Category Archives: روز و شب

حسبِ حال

علامہ محمد اقبال نے لگ بھگ ایک صدی قبل جو ہندوستان کے مسلمانوں کے متعلق اللہ کی طرف سے جوابِ شکوہ لکھا تھا وہ آج بھی درست ہے ۔ چند اقتباسات

ہم تو مائل بہ کرم ہيں ۔ کوئی سائل ہی نہيں
راہ دکھلائيں کسے ۔ رہر و منزل ہی نہيں
تربيت عام تو ہے ۔ جوہر قابل ہی نہيں
جس سے تعمير ہو آدم کی ۔ يہ وہ گل ہی نہيں
کوئی قابل ہو تو ہم شان کئی ديتے ہيں
ڈھونڈنے والوں کو دنيا بھی نئی ديتے ہيں
ہاتھ بے زور ہيں ۔ الحاد سے دل خُوگر ہيں
امتی باعث رسوائی ءِ پيغمبر ہيں
بُت شِکن اُٹھ گئے ۔ باقی جو رہے بُت گر ہيں
تھا براہيم پدر ۔ اور پسر آزر ہيں

قوم مذہب سے ہے مذہب جو نہيں تم بھی نہيں
جذبِ باہم جو نہيں ۔ محفل انجم بھی نہيں
جن کو آتا نہيں دنيا ميں کوئی فن ۔ تُم ہو
نہيں جس قوم کو پروائے نشيمن ۔ تُم ہو

رہ گئی رسم اذاں ۔ روح بلالی نہ رہی
فلسفہ رہ گيا ۔ تلقينِ غزالی نہ رہی

وضع ميں تم ہو نصاریٰ ۔ تو تمدن ميں ہنُود
يہ مسلماں ہيں جنہيں ديکھ کے شرمائيں يہُود
يوں تو سيّد بھی ہو ۔ مرزا بھی ہو ۔ افغان بھی ہو
تم سبھیي کچھ ہو ۔ بتاؤ تو مسلمان بھی ہو ؟

ہر کوئی مست مے ذوقِ تن آسانی ہے
تم مسلماں ہو ؟ يہ انداز مسلمانی ہے ؟

چاہتے سب ہيں کہ ہوں اَوج ثريا پہ مُقِيم
پہلے ويسا کوئی پيدا تو کرے قلبِ سليم

یہ ذرائع ابلاغ ۔ The Media

ذرائع ابلاغ کا لفظ اس وقت میں صرف اخبار ۔ رسالہ اور ٹی وی چینل کیلئے استعمال کر رہا ہوں ۔ دورِ حاضر میں ساری دنیا کے ذرائع ابلاغ کا بنیادی مقصد صرف پیسہ کمانا ہے جس کیلئے سنسی خیز خبریں اور انکشافات ان کا خاصہ ہے ۔ اس مادی دوڑ میں کئی ذرائع ابلاغ مخصوص مالدار اداروں کے مقاصد کو بھی پروان چڑھاتے ہیں ۔ ذرائع ابلاغ کے کارندے ماسوائے چند کے اپنے کمروں میں بیٹھ کر اِدھر اُدھر سے کوئی بات پکڑتے ہیں اور پھر اس پر ایک کہانی تیار کر لیتے ہیں ۔ یہ کہانی محفوظ کر لی جاتی ہے اور مناسب وقت آنے پر شائع یا نشر کر دی جاتی ہے ۔ انسان جو فطری طور پر جدت پسند واقع ہوا ہے سنسی خیز باتوں کی طرف کھنچتا ہے اور یہی ان ذرائع ابلاغ کی کامیابی کا سبب ہے

اکثر غیرملکی صحافی محنت کر کے کچھ حقائق اکٹھے کرتے ہیں اور ان پر کہانی تیار کرتے ہیں ۔ وطنِ عزیز کے صحافی ماسوائے کچھ سنجیدہ صحافیوں کے اتنے ماہرِ فن ہیں کہ پوری کہانی ہی ازخود تیار کر لیتے ہیں اور ملک میں سازگار ماحول ہونے کی وجہ سے ان کی کہانی وقتی طور پر تہلکا مچا دیتی ہے ۔ انہیں کچھ کہانیاں مخصوص مقاصد براری کیلئے پہنچائی بھی جاتی ہیں جن سے اُن کی جیب گرم ہوتی اسلئے انہیں وہ اپنے نام سے پیش کر دینے میں ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتے ۔ ان سب کہانیوں کی کامیابی کی وجہ میرے ہموطنوں کی اکثریت کے دو اہم خوائص ہیں ۔ ایک ۔ تاریخ میں دلچسپی نہیں اسلئے کل کی بات بھی بھول جاتی ہے یا بھُلا دی جاتی ہے ۔ دو ۔ بات آگے بڑھانے کی عادت ہے اس کی تصدیق کی تکلیف گوارا نہیں کرتے

زیرِ نظر حالیہ چند واقعات ہیں ۔ 17 سالہ لڑکی کو کوڑے مارنے والا واقعہ چھوڑ دیتے ہیں کہ اس کا سچ انشاء اللہ عدالتِ عظمٰی جلد سامنے لے آئے گی اور سب جان جائیں گے کہ شور غوغا انسانیت پرستی تھی یا اس کا کوئی اور سبب تھا

