Category Archives: روز و شب

اچھا کیسے بنیں ؟

ملامت يا شکائت کرنے سے معاملات نہیں سدھرتے

جس عمل کی کسی کو فکر ہو ، وہ اُس کی اپنی ذمہ داری ہوتا ہے

دوسروں میں اچھائی تلاش کرنے والا اپنے آپ کو بہتر بناتا ہے

کسی کو کچھ دینے سے دینے والے کا ظرف بڑھتا ہے

کسی کی خُوبی کی تعریف کرنا ایک اچھا تحفہ ہے

کسی کی تخلیقی صلاحیت کی تعریف خود میں یہ صلاحیت پیدا کرنے کا مُوجب بنتی ہے

مُحَبَت

محبت ہر شخص کی ضرورت ہے
محبت کرو تاکہ تم سے بھی محبت کی جائے
محبت ایک ایسی جنس ہے جو بانٹنے سے کم نہیں ہوتی
محبت سب سے کیجئے بالخصوص اُس سے جو اس کا مستحق نہ ہو
محبت نامساعد حالات میں مل کر چلنے سے مضبوط ہوتی ہے

میں محبت کی بات کر رہا ہوں عِشق کی نہیں
کہتے ہیں جسے عِشق وہ خلَلَ ہے دماغ کا

Click on “Comparison – Barack Hussein Obama of 21st Cencury with Napoleon Bonaparte of 18th century” or write the following URL in browser and open to read a thought provoking article
http://iabhopal.wordpress.com/2009/06/18/

نیا بادشاہ ۔ ايک لطيفہ

ايک اعلٰی تعلیم یافتہ اور اعلٰی عہدیدار نے حال ہی میں مجھے ایک لطیفہ سنایا تھا ۔ کل اخبار میں حکومتی کارستانی کی ایک رپورٹ پڑھ کر خیال آیا کہ قارئین کی نذز کروں

شہروں سے جمہوریت کا شور جنگل میں پہنچا ۔ جنگل کی تمام جمہور یعنی تمام جانوروں کے نمائندوں کا اجلاس بُلایا گیا ۔ شیر کی نامزدگی پر بیلوں اور ہرنوں نے شور مچایا ۔ اسی طرح نامزدگیاں ہوتی رہیں اور اعتراضات ہوتے رہے ۔ آخر بندر باقی رہ گیا اور اس کے خلاف کسی نے شکائت نہ کی چنانچہ جمہور کے نمائندوں نے متفقہ طور پر بندر کو اپنا بادشاہ بنا لیا ۔ بندر نے اپنی تقریر میں جمہور کا شکریہ ادا کرتے ہوئے یقین دلایا کہ اب کسی پر ظُلم نہیں ہو گا ۔ ہر ایک کی سُنی جائے گی اور اس کی مدد کی جائے گی

کچھ روز بعد ایک چڑیا درخت پر اپنے گھونسلے میں اپنے دو ننھے بچوں کو لئے بیٹھی تھی کہ ايک سانپ درخت پر چڑھتا نظر آیا ۔ چڑیا اُڑ کر بندر کے پاس گئی اور سانپ سے بچوں کو بچانے کی درخواست کی ۔ بندر نے اُسی وقت ایک درخت پر چھلانگ لگائی پھر اُچھل کر دوسرے درخت پر گیا پھر تیسرے پر اور اس طرح کئی درختوں چھلانگے لگا کر واپس آیا اور چڑیا کو بتایا کہ “دیکھا ہم نے آپ کیلئے کتنی محنت کی ہے”

چڑیا جب واپس اپنے گھونسلے پر گئی تو دیکھا کہ سانپ اس کے گھونسلے کے قریب پہنچ چکا ہے ۔ وہ ہانپتی کانپتی پھر بندر بادشاہ کے پاس پہنچی اور بتایا کہ سانپ اسکے بچوں کے بالکل قریب پہنچ چکا ہے ۔ بندر نے پھر ایک درخت سے دوسرے ۔ دوسرے سے تیسرے پر اور اس طرح کئی درختوں چھلانگے لگائیں اور واپس آ کر کہا ” دیکھا ہم نے آپ کیلئے کتنی محنت و کوشش کی ہے”۔ چڑیا اپنے گھونسلے پر پہنچی تو سانپ اُس کے بچوں کو کھا چکا تھا

پاکستانی قوم کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی نہیں ہو رہا ؟
:smile:

ايک قاریہ کی فرمائش

پاکستان کے سب سے بڑے اور انواع و اقسام کے باسیوں والے شہر میں پَلی بڑھی اور رہائش پذیر ايک تعليم یافتہ قاریہ [جن سے تعارف میری تحریر اور شاید مجھ پر اُن کی تنقید سے ہوا تھا] نے میری ايک حالیہ تحریر پر تبصرہ کرنے کے بعد فرمائش کی ” فرمانبرداری کی تعریف ضروربتائیے گا”

