Category Archives: روز و شب

نظامِ تعلیم

عصرِ حاضر میں جدید تعلیم کا بہت غُوغا ہے لیکن جدیدیت کے نام پر نظامِ تعلیم کا اُس سے بھی بُرا حال کر دیا گیا ہے جو انگریز حُکمرانوں نے اُنیسویں صدی میں ہندوستان کو مکمل قابو میں کرنے کیلئے بنایا تھا ۔ ذیل میں اس سلسلہ میں پاکستان بننے سے بہت پہلے لکھی گئی ایک کتاب کے دو اوراق ملاحظہ کیجئے ۔ یہاں میں واضح کر دوں کہ اکبر الٰہ آبادی 16 نومبر 1846ء کو پیدا ہوئے اور 1921ء میں وفات پائی

Education1

Education2
بشکریہ ۔ باذوق صاحب

بشر ۔ عتاب اور ڈرامہ باز

ابھی سے ہے يہ حال تو آگے جانے کيا ہوئے

دوتين ہفتوں سے ميرا يہ بلاگ ميری قوم کی طرح اپنی مرضی کا مالک بنا ہوا تھا ۔ کبھی کھُلتا کبھی نہ کھُلتا ۔ وجہ سمجھ نہيں آ رہی تھی ۔ پانچ چھ روز قبل سرور کے مالک سے رابطہ کيا ۔ اُس نے بتايا کہ يہ مسئلہ ڈی اين ايس رُوٹِنگ [DNS Routing ] کا ہے ۔ امريکا ميں سارے سرور اَپ گريڈ کر ديئے گئے ہيں اور تمام آئی ايس پيز نے ڈومين کے سلسلہ ميں کچھ اپ گريڈ کرنا تھا ۔ جنہوں نے نہيں کيا اُنہيں استعمال کرنے والوں کو يہ مسئلہ درپيش ہے ۔ بہرحال اُس کے بعد دو دن ميرا بلاگ کھُلتا رہا پھر وہی ہَٹ ۔ ميں نے بہت سے دوستوں کو ای ميل ميں مدد کی درخواست کی تھی جس سے يہ بات سامنے آئی ہے کہ جن کا آئی ايس پی ہے پی ٹی سی ايل يا وہ جو پی ٹی سی ايل سے روٹ ہوتی ہے مثال کے طور پر ورڈ کال۔ آج صبح 7 بجے نہيں کھُلا تو رابطہ کيا تو اُسی وقت چالو ہو گيا ۔ مگر ۔ ۔ ۔ بجلی کا آوا گوَن شروع ہو گيا

جمعہ اور ہفتہ کی درميانی رات سے لاہور پر عتاب نازل ہو چکا ہے ۔ پيپکو ہی بجلی بند کرنے کيلئے کم نہ تھی کہ مرکزی حکومت کا ايک ہتھيار نيشنل پاور کنٹرول سينٹر نے لاہور شہر کے 18 اور لاہور کے مضافات کے 9 گرڈ سٹيشنوں کو بجلی کی سپلائی باوجود پيپکو کے منع کرنے کے بند کر دی ہوئی ہے جس کے نتيجہ ميں لاہور شہر ميں 24 گھنٹوں میں سے 18 گھنٹے بجلی بند رہتی ہے وجہ بجلی کی کمی بتائی گئی ہے جبکہ اسلام آباد ميں 24 گھنٹوں ميں صرف 5 گھنٹے بجلی بند رہتی ہے ۔ حالت يہ ہے کہ ايک گھنٹہ بجلی ہوتی ہے جس کے بعد ايک يا 2 يا 3 يا 4 گھنٹے بجلی نہيں ہوتی