مناواں میں پولیس کے تربیتی مرکز پر دہشتگردوں نے حملہ کیا ۔ صبح سویرے حملے کی خبر ملتے ہی ٹی وی چالو کر دیا ۔ جب ایک چینل پر اشتہار آتے تو دوسرا چینل لگا لیتے ۔ تمام چینلز کی مجموعی خبر یہ تھی کہ چار دہشتگرد پکڑے گئے ۔ ایک زخمی ہو کر بھاگ نکلا اور اس کی تلاش جاری ہے ۔ واقعہ میں 28 افراد جاں بحق ہوئے ۔ بات واضح ہونے پر معلوم ہوا کہ صرف ایک دہشتگرد پکڑا گیا تھا ۔ 8 پولیس والے اور 4 شہری کل بارہ جاں بحق ہوئے ۔ دہشتگر زخمی ہو کر فرار نہیں ہوا تھا بلکہ اس نے اپنے آپ کو دھماکے سے اُڑا لیا تھا

اسلام آباد ہمارے گھر سے 2 کلو میٹر کے فاصلہ پر قائم رینجرز کیمپ پر حملہ ہوا ۔ ٹی وی چینلز نے بتایا ۔ دھماکہ کے بعد پولیس اور دہشتگردوں میں فائرنگ کا تبادلہ ہو رہا ہے ۔ 2 دہشتگرد گرفتار ہو گئے ہیں ۔ دہشتگرد ایک مکان میں چھپے ہوئے ہیں ۔ پھر بتایا کہ 11 دہشتگرد گرفتار ہو گئے ہیں ۔ بعد میں واضح ہوا کہ صرف ایک دہشتگرد تھا اور اس نے خودکُش دھماکہ کیا تھا ۔ گولیاں رینجرز نے ردِ عمل کے طور پر چلائی تھیں ۔ ایک آدمی پکڑا تھا اور وہ ایک غریب درزی تھا جو دھماکہ اور گولیوں کی آواز سن کر کہیں چھپ گیا تھا ۔ جب نکلا تو پولیس نے پکڑ لیا

میرا اس بلاگ سے مُختلِف انگريزی میں بلاگ مندرجہ ذیل یو آر ایل پر کلِک کر کے يا اِسے اپنے براؤزر ميں لکھ کر پڑھيئے
Reality is Often Bitter – – http://iabhopal.wordpress.com – – حقیقت اکثر تلخ ہوتی ہے

ہوش سے ۔ نہ کہ جوش سے

سوات میں نوجوان لڑکی کو کوڑوں کی سزا کی ویڈیو پر جو بحث چل نکلی ہے اس کھیل کی منصوبہ بندی کرنے والے یا والوں کا مدعا کامیاب ہوتا نظر آ رہا ہے ۔

مباحثہ اب شاید جلد ٹھنڈا نہ پڑے اور اس کے نتائج بھی شاید بہت دور رس برآمد ہوں لیکن اس ویڈیو کی حقیقت جاننے کیلئے ہمیں چند برس پیچھے اور پاکستان سے کچھ دور ایک اور مسلم مُلک عراق میں جانا ہوگا اور پھر شاید یہ تسلیم کرنا پڑے کہ یہ ویڈیو پاکستان میں خانہ جنگی کا پیش خیمہ بن سکتی ہیں

سال 2003ء میں عراق پر امریکی حملے سے قبل اس ملک کے لوگ عشروں سے صدام حسین کی مطلق العنان حکومت کے زیر سایہ زندگی گزار رہے تھے ۔ صدام کی حکومت قائم کرنے کے وقت کی خون ریزی کے بعد عراق میں مختلف مسالک کے لوگوں کے درمیان خونریزی کا سبب بننے والے اختلافات سامنے نہیں آئے تھے ۔ صدام حسین خود اور اس کی حکومت کے بیشتر عہدیدار اگرچہ سُنی تھے لیکن اس کی حکومت کے دوران عراق میں اہل تشیع کو آزادی رہی اور مُلک میں تعلیمی اور معاشرتی ترقی جاری رہی

امریکی حملے کے کچھ ہی عرصے بعد مغربی خبررساں اداروں نے یہاں کی آبادیوں کو شیعہ اور سنی میں تقسیم کرکے پکارنا شروع کردیا۔ لکھا جاتا کہ فلاں جگہ اتنے شیعہ جنگجو مارے گئے اور وہاں سنی عسکریت پسند ہلاک ہوئے ہیں حالانکہ یہ دونوں ہی امریکی فوج کے خلاف لڑ رہے ہوتے تھے ۔ ان مفروضہ واقعات کی کچھ وڈیو بھی ٹی وی چینلز پر چلائی گئیں ۔ اس صورتحال میں شیعہ سنی کی تقسیم عام لوگوں کو بے معنی اور غیر ضروری لگتی تھی لیکن کچھ عرصہ بعد اس نے رنگ دکھایا ۔ عراق میں شیعہ اور سنی ملیشیا بنیں ۔ پھر ان میں تصادم شروع ہوا ۔ لوگ مسلک کی بنیاد پر اپنے اپنے علاقوں تک محدود ہوگئے اور نوگو زونز [No-go Zones] بن گئے ۔ آئے دن خبر دی جاتی کہ بظاہر مسلکی اختلاف پر قتل کیے جانے والے درجنوں افراد کی لاشیں برآمد ہوئیں ۔ ایسے واقعات ہونا شروع ہوئے کہ ایک جگہ مسلح افراد نے مسافر بس روکی ۔ لوگوں کی شناختی دستاویزات دیکھیں اور پھر ایک فرقے کے لوگوں کو چھوڑ کر دوسروں کو مار ڈالا ۔ ان واقعات کا نتیجہ یہ نکلا کہ عراق میں امریکی فوج کیخلاف براہ راست مزاحمت میں کمی آ گئی ۔ تیل کی پائپ لائنیں اڑانے کے واقعات بھی کم ہوگئے جو امریکہ کے مفادات پر کاری ضرب لگا رہے تھے

