Category Archives: روز و شب

بدلتے دل ۔ سانحہ کراچی

دل کو بدلنا آسان کام نہیں لیکن کوئی ایک چھوٹا یا بڑا حادثہ کبھی ایک دل کو اور کبھی بہت سے دلوں کو بدل کے رکھ دیتا ۔ سُنا ۔ پڑھا اور میری زندگی کا تجربہ بھی ہے کہ اللہ جو کرتا ہے بہتر کرتا ہے اسلئے انسان کو ہر چیز یا عمل میں بہتر پہلو کو تلاش کرنا چاہیئے ۔ صدر جنرل پرویز مشرف نے 9 مارچ سے شروع ہونے والے ہفتہ میں ایسی حماقتیں کیں جن سے سب پریشان ہوئے لیکن ان حماقتوں نے اُس تحریک کو جنم دے دیا جو حزبِ مخالف چلانے میں ناکام رہی تھی ۔ اللہ اس تحریک کو جلد کامیابی سے ہمکنار کرے اور ہمارے وطن میں عوام کا خیال رکھنے والی مضبوط جمہوریت قائم ہو جائے ۔ اور ڈکٹیٹر شپ سے ہمیشہ ہمیشہ کیلئے خلاصی ہو جائے ۔

12 مئی کو جو کچھ کراچی میں ہوا وہ کراچی والوں سے بہتر کون جانتا ہے ؟ اس کا اچھا پہلو جو میرے علم میں آیا ہے وہ یہ ہے کہ ایم کیو ایم کے جانثار خاندانوں کی نئی نسل جس کو 10 مئی تک “قائد صرف ایک [الطاف حسین]” اور “جو قائد کا غدار ہے وہ موت کا حقدار ہے” کے علاوہ کچھ سوجھتا ہی نہ تھا اُس نوجوان نسل کے کئی ارکان کے دل 11 اور 12 مئی کے واقعات نے بدل کے رکھ دیئے ہیں ۔

ایک پڑھا لکھا نوجوان جو ایم کیو ایم کے علاقہ کا باسی ہے اور جس کا خاندان الطاف حسین کے جان نثاروں میں شامل ہے ۔ جس کے چچا نے 12 سال قبل الطاف حسین کیلئے اپنی جان کا نذرانہ پیش کر دیا تھا اور اس کو سلام آج بھی اس کے محلے میں ہر طرف لکھا ہوا ہے ۔ اُس نوجوان نے 11 مئی کو دیکھا کہ ایئرپورٹ کو جانے والے تمام راستوں پر ٹرالر ٹرک ۔ ٹینکر اور بسیں کھڑی کر کے ان کے ٹائروں میں سے ہوا نکال دی گئی ہے ۔ پھر شام کو اس نے دیکھا کہ خود کار ہتھیاروں سے لیس جوانوں نے مورچے سنبھال لئے ہیں اور کچھ کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ 12 مئی کو ہسپتالوں میں چلے جائیں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ کوئی ایسا شخص طِبّی امداد نہ لینے پائے جو ایم کیو ایم کا نہ ہو ۔

دوسرے دن یعنی 12 مئی کو صبح 10 بجے اس نے ڈرگ روڈ اسٹیشن کے قریب دیکھا کہ اس کے ساتھی ریپیٹر اور کلاشِن کوف قسم کے خود کار ہتھیار خدمتِ خلق فاؤنڈیشن کی ایمبولینس میں بھر کر لے جا رہے ہیں ۔ اس نے دیکھا کہ شاہراہ فیصل سب کیلئے بند ہے مگر ایم کیو ایم کے جوان ہتھیار لئے آزادی سے گھوم رہے ہیں ۔پھر اس نے دیکھا کہ ایک جوان شخص گِڑگڑا کر التجائیں کر رہا ہے کہ مجھے جانے دو ۔ وہ اپنے بچے کی لاش ہسپتال سے گھر لے کر جا رہا تھا ۔ وہ کہہ رہا تھا خدا کیلئے مجھے جانے دو تا کہ میں اپنے اس معصوم بچے کے کفن دفن کا بندوبست کر سکوں ۔ ایک لمحہ آیا کہ ایم کیو ایم کے اس پڑھے لکھے نوجوان کے جسم نے ہلکی سی جھرجھری لی اور وہ وہاں سے چلا گیا ۔ 12 بجے کے قریب پہلی فارنگ ہوئی اور وہ خلافِ معمول گھر چلا گیا اور ٹی وی لگا کر بیٹھ گیا ۔ کچھ دیر بعد اُس کے دل نے اچانک اس کی ملامت شروع کردی کہ آج تک تیرا خاندان جو دلیری دکھاتا رہا وہ دراصل ایک مجبوری اور ضرورت کے نتیجے میں پیدا ہونے والی درندگی تھی ۔ اُس نے فیصلہ کیا کہ اب وہ اپنے آپ کو مزید دھوکہ نہیں دے گا جس کیلئے اس کے چچا نے جان دی تھی وہ انسان نہیں درندہ ہے ۔ وہ قاتلوں کا قائد ہے مہاجروں کا نہیں ۔ رات تک اس کو معلوم ہو چکا تھا کہ مرنے والے پختونوں کے علاوہ سب اُس کی طرح مہاجروں کے بچے ہیں جن کا قصور یہ ہے کہ وہ الطاف حسین کی درندگی کی حمائت نہیں کرتے ۔

