Category Archives: روز و شب

رہائی اور انوکھا واقع

رہائی

حکومت پاکستان نے رواں سال ماہ فروری میں ملک بھر میں الرشید ٹرسٹ کے اٹھائیس دفاتر سیل کر دیے تھے اور حکومت کا کہنا تھا کہ یہ کارروائی اقوام متحدہ کی ہدایت پر کی گئی ہے۔ الرشید ٹرسٹ کے چیئرمین محمد سلیمان نے پابندی کے اس فیصلے کو سندھ ہائی کورٹ میں چیلنج کیا تھا اور اس مقدمے کی گزشتہ سماعت کے موقع پر وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو نوٹس جاری کیےگئے تھے۔ جمعرات کو سماعت کے موقع پر سندھ ہائیکورٹ کے چیف جسٹس صبیح الدین احمد اور جسٹس علی سائیں ڈنو میتلو پر مشتمل بینچ نے سرکاری وکیل سے معلوم کیا کہ ٹرسٹ پر پابندی کا کیا کوئی حکم نامہ یا نوٹیفیکیشن ہے ؟ جس پر حکومت پابندی کا کوئی بھی نوٹیفیکیشن پیش نہ کرسکی۔ اس پر عدالت نے حکم جاری کیا کہ ملک بھر میں ٹرسٹ کے تمام دفاتر کھول دیے جائیں ۔ چیف جسٹس نے حکومت سے یہ بھی سوال کیا کہ کیا اقوام متحدہ کا قانون بلاواسطہ پاکستان کے عوام پر لاگو ہوتا ہے ؟


انوکھا واقعہ

قانونی ماہرین کی بین الاقوامی تنظیم انٹرنیشنل کمیشن آف جیورسٹس کا کہنا کہ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے ساتھ جو کچھ آرمی ہاؤس میں ہوا اس کی مثال مہذب معاشرے میں نہیں ملتی۔ یہ بات پاکستان میں موجودہ قانونی بحران کا جائزہ لینے کے لیے آنے والے’ آئی سی جے‘ کے ایک مشن کے سربراہ داتو پرام کمارا سوامی نے اسلام آباد میں ایک اخباری کانفرنس میں کہی۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے اپنے کیرئیر میں اس طرح کا ’انوکھا واقعہ‘ پہلے نہیں دیکھا۔داتو پرام کمارا سوامی نے کہا’اگرچہ میں اس روز یہاں نہیں تھا لیکن میں نے جو دیکھا اور جو سنا، اس کا میں تصور بھی نہیں کر سکتا کہ کسی مہذب معاشرے میں اس طرح ہو سکتا ہے‘۔

ملائیشیا سے تعلق رکھنے والے داتو پرام آئی سی جے کے نائب صدر ہونے کے علاوہ اقوام متحدہ کے ججوں اور وکلاء کی آذادی سے متعلق خصوصی نمائندے بھی رہ چکے ہیں۔ وہ اس مشن کی سربراہی کر رہے تھے جس نے پاکستان کے ایک ہفتے کے دورے کے دوران موجودہ قانونی بحران کا جائزہ لیا۔ اس سلسلے میں وہ اسلام آباد کے علاوہ کراچی، پشاور اور لاہور بھی گئے اور مقامی وکلاء اور حکومتی اہلکاروں سے بات کی۔

مشن نے اپنے ابتدائی مشاہدات میں لکھا ہے کہ پاکستان میں ماضی میں انتظامیہ کی عدلیہ میں مداخلت کے واقعات کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں۔ لیکن ان کا کہنا تھا کہ نو مارچ کو چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی یونیفارم میں ملبوس صدر جنرل پرویز مشرف سے آرمی ہاوس میں ملاقات اور استعفی کے مطالبے کی مثال دنیا کی قانونی تاریخ میں بھی نہیں ملتی۔ داتو پرام کماراسوامی کا کہنا تھا کہ چیف جسٹس کو آرمی ہاؤس میں تقریباً پانچ گھنٹے تک رکھا گیا جس کے دوران ان کا باہر کی دنیا سے رابطہ کٹا رہا۔ ’اس دوران کافی عجلت میں قائم مقام چیف جسٹس کا حلف دلوایا گیا اور سپریم جوڈیشل کونسل کے اجلاس کے لیے ججوں کو کراچی اور لاہور سے خصوصی طیاروں میں اسلام آباد لایا گیا‘۔ مشن کے مطابق آرمی ہاؤس سے واپسی پر چیف جسٹس کا تمام پروٹوکول واپس لے لیا گیا یہاں تک کہ ان کی گاڑی سے پرچم بھی ہٹا دیا گیا۔ انہیں واپس دفتر نہیں جانے دیا گیا بلکہ پولیس انہیں ان کی رہائش گاہ لے گئی۔ ’جب چیف جسٹس گھر پہنچے تو اٹھارہ خفیہ اداروں کے اہلکار وہاں موجود تھے‘۔