عراق سے بہت قبل غیرمُلکی منصوبہ بندی کے تحت اس وقت کے مشرقی پاکستان میں یہ وڈیو کا عمل بڑے کامیاب طریقہ سے کیا گیا تھا پھر مئی 2007ء میں کراچی میں ایک تنظیم نے وڈیو کھیل کھیلنے کی کوشش کی مگر ناکام رہی ۔ اب کوڑوں کی سزا کی جو ویڈیو سامنے آئی ہے اس کے بارے میں بھی کچھ باتیں اہم ہیں ۔ اس ویڈیو کے بارے میں بی بی سی کی ابتدائی خبر جمعرات کی شام آئی جو تمام اخبارات اور ٹی وی چینلز میں پہنچی ۔ اخبارات نے اسے مناسب اہمیت دی ۔ اس پر بس نہ کیا گیا اور اگلے روز منظم طریقے سے اس ویڈیو کی نقول مختلف ٹی وی چینلز کو پہنچائی گئیں اور پھر اس کے بار بار نشر ہونے کا سلسلہ چل پڑا۔ باوجود اس کے کہ یہ ویڈیو منقش مواد [Graphic Content] کے زمرے میں آتی ہے اور اس کی اصلیت [Authenticity] پر سوالیہ نشانات موجود ہیں ۔

نوعمر لڑکی کو کوڑے مارنے کے دومنٹ کی یہ وڈیوبلاشبہ نہایت دلدوز ہے مگر اس حقیقت کو بھی ماننا چاہئے کہ پاکستان میں مختلف رحجانات رکھنے والے لوگ اس ملک کے قیام کے وقت سے بستے آرہے ہیں جو ایک دوسرے سے سو فیصد متفق کبھی نہیں ہوسکتے لیکن ماضی میں ان کے درمیان ایک دوسرے کے احترام کا رشتہ رہا ہے ۔ جمعہ کو ٹی وی چینلز سے نشر کی گئی ویڈیو نے اس رشتے میں بچا رہا سہا احترام ختم کردیا ۔ اب دونوں طرف کے پڑھے لکھے لوگ بھی بحث کرتے ہوئے انتہائی جذباتی ہو رہے ہیں اور ایک دوسرے کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے ۔

ان حالات کو دیکھ کر یہی کہا جاسکتا ہے کہ ویڈیو کے ذریعے پاکستانیوں کو صف آراء کرنے والوں نے اس ملک کے عوام میں موجود اصل خطِ نقص [fault line] کو خوب پرکھا ہے ۔ وقت ہے کام لینے کا ہوش سے ۔ نہ کہ جوش سے ۔ اللہ سُبحانُہُ و تعالٰی ہمیں جذبات کی رو میں بہہ جانے سے بچائے اور درست راستہ کی طرف ہماری رہنمائی فرمائے ۔ آمیں ثم آمین یا رب العالمین

سورت ۔ 5 ۔ الْمَآئِدَہ ۔ آیت ۔ 8 ۔ ۔ يَا أَيُّھَا الَّذِينَ آمَنُواْ كُونُواْ قَوَّامِينَ لِلّہِ شُھَدَاءَ بِالْقِسْطِ وَلاَ يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَآنُ قَوْمٍ عَلَی أَلاَّ تَعْدِلُواْ اعْدِلُواْ ھُوَ أَقْرَبُ لِلتَّقْوَی وَاتَّقُواْ اللّہَ إِنَّ اللّہَ خَبِيرٌ بِمَا تَعْمَلُونَ

اے ایمان والو! اﷲ کے لئے مضبوطی سے قائم رہتے ہوئے انصاف پر مبنی گواہی دینے والے ہو جاؤ اور کسی قوم کی سخت دشمنی [بھی] تمہیں اس بات پر برانگیختہ نہ کرے کہ تم [اس] سے عدل نہ کرو ۔ عدل کیا کرو [کہ] وہ پرہیزگاری سے نزدیک تر ہے ۔ اور اﷲ سے ڈرا کرو ۔ بیشک اﷲ تمہارے کاموں سے خوب آگاہ ہے

