Category Archives: روز و شب

پاکستانی ابھی زندہ ہے

آج کے دبئی کے انگريزی اخبار “گلف نيوز” ميں ايک خبر پڑھ کر تازہ ہوا کا جھونکا آيا اور سينہ کشادہ ہو گيا ۔ ايک 32 سالہ پاکستانی بايزيد شفارس خان 2003ء سے متحدہ عرب امارات ميں ٹيکسی چلا کر اپنی روزی کما رہا ہے اور پاکستان ميں اپنے خاندان کی کفالت کرتا ہے ۔ پچھلے ماہ اپنے کمرے ميں آرام کر رہا تھا کہ ايک ساتھی نے بتايا کہ تين آدميوں نے ايک چور کو پکڑ ليا ہے ۔ بايزيد باہر نکلا تو ديکھا کہ چور ان کی گرفت سے نکلا جا رہا ہے ۔ اُس نے جاکر چور کو قابو کيا ہی تھا کہ وہ تين لوگ چھوڑ کر چلے گئے

بايزيد خان کہتا ہے کہ “ارد گرد کے لوگوں پر مجھے حيرت ہوئی کہ وہ کہہ رہے تھے چھوڑ دو ۔ خواہ مخوا اپنے گلے کيوں مصيبت ڈالتے ہو ۔ اُس کے ساتھی کل کو تُم سے بدلہ ليں گے ۔ ہم نے تو اچھائی کا ساتھ دينا اور برائی کو روکنا سيکھا ہے ۔ اس لئے ميں نے اسے نہ چھوڑا حالانکہ اس نے اپنے آپ کو چھڑانے کی بہت کوشش کی ۔ پوليس کو آنے ميں دير لگی مگر ميں نے اُسے نہ چھوڑا”

کاش ميرے ہموطن اس غريب ٹيکسی ڈرائيور سے ہی کچھ سبق سيکھيں جس نے غير ملک ميں بھی اچھائی اور برائی کو درست طريقہ سے ياد رکھا

يومِ آزادی ۔ کچھ حقائق

my-id-pak
ميں نے کل يہ تحرير صبح سويرے ہی شائع کر دی ۔ بعد ميں ديکھا تو تحرير ميرے بلاگ سے غائب ہو گئی تھی مگر اُردو سيّارہ پر موجود تھی ۔ بڑی تگ و دو کے بعد دوبارہ شائع کی تو درست نہ کيا ہوا مسؤدہ شائع ہو گيا ۔ وہ نامعلوم کہاں سے آ گيا تھا ۔ اب ميں نے درست تحرير شائع کر دی ہے اور عنوان بھی درست کر ديا ہے

آج ہمارے ملک کی عمر 63 شمسی سال ہو گئی ہے اور قمری مہينوں کےحساب سے 64 سال سے تين ہفتے کم

تمام پاکستانی بزرگوں بہنوں بھائيوں بچوں اور بچيوں کو يومِ آزادی مبارک ۔ اس وقت پورے ملک کی 10 فيصد آبادی صدی کے بدترين سيلاب سے متاءثر ہو چکی ہے جن ميں ايک کروڑ صرف پنجاب ميں متاءثر ہوئے ہيں اور 40 لاکھ بچے متاءثر ہوئے ہيں ۔ بقايا 90 فيصد ہموطنوں کا فرض ہے کہ اپنے ان بزرگوں ۔ بہنوں ۔ بھائيوں اور بچوں کی ہر طرح سے مدد کريں ۔ اللہ ہمارے حکمرانوں کو بھی ديانتداری سے اپنے فرائض جلد از جلد پورے کرنے کی توفيق عطا فرمائے ۔ آمين ثم آمين

1946ء کے بلوچستان ۔ سندھ ۔ خيبر پختونخواہ ۔ پنجاب اور بنگال کے علاوہ باقی ہندوستان سے پاکستان آئے ہوئےچند مسلمان يا اُن کی اولاد جن ميں الطاف حسين صاحب جيسے روشن خيال اور محمود مدنی صاحب جيسے مُلا بھی شامل ہيں تحريکِ پاکستان اور پاکستان کے قيام کے بارے ميں اُؤٹ پٹانگ بيانات ديتے رہتے ہيں ۔ اسلئے قارئين کی معلومات کيلئے تاريخی کُتب سے ايک مختصر ترين خاکہ رقم کر رہا ہوں