ہرچند میں سمجھتا ہوں کہ محترمہ فرمانبرداری يا تابعداری کی تعریف خُوب جانتی ہیں ۔ محسوس یوں ہوتا ہے کہ میرا نظریہ جاننا چاہتی ہیں ۔ اگر میں اُنہی کی عمر کا ہوتا تو شاید کہتا کہ “میرا امتحان لے رہی ہیں”۔ لیکن میں نے ايسا کبھی نہیں کہا ۔ اپنا تو نظریہ ہے کہ ہماری وجہ سے کوئی خوش ہو جائے تو سمجھیئے کہ ایک لمحہ اچھا گذر گیا

محترمہ نے بتایا نہیں کہ مُدعا والدین کی فرمانبرداری ہے یا مجموعی فرمابرداری ۔ بہر کیف میں اسے والدین کے حوالہ سے ہی لوں گا کیونکہ میری جس تحریر پر تبصرہ کیا گیا وہ والدین کے بارے میں تھی ۔ ویسے بھی اپنے سے اعلٰی عہدیدار کی فرماں برداری کے متعلق ايک دو واقعات کو میں اپنی ڈائری سے بلاگ پر منتقل کرنے کا فیصلہ کر چکا تھا ۔ یہ فرمائش نہ آتی تو آج اس جگہ وہی شائع ہوتا

میرے نزدیک والدین کی فرمانبرداری کا مطلب ہے

1 ۔ حُکم کی بجا آوری جس میں جُرم یا گناہ یعنی ظُلم یا خیانت یا منافقت وغیرہ کا ارتکاب نہ ہو
2 ۔ خدمت اپنے جائز وسائل کے اندر رہتے ہوئے یعنی نان و نفقہ ، لباس ، رہائش، وغیرہ مہیا کرنا
3 ۔ صحت کا خیال رکھنا اور اس کیلئے کوشش کرنا
4 ۔ مؤدبانہ طریقہ سے پیش آنا یا گفتگو کرنا
5 ۔ اگر غلط حُکم دیں تو ردِ عمل صرف خاموشی

اب ملاحظہ ہو اللہ کا حُکم ۔ متعلقہ آیات کئی ہیں لیکن میں صرف چار کا حوالہ دوں گا جن سے مطلب واضح ہو جاتا ہے

سورت ۔ 9 ۔ توبہ ۔ آیت ۔ 23 ۔ اے اہل ایمان ۔ اگر تمہارے [ماں] باپ اور [بہن] بھائی ایمان کے مقابل کفر کو پسند کریں تو اُن سے دوستی نہ رکھو ۔ اور جو اُن سے دوستی رکھیں گے وہ ظالم ہیں

سورت ۔ 17 ۔ بنی اسرآءيل ۔ آیت ۔ 23 و 24 ۔ اور تمہارے رب نے فيصلہ کر ديا ہے کہ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو اور ماں باپ کے ساتھ بھلائی کرتے رہو ۔ اگر ان میں سے ایک یا دونوں تمہارے سامنے بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو اُن کو اُف تک نہ کہنا اور نہ انہیں جھڑکنا اور اُن سے بات ادب کے ساتھ کرنا 0 اور عجزو نیاز سے ان کے آگے جھُکے رہو اور ان کے حق میں دعا کرو کہ اے پروردگار جیسا انہوں نے مجھے بچپن میں [شفقت سے] پرورش کیا ہے تُو بھی اُن [کے حال] پر رحمت فرما

سورت ۔ 29 ۔ عنکبوت ۔ آیت ۔ 8 ۔ اور ہم نے انسان کو اس کے والدین سے نیک سلوک کا حکم دیا اور اگر وہ تجھ پر [یہ]کوشش کریں کہ تو میرے ساتھ اس چیز کو شریک ٹھہرائے جس کا تجھے کچھ بھی علم نہیں تو ان کی اطاعت مت کر ۔ میری ہی طرف تم [سب] کو پلٹنا ہے سو میں تمہیں ان [کاموں] سے آگاہ کردوں گا جو تم [دنیا میں] کیا کرتے تھے

غور طلب حُکم “اُف نہ کرنے” کا ہے ۔ اُف انسان کہتا ہے جب اُسے تکلیف پہنچتی ہے ۔ سو مطلب یہ ہوا کہ والدین سے اگر تکلیف بھی پہنچے تو بُرا نہ مناؤ

فرق

مشرق اور مغرب کی دو منفرد تہذیبیں ہوا کرتی تھیں ۔ پچھلی تین دہائیوں میں ذرائع ابلاغ [جن کی اکثریت دين مخالف مادہ پرست لوگوں کے قبضہ میں ہے] کی تبليغ نقشہ نے بدلنے میں اہم کردار ادا کیا ہے ۔ چند دن قبل میں ایک واقعہ کا حال پڑھ رہا تھا تو میری سوچ مجھے کئی دہائیاں پیچھے لے گئی جب میں پاکستان آرڈننس فیکٹریز میں ویپنز فیکٹری کا پروڈکشن منیجر اور دو بچوں کا باپ تھا ۔ ويپنز فیکٹری جس کا میں پروڈکشن منيجر تھا کے نئے سینئر انسپیکٹنگ آفيسر میجر منیر اکبر ملک تعینات ہوئے ۔ کچھ دن بعد وہ اپنی بیگم سمیت ہمارے گھر آئے ۔ گپ شپ ہوتی رہی ۔ جاتے ہوئے بولے “ہم نے ابتداء کر دی ہے ۔ اب یہ سلسلہ جاری رہنا چاہیئے”