بشکریہ ۔ ضمیمہ ۔ مزید قابلِ فہم بنانے کیلئے عبارت میں کچھ رد و بدل کیا گیا

لڑکی۔کوڑے؟

بہت پرانی بات ہے کچھ بزرگ بیٹھے گپ شپ کر رہے تھے ۔ ایک بزرگ جو برمحل اور سچی بات کہنے میں معروف تھے بولے “ہماری قوم کا تو یہ حال ہے کہ کسی نے کہا کُتا کان لے گیا اور کُتے کے پیچھے بھاگنا شروع کر دیا ۔ دیکھا ہی نہیں کہ ہے یا نہیں”۔ اللہ اُنہیں جنت نصیب کرے مجھے اُن کی یہ بات کل پھر یاد آئی جب ساری دنیا کُتے کے پیچھے بھاگ رہی تھی اور کوئی سوچ نہیں رہا تھا کہ کُتا کان لے بھی گیا ہے یا نہیں ۔

کل کے غُوغا کا شاید فائدہ ہے کہ چیف جسٹس آف پاکستان نے ازخود کاروائی کا اعلان کر دیا ۔ ویسے اگر ثمر من اللہ واقعی ثمر مِن اللہ ہوتی تو متعلقہ وڈیو چیف جسٹس کے نام اپنی درخواست کے ساتھ لگا کر عدالتِ عُظمٰی کے رجسٹرار کے پاس جمع کروا دیتیں پھر بھی یہی کچھ ہوتا اور اُن کی مشہوری بھی ہو جاتی البتہ ایک غیر مُلکی طاقت کا ایجنڈا ادھورا رہ جاتا ۔ اب کچھ سُنیئے اُن کی زبانی جن کے ذرائع ابلاغ نے اس وڈیو اُچھالا

مقامی افراد کے مطابق 17 سالہ اس شادی شدہ خاتون کو بدکاری کے الزام میں کوڑوں کی سزا دی گئی اور یہ واقعہ 6 ماہ پہلے کبل کے علاقے کالا کلے میں پیش آیا۔ ویڈیو میں خاتون کو تین افراد نے پکڑ رکھا تھا۔ ذرائع کے مطابق سر کی طرف بیٹھا ہوا شخص خاتون کا چھوٹا بھائی ہے

صوبہ سرحد کے وزیر اطلاعات میاں افتخار حسین نے کہا کہ اگرچہ یہ واقعہ انتہائی افسوسناک ہے تاہم اس پرانے واقعے کی ویڈیو کا منظر عام پر آنا ایک این جی او کی رُکن ثمر من اللہ کی سازش ہے، جس کا بھائی مشرف کابینہ میں وزیر تھا اور یہ لوگ امن معاہدہ سبوتاژ کرنا چاہتے ہیں۔

طالبان کے ترجمان حاجی مسلم خان نے اس واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگرچہ ہمیں سزا کے طریقہ کار پر اختلاف ہے تاہم یہ سزا ہمارے کارکنوں نے ناجائز تعلقات کا اقرار جرم کرنے کے بعد مجرموں کو دی

مولانا صوفی محمد کے ترجمان امیر عزت خان نے کہا ہے کہ لڑکی کو کوڑے مارنے کی ویڈیو سوات امن معاہدے کو سبوتاژ کرنے کیلئے ایک منظم مہم کا حصہ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ویڈیو کو طالبان کیساتھ منسوب کرنا درست نہیں، یہ ویڈیو سوات کی نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ سوات کے عوام معاشرے میں نفرت پھیلانے والے عناصر کی سازشوں کو ناکام بنا دیں گے

چیف جسٹس آف پاکستان مسٹر جسٹس افتخار محمد چوہدری نے ازخود نوٹس لیتے ہوئے معاملہ 6 اپریل کو لارجر بنچ کے سامنے پیش کرنے کا حکم دے دیا۔ چیف جسٹس نے اس سلسلے میں 8 رکنی لارجر بنچ تشکیل دیدیا جسکی سربراہی وہ خود کرینگے۔ چیف جسٹس نے 6 اپریل کو سرحد کے آئی جی، چیف سیکرٹری اور سیکرٹری داخلہ کو بھی عدالت میں طلب کیا ہے اور سیکرٹری داخلہ کو متاثرہ لڑکی کو بھی 6 اپریل کو پیش کرنیکی ہدایت کی ہے۔ فاضل چیف جسٹس نے جیو ٹی وی کو حکم دیا ہے کہ وہ واقعہ کی سی ڈی پیش کریں جبکہ جیو اور دیگر ٹی وی چینلز مشترکہ طور پر ویڈیو مواد ترتیب دیکر سماعت کے دوران عدالت میں دکھانے کا انتظام کریں

میرا اس بلاگ سے مُختلِف انگريزی میں بلاگ مندرجہ ذیل یو آر ایل پر کلِک کر کے يا اِسے اپنے براؤزر ميں لکھ کر پڑھيئے
Reality is Often Bitter – – http://iabhopal.wordpress.com – – حقیقت اکثر تلخ ہوتی ہے

