Category Archives: روز و شب

قانون ۔ پرویز مشرف مارکہ

جمہوریت کی اساس یہ ہے کہ قانون سب کیلئے یکساں ہوتا ہے ۔ ہمارے ملک میں جنرل پرویز مشرف صاحب نے جو حقیقی جمہوریت طاری کی ہوئی ہے اس کی چند مثالیں یہ ہیں ۔

Devolution

سارے ملکی نظام کو devalue ۔ اوہ معاف کیجئے گا ۔ devolve کیا گیا اور ڈپٹی کمشنر کی اسامی ختم کر کے [اپنی مرضی سے] منتخب کردہ ناظم لگائے گئے مگر وہ بھی سارے ملک میں نہیں ۔ اسلام آباد میں ابھی بھی ڈپٹی کمشنر ہوتا ہے اور حکومت کے کئی بار وعدوں کے باوجود آج تک ضلعی حکومت بنانے کیلئے الیکشن نہیں ہوئے ۔ اسلام آباد کے علاوہ پاکستان میں جتنی چھاؤنیاں [cantonments] ہیں جو کہ سو سے زیادہ ہی ہوں گی ان میں ابھی تک سٹیشن کمانڈر [Station Commander] کی حکومت ہے جو کہ کرنل یا بریگیڈیئر ہوتا ہے اور جی ایچ کیو کے ماتحت ہوتا ہے ۔


دفعہ 144

ڈپٹی کمشنر ۔ اسلام آباد کے حکم سے پورے ضلع اسلام آباد میں بدھ 30 مئی سے 2 ماہ تک دفعہ 144 نافذ کر دی گئی ہے جس کے تحت کسی جگہ 5 یا 5 سے زیادہ اشخاص کا اکٹھا ہونا یا اکٹھے چلنا ممنوع قرار دے دیا گیا ہے ۔ عملی طور پر حکومتی پارٹی کے لوگ جب چاہیں جہاں چاہیں درجنوں اکٹھے ہوتے رہتے ہیں لیکن جمعہ یکم مئی کی سہ پہر سے رات گئے تک ہماری رہائش گاہ سے 500 میٹر کے فاصلہ پر فاطمہ جناح پارک میں اسلام آباد کی حکومت نے اگر ہزاروں نہیں تو ایک ہزار سے زیادہ اشخاص کا میلہ لگایا ہوا تھا ۔ ان حالات نے ایسا ماحول پیدا کر دیا کہ چیف جسٹس صاحب کا قافلہ ہفتہ 2 جون کو صبح 9 بجے اسلام آباد میں ان کی سرکاری رہائش گاہ سے روانہ ہوا تو حکومتی مشینری حرکت میں نہ آسکی ۔۔


سیکیورٹی

اسلام آباد کی سیکیورٹی ویسے ہی سخت رہتی ہے کیونکہ حکمرانوں کی قیمتی جانوں کو خطرہ رہتا ہے ۔ جمعہ یکم مئی کو امامِ کعبہ جناب عبدالرحمٰن السّدیس تشریف لا رہے تھے اس لئے جمعرات 31 مئی سے ہی سیکیورٹی اور سخت کر دی گئی تھی ۔ وزیراعظم صاحب نے بھی فیصل مسجد میں جمعہ کی نماز پھنا تھی ۔ نماز جمعہ کے وقت سے کئی گھینٹے پہلے پولیس اور خفیہ ایجنسیوں کے لوگ فیصل مسجد کے چاروں طرف پھیل گئے تھے ۔ فائر بریگیڈ بھی وہاں موجود تھا ۔ اس کے باوجود پارکنگ میں آگ لگی جس سے 17 گاڑیاں اور ایک موٹر سائیکل جل گئے ۔ اس خبر کو اخبار میں چھاپنے کی اجازت نہیں دی گئی اور ڈان نے یہ خبر صرف اسلام آباد ایشو میں مع تصویر کے چھاپی ہے ۔


آزادیٔ صحافت

صدر جنرل پرویز مشرف صاحب کئی بار کہہ چکے ہیں “میں ذرائع ابلاغ کی آزادی کے حق میں ہوں اور میں نے انہیں پوری آزادی دے رکھی ہے”۔ عملی صورتِ حال یہ ہے کہ پاکستان کے سب سے پرانے اُردو اخبار نوائے وقت اور انگریزی اخبار دی نیشن کے اشتہارات کئی سالوں سے بند ہیں ۔ ان کی ویب سائٹ عام طور پر بلاک ہی رہتی ہے ۔ پاکستان کے سب سے پرانے انگریزی اخبار ڈان کے ساتھ موجودہ حکومت کی چپقلش چلتی ہی رہتی ہے ۔ جمعہ یکم مئی سے اسلام آباد ۔ اسلام آباد کے گرد و نواح اور پنجاب کے کئی شہروں میں ٹی وی چینلز آج اور اے آر  وائی ون کی نشریات جزوی طور پر بلاک کر دی گئی ہیں ۔ مزید لائیو کوریج [live coverage] ۔ ٹاک شوز [talk shows] اور تبصروں [commentaries] پر پابندی عائد کر دی گئی ہے ۔ اس کے علاوہ حکومت نے کچھ قومی اور بین الاقوامی اداروں کو چند ٹی وی چینلز کو اشتہارات نہ دینے کے احکامات جاری کر دئیے ہیں ۔ یہ بھی حکم جاری کیا گیا ہے کہ تمام ٹی چینلز کو اپنی نشریات دکھانے کیلئے ہر شہر کیلئے علیحدہ علیحدہ لائیسنس لینا ہو گا ۔


ہَور چُوپَو

حکومتِ پاکستان کے دباؤ کے تحت ہفتہ 2 جون کو کیبل آپریٹرز ایسوسی ایشن آف پاکستان کے چیرمین خالد شیخ نے اعلان کیا کہ جو ٹی وی چینل حکومت یا افواجِ پاکستان کے خلاف کچھ دکھائیں گے وہ بند کر دیئے جائیں گے ۔ خالد شیخ نے یہ بھی بتایا کہ کچھ سیاسی جماعتیں کیبل آپریٹرز کو دھمکیاں دے رہی ہیں کہ اگر اُن کی بات نہ مانی گئی تو تو کیبل آپریٹرز کے ٹرانسمشن سسٹم پر حملے کئے جائیں گے ۔