یہ کہانی یا افسانہ نہیں حقیقت ہے ۔ یہ ایم کیو ایم کے گڑھ میں رہنے والے صرف ایک نوجوان کی آپ بیتی ہے ۔ مجھے یقین ہے کہ ایسے کئی اور پڑھے لکھے نوجوان ہوں گے جو اس پراگندہ ماحول اور خونی سیاست سے تنگ آ کر 12 مئی کو تائب ہوئے ہوں گے لیکن وہ اس کا برملا اظہار کرتے ہوئے شائد ڈر رہے ہوں مگر اس نوجوان نے اپنی دلیری کا رُخ بدلتے ہوئے نہ صرف ایم کیو ایم کے لیڈران کو تحریری طور پر اپنے دل کی تبدیلی کی اطلاع کر دی ہے بلکہ الطاف حسین کو 12 مئی کے قتلِ عام کا ذمہ دار ٹھہرایا ہے ۔ میری دلی دعا ہے کہ اللہ اس نوجوان ۔ اس جسے دوسرے جوانوں اور اُن کے اہلِ خانہ کو اپنی حفظ و امان میں رکھے ۔ میری محبِ وطن قارئین سے بھی التماس ہے کہ وہ بھی اُن کے لئے خصوصی دعا کریں ۔

سندھ حکومت کی دریا دِلی

چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس افتخار محمد چودھری کی 12 مئی کو کراچی آمد کے سلسلے میں سیاسی جماعتوں کی طرف سے لگائے گئے استقبالیہ کیمپ پولیس نے اکھاڑ دیئے ہیں ۔ یہ کیمپ جماعت اسلامی، پاکستان پیپلز پارٹی اور لیبر پارٹی کی جانب سے لگائے گئے تھے ۔

ذمہ دار کون ہو گا ؟

پانچ اور چھ مئی کو چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کو اسلام آباد تا لاہور جی ٹی روڈ پر پچیس گھنٹے کے سفر میں جس انداز کی عوامی پذیرائی ملی اس کے نتیجے میں مشرف حکومت اور اتحادی جماعتوں بالخصوص مسلم لیگ اور ایم کیو ایم کو غالباً یہ فرض سونپا گیا ہے کہ وہ اب کھل کے سامنے آئیں اور چیف جسٹس کے حق میں امڈنے والی لہر کو روکنے کے لیے پوری طاقت اور وسائل بروئے کار لائیں۔
سرکاری وکلاء نے نہ صرف عدالت کے اندر جارحانہ رویہ اختیار کر لیا ہے بلکہ مظاہرے کا جواب مظاہرے سے اور جلسے کا جواب جلسے سے دینے کی حکمتِ عملی پر بھی عمل شروع ہوگیا ہے۔ پہلے مرحلے میں اردو میں شائع ہونے والے بڑے قومی اخبارات میں پہلے اور آخری صفحے پر سات مئی سے ایم کیو ایم لیگل ایڈ کمیٹی کے علاوہ عدلیہ تحفظ کمیٹی اور غیر جانبدار وکلاء کے نام سے چوتھائی صفحے کے اشتہارات شائع کرائے جا رہے ہیں۔

