Category Archives: روز و شب

قرآن اور ہم

سیّدہ شگفتہ صاحبہ لکھتی ہیں کہ “قرآن پاک رٹ لینا ۔ آسان ۔ ۔ سمجھ لینا ۔ مشکل ۔ ۔ سمجھ کر عمل کرنا ۔ مشکل ترین ہے ۔ مزید لکھتی ہیں “حفاظِ قرآن کا تصور صرف مدارس سے ہی کیوں مختص ہے ۔ تمام معاشرے سے کیوں نہیں ؟”

سیّدہ شگفتہ صاحبہ کا سوال دعوت ہے کہ ہر مسلمان ہموطن اپنے آپ سے یہ سوال پوچھے
موضوع بھی بہت اہم چھیڑا ہے ۔ تبصرہ طویل ہو جانے اور اس سوچ کے تحت کہ عام قارئین مستفید ہو سکیں میں نے اس کا جواب اپنے بلاگ کے سرِ ورق رقم کرنا مناسب خیال کیا ۔ میرا تجربہ ہے کہ قرآن شریف رَٹ لینے سے سمجھ کر پڑھنا آسان ہے ۔ اگر سمجھ کر پڑھ لیا جائے تو عمل کرنا بہت مشکل نہیں رہتا ۔ صرف اتنا ہی مشکل ہوتا ہے جتنا دنیاوی قوانین پر عمل کرنا ۔ اصل مشکل صرف رویّئے اور نیّت کی ہے ۔ اگر اَن پڑھ خاندان کی ایک عورت جو ایک دن کیلئے بھی کسی مدرسہ یا سکول نہیں گئی محنت مزدوری کرنے کے ساتھ ساتھ دو سال کے اندر پہلے ناظرہ قرآن شریف پڑھ لیتی ہے اور پھر قرآن ترجمہ کے ساتھ ۔ تو پڑھے لکھے خاندانوں کے لوگ جو سکولوں اور کالجوں کے بھاری اخراجات ادا کر کے سائنس ۔ انگریزی ۔ سیاست ۔ وکالت وغیرہ پڑھتے ہیں وہ قرآن شریف کو سمجھ کر کیوں نہیں پڑھ سکتے ؟ جس عورت کا میں نے ذکر کیا ہے ہماری ملازمہ ہے جو اپنی شادی کے کئی سال بعد ہمارے پاس آئی اور سات آٹھ سال قبل میری بیوی سے پہلے ناظرہ اور پھر ترجمہ کے ساتھ قرآن شریف پڑھا ۔ پھر کچھ سال اپنے خاوند کے خاندانی معاملات کے سلسلہ میں اِدھر اُدھر رہی پھر میاں بیوی واپس ہمارے پاس آ گئے ہوئے ہیں

قرآن شریف کا نزول بطور آئینِ حیات ہوا تھا تاکہ اس پر عمل کیا جائے اور کسی چیز پر عمل پیرا ہونے کیلئے اسے سمجھ کر پڑھنا لازم ہوتا ہے ۔ قرآن شریف کی عزت یہ نہیں ہے کہ اسے مخمل کا غلاف چڑھا کر اُونچی جگہ پر رکھ دیا جائے بلکہ یہ ہے کہ اسے سمجھ کر پڑھا جائے اور اس پر عمل کیا جائے

سورت ۔ 73 ۔ المزمل ۔ آیت ۔ 4 ۔ ۔ ۔ ۔ وَرَتِّلِ الْقُرْآنَ تَرْتِيلًا ۔ ترجمہ ۔ اور قرآن کو ٹھہر ٹھہر کر پڑھا کرو

اللہ نے قرآن شریف ٹھہر ٹھہر کر پڑھنے کا حُکم دیا ہے ۔ پڑھے لکھے لوگ جانتے ہیں کہ ٹھہر ٹھہر کر وہ چیز پڑھی جاتی ہے جسے ذہن نشین کرنا ہو ۔ ایک غلط نظریہ یہ بھی ہے کہ جو لوگ کچھ نہ کر سکیں وہ قرآن شریف کو طوطے کی طرح رَٹ لیں ۔ کچھ لوگوں نے قرآن شریف کو کسی کے مرنے پر فرفر پڑھنے کیلئے مُختص کر دیا ہے ۔ قرآن شریف کی تلاوت کارِ ثواب ہے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ طوطے کی طرح بغیر سمجھے پڑھا جائے ۔ شاید قرآن شریف کو بغیر سمجھے پڑھنے کا ہی نتیجہ ہے کہ ہماری نماز ہمیں بُرائی سے نہیں روک پاتی

سورت ۔ 29 ۔ العنکبوت ۔ آیت ۔ 45 ۔ ۔ کتاب جو تمہاری طرف وحی کی گئی ہے اس کو پڑھا کرو اور نماز کے پابند رہو ۔ کچھ شک نہیں کہ نماز بےحیائی اور بری باتوں سے روکتی ہے۔ اور اللہ کا ذکر بڑا [اچھا کام] ہے ۔ اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اُسے جانتا ہے