شايد اسی سے عوام کی نظر ہٹانے کيلئے پچھلے ہفتے  کو مشہور ڈرامہ بازوں نے ايک منظر پيش کيا کہ اٹھارہويں آئينی ترميم پيش کی جا رہی ہے اور صدر صاحب جائنٹ سيشن سے خطاب کريں گے ۔ اس پر نواز شريف نے پريس کانفرنس کر ڈالی اور تمام توپوں کا رُخ نواز شريف کی طرف ہو گيا ۔ بادل چھٹے ہيں تو معلوم ہوا کہ اٹھارويں ترميم تو ابھی تيار ہی نہيں ہوئی کيونکہ مختلف سياسی جماعتوں کی طرف سے اُٹھائے گئے نقاط کا ابھی فيصلہ ہونا باقی ہے ۔ اٹھارويں ترميم اسمبلی ميں پيش کرنے اور صدر کے خطاب کی سمری وزيراعظم نے صدر کو بھيجنا ہوتی ہے اور وزيراعظم نے ايسی کوئی سمری نہيں بھيجی تھی

ہم عوام صرف اتنا ہی صدر صاحب اور اُن باقی اداکاروں سے کہہ سکتے ہيں ” اس دل سے کھيلتے ہو بار بار کس لئے “

کزن ميرج

ايک صاحب جو اپنے آپ کو بد تميز کہتے ہيں [ميں نہيں کہتا] نے لکھا تھا کہ marriage between cousins يعنی چچا ۔ ماموں ۔ پھوپھی اور خالہ کی بيٹی کے ساتھ شادی کرنے سے جو بچے پيدا ہوں گے وہ اپاہج يا کُند ذہن ہوں گے يا ہونے کا احتمال ہے ۔ ميں نے اس پر لکھنے کا وعدہ کيا تھا ۔ جلد نہ لکھ سکنے پر معذرت خواہ ہوں کيونکہ ميں اُن سے پہلے کے کچھ حضرات سے کئے گئے وعدے پورے کرنے کی کوشش ميں تھا

متذکرہ بالا نظريہ يا قياس سے پہلی بار ميرا واسطہ 1965ء ميں پڑا جب ميرے والدين نے ميری شادی کا سوچا تو کسی نے شوشہ کزن ميرج کا چھوڑ ديا مگر بات آئی گئی ہو گئی اور 14 اگست 1965ء کو ميری منگنی خالہ کی بيٹی سے ہو گئی ۔ نومبر 1967ء ميں اللہ کے فضل سے ميری شادی ہو گئی

ميں نے اس سلسلہ ميں مطالعہ شروع کيا ۔ جو بات ميری سمجھ ميں آئی اُس کا خُلاصہ يہ ہے

عيسائیوں نے کسی وجہ سے چچا ۔ ماموں ۔ پھوپھی اور خالہ کی بيٹی کو بہن قرار ديا ۔ اسلئے اُس کے ساتھ شادی حرام قرار دی گئی
مسلمانوں ميں قريبی رشتہ داروں ميں شادی کا رُجحان تھا
انسان کی نفسيات تو عام طور پر ايک جيسی ہے ۔ جس طرح آج کا مسلمان اسلام کی ہر بات کو سائنس سے ثابت کرنے کی کوشش کرتا ہے اسی طرح عيسائی اطِباء نے اپنے اُس رواج کو جس ميں کزن ميرج حرام قرار دی گئی تھی سائنس سے ثابت کرنے کی کوشش کی