پاکستان اور بھارت میں شائع ہونے والی تاریخی کُتب کے مطابق دسمبر 1945ء میں مرکزی قانون ساز اسمبلی کے نتائج کا اعلان ہوا تو مسلم لیگ کو 90 فیصد مسلمان ووٹ ملے تھے اور اس نے 30 مسلم نشستوں میں سے 30 ہی حاصل کر لی تھیں ۔ ان میں غیر مسلم علاقے [صوبے] بھی شامل تھے ۔ کانگریس نے 62 عمومی [ہندو] نشستوں میں سے 57 جیتی تھیں

مسلم لیگ کی سو فیصد کامیابی تاریخ کا ایک حیرت انگیز واقعہ تھا ۔ 1946ء کے آغاز میں صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات ہوئے تو یو پی کی 66 مسلم نشستوں میں سے 54 ۔ سی پی کی 14 میں سے 13 ۔ اڑیسہ کی 4 میں سے 4 ۔ بمبئی کی 30 میں سے 30 ۔ آسام کی 34 میں سے 33 اور بہار کی 40 میں سے 34 مسلم لیگ نے حاصل کر لیں ۔ 1946ء کے انتخابات میں یو پی کے شہری علاقوں میں کانگریس کو ملنے والے مسلمان ووٹ ایک فیصد سے بھی کم تھے ۔ مسلم لیگ نے یہ انتخابات ایک ہی انتخابی نعرے پر لڑے اور وہ تھا ”پاکستان”

15 اگست 1947ء کو مولانا ظفر علی خان کا لکھا ہوا مندرجہ ذيل قومی ترانہ نشر ہوا تھا . ميری عمر اس وقت دس سال تھی ۔ مجھے پہلا مصرع اور چند اور مصرعے ياد تھے ۔ مکمل مہياء کرنے کيلئے ميں شکر گذار ہوں فرحت کيانی صاحبہ کا

توحید کے ترانہ کی تانیں اڑائے جا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ مطرب تمام رات یہی نغمہ گائے جا
ہر نغمہ سے خلا میں ملا کو ملائے جا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ہر زمزمہ سے نُور کے دریا بہائے جا
ایک ایک تیری تال پہ سُر جھومنے لگيں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ایک ایک سُر سے چوٹ جگر پہ لگائے جا
ہر زیر و بم سے کر تہہ و بالا دماغ کو ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ہر گٹکری سے پیچ دلوں کے گھمائے جا
ناسوتیوں سے چھین کے صبر و قرار و ہوش ۔ ۔ ۔ لاہوتیوں کو وجد کے عالم میں لائے جا
تڑپا چُکیں جنھیں تیری رنگیں نوائیاں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ان کو یہ چند شعر مرے بھی سنائے جا
اے رَہ نوردِ مرحلہ ہفت خوانِ عشق ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اِس مرحلہ میں ہر قدم آگے بڑھائے جا
خاطر میں لا نہ اس کے نشیب و فراز کو ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جو سختیاں بھی راہ میں آئیں اٹھائے جا
رکھتا ہے لاکھ سر بھی اگر اپنے دوش پر ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ نامِ محمدِ عربی پر اسے کٹائے جا
وہ زخم چُن لیا جنہیں پُشتِ غیر نے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ حصے میں تیرے آئیں تو چہرے پہ کھائے جا
کرتا رہ استوار اساسِ حریمِ دیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور ساتھ ساتھ کُفر کی بنیاد ڈھائے جا
چھلکائے جا پیالہ شرابِ حجاز کا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ دو چار گھونٹ اس کے ہمیں بھی پلائے جا
سر پر اگر ہو تاج تو ہو دوش پر گلیم ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ دُنیا کو شان یثربیوں کی دکھائے جا
رکھ مسندِ رسول کی عزت برقرار ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اسلام کے ہلال کا پرچم اُڑائے جا

معنی بشکريہ محمد وارث صاحب
ملا ۔ ظاہر ۔ واضح
خلا ۔ غائب
گٹکری ۔ وہ سریلی اور پیچ دار آواز جو کلاسیکی یا پکے راگ گانے والے اپنے حلق سے نکالتے ہیں

وقت گذارنا ؟

رمضان المبارک کا مہينہ شروع ہو چکا ہے ۔ اللہ سُبحانُہُ و تعالٰی کے حضور ميں عرض ہے کہ ہميں پورے خشوع و خضوع کے ساتھ عبادت کرنے اور ہر بُرائی سے بچنے کی توفيق عطا فرمائے ۔ يونہی ياد آ گيا کہ ميرے ہموطن بعض اوقات اپنے بھولپن کی وجہ سے اپنی عبادت کو ناقص بنا ديتے ہيں

