Category Archives: روز و شب

بَوجھل دِل بَرَستی آنکھوں کے ساتھ

آہ جاتی ہے فلک پر رحم لانے کے لئے
بادلو ہٹ جاؤ دے دو راہ جانے کے لئے

اے دعا وہاں عرض کر عرشِ الٰہی تھام کے
اے خدا اب پھير دے رُخ گردشِ ايام کے

ڈھونڈتے ہيں اب مداوا سوزشِ غم کے لئے
کر رہے ہں زخمِ دِل فرياد مرہم کے لئے

اے مددگارِ غريباں ۔ اے پناہِ بے کساں
اے نصيرِ عاجزاں ۔ اے مايہءِ بے مائيگاں

رحم کر تو نہ اپنے آئينِ کرم کو بھُول جا
ہم تُجھے بھُولے ہيں ليکن تُو نہ ہم کو بھُول جا

خلق کے راندے ہوئے دنيا کے ٹھُکرائے ہوئے
آئے ہيں آج دَر پہ تيرے ہاتھ پھيلائے ہوئے

خوار ہيں بدکار ہيں ڈُوبے ہوئے ذلّت ميں ہيں
کچھ بھی ہے ليکن تيرے محبوب کی اُمت ميں ہيں

حق پرستوں کی اگر کی تُو نے دِلجوئی نہيں
طعنہ ديں گے بُت کہ مُسلم کا خدا کوئی نہيں

ترقی يافتہ زمانہ

ايک جوان جو بارہ چودہ سال بعد ايک ماہ کی چھٹی پر پاکستان آيا تھا اپنے ايک بزرگ سے يوں ہمکلام ہوا

“ميرا دل چاہتا ہے کہ ميں آپ کے پاس بيٹھوں اور آپ کی اچھی اچھی باتيں سنوں مگر ميرے پاس ٹائم نہيں ہے”

اتنا کہہ کر وہ چلا گيا

کاش ٹائم شاپنگ مالز پر ارزاں قيمت پر دستياب ہوتا

میرا دوسرا بلاگ ” حقیقت اکثر تلخ ہوتی ہے ۔ Reality is often Bitter
” پچھلے چھ سال سے معاشرے کے کچھ بھیانک پہلوؤں پر تحاریر سے بھر پور چلا آ رہا ہے ۔ اور قاری سے صرف ایک کلِک کے فاصلہ پر ہے

پاکستان کو تباہ کرنے کا منصوبہ

جو کھیل پرويز مشرف کی حکومت نا جانے کس مقصد کے لئے کھیل گئی پاکستان کے صرف ارباب اختیار کو اس کا ذاتی فائدہ اور بھارت کو سیاسی فائدہ ہوا ۔ نہ صرف جموں کشمیر کے لوگ بلکہ پاکستانی عوام بھی خسارے میں ہیں ۔ پرويز مشرف حکومت نے یک طرفہ جنگ بندی اختیار کی جس کے نتیجہ میں بھارت نے پوری جنگ بندی لائین پر جہاں دیوار بنانا آسان تھی وہاں دیوار بنا دی جس جگہ کانٹے دار تاریں بچھائی جاسکتی تھیں وہاں کانٹے دار تاریں بچھا دیں یعنی جو سرحد بین الاقوامی طور پر عارضی تھی اسے مستقل سرحد بنا دیا ۔ سرحدوں سے فارغ ہو کر بھارتی فوجیوں نے آواز اٹھانے والے کشمیری مسلمانوں کا تیزی سے قتل عام شروع کر دیا اور روزانہ دس بارہ افراد شہید کئے جاتے رہے ۔ معصوم خواتین کی عزتیں لوٹی جاتی رہیں اور گھروں کو جلا کر خاکستر کیا گيا ۔ کئی گاؤں کے گاؤں فصلوں سمیت جلا دیئے گئے ۔ بگلیہار ڈیم جس پر کام رُکا پڑا تھا جنگ بندی ہونے کے باعث بڑی تیزی سے مکمل کيا گيا اور تین اور ڈیموں کی بھی تعمیر شروع کر دی جو شايد اب تک مکمل ہو گئے ہوں

ستم بالائے ستم یہ ہے کہ اپنے آپ کو مسلمان اور انسانیت کا علمبردار کہنے والے جموں کشمیر کے ان ستم رسیدہ لوگوں کو دہشت گرد کہتے ہیں ۔ ان نام نہاد روشن خیال اور امن پسند لوگوں سے کوئی پوچھے کہ اگر ان کے بھائی یا جوان بیٹے کو اذیّتیں دے کر مار دیا جائے اور کچھ دن یا کچھ ہفتوں کے بعد اس کی مسخ شدہ لاش ملے يا کچھ سالوں بعد قبر ملے جس پر کتبہ لگا ہو کہ يہ پاکستانی دہشت گرد تھا ۔ اگر ان کی ماں ۔ بہن ۔ بیوی ۔ بیٹی یا بہو کی آبروریزی کی جائے اگر ان کا گھر ۔ کاروبار یا کھیت جلا د ئیے جائیں ۔ تو وہ کتنے زیادہ روشن خیال اور کتنے زیادہ امن پسند ہو جائیں گے ؟

بھارتی ردِ عمل اور حقیقت

کمال یہ ہے کہ پاکستان کی دوستی کی دعوت کے جواب میں بھارت کے وزیر اعظم منموہن سنگھ نے گلگت اور بلتستان پر بھی اپنی ملکیت کا دعوی کر دیا تھا جبکہ گلگت اور بلتستان کبھی بھی بھارت کا حصہ نہیں تھے اور نہ یہاں سے کوئی راستہ بھارت کو جاتا ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ یہاں کے لوگوں نے 27 اکتوبر 1947ء کو بھارتی فوج کے زبردستی جموں میں داخل ہونے سے بہت پہلے گلگت اور بلتستان میں اپنی آزادی اور پاکستان سے الحاق کا اعلان کردیا تھا ۔ اس کی تفصیل بعد میں آئے گی

پاکستان کو بنجر کرنے کا منصوبہ

مقبوضہ جموں کشمیر میں متذکّرہ بالا ڈیمز مکمل ہو جانے کے بعد کسی بھی وقت بھارت دریائے چناب کا پورا پانی بھارت کی طرف منتقل کر کے پاکستان کے لئے چناب کو خشک کر سکتا ہےاور دریائے جہلم کا بھی کافی پانی روک سکتا ہے جس کا کچھ نمونہ ميری تحرير کے 5 سال بعد