میکالے کا ایک اور فیصلہ

لارڈ میکالے کی تجویز نقل کی تھی جس پر چند قارئین نے اعتراض کیا تھا ۔ بزرگ کہتے تھے “اللہ مہربان سو کُل مہربان”۔ میرا سب سے بڑا لالچ سچائی کا حصول رہا ہے اور جب کبھی مجھے مشکل پیش آئی اللہ سبحانُہُ و تعالٰی نے میری مدد فرمائی ۔ اسی سلسلے میں 23 مئی کو ایک خط ڈان اخبار میں شائع ہوا جو اگرچہ مختلف تحریر ہے مگر میرے مؤقف کی تائید کرتی ہے ۔ متعلقہ اقتباس ۔ ۔ ۔ Macaulay’s children

The term Macaulay’s children is used to refer to people born of Indian ancestry who adopt western culture as a lifestyle, or display attitudes influenced by colonisers. Connotation of the term shows the specific behaviour of disloyalty to one’s country and one’s heritage. The passage to which the caption refers is taken from a minute Lord Macaulay wrote on Indian education. It reads:

“It is impossible for us, with our limited means, to attempt to educate the body of the people. We must at present do our best to form a class who may be interpreters between us and the millions whom we govern; a class of persons, Indian in blood and colour, but English in taste, in opinions, in morals, and in intellect. To that class we may leave it to refine the vernacular dialects of the country, to enrich those dialects with terms of science borrowed from the western nomenclature, and to render them by degrees fit vehicles for conveying knowledge to the great mass of the population.”

Should we mug up our state of affairs right from the independence, we find we have been governed till date by the class of people trained in accordance with the desired standards set out by the Macaulay theory.

Would the system that derives strength from the Macaulay doctrine bring any change in our lives? Civil society must strive hard and support those who are eligible to lead the masses. It appears that future is not so gloomy and we can see light at the end of the tunnel in the present struggle spearheaded by the chief justice. But we need hundreds of people like him who could guide the people to shun self-interest and be brave.

مووی ۔ 2007 اور 1971

ہفتہ 19 مئی 2007 کو ایم کیو ایم نے ایک پریس کانفرنس میں “کڑوا سچ” کے نام سے ایک وڈیو دکھا کر ثابت کرنے کی کوشش کی کہ حزبِ اختلاف کی جماعتوں نے 12 مئی کو توڑ پھوڑ اور مار دھاڑ کی ۔ اس وڈیو نے مجھے 36 سال پیچھے دھکیل دیا جب مجیب الرحمٰن کے پیروکار ایک وڈیو دکھا کر کہتے تھے کہ یہ دیکھو بنگالی عورتوں اور مردوں کو پاکستان کے حامیوں نے کس طرح ذبح کیا ہے ۔ یہ الزام اُردو بولنے والوں پر لگایا گیا تھا ۔ اُس وقت میرے جیسوں نے بھی اس وڈیو کو مصدقہ ثبوت سمجھا ۔

مجھے مئی 1976 میں ملک سے باہر تعینات کر دیا گیا ۔ وہاں اتفاق سے ایک شریف النفس بنگالی آرتھوپیڈک سرجن ڈاکٹر فضلِ رحیم سے دوستی ہو گئی جو جلد ہی بہت گہری ہو گئی ۔ مارچ 1977 کی ایک شام میں بیوی بچوں سمیت ان کے گھر بیٹھے گپ سپ کر رہے تھے کہ کسی طرح 1971 کا ذکر آ گیا ۔ میں نے کہا “بنگالی بھائیوں پر واقعی بہت ظلم ہوا ۔ میں نے وڈیو دیکھی تھی”۔ ڈاکٹر بولا “تو آپ جیسے لوگ بھی اس وڈیو پر یقین رکھتے ہیں ؟ آپ نے اتنا بھی نہ سوچا کہ جس کی جان پر بنی ہوتی ہے کیا وہ کیمرہ لے کر وڈیو بنانے لگ جائے گا اور وہاں سے جان بچا کر بھاگنے کی کوشش نہیں کرے گا ؟”۔ چند لمحے وقفہ رہا کیونکہ ڈاکٹر کو شائد وہ خونی نظارے یاد آ گئے تھے جو اس نے دیکھے تھے اور میری سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ اب میں کیا کہوں ۔ ڈاکٹر نے سکوت توڑا اور جذباتی انداز میں بولا “اجمل بھائی ۔ لاکھوں مسلمانوں کے قتل کے ذمہ دار تین لوگ تھے ۔ ان میں سے دو کیفرِ کردار کو پہنچ چکے اور تیسرا بھی انشاء اللہ جلد انجام کو پہنچے گا اور اس کا انجام باقی دو سے بھی بُرا ہو گا”۔ میں نے کہا “مجیب الرحمٰن ۔ اندرا گاندھی اور جنرل یحیٰ”۔ ڈاکٹر بولا “نہیں ۔ بھُٹو”۔

میں نے استفسار کیا “وہ وڈیو پھر کس نے بنائی تھی ؟” ڈاکٹر بولا “مکتی باہنی والے جن میں بھارتی کمانڈو بھی شامل تھے محبِ وطن پاکستانیوں کو پکڑ کر لاتے تھے اور ان میں سے کچھ کے سامنے باقی سب کو ذبح کرتے اور وڈیو بناتے ۔ اس سے وہ دوہرا فائدہ حاصل کرتے ایک تو جن محبِ وطن بنگالیوں کو یہ سب کچھ دکھا کر چھوڑ دیتے وہ باقی ساتھیوں کو بتاتے جس سے مجیب الرحمٰن کی مخالفت سے لوگ ڈرنے لگے اور دوسرے اسی وڈیو سے باہر کی دنیا میں پروپیگنڈہ کرتے ۔ ویسے بعض اوقات شیخ مجیب الرحمٰن کے آدمیوں نے مخصوص حالات میں اپنے جھوٹ کو سچ ثابت کرنے کیلئے کچھ اپنے آدمیوں کو بھی ہلاک کیا”۔ ڈاکٹر فضلِ رحیم کا سروس کنٹریکٹ 30 جون 1977 کو ختم ہوا اور وہ لوگ ہمیں مل کر 3 جولائی کو اپنے وطن روانہ ہو گئے اور 5 جولائی کو تیسرے کا انجام بھی شروع ہو گیا ۔