حفظ کرنا بھی اچھی بات ہے ۔ اگر حفاظ نہ ہوتے تو قرآن شریف کے خلاف ہر دور میں کی گئی سازشوں کے باوجود اس کا مکمل درست حالت میں ہم تک پہنچنا بہت مُشکل تھا ۔ اللہ سُبحانُہُ و تعالٰی نے قرآن شریف کی حفاظت کا ذمہ لیا تھا شاید اسی لئے ہزاروں مسلمانوں کو توفیق دی کہ اسے حفظ کر لیں ورنہ کوئی اور کتاب دنیا میں ایسی نہیں جسے کسی انسان نے ہُوبہُو یاد کیا ہو ۔ میرے ایک دوست ایم ایس سی انجنرنگ ہیں اور حافظ قرآن ہیں ۔ اُن کے بیٹے اچھے سکولوں اور کالجوں میں پڑھتے ہیں اور انہوں نے قرآن شریف بھی حفظ کیا ہوا ہے ۔ اللہ کے فضل سے وہ دین پر عمل پیرا ہیں اور دنیا کا کام بھی احسن طریقہ سے چلا رہے ہیں

مدرسوں کے متعلق بھی عام لوگوں کی معلومات بہت کم ہیں ۔ جو باقاعدہ مدرسے ہیں وہاں قرآن شریف کا رَٹا نہیں لگوایا جاتا البتہ کچھ طالب علم قرآن شریف حفظ کر لیتے ہیں ۔ ان مدرسوں میں قرآن ۔ حدیث ۔ اصولِ فقہ ۔ فقہ ۔ اُردو ۔ عربی ۔ انگریزی ۔ ریاضی ۔ سب کچھ پڑھایا جاتا ہے اور اب تو کئی مدارس میں کمپیوٹر کی تعلیم بھی دی جا رہی ہے ۔ عام لوگ مدرسہ شاید اُسے سمجھتے ہیں جو محلے کی مسجد کے ساتھ ہوتا ہے جہاں بچے اُونچی آواز میں قرآن شریف کے الفاظ رَٹ رہے ہوتے ہیں ۔ یہ دراصل مدرسے نہیں ہوتے ۔ دیگر بہت سی مساجد کے امام جو اس محلہ کے لوگوں نے مقرر کر رکھے ہیں یا جو لوگ ان مساجد میں بچوں کو پڑھاتے ہیں وہ دینی لحاظ سے تعلیم یافتہ نہیں ہوتے تو وہ بچوں کو سوائے اس کے اور کیا پڑھائیں گے ؟

سورت 2 ۔ البقرہ ۔ آیات 8 تا 13 ۔ بعض لوگ ایسے بھی ہیں جو کہتے ہیں کہ ہم اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان لائے ہیں حالانکہ درحقیقت وہ مؤمن نہیں ہیں ۔ وہ اللہ اور ایمان لانے والوں کے ساتھ دھوکہ بازی کر رہے ہیں ۔ مگر دراصل وہ خود اپنے آپ کو دھوکہ میں ڈال رہے ہیں اور انہیں اس کا شعور نہیں ہے ۔ ان کے دِلوں میں ایک بیماری ہے جسے اللہ نے اور زیادہ بڑھا دیا اور جو جھوٹ وہ بولتے ہیں اس کی پاداش میں ان کیلئے دردناک عذاب ہے ۔ جب کبھی ان سے کہا گیا کہ زمین میں فساد برپا نہ کرو تو انہوں نے یہی کہا کہ ہم تو اصلاح کرنے والے ہیں ۔ خبردار حقیقت میں یہی لوگ مفسد ہیں مگر انہیں شعور نہیں ہے ۔ اور جب ان سے کہا گیا کہ جس طرح دوسرے لوگ ایمان لائے ہیں اسی طرح تم بھی ایمان لاؤ تو انہوں نے یہی جواب دیا کیا ہم بیوقوفوں کی طرح ایمان لائیں ۔ خبردار حقیقت میں تو یہ خود بیوقوف ہیں مگر یہ جانتے نہیں ہیں

سورت 2 ۔ البقرہ ۔ آیت 120 ۔ یہودی اور عیسائی تم سے ہرگز راضی نہ ہوں گے جب تک تم ان کے طریقے پر نہ چلنے لگو ۔ صاف کہدو کہ راستہ بس وہی ہے جو اللہ نے بتایا ہے ۔ ورنہ اگر اُس علم کے بعد جو تمہارے پاس آ چکا ہے تم نے اُن کی خواہشات کی پیروی کی تو اللہ کی پکڑ سے بچانے والا نہ کوئی دوست ہوگا اور نہ کوئی مددگار

اللہ ہمیں سیدھی راہ پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے

اندرونِ خانہ

میں کسی شخص کے گھر کے اندر کی بات نہیں کرنے جا رہا بلکہ یہ ایک محاورہ ہے ۔ “اندروں خانہ” کی بجائے کچھ لوگ “اندر کھاتے” کہتے ہیں ۔ پنجابی میں “وِچلی گَل” یعنی اندر کی بات کہا جاتا ہے