داتو پرام کماراسوامی کے خیال میں چیف جسٹس کو بظاہر بدنام کرنے کی کوشش میں ریفرنس میں شامل الزامات پر مشتمل ایک خط تمام ملک میں پھیلایا گیا۔ ’ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ انتظامیہ کی طرف سے چیف جسٹس کی بڑھتی ہوئی عدالتی فعالیت کا ردعمل تھا۔’سٹیل مل کیس اور لاپتہ افراد کے مقدمات میں چیف جسٹس کی کارروائی سے انتظامیہ کے ادارے ناراض ہوئے۔’

انقلاب کا بیج ؟؟؟

اظہرالحق صاحب کی تحریر “انقلاب کا بیج بویا جا چکا ہے ” پر تبصررہ کچھ تفصیل طلب تھا اور اس میں نوجوان نسل کیلئے اپنا علم اور تجربہ پیش کرنا بھی قومی فریضہ ہے ۔ اسلئے یہ تحریر نذرِ قارئین کر رہا ہوں ۔ لیکن پہلے اسلام آباد کی آج کی صورتِ حال ۔ آج صبح سویرے سے ہی شاہراہِ دستور [Constitution Avenue] کی طرف جانے والے تمام راستے شاہراہِ دستور سے 500 سے 1000 میٹر دور ہی مکمل طور پر بند کر دیئے گئے جس کی وجہ سے اسلام آباد میں بسنے والوں کو انتہائی پریشانی کا سامنا ہے ۔ سینکڑوں سیاسی لیڈر اور کارکن پچھلے دو تین دنوں میں گرفتار کئے جا چکے ہیں ۔

جب انصاف مٹ جائے یا اس کا حصول بہت مشکل ہو جائے تو سرد راکھ میں ایک ننھی سی چنگاری جنم لیتی ہے ۔ یہ بے ضرر سی چنگاری ہی دراصل انقلاب کا بیج ہوتی ہے ۔

حالات کی بے راہ روی یعنی ظلم یا نا انصافی قائم رہے تو اس چنگاری کو آکسیجن پہنچتی رہتی ہے اور آہستہ آہستہ اس چنگاری کا حجم بڑھتا چلا جاتا ہے لیکن یہ ابھی بھی راکھ کے نیچے دبی ہوتی ہے ۔

ظُلم یا بے انصافی جب برداشت سے باہر ہونے لگے اور متوسط طبقہ بھی اس کی زد میں آ جائے تو یہ ہوا کا ایسا تیز جھونکا ثابت ہوتا ہے جو اس چنگاری کو قوت بخشتا ہے اور ایک شعلہ بھڑک اُٹھتا ہے ۔ ایسے وقت میں اگر طاقت کے پُجاری اپنی من مانیاں ہی کرتے چلے جائیں اور طاقت کے زعم میں اس شعلے کو نحیف سمجھ کر نظر انداز کرتے ہوئے راکھ کے کسی دوسرے حصہ پر چڑھ دوڑیں تو یہ ننھا شعلہ بڑھک اُٹھتا ہے اور اسی کو انقلاب کہا جاتا ہے ۔ یہ وہ وقت ہوتا ہے جب اس علاقہ کے انسان دو گروہوں میں کھُلم کھُلا بٹ چکے ہوتے ہیں ۔ ایک قلیل ظالم اور عیّاش حکمران اور ان کے درباری اور دوسرا اکثریتی پسماندہ عوام ۔

ظُلم یا بے انصافی کے خلاف خلوص کی بنیاد پر اُٹھنے والا انقلاب کامیاب ہوتا ہے بشرطیکہ ان میں کا کوئی راہبر یا گروہ ظالم کے پیش کئے گئے لالچ میں آ کر اکثریت سے غدّاری نہ کرے ۔ اپنے ملک پاکستان سے محبت کرنے والے سب مل کر بارگاہِ ایزدی میں اپنی گذشتہ غلطیوں کی معافی مانگیں اور دعا کریں کہ فتح سچ اور انصاف کی ہو ۔