عصرِ حاضر میں کمپیوٹر ٹیکنالوجی کی مدد سے کیا کچھ نہیں ہو سکتا اور ایک ہفتہ میں بہت کچھ کیا جا سکتا ہے ۔ اگر کچھ سال پیشتر ایک ہائی سکول کا پاکستانی لڑکا ایک وڈیو تیار کر سکتا ہے جس میں جارج بش کے چہرے پر لمبی داڑھی ہے اور سر پر پگڑی اور وہ اُردو زبان میں اقرار کر رہا ہے “میں جنرل پرویز مشرف کے ہاتھوں مشرف بہ اسلام ہوتا ہوں”۔ تو اور کیا نہیں ہو سکتا ۔ کمال تو یہ ہے کہ ایم کیو ایم نے جو منظر دکھائے ہیں ان تک کوئی ٹی وی والا نہ پہنچ سکا ۔ گویا [بقول ایم کیو ایم] سب ٹی وی چینل جھوٹے ہوئے ؟ ویسے یہ کوئی نئی بات نہیں ہے ۔ کوئی مجھے ایم کیو ایم کے کسی مرد یا عورت کے ساتھ بحث کر کے جیت کر دکھا دے ۔ جب انہوں نے ماننا ہی نہیں ہے تو آپ جو جی چاہے کر لیجئے ۔

ایم کیو ایم والوں نے کڑوا سچ کے نام سے وڈیو تو دکھا دی مگر مندرجہ ذیل انتہائی کڑوے سوالوں کا جواب کون دے گا ؟

1 ۔ ایم کیو ایم نے اسی دن ریلی کیوں نکالی جس دن چیف جسٹس صاحب نے کراچی جانا تھا جب کہ چیف جسٹس صاحب کے سلسلہ میں اعلان پہلے ہو چکا تھا ؟
2 ۔ سندھ حکومت کے مشیرِ داخلہ نے ایک ٹی وی چینل پر کیوں کہا تھا کہ جس دن بھی چیف جسٹس آئے گا ہم اس دن ریلی نکالیں گے ؟
3 ۔ چیف جسٹس صاحب کی آمد سے 36 گھینٹے قبل کراچی میں ان کے وکیل منیر اے ملک کا دفتر کیوں سیل کیا گیا ؟ پھر اسی شب ان کی رہائشگاہ پر گولیاں کس نے چلائیں ؟
4 ۔ کس نے عدالتِ عالیہ کے اس حکم کو روند ڈالا کہ چیف جسٹس صاحب کو اپنی مرضی کے روٹ پر ایئر پورٹ سے عدالتِ عالیہ آنے دیا جائے ؟
5 ۔ شاہراہ فیصل کی مکمل ناکہ بندی کس نے کی جو کہ 12 مئی کے طلوعِ آفتاب سے بہت پہلے ہی کر لی گئی تھی ؟
6 ۔ کس نے وکلاء کو عدالتِ عالیہ سندھ تک جانے نہ دیا اور کس نے عدالتِ عالیہ کی عمارت کا محاصرہ کیا ؟
7 ۔ کس نے عدالتِ عالیہ سندھ کے حکم کہ شاہراہ فیصل کو کھول دیا جائے کی دھجیاں اُڑائیں ؟
8 ۔ جب کراچی میں انسانوں کا خون بے دریغ بہایا جا رہا تھا تو کس کے حکم کی بجا آوری میں پولیس اور رینجرز خاموش تماشائی بنے رہے ؟
9 ۔ کون پونے چھ گھینٹے آج ٹی وی کی عمارت پر گولیاں برساتا رہا جبکہ پولیس والے قریب ہی موجود تھے اور ایم کیو ایم والے بھی اپنے جھنڈے اُٹھائے پھر رہے تھے ؟
10 ۔ کراچی میں امن امان قائم رکھنا اور خون خرابہ روکنا کس کی ذمہ داری تھی ؟ کیا سندھ کا نظم و نسق چیف جسٹس صاحب یا حزبِ اختلاف چلا رہی ہے جو ذمہ داری ان پر عائد کی جا رہی ہے ؟

قاتل کون ؟

ہمارے ملک میں بسنے والوں کی بھاری اکثریت کو مسلمان ہونے کا دعوٰی ہے ۔ ہمارا دین اسلام ہمیں بتاتا ہے کہ ایک انسان کا قتل پوری انسانیت کا قتل ہے ۔ لیکن ہمارے ملک میں قتل روزانہ کا معمول ہے ۔ کہیں ڈاکو قتل کرتے ہیں ۔ کہیں طاقتور یا بارسوخ لوگ قتل کراتے ہیں ۔ کہیں قتل باہمی رنجشوں کا نتیجہ ہوتے ہیں اور باقی کوٹہ پولیس اور خُفیہ ایجنسیاں پورا کر دیتی ہیں ۔ کیا یہ سب مسلمان ہیں ؟

حماد نے کوئی چودہ پندرہ سال پہلے قائداعظم یونیورسٹی اسلام آباد سے تعلیمی کامیابی پر سونے کا تمغہ حاصل کیا تھا ۔ وہ ذہین ۔ محنتی اور حاضر جواب آدمی تھا ۔ سی ایس ایس کے امتحان میں پہلے دس کامیاب اُمیدواروں میں ہونے کی وجہ سے اسے ڈی ایم جی گروپ میں رکھا گیا تھا ۔ حماد والدین کا اکلوتا بیٹا ہونے کے باوجود نخرے والا نہیں تھا بلکہ خوش مزاج تھا ۔ اس کے کام سے متأثر ہونے کی وجہ سے عدالتِ عظمٰی کے موجودہ چیف جسٹس اُسے بحیثیت ایڈیشنل رجسٹرار اسلام آباد لائے تھے اور وہ یہاں پر اُن کے سٹاف آفیسر کی طرح بھی کام کرتا رہا ۔ 9 مارچ کو چیف جسٹس کے خلاف ریفرنس دائر کرنے کے بعد خفیہ ایجنسیز والے 4 دن حماد سے تفتیش کرتے رہے مگر انہیں نا اُمیدی ہوئی ۔