اللہ کے فضل سے ہمارا پہلا بچہ دسمبر 1970ء ميں پيدا ہوا جس کا نام زکريا ہے ۔ 1972ء ميں ہم اپنے دوسرے بچے کی پيدائش کی اُميد رکھتے تھے کہ پورے پاکستان ميں ايک لہر اُٹھی يا اُٹھائی گئی کہ کزن ميرج سے بچے کُند ذہن يا اپاہج پيدا ہوتے ہيں ۔ ہم بہن بھائيوں ميں سب سے بڑی بہن ہيں جنہوں نے 1955ء ميں ايم بی بی ايس پاس کيا تھا ۔ جب اُنہوں نے اس فتوے پر ہاں کہہ دی تو ميرے والدين کا پريشان ہونا فطری تھا ۔ اُنہيں پريشان ديکھ کر ميں نے کہا “ہمارے آباؤ اجداد ميں ہميشہ سے کزن ميرج ہوتی آئيں ہيں ۔ آج تک نہيں سُنا کہ اُن کے بچوں ميں کوئی کُند ذہن يا اپاہج ہوا”۔ پھر ماضی کے دو واقعات اُنہيں ياد کرائے اور کہا “جب سالوں کی تحقيق کے بعد آزمودہ ترياک عملی طور پر چند سال بعد زہر ثابت ہوتے ہيں تو يہ فہوالمطلوب والا کُليہ بھی غلط ہو سکتا ہے”۔ اس سے ميرے والدين کی تشويش کافی حد تک دُور ہو گئی۔ [ان دو واقعات اور فہوالمطلوب کی تفصيل بعد ميں]۔ اللہ کے کرم سے بچی بخير و عافيت پيدا ہو گئی

ميرا چھوٹا بيٹا فروری 1975ء ميں پيدا ہوا ۔ اُس کی پيدائش سے پہلے مزيد تحقيق آ گئی تھی کہ اگر خاوند اور بيوی کا خون ايک سا نہ ہو تو بچہ پيدا ہوتے ہی اس کا سارا خون تبديل کرنا ہوگا ورنہ [اللہ نہ کرے] بچہ مر جائے گا ۔ ميرا اور بيوی کا خون ٹيسٹ ہوا ۔ ميرا او پازيٹِو [O +] بيوی کا بی نيگيٹِو [B -]۔ ايک طوفان کھڑا ہو گيا ۔ حُکم ہوا کہ پھر خون ديا جائے راولپنڈی آرمڈ فورسز انسٹيٹيوٹ آف پيتھالوجی ميں مزيد ٹيسٹوں کيلئے بھيجا جائے گا ۔ ٹيسٹ ہو کر نتيجہ آيا تو حُکم ہوا کہ خون دينے کيلئے رضاکار تيار رکھے جائيں ۔ بچہ پيدا ہوتے ہی اُس کا خون تبديل کيا جائے گا

اللہ کی کرم نوازی ہوئی کہ ايک لمبے تجربہ والے ڈاکٹر صاحب راولپنڈی سے کسی سلسلہ ميں واہ چھاؤنی آئے ۔ کسی نے اس معرکہ کا ذکر اُن سے کيا ۔ وہ ڈاکٹر صاحب ميری بيوی کے کمرہ ميں جا کر ساری رپورٹيں ديکھ کر آئے اور کہا ” آپ لوگوں کو يقين ہے کہ بچے کا خون تبديل کر کے آپ بچے کو بچا ليں گے ؟” جواب ملا “کوشش ہمار فرض ہے”۔ بزرگ ڈاکٹر صاحب نے کہا “آپ جانتے ہيں کہ کتنا بڑا رِسک لے رہے ہيں ؟ ميں ايسے درجنوں کيس کر چکا ہوں اور اللہ کے فضل سے سب بچے بصحت ہيں ۔ اللہ پر بھروسہ رکھ کے نيک نيّتی سے کام کريں ۔ اللہ بہتر کرے گا”۔ چنانچہ ميرا دوسرا بيٹا يعنی تيسرا بچہ بھی اللہ کے فضل سے بخير و عافيت پيدا ہوا

ميرے بڑے بيٹے زکريا نے ماشاء اللہ انجنئرنگ يونيورسٹی لاہور سے بی ايس سی انجيئرنگ پاس کی ۔ پھر جارجيہ انسٹيٹيوٹ آف ٹيکنالوجی اٹلانٹا جارجيہ امريکا سے ايم ايس انجيئرنگ پاس کی
ميری بيٹی نے ماشاء اللہ کلينيکل سائيکالوجی ميں ايم ايس سی پاس کرنے کے بعد پوسٹ ماسٹرز ڈپلومہ کيا
چھوٹے بيٹے نے ماشاء اللہ آئی بی اے کراچی سے صبح کے وقت کا کُل وقتی ايم بی اے پاس کيا ۔ پھر سٹريتھکلائيڈ يونيورسٹی يو کے سے ايم ايس سی فنانس پاس کيا
يہ تينوں بچے ماشاء اللہ کسی امتحان ميں فيل نہيں ہوئے اور اللہ کے فضل سے صحتمند اور چاک و چوبند ہيں