میری دعا ۔ یا میرے پیدا کرنے والے میرے رازق و حازق صرف اور صرف آپ ہی ہو ۔ مجھے سب کچھ آپ ہی نے دیا ہے اور میں جو کچھ بھی ہوں آپ کی ہی دی ہوئی توفیق سے ہوں ۔ آپ نے مجھ پر میرا عمل چھوڑا اور میں بھٹکتا رہا اور نافرمانیاں مجھ سے سرزد ہوتی رہیں گویا میں اپنے آپ پر ظُلم کرتا رہا ۔ آپ تو حلیم ہو ۔رحمٰن ہو ۔ رحیم ہو ۔ کریم ہو اور عفّو پسند فرماتے ہو اور آپ قادر بھی ہو ۔ آپ نے ہمیشہ مجھ پر رحم کیا اور ہر مشکل میں میری مدد فرمائی اور میرا حوصلہ بڑھایا ۔ مجھ پر اور میری قوم پر رحم فرمائیے اور ہماری غلطیاں معاف فرمائیے اور ہمیں حق کیلئے اور ظُلم و بے انصافی کے خلاف مضبوط بنائیے ۔ بے شک سب طاقت آپ ہی کے پاس ہے اور آپ ہی جسے چاہیں طاقت بخش دیتے ہیں ۔

مذاکرات یا مذاق رات

اسلام آباد( نمائندہٴ جنگ)جامعہ حفصہ اور لال مسجد کے مہتمم مولانا عبدالعزیز نے کہا ہے کہ پیر کے روز صبح ساڑھے دس بجے آرمی کا ہیلی کاپٹر جامعہ حفصہ اور لال مسجد کے اوپر انتہائی نیچی پرواز کی اور اس سے مدرسے میں زیر تعلیم طالبات پر اعصاب شکن کیمیائی گیس پھینکی گئی جس سے کئی طالبات بیہوش اور سینکڑوں طالبات گھٹن کا شکار ہوگئیں ۔

ہیلی کاپٹر کی پرواز کے دوران سوئزر لینڈ کی خواتین جرنلسٹس جامعہ حفصہ میں موجود تھیں انہوں نے اس موقع پر صحافیوں کو بتایا کہ ہم جامعہ کے اندر موجود تھیں اور طالبات اپنی کلاسیں لے رہی تھیں کہ اچانک ہیلی کاپٹر سے کلاس روم پر اعصاب شکن کیمیائی گیس پھینکی گئی۔ ہیلی کاپٹر 20منٹ سے زیادہ پرواز کرتا رہا ۔ گیس کی بو کی وجہ سے کئی طالبات بے ہوش ہوگئیں‘ خود ہمارے گلے بھی بند ہوگئے اور ہم پرنیم غشی طاری ہوگئی۔

مولانا عبدالعزیز نے صحافیوں سے باتیں کرتے ہوئے کہا کہ ان حالات میں حکومت سے مزید مذاکرات جاری نہیں رہ سکتے۔ لگتا ہے حکومت مذاکرات کی آڑ میں آپریشن کی تیاری کر چکی ہے ۔ حکومت ایک طرف مذاکرات کر رہی ہے اور دوسری طرف ہمارے طلبہ کو گرفتار کیا جارہا ہے ۔ اس واقعے کے فوراً بعد لال مسجد میں علاقہ کے لوگ جمع ہوگئے اور لال مسجد میں مقیم طلبہ ڈنڈے ہاتھوں میں لے کر سڑک پرنکل آئے اور حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کی

THE NEWS         By Myra Imran & Muhammad Anis

ISLAMABAD: Army helicopters hovered over the Jamia Hafsa and Lal Masjid and released gasses, claimed Principal of the seminary Umme Hassan here on Monday. Army sources, however, said the personnel on board the choppers were taking photographs of the seminary. “A number of minor girls fainted,” alleged Umme Hassan. “Girls were in their classrooms when the helicopters began circling low over the Madrassa and started spraying gasses through the classroom windows,” she told The News shortly after the incident.

Most of the girls managed to climb onto the rooftop but minor students fell unconscious after inhaling the mysterious gas, she alleged. Umme Hassan said there were three helicopters, two with Pakistani flags and the third without any marking, hovering over the Madrassa. “They were flying so low that we could see uniformed men in the cabins. Ropes were also dangling from the choppers, perhaps to be used for capturing some students.”

The incident happened when the principal was busy giving an interview to a foreign television channel. “The women interviewing me are witness to the attack; they helped many of the fainted girls recover,” she added.

Locals rushed to the seminary to assist the students in whatever way they could, witnesses said. Following the incident, many girls ended up with bad throats and skin and eye irritation, Umme Hassan said.