پس منظر
لانگ کی مارچ 12 مارچ 2009ء کو ابتداء ہوئی تو پنجاب کی سلمان تاثیری حکومت نے تمام پنجاب میں دفعہ 144 کا نفاز کرنے پر ہی اکتفا نہ کیا تھا بلکہ مختلف قسم کی دیواریں کھڑی کر کے پنجاب کے تمام شہریوں کو اپنے اپنے شہروں میں محسور کر دیا پھر 14 مارچ کو شہر لاہور میں رائیونڈ ۔ ماڈل ٹاؤن اور مال روڈ بالخصوص جی پی اور چوک کی طرف جانے والے تمام راستوں پر جگہ جگہ رکاوٹیں کھڑی کر کے احتجاج کیلئے اکٹھے ہونے کو اگر ناممکن نہیں تو بہت مشکل بنا دیا ۔ لاہور کا رہائشی ہوتے ہوئے سلمان تاثیر یہ بھول گئے کہ لاہوریئے جو کام کرنے پر تُل جائیں وہ جان پر کھیل کے کر ڈالتے ہیں

معرکہ جی پی او
جو کچھ 15 مارچ کو لاہور جی پی او چوک پر ہوا مستقبل میں لوگ اسے یاد رکھیں گے ۔ وہاں موجود مظاہرین سے حاصل کردہ معلومات کے مطابق مظاہرہ کرنے کا ارادہ رکھنے والوں نے فیصلہ کیا کہ 15 مارچ کو صبح سویرے دو دو تین تین کر کے مختلف راستوں سے جی پی او چوک پہنچا جائے گا ۔ ان میں بھاری تعداد اسلام جمیعت طلباء کی تھی ۔ باقی زیادہ تحریکِ انصاف کے تھے ۔ ان کے علاوہ مسلم لیگ ن کے جوان بھی تھے ۔ ابھی کوئی 150 کے قریب لوگ جی پی اور چوک پہنچے تھے کہ پولیس نے اُن پر اشک آور گیس کے گولے بے تحاشہ پھینکنے شروع کر دیئے ۔ اس اچانگ یلغار سے پریشان ہو کر مظاہرین بھاگے تو وہاں موجود ایک ستر بہتر سالہ شخص نے بآواز بلند کہا “کہاں بھاگ رہے ہو ۔ یہ وقت مُلک کیلئے قربان ہونے کا ہے ۔ ڈٹ جاؤ”۔ اُس بزرگ کی آواز نے سب بھاگتے پاؤں روک دیئے اور مظاہرین اب کی بار نہائت جوش سے پولیس پر پل پڑے کسی نے پتھر مارے کسی نے اشک آور گیس کا شیل واپس پولیس پر پھینکا ۔ اسلامی جمیعت طلباء کے لڑکے جی پی اور کی چھت پر بھی موجود تھے اُن کی سنگ باری اور اشک آور گولوں کی واپسی نے پولیس کو بھاگنے پر مجبور کر دیا ۔ آدھے گھنٹے کے اندر مسلم لیگ ن ۔ تحریک انصاف ۔ جماعت اسلامی اور سول سوسائٹی کے کارکنوں کی کافی تعداد وہاں پہنچ گئی ۔ یہ مظاہرین گروہوں میں بٹ کر چاروں طرف پھیل گئے اور پولیس پر سامنے کے علاوہ پیچھے سے بھی سنگ باری شروع ہو گئی ۔ یہ جنگ مغرب کے بعد تک جاری رہی ۔ بالآخر پولیس پسپا ہونے پر مجبور ہو گئی

