Category Archives: روز و شب

کمپیوٹر سے پہلی ملاقات

محب علوی صاحب نے کچھ دن قبل اسلام آباد کے سِیرینا ہوٹل میں ایک کمپیوٹر سافٹ ویئر کانفرنس کا حال لکھا تھاجس نے مجھے گذرا زمانہ یاد کرا دیا ۔ ستمبر 1985 عیسوی میں مجھے جنرل منیجر ایم آئی ایس [Management Information Systems] لگا دیا گیا ۔ ایم آئی ایس میں پاکستان کا پہلا اور سب سے بڑا کمپیوٹر سنٹر تھا جس میں آئی بی ایم کا مین فریم کمپیوٹر نصب تھا ۔ اُن دنوں مجھے کمپیوٹر کی سُدھ بُدھ نہ تھی ۔ جو صاحب کمپیوٹر سینٹر کے انچارج تھے وہ مجھ سے بہت جونیئر تھے مگر اسی گریڈ میں پہنچ گئے تھے جس میں کہ میں تھا ۔ اُنہوں نے مجھے اتنا ڈرایا کہ جیسے میں ساری عمر کمپیوٹر کو سمجھ نہ سکوں گا ۔

اللہ کا کرنا ایسا ہوا کہ وسط 1986 عیسوی میں مجھے Computerised Inventory Management System کی development اور implementation کا پروجیکٹ دے دیا گیا ۔ میرے لئے Inventory Management System تو مشکل کام نہ تھا کیونکہ یہ پروجیکٹ تو اللہ کے فضل سے میں 1970 عیسوی سے قبل اپنی فیکٹری کیلئے سرانجام دے چکا تھا جہاں ہزاروں قسم کے materials اور tooling تھی مگر کمپیوٹر سینٹر کے انچارج مجھے کمپیوٹر سینٹر سے دور رکھنے کیلئے پورا زور لگا رہے تھے ۔ میں نے بغیر اس کی شکائت کئے زیادہ کام کا بہانہ بنا کر اعلٰی سطح پر بات کی اور تین پی سی XT8088 خرید لئے اُن میں 20MBکی ہارڈ ڈسک ڈرائیوز لگی ہوئی تھیں جسے دیکھنے کیلئے دُور دُور سے لوگ آتے تھے کیونکہ آئی بی ایم کے مین فریم کمپیوٹر کی Storage capacity کل 50MB تھی ۔ میں نے دو اور انجنیئروں کو ساتھ ملا کر ان کمپیوٹروں پر ابتدائی کام شروع کردیا ۔

تمام کوائف اکٹھا کرنے کے بعد جب میں نے سسٹم اور مطلوبہ صفحات ڈیزائین کر لئے تو کمپیوٹر سینٹر کو مربوط سافٹ ویئر ڈویلوپ کرنے کا حکم دلوا دیا ۔ دو ماہ گذر گئے مگر کمپیوٹر سینٹر کے درجن بھر ماہرین کچھ بھی نہ کر سکے ۔ نتیجہ یہ ہوا کہ ڈنمارک کی ایک کمپنی کے متعلقہ ماہرین کی خدمات حاصل کی گئیں جو بنا بنایا پیکیج دینا چاہتے تھے مگر وہ ہمارے کام کیلئے زیادہ مفید نہ تھا ۔ فیصلہ ہوا کہ میں اُن کے ساتھ مل کر کام کروں گا ۔ پراجیکٹ بہت وسیع اور مشکل تھا پھر بھی اللہ سُبحانُہُ و تعالٰی نے 18 ماہ میں سافٹ ویئر ڈیویلوپ کرا دی ۔ جب data entry کا وقت آیا ۔ تب مجھے خیال آیا کہ اگر ایک آئیٹم کو غلطی سے دو بار فَولِیو الاٹ کردیا ۔ یا ایک فَولِیو پر دو آئیٹم درج کر دیئے ۔ تو ایسی غلطی پکڑنا بہت ہی مشکل ہو گا کیونکہ آئیٹمز کی تعداد پچاس ہزار سے زیادہ تھی اور یہ مختلف فیکٹریوں سے تعلق رکھتے تھے ۔ میں نے پھر کمپیوٹر سنٹر کے انچارج سے کہا کہ کوئی ایسی سافٹ ویئر بنا دیں کہ duplication نہ ہو ایک ماہ گذر جانے کے بعد بھی اُنہوں نے کوئی جواب نہ دیا ۔