She said the past record of the administration shows that the government always negotiated to cool down the situation before taking action. “It seems that they are adopting the same policy with us now.” “The students usually don’t observe full Purdah (veil) when they are in their classrooms so taking their pictures is wrong,” she said.

He said a Swiss female journalist, who was also present inside the seminary, had also confirmed that chemical gas was sprayed from the helicopter. Ghazi said it was a condemnable act aimed at sabotaging the process of talks between the Lal Masjid management and the government.

Ghazi said he also talked to PML President Chaudhry Shujaat Hussain on the issue. “Chaudhry Shujaat has also expressed his anger and surprise over the latest development,” he said. About the road blockade by the students in front of the Jamia Hafsa and Lal Masjid, he said they had received a complete plan of military action and thus blocked the road in protest. He said Shujaat has promised to investigate the incident. To throw chemical gas on innocent people is also a violation of international laws. “I demand of the international community to take notice of the incident,” Ghazi said.

کیا کہتے ہوں گے

کچھ دن قبل نعمان صاحب نے کراچی میں بجلی کی ترسیل کے قصیدے یا نوحے لکھے تھے ۔ میں نے اُنہیں صبر کی تلقین کی تھی ۔ سوچتے ہوں گے کہ خود تو اسلام آباد کے وی آئی پی سیکٹر میں مزے لوٹ رہا ہے اور ہمیں فقط صبر کی تلقین کرتا ہے ۔ صورتِ حال یہ تھی اور ہے کہ ہمیں اس دن سے پچھلے پانچ دن سے یعنی 9 اپریل سے پانی کیلئے ترسانے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔ ہم نیسلے کا پانی خریدنے کا مقدور نہیں رکھتے اسلئے ایک کلو میٹر دور جا کر پینے کیلئے پانی بھر لاتے ہیں سرکاری کنویں سے ۔ یہ سلسلہ کب تک چلے گا کوئی جوتشی شائد بتا دے ۔ اسلام آباد میں تو طوطے والے بھی نہیں ہوتے ۔ اس پر ہمیں صبر کے امتحان میں پورا اترتے دیکھ کر آج صبح آٹھ بجے سے ساڑھے گیارہ بجے تک بجلی بغیر اطلاع کے بند رکھی گئ ۔

نواز شریف تو قوم کو لوٹ کے کھا گیا ۔ اب حکومت ہے اصلی جمہوریت اور ملک پچھلے سات سال میں ترقی کر کے ملٹی سٹوری ہو گیا ہے ۔ یقین نہ آئے تو کوئی سا اخبار اُٹھا کر دیکھ لیجئے اگر پورے صفحے کا نہیں تو آدھے صفحہ کا رنگین اشتہار نظر آئے گا ملٹی سٹوری کا ۔ لیکن ہم عوام بالکل ناشکرے ہیں ۔ اگر سات سال میں آٹے اور دالوں کی قیمتیں دوگنا ہو گئیں ۔ دودھ کی قیمت 16 روپے سے 36 روپے فی لٹر ہو گئی ۔ سبزیوں کی قیمتیں تین گنا ہو گئیں تو کیا ہوا خزانے میں تو 13 بلین ڈالر جمع ہو گئے ہیں نا ۔ یہ الگ بات ہے کہ لوکل کرنسی میں قرضہ جو جون 1999 میں 2 ٹریلین 946 بلین تھا وہ بڑھ کر جون 2006 میں 4 ٹریلین 411 بلین ہو گیا اور اس کے علاوہ 30 جون 2006 کو زرِ مبادلہ میں 37 بلین 260 ملین ڈالر قرضہ بھی واجب الادا تھا اور جون 2006 کے بعد مزید 3 بلین ڈالر قرضہ حاصل کرنے کے معاہدے کئے گئے ہیں ۔

ہم اس پر بھی شکر گذار ہیں کہ جو مل رہا ہے ۔ اتنا بھی نہ ملے تو کیا کر لیں گے ۔

ہم ۔ حکمران ۔ جہاد ۔ دہشتگردی

جہاد یا دہشتگردی

نیچے نقل کردہ آیات کو غور سے پڑھ کر دیکھئے کہ کیا جموں کشمیر ۔ فلسطین ۔ افغانستان اور عراق کے مسلمان ظالم قابض طاغوتی طاقتوں کے خلاف لڑنے میں حق بجانب ہیں یا نہیں اور کیا وہ جہاد کر رہے ہیں یا دہشتگردی کے مرتکب ہو رہے ہیں ؟