اس بات کا امکان کم ہے کہ یہ اشتہارات انفرادی سطح پر شائع کیے جا رہے ہوں کیونکہ فرنٹ پیج پر چوتھائی اشتہار کا نرخ ایک اخبار میں آٹھ لاکھ روپے اور دوسرے اخبار میں دو لاکھ ساٹھ ہزار روپے کے لگ بھگ ہے۔ جبکہ بیک پیج کا نرخ ایک اخبار میں سوا پانچ لاکھ روپے اور دوسرے اخبار میں ایک لاکھ اسی ہزار روپے ہے اور روزانہ دو بڑے اخبارات میں اتنی قیمت کے اشتہار شائع کروانا کسی ایک فرد کے لیے خاصا مشکل ہے۔

عدلیہ تحفظ کمیٹی کے اشتہار کا لبِ لباب یہ ہے کہ چیف جسٹس نادانستہ طور پر اعتزاز احسن، منیر ملک، رشید رضوی اور حامد خان جیسے وکلاء کے ذریعے بے نظیر بھٹو کے لیے استعمال ہورہے ہیں جن کی حکومت سے ڈیل ہورہی ہے۔ غیر جانبدار وکلاء کے نام سے جو اشتہارات شائع کرائے جا رہے ہیں ان میں چیف جسٹس سے پوچھا گیا ہے کہ جو سیاستدان اس وقت آپ کے ہاتھ چوم رہے ہیں اور جو وکلاء آپ کا مقدمہ لڑ رہے ہیں یا جو وکلاء آپ کے مخالف فریق کی جانب سے پیش ہورہے ہیں۔اگر ان میں سے کسی کا مقدمہ آئندہ آپ کی عدالت میں آتا ہے تو بحیثیت انسان اور جج کیا آپ انصاف کر پائیں گے۔

ایم کیو ایم لیگل ایڈ کمیٹی کے نام سے شائع ہونےوالے تفصیلی اشتہار میں کہا گیا ہے کہ عدلیہ کے نام پر سیاست اور عدالتی بائیکاٹ کے نتیجے میں لاکھوں سائلوں پر انصاف کے دروازے بند ہو چکے ہیں لہٰذا یہ کھیل بند کیا جائے اور عدالت کی بات عدالت میں ہی کی جائے۔
اخباری اطلاعات کے مطابق مسلم لیگ (ق) نے اسلام آباد میں بارہ مئی کو لاکھوں افراد جمع کرنے کے لیے پارٹی اور حکومت کے تمام ضروری وسائل استعمال کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔امکان ہے کہ صدر مشرف بھی ریلی سے خطاب کریں گے۔جبکہ ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین نے اعلان کیا ہے کہ بارہ مئی کو کراچی کی سڑکیں ان کے حامیوں سے بھر جائیں گی۔ چیف جسٹس کی حامی وکلاء قیادت تو پہلے ہی کراچی میں چیف جسٹس کے استقبال کے شیڈول اور جلوس کے روٹ کا اعلان کر چکی ہے۔

مبصرین خدشہ ظاہر کررہے ہیں اگر اس موقع پر کوئی فریق اپنی طاقت کا مظاہرہ کرنے سے باز نہیں آتا اور بلا لچک رویے کے نتیجے میں تصادم ہوتا ہے تو پھر حکومت کو ایمرجنسی نافذ کرنے اور بنیادی حقوق معطل کرنے کا جواز ہاتھ آ سکتا ہے۔اس کے بعد کیا ہوتا ہے یہ یا تو رب جانے یا مشرف جانے۔

بی بی سی اُردو سروس

چُٹکلے

ہماری قوم میں کئی لوگوں کو برملا جھوٹ بولنے کی ایسی عادت ہے کہ وہ جھوٹ ظاہر ہونے پر شرمندہ ہونے کی بجائے ایک اور جھوٹ بول کر سامع کی توجہ ہٹانے کی کوشش کرتے ہیں ۔ اس کی وجہ شائد یہ ہے کہ ہمارے حکمران اور سرکاری افسران جھوٹ پر جھوٹ بولے چلے جاتے ہیں ۔ خیال رہے کہ پاکستان کو بنے ابھی 60 سال نہیں ہوئے ۔ ان میں سے پہلے چھ سال نکال دیں کہ جن میں سب کچھ عوام کے سامنے تھا ۔ باقی 54 سال میں سے 32 سال فوجی مطلق العنانی [Army Dictatorship] رہی اور پاکستان کے آئین کی تہس نہس کی گئی ۔ اس طرح ابتدائی 6 سال یعنی 1947 سے 1953 تک کو چھوڑ کر پاکستان پر صرف 22