میں مئی 1987 عیسوی میں اپنا ذاتی پی سی خرید چکا تھا اور میرا بڑا بیٹا زکریا اس پر 4 ماہ کی طبع آزمائی کا تجربہ حاصل کر چکا تھا ۔ میں نے زکریا سے کہا کہ مجھے ایسا پروگرام بنا دے کہ duplication نہ ہو ۔ اس نے مجھے دو تین دن میں BASIC میں ایک چھوٹا سا پروگرام لکھ کر دیا جس کی میں نے testing کی اور وہ ٹھیک ثابت ہوا ۔ اس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ Computer work میں شوق سے کامیابی ہوتی ہے نہ کہ اسناد [Certificates] اکٹھا کرنے سے ۔ بدقسمتی سے ہمارے ملک میں اسناد اکٹھا کرنے کا شوق بہت ہے ۔ کام کرنے والے کم ہیں ۔ ہمارے کمپیوٹر سینٹر کے انچارج صاحب نے آئی بی ایم کی کئی درجن اسناد حاصل کی ہوئی تھیں ۔

مُنصِف کی حِسِ مزاح

حکومتی ریفرینس کے خلاف چیف جسٹس صاحب کی پیٹیشن سنتے ہوئے عدالتِ عُظمیٰ کے 13 رُکنی بنچ کے سربراہ جسٹس خلیل الرحمان رمدے صاحب نے کہا ” اگر حکومتی وکلاء کی باتیں مان لی جائیں تو ایک دن ہمارے گھر والے بھی سپریم کورٹ کے باہر یہ بینر لے کر کھڑے ہوں گے ” ۔

سپریم کورٹ کا بتا کر گئے تھے اور اب تک واپس نہیں آئے

Action & Not Propaganda ڈفلی نہیں ۔ عمل ۔

میں زندگی بھر صحرا نورد اور طالبِ علم رہا ہوں ۔ میرا زیادہ وقت علمِ نافع کی کھوج میں گذرتا ہے تاکہ میں اپنی سمت درست سے درست تر کر سکوں ۔ تقاضہ کیا گیا تھا کہ اُردو محفل میں حاضری دوں ۔ چنانچہ میں نے وسط مئی میں اُردو محفل کی رُکنیت اختیار کی ۔ میں سمجھا تھا کہ فلاحی نظریات کی ترویج کیلئے مجھے دعوتِ دی گئی اور اسی لئے دو درجن خواتین و حضرات نے میرا پُر جوش خیر مقدم کر کے میری حوصلہ افزائی کی ۔ اس یقین اور اُمید کے ساتھ کہ سب نہ صرف جانتے ہیں بلکہ حامی ہیں ۔ میں نے ایک ایسے موضوع سے آغاز کیا جو زبان زدِعام ہے اور اہلِ وطن کی اکثریت اپنی نجی محافل میں اس پر گُل فشانی کرتی رہتی ہے یعنی بہبودِ عامہ ۔

میں نے 21 اور 23 مئی کو یہ موضوع اُردو محفل کے سامنے رکھا مگر “جو بیچتے تھے دوائے دل وہ دُکان اپنی بڑھا گئے ” کے مِصداق ایک ماہ گذرنے کے بعدبھی میری التماس توجہ کی محتاج ہے ۔ بہبودِ عامہ ہر شخص کی ذمہ داری ہے ۔ بہبودِ عامہ ایسا فعل ہے جس سے کوئی مالی یا مادی فائدہ وابستہ نہ ہو اور نہ بڑائی یا مشہوری یا سند یا منظورِ نظر بننے کی خواہش ۔ بہبودِ عامہ ہر کوئی کر سکتا ہے خواہ وہ مالدار ہو یا نہ ہو ۔ پڑھا لکھا ہو یا نہ ہو ۔ تجربہ کار ہو یا ناتجربہ کار ۔ بوڑھا ہو یا جوان ۔ مذکر ہو یا مؤنث ۔ صرف عقل اور ارادہ شرط ہے ۔

آجکل پاکستان میں ہزاروں این جی اوز ہیں جو اپنا نصب العین تو بہبودِ عامہ بتاتی ہیں مگر اصل مقاصد کچھ اور ہیں ۔ بلا شبہ ایسے ادارے ہیں جو بہبودِ عامہ کا کام کر رہے ہیں لیکن ان کا دائرۂِ اختیار محدود کر دیا گیا ہے ۔ اسلام آباد میں چار درجن این جی اوز ہیں [ان میں وہ شامل نہیں جو خاموشی سے بہبودِ عامہ کا کام کر رہے ہیں اور اپنے آپ کو این جی او نہیں کہتے] ۔ میں نے پچھلے دس سال میں اسلام آباد کی اکثر این جی اوز کے دفاتر میں جا کر ان کے اغراض و مقاصد اور کام کے متعلق معلومات حاصل کیں اور صرف معدودے چند کو فعال پایا باقی سب صرف لفاظی نکلی ۔