ثقافت ۔ ایک پنپتا خطرناک پہلُو

میں بہت پہلے بھی ثقافت پر لکھ چکا ہوں ۔ اب کئی ہفتوں سے اس کی مزید تشریح کرنے کا ارادا کئے ہوئے ہوں لیکن دوسرے زیادہ اہم موضوع ہی ہوش سنبھانے نہیں دیتے ۔ اس وقت میں وہ سب کچھ چھوڑ کر ایک ایسے عمل کی بات کرنا چاہتا ہوں جو ہماری ثقافت کا حصہ بنتا جا رہا ہے ۔ وہ ہے ای میل اور ایس ایم ایس جو بغیر سوچے سمجھے سب کو بھیجے جا رہے ہیں ۔ یہ ایک خطرناک رحجان ہے ۔ بھیجنے والوں نے شاید کبھی سوچا بھی نہ ہو کہ اس طرح کی ای میل اور ایس ایم ایس کی اکثریت کا مقصد قوم میں بے چینی اور بے یقینی پیدا کرنا ہوتا ہے خاص کر فی زمانہ جب اسلام پر نصارٰی ۔ یہود اور ہنود چہار جہتی یلغار کر رہے ہیں

کل میں نے ٹی وی پر سوات میں امن کی کوشش سے متعلق ایک مذاکرہ دیکھا جس میں انسانی حقوق کی علمبردار ایک خاتون نے کہا “یہ معاہدہ یا بات چیت قاتلوں سے کیوں کی جارہی ہے ۔ اس مسئلہ کا حل صرف ایک ہے کہ اُن سب کو کُچل دیا جائے ۔ ایک 17 سالہ لڑکی پر ظُلم کیا گیا ۔ یہ کونسا اسلام ہے ؟” 17 سالہ لڑکی والا فقرہ وہ بار بار دُہرا رہی تھیں ۔ اُس خاتون نے مزید کہا ” لاَ إِكْرَاہَ فِي الدِّينِ ۔ دین میں کوئی زبر دستی نہیں”۔ اس کے بعد جو کچھ اُس خاتون نے کہا اس سے ثابت ہو گیا تھا کہ ایک آیت کے اس چھوٹے سے حصے کے علاوہ وہ نہیں جانتی کہ قرآن شریف میں کیا لکھا ہے ۔ قرآنی حوالہ دینے والی اس خاتون کا حُلیہ قرآن کی تعلیم کی صریح نفی کر رہا تھا

میں آج متذکرہ محترمہ کے استدلال سے پیدا ہونے والے خدشہ کے متعلق لکھنے کا سوچ رہا تھا کہ جمعہ کی نماز پڑھ کر واپس آیا اور گھر میں داخل ہوا ہی تھا کہ میرے موبائل فون نے ٹُوں ٹُوں کیا ۔ دیکھا تو ایک نوجوان کا پیغام تھا جس کا خُلاصہ ہے “دیکھو طالبان کس طرح 17 سالہ لڑکی کو مار رہے ہیں ۔ کیا اسلام نے ہمیں یہ سکھایا ہے ؟ طالبان سمجھتے ہیں کہ یہ اسلام ہے ؟ ان کو جواب دینا ہو گا کہ نامحرم لڑکی کو ہاتھ کیوں لگایا اور سزا کیوں دی ؟ قرآن میں لکھا ہے کہ کسی کو اس کے عمل کی سزا اللہ دینے والا ہے ۔ کسی پر زبردستی سے اسلام نہیں پھیلایا جا سکتا ۔ یہ ایس ایم ایس سب کو بھیجیں”

لاَ إِكْرَاہَ فِي الدِّينِ ۔ یہ الفاظ ہوا میں نہیں کہے گئے بلکہ یہ سورت ۔ 2 ۔ البقرہ کی آیت 256 کے شروع کے تین الفاظ ہیں ۔ ان الفاظ کا اس پوری آیت اور اس سے پہلے اور اس سے بعد والی آیات کے ساتھ تعلق ہے ۔ جن کا ترجمہ کچھ یوں ہے

آیت 255 ۔ اللہ (وہ معبود برحق ہے کہ) اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ۔ زندہ ہمیشہ رہنے والا۔ اسے نہ اونگھ آتی ہے نہ نیند ۔ جو کچھ آسمانوں میں اور جو کچھ زمین میں ہے سب اسی کا ہے ۔ کون ہے جو اس کی اجازت کے بغیر اس سے (کسی کی) سفارش کر سکے ۔ جو کچھ لوگوں کے روبرو ہو رہا ہے اور جو کچھ ان کے پیچھے ہوچکا ہے اسے سب معلوم ہے اور وہ اس کی معلومات میں سے کسی چیز پر دسترس حاصل نہیں کر سکتے ۔ ہاں جس قدر وہ چاہتا ہے (اسی قدر معلوم کرا دیتا ہے) اس کی بادشاہی (اور علم) آسمان اور زمین سب پر حاوی ہے اور اسے ان کی حفاظت کچھ بھی دشوار نہیں وہ بڑا عالی رتبہ اور جلیل القدر ہے
آیت 256 ۔ دین (اسلام) میں زبردستی نہیں ہے ہدایت (صاف طور پر ظاہر اور) گمراہی سے الگ ہو چکی ہے تو جو شخص بتوں سے اعتقاد نہ رکھے اور اللہ پر ایمان لائے اس نے ایسی مضبوط رسی ہاتھ میں پکڑ لی ہے جو کبھی ٹوٹنے والی نہیں اور اللہ (سب کچھ) سنتا اور (سب کچھ) جانتا ہے
آیت 257 ۔ جو لوگ ایمان لائے ہیں ان کا دوست اللہ ہے کہ اُن کو اندھیرے سے نکال کر روشنی میں لے جاتا ہے اور جو کافر ہیں ان کے دوست شیطان ہیں کہ ان کو روشنی سے نکال کر اندھیرے میں لے جاتے ہیں یہی لوگ اہل دوزخ ہیں کہ اس میں ہمیشہ رہیں گے

