے جرم پر کوئی فرد جرم عائد کرنے والا نہیں ہے۔ ہمیں ایک خاتون پولیس اہلکار کا خط موصول ہوا ہے اس خط میں اس بہن نے پولیس کے محکمے میں عصمت فروشی کے دھندے کا انکشاف کیا ہے اور کہا ہے کہ کافی عرصے سے یہ گھناؤنا سلسلہ پھیلتا چلا جارہا ہے۔ اعلیٰ افسران سے شکایت بھی کی گئی ہے لیکن کچھ اثر نہیں ہورہا لہذا اب آپ حضرات تعاون کریں اور اس سلسلے کو بند کروائیں۔

ایسی سنگین صورت حال میں ہم نے نفاذ اسلام کی اس تحریک کا آغاز کیا سب سے پہلے لائبریری پر قبضہ کیا گیا تاکہ اللہ کی رٹ کو چیلنج کرنے والوں کی رٹ کو چیلنج کیا جاسکے۔ جامعہ حفصہ کی طالبات اللہ کے دین کے تحفظ کیلئے نکل کھڑی ہوئیں اور ان کے مسلمان بھائی بھی ان کے تحفظ کیلئے آ پہنچے۔ اس وقت پورے ملک میں نوجوان نفاذ شریعت کیلئے اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ علمائے کرام طلباء و طالبات سے متعلق کسی واقعہ کی خبر پر تحقیق کرسکتے ہیں ۔مختلف این جی اوز اور میڈیا کو ہمارے خلاف استعمال کرنے کی کوشش کی جارہی ہے طرح طرح کی من گھڑت افواہیں پھیلا کر عوام کو متنفر کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ مختلف ذرائع سے ہمارے خلاف طرح طرح کا پروپیگنڈہ کیا جارہا ہے مثلاً کہا جارہا ہے کہ ہماری طالبات نے کہا ہے کہ وہ بے پردہ عورتوں کے چہروں پر تیزاب ڈالیں گی اور یہ بھی کہا جارہا ہے کہ طالبات ڈنڈے لیکر دکانوں پر گئیں یہ سب باتیں جھوٹی اور الزامات ہیں ہم انکی تردید کرتے ہیں۔ تحریک طلباء وطالبات کے خلاف غلط اور بے بنیاد پروپیگنڈہ مہم فوراً بند کی جائے۔

جسٹس رانا بھگوان داس کہاں ہیں ؟

سب جانتے ہیں کہ عدالت عظمیٰ کے چیف جسٹس جناب جسٹس افتخار محمد چوہدری کے بعد سب سے سینیئر جج جناب جسٹس رانا بھگوان داس ہیں اور اِس وقت پاکستان میں اُن کی غیر حاضری شدّت سے محسوس کی جا رہی ہے ۔ اتنے سینیئر اور اور نیک نام اور ذمہ داری کا اتنا احساس رکھنے والے جج جنہوں نے علاقہ کے تقاضہ کا احساس کرتے ہوئے ایم اے اسلامیات بھی پاس کیا وہ اس وقت ملک کے اس بد ترین بحران میں بالکل لاتعلق ہو کر سوئے رہیں گے ؟ یہ قرینِ قیاس نہیں ۔

کراچی سے فون پر بی بی سی سے بات کرتے ہوئے مسز بھگوان داس نے کہا کہ ان کے شوہر اس وقت بھارت کے شہر لکھنؤ میں چھٹیاں گزار رہے ہیں۔ جب ان سے جسٹس بھگوان داس کا لکھنؤ میں رابطہ نمبر پوچھا گیا تو انہوں نے پہلے کہا کہ ان کے پاس نمبر نہیں ہے اور بعد میں کہا کہ وہ دینا نہیں چاہتیں۔ ان کے مطابق جسٹس رانا بھگوان داس تین مارچ کو نجی دورے پر بھارت روانہ ہوئے تھے۔ مسز بھگوان داس کا کہنا تھا کہ ان کی اپنے شوہر سے بات ہوتی رہتی ہے، جو انہیں پبلک کال آفس سے فون کرتے ہیں۔