ہمارے ملک میں عام آدمی کی اکثریت کو معلوم نہیں کہ فرائض اور ذمہ داریوں میں کیا فرق ہوتا ہے ۔ نہ کسی کو معلوم ہے کہ اس کے فرائض کیا ہیں ۔ نہ پتہ ہے کہ ذمہ داریاں کیا ہیں ۔لیکن حقوق کا بہت شور شرابہ ہے ۔ جب کوئی اپنے حق کی بات کرتا ہے تو دراصل وہ دوسروں کی ذمہ داری کی بات کر رہا ہوتا ہے کیونکہ ہر حق کے ساتھ ذمہ داری منسلک ہوتی ہے ۔ ہماری چھوٹی چھوٹی ذمہ داریاں ہیں جو ہم پوری نہیں کرتے نتیجہ یہ کہ قوم انحطاط کا شکار ہے ۔ کیا ہر شخص کو پہلے اپنی ذمہ داریوں کو نہیں پورا کرنا چاہیئے تاکہ وہ دوسروں کیلئے مثال بنے اور پھر دوسرے بھی اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے کا سوچیں جو باقی لوگوں کے حقوق ملنے کا باعث بنیں ؟

ہم پاکستانی ۔ ڈھنڈورہ اور حقیقت

سیٹیلائیٹ ٹاؤن راولپنڈی میں ایک نجی رفاہی ادارہ ہے جو تھیلاسیمیا میں مبتلا بچوں کے علاج کا بندوبست کرتا ہے اور پورے اخراجات خود برداشت کرتا ہے ۔ یہ ادارہ کئی دہائیوں سے یہ خدمت سرانجام دے رہا ہے ۔ اللہ کے بندے اس ادارہ کے ساتھ تعاون کرتے ہیں ۔ اس ادارہ کا انتظام اور تعاون کرنے والے سب ایشیائی مسلمان ہیں اور اکثریت پاکستانیوں کی ہے ۔

پاکستان میں اس قسم کے اور بھی کئی ادارے ہیں جنہیں پاکستانی مسلمان ہی چلا رہے ہیں ۔ یہ ادارے پاکستان کی حکومت یا یورپی یا امریکی حکومت یا اداروں کی مدد کے بغیر چل رہے ہیں اور مختلف قسم کے رفاہی کام محنت اور خلوص کے ساتھ انجام دے رہے ہیں [یہ ادارے این جی او نہیں کہلواتے] ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ جیسا ہماری قوم کو مسلمان ہونے کی حیثیت میں ہونا چاہیئے اس کا پاسکو بھی نہیں لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ پاکستان میں بسنے والے سب خودغرض ہیں ۔

سیٹیلائیٹ ٹاؤن والے ادارےکو ماہانہ 40 بوتل خون درکار ہوتا ہے چنانچہ وہ خون جمع کرنے لئے کیمپ لگاتے ہیں ۔ ان کا تجربہ ہے کہ ترقی یافتہ طبقہ کی نسبت غیر ترقی یافتہ لوگ رفاہِ عامہ کے کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں ۔ اس کی تازہ ترین مثال انہوں نے خون جمع کرنے کے اپنے حالیہ کیموں کی دی ۔ ایک عالی شان یونیورسٹی میں کیمپ لگایا گیا جہاں طلباء اور طالبات کی تعداد کئی ہزار تھی اور بمشکل 22 بوتل خون حاصل ہوا ۔ جامعہ فریدیہ میں کیمپ لگایا تو 87 بوتل خون ملنے پر روکنا پڑا کیونکہ وہ صرف 90 بوتلیں لے کر گئے تھے جن میں سے تین ضائع ہو گئی تھیں ۔ جامعہ فریدیہ میں طلباء کی تعداد ایک ہزار سے کم تھی ۔ کیا کہا جائے اُن لوگوں کو جو مدرسوں کے طلباء کو جاہل ۔ انتہاء پسند ۔ دہشتگرد کہتے ہیں ؟

کچھ پاکستانی نہ جانے کن اثرات کے تحت مسلمانوں اور پاکستانیوں میں کیڑے نکالتے رہتے ہیں ۔ کیا ان کیلئے بہتر نہیں کہ دوسروں میں کیڑے نکالنے کی بجائے وہ اپنی اصلاح کریں ؟ آخر ایسے خواتین و حضرات یہ کیوں بھول جاتے ہیں وہ خود بھی پاکستانی ہیں ۔

پاکستانی بہن بھائیوں سے درخواست ہے کہ حقائق کی چھان بین کئے بغیر وہ اپنی قوم اور ملک کو بدنام کرنے سے پرہیز کیا کریں ۔