آدھی صدی قبل کی بات ہے جب ميں انجنيئرنگ کالج لاہور ميں پڑھتا تھا کہ رمضان مبارک کے مہينےميں ايک دن ميں اور ايک ہم جماعت شاہ عالمی سے کچھ سامان لے کر واپس ميکلوڈ روڈ سے ريلوے سٹيشن کی طرف جا رہے تھے ۔ سہ پہر ساڑھے پانچ بجے کا وقت تھا ۔ اچانک ايک سنيما سے لوگ باہر نکلے ۔ ان ميں ايک ميرے ساتھی کا واقف کار بھی تھا

ميرے ساتھی نے پوچھا “فلم ديکھ کر آ رہے ہو ؟”
اس نے کہا “ہاں يار ۔ روزہ رکھا ہوا ہے وقت گذارنے آ گيا تھا”

تين دہائياں گذريں رمضان المبارک ميں سہ پہر کو ايک صاحب کے گھر کسی کام سے جانا پڑا ۔ صاحبِ خانہ آنکھيں مسلتے ہوئے تشريف لائے
ميں نے شرمندہ ہو کر کہا “ميں معافی چاہتا ہوں آپ کے آرام ميں مُخل ہوا ۔ عصر کا وقت ہو گيا تھا ۔ ۔ ۔”
صاحبِ خانہ بولے “ٹی وی پر ڈرامہ ديکھ رہا تھا ۔ روزے ميں ذرا وقت گذر جاتا ہے”

رمضان المبارک ميں روزہ کے دوران وقت گذارنے ک بہترين طريقہ تلاوت قرآن شريف ہے ۔ تلاوت کرتے تھک جائيں تو آرام کيجئے تاکہ عشاء کے بعد نماز تراويح ميں نيند نہ آئے

اللہ سُبحانُہُ و تعالٰی ہم سب مسلمانوں کو ھدائت نصيب فرمائے اور سيدھی راہ پر چلنے کی توفيق عطا فرمائے

اسلام کیا ہے ؟

اسلام ایک سرنامہ [label] نہیں ہے

اسلام ایک طرزِ زندگی ہے اسے اپنایئے

اسلام ایک سفر ہے اسے مکمل کیجئے

اسلام ایک تحفہ ہے اسے قبول کیجئے

اسلام ایک جد و جہد ہے اس میں ڈٹ جایئے

اسلام ایک منزلِ مقصود ہے اسے حاصل کیجئے

اسلام ایک بہترین موقع ہے اسے ضائع نہ کیجئے

اسلام گناہگاروں کیلئے نہیں ہے غالب آیئے

اسلام ایک کھیل نہیں ہے اس سے مت کھیلئے

اسلام ایک معمہ نہیں ہے اسے تھامیئے

اسلام بزدلوں کیلئے نہیں ہے مقابلہ کیجئے

اسلام مُردوں کیلئے نہیں ہے اس میں زندہ رہیئے

اسلام ایک وعدہ ہے اسے پوراکیجئے

اسلام ایک فرض ہے اسے سرانجام لایئے

اسلام زندگی کا ایک خوبصورت راستہ ہے اسے دیکھیئے

اسلام آپ کیلئے ایک پیغام ہے اسے سُنیئے

اسلام سراپا محبت ہے اس سے محبت کیجئے

جو چاہے کوئی کہے ۔ اسلام آج بھی سب سے زیادہ تیزی سے پھیلنے والا نظريہ ہے

ہماری حالت ايسی کيوں ہے ؟

آج ہموطن عوام ميں سے اکثر پريشان ہيں کہ ہمارا حال ايسا کيوں ہے اور بہتری کی صورت کيوں نہيں بنتی ۔ ميں پچھلے سات آٹھ سال سے اسی سوچ ميں گم رہتے رہتے محسوس کرنے لگا ہوں کہ ميری یاد داشت متاءثر ہو گئی ہے ۔ مطالعہ ميری بچپن سے عادت ہے ۔ پچھلے دنوں جامع ترمذی ابواب الفتن ميں موجود ايک حديث مبارک پر نظر پڑی تو استغفار پڑھے بغير نہ رہ سکا کيونکہ اپنی موجودہ حالت کی وجہ سمجھ ميں آ گئی تھی