تبصرہ ۔ اس سے ایک بات واضح ہوئی کہ جسٹس رانا بھگوان داس پاکستان سے رابطہ میں ہیں ۔ تو پھر حکومت نے اُن سے کیوں رابطہ نہ کیا ۔ سندھ اور پنجاب کے چیف جسٹس صاحبان کو فوراً بذریعہ ہوائی جہاز اسلام آباد لا کر چند گھینٹوں کے اندر سپریم جوڈیشیل کونسل کا اجلاس کرا دیا گیا لیکن عدالت عظمیٰ کے سینیئر ترین جج سے رابطہ نہ کیا گیا ۔ کیا یہ قرینِ قیاس یا قرینِ انصاف ہے ؟

بی بی سی کے ہندوستان کے دارالحکومت دلی میں واقع پاکستانی ہائی کمیشن سے رابطہ قائم کرنے پر وہاں موجود ایک اہلکار نے فون پر بتایا کہ انہیں جسٹس بھگوان داس کے ہندوستان کے دورے کے بارے میں کوئی علم نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا ’جسٹس بھگوان داس کے بھارت آنے کے بارے میں بھی ہمیں بی بی سی سے ہی پتہ چلا ہے۔‘ اگرچہ یہ بات ظاہر ہے کہ جسٹس بھگوان داس ایک اعلیٰ عہدے دار ہیں اور ان کے ہندوستان کے دورے کے بارے میں پاکستانی ہائی کمیشن کو اطلاع ضرور ہوگی لیکن تمام کوششوں کے باوجود پاکستانی ہائی کمیشن نے اس بارے میں اپنی لاعلمی کا اظہار کیا۔

لندن سے بی بی سی نے جسٹس بھگوان داس کے بھائی سری چند سے کراچی میں رابطہ کر کے پوچھا کہ ان کے بھائی ہندوستان میں کہاں ہیں اور ان کی پاکستان واپسی کب تک متعوقع ہے، تاہم سری چند نے کہا کہ ’کراچی سے جہاز تو دلیً گیا تھا، وہ وہاں سے کہاں گئے ہیں مجھے علم نہیں۔‘

ہندوستان میں سرکاری حلقے بھی جسٹس بھگوان داس کے ہندوستان دورے کے بارے میں خاموش ہیں۔ بعض اطلاعات کے مطابق وہ اس وقت دلی کے ایک پانچ ستارہ ہوٹل میں ٹھہرے ہوئے ہیں لیکن اس ہوٹل سے رابط قائم کرنے پر معلوم ہوا کہ جسٹس بھگوان داس وہاں نہیں ٹھہرے ہوئے ہیں۔ ہندوستان کی سپریم کورٹ میں بعض ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ جسٹس بھگوان داس ہندوستان دورے پرآئے تھے لیکن اب وہ واپس پاکستان جا چکے ہیں۔

اسی دوران پاکستان کے صدر پرویز مشرف کےذریعہ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی معطلی کے تذکرے ہندوستان کے اخبارات میں ہورہے ہیں ۔ اخبارات نے مزید لکھا ہے کہ جسٹس چودھری کو ان کے عہدے سے اس لیے معطل کیا گیا کیوں کہ کیونکہ وہ حکومت کی پالیسیوں کے خلاف آواز اٹھانے میں کبھی نہیں جھجکتے تھے۔

مارچ 2006 کے  آخر  میں پاکستان کی عدالت عظمیٰ کے سینیئر ترین جج جسٹس رانا بھگوان داس کے اہل خانہ کو انڈیا اور پاکستان کی سرحد پر روک دیئے جانے کے بعد جسٹس بھگوان داس نے بھارت کا دورہ منسوخ کر دیا تھا ۔