غیرقانونی تجاوزات

تجاوزات تو ہوتے ہی غیر قانونی ہیں لیکن حال ہی میں ہماری حکومت نے بات زوردار بنانے کیلئے ساتھ غیرقانونی لکھنا ضروری سمجھا ۔ “میرا پاکستان” پر اسلامی نظریاتی کونسل کے سربراہ ڈاکٹر خالد مسعود کا بیان کہ “قابض جگہوں پر مساجد کی تعمیر غیر قانونی ہے” پڑھا تو کچھ حقائق پر روشنی ڈالنا ضروری سمجھا ۔ اسلامی نظریاتی کونسل کے سربراہ حاکم وقت اپنی سہولت کے مطابق مقرر کرتے آئے ہیں ۔کسی زمانہ میں ایک سربراہ کا مؤقف تھا کہ روزانہ صرف تین نمازیں فرض ہیں ۔

ہمارے ملک میں تجاوزات اور ان کے سدِباب کی کہانی بہت پرانی ہے ۔ ہم 1949 سے 1964 عیسوی تک جھنگی محلہ راولپنڈی میں رہتے تھے ۔ ہمارے مکان کا فرش گلی سے دو فٹ اُونچا تھا اسلئے دروازے کے سامنے ایک چھوٹا سا پُشتہ ایک سیڑھی کے ساتھ بنا ہوا تھا ۔ ایک دن میں کالج سے گھر پہنچا تو دیکھا کہ سیڑھی اور پُشتہ غائب ہے تو بڑی مشکل سے گھر میں داخل ہوا ۔ پوچھا تو معلوم ہوا کہ میونسپل کمیٹی کے آدمی گرا گئے ہیں کہ یہ تجاوز تھا ۔ میں نے کہا کہ ہماری ہی گلی میں ایک مکان کا پُشتہ اس سے بڑا ہے وہ تو نہیں گرایا تو بتایا گیا کہ وہاں اس سکول کے ہیڈ ماسٹر صاحب رہتے ہیں جہاں گرانے والوں میں سے کسی کا بیٹا پڑھتا ہے ۔

کیپیٹل ڈویلوپمنٹ اتھارٹی [سی ڈی اے] نے اس سال 7 مساجد مع تلاوتِ قرآن سکھانے کے مدرسوں کے گرا دیں ۔ مزید 80 مساجد اور مدارس کو گرانے کے نوٹس دے دئیے ۔ یہ وہ مساجد یا مدارس ہیں جو اُن بڑی سڑکوں کے قریب ہیں جہاں سے کسی وی آئی پی کا گذر ہو سکتا ہے ۔ ان میں ایک مسجد مری روڈ کے قریب وڈیروں کے فارم ہاؤسز کے سامنے ایک صدی پرانی تھی اور ایک مسجد شاہراہ اسلام آباد پر خود سی ڈی اے نے 25 سال قبل تعمیر کی تھی ۔ جو مساجد اور مدارس گرائے گئے یا جنہیں گرانے کے نوٹس جاری کئے گئے ان میں اکثریت ایسی مساجد اور مدارس کی ہے جو حکومتِ وقت کے مہیا کردہ فنڈز سے تعمیر ہوئے تھے ۔

ہمارے ملک میں بااثر اور ناجائز طاقت کے مالک جہاں بھی ہوں سرکاری زمین اور دوسرے لوگوں کی ملکیت پر ناجائز قبضے کرتے رہتے ہیں اور اُن کے خلاف کسی حکومتی ادارے نے کبھی آواز نہیں اُٹھائی بلکہ حکومتی اہلکار ان کے پُشت پناہ ہوتے ہیں ۔ اسلام آباد میں بہت سے ایسے غیرقانونی تجاوزات میرے علم ہیں ۔کئی کے خلاف محلے والوں نے جن میں بھی شامل تھا آواز اُٹھائی ۔ اخباروں کو اور حکومتی اہلکاروں کو لکھا مگر بے سود ۔

ہماری رہائش گاہ سے 500 میٹر کے فاصلہ پر ایک مسجد مشرق کی طرف اور ایک جنوب مغرب کی طرف سرکاری زمین پر ناجائز اور غیرقانونی قبضہ کر کے بغیر نقشہ پاس کرائے بنائی گئیں تھیں مگر نہ گرائی گئیں نہ گرانے کا نوٹس دیا گیا ۔ جو مسجد جنوب مغرب میں ہے وہ ایسی جگہ پر قبضہ کر کے بنائی گئی جس کی رفاہِ عامہ کیلئے عمدہ منصوبہ بندی اسلام آباد کے ماسٹر پلان میں شامل تھی ۔

سٹریٹ نمبر 30 سیکٹر ایف 8/1 اسلام آباد کو ایک برساتی نالہ کراس کرتا ہے ۔ سڑک کے جنوبی جانب اس نالے کے مغرب کی طرف اسلام آباد کالج فار گرلز ہے اور مشرقی جانب کوٹھی نمبر 15 ہے جس کی الاٹ شدہ زمین 2000 مربع گز ہے ۔ اس کوٹھی کے مالک نے تقریباً 25 فٹ چوڑی اور 180 فٹ لمبی [500 مربع گز] سرکاری زمین اپنی کوٹھی میں شامل کر کے اپنے پلاٹ کا سائیز 2500 مربع گز بنا لیا ہوا ہے ۔ اس علاقہ میں 500 مربع گز  زمین کی قیمت ڈیڑھ کروڑ روپے سے زائد ہے ۔