سورت ۔ 2 ۔ الْبَقَرَہ

[آیت 190] ۔ اور اﷲ کی راہ میں ان سے جنگ کرو جو تم سے جنگ کرتے ہیں مگر حد سے نہ بڑھو، بیشک اﷲ حد سے بڑھنے والوں کو پسند نہیں فرماتا ۔ [آیت 191] ۔ اور ان کو جہاں بھی پاؤ مار ڈالو اور انہیں وہاں سے باہر نکال دو جہاں سے انہوں نے تمہیں نکالا تھا اور فتنہ انگیزی تو قتل سے بھی زیادہ سخت ہے اور ان سے مسجدِ حرام کے پاس جنگ نہ کرو جب تک وہ خود تم سے وہاں جنگ نہ کریں، پھر اگر وہ تم سے قتال کریں تو انہیں قتل کر ڈالو، کافروں کی یہی سزا ہے ۔ [آیت 192] ۔ پھر اگر وہ باز آجائیں تو بیشک اﷲ نہایت بخشنے والا مہربان ہے ۔ [آیت 193] ۔ اور ان سے جنگ کرتے رہو حتٰی کہ کوئی فتنہ باقی نہ رہے اور دین اﷲ ہی کے تابع ہو جائے، پھر اگر وہ باز آجائیں تو سوائے ظالموں کے کسی پر زیادتی روا نہیں

سُورت ۔ 8 ۔ الْأَنْفَال

[آیت ۔ 39] ۔ اے ایمان لانے والو ۔ ان کافروں سے جنگ کرو یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے اور دین پورے کا پورا اللہ کیلئے ہو جائے پھر اگر وہ فتنہ سے رُک جائیں تو اُن کے اعمال کا دیکھنے والا اللہ ہے ۔ اور اگر وہ نہ مانیں تو جان رکھو کہ اللہ تمہارا سرپرست ہے اور وہ بہترین حامی اور مددگار ہے ۔

سُورت۔ 9 ۔ التَّوْبَہ

[آیت ۔ 29] ۔ جنگ کرو اہلِ کتاب میں سے اُن لوگوں کے خلاف جو اللہ اور روزِ آخر پر ایمان نہیں لاتے اور جو کچھ اللہ اور اس کے رسول نے حرام قرار دیا ہے اسے حرام نہیں کرتے اور دینِ حق کو اپنا دین نہیں بناتے ۔ [ان سے لڑو] یہاں تک کہ وہ اپنے ہاتھ سے جزیہ دیں اور چھوٹے بن جائیں ۔

محکوم یا مجبور مسلمانوں کی امداد

مسلمانوں کی مدد کرنے والوں کو بڑی تحقیر سے جہادی کہنے اور دہشتگرد قرار دینے اور اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرنے والے ذرا نیچے منقولہ آیات کو غور سے پڑھیں اور اپنی حالت پر غور فرمائیں اور دیکھیں کہ کیا یہ آیات مسلمانوں کو مقبوضہ جموں کشمیر ۔ فلسطین ۔ افغانستان ۔ عراق اور شیشان کے مسلمانوں کی مدد کا حُکم ہیں یا نہیں ؟ اور مدد نہ کر کے کہِیں وہ طاغوت کے تابع اور شیطان کے ساتھی تو نہیں بن رہے ؟ دیگر ہماری حکومت نے طالبان کے خلاف جو امریکہ کا ساتھ دیا اور وزیرستان میں جو کچھ کر رہی ہے وہ کہاں تک جائز ہے ۔

سُورت ۔ 2 ۔ النِّسَآء

[آیت ۔ 75] ۔ اور مسلمانو تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ تم اللہ کی راہ میں ان بے بس مردوں، عورتوں اور بچوں کے لئے جنگ نہیں کرتے جو کمزور پا کر دبا لئے گئے ہیں اور فریاد کر رہے ہیں کہ یا اللہ ہمیں اس بستی سے نکال لے جس کے لوگ ظالم ہیں، اور اپنی بارگاہ سے ہمارا کوئی حامی و مددگار پیدا کر دے ۔ اور کسی کو اپنی بارگاہ سے ہمارا مددگار بنا دے ۔ [آیت ۔ 76] ۔جن لوگوں نے ایمان کا راستہ اختیار کیا وہ اللہ کی راہ میں جنگ کرتے ہیں اور جنہوں نے کفر کا راستہ اختیار کیا وہ طاغوت کی راہ میں جنگ کرتے ہیں، پس شیطان کے ساتھیوں سے لڑو، اور یقین جانو شیطان کی چالیں حقیقت میں بہت کمزور ہیں ۔ [آیت ۔ 78] ۔ رہی موت تو جہاں بھی تم ہو وہ بہرحال تمہیں آ کر رہے گی خواہ تم کیسی ہی مضبوط عمارتوں میں ہو ۔ ۔ ۔ ۔