تبصرہ ۔ اُوپر کی خبروں سے واضح ہوتا ہے کہ جناب جسٹس رانا بھگوان داس صاحب یا تو ہندوستان گئے ہی نہیں یا واپس آ چکے ہوئے ہیں ۔ اُن کے بھائی سری چند صاحب کے بیان سے یہ گمان اُبھرتا ہے کہ کچھ چھُپایا جا رہا ہے ۔ یہی تأثر جناب جسٹس رانا بھگوان داس کی بیگم صاحبہ کے ٹیلیفون نمبر کے بارے بیان سے بھی ملتا ہے ۔

سوال ۔ کیا جناب جسٹس رانا بھگوان داس صاحب بھی درجنوں اُن پاکستانیوں کی طرح لاپتہ ہو گئے ہیں جن کا مقدمہ عدالت عظمیٰ میں چیف جسٹس جناب جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں سُنا جا رہا تھا ؟

منگل کی کاروائی

اسلام آباد قانون نافذ کرنے والے اداروں کی لپیٹ میں تو جمعہ 9 مارچ ہی سے تھا منگل 13 مارچ کو بعد دوپہر 2 بجے سپریم جوڈیشیل کونسل میں جسٹس افتخار محمد چوہدری کے خلاف ریفرنس کی کاروائی شروع ہونا تھی مگر صبح سے ہی اسلام آباد آنے والی تمام سڑکوں کی ناکہ بندی کردی گئی ۔ راولپنڈی اسلام آباد کو ملانے والی تمام سڑکوں کی بھی ناکہ بندی کر دی گئی یہاں تک کہ راولپنڈی اسلام آباد کے درمیان واحد بڑی سڑک کو راولپنڈی جنرل ہسپتال اور راول روڈ کے درمیان بند کر دیا گیا جس کے نتیجہ میں راولپنڈی شہر بھی دو حصوں میں بٹ گیا ۔ ہمارے گھر سے راولپنڈی ڈسٹرکٹ ہیڈکورارٹر ہسپتال تک بھیڑ کے وقت کار میں 45 منٹ کی مسافرت ہے مگر کل میرا بھائی جس کا روزانہ کا یہ راستہ ہے ڈھائی گھینٹے میں پہنچا ۔ عام خیال ہے کہ وکلاء کو روکنے کی ہر ممکن کوشش کی گئی جس کے نتیجہ میں صرف 10 فیصد وکلاء عدالتوں تک پہنچ سکے ۔

دوپہر سے پہلے جن ٹی وی سٹیشنوں نے صورتِ حال دکھانے کی کوشش کی اُن کی ٹرانسمشن میں خلل ڈالا گیا ۔ اسلام آباد کے تین سیکٹر ایف 6 ۔ ایف 7 اور ایف 8 جہاں زیادہ تر سرکاری افسر اور دوسرے با اثر لوگ رہتے ہیں وہاں کی بجلی بعد دوپہر 2 بجے سے شام 6 بجے تک بند کی گئی تاکہ نہ کوئی ٹی وی دیکھ سکے نہ کمپیوٹر استعمال کر سکے ۔

جسٹس افتحار محمد چوہدری صاحب کی رہائش گاہ عدالتِ عظمٰی سے پیدل رستہ پر ہے ۔ چونکہ 9 مارچ کو انہیں محبوس کرنے کے بعد ان کی رہائش گاہ سے تمام گاڑیاں اُٹھا لی گئی تھیں انہوں نے 2 بجے بعد دوپہر پیدل عدالتِ عظمٰی جانا چاہا تو پولیس کمانڈوز نے راستہ روک لیا اور اُنہیں دھکے دے کے گاڑی میں ڈال کر لے گئے ۔ اس دھم پیل کے نتیجہ میں جسٹس افتحار محمد چوہدری صاحب کے چہرے پر خراشیں آئیں ۔ عدالتِ عظمٰی کے گرد زبردست پہرہ تھا اور اس کے سامنے وکلاء اور سیاست دان جمع تھے جن میں خواتین بھی شامل تھیں ۔ اُن لوگوں نے گاڑی روک لی لیکن جسٹس افتحار محمد چوہدری صاحب کہنے پر پیچھے ہٹ گئے ۔