معاملہ 17 سالہ لڑکی کا ۔ مجھے اِدھر اُدھر سے جو معلوم ہوا ہے یہ لڑکی کسی نامحرم کے ساتھ بھاگ گئی تھی جس کی سزا اس کے قبیلے والوں نے کوڑوں کی صورت میں اُسے دی ۔ صوفی محمد کے ترجمان نے کہا ہے کہ اس واقعہ کا ان کے ساتھ کوئی تعلق نہیں اور انہیں بلاوجہ بدنام کیا جا رہا ہے ۔ اصل صورتِ حال تو اللہ ہی جانتا ہے ۔ فوری طور پر قرآن و سُنت سے مندرجہ ذیل حوالے پیش کر سکا ہوں

سورت ۔ 4 ۔ النّسآء آیت 15 اور 16 ۔” تُمہاری عورتوں میں سے جو بَدکاری کی مُرتکِب ہوں اُن پر اپنے میں سے چار آدمیوں کی گواہی لو اور اگر چار آدمی گواہی دے دیں تو اُنہیں گھروں میں بند رکھو یہاں تک کہ اُنہیں موت آ جائے یا اللہ اُن کیلئے کوئی راستہ نکال دے ۔ اور تم میں سے جو اِس فعل کا ارتکاب کریں اُن دونوں کو تکلیف دو ۔ پھر اگر وہ توبہ کر یں اور اپنی اصلاح کر لیں تو انہیں چھوڑ دو کہ اللہ بہت توبہ قبول کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے “۔

سورت ۔ 24 ۔ النُّور ۔ آیت 2 ۔ ” زانیہ عورت اور زانی مرد دونوں میں سے ہر ایک کو سو کوڑے مارو اور ان پر ترس کھانے کا جذبہ اللہ کے دین کے معاملہ میں تمہیں دامنگیر نہ ہو اگر تم اللہ اور روزِ آخر پر ایمان رکھتے ہو ۔ اور ان کو سزا دیتے وقت اہلِ ایمان کا ایک گروہ موجود رہے” ۔

سورت ۔ 24 ۔ النُّور۔ آیات 5 تا 9 ۔ “اور جو لوگ پاکدامن عورتوں پر تہمت لگائیں پھر چار گواہ لے کر نہ آئیں اُن کو اَسی کوڑے مارو اور اُن کی شہادت کبھی قبول نہ کرو اور وہ خود ہی فاسق ہیں سوائے اُن لوگوں کے جو اس حرکت کے بعد تائب ہو جائیں اور اِصلاح کر لیں کہ اللہ ضرور غفور و رحیم ہے ۔ اور جو لوگ اپنی بیویوں پر الزام لگائیں اور ان کے پاس خود ان کے سوا دوسرے کوئی گواہ نہ ہوں تو اُن میں سے ایک شخص کی شہادت [یہ ہے کہ وہ] چار مرتبہ اللہ کی قسم کھا کر گواہی دے کہ وہ [اپنے اِلزام میں] سچّا ہے اور پانچویں بار کہے کہ اُس پر اللہ کی لعنت ہو اگر وہ جھوٹا ہو ۔ اور عورت سے سزا اسطرح ٹل سکتی ہے کہ وہ چار مرتبہ اللہ کی قسم کھا کر شہادت دے کہ یہ شخص [اپنے اِلزام میں] جھوٹا ہے اور پانچویں مرتبہ کہے کہ اس بندی پر اللہ کا غضب ٹوٹے اگر وہ [اپنے اِلزام میں] سچّا ہو “۔

سورت ۔ 24 ۔ النُّور آیت 33 ۔ “اور اپنی لونڈیوں کو اپنے دُنیوی فائدوں کی خاطر قحبہ گری [زناکاری کا پیشہ] پر مجبور نہ کرو جبکہ وہ خود پاکدامن رہنا چاہتی ہوں اور جو کوئی اُن کو مجبور کرے تو اِس جَبَر کے بعد اللہ اُن کے لئے غفور و رحیم ہے” ۔

تمام کُتب حدیث میں موجود ہے کہ ایک لڑکا ایک شخص کے ہاں اُجرت پر کام کرتا تھا اور اُس کی بیوی کے ساتھ بدکاری کا مُرتکِب ہو گیا ۔ لڑکے کے باپ نے سو بکریاں اور ایک لونڈی دیکر اُس شخص کو راضی کر لیا ۔ مگر جب یہ مقدمہ رسول اللہ صلّی اللہ علیہ و سلّم کے پاس آیا تو آپ نے فرمایا ” تیری بکریاں اور تیری لونڈی تجھی کو واپس” اور پھر آپ نے زانی اور زانیہ دونوں پر حد جاری فرما دی