معرکہ ایوانِ صدر
صدر صاحب چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری سے خائف تھے ۔ فاروق حمید نائیک نے آئین کی غلط تشریح کر کے حوصلہ افزائی کی اور صدر سے غلط حرکات کرواتے رہے ۔ باقی کسر رحمان ملک اور سلمان تاثیر نے پوری کی بمِصداق “چڑھ جا بچہ سولی رام بھلی کرے گا”۔ اس بنا پر کہ شریف برادران کے سیاست سے باہر ہوتے ہی مسلم لیگ ن کے ارکان اسمبلی پی پی پی کی گود میں آ گریں گے ان کو نااہل قرار دلوا کر غیر آئینی طور پر پنجاب اسملبی کا اجلاس نہ ہونے دیا پھر جو چھوٹا موٹا احتجاج ہو گا اُسے سنبھال لیا جائے گا ۔ جب 25 فروری کو ناگہانی احتجاج ہوا اور 15 مارچ کو جمِ غفیر کی صورت اختیار کر گیا تو رحمان ملک کی ایف آئی اے نے صدر صاحب کو بتایا کہ صرف چند ہزار لوگ ہیں جن سے آسانی سے نبٹا جا سکتا ہے ۔ صورتِ حال کی خبروں نے باہر کی دنیا پر اتنا اثر کیا کہ امریکہ اور برطانیہ سے ٹیلیفون آنے شروع ہو گئے اور ان کے سفیروں کے علاوہ سعودی عرب کے سفیر بھی متحرک ہو گئے ۔ وزیر اعظم جو دو دن قبل تھک ہار کر بیٹھ گئے تھے فوج کے سربراہ کی حوصلہ افزائی سے 15 مارچ کو پھر کو متحرک ہو گئے ۔ امریکہ نے بہت کوشش کی کہ نواز شریف لانگ مارچ سے علیحدہ ہو جائے لیکن نوازشریف ججوں کی بحالی کے بغیر لانگ مارچ سے علیحدہ ہونے پر راضی نہ ہوا ۔ ان مذاکرات کے دوران صدر کو بین الاقوامی طور پر شریف برادران کی نااہلی ختم کرنے کا وعدہ بھی کرنا پڑا ۔ رحمان ملک کی ایف آئی اے نے صدر کو بتایا تھا کہ صرف چند ہزار لوگ احتجاج کر رہے ہی جن پر بآسانی قابو پایا جا سکتا ہے ۔ یہی بات جب صدر نے فوج کے سربراہ اور وزیرِ اعظم کے سامنے کہی تو دوسرے خفیہ اداروں سے صورتِ حال کا پتہ کیا گیا جنہوں نے لانگ مارچ میں شامل ہونے والوں کی تعداد لاکھ سے اوپر بتائی اور کہا کہ جوں جوں وقت گذر رہا ہے تعداد بڑھتی جا رہی ہے اور راولپنڈی پہنچنے سے بہت پہلے ہی قافلہ قابو سے باہر ہو جائے گا ۔ جب اس پر بھی صدر صاحب راضی نہ ہوئے تو بات دھمکی تک پہنچی جو پورے زور دار طریقہ سے اُس نے دی جس کے پاس ہمارے مُلک کی اصل صاقت ہے ۔ اپنی کرسی جاتے اور جیل کی کوٹھری سامنے آتے دیکھ کر صدر صاحب کی “نہ” بمُشکل “ہاں” میں تبدیل ہوئی اور وزیرِ اعظم صاحب اعلان کا مسؤدہ تیار کرنے میں مصروف ہو گئے جو بار بار درست کیا گیا یہاں تک کہ تقریر ریکارڈ ہو جانے کے بعد دوبارا ریکارڈ کی گئی

معرکہ ڈوگر جو کامیاب نہ ہو سکا
جج صاحبان کی بحالی کا نوٹیفیکیشن ہوتے ہی صدر صاحب کے کاسہ لیسوں [نام نہاد مولوی اقبال حیدر اور شاہد اورکزئی] نے ججوں کی بحالی کے نوٹیفیکیشن پر عمل درآمد کو روکنے کیلئے عدالتِ عظمٰی میں دو درخواستیں دائر کر دیں جن میں فوری حُکمِ امتناعی جاری کرنے کی بھی درخواست کی تھی ۔ یہ دونوں درخواستیں عدالتِ عُظمٰی کے اس بینچ کے سامنے بروز جمعہ بتاریخ 20 مارچ 2009ء فیصلہ کیلئے رکھی گئیں جس کے سربراہ عبدالحمید ڈوگر تھے ۔ 20 مارچ کو اس بینچ کے سامنے 6 یا 7 کیس آنا تھے ۔ احمد رضا قصوری نے حکومتی سفارش سے اپنی 6 یا 7 درخواستیں ان میں شامل کروا دیں ۔ سابق اٹارنی جنرل ملک محمد قیوم نے اپنی 24 درخواستیں بھی اسی بینچ کے سامنے 20 مارچ کیلئے لگوا دیں یعنی کل 36 درخواستیں ہو گئیں جن میں 30 سے زائد کے متعلق خدشہ تھا کہ عبدالحمید ڈوگر کے جانے کے بعد ان پر دائر کرنے والوں کی پسند کا فیصلہ نہیں آئے گا ۔ عدالت بیٹھی تو بینچ میں شامل ایک بہت سینیئر جج نے بنچ کے سربراہ عبدالحمید ڈوگر سے کہا “ایک دن میں تین چار درخواستیں درست طریقہ سے نمٹائی جا سکتی ہیں اور یہ ؟” عبدالحمید ڈوگر جنہوں نے عدالتِ عظمٰی کے تمام سابقہ ریکارڈ توڑتے ہوئے جمعرات 19 مارچ کو 19 درخواستیں نمٹائیں تھیں کہنے لگے انہیں آج نمٹانا ہے ۔ اس پر وہ جج یہ کہہ کر اُٹھ گئے کہ “میں تو یہ نہیں کر سکتا ۔ آپ میری جگہ کسی اور کو بُلا لیجئے”۔ باقی تمام جج اپنی اپنی عدالتوں میں مصروف تھے اسلئے تمام 36 درخواستیں التوء میں چلی گئیں اور عبدالحمید ڈوگر صاحب نے ایک دن قبل ہی آخری ملاقاتیں شروع کر دیں