سُورت۔ 9 ۔ التَّوْبَہ

[آیت ۔ 38] ۔ اے ایمان والو! تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ جب تم سے کہا جاتا ہے کہ تم اللہ کی راہ میں [جہاد کے لئے] نکلو تو تم بوجھل ہو کر زمین کی طرف جھک جاتے ہو، کیا تم آخرت کے بدلے دنیا کی زندگی سے راضی ہو گئے ہو؟ سو آخرت [کے مقابلہ] میں دُنیوی زندگی کا ساز و سامان کچھ بھی نہیں مگر بہت ہی کم [حیثیت رکھتا ہے] ۔ [آیت ۔ 39] ۔ اگر تم [جہاد کے لئے] نہ نکلو گے تو وہ تمہیں دردناک عذاب میں مبتلا فرمائے گا اور تمہاری جگہ [کسی] اور قوم کو لے آئے گا اور تم اسے کچھ بھی نقصان نہیں پہنچا سکو گے، اور اللہ ہر چیز پر بڑی قدرت رکھتا ہے ۔

ہتھیار ڈالنا

ہمارے جَرّی جرنیل نے 1971ء میں بڑے ٹھاٹھ سے ہتھیار ڈال دیئے تھے [کہ اس کی جان بچ جائے چاہے مُلک ٹوٹ جائے] ۔ ہمارے موجودہ کمانڈو جرنیل نے کہا تھا کہ افغان مسلمانوں کے خلاف امریکہ کی مدد کر کے پاکستان کو بچا لیا ہے کیونکہ امریکہ بہت بڑی طاقت ہے ۔ نیچے نقل کردہ آیات کو پڑھ کر دیکھئے کہ اللہ نے ان کیلئے کیا معاوضہ مقرر کر رکھا ہے ۔

سُورت ۔ 3 ۔ آل عِمْرَان

[آیت 173] ۔ اور وہ جن سے لوگوں نے کہا کہ تمہارے خلاف بڑی فوجیں جمع ہوئی ہیں ان سے ڈرو، تو یہ سن کر ان کا ایمان اور بڑھ گیا اور وہ کہنے لگے: ہمیں اللہ کافی ہے اور وہی بہترین کارساز ہے ۔ [آیت 174] ۔ آخر کار وہ اللہ کی نعمت اور فضل کے ساتھ واپس پلٹ آئے ۔ انہیں کوئی گزند نہ پہنچی اور اللہ کی راہ پر چلنے کا شرف بھی حاصل ہوا ۔ اور اللہ بڑا فضل فرمانے والا ہے ۔ [آیت 175] ۔ اب تمہیں معلوم ہوگیا کہ وہ دراصل شیطان تھا جو اپنے دوستوں سے خواہ مخوا ڈرا رہا تھا ۔ پس آئندہ تم انسانوں سے نہ ڈرنا اگر تم حقیقت میں مسلمان ہو

سُورت ۔ 8 ۔ الْأَنْفَال

[آیت ۔ 15] ۔ اے ایمان والو ۔ جب تم ایک لشکر کی صورت کفّار سے دو چار ہو تو ان [کفّار] کے مقابلہ میں پیٹھ نہ پھیرو ۔ [آیت ۔ 16] ۔ جس نے ایسے موقع پر پیٹھ پھیری — الّا یہ کہ جنگی چال کے طور پر ایسا کرے یا کسی دوسری فوج سے جا ملنے کیلئے — تو وہ اللہ کے غضب میں گھر جائے گا ۔ اُس کا ٹھکانہ جہنم ہو گا ۔ اور وہ بہت بُری جائے بازگشت ہے ۔

سُورت۔ 9 ۔ التَّوْبَہ

[آیت ۔ 24] ۔ اے نبی ۔ کہہ دو کہ اگر تمہارے باپ اور تمہارے بیٹے اور تمہارے بھائی اور تمہاری بیویاں اور تمہارے عزیزواقارب اور تمہارے وہ مال جو تم نے کمائے ہیں اور تمہارے وہ کاروبار جن کے ماند پڑ جانے کا تم کو خوف ہے اور تمہارے وہ گھر جو تم کو پسند ہیں تم اللہ اور اس کے رسول اور اس کی راہ میں جہاد سے زیادہ عزیز ہیں تو انتظار کرو یہاں تک کہ اللہ اپنا فیصلہ تمہارے سامنے لے آئے اور اللہ فاسق لوگوں کی رہنمائی نہیں کیا کرتا ۔