جسٹس افتحار محمد چوہدری صاحب کے بیٹے ڈاکٹر ارسلان کے مطابق اُن کی والدہ پر بھی تشدد کیا گیا ۔ اسلام آباد میں حکومتی نمائندوں کے علاوہ سب یہی کہتے ہیں کہ جسٹس افتحار محمد چوہدری صاحب اور ان کے خاندان کو نظر بند کیا گیا ہے اور ان کا ہر قسم کا ٹیلیفون رابطہ ۔ ٹی کیبل سب کاٹ دیئے گئے ہیں ۔ کوئی اخبار بھی اُن تک پہنچنے نہیں دیا جاتا ۔ کمال تو یہ ہے کہ حکومت کے قومی اسمبلی میں پارلیمانی لیڈر ڈاکٹر شیر افگن نے کہ ہے کہ نعیم بخاری نے جسٹس افتحار محمد چوہدری کے بیٹے کے متعلق جو کچھ کہا ہے وہ غلط بیانی ہے ۔

نوشتۂِ دیوار

عدالتِ عظمٰی کی ہوا کی سِیٹی
نثار میں تیری گلیوں پہ اے وطن کے جہاں
چلی ہے رسم کہ کوئی نہ سر اُٹھا کے چلے


وطن کی ہواؤں کی سَرسراہٹ

ظُلم کا بادل ہر طرف چھایا
اور لُٹ رہا ہے قومی سرمایہ
مسلمانوں اب تو جاگ اُٹھو
کہ پھر وقتِ شہادت ہے آیا
توحید کا پیغام پھیلا دو
اور اسلام کا پرچم لہرا دو
باطل کی دنیا کو بتلا دو
توحید کے ہو متوالے تُم
اسلام کے ہو رکھوالے تُم
تُم پر اللہ کی رحمت کا سایہ
مردِ مُسلماں جاگ بھی اُٹھو
کہ اب وقتِ شہادت ہے آیا

کہانی اور مکالمہ

دو ماہ پیشتر ٹماٹر جو دس بارہ روپے کے کلو گرام بِک رہے تھے دو ہفتوں میں بڑھ کر سو روپے فی کلو گرام ہو گئے ۔ ہمارے بادشاہ سلامت الیکشن مہم کے ایک جلسہ سے خطاب کر چکے تو اُن کی توجہ ٹماٹروں کی قیمت کی طرف دلائی گئی ۔ ارشاد ہوا ۔ اگر مہنگے ہیں تو نہ کھائیں ۔ کچھ اور کھا لیں ۔ مجھے یاد آیا کہ مڈل سکول کی انگریزی کی کتاب میں ایک کہانی پڑھی تھی کہ ایک ملکہ کے محل کے باہر عوام اکٹھے ہو گئے ۔ ملکہ نے پوچھا یہ کیوں آئے ہیں ۔ وزیر نے بتایا کہ کہتے ہے کھانے کو روٹی نہیں ہے تو ملکہ نے کہا ان کو کہیں کہ کیک یا بسکٹ کھا لیں ۔ اس پر سب طلباء ہنستے تھے کہ ایسی بیوقوف ملکہ بھلا ہو سکتی ہے ۔ اب ثابت ہوا کہ بادشاہ لوگ ایسے ہی ہوتے ہیں ۔

ایک مفروضہ مکالمہ جسے اگر ہمارے موجودہ حکمرانوں اور عوام کے درمیان سمجھ لیا جائے تو حقیقت معلوم دیتا ہے ۔

“جناب مہنگائی بہت زیادہ ہو گئی ہے اور ذرائع روزگار کم ہیں ۔ حالات سے تنگ آ کر لوگ خودکُشیاں کر رہے ہیں “