پرچی پھر چل پڑی

میں نے گھر کا سودا سلف لانے کیلئے ہفتہ میں ایک دن مقرر کیا ہوتا ہے جو کہ سال بھر سے منگل کا دن ہے ۔ سبزی پھل میں ہفتہ وار بازار سے لاتا ہوں جو آجکل پشاور موڑ کے قریب سیکٹر ایچ 9 کے کونے میں واقع ہے ۔ آٹا چاول وغیرہ میں جی 9 مرکز المعروف کراچی کمپنی میں ایک پرانی دکان سے لیتا ہوں کیونکہ سودا ستھرا ہوتا ہے اور قیمتیں بھی مناسب ہوتی ہیں ۔ اس دکان پر عام طور پر گاہکوں کی بھیڑ ہوتی ہے ۔ منگل 10 مارچ کو میں سودا لینے گیا تو شائد میلادالنبیۖ کی چھُٹی کی وجہ سے ہفتہ وار بازار میں گاہکوں کی بھیڑ نہ تھی سو سبزی پھل خرید کر میں ساڑھے نو بجے جی 9 مرکز پہنچ گیا ۔ وہاں بھی صرف چار پانچ گاہک تھے ۔ دکاندار کو فارغ دیکھ کر سلام اور حال پوچھنے کے بعد کہہ دیا “اور کیا خبر ہے ؟” دکاندار نے مجھے قریب ہونے کا اشارہ کیا

میں اس کے قریب کاؤنٹر پر ہی بیٹھ گیا ۔ وہ بولا “دس باہ دن سے آٹا نہیں مل رہا تھا ۔پرسوں ایک پی پی پی کے کھڑپینچ سے شکائت کی تو کہنے لگا کہ ‘پرچی دِلا دوں گا فی تھیلا 5 روپے ہوں گے’ ۔ میں نے اُسے 500 روپے دیئے ۔ کل وہ مجھے ساتھ لے گیا ۔ وہاں اُنہوں نے پرچیاں تیار رکھی ہوئی تھیں ۔ اُنہوں نے مجھے دس کلو کے 100 تھیلوں کی پرچی دے دی ۔ میں نے مِل میں جاکر وہ پرچی اور آٹے کی قیمت ادا کی اور 10 کلو والے 100 تھیلے لے آیا۔ کیا کریں ۔ ہم آٹے میں منافع نہیں کمائیں گے لیکن آٹے کی وجہ سے باقی سامان بکے گا تو ہماری دکان چلتی رہے گی”

اس واقع نے مجھے ایک پرانا دلچسپ واقعہ یاد دلا دیا ۔ 1973ء میں جو ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت کا دوسرا سال تھا ہمارے خاندان میں شادی تھی ۔ لڑکے کے والد ہمارے گھر آئے اور میرے والد صاحب سے کہا “شادی کی تاریخ مقرر کروا دیں بیٹا مُلک سے باہر جانا چاہتا ہے اور میں چاہتا ہوں کہ شادی کر لے اور بیوی کو ساتھ لے جائے”۔ پھر مجھ سے مخاطب ہو کر کہنے لگے “آپ بھی میری سفارش کر دیں”۔ میں نے مسکرا کر کہا “بازار میں گھی ناپید ہے لڑکی والے بارات کا اور آپ ولیمہ کا کھانا کیسے پکائیں گے ؟” لڑکے کے والد بڑے اعتماد سے بولے “اُس نے کب کام آنا ہے ۔ کتنے کام اُس کے کئے ہوئے ہیں ۔ گھی کا بندوبست تین دن میں ہو جائے گا”۔ پی پی پی کا ایک رہنما اُن کا ہمسایہ تھا اور وہ رُکن صوبائی اسمبلی بھی تھا

اُن دنوں حال یہ تھا کہ دیسی گھی تو بالکل غائب تھا ۔ بناسپتی گھی بیچنے کیلئے راولپنڈی میں صرف چند دکانیں مقرر تھیں جن پر فی شخص ایک پاؤ بناسپتی گھی ملتا تھا اور ہر دکان پر ڈیڑھ دو سو گاہک قطار لگائے ہوتے تھے

دو دن بعد ہونے والا دُولہا آیا کہ چلیں گھی لے آئیں ۔ میں اُسی کی کار میں بیٹھ گیا اور ہم چل دیئے ۔ مری روڈ پر ایک جگہ پہنچے ۔ وہاں میرے ساتھی نے ایک پرچی جیب سے نکال کر دی ۔ وہ پرچی رکھ لی گئی اور اُسے ایک اور پرچی دے دی گئی اور کہا گیا کہ نیا محلہ کے چوک میں ایک کھوکھا ہے وہاں جائیں ۔ وہاں پہنچے تو کھوکھے والا ہم سے پرچی لے کر چلا گیا اور 10 منٹ بعد واپس آ کر کہا “وہ جو گیٹ نظر آ رہا ہے وہاں جا کر گیٹ کھٹکھٹاؤ”۔ ہم نے اُس کی ہدائت پر عمل کیا ۔ تھوڑی دیر بعد ایک آدمی نے باہر نکل کر کھوکھے کی طرف دیکھا اور ہمیں کہا “اندر آ جاؤ”۔ جونہی ہی ہم اندر داخل ہوئے ہم پریشان ہو کر ایک دوسرے کو دیکھنے لگے ۔ یہ بہت بڑا گودام تھا جہاں ڈالڈا اور تلو بناسپتی گھی کے 5 کلو والے ہزاروں ڈبے پڑے تھے ۔ جو شخص ہمیں اندر لے گیا تھا بولا “فی ڈبہ اتنے روپے دے دو اور جتنے ڈبے چاہئیں اُٹھا لو”۔