رسول اللہ صلی اللہ عليہ و آلہ و سلم کا ارشاد ہے کہ جب ميری اُمت يہ کام کرنے لگے تو ان پر مصيبتيں اُترتی رہيں گی

1 ۔ مسلمان حاکم مُلک کے لگان [tax] کو اپنی ذاتی دولت بنائيں گے
2 ۔ امانت کو مالِ غنيمت کی طرح حلال جانيں گے
3 ۔ لوگ زکٰوة کو تاوان سمجھ کر ادا کريں گے
4 ۔ عِلم صرف دُنياوی اغراض کيلئے سيکھا جائے گا
5 ۔ شوہر بيوی کی بے جا اطاعت کرے گا
6 ۔ اولاد اپنے ماں باپ کی نافرمانی کرے گی ۔ اپنے دوست کو قريب کرے گی اور اپنے باپ کو دور کرے گی
7 ۔ مسجدوں ميں کھيل کود کريں گے
8 ۔ خوف کی وجہ سے لوگوں کی آؤ بھگت اور تعظيم و تکريم کی جائے گی
9 ۔ قوم کے رہنما بہت لالچی ۔ رزيل اور بدخلق ہوں گے
10 ۔ گانے باجے ظاہر ہوں گے
11 ۔ شراب نوشی ہو گی
12 ۔ امت کی پچھلی جماعت پہلے لوگوں کو بُرا کہے گی ۔ اگلے لوگوں پر لعنت اور طعن زنی کرے گی
13 ۔ ريشمی لباس پہنے جائيں گے
يہ سب باتيں جب ہونے لگيں تو تم سُرخ آندھی کا انتظار کرو ۔ زلزلہ ۔ زمين ميں دھنسنا اور صورت کا بگڑنا اور آسمانی پتھراؤ اور ديگر نشانياں جو يکے بعد ديگرے ہونے لگيں گی

ہم کيا ہيں ؟

ملک و قوم کبھی تباہ کُن زلزلے کا شکار ہيں تو کبھی سيلاب کا ۔ دہشتگردی کہيں خود کُش حملہ کے نام سے ۔ کہيں ٹارگٹ کِلنگ کی صورت ميں اور کہيں برسرِ عام ڈکيتی بن کر مُلک اور عوام کا گوشت نوچ رہی ہے

جن کو ووٹ دے کر قوم نے اپنا نمائندہ بنايا وہ حُکمران بن کر عوام سے وصول کئے گئے ٹيکسوں کے بل بوتے پر عياشيوں ميں مشغول ہيں

خيبر پختونخواہ ميں سيلاب بڑے علاقے کو بہا کر لے گيا اور وہاں کے وزير اعلٰی کو پانچ دن تباہ شدہ علاقے کی خبر لينے ک فرصت نہ ملی

آزاد جموں کشمير کے دارالحکومت مظفرآباد ميں زلزلے کے 5 سال بعد بھی بہت سے لوگ چھپر نما عارضی مکانوں ميں رہ رہے تھے سيلاب کا ريلا وہ بھی بہا کر لے گيا اور ساتھ 53 انسان بھی ۔ وفاقی حکومت ابھی تک اس خوشی ميں مدہوش پڑی ہے کہ اس نے اپنی مرضی کا حاکم وہاں بٹھا ديا ہے

خیبر پختونخواہ ۔ بلوچستان اور آزاد جموں کشمير کے بعد پنجاب بھی تباہی سے دو چار ہو گيا اور وزيِر اعظم کے شہر ملتان مں بھی پانی داخل ہو گيا مگر وزير اعظم صاحب کو اليکشن مہم سے فرصت نہ ملی ۔ چاروں طرف سے آوازے اُٹھنے لگے تو امدادی فنڈ کے سلسلہ ميں نيشنل بنک ميں اکاؤنٹ کھولنے کا اعلان ہوا مگر يہ نہ بتايا کہ اس ميں فنڈ آئے گا کہاں سے ؟

کراچی ميں ايک رُکن صوبائی اسمبلی ٹارگٹ کلنگ کا شکار ہوا ۔ اس کے بعد جو طوفان اُٹھا اس نے ہلاک ہونے والوں کی تعداد 37 اور اور زخميوں کی تعداد 100 پر پہنچا دی ۔ يہی نہيں اس طوفان کی گھن گرج سے حيدرآباد اور سکھر بھی محفوظ نہ رہے ۔ جنگل اور جنگل کے قانون کی مثاليں دی جاتی ہيں مگر کراچی تو ترقی يافتہ شہر ہے جہاں خواندگی کا معيار بہت اونچا ہے