سپریم کورٹ کے مقتول ایڈیشنل رجسٹرار حماد رضا کے والد سید امجد حسین نے کہا ہے کہ ان کے گھر سے نقدی یا زیورات لوٹنا تو دور کی بات ہے قاتلوں نے تو ان کے بارے میں پوچھا تک نہیں ۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے سید امجد حسین نے کہا کہ قاتلوں نے حماد کے ماتھے پر گولی ماری تھی اور جب حمادگرگئے تو حملہ آور چلے گئے۔ ان کے بقول وہ صرف حماد کو قتل کرنے کے لیے آئے تھے۔ ستر سالہ سید امجد حسین زمیندار ہیں اور ان کا تعلق لاہور کے نواحی علاقے شرقپور کے قصبہ مترد ہ سے ہے۔ حماد کے ایک دوست کا کہنا ہے کہ مقتول علاقے کے پہلے شخص تھے جنہوں نے سول سروس میں کامیابی حاصل کی اور ڈسٹرکٹ مینجمینٹ گروپ میں گئے۔ حماد کے والد کا کہنا تھا کہ جب ان کے بیٹے کا قتل ہوا تو پولیس کی ایک گاڑی گھر کے باہر کھڑی تھی اس گاڑی میں پانچ مسلح اہلکار تھے جن میں سے تین گاڑی کے باہر کھڑے تھے۔

ان کے بقول ان کے بیٹے کے قاتل گھر سے باہر کھڑی پولیس کی موجودگی میں فرار ہوئے لیکن پولیس کچھ نہ کرسکی ۔’وہ کیسے پولیس والے تھے جن کے سامنے قاتل فرار ہوگئے۔‘ انہوں نے کہا کہ اس صورتحال میں وہ پولیس کے بیان کردہ موقف پر کس طرح مطمئن ہوسکتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ پولیس والوں کے پاس اسلحہ تھا اور وہ فائرنگ کرسکتے تھے لیکن انہوں نے کچھ نہیں کیا حالانکہ پولیس اہلکار تعاقب کرکے ان کو (قاتلوں کو) گرفتار کرسکتے تھے۔ مقتول کے والد نے سوالیہ انداز میں کہا کہ پولیس ڈیوٹی دے رہی تھی یا پھر قاتلوں کو بچانے کے لیے وہاں موجود تھے۔ ان کے بقول جب حملہ آور نےگولی چلائی تو حماد کا ایک ہمسایہ دیوار پھلانگ کر داخل ہوا اور اس نے پولیس والوں کو اندر آنے کو کہا لیکن پولیس والے اپنی جگہ کھڑے رہے۔ حماد رضا کے والد نے کہا کہ ان کے بیٹے نے کبھی کوئی ایسی بات نہیں کی تھی جس سے یہ معلوم ہو کہ اس کی جان کو خطرہ ہے۔ حماد ہمیشہ حوصلہ کی باتیں کرتا تھا۔

پاکستان بار کونسل کی فری لیگل ایڈ کمیٹی کے سربراہ رمضان چودھری کے بقول انسانی حقوق کے معاملات پر چیف جسٹس پاکستان کے احکامات کی روشنی میں حماد رضا ہی کمیٹی سے رابطہ کرتے تھے۔

سپریم کورٹ کے ایڈیشنل رجسٹرار حماد رضا کی بیوی نے کہا ہے کہ ان کے شوہر کو نشانہ بنا کر قتل کیا گیا ہے۔ شبانہ حماد نے بی بی سی کو بتایا کہ گزشتہ رات وہ لوگ سیکٹر جی ٹین ٹو میں واقع ان کے گھر میں داخل ہوئے اور وہ حماد کی تلاش کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا گھر میں داخل ہونے والے لوگ ڈکیتی کی غرض سے نہیں بلکہ حماد کو ڈھونڈ رہے تھے اور انہوں نے بیڈ روم کے دروازے پر دستک دی اور جب دروازہ کھولا گیا تو وہ حماد رضا کو ہلاک کر کے ایک دو منٹ میں غائب ہو گئے۔

حماد رضا ڈی ایم جی گروپ کے افسر تھے اور وہ کافی عرصہ تک صوبہ بلوچستان میں تعینات رہے تھے۔ جسٹس افتخار محمد چودھری کے چیف جسٹس بننے کے بعد حماد رضا کو ڈیپیوٹیشن پر سپریم کورٹ میں بطور ایڈیشنل رجسٹرار مقرر کیا گیا۔ حماد رضا سپریم کورٹ کے ان اہلکاروں میں شامل تھے جن سے چیف جسٹس کے خلاف صدارتی ریفرنس دائر ہونے کے بعد حکومتی اداروں نے پوچھ گچھ کی تھی۔ شبانہ حماد نے کہا کہ ان کی کسی شخص سے کوئی دشمنی نہیں تھی اور نہ ہی انہیں پہلے کبھی کسی نے کوئی دھمکی دی تھی ۔

Supreme Court officer murdered

ISLAMABAD, May 14: Supreme Court’s additional registrar Syed Hammad Amjad Raza was shot dead by four men who broke into his house before dawn on Monday. Talking to Dawn, a police officer claimed that the murder had been committed by robbers, but Mr Amjad Raza’s widow Shabana, a witness to the killing, said it was a target killing. She alleged that the government and agencies were involved in the murder. She said that she saw several policemen lurking around in the lawn of her house when she ran out crying for help, but they did nothing to catch the culprits. She vowed to do everything possible to bring those responsible to justice. Her brother, Abid Hussain Shah, also insisted that it was not a case of robbery, because nothing had been found missing from the house, except two cellphones. “It’s a target killing and a message to judges,” he said.

According to the family, four people broke into Mr Raza’s official residence through the kitchen window at around 4.15 am. They overpowered his parents who lived on the ground floor, tied them up and asked them about Mr Raza. Syed Amjad Ali Mashedi Rizvi, father of Mr Raza, said the intruders held the teenage housemaid Ashee at gunpoint and forced her to take them upstairs to Mr Raza’s bedroom.