اُس وقت ہمیں یہ خیال نہیں آیا کہ ہم سے سرکاری نرخ سے زیادہ نرخ وصول کیا جا رہا ہے بلکہ یہ افسوس ہوا کہ ہم اس فیئٹ 600 کار میں آنے کی بجائے بڑی گاڑی لے آتے تو دُگنی تعداد میں ڈبے لے جاتے اور عزیز و اقارب سے دعائیں لیتے

یہی وجہ ہے شاید کہ جو پیپلز پارٹی میں جاتا ہے پھر باہر نہیں نکلتا

کیسی دنیا

میرے پیارے سوہنے اللہ میاں
تیری دنیا میں ایسا کیوں ہے ؟
پیسے والے ہیں سارے عقلمند
میرے جیسے بیوقوف کیوں ہیں ؟

میرے پیارے سوہنے اللہ میاں
امیروں کا ایسا خیال کیوں ہے ؟
کہ وہ سب تو ہیں پڑھے لکھے
ہر میرے جیسا اَن پڑھ کیوں ہے ؟

میرے پیارے سوہنے اللہ میاں
یہاں ایسی باتیں کیوں ہوتی ہیں ؟
میں نہ بنوا سکا ایک بھی مکان
ساتھیوں کی ہے ہر شہر میں کوٹھی

میرے پیارے سوہنے اللہ میاں
دنیا میں یہ کیسی جمہوریت ہے ؟
ملک کے لئے غریب جانیں گنوائیں
امیروں کبیروں کو کرسی سے اُلفت ہے

میرے پیارے سوہنے اللہ میاں
جمہور پر ٹیکس سے خزانہ بھرتے ہیں
پر جمہور کیلئے بس محنت کی  سوکھی روٹی
وزیروں مشیروں کے لئے ہر شے مُفت ہے

نوکری ۔ جنگلی پودا جب درخت بن جائے

نوکری ۔ چاکری یا ملازمت ۔ کچھ کہہ لیجئے ۔ ویسے آجکل رواج جاب [job] کہنے کا ہے ۔ ملازمت نجی ادارے کی ہو یا سرکاری محکمہ کی اس کے کچھ اصول و قوانین ہوتے ہیں جن کی پاسداری ہر ملازم کا فرض ہوتا ہے ۔ دورِ حاضر میں ہماری قوم کی خواری کی بنیادی وجہ ادارے کے قوانین کی بجائے حاکم کی ذاتی خواہشات کی تابعداری ہے جس کی پنیری 1973ء میں لگائی گئی تھی اور اب یہ جنگلی پودا تناور درخت بن چُکا ہے

میں نے جب 1962ء میں ملازمت اختیار کی تو سرکاری ملازمین پر 1955ء میں شائع کئے گئے اصول و ضوابطِ ملازمت کا اطلاق ہوتا تھا ۔ اس میں قائداعظم کی 25 مارچ 1948ء کو اعلٰی سرکاری عہدیداروں کو دی گئی ہدایات پر مبنی اہم اصول یا قوانین مندرجہ ذیل تھے

(الف) ۔ ہر عہدیدار قوم کا حاکم نہیں بلکہ خادم ہے ۔ حکومت کا وفادار رہے گا اور اس سلسلہ میں دوسرے عہدیداران سے تعاون کرے گا
(ب) ۔ تعاون کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے کہ وہ دوسرے عہدیدار کے ہر عمل میں تعاون کرےگا یا اپنے اعلٰی عہدیدار کے ہر حُکم کو مانے گا بلکہ اگر دوسرا عہدیدار کوئی کام مروجہ قانون کے خلاف کرے یا اعلٰی عہدیدار کوئی ایسا حُکم دے جو قانون کے مطابق نہ ہو تو ان سے عدمِ تعاون وفاداری اور تعاون ہو گا
(ج) ۔ اوسط کارکردگی ہی مطلوب ہے ۔ اس سے اُوپر اور نیچے معدودے چند ہوتے ہیں جن کی طلب نہیں ہے
(د) ۔ ترقی کیلئے کارکردگی کی سالانہ رپورٹ (Annual Confidential Report)کے تمام حصوں کو برابر التفات (consideration/ weightage) دی جائے
(قارئین کی سہولت کیلئے قائداعظم کے متذکرہ خطاب کا متن اس تحریر کے آخر میں بھی نقل کیا گیا ہے