کراچی کی ہمدردی ميں وزير اعلٰی نے تحقيقات کا حکم دے کر اپنا فرض پورا کر ليا اور وفاقی وزير داخلہ نے سارا ملبہ سپاہِ صحابہ کے سر ڈال کر غُسلِ صحت کر ليا

صدرِ پاکستان ملک اور عوام کو ڈوبتا اور مرتا چھوڑ کر اپنے بيٹے بلاول کی ليڈری کا اعلان کرنے براستہ فرانس لندن کے سفر پر روانہ ہو گئے

ہمارے معاشرے کا يہ حال ہے کہ کسی کو مُلا ايک آنکھ نہيں بھاتا تو کوئی دين اسلام کو موجودہ دور ميں ناقابلِ استمال قرار دينے ميں زمين آسمان کے قلابے ملا رہا ہے اور کوئی صوبائی تعصب پھيلانا فرضِ اوليں سمجھتا ہے

جو کام قوموں کے کرنے کے ہيں اُس کيلئے شايد کسی خلائی مخلوق کو لانا پڑے گا

ميں سوچتا ہوں “ہم کيا ہيں ؟”۔

آہ جاتی ہے فلک پر کا مصنف

ميں نے دعا لکھی
آہ جاتی ہے فلک پر رحم لانے کے لئے
بادلو ہٹ جاؤ دے دو راہ جانے کے لئے

محمد اسد صاحب نے دريافت کيا کہ ” اس خوبصورت نظم کا لکھنے والا کون ہے؟” بات يہ تھی کہ نظم ميں نے زبانی لکھی تھی کيونکہ بچپن سے مجھے ياد ہے ۔ پاکستان بننے کے بعد ہمارے بزرگ کچھ شہيد ہوئے کچھ ہجرت کر کے پاکستان آ گئے ۔ ميں ۔ مجھ سے بڑی دو بہنيں اور تين ہمارے رشتہ دار بچے اپنے بزرگوں سے عليحدہ ہو گئے تھے اور پيچھے رہ گئے تھے ۔ ہم دسمبر 1947ء کے آخر ميں پاکستان پہنچے ۔ سيالکوٹ ميں کچھ ماہ قيام کے بعد راولپنڈی ميں قيام کيا ۔ جہاں مجھے اسلاميہ مڈل سکول ۔ سرکولر روڈ ميں داخل کرا ديا گيا ۔ يہ اب اسلاميہ ہائی سکول ہے ۔ اس سکول ميں ہم سب طُلباء صبح پڑھائی شروع ہونے سے قبل يہ دعا پڑھا کرتے تھے ۔ ميں نے يہ دعا سال بھر پڑھی پھر مسلم ہائی سکول چلا گيا

محمد اسد صاحب کی فرمائش نے مجھے شرمندہ کيا کہ جو دعا مجھے 60 سال بعد بھی ياد ہے اس کے مصنف کا نام معلوم نہيں ۔ ميں جب کسی قسم کی علمی پريشانی ميں مبتلا ہوتا ہوں اللہ سُبحانُہُ و تعالٰی ميری مدد فرماتا ہے اور ميرے ذہن کو تيز کر ديتا ہے ۔ گھنٹہ بھر ميرا ذہن چلتا رہا ۔ اللہ کا شکر ہے کہ کوئی خلل واقع نہ ہوا اور ميں مُسلم قوم کے اس خادم تک پہنچ گيا

يہ دعا آغا محمد شاہ حشر المعروف آغا حشر کاشميری صاحب نے لکھی تھی ۔ آغا حشر کاشميری صاحب يکم اپريل 1879ء کو بنارس ۔ ہندوستان ميں پيدا ہوئے ليکن رہنے والے جموں کشمير کے تھے ۔ مشرقی تہذيب کے دلدادہ اور قومی آزادی کا جذبہ رکھتے تھے ۔ يہ دعائيہ نظم اُنہوں نے پہلی بار لاہور ميں انجمن حمائتِ اسلام کے جلسہ ميں پڑھی تھی

کوئی صاحب يا صاحبہ زيادہ جانتے ہوں تو مطلع فرمائيں ۔ مشکور ہوں گا