“As my husband responded to the knocks and opened the door, we saw four clean-shaven men in trousers and shalwar kameez. They were aged between 28 and 35. One of them was holding a pistol and another carried a knife. On seeing Hammad, the gunman shot him in the head and fled,” Ms Shabana said. She said she ran downstairs crying for help and was surprised to see some policemen in the lawn. They did not do anything. However, police officer Shaukat Pervaiz, a neighbour, responded to her screams. SP Pervaiz, who is detailed with the prime minister’s security squad, shouted at a police patrol, standing about 100 feet away from his house, to catch the culprits but by the time the patrol moved the attackers had disappeared.

Security agencies had questioned Mr Raza for four days after the removal of Chief Justice Iftikhar.

Talking to Dawn, Intizar Mehdi, a cousin of the deceased, alleged that it was a target killing. “The moment Hammad opened the door, the intruders shot him in the head without having any argument,” he said, adding that the robbers would not act the way the killers had. There was a lot of jewellery and cash in the house but the gunmen had not touched anything, he said.

The deceased is survived by the wife and three children.

Pakistan supreme court official slain over links to CJ Chaudhry:

ISLAMABAD, May 15 (AFP) – Supreme Court deputy registrar Syed Hamad Raza shot dead at his home on Monday morning was targeted because of his ties to suspended chief justice Iftikhar Muhammad Chaudhry and had come under pressure from the government, lawyers for the judge said Tuesday. The claim came as Justice Chaudhry appeared at the Supreme Court to challenge his removal by President Pervez Musharraf in a row that has triggered deadly protests. “Raza’s murder was a targeted killing. It appears to be linked to the case,” Chaudhry’s main lawyer Aitzaz Ahsan told the court. “He was under pressure from various government agencies,” he said. Justice Khalilur Rehman Ramday, the presiding judge of the 13-member full bench hearing Chaudhry’s appeal against misconduct charges, said the court had already taken notice of the murder. “He (Hamad) was a wonderful boy… It is our belief that such an atrocity will not go unpunished. We shall do what can possibly be done by us,” Justice Ramday said. (Posted @ 16:38 PST)

تیری سادگی کے صدقے

وکلاء اور حزبِ اختلاف نے چیف جسٹس آف پاکستان کی عزت افزائی کیلئے 5 مئی کو صبح 8 بجے اسلام آباد سے ریل نکالی جو 6 مئی کو لاہور میں دوپہر کے قریب ختم ہوئی او ر اس میں ایک کروڑ سے زائد لوگوں نے حصہ لیا ۔ پاکستان کے چیف آف آرمی سٹاف اور صدر جنرل پرویز مشرف اور ان کے درباری اس پر بوکھلا گئے اور 12 مئی کو اس کے مقابلہ میں طاقت کا مظاہرہ کرنے کیلئے 5 لاکھ افراد کی ریلی اسلام آباد میں منعقد کرنے کا فیصلہ کیا ۔ پورے پنجاب اور صوبہ سرحد سے بھی لوگ لائے گئے ۔ جن کیلئے ایک ہفتہ پہلے سے ہی بسیں اور ویگنیں پولیس اور ٹرانسپورٹ اتھارٹی کے ذریعہ پکڑنا شروع کر دی گئیں ۔ سرکاری پارٹی کے صدر شجاعت حسین نے دعوٰی کیا تھا کہ اس ریلی پر ان کی پارٹی خرچہ کرے گی ۔ اخباری نمائندوں نے ریلیوں میں شامل لوگوں کے راستہ میں انٹرویو لئے تو معلوم ہوا کہ سب کو دھاڑی پر اور مفت سفر اور مفت اچھے کھانے کے وعدہ پر لایا گیا تھا ۔ لائے گئے سب لوگوں کی حاضری لی گئی کچھ کی موٹر وے پر ۔کچھ کی اسلام آباد داخل ہونے والے ٹول پلازہ پراور کچھ کی پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے جناح ایونیو پر کیونکہ اس کے مطابق اُنہیں ادائیگی کی جانا تھی ۔ ٹیکسلا کے ایک یونین ناظم کی ریلی میں 100 روپے دھاڑی والے مزدور تھے جو وہ سڑکوں سے اُٹھا لائے تھے ۔ عوام سے مختلف ٹیکسوں کی مد میں وصول کیا ہوا کروڑوں روپیہ اس طرح برباد کرنے کے بعد بھی سرکاری ریلی جب پارلیمنٹ کے سامنے شروع ہوئی تو اس میں ایک لاکھ سے زیادہ آدمی نہ تھے ۔

کہتے ہیں
سچائی چھُپ نہیں سکتی بناوٹ کے اصولوں سے
خوشبو آ نہیں سکتی کبھی کاغذ کے پھولوں سے

میانوالی کے ضلع آفیسر نے اپنی سادگی میں سچ بولتے ہوئے حکمرانوں کا بھانڈا بیچ چوراہے پھوڑ دیا ۔ تصویر بشکریہ ڈان اخبار ۔
میری دعا ہے کہ اللہ اس ضلع آفیسر کو حکومت کے شر سے بچائے ۔

حکومتی ریلی کی خاص بات یہ ہے کہ جب پاکستان کے چیف آف آرمی سٹاف اور صدر جنرل پرویز مشرف نے تقریر شروع کی اس وقت تمام پاکستانی اُسی دن کراچی میں مارے جانے والے 34 شہریوں اور 100 سے زائد زخمی ہونے والوں کے غم میں مبتلا تھے اور جنرل پرویز مشرف الطاف حسین کو اس کی جماعت ایم کیو ایم [جو کراچی کے قتلِ عام کی ذمہ دار تھی] کی کامیابی پر مبارکباد دے رہے تھے اور جنرل پرویز مشرف کے سامنے موسیقی کے ساتھ بھنگڑے ڈالے جا رہے تھے ۔

کراچی ۔ مزید حقائق

میں 12 مئی کو کراچی میں ہونے والے واقعات کا ایک رُخ “بدلتے دل” کے عنوان کے تحت 14 مئی کو بیان کر چکا ہوں ۔ اب تک پوری صورت حال سامنے آ چکی ہے لیکن ہمارے صدرِ محترم اور ان کے پالتو میکیاولی کے کامیابی کے فارمولے ” جھوٹ اتنا بولو کہ سچ سمجھا جانے لگے” پر قائم ہیں ۔