دو مسلمان گروہوں کا آپس میں لڑنا

وزیرستان میں جو کچھ ہو رہا ہے جسے کہا جا رہا ہے کہ مقامی غیرملکیوں کو مار رہے ہیں ۔ دونوں مسلمان ہیں ۔ مندرجہ ذیل آیات میں دیکھیئے کہ اگر ہمارے حُکمران مسلمان ہیں تو اُن کا فرض کیا ہے اور وہ کر کیا رہے ہیں ؟

سُورت ۔ 49 ۔ الْحُجُرَات

[آیت ۔ 9] ۔ اور اگر مسلمانوں کے دو گروہ آپس میں جنگ کریں تو اُن کے درمیان صلح کرا دیا کرو، پھر اگر ان میں سے ایک دوسرے پر زیادتی اور سرکشی کرے تو اس سے لڑو جو زیادتی کا مرتکب ہو رہا ہے یہاں تک کہ وہ اﷲ کے حکم کی طرف لوٹ آئے، پھر اگر وہ رجوع کر لے تو دونوں کے درمیان عدل کے ساتھ صُلح کرا دو اور انصاف سے کام لو، بیشک اﷲ انصاف کرنے والوں کو بہت پسند فرماتا ہے ۔ [آیت ۔ 10] ۔ بات یہی ہے کہ اہلِ ایمان [آپس میں] بھائی ہیں۔ سو تم اپنے دو بھائیوں کے درمیان صلح کرایا کرو، اور اﷲ سے ڈرتے رہو تاکہ تم پر رحم کیا جائے ۔

خبر جو خبر نہیں

عنوانات ۔ محفوظ کون ؟ ۔ انتظامیہ کی مجبوری ۔ کرائسِز سینٹر ۔ اُڑتی گولی ۔ باغیچہ میں لاشیں ۔
وہ خبر ہمارے ملک میں خبر نہیں ہوتی جو اخبار میں نہ چھپے یا اندر کے صفحہ پر چھوٹی سی ہو یا اصلیت کے مطابق نہ چھپے ۔ آج کچھ ایسی ہی خبریں


محفوظ کون ؟

میں ایف 8 میں رہتا ہوں ۔ ایک ہی پلاٹ کی چاردیواری کے اندر چار ملحقہ گھر بنے ہوئے ہیں جن میں ہم چاروں بھائی رہتے ہیں ۔ ہمارا سیکٹر اسلام آباد کے غیر سرکاری علاقہ میں محفوظ ترین سمجھا جاتا ہے ۔ ہمارا یہ بھرم پچھلے ماہ ٹوٹ گیا جب میرے چھوٹے بھائی کے گھر اور پچھلی سڑک پر ایک گھر میں نقب لگائی گئیں ۔ لوگ تو پہلے سے کہتے ہیں کہ سوائے صدر صاحب اور اُن کے خاص آدمیوں کے کوئی محفوظ نہیں ۔


انتظامیہ کی مجبوری

معلوم ہوا ہے کہ حکومت کو لال مسجد کی انتظامیہ کے سامنے اسلئے جھُکنا پڑ گیا ہے کہ اسلام آباد میں روزافزوں فحاشی کے اڈے بہت لوگوں کے علم میں ہیں ۔ حکومت نے ان اڈوں کو بند کرنے کا وعدہ کیا ہے ۔ دیکھتے ہیں اس وعدہ کا کیا ہوتا ہے ۔ قوم کے ساتھ کئے ہوئے وعدوں میں سے تو کوئی پورا نہیں ہوا ۔ یہ بھی پتہ چلا ہے کہ لال مسجد کی انتظامیہ کے ساتھ بھی پچھلے سالوں میں کئی وعدے کئے گئے جن کو پورا کرنے کی بجائے مسجدوں اور مدرسوں پر چڑھائی کر دی گئی ۔