دو تین ہفتے بعد ہم رات کا کھانا کھا کر چلتے چلتے اُن کے ہاں پہنچ گئے ۔ اُن کی سرکاری رہائش گاہ ہماری سرکاری رہائش گاہ سے کوئی 500 میٹر کے فاصلہ پر تھی ۔ ميرا بڑا بیٹا زکریا تقریباً چار سال کا تھا اور بيٹی تقریباً دو سال کی ۔ ہم اُنہیں گھر ملازمہ کی نگرانی میں چھوڑ گئے کیونکہ میجر منیر اکبر کے ساتھ ہماری بے تکلفی نہ تھی ۔ جب ہم ميجر منیر اکبر کے گھر پہنچے تو اُن کا پہلا سوال تھا “بچے کہاں ہیں ؟” پھر کہا “آپ ڈيوٹی پر نہیں آئے کہ بچے گھر چھوڑ دیئے ۔ ابھی واپس جائیں اور بچے لے کر آئیں”۔ پھر اپنی کار میں مجھے لے کر گئے اور ہم بچوں کو لے کر آئے

دورِ حاضر میں بڑے شہروں میں رہنے والے والدین کی اکثریت معمول ہے کہ چھوٹے چھوٹے بچوں کو ملازمین پر چھوڑ کر شامیں اور راتیں موج میلے میں گذارتے ہیں ۔ شاید یہی وجہ ہے کہ دورِ حاضر میں بہت کم بچے والدین کا مکمل احترام کرتے ہیں

درُست وقت

اچھی زندگی گذارنے کیلئے وقت کا انتخاب انتہائی اہم ہے

وعدہ نہ کیجئے جب جوش یا بہت خوشی میں ہوں

جواب نہ دیجئے جب غمگین ہوں

فیصلہ نہ کیجئے جب غُصہ میں ہوں

ہر کام سے قبل سوچ لیجئے اور عقلمند بنیئے

[اور سوچنے سے پہلے سوچئے کہ سوچنا چاہیئے بھی یا نہیں :smile: ]

اَب بتائيے

ميں نے گُذشتہ کل ايک اِلتماس کی تھی ۔ ريحان ۔ شعيب [بنگلور والے] اور کنفيوز صاحبان نے ميری رہنمائی کی جس کے لئے ميں اُن کا شُکرگذار ہوں ۔ قارئين اس تحرير کی درُستگی يا خرابی کی اطلاع دے کر مشکور فرمائيں ۔ يہ ميں براہِ راست بلاگ پر لکھ رہا ہوں کيونکہ ابھی سب سافٹ ويئر نصب کرنا ہيں جو اس تحرير کی درستگی کی خبر ملنے کے بعد اِن شاء اللہ کروں گا

ہوا يہ کہ جس دکاندار سے ميں نے ہارڈ ڈرائيو خريدی تھی اُس نے باوجود ميرے واضح کرنے کے زبانوں کی آپشن نہيں رکھی تھی ۔ دوبارہ گيا تو کسی طرح اُردو چابی تختہ ڈال ديا جس کا نتيجہ ميں گذشتہ کل بتا چکا ہوں ۔ کل ميں تيسری بار اس کے پاس گيا تو اُردو کی آپشن ڈالنے کے لئے نئے سرے سے وِنڈوز ايکس پی نصب کی ۔ اُردو کي درست آپشن شامل ہو گئی مگر چابی تختے نے دو بار درُست کام کيا پھر گڑبڑ ہوگئی اور اينٹی وائرس بھی اُڑ گئی ۔ مزيد بجائے دوسری ساری پچھلی فائليں محفوظ کرنے کے اُس نے اپنی مرضی کی کرديں ۔ کمال يہ کہ جو ونڈوز ايکس پی نصب کی اس کی چند فائليں کام نہيں کرتی تھيں اسلئے ميرے لئے مزيد مشکلات پيدا ہو گئيں اور ميں کمپيوٹر پر کچھ لکھنے سے بھی رہ گيا ۔

ميں نے صبح کے چھ گھنٹے بے فائدہ برباد کئے ۔ پھر ايک کزن سے ونڈوز ايکس پی 2005 کی سی ڈی مل گئی اور ميں يہ الفاظ لکھنے کے قابل ہوا ۔ ميرے پاس ونڈوز ايکس پی سروس پيک 2 کی سی ڈی ہوا کرتی تھی ليکں نامعلوم کس نے اغواء کر لی

دِلچسپ بات يہ ہے کہ گذشتہ کل والی تحرير اب مجھ سے درُست پڑھی جا رہی ہے