 سال سویلین [Civilian] حکومت رہی پھر بھی ہمارے موجودہ صدر اور چیف آف آرمی سٹاف کہتے ہیں کہ سیاست دانوں نے ملک تباہ کر دیا ۔

بروز ہفتہ 5 مئی 2007 کو چیف جسٹس صاحب کا قافلہ اسلام آباد سے لاہور روانہ ہوا ۔ ایم کیو ایم نے اس کے مقابلہ میں اسی دن کراچی میں جلوس نکالا ۔ نجی ٹی وی والوں کو حکم دیا گیا کہ ایم کیو ایم کے جلوس کی لائیو کوریج [Live coverage] کی جائے ۔ نجی ٹی وی چینلز جن میں آج ۔ اے آر وائی ون اور جیو شامل ہیں نے چیف جسٹس صاحب کے قافلہ کی لائیو کوریج کی ۔ اس پر ایم کیو ایم نے حسبِ عادت زورآوری دکھائی اور کراچی ۔ حیدرآباد ۔ سکھر سمیت سندھ کے تمام بڑے شہروں میں کیبل آپریٹرز سے ان تینوں چینلز کی نشریات بند کروا دیں ۔ رات گئے ایم کیو ایم کے ایک ترجمان نے فرمایا کہ نجی ٹی وی والوں نے جانبداری دکھاتے ہوئے عوام [ایم کیو ایم] کے اتنے بڑے جلوس کو نہیں دکھایا اور چند وکلاء کے جلوس کو کوَر کرتے رہے ۔ اسلئے عوام نے ٹی بند کر دئیے ۔ کوئی جھوٹ بولے تو ایسا ۔

اسی دن ہمارے ملک کے صدر اور چیف آف آرمی سٹاف ایک نے سیاسی جلسہ منقد کیا اور اس میں تقریر کرتے ہوئے اپنی پارٹی کے لئے ووٹ مانگے اور وکلاء کو متنبہ کیا کہ وہ عدالتی معاملہ کو سیاسی نہ بنائیں ۔ بھئی واہ ۔ خود تو صاحب بہادر ملک کے آئین اور قانون کی پچھلے سات سال سے دھجیاں اُڑاتے آ رہے ہیں اور پچھلے دو ماہ سے سیاسی جلسوں میں ووٹ مانگتے پھر رہے ہیں جبکہ پاکستان کا آئین اور فوج کا قانون کسی فوجی کو سیاسی جلسہ میں شامل ہونے کی اجازت نہیں دیتا کُجا کہ وہ اس میں سیاسی تقریر بھی کرے ۔ اور پاکستان کا آئین صدر کو اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ وہ سیاسی تقریر کرے یا کسی ایک پارٹی کی حمائت کرے کیونکہ وہ پورے پاکستان کا صدر ہوتا ہے ۔

چیف جسٹس کا قافلہ

چیف جسٹس کا قافلہ ہفتہ 5 مئی کو اسلام آباد سے روانہ ہوا اور راولپنڈی سے شاہراہ شیر شاہ سوری پر سفر کرتا ہوا اتوار 6 مئی کو صبح ساڑھے چار بجے لاہور کے قریب شاہدرہ پہنچا جہاں جلوس کی لمبائی چار کلو میٹر ہو چکی تھی ۔ شاہدرہ میں ہزاروں لوگ ہفتہ کی صبح سے چیف جسٹس کی انتظار میں تھے اور ٹولیوں کی شکل میں چہل قدمی کرتے رہے ۔ ان میں وکلاء اور جماعت اسلامی ۔ تحریکِ انصاف ۔ مسلم لیگ نواز اور پیپلز پارٹی کے کارکن کن شامل تھے ۔ اب قافلہ شاہدرہ سے چل چکا ہے اور مینارِ پاکستان اور داتا دربار سے ہوتا ہوا لاہور ہائی کورٹ پہنچے گا جہاں چھ ہزار سے زائد وکلاء استقبال کیلئے کل سے جمع ہیں اور بڑے جوش و خروش میں ہیں ۔ لاہور ہفتہ اور اتوار کی پوری درمیانی رات جاگتا رہا ۔ لاہور میں متذکرہ سیاسی جماعتوں کے ہزاروں کارکنوں کے علاوہ عام لوگ بھی چوبیس گھینٹے سے چیف جسٹس کے استقبال کیلئے کھڑے ہیں ۔