يہ وہ بچے ہيں جن کے ماں باپ فرسٹ کزن ۔ دادا دادی بھی فرسٹ کزن اور نانا نانی سيکنڈ کزن

ميری پھوپھی زاد بہن جو ميری بيوی کی تايا زاد ہيں اُن کی شادی اپنی پھوپھی کے بيٹے سے ہوئی ۔ اُن کے سب بچے ماشاء اللہ ٹھيک ٹھاک ہيں ۔ اُنہوں نے اپنے بيٹے کی شادی اپنی سگی بھتيجی سے کی جن کے اب ماشاء اللہ دو بچے ہيں ٹھيک ٹھاک اور ذہين

ہمارے قريبی عزيزوں ميں چار بچے نقص والے پيرا ہوئے ۔ ميرے والد صاحب کے تايا صاحب کے دو بيٹوں اور ايک بيٹی ميں سے ايک بيٹے گونگے تھے ۔ والد صاحب کے تايا صاحب کی بيوی غير خاندان سے تھيں
ميرے والد صاحب کی تايا زاد بہن کے بيٹے کی شادی غيروں ميں ہوئی ۔ اُن کا بيٹا جب پيدا ہوا تو اُس کا تالُو يعنی منہ کے اندر زبان کے اُوپر جو چھت ہوتی ہے وہ نامکمل تھی جس کی وجہ سے اُس بچے کو کئی ماہ ہستال ميں رکھنا پڑا اور اُس کی مکمل پلاسٹک سرجری ميں کئی سال لگے
ميرے خالہ زاد بھائی جو ميری بيوی کے سگے بھائی ہيں اُن کے دو بيٹوں اور تين بيٹيوں ميں سے ايک بيٹا ناقص العقل [retarded] ہے ۔ ميرے خالہ زاد بھائی کی بيوی غير خاندان سے ہے
متذکرہ بالا ميری پھوپھی زاد بہن کی ايک بيٹی کے دو بيٹوں اور تين بيٹيوں ميں سے ايک بيٹا ناقص العقل ہے ۔ اس بچے کا باپ غير خاندان سے تھا
ميں يہ نہيں کہنا چاہ رہا کہ غيروں ميں شادی کا يہ نتيجہ ہوتا ہے ۔ نہيں بالکل ايسا نہيں ہے ۔ ميری چاروں بہنوں اور ايک بھائی کی شادیاں غيروں ميں ہوئیں اور ماشاء اللہ سب کے بچے تندرست اور ذہين ہيں

دو واقعات جن کا ميں نے شروع میں حوالہ ديا تھا
مجھے 1948ء ميں گلا خراب ہونے کی وجہ سے تيز بخار ہو گيا ۔ والد صاحب ڈاکٹر کے پاس لے گئے جس نے مجھے پنسلين کا ٹيکہ لگايا ۔ ٹيکہ لگوا کر ہم گھر کو روانہ ہوئے ۔ کوئی دس منٹ بعد ميری آنکھوں کے آگے اندھيرا آنا شروع ہوا اور ميں بيہوش ہو گيا ۔ جب ہوش میں آيا تو میں ڈاکٹر کے کلنک پر تھا اور ڈاکٹر صاحب کہہ رہے تھے “کوئی ايسی بات نہيں ہے ۔ بچے کا دل کمزور ہے ٹيکے سے ڈر گيا ہے”۔ گھر پہنچ کر جب والد صاحب نے قصہ والدہ صاحبہ کو سُنايا تو وہ بوليں “اجمل تو اُس وقت بھی مستعد ہوتا ہے جب بڑے بڑے گرنے کو ہوتے ہيں ۔ ضرور دوائی کا اثر ہوا ہو گا”۔ بارہ پندرہ سال بعد معلوم ہوا کہ نئی تحقيق کے مطابق پنسلين سے خطر ناک ردِعمل ہوتا ہے اسلئے پنسلين پہلے ٹيسٹ کرنے کے بعد دی جائے ۔ مزيد کچھ عرصہ بعد پنسلين بنانا بند کر ديا گيا