سٹریٹ نمبر 51 سیکٹر ایف 7/۱ اسلام آباد پر حکومتی پارٹی کے رکن قومی اسمبلی کا گھر ہے ۔ اس نے سی ڈی اے سے اجازت لی کہ وہ اپنے گھر سے ملحقہ زمین میں پارک بنائے گا [مطلب تھا پبلک پارک] لیکن اس نے متعلقہ زمین کے گرد اُونچی دیوار بنا کر کئی ایکڑ  زمین اپنی کوٹھی میں شامل کر لی ہے ۔ ایک ایکڑ 4840 مربع گز ہوتا ہے ۔ اس علاقہ میں ایک ایکڑ  زمین کی قیمت 15 کروڑ  روپے سے زائد ہے ۔

راولپنڈی سے شاہراہ شیرشاہ سوری پر پشاور کی طرف روانہ ہوں تو آرمی کالج آف الیکٹریکل اینڈ مکینیکل انجنیئرنگ کے بعد سڑک کے بائیں ہاتھ اُونچائی پر ایک گنبد بنا ہوا ہے جو سڑک کے اندر گھُسا ہوا ہے ۔ یہ بظاہر مقبرہ ہے ۔ یہ 1964 اور 1968 عیسوی کے درمیان مکمل کیا گیا اورکسی قبضہ گروپ کی ملکیت ہے جو قبر پرستوں کےچڑھاوے وصول کرتا ہے ۔ یہاں کوئی آدمی دفن نہیں ہے اور اس جگہ پر اس وقت ناجائز قبضہ کیا گیا جب شاہراہ شیر شاہ سوری کو دوہرا کرنے کا اعلان ہوا تھا ۔

تصویر کا دوسرا رُخ یہ ہے کہ راولپنڈی میں ایک قبضہ گروپ ڈویلوپر کے حقیقی تجاوزات کے خلاف ایکشن لینے پر حکومتِ پنجاب نے دو سکریٹریوں [سیکریٹری ہاؤسنگ اور سیکریٹری انفارمیشن] کو حال ہی میں ملازمت سے علیحدہ کر دیا ہے ۔ اس کی تفصیل یہاں کلک کر کے پڑھیئے ۔

پڑے سردی مریں غریب ۔ آئے گرمی مریں غریب

ملاحظہ ہوں ہمارے قابل خفیہ اداروں کا ایک اور کارنامہ بی بی سی کے ذوالفقار علی کی زبانی

پاکستان کی سپریم کورٹ کے ایڈیشنل رجسٹرار حماد رضا کے قتل کے الزام میں گرفتار کیے جانے والے پانچ ملزمان کے عزیزوں کا کہنا ہے کہ وہ بےگناہ ہیں اور وقوعے کے روز وہ سب کے سب اپنے اپنے گھروں میں موجود تھے۔ گرفتار ہونے والے پانچ میں سے چار افراد کا تعلق وادی نیلم کے گاؤں نیلم سے ہے اور ان میں سے تین سگے بھائی ہیں۔ چار افراد ابھی تک پولیس کی حراست میں ہیں جبکہ پانچویں کو رہا کر دیا گیا ہے۔ اس گاؤں کے زیادہ تر لوگ محنت مزدوری اور کھیتی باڑی کرتے ہیں اور ان کی مالی حالت پسماندہ دکھائی دیتی ہے۔حراست میں لیے جانے والے چاروں افراد کے گھروں کی مالی حالت بظاہر دوسروں سے مختلف نہیں۔

حماد رضا کے قتل کے الزام میں گرفتار کیے جانے والے شریف الدین گیلانی کی اہلیہ الفت رانی کہتی ہیں کہ’ اٹھارہ مئی کو سادہ کپڑوں میں ملبوس بارہ تیرہ مسلح افراد ہمارے گھر آئے اور میرے شوہر کے بارے میں دریافت کرنے لگے۔ وہ کون لوگ تھے ہمیں نہیں معلوم، لیکن انہوں نے اپنے ساتھ ایک شخص کے بارے میں کہا کہ یہ ہمارے کرنل صاحب ہیں۔‘ الفت کہتی ہیں کہ ’ہم رو رو کر ان سے پوچھ رہے تھے کہ کیا معاملہ ہے وہ میرے شوہر کو کہاں اور کس جرم میں لے جا رہے ہیں تو انہوں نے ہمیں وجہ بتانے کے بجائے یہ دھمکی دی کہ اگر کسی عورت نے اس میں مداخلت کی تو ہم گولی مار دیں گے۔‘ انہوں نے کہا کہ اس وقت میرے شوہر جمعہ کی نماز پڑھنے مسجد گئے ہوئے تھے چنانچہ ہم نے ان لوگوں کو بتایا کہ وہ مسجد میں نماز پڑھنے گئے ہیں۔ میرے شوہر وہاں سے وہ واپس گھر نہیں آئے اور ان کو وہیں سے پکڑ کر لے گئے۔‘