زمیندار ۔کاشتکار ۔ باغبان اور وہ لوگ جنہوں نے اپنے گھر میں چھوٹے چھوٹے باغیچے بنا رکھے ہیں جانتے ہیں کہ اگر ایک جنگلی پودہ اُگ جائے اور اسے نکالا نہ جائے اور وہ بڑھتے بڑھتے درخت بن جائے تو پھر اسے تلف کرنا اگر ناممکن نہیں تو نہائت مُشکل ضرور ہو جاتا ہے ۔ اگر اس درخت کو کاٹ دیا جائے تو زیرِزمین اس کی جڑیں پھیلی ہونے کی وجہ سے کئی جگہ سے وہ پھوٹ پڑتا ہے اور ایک کے کئی درخت بن جاتے ہیں ۔ ہمارے مُلک میں اب یہی حالت ہو چکی ہے

ذولفقار علی بھٹو کی حکومت کے 1973ء میں وضع کردہ انتظامی اصلاحات [Administrative Reforms] کے نفاذسے 1955ء کے سرکاری ملازمت کے قوانین کلعدم ہو گئے ۔ گو نئے قوانین کی روح بھی وہی ہے کہ سرکاری عہدیدار قوانین کے مطابق کام کرے گا لیکن اس کی تشریح اُس طرح نہیں کی گئی جس طرح 1955ء کے قوانین میں موجود تھی ۔ بالخصوص ترقی کیلئے جو اصول اُوپر (ج) کے تحت درج ہے کی بجائے کر دیا گیا
Below everage, Average, above Average, Good, Very Good, Exellant
اور ان کے نمبر رکھ دیئے گئے ۔ ترقی کیلئے جو نمبر رکھے گئے اُن کے مطابق اوسط (Average) رپورٹ پانے والا ترقی نہیں پا سکتا تھا ۔ اور ستم ظریفی یہ کہ متعلقہ افسر کو پرانے قوانین کے مطابق صرف Below Average رپورٹ کی اطلاع دی جاتی تھی چنانچہ افسر کو اپنی نااہلی کا اُس وقت پتہ چلتا ہے جب اُس کے جونیئر ترقی پا جاتے ہیں اور وہ بیٹھا رہ جاتا ہے ۔ ساتھ ہی یہ ستم بھی کہ بی پی ایس 19 کا افسر اگر 3 اوسط رپورٹیں پا لے تو وہ مستقبل میں گُڈ (Good) رپورٹیں لے کر بھی ترقی نہیں پا سکتا

(د) کے تحت لکھا گیا کی بجائے کر دیا گیا کہ
Grading and recommendation in the Fitness column given by the reporting officer shall be final

سرکاری عہدیداروں کی مُلک کے قوانین کی بجائے بڑے صاحب یا اس وقت کے حُکمران کی خوشنودی حاصل کرنے کا عمل شروع ہونے کی دوسری بڑی وجہ مُلکی قوانین کو بالائے طاق رکھتے ہوئے بغلی داخلہ (Lateral Entry) کے ذریعہ پیپلز پارٹی کے کارکنوں اور دوسرے منظورِ نظر لوگوں کی سینکڑوں کی تعداد میں اعلٰی عہدوں پر بھرتی بھی ہے جو ذولفقار علی بھٹو کے دورِ حکومت میں کی گئی ۔ پیپلز پارٹی کے جیالے وکیل ضلعی اور اعلٰی عدالتوں میں بھی جج بنائے گئے ۔ ان عہدیداروں اور ججوں میں سے کوئی دس فیصد ہوں گے جو متعلقہ عہدوں کے قابل ہو سکتے تھے باقی سب نااہل تھے ۔ ان لوگوں نے حکومتی مشینری اور عدلیہ کو ہر جابر حکمران کے ہاتھ کا کلپرزہ بنا دیا

متذکرہ بغلی داخلہ کے ذریعہ سے وفاقی حکومت میں بھرتی کئے گئے درجنوں ڈپٹی سیکریٹریوں اور جائینٹ سیکریٹریوں سے میرا واسطہ پڑا ۔ ان میں سے صرف ایک ڈپٹی سیکریٹری کو اپنے عہدے کے قابل پایا ۔ ایک ایسے ڈپٹی سیکریٹری سے بھی واسطہ پڑا جس سے ہر شخص نالاں تھا ۔ اُسے نہ بولنے کی تمیز تھی نہ کسی اور اداب کی ۔ ماتحتوں کو گالیاں بھی دیتا تھا ۔ نہ انگریزی درست بول یا لکھ سکتا نہ اُردو ۔ اُس کے پاس بی اے ایل ایل بی کی سند تو تھی لیکن کسی قانون کا اُسے علم نہ تھا ۔ ڈپٹی سیکریٹری بنائے جانے سے پہلے وہ فیصل آباد کے کسی محلہ میں پیپلز پارٹی کا آفس سیکریٹری تھا

میری قوم کب جاگے گی یا رب ۔ میرے مولٰی ۔ جھنجھوڑ دے میری قوم کو کہ وہ جاگ اُٹھے اور اپنی بھلائی کیلئے جدوجہد کرے

DO YOUR DUTY AS SERVANTS ADVICE TO OFFICERS
Address to the Gazetted Officers of Chittagong on 25th March, 1948

I thank you for giving me this opportunity to see you collectively. My time is very limited and so it was not possible for me to see you individually. I have told you two things: I have already said what I had to say to the Gazette Officers at Dhaka. I hope you should read an account of what I said there in the newspapers. If you have not I would request you to take the trouble of reading what I said there. One cannot say something new everyday. I have been making so many speeches and I expect each one of you to know my views by now.