دسمبر 1964ء ميں مجھے بخار ہوا ۔ ڈاکٹر نے مليريا تشخيص کر کے دوائی دی ۔ دو دن بعد بہتر ہونے کی بجائے حالت ابتر ہو گئی ۔ ميں نے جا کر ڈاکٹر سے کہا کہ دوائی کا کچھ غلط اثر ہوتا محسوس ہوتا ہے تو ڈاکٹر صاحب بولے “يہ دوائی امريکا کے بہترين ماہرين نے اتنے سالوں کی تحقيق اور تجربہ کے بعد بنائی ہے ۔ اس دوائی کا ردِ عمل ہو ہی نہيں سکتا”۔ دوائی جاری رکھی ۔ چار دن بعد ميں ہسپتال ميں بيہوش پڑا تھا ۔ ميرے گردوں ميں سے خون بہہ رہا تھا اور ہيموگلوبن جو عام طور پر ميری 14.2 ہوتی تھی 6.9 رہ گئی تھی ۔ کسی کو کچھ سمجھ ميں نہ آ رہا تھا سوائے اسکے کہ مجھے خون کی بوتل لگا دی گئی مگر بلڈ پريشر بہت کم ہو جانے کے باعث خون کی ايک بوتل چار دن ميں چڑھی جن ميں سے تين دن ميں متواتر بيہوش پڑا رہا تھا ۔ مزيد دس دن يہ حال رہا کہ بستر سے سر اُٹھاؤں تو بيہوش ہو جاتا تھا بغير تکئے کے ليٹا رہا اور نيند نہ آتی تھی ۔ ميرے بعد کئی اور اسی طرح کے کيس ہوئے اور ايک سال بعد نئی تحقيق آئی کہ اُس دوائی کے خطرناک ثابت ہونے کی وجہ سے ممنوع قرار دے دی گئی ہے ۔ اور دوائی تمام دوائی کی دکانوں سے اُٹھا لی گئی

فہوالمطلوب
جنہوں نے دسويں جماعت تک جيوميٹری اُردو ميں پڑی ہے اُنہيں شاید ياد ہو کہ زيادہ تر مسئلے [theorum] تو براہِ راست حل کئے جاتے تھے مگر کچھ ايسے تھے کہ جن ميں جواب فرض کر ليا جاتا تھا اور پھر اُسے غلط ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی تھی ۔ آخر ميں لکھا جاتا تھا چونکہ مفروضہ غلط ثابت نہيں ہو سکا اسلئے يہ درست ہے ۔ فہوالمطلوب ۔ فہوالمطلوب عربی کا لفظ ہے جس کا مطلب ہے اور وہی چاہيئے

بچ کے رہنا

یہ ہے کمپیوٹر کا کمال ۔ پینٹ شاپ کے ذریعہ کچھ بھی بنایا جا سکتا ہے ۔ ہوشیار رہیئے اور کسی پر شک نہ کیجئے ۔ کل کو آپ کے ساتھ بھی اسی طرح کا کچھ ہو سکتا ہے

یہ زیبرہ ہے یا مگر مچھ
Zebra

اتنا تناور درخت ہاتھوں میں ؟
Tree in Hand

گھر آکٹوپس کے سکنجے میں
The Octopus

سڑک کھسک گئی
Road Slide

ناک ہی ناک
Big Nose

یہ کیسے انڈے ہیں
Head Eggs

بطخ کے انڈے میں سے نکلا کتا ؟
Dog Duck

روتے انگور
Crying Grapes

آگ میں گھوڑا
Burning Horse

مٹر کی پھلی میں فٹ بال
Football Peas

بوتل میں آدمی
Man in Bottle

آنکھ میں انگلیاں
Hand in Eye

پنجابی طالبان کيسے ؟

کیی قارئین نی بتایا تھا کہ پنجابی طالبان کیسے نہیں پڑھی جاتی . اب اسی دوبارہ اسی لئے شایع کیا ہے