انہوں نے کہا کہ’ دو ہفتے تک تو مجھے اپنے شوہر کے بارے میں کوئی علم نہیں تھا کہ وہ کہاں ہیں اور نہ ہی یہ بتایا گیا کہ ان کا کیا قصور ہے۔ہمیں اخبارات کے ذریعے یہ معلوم ہوا کہ میرے شوہر کو حماد رضا کے قتل کے الزام میں حراست میں لیا گیا ہے۔‘ انہوں نے کہا کہ’ ہم غریب لوگ ہیں میرے شوہر لکڑی چرائی کر کے بچوں کا پیٹ پالتے تھے۔ ہمارے پاس قریبی قصبے اٹھمقام جانے کے لئے کرایہ نہیں ہوتا ہم حماد رضا جیسے بڑے آدمی کے قتل میں کیسے ملوث ہو سکتے ہیں۔‘ الفت رانی نے کہا’میرا شوہر بے قصور ہے اور ان پر غلط الزام لگایا گیا ہے۔‘ رانی کہتی ہیں کہ وقوعے کے روز ان کے شوہر گھر پر تھے۔ رانی نے اپنے زیر تعمیر لکڑی کے گھر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ گھر تعمیر کر رہے تھے اور یہ کہ وہ کافی عرصے سے پاکستان گئے ہی نہیں۔‘

شریف الدین کو حراست میں لینے کے کوئی دس دن بعد اٹھائیس مئی کو ان کے بھائی بشیر الدین کو بھی حراست میں لیا گیا۔ بشیر الدین کی اہلیہ کلثوم بی بی کہتی ہیں کہ اٹھائیس مئی کوسادہ کپڑوں میں ملبوس دو مسلح اہلکار ان کے گھر آئے اور کوئی وجہ بتائے بغیر میرے شوہر کو زبردستی ساتھ لےگئے۔‘ انہوں نے کہا ’ہمیں کیا معلوم تھا کہ ہمارے ساتھ یہ کچھ ہوگا۔‘ کلثوم بی بی کہتی ہیں کہ ’میرے شوہر معذور ہیں اور وہ آسانی سے چل پھر نہیں سکتے ایسے میں وہ کس طرح کسی کا قتل کرسکتے ہیں اور میرے شوہر کوئی دو ماہ سے گاؤں سے باہر ہی نہیں گئے۔‘ کلثوم کے مطابق ان کے شوہر زلزلے کے دوران ایک دوکان کے ملبے تلے دب گئے تھے جس کے باعث ان کی ایک ٹانگ اور بازو ٹوٹ گیا تھا جس کے بعد وہ ایک سال تک بستر پر ہی رہے۔انہوں نے کہا کہ’ میرے شوہر کو تیز چلنے سے تکلیف ہوتی ہے ، وہ آہستہ چلتے ہیں اور وہ وزن بھی نہیں اٹھاسکتے۔‘ کلثوم نے بتایا کہ کچھ عرصے سے ان کے شوہر نے تھوڑا بہت کام کرنا شروع کردیا اور بچوں کا پیٹ پال رہے تھے۔


دو جون کو جب میں حراست میں لیے جانے والوں کے خاندان والوں سے ملاقات کرنے کے لئے نیلم گاؤں میں پہنچا تو وہاں سرخ رنگ کی ایک پجارو جیپ کھڑی تھی۔ اس میں سوار دو سادہ کپڑوں میں ملبوس لوگ ایک نوجوان کو مقامی لوگوں کے حوالے کر کے چلےگئے۔ یہ نوجوان شریف الدین اور بشیر الدین کے بھائی ضیاءالدین تھے۔

ضیاءالدین نے بی بی سی کو بتایا کہ انہیں اٹھارہ تاریخ کو وادی نیلم میں کیرن کے مقام سے سادہ کپڑوں میں ملبوس اہلکاروں نے اٹھایا اور قریب ہی اٹھمقام قصبے میں ریسٹ ہاؤس میں لے گئے۔ انہوں نے کہا’ مجھے وہاں دو روز رکھا گیا اور وہاں سے مجھے آنکھوں پر پٹی باندھ کر ہیلی کاپڑ پر بٹھا کر کسی نہ معلوم جگہ پر لے گئے۔حراست کے دوران مجھے ڈنڈوں اور چمڑے سے مارا پیٹا کیا گیا اور رات کو بازو باندھ کر کھڑا رکھا جاتا۔‘ ضیاءالدین نے کہا ’مجھ پر دباؤ ڈالا جارہا تھا کہ میں اقرار کروں کہ میں نے ڈکیتی اور قتل کیا اور یہ بھی کہہ رہے کہ تھے کہ میں قبول کروں کہ میرے بھائیوں نے بھی ڈکیتی کی اور قتل کیا ہے۔ لیکن میں نے ان سے کہا کہ جب مجھے کسی چیز کا معلوم ہی نہیں تو میں کیسے اس کا اقرار کروں۔‘