“ہم نے عوام کی سہولت کیلئے انڈر پاس بنائے ہیں”

“وہ کراچی میں کلفٹن والا انڈر پاس جس میں پانی بھر گیا تھا یا وہ راولپنڈی والا جس کے بننے سے پہلے محلہ چوہدری وارث سے لیاقت باغ 10 منٹ میں پہنچتے تھے اور انڈر پاس میں سے گذر کر 20 منٹ میں پہنچتے ہیں کیونکہ کل راستہ پہلے سے تنگ ہوگیا ہے یا اسلام آباد کا انڈر پاس جو 2005 میں مکمل ہونا تھا اور ابھی بن رہا ہے اور ایک وزیر کے پلازہ کی خوبصورتی کو بچانے کیلئے اس کو موجودہ سڑک سے دور بنایا جا رہا ہے ۔ نتیجتاً خرچہ 245 کی بجائے 490 ملین روپے ہو گیا ہے ؟”

“ہم دنیا کی سب سے اُونچی عمارت بنائیں گے”

” کیا آپ نے کراچی کی 15 منزلہ عمارت میں آگ لگنے کا حال نہیں سنا کہ اُوپر کی 5 منزلیں جلتی رہیں اور فائر بریگیڈ والے حسرت سے دیکھتے رہے کہ ان کے پاس بلند جگہ میں لگی آگ بجھانے کا بندوبست نہ تھا ؟ یا اسلام آباد کے اس پلازہ کا ذکر ہے جس میں ہوٹل سنیما اور امیر و کبیر لوگوں کیلئے شاپنگ سنٹر بنیں گے اور جو رہائشی علاقہ اور ہسپتال کے درمیان بنایا جا رہا ہے جس کے خلاف ہسپتال کے سربراہ اور علاقہ کے رہنے والے سخت احتجاج کر رہے ہیں “

“تم لوگ تو اُلٹی بات کرتے ہو ۔ ہم تو اس عالی شان عمارت کی بات کر رہے ہیں جو کراچی کے پاس جزیرے پر بنے گی”

“اچھا اچھا وہ جزیرہ جہاں سے غریب پاکستانیوں کو زبردستی نکال کر جزیرہ غیر ملکیوں کو بیچ دیا گیا ہے”

مجھے ناپسند ہے

ایک شخص نے مجھے مجبور کیا ہے کہ میں اُن 10 عوامل یا اشیاء کا ذکر کروں جو مجھے نا پسند ہیں ۔
1 ۔ کسی کو اس نام سے پُکارنا جو اُس شخص نے اپنا نام رکھا ہوا ہے جس نے مجھے یہ لکھنے پر مجبور کیا ہے
2 ۔ کسی کو توُ کہہ کر مخاطب کرنا
3 ۔ کسی کو بغیر مصدقہ ثبوت کے بُرا کہنا
4 ۔ کسی کو حقیر جاننا
5 ۔ کسی کو وضاحت کا موقع دیئے بغیر قصوروار ٹھیرانا
6 ۔ کسی عبادت گاہ یا مقدس کتاب کی بے حُرمتی کرنا
7 ۔ عورت یا لڑکی پر آواز کسنا
8 ۔ کسی غریب یا بے کس کا مذاق اُڑانا
9 ۔ کھانا کھانا جبکہ قریب بھوکا شخص ہو اور اسے پہلے کھانا نہ دیا جائے
10 ۔ پیٹھ پیچھے کسی کی بُرائی کرنا جسے غیبت کہتے ہیں

میری درخواست ہے مندرجہ ذیل خاتون و حضرات سے کہ وہ اپنی نفرت آمیز عوامل و اشیاء کے متعلق اپنی رائے کا اظہار فرمائیں ۔

 منیر احمد طاہر صاحب

اسماء صاحبہ

اظہرالحق صاحب

باذوق صاحب