Ladies and Gentlemen, I want you to realize fully the deep implications of the revolutionary change that has taken place. Whatever community, caste or creed you belong to you are now the servants of Pakistan. Servants can only do their duties and discharge their responsibilities by serving. Those days have gone when the country was ruled by the bureaucracy. It is people’s Government, responsible to the people more or less on democratic lines and parliamentary practices. Under these fundamental changes I would put before you two or three points for your consideration:

You have to do your duty as servants; you are not concerned with this political or that political party; that is not your business. It is a business of politicians to fight out their case under the present constitution or the future constitution that may be ultimately framed. You, therefore, have nothing to do with this party or that party. You are civil servants. Whichever gets the majority will form the Government and your duty is to serve that Government for the time being as servants not as politicians. How will you do that? The Government in power for the time being must also realize and understand their responsibilities that you are not to be used for this party or that. I know we are saddled with old legacy, old mentality, old psychology and it haunts our footsteps, but it is up to you now to act as true servants of the people even at the risk of any Minister or Ministry trying to interfere with you in the discharge of your duties as civil servants. I hope it will not be so but even if some of you have to suffer as a victim. I hope it will not happen –I expect you to do so readily. We shall of course see that there is security for you and safeguards to you. If we find that is in anyway prejudicial to your interest we shall find ways and means of giving you that security. Of course you must be loyal to the Government that is in power.

The second point is that of your conduct and dealings with the people in various Departments, in which you may be: wipe off that past reputation; you are not rulers. You do not belong to the ruling class; you belong to the servants. Make the people feel that you are their servants and friends, maintain the highest standard of honor, integrity, justice and fair-play. If you do that, people will have confidence and trust in you and will look upon you as friends and well wishers. I do not want to condemn everything of the past, there were men who did their duties according to their lights in the service in which they were placed. As administrator they did do justice in many cases but they did not feel that justice was done to them because there was an order of superiority and they were held at a distance and they did not feel the warmth but they felt a freezing atmosphere when they had to do anything with the officials. Now that freezing atmosphere must go and you must do your best with all courtesy and kindness and try to understand the people. May be sometimes you will find that it is trying and provoking when a man goes on talking and repeating a thing over and over again, but have patience and show patience and make them feel that justice has been done to them.

Next thing that I would like to impress upon you is this: I keep or getting representations and memorials containing grievances of the people of all sorts of things. May be there is no justification, may be there is no foundation for that, may be that they are under wrong impression and may be they are misled but in all such cases I have followed one practice for many years which is this: Whether I agree with anyone or not, whether I think that he has any imaginary grievances whether I think that he does not understand but I always show patience. If you will also do the same in your dealings with an individual or any association or any organization you will ultimately stand to gain. Let not people leave you with this bearing that you hate, that you are offensive, that you have insulted or that you are rude to them. Not one per cent who comes in contact with you should be left in that state of mind. You may not be able to agree with him but do not let him go with this feeling that you are offensive or that you are discourteous. If you will follow that rule believe me you will win the respect of the people.

With these observations I conclude what I had to say. I thank you very much indeed that you have given me this opportunity to say these few words to you and if you find anything good in it follow, if you do not find anything good in it do not follow.

Thank you very much.

Pakistan Zindabad

ٹیلیفون کس کا؟

کل اسلام آباد میں یہ سوال انتہائی اعلٰی سطح پر پوچھا جا رہا تھا اور قیافہ آرائی کا بازار گرم تھا

“وہ ٹیلیفون کس کا تھا ؟ ”

بدھ 25 فروری کو گورنر راج نافذ کر کے آئین اور قانون کی صریح خلاف ورزی کرتے ہوئے پنجاب اسمبلی کی عمارت کو نہ صرف تالے لگا دیئے گئے تھے بلکہ اس کے اردگرد پولیس اور رینجرز تعینات کر دیئے گئے تھے ۔ کل سہ پہر واشنگٹن سے کسی نے آصف زرداری کو ٹیلیفون کیا ۔ اُس کے بعد چند منٹوں کے اندر پنجاب اسمبلی کی عمارت کو کھول دیا گیا اور اور اسمبلی کے اسپیکر جنہوں نے کل بھی اسمبلی کی عمارت سے باہر زمین پر بیٹھ کر اجلاس کیا تھا اُن کو اسمبلی کی عمارت میں داخل ہونے کی اجازت دے دی گئی

کوئی کہتا ہے کہ یہ ٹیلیفون کسی امریکی اہلکار کا تھا لیکن زیادہ لوگوں کا خیال ہے کہ یہ ٹیلیفون پاکستان کی فوج کے سربراہ اشفاق پرویز کیانی کا تھا جو آج کل امریکہ میں ہیں ۔ اگر کوئی قاری حقیقت سے واقف ہے تو واضاحت کرے