ضیاءالدین عارضی طور پر پڑھاتے بھی رہے ہیں اور بعد ازاں انہوں نے وادی نیلم میں لوات کے مقام میں منیاری کی دوکان شروع کی اور اب وہ جنگل میں لکڑی کا کام کرتے ہیں۔  لیکن حکام ان کو حراست میں لینے کے بارے میں مکمل طور پر لاعلمی کا اظہار کر رہے ہیں۔ ان کی والدہ امریزہ بیگم اپنے ایک بیٹے کی واپسی پر خوش ہیں لیکن وہ زیر حراست اپنے دو بیٹوں کے حراست کے بارے میں بہت پریشان ہیں ۔ انہوں نے کہا ’اللہ کا شکر ہے کہ میرا ایک بیٹا واپس آیا گیا ہے۔ میں التجا کرتی ہوں کہ میرے دوسرے دو بیٹوں کو رہا کریں۔‘ انہوں نے کہا کہ’ ہم کہاں جائیں کس سے فریاد کریں ہمارے پاس وسائل ہی نہیں ہیں۔‘

اسی گاؤں کے ایک سابق فوجی بشارت میر بھی حماد رضا کے قتل کے الزام میں زیر حراست ہیں۔ ان کے خاندان والوں کا کہنا ہے کہ ذہنی حالت درست نہ ہونے کے باعث ان کو کچھ سال قبل فوج سے برخاست کیا گیا تھا اور علاج کی وجہ سے وہ اب بہتر تھے اور لکڑی چرائی کا کام کرتے تھے۔ ان کے والد کہتے ہیں کہ ’ ہمیں نہیں معلوم کہ میرے بیٹے کو کیوں حراست میں لیا گیا ہے۔ اٹھائیس تاریخ کو سادہ کپڑوں میں ملبوس مسلح اہلکار ہمارے گھر آئے اور میرے بیٹے کو ساتھ لے گئے۔ ہمیں نہیں معلوم کہ وہ فوجی تھے یا خفیہ ادارے کے اہلکار، ہمیں کچھ سمجھ نہیں آتا کہ وہ کون لوگ تھے۔‘ بشارت میر کے والد نے کہا ’ان لوگوں نے پورے گاؤں میں دہشت پھیلادی اور لوگوں پر تشدد شروع کیا۔ ان کا کہنا تھا ’ بشارت میرا واحد سہارا ہے۔ میرا ایک بیٹا بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں بھارتی فوج کے ساتھ لڑتے ہوئے ہلاک ہوا جبکہ دوسرا نویں جماعت کا طالب علم ہے اور بشارت ہی ہمارا واحد سہارا ہے۔ بشارت شادی شدہ ہے اور اس کے چار بچے ہیں۔ ہمارے ساتھ بہت ظلم ہوا ہے۔‘

بشارت کی والدہ نگار بی بی کہتی ہیں کہ’ وہ لوگ میرے بیٹے کی تلاش میں گھر آئے تو ہمارے گھر میں ادھیڑ عمر کے ایک رشتہ دار آئے ہوئے تھے۔ مسلح اہلکاروں نے ہمارے سامنے ان کو برہنہ کرکے مارا پیٹا کہ وہ ہمارے گھر کیوں آئے تھے۔ اس کے علاوہ انہوں نےگاؤں میں کئی دیگر افراد کو بھی مارا پیٹا۔‘ انہوں نے کہا کہ’ حماد رضا کے قتل کے روز میرا بیٹا گھر پر تھا اور ہم مکئی بو رہے تھے۔‘

حماد رضا کے قتل کے الزام میں گرفتار چوتھے شخص میر محمد افضل کا تعلق مظفرآْباد سے ہے۔ وہ کئی سال دبئی میں مزدوری کر تے رہے اور گزشتہ سال ستمبر میں واپس آئے۔ کچھ ماہ سے وہ وادی نیلم کے قصبے اٹھمقام میں گوشت کا کام کر رہے تھے۔ میر محمد افضل کے بھائی منیر اختر سلہریا کا کہنا ہے کہ’ وقوعے کے روز میرے بھائی بیمار تھے اور وہ گھر پر موجود تھے۔ میں ان کو موٹر سائیکل پر بٹھا کر ایک میڈیکل اسٹور پر لے گیا جہاں ان کو ڈرپ لگائی گئی۔ میرے بھائی میں اتنی ہمت نہیں تھی کہ وہ موٹر سائیکل چلاسکتے۔ منیر اختر نے کہا کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک ہی تاریخ میں ایک شخص دو جگہ پر موجود ہو؟