اگر جنوبی وزيرستان کو بھارتی بيرونی فوجی چوکی جس ميں مذہبی رنگ ميں مُکتی باہنی موجود ہے کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا ۔ يہ قياس ہوائی يا مجذوب کی بڑ نہيں ہے بلکہ اطلاعات کی چھوٹی چھوٹی سينکڑوں کڑيوں سے ترتيب پاتی ہوئی حقيقت ہے جو پچھلے سالوں ميں مختلف انٹيليجنس ايجنسوں کو حاصل ہوئی ہيں

پورا مضمون يہاں کلک کر کے پڑھيئے

چھوٹی چھوٹی باتيں ۔ سُنا ہے کہ ۔ ۔ ۔

سُنا ہے کہ مردوں کا چال چلن ٹھيک نہيں ۔ مرد ظُلم کرتے ہيں ۔ جو عمل بُرا ہے وہ بُرا ہے چاہے جو بھی کرے اسلئے غلط عمل کرنے والے کا دفاع نہيں ملامت کرنا چاہيئے ليکن ۔ ۔ ۔

عورتيں اپنے بيٹے يا بھائی يا خاوند کے متعلق کيا کہتی ہيں ؟ اگر بيٹے بھائی خاوند سب ٹھيک ہيں تو پھر بُرا کون ہے ؟
اگر بيٹا بُرا ہے تو اُس کی ماں عورت نے بيٹے کی تربيت درست کيوں نہ کی ؟
اگر خاوند بُرا ہے تو کيا اُس بيوی عورت نے اُسے درست کرنے کی کوشش کی يا بصورتِ ديگر احتجاج کے طور پر اُس سے کم از کم گھر کے اندر ہی عليحدگی اختيار کی ہے ؟

سُنا ہے کہ بازاروں ميں باغيچوں ميں سير و سياحت کی جگہوں ميں مخلوط محفلوں ميں کچھ عورتيں ننگے سر پھرتی ہيں ۔ کچھ کپڑے اتنے چُست پہنے ہوتی ہيں کہ جسم کے تمام خد وخال عياں ہوتے ہيں ۔ کچھ کی قميضوں کے گريبان اتنے بڑے ہوتے ہيں کہ پُشت پر شانے اور سامنے آدھی چھاتی نظر آتی ہے کچھ نے ساڑھی زيبِ تن کی ہوتی ہے اور ان کی کمر اور پيٹ ننگے ہوتے ہيں اور کچھ ايسی بھی ہوتی ہيں جنہوں نے نہائت مہين کپڑے کی قميض بغير بنيان یا شميض پہنی ہوتی ہے

کيا عورت يہ ديکھنے کيلئے ايسا کرتی ہے کہ مرد خراب ہيں يا نہيں ؟

کہتے ہيں کہ ايک شخص جو کئی جرائم ميں ملوث تھا پکڑا گيا اور اسے پھانسی کی سزا ہوئی ۔ حسبِ معمول پھانسی چڑھانے سے پہلے اُس کی آخری خواہش پوچھی گئی تو کہنے لگا “ميں نے اپنی ماں کے کان ميں کچھ کہنا ہے” ۔ جب ماں سُننے کيلئے آئی تو اُس نے ماں کے کان کو دانتوں سے کاٹ ليا ۔ بڑی مشکل سے چھڑايا گيا تو کہنے لگا “ميری ماں لوگوں کی شکايات اس کان سے سُنتی تھی اگر يہ ميری درست تربيت کرتی تو ميں آج پھانسی نہ چڑھتا”