ترمذی اور ابو داؤد کی روائت ہے کہ ایک عورت اندھیرے میں نماز کیلئے نکلی ۔ راستہ میں ایک شخص نے اسکو گرا لیااور زبردستی اس کی عصمت دری کی ۔ اس کے شور مچانے پر لوگ آ گئے اور زانی پکڑا گیا ۔ رسول اللہ صلّی اللہ علیہ و سلّم نے مرد کو رجم کرایا اور عورت کو چھوڑ دیا
صحیح بُخاری میں ہے ” خلیفہ [حضرت عمر رَضِی اللہ عَنْہُ] کے ایک غلام نے ایک لونڈی سے زبردستی بدکاری کی تو خلیفہ نے غلام کو کوڑے مارے لیکن لونڈی پر حَد نہ لگائی ۔ مزید حوالوں اور تفصیل کیلئے دیکھئے میری 30 مارچ 2006ء کی تحریر ” جُرم و سزا

قصور مُلّا کا یا ؟ ؟ ؟

دوسروں کو اپنی غلطی کا بھی قصوروار ٹھہرانا میرے ہموطنوں کی خاصی بڑی تعداد کی صفتِ خاص بن چکی ہے اور اس کا سب سے زیادہ ہدف مُلّا کو ٹھہرایا جاتا ہے ۔ قصور کا تعیّن کرنے کیلئے پہلے مُلّا کی اقسام بیان کرنا ضروری ہیں

پہلی قسم جو ہر جگہ دستیاب ہے یعنی جس نے ڈاڑھی رکھ لی ۔ لوگ ان کو مُلّا کہنا شروع کر دیتے ہیں ۔ پھر ایک دن اُس کی دنیاوی ہوّس ظاہر ہو جاتی ہے یا جب اُس کا کوئی عمل پسند نہ آئے تو اُس کی عیب جوئی شروع کر دی جاتی ہے اور نام مُلّا کا بدنام ہوتا ہے

دوسری قسم میں وہ لوگ ہیں جنہیں لوگ اُن کے علم کی بنیاد پر نہیں بلکہ اپنی غرض یا دین سے لاپرواہی کی وجہ سے کسی مسجد کا امام بنا دیتے ہیں اور ان کے عمل پر آنکھیں بند رکھی جاتی ہیں تا وقتیکہ وہ کوئی بڑی مُخربِ اخلاق حرکت کر بیٹھے یا اُن کی مرضی کے خلاف کوئی عمل کر بیٹھے

تیسری قسم دین کا عِلم رکھنے والے ہیں جن میں سے کچھ امام مسجد بھی ہیں ۔ ان میں دینی مدرسہ سے فارغ التحصیل لوگ بھی شامل ہیں اور ان کی اکثریت مختلف پیشوں سے منسلک ہے یعنی ان میں سرکاری یا نجی اداروں کے ملازم بھی ہیں ۔ تاجر یا دکاندار بھی اور کچھ تدریس کا پیشہ اختیار کرتے ہیں

درحقیقت متذکرہ بالا تیسری قسم میں سے بھی آخرالذکر اصل مُلّا ہیں ۔ تیسری قسم میں سب کو مُلا کہہ دینے میں کوئی حرج نہیں ہے ۔ متذکرہ بالا پہلی دو قسمیں مُلا نہیں ہیں بلکہ وہ مُلا کی بدنامی کا باعث بنتے ہیں ۔ ان کو مُلّا نہیں کہنا چاہیئے اور نہ اُن کو امام مسجد جیسا پاک رُتبہ دینا چاہیئے

امام مسجد کا قصور ؟

امام مسجد جس سے عام لوگ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے سے کردار کی توقع رکھنا شروع کر دیتے ہیں اُس بیچارے کی معاشی اور معاشرتی بشمول عِلمی محرومیوں پر لاکھوں میں ایک ہو گا جو نظر ڈالتا ہو گا ۔ میں مسجد مجددیہ ۔ پارک روڈ ۔ ایف 2/8 ۔ اسلام آباد میں نماز پڑھتا ہوں ۔ یہ مسجد علاقہ کے لوگوں نے تعمیر کروائی ہوئی ہے اور وہی اس کا خرچ چلاتے ہیں لیکن امام مسجد اور مؤذن کا تقرر وزارتِ مذہبی امور کرتی ہے ۔ 1998ء سے اس کے امام محمد فاروق صاحب ہیں ۔ انہوں نے آٹھویں جماعت پاس کرنے کے بعد دس سالہ قرآن ۔ حدیث ۔ فقہ اور تاریخِ اسلام کا حکومت کا منظور شُدہ کورس کیا ہوا ہے اور راولپنڈی اسلام آباد کے چند مُفتی صاحبان میں سے ہیں ۔ اسی مسجد میں 1998ء تک عبدالعزیز صاحب امام تھے جنہیں والد کے قتل کے بعد مرکزی جامعہ مسجد المعروف لال مسجد کا امام بنا دیا گیا اور لال مسجد پر فوجی کاروائی کے دوران سے اب تک قید میں ہیں ۔ عبدالعزیز صاحب فاروق صاحب سے بھی زیادہ تعلیم یافتہ اور علم والے ہیں

بہت کم مساجد ہیں جن میں پڑھے لکھے امام ہیں ۔ اس کی وجہ ان کا بہت ہی کم مشاہرہ اور واجب احترام کا نہ ہونا ہے ۔ اسی لئے دینی مدارس سے فارغ التحصیل لوگ مسجد کا امام بننا پسند نہیں کرتے اور دوسرے ذرائع معاش اختیار کرتے ہیں ۔ مُفتی محمد فاروق صاحب کو محکمہ کی طرف تنخواہ کا سکیل 10 دیا گیا ہوا ہے اور کُل 6000 روپے ماہانہ تنخواہ ملتی ہے ۔ گھر کا خرچ وہ تعلیمی اداروں میں پڑھا کر پورا کرتے ہیں ۔ آٹھویں جماعت کے بعد کسی بھی دوسرے مضمون میں 8 سال پڑھائی کرنے والے کیلئے حکومت نے تنخواہ کا سکیل 17 رکھا ہوا ہے ۔ اسلام آباد میں سب سے بڑی سرکاری مسجد ہے مرکزی جامعہ مسجد المعروف لال مسجد جس کے امام کو تنخواہ کا سکیل 12 دیا گیا ہے ۔ سرکاری ریکارڈ میں امام کیلئے خطیب کا لفظ استعمال کیا گیا ہے

یہ تو اسلام آباد کا حال ہے باقی جگہوں پر حالات دِگرگوں ہیں ۔ اور جس کو دیکھو اُس نے اپنی بندوق کا منہ مُلّا کی طرف کیا ہوتا ہے اور معاشرے کی ہر بُرائی کسی نہ کسی طرح مُلّا کے سر تھوپ دی جاتی ہے ۔ حالات کا مطالعہ بتاتا ہے کہ قصور وار مُلّا نہیں بلکہ مّلّا کو قصور وار ٹھہرانے والے ہیں

کیا مُلا لوگوں سے زبردستی غلط کام کرواتے ہیں ؟
کیا مسجد میں جانے والوں نے کبھی سوچا کہ جس کے پیچھے وہ نماز پڑھتے ہیں اُس نے دین کی تعلیم حاصل بھی کی ہے یا نہیں ؟

جب مُلا کسی کی دلپسند بات نہ کہے تو مُلا کو بُرا سمجھا جاتا ہے ویسے چاہےمُلا غلط بات یا کام کرتا رہے کسی کو پروہ نہیں ہوتی ۔ لمحہ بھر غور کرنے پر ہی واضح ہو جاتا ہے کہ قصور مقتدیوں کا ہے امام کا نہیں ۔ ایسے امام کو پسند کیا جاتا ہے جو ہر جائز و ناجائز بات کی اگر حمائت نہیں تو اس پر چشم پوشی کرے

عوامی طرزِ عمل ہر شعبہ میں واضح ہے ۔ سیاسی رہنما چُنتے ہوئے بھی یہی طرزِ عمل اختیار کیا جاتا ہے ۔ پھر مُلا ہو یا سیاسی رہنما اُن کو کوسنا بھی اپنا فرض سمجھا جاتا ہے ۔ اُن کو منتخب کرتے ہوئے اُن کی اچھی بُری عادات کا خیال کیوں نہیں رکھا جاتا ؟ مُلا ہو یا سیاسی رہنما قوم کی اکثریت کو درست انتخاب میں کوئی دلچسپی نہیں ۔ سمجھا جاتا ہے کہ ان کا فرض صرف دوسروں کو بُرا کہنا ہے ۔ اسی لئے انتخابات کے دن چھٹی ہونے کے باوجود اکثر لوگ ووٹ ڈالنے نہیں جاتے ۔ ایسے لوگوں نے کبھی سوچا کہ اُن کی اس حرکت کی وجہ سے غلط لوگ مُنتخب ہوتے ہیں جن کو وہ بعد میں کوستے رہتے ہیں ؟

میرا پاکستان والے صاحب کی خدمت میں التماس

میں صرف ایک مقصد کی خاطر لکھتا ہوں کہ جو چاہے میرے پچاس ساٹھ سال کے مطالعہ ۔ محنت اور تگ و دو سے حاصل کئے ہوئے تجربات سے فائدہ حاصل کر لے ۔ بالخصوص میری کوشش ہوتی ہے کہ دین سے بے گانگت کے نتیجہ سے جو عام ابہام پایا جاتا ہے اُسے دور کرنے کی کوشش کی جائے ۔ ذاتیات اور ذاتی رائے میں مُخِل ہونا میرا وطیرہ نہیں ہے ۔ میری زندگی میں جب کبھی بحث کے دوران بات انفرادیت یا ذاتیات پر پہنچی میں نے کنارہ کشی اختیار کر لی ۔ میں کسی ایسی محفل میں بھی جانا پسند نہیں کرتا جہاں انفرادی یا ذاتی باتیں ہوتی ہوں

میرا پاکستان والے صاحب نے براہِ راست مجھے مخاطب کر کے میرے استدلال کو زمینی حقائق کے برعکس اور تخیّل قرار دیا ہے اور غلافے الفاظ میں جذباتی بھی کہہ دیا ۔ اس سلسلہ کو مزید آگے بڑھانا وقت کے ضیاع کے علاوہ کچھ نظر نہیں آتا اور نہ ہی میں نے ہر چیز کی وضاحت اپنے ذمہ لے رکھی ہے ۔ میں صرف اتنا ہی کہوں گا جو ایک مستند حقیقت بھی ہے کہ

جہاں چاہ ۔ وہاں راہ