کچھ وکلاء کے تأثرات

چونکہ گھر میں کیبل نہیں اِس لئے باہر کے حالات سے ناواقف تھے ۔ قریب گیارہ بجے اپنے علاقے سے باہر آ کر دیکھا کیا حال ہے ۔ متحدہ کے کارکنان ماڈل موڑ پر نظر آئے اور اُن کو کوئی ارادہ ایسا نہ تھا کہ کسی کو ایئرپورٹ کی طرف جانے دیں گے ہم کافی دیر تک وہاں کھڑے رہے پھر گھر واپس آ گئے ۔ ٹیلیفون پر سنئر اور دوسرے دوستوں سے مشورہ کیا تو معلوم ہوا کہ حالات خراب ہیں، ہائی کورٹ کو متحدہ والے اسلحہ سے لیس ہو کر گھیرے میں لیئے ہوئے ہیں ۔ راستے میں بھی اُن کا راج ہے ۔ ہمارے ایک (وکیل )دوست ملیر بار سے آنے والی ریلی میں شریک تھے اُن کی زبانی معلوم ہوا کہ ملیر پندرہ اور کالا بورڈ سے تو متحدہ والوں نے ریلی کو گزرنے دیا مگر جیسے ہی ریلی ملیر ہالٹ کے قریب پہنچی تو اس جماعت کے مسلح کارکنوں نے چاروں طرف سے آگے، پیچھے، اور دائیں و بائیں جانب کے مورچوں سے جلوس پر سیدھے فائر مارے ۔ ساتھ ہی ساتھ گرنیڈ بم سے بھی حملہ کیا ۔ اُس کے بقول صرف اُس جگہ پر نہ نہ کرتے بھی کم از کم بیس سی پچس افراد ہلاک ہوئے ۔ خود اُس نے جمن گھوٹ میں پناہ لے کے جان بچائی ۔ بلوچ کالونی میں متحدہ کے بدمعاشوں کے ہاتھوں نشانہ بننے والے جلوس میں بھی ہمارے ایک سینئر شامل تھے ۔ وہ بھی بڑی مشکل سے جان بچا کر گھر پنہنچے ۔

بشکریہ شعیب صفدر صاحب

مکمل حالات کا خلاصہ

کراچی میں سنیچر [12 مئی] کے دن جو خونریزی اور ہنگامہ آرائی ہوئی، پاکستان کے اس سب سے بڑے شہر میں رہنے والوں نے وہ سب کچھ ٹی وی کی سکرین پر دیکھا، اور پھر شام ڈھلے جب لاشوں اور زخمیوں کو اٹھانے کا کام ابھی جاری تھا تو ٹی وی کیمروں کا رخ اسلام آباد کی جانب ہو گیا، جہاں صدر جنرل پرویز مشرف کی حمایت میں نکالی جانے والی ریلی میں شامل گروہ ڈھول کی تھاپ پر بھنگڑہ ڈال رہے تھے۔ اسی ریلی میں جنرل مشرف نے بلٹ پروف پوڈیم کے پیچھے کھڑے ہو کر سندھ میں اپنی حلیف جماعت متحدہ قومی موومنٹ کے بقول ’کامیابی‘ پر اسے خراج تحسین پیش کیا۔

یہ سب دیکھ کر کراچی کے رہنے والے یہ سوچنے پر مجبور ہوگئے کہ کیا وہ اب تک پاکستان ہی کا حصہ ہیں؟ وہ کہتے ہیں کہ اگر خون خرابہ کرنے والے دہشتگرد ہیں تو حکومت انہیں روکنے یا پکڑنے کی بجائے اپنی پیٹھ کیوں تھپک رہی ہے؟ اور جس ایم کیو ایم کو کراچی میں ہنگامہ آرائی کے لیے قصور وار ٹھہرایا جا رہا تھا اسی جماعت کو اسلام آباد کے سرکاری پنڈال میں شاباش کیوں دی جا رہی تھی؟

پاکستانی میڈیا پر ایک جانب تو حکومت کا دباؤ رہتا ہے اور دوسری جانب شدت پسند سیاسی، مذہبی اور لسانی تنظیموں کی جانب سے دھمکیاں اور مسلح حملے۔ ایسے میں کھل کر کسی ایک فریق کا نام لینا مقامی میڈیا کے لیے تو شاید ممکن نہیں لیکن کراچی میں میں نے چشم دیدگواہوں اور مقامی صحافیوں سے جو کچھ سنا، اور اپنی آنکھوں سے جو کچھ دیکھا، اس سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ متحدہ قومی موومنٹ نے نہ صرف چیف جسٹس کی کراچی آمد کو بہانہ بنا کر اپنی عسکری طاقت کا مظاہرہ کیا، بلکہ اس کی باقاعدہ منصوبہ بندی کی گئی تھی۔ شہری اور صوبائی حکومتیں تو ایم کیو ایم کی اپنی تھیں ہی، شواہد یہ ہیں کہ مرکزی حکومت نے بھی یا تو ایم کیو ایم کو کھلی چھوٹ دیے رکھی اور یا وہ خود اس منصوبہ بندی کا حصہ تھی جس کے تحت ویک اینڈ پر کراچی میں اکتالیس ہلاکتیں ہوئیں، سینکڑوں زخمی ہوئے اور درجنوں گاڑیوں اور موٹر سائکلوں کو جلا دیا گیا۔

شاہراہ فیصل کو، جو شہر کی مرکزی گذرگاہ ہے، جمعے کی شام سے ہی بلاک کرنے کا کام شروع ہو گیا تھا۔ چشم دید گواہوں کے مطابق کہیں پولیس نے اور کہیں ایم کیو ایم کے مسلح کارکنوں نے بسوں، ٹرکوں اور ٹرالرز کو چھین کر انہیں ناکارہ بنایا اور پھر انہیں رکاوٹوں کے طور پر استعمال کیا۔ شاہراہ فیصل سے بیسیوں نہیں شاید سینکڑوں راستے نکلتے ہیں۔ ان سب کو بند کرنا، اور اس طرح کہ ایک گواہ کے مطابق وہاں سے موٹر سائکل سوار بھی نہ گذر سکے، اچھا خاصا بڑا کام ہے۔ یہ کوئی ایسی کارروائی نہیں جو چھپ چھپا کر ہو سکے اور قانون نافذ کرنے والوں کو پتا بھی نہ چلے۔ یہ کارروائی رات دو بجے تک مکمل ہو چکی تھی، اور شاہراہ فیصل ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند ہو چکی تھی۔ کراچی ائرپورٹ پر میں ایسے مسافروں سے بھی ملا جو سنیچر کی رات گیارہ بجے کے قریب وہاں پہنچے لیکن ہوائی اڈے کی عمارت سے باہر نہ جا سکے۔

پھر سندھ کے وکیلوں کو چیف جسٹس کے استقبال کے لیے ائرپورٹ، اور ان کا خطاب سننے کے لیے ہائی کورٹ پہنچنے سے روکنے کے لیے بھی تمام انتظامات پہلے سے کیے گئے تھے۔

ہائی کورٹ اور سٹی کورٹس کی عمارات پر پولیس کا پہرہ اور ان کے ارد گرد ایم کیو ایم کی ٹولیوں کی موجودگی سے یہ یقینی بنایا گیا کہ وکلاء ان عمارات میں نہ پہنچ سکیں اور جو پہنچ جائیں وہ باہر نہ آ سکیں۔ ملیر بار ایسوسی ایشن کے ارکان، جو چیف جسٹس اور ان کے ساتھیوں کے میزبان ہونے کے ناطے انہیں ائرپورٹ سے جلوس کی صورت میں لے جانا چاہتے تھے، ملیر کی حدود سے باہر بھی نہ آ پائے۔ میں چیف جسٹس کے ساتھ اسلام آباد ائرپورٹ پر موجود تھا، اور کراچی کی پرواز میں ابھی پندرہ بیس منٹ باقی تھے جب ان کے ایک وکیل کو فون پر ملیر بار کے ایک رکن نے بتایا کہ ایم کیو ایم کے لوگ ان سے مار پیٹ کر رہے ہیں اور ائرپورٹ کا رخ کرنے کی صورت میں اس سے بھی برے نتائج کی دھمکی دے رہے ہیں۔

وکلاء تو خیر ان سے کیا لڑتے لیکن اپوزیشن سیاسی جماعتوں اور کچھ مذہبی اور لسانی گروہوں کی ریلیوں میں بھی مسلح افراد موجود تھے۔ ان سے نمٹنے کے لیے ایم کیو ایم نے الگ حکمت عملی بنا رکھی تھی۔ سینئر صحافی ایاز امیر کے مطابق، جو سنیچر کو متاثرہ مقامات کا دورہ کرتے رہے، ایم کیو ایم نے مخالفین کی ریلیوں پر گھات لگا کر حملے کیے۔

ایم کیو ایم کے پاس اسلحہ بارود کس کثرت سے تھا اور ان کے لڑنے کا انداز کس قدر پیشہ ورانہ تھا اس پر ’آج’ ٹی وی کے ایک صحافی نے جنہوں نے بہت قریب سے اپنے دفتر پر ہونے والا حملہ بھی دیکھا تھا، تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ فوجیوں کی سی پھرتی سے پوزیشنیں سنبھالتے اور بدلتے رہے اور ان کے لیے بارود کی سپلائی بغیر وقفے کے چلتی رہی، جس کی بنا پر وہ چھ گھنٹے سے زیادہ گولی باری کرتے رہے۔

ایم کیو ایم کا کہنا ہے کہ چیف جسٹس کی کراچی آمد ایک سازش کا حصہ تھی جس کا جواب دینے کے لیے اسے یہ سب تیاری کرنا پڑی جس میں شاہراہ فیصل کو بند کرنا بھی شامل تھا۔ تاہم جماعت کے ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ تشدد کی ابتدا ان کے مخالفین کی جانب سے ہوئی۔ کراچی میں قریباً پچیس ہزار کے قریب پولیس اہلکار ہیں جو صوبائی حکومت کے زیر نگرانی ہیں، اور ان کے علاوہ دس ہزار سے زیادہ رینجر بھی شہر میں موجود تھے، جو وفاقی حکومت کے ملازم ہیں اور گورنر کے حکم پر کام کرتے ہیں۔ ایم کیو ایم کے پاس شہری اور صوبائی حکومت کے بیشتر اختیارات تو ہیں ہی، گورنر بھی اسی جماعت کے ایک رہنما ہیں۔ ان حالات میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی حساس مقامات سے غیر حاضری یا جیسے ٹی وی پر دیکھا گیا کہ بلوائی کھلے عام گھوم رہے ہیں اور اہلکار ان کے قریب ہی منہ پھیرے کھڑے ہیں۔ اس صورتحال میں یہ کہنا بالکل بجا ہو گا کہ سکیورٹی اہلکار اس روز غیر جانبدار نہیں تھے۔

پھر چیف جسٹس کی کراچی آمد کے دن ہی ایم کیو ایم کا ریلی نکالنے پر اصرار بھی معنی خیز تھا۔ صوبے کے چیف سیکرٹری نے کم از کم ایک ہفتہ پہلے بتایا تھا کہ ان کے پاس خفیہ معلومات ہیں جن سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ چیف جسٹس کی آمد پر ہنگامے ہو سکتے ہیں۔ لیکن ان معلومات کو صرف چیف جسٹس کا دورہ مؤخر کرنے کی کوشش میں استعمال کیا گیا، عوام کی سکیورٹی کے لیے کچھ بھی نہیں کیا گیا۔ اور ایک طرح سے ایم کیو ایم کو کھلی چھوٹ دی گئی۔ اس پر وزیر اطلاعات کا یہ کہنا کہ سنیچر کو پیش آنے والے واقعات کا پہلے سے اندازہ نہیں لگایا جا سکتا تھا، کسی کی بھی سمجھ سے بالا تر ہے۔ اور پھر سب سے اہم بات تو خود صدر جنرل پرویز مشرف نے کہی، جنہوں نے اسلام آباد کی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کراچی کے عوام نے اپنی طاقت دکھا دی ہے۔ اور یہ کہ اس سے یہ ثابت ہو گیا ہے کہ پورے ملک کے عوام ان کے ساتھ ہیں۔

بشکریہ بی بی سی

تعليم ۔ انگريزی اور ترقی

ہمارے اربابِ اختيار انگريزی دانی پر تُلے رہتے ہيں ۔ اُن کا کہنا ہے کہ انگريزی کے بغير ترقی نہيں ہو سکتی ۔ ہم لوگ “اپنے ملک پر انگریزوں کے قبضہ سے پہلے کے نظام” کو کوستے اور “ہمارے لئے انگریزوں کے قائم کردہ تعلیمی نظام” کی تعریفیں کرتے نہیں تھکتے ۔ ملاحظہ ہو ایک تاریخی حقیقت جو شائد صرف چند ایک پاکستانیوں کے علم میں ہو گی ۔ لیکن پہلے ایک لطیفہ ۔ ايک اَن پڑھ ديہاتی کے بيٹے لندن ميں آباد ہو گئے ۔ جب اُن کا کاروبار چل پڑا تو اُنہوں نے اپنے والد صاحب کو بُلا کر برطانيہ کی سير کرائی ۔ چار ماہ بعد جب وہ واپس گاؤں پہنچے تو گاؤں کے لوگ ان سے ملنے آئے ۔ ايک نے کہا “سنا ہے برطانيہ کے لوگ بہت ترقی کر گئے ہيں”۔ برطانيہ پلٹ ديہاتی نے فوراً کہا ” ترقی ؟ ایسی ترقی کی ہے اُنہوں نے کہ اُن کا بچہ بچہ انگريزی بولتا ہے”۔

ہندوستان کے گورنر جنرل کی کونسل کے پہلے رُکن برائے قانون لارڈ میکالے [Lord Macaulay] کے برطانیہ کی پارلیمنٹ کو 2 فروری 1835 عیسوی کے خطاب سے اقتباس ۔

“I have traveled across the length and breadth of India and I have not seen one person who is a beggar, who is a thief, such wealth I have seen in this country, such high moral values, people of such caliber that I don’t think we would ever conquer this country unless we break the very backbone of this nation which is her spiritual and cultural heritage and, therefore, I propose that we replace her old and ancient education system, her culture, for if the Indians think that all that is foreign and English is good and greater than their own, they will lose their self-esteem, their native culture and they will become what we want them, a truly dominated nation”.

ميں نے ٹيکنيکل کالج اور يونيورسٹی ميں انجنيئرنگ کے مضامين پڑھائے ہيں ۔ اس کے علاوہ انگريزی بھی پڑھائی ہے ۔ ميری پوری کوشش ہوتی تھی کہ جو بات طلباء کو سمجھ نہ آئے وہ انگريزی ہی ميں سمجھاؤں ۔ ليکن صورتِ حال يہ تھی کہ کئی طلباء امتحان ميں پرچہ تو صحيح حل کر ليتے تھے مگر ان سے پوچھا جائے تو پتہ چلتا کہ بات ان کو سمجھ نہيں آئی ۔ آخرِ کار مجھے اُنہيں اُردو ميں سمجھانا پڑتا ۔ اصل بات يہ ہے کہ قصور طلباء کا نہيں ۔ کوئی بھی طالب عِلم فطری طور پر صحيح سمجھ اور بہترين اظہار صرف اپنی زبان ميں ہی کر سکتا ہے ۔

ميں نے ميٹرک تک سائنس اور رياضی اردو ميں پڑھے ۔ اس کے بعد سب کچھ انگريزی ميں پڑھا ۔ اُردو بطور زبان ميں نے پہلی سے آٹھويں جماعت تک پڑھی تھی اور انگريزی بطور زبان پہلی سے بارہويں جماعت تک ۔ میں نے اردو اور انگريزی کو اچھی طرح پڑھا تھا چنانچہ مجھے ميٹرک کے بعد سب کچھ انگريزی ميں پڑھنے ميں خاص مشکل پيش نہ آئی ۔

اگر ترقی انگريزی پڑھنے سے ہو سکتی ہے تو پھر جرمنی ۔ فرانس ۔ چين ۔ جاپان ۔ ملائشيا وغيرہ نے کيسے ترقی کی وہاں تو ساری تعليم ہی ان کی اپنی زبانوں ميں ہے ۔ بارہويں جماعت ميں ہمارے ساتھ پانچ لڑکے ايسے تھے جو کہ خالص انگريزی سکول سينٹ ميری [Saint Marry] ميں پڑھ کے آئے تھے ۔ ان ميں سے تين لڑکے بارہويں کے امتحان ميں فيل ہوگئے ۔ اور باقی دو بھی انجنيئرنگ يا ميڈيکل کالج ميں داخلہ نہ لے سکے ۔ جب کہ ہمارے کالج کے اُردو ميڈيم والے 12 لڑکوں کو انجنيئرنگ کالجوں ميں داخلہ ملا ۔ ميڈيکل کالجوں ميں بھی ہمارے کالج کے کئی لڑکوں اور لڑکيوں کو داخلہ ملا جو سب اُردو میڈیم کے پڑھے ہوئے تھے ۔

ہماری قوم کی پسماندگی کا اصل سبب ہر دوسرے تيسرے سال بدلتے ہوئے نظامِ تعليم کے علاوہ تعليم کا انتہائی قليل بجٹ اور ہمارے ہاں اساتذہ کی تنخواہيں باقی سب اداروں سے شرمناک حد تک کم ہونا ہے ۔ ذوالفقار علی بھٹو کے دور ميں سوائے غیر ملکی ملکیت میں چلنے والے تعلیمی اداروں کے سب تعليمی ادارے قوميا کر ان ميں سياست کی پنيری لگا دی گئی اور ملک ميں تعليم کا تنزل تیزتر ہو گيا ۔ پھر انگريزی اور بين الاقوامی معيار کے نام پر مہنگے تعليمی ادارے بننا شروع ہوئے ۔ ہماری موجودہ حکومت نے تو ثابت کر ديا ہے کہ اچھی تعليم حاصل کرنا صرف کروڑ پتی لوگوں کی اولاد کا حق ہے ۔ اور عوام کی تعليم کو ایک ميٹرک پاس ريٹائرڈ جرنيل کے رحم و کرم پر چھوڑ ديا گيا ہے جس نے پریس کانفرنس میں کہا “ہم اسلامیات کو سلیبس سے نہیں نکال رہے ۔ ہم سکولوں میں قرآن شریف کے پورے 40 سپارے پڑھائیں گے” ۔ ایک صحافی نے سوچا کہ شائد غلطی سے زبان سے 40 نکل گیا ہے اور تصدیق چاہی تو وزیرِ تعلیم نے پھر کہا “ہاں ۔ 40 سپارے”۔