انہوں نے کہا کہ حکومت کا یہ دعویٰ غلط ہے کہ میرے بھائی کو انتیس مئی کو گرفتار کیا گیا۔ ’ اٹھارہ مئی کو تین مسلح اہلکار ان کو اٹھمقام میں اپنی دوکان سے اٹھا کر لے گئے۔ ہم نے سنا ہے کہ وہ آئی ایس آئی اہلکار تھے اور ان کے ساتھ کوئی پولیس نہیں تھی۔‘ انہوں نے کہا کہ’ ہمارے گھر کے قریب تھانہ ہے۔ آپ کہیں سے بھی معلوم کرسکتے ہیں کہ ہمارے خلاف کوئی مقدمہ درج نہیں کیا گیا۔ ہم نے عزت کی زندگی گزاری ہے۔‘

منیر اختر نے الزام لگایا کہ حماد رضا کو پاکستان کے صدر نے خفیہ ادارے والوں سے قتل کروایا اور انہوں نے کسی نہ کسی کو قربانی کا بکرا بنانا تھا اور ہمارے بھائی کو پھنسا دیا۔

ان چار افراد کے عزیزوں کا کہنا ہے کہ ملزمان کو دو مختلف دنوں یعنی اٹھارہ اور اٹھائیس مئی کو سادہ کپڑوں میں ملبوس مسلح اہلکاروں نے حراست میں لیا لیکن پاکستان کے وزیر داخلہ نے گزشتہ ماہ کے آخر میں نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان ملزمان کو مقامی پولیس کی مدد سے انتیس مئی کو حراست میں لیاگیا تھا۔ مظفرآباد کے ایڈینشل ڈپٹی کمشنر جنرل کا بھی یہی کہنا ہے کہ’ ان افراد کو انتیس مئی کو گرفتار کیا گیا اور ان کو گرفتار کرنے کے لیے مقامی پولیس نے اسلام آباد پولیس کی مدد کی اور ان کو تیس مئی کو مجسڑیٹ کے سامنے پیش کیا گیا اور بعد ازاں ان کو قانون کے مطابق اسلام آباد پولیس کے حوالے کیا گیا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ وادی نیلم کے پولیس سربراہ کا کہنا ہے کہ’ ان افراد کو وادی نیلم میں نہیں بلکہ مظفرآباد میں گرفتار کیا گیا اس لیے ان کو زیادہ تفصیلات معلوم نہیں ہیں۔‘ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ان افراد کو ماضی کے جرائم کے ریکارڈ اور جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے گرفتار کیا گیا ہے۔ لیکن ملزمان کے خاندان والے اس کی تردید کرتے ہیں کہ ان کے عزیز ماضی میں کسی جرم میں ملوث رہے ہیں۔ یہ افراد گناہ گار ہیں یا انہیں حبس بے جاہ میں رکھا جا رہا ہے، یہ فیصلہ تو عدالت ہی کرے گی لیکن حقیقت سامنے آنے تک ان کے خاندانوں کا سکون برباد ہوچکا ہے۔

دکھاتا ہے زمانہ رنگ کیسے کیسے

عوامی تحریک کے رہنماء رسول بخش پلیجو نے اپنے خطاب میں کا کہا “پاکستان ابھی تک غلام ہے۔ ہم انگریزوں کی غلامی سے نکل کر امریکہ کی غلامی میں چلے گئے ہیں، اس سے اچھی تو انگریزوں کی غلامی تھی جس میں ہمیں کم سے کم غلام کی حثیت تو دی گئی تھی۔ لیکن اب تو ظلم یہ ہے کہ ہمیں غلام بھی بنا رکھا ہے اور تسلیم بھی نہیں کرتے۔ ہم تو کہتے ہیں کہ ہم بھی امریکہ کے غلام ہیں، ہمیں بھی غلاموں کا درجہ دیا جائے۔ غلاموں کے بھی حقوق ہوتے ہیں، موجودہ حیثیت میں تو ہمیں وہ حقوق بھی نہیں مل رہے”۔

انہوں نے کہا “سب سے بڑا چیلنج پاکستان کو آزاد کروانا ہے اور اس سلسلے میں وکلاء کی تحریک بہت خوش آئند ہے۔ چھوٹے صوبے ہمیشہ پنجاب کو اسٹیبلشمنٹ کا ساتھی قرار دیتے رہے ہیں، لیکن پنجاب کے عوام نے عدلیہ کی آزادی کی اس تحریک میں جو کردار ادا کیا ہے وہ پاکستان کی تاریخ کا ایک روشن باب ہے”۔