راولپنڈی سے نکلتے ہوئے جب قافلہ سواں پُل کے قریب پہنچا تو وہاں لگی ہوئی گیس پائپ میں اچانک آگ لگ گئی جس کی وجہ سے قافلہ کو کافی دیر وہاں رُکنا پڑا ۔ جہلم میں قافلہ پہنچنے سے پہلے استقبال کیلئے اکٹھے ہونے والے وکلاء اور دوسرے شہریوں پر پولیس نے اشک آور گیس کے گولے پھینکے اور لاٹھی چارج کیا جس سے کئی لوگ زخمی ہوئے ۔ اسی طرح گوجرانوالہ میں شدید لاٹھی چارج کیا گیا جس سے تیس لوگ زخمی ہوئے جن میں مسلم لیگ نواز کی رکن پنجاب اسمبلی بھی شامل ہیں ۔ گوجرانوالہ میں کسی نے سٹیج پر پٹاخہ پھینکا جس سے بھگدڑ مچنے سے چیف جسٹس کے ایک وکیل حامد خان کے بازو کی ہڈی ٹوٹ گئی ۔ راستے میں کئی جگہ پر لگائے گئے استقبالیہ کیمپ پولیس نے اُکھاڑ دئیے ۔ راستہ میں آنے والے تمام شہروں اور شاہراہ شیر شاہ سوری کو ملنے والی تمام سڑکوں کی پولیس نے ناکہ بندی کر رکھی تھی ۔

تنزل کا سبب

صاف باتیں والے محمد عمران طارق صاحب نے لکھا تھا “ہر پاکستانی اپنے آپ کو ماہر سمجھتا ہے لیکن دکھ کی بات کہ جو کام کر رہے ہیں وہ اس کے ماہر نہیں ہیں” ۔

میرے خیال کے مطابق ہماری قوم کے تنزّل کی وجہ ہی یہی ہے ۔ عملی زندگی میں آنے کے بعد میں نے دیکھا کہ میرے ہموطنوں کی اکثریت اپنے اندر کوئی خامی یا کمی ماننا نہیں چاہتی اور وہ اپنے آپ کو ہر فن مولا ظاہر کرتے ہیں ۔ جس کو دیکھو ایسے موضوع پر بات کرے گا جس کا اُسے کوئی علم نہیں ۔ ہر چیز پر مشورہ ایسے دیں گے گویا کہ اس کے ماہر ہیں ۔ ایسا وہ لوگ کرتے ہیں جن کو شائد ہی کوئی کام ڈھنگ سے آتا ہو ۔

بات یہیں ختم نہیں ہو جاتی ہمارے سرکاری محکموں میں بہت کم بلکہ خوش قسمت لوگ ہیں جنہیں ایسی اسامی پر لگایا جاتا ہے جس کی اس نے تعلیم حاصل کی ہو اور تجربہ رکھتا ہو ۔ ورنہ جہاں انجنیئرنگ کا کام ہے وہاں بی اے پاس سویلین یا میٹرک فوجی کو لگا دیتے ہیں اور انجنیئر کو ایسی جگہ لگا دیتے ہیں کہ وہ سوچتا ہے کہ پڑھائی میں عمر برباد کی ۔ میں نے پاکستان آرڈننس فیکٹریز میں دیکھا کہ ایک شخص کو کسی خاص تربیت کیلئے یورپ بھیجا گیا اور جب وہ تربیت حاصل کر کے واپس آیا تو اسے کسی اور جگہ پر لگا دیا جس کا کام وہ بالکل نہیں جانتا تھا ۔ نتیجہ یہ ہوا کہ جب لوگ تربیت کیلئے غیرملک بھیجے جاتے تھے وہ محنت کم کرتے اور سیر سپاٹے پر زیادہ توجہ دیتے ۔

ہر فن مولا لوگوں کے کئی مشورے تفننِ طبع کا سبب بنتے ہیں ۔ چند پیشِ خدمت ہیں ۔

ایک دفعہ میں ویگن میں راولپنڈی سے واہ کینٹ جا رہا تھا ۔ میرے آگے والی سیٹ پر ایک صاحب بڑے وثوق کے ساتھ اپنے ساتھی کو بتا رہے تھے کہ واہ فیکٹری [پاکستان آرڈننس فیکٹریز] میں کیا ہوتا ہے ۔ جب ویگن واہ کینٹ میں داخل ہو گئی تو میں نے موصوف سے پوچھا ” آپ واہ فیکٹری میں کام کرتے ہیں ؟” بولے “نہیں” ۔ میں نے اُن سے کہا “میں ویپنز فیکٹری میں پروڈکشن منیجر ہوں” تو وہ صاحب چُپ ہو گئے ۔ وہ ویپنز فیکٹری ہی کے حوالے سے خود ساختہ باتیں کر رہے تھے ۔

میں پچھلے ماہ راولپنڈی کچہری گیا ہوا تھا اور ایک وکیل صاحب کے پاس بیٹھا تھا کہ ایک باریش صاحب آئے ۔ پہلے اُنہوں نے ہومیو پیتھی کے مشورے دئیے اور پھر کوئی دینی باتیں کیں جو میں صحیح طرح نہ سمجھ سکا ۔ پھر کسی اور مضمون پر تقریر کردی ۔ جب وہ تشریف لے گئے تو میں نے وکیل صاحب سے پوچھا کہ یہ صاحب ہومیو پیتھک ڈاکٹر تھے یا دینی مبلغ تو مختصر جواب ملا “وکیل” ۔

ایک صاحب کافی بیمار تھے ۔ اُن کی ایک عزیز خاتون مزاج پُرسی کیلئے آئیں اور جاتے ہوئے نصیحت کی “تم دماغی کام بہت کرتے ہو ۔ یہ بیماری اسی وجہ سے ہے ۔ تمہارے دماغ کو طاقت کی ضرورت ہے ۔ روزانہ بادام پستہ اور چار مغز ملا کے دودھی بنا کے پینا اور لیٹ کے پینا تا کہ سیدھی سر کو جائے”

ایک صاحب کے گردے میں پتھری ہو گئی ۔ ان کے ایک جاننے والے مزاج پرسی کیلئے آئے ۔ صورتِ حال تفصیل سے پتہ کر نے کے بعد پوچھا “آپ گردے کھاتے ہیں ؟” مریض نے کہا “کبھی کبھار گوشت میں آ جائے تو کھا لیتا ہوں” ۔ بولے “بس ۔ اسی وجہ سے آپ کو پتھری ہوئی ہے ۔ اب کبھی گردے نہ کھائیں” ۔

میں ایک صاحب کے گھر کسی کام سے گیا ۔ انہوں نے نئی کار خریدی تھی ۔ کہنے لگے ” آؤ اجمل تمہیں بھی سواری کرائیں” ۔ انہوں نے ایک دوست کو بھی ساتھ لیا اور چل پڑے ۔ ایک میدان میں جا کر انہوں نے کار چلانے کی مشق شروع کر دی کیونکہ نئی نئی ڈرائیونگ سیکھی تھی ۔ سارا وقت انکے دوست انہیں بتاتے رہے کہ ایسے کرو اور اب ایسے کرو ۔ کافی دیر مشق کی ۔ اس کے بعد میرے میزبان نے اپنے دوست سے کہا “میں تھک گیا ہوں ۔ اب تم چلاؤ اور ہمیں گھر لے چلو”۔ دوست نے پریشان ہو کر کہا “میں ؟ مجھے تو ڈرائیونگ نہیں آتی”۔

ایک صاحب نے مجھے اپنا کچھ کام کرنے کو کہا جس کا انہیں بالکل علم نہ تھا جب میں نے کام کرنے کی حامی بھر لی تو شروع ہو گئے ہدایات جاری کرنے کہ اس طرح کرنا اور اس طرح نہ کرنا اور اس طرح کرلینا وغیرہ ۔ جب ان کی تقریر ختم ہوئی تو میں نے کہا “جناب آپ تو یہ کام بہت اچھی طرح سے کر سکتے ہیں۔ مجھے آپ کی ہدایات شائد صحیح طرح سے سمجھ نہیں آئیں اسلئے آپ خود ہی کر لیجئے”

بالآخر بند ٹوٹ گیا

میرے متعلق خاندان تو کیا سب جاننے والوں میں مشہور ہے کہ میں بڑے دل کا مالک ہوں ۔ اللہ نے مجھے بنایا ہی اس طرح کا ہے کہ کوئی تکلیف میں ہو تو مجھ سے برداشت نہیں ہوتا مگر دوسروں کی طرح ہمدردی میں بیہوش ہونے یا رو رو کر نڈھال ہونے کی بجائے میں فوراً ضروری مدد بہم پہنچانے میں لگ جایا کرتا ہوں ۔ اللہ مجھے حوصلہ دیتا ہے اور میری راہنمائی کرتا ہے اور میں اشکوں کو آنکھوں میں آنے سے پہلے ہی روک لیتا ہوں ۔ میں ہمیشہ سب کو کہا کرتا ہوں ” آپ لوگوں کی ہمدردی کس کام کی کہ مدد کی بجائے آپ خود مدد کے قابل ہو جاتے ہیں ؟” لیکن دو روز قبل میرا ساری زندگی کا بھرم ٹوٹ گیا حوصلہ ریت بن گیا اور اشک جاری ہو گئے کہ بات ہی کچہ ایسی تھی ۔

عدالتِ عظمٰی میں گم شدہ افراد کے کیس کی سماعت ہو رہی تھی کہ حُزن و ملال کا مجسمہ ایک خاتون عدالتی آداب و قرائن کو بالائے تاک رکھتے ہوئے اچانک کھڑی ہو گئی اور عدالت کو مخاطب کر کے گویا ہوئی “میری عمر 60 سال ہے ۔ میری آخری زندگی کا سہارا میرا صرف ایک بیٹا ہی تھا ۔ اُسے بھی حسّاس اداروں نے گرفتار کر لیا ۔ مجھے کوئی پتہ نہیں کہ وہ کہاں ہے اور کسی حال میں ہے ؟ خدا کے لئے مجھے میرا بیٹا لا دو ۔ میں اُسے ساتھ لے کر یہ ملک چھوڑ جاؤ گی ۔ کیا ایم آئی اور آئی ایس آئی والے اس ملک کے باشندے نہیں ؟ کون ہماری دادرسی کرے گا ؟” خاتون بولتی جا رہی تھی اور اشکوں کا سیلاب اس کی آنکھوں سے جاری تھا ۔

میں باپ ہوں ۔ بچے بڑے اور ماشاء اللہ سمجھدار ہیں مگر جب تک گھر نہ آجائیں دل بے چین اور نیند حرام رہتی ہے ۔ بڑا بیٹا امریکہ میں ہے ۔ ہفتہ بھر اس سے بات نہ ہو تو دل بے چین ہو جاتا ہے ۔ لیکن ماں کی تو بات ہی کچھ اور ہوتی ہے جو صرف ماں ہی سمجھ سکتی ہے ۔ میں جوان تھا بڑا افسر تھا جب دفتر سے گھر آتے ہوئے اپنی سڑک میں داخل ہی ہوتا تو دور سے امی [اللہ جنت میں اعلٰی مقام دے] گھر کے باہر میرے انتظار میں کھڑی نظر آتیں ۔ مجھ پر نظر پڑتے ہی وہ اندر چلی جاتیں ۔ کبھی کبھی میں امی سے کہتا “امی آپ روزانہ گھینٹہ بھر میری انتظار میں گھر کے باہر کھڑے ہو کر تھکتی ہیں ۔ آپ آرام کیا کیجئے کہ آپ کا بیٹا تو دفتر سے سیدھا گھر آتا ہے” ۔ تو نظر ملائے بغیر کہتیں “میں تو ویسے ہی باہر نکلی تھی ۔ تم کیوں پریشان ہوتے ہو ؟” میری بیوی کو بھی میرے بچے کہتے رہتے ہیں “امی ۔ آپ ایسے نہ کیا کریں ۔ جب بھی ہم گھر سے باہر ہوں تو آپ پریشان ہو جاتی ہیں” ۔ زکریا بھی ٹیلفون پر یہی کہتا رہتا ہے ۔

ذرا اندازہ لگائیے اس ماں کے دل کا حال کیا ہو گا جس کا واحد لختِ جگر یوں غائب کر دیا جائے کہ اسے کچھ معلوم نہ ہو کہ مر گیا ہے یا زندہ ہے اور اگر زندہ ہے تو اس کا کیا حال ہے ۔