کرائسِز سینٹر

اسلام آباد میں ایک کرائسز سینٹر ہے جس کی انتظامیہ کا دعوٰی ہے کہ وہاں بےکس اور مظلوم عورتوں کی دیکھ بال کی جاتی ہے بالخصوص جو مردوں کی بدکاری کا شکار ہوں ۔ ایک 16 سالہ لڑکی جسے ایک پولیس والے نے اغواء کر کے قبائلی علاقہ میں پہنچا دیا تھا حال ہی میں باز یاب ہوئی تو اُسے جان سے مارنے کی دھمکیاں ملنے کے بعد لڑکی کی ماں کی درخواست پر کرائسز سینٹر میں داخل کرا دیا گیا ۔ وہ لڑکی حاملہ ہے ۔ 31 مارچ کو اس لڑکی کو کرائسز سینٹر والوں نے زبردستی نکال دیا تو اسکی ماں اُسے اپنے ساتھ لے گئی ۔ لڑکی کی ماں نے لڑکی کو کرائسز سینٹر سے نکالنے کی یہ وجہ بتائی ہے کہ کرائسز سینٹر والے کہتے تھے کہ بچہ پیدا ہونے پر اُن کو دے دیا جائے ۔ جب لڑکی نے ایسا کرنے سے انکار کیا تو اُسے زبردستی کرائسز سینٹر سے نکال دیا گیا ۔


اُڑتی گولی

پیر 6 مارچ کو ہمارے گھر سے کوئی 500 میٹر کے فاصلہ پر ایک 75 سالہ ریٹائرڈ ائریکموڈور بڑی سڑک کے کنارے پیدل چلتے ہوئے جا رہے تھے کہ کہیں سے اُڑتی ہوئی ایک گولی آ کر اُن کے جبڑے میں گھُس گئی ۔ ہمت کر کے وہ اپنی رہاش گاہ پہنچے جو کہ قریب ہی تھی اور اُنہیں فوراً گاڑی میں ڈال کر پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز پہنچا دیا گیا ۔ جہاں اُن کی جراحی ہونا تھی ۔ اس کے بعد کچھ پتہ نہیں چل سکا ۔ اُن کا خاندان بحرین میں ہے۔ وہ اکیلے کسی کام سے آئے ہوئے تھے ۔ جائے واردات سے تھانہ مارگلہ 100میٹر ہو گا ۔ اور قُرب و جوار میں کوئی شادی یا جشن نہیں ہو رہا تھا کہ کہا جائے کسی نے خوشی کے اظہار کیلئے پستول چلایا ہو گا گو یہ عمل بھی ممنوع ہے


باغیچہ میں لاشیں

ہمارے گھر سے ایک سو میٹر کے فاصلہ پر بچوں کیلئے ایک چھوٹا سا باغیچہ ہے جس میں جھُولے وغیرہ لگے ہوئے ہیں ۔پیر 6 مارچ کو دن کے گیارہ بجے قریبی مکان میں رہنے والی ایک خاتون گولی چلنے کی آواز سُن کر کچھ دیر بعد باہر نکلی تو اُس نے اپنے گھر کے قریب باغیچہ میں ایک بنچ پر ایک جوان لڑکی اور زمین پر ایک جوان لڑکا خون میں لت پت پڑے دیکھے ۔ اس نے گھر جا کر پولیس کو ٹیلیفون کیا جو کچھ دیر میں پہنچ گئی کیونکہ وہاں سے تھانہ مارگلہ کوئی 250 میٹر ہو گا ۔ لڑکے کے بائیں ہاتھ میں پستول تھا ۔ لڑکا لڑکی دونوں ہمارے سیکٹر سے تعلق نہیں رکھتے تھے ۔ حسبِ معمول اسے محبت کا شاخسانہ کہا جائے گا اور اس بنیاد پر کہ عاشق نے محبوبہ کے انکار پر اُسے قتل کر کے خودکُشی کر لی معاملہ داخل دفتر کر دیا جائے گا ۔ میرا ذہن اسے قبول نہیں کرتا اور کہتا نہ کہ یہ دوہرا قتل ہے ۔ لڑکے کے بائیں ہاتھ میں پستول جبکہ لڑکی کو گولی بائیں کنپٹی پر اور لڑکے کو داہنی کنپٹی پر لگی ہے ۔ جائے واردات سے دو خول [Cases] ملے اور لڑکے کی جیب میں سے باقی کارتوس [Cartridges] ملے ۔

محبت کو دنیا میں ہوّس کے ساتھ مخلّط کر کے اتنا بدنام کر دیا گیا ہے کہ ہر جرم محبت پر عائد ہو جاتا ہے حالانکہ محبت ایک پاکیزہ جذبے کا نام ہے جو کہ خالق نے مخلوق میں رکھا ہے ۔ صرف انسان میں نہیں چرند پرند میں بھی ۔ محبت کرنے والے کا جذبہ تو یہ ہوتا ہے

تم اگر بھول بھی جاؤ تو یہ حق ہے تم کو
میرا کیا ہے میں نے تو محبت کی ہے
تم اگر تیر بھی چلاؤ تو یہ حق ہے تم کو
میں مر کر بھی میری جاں تمہیں چاہوں گا