سُنا ہے کہ کچھ عورتيں ماڈلنگ کرتی ہيں جس ميں جن کپڑوں کا وہ اشتہار ہوتی ہيں اُن کی نسبت اُن کے جسم کے خدو خال اور حرکات کی نمائش زيادہ ہوتی ہے
سُنا ہے کہ کچھ عورتيں مخلوط محفلوں ميں ناچتی ہيں اور اپنے اعضاء کی خوبصورتی بھی نماياں کرتی ہيں

کيا متذکرہ بالا سب عورتيں صحتمند معاشرہ کی نشانی ہيں ؟

سورت 7 الْأَعْرَاف آیت 26
اے اولادِ آدم ۔ ہم نے تم پر لباس اتارا ہے کہ تمہارے جسم کے قابلِ شرم حصوں کو ڈھانکے اور تمہارے لئے جسم کی حفاظت اور زینت کا ذریعہ بھی ہو اور بہترین لباس تقوٰی کا لباس ہے۔ یہ اﷲ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے ۔ شائد کہ لوگ اس سے سبق لیں

سورت 24 النور آيت 30
مومن مردوں سے کہہ دو کہ اپنی نظریں نیچی رکھا کریں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کیا کریں ۔ یہ ان کے لئے بڑی پاکیزگی کی بات ہے اور جو کام یہ کرتے ہیں اللہ ان سے خبردار ہے

سورت 24 النّور آیت 31
اور اے نبی ۔ مومن عورتوں سے کہہ دو کہ وہ اپنی نظریں بچا کر رکھیں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کریں اور اپنی آرائش و زیبائش کو ظاہر نہ کریں سوائے اس کے جو خود ظاہر ہو جائے اور وہ اپنے سینوں پر اپنی اوڑھنیوں کے آنچل کھينچ لیں ۔ وہ اپنے بناؤ سنگھار کو ظاہر نہ کریں سوائے شوہر یا باپ یا شوہروں کے باپ اپنے بیٹے یا شوہروں کے بیٹے یا اپنے بھائی یا بھتیجے یا بھانجے کے یا اپنی میل جول کی عورتوں یا اپنی مملوکہ باندیوں یا مردوں میں سے وہ خدمت گار جو خواہش و شہوت سے خالی ہوں یا وہ بچے جو [کم سِنی کے باعث ابھی] عورتوں کی پردہ والی چیزوں سے آگاہ نہیں ہوئے ۔ اور نہ اپنے پاؤں زمین پر مارتی ہوئی چلا کریں کہ ان کا وہ سنگھار معلوم ہو جائے جسے وہ [حکمِ شریعت سے] پوشیدہ کئے ہوئے ہیں ۔ اے مومنو ۔ تم سب کے سب اللہ سے توبہ کرو ۔ توقع ہے کہ فلاح پاؤ گے

سورت 33 الْأَحْزَاب آیت 59
اے نبی ۔ اپنی بیویوں اور اپنی بیٹیوں اور اہلِ ایمان کی عورتوں سے کہہ دو کہ اپنی چادریں اپنے اوپر لٹکا لیا کریں ۔ یہ زیادہ مناسب طریقہ ہے تاکہ وہ پہچان لی جائیں اور نہ ستائی جائیں ۔ اور اللہ غفور و رحیم ہے

چلتے چلتے

کچھ کرنے کو جی نہيں چاہ رہا تھا تو ميں نے يونہی ادھر ادھر ديکھنا شروع کيا ۔ اتفاق سے پہلی ہی چيز جو کھولی يہ ہے ۔ ميں جانتا ہوں کہ چند قاری اسے بکواس کہيں گے مگر جہاں ہم روزانہ بہت سی بکواس سُنتے اور پڑھتے ہيں وہاں يہ بھی سہی کہ بعض اوقات بکواس بھی ہميں منزل کی تلاش ميں سرگرداں کرتی ہے
Urdupoint
Urdupoint 2
Urdupoint 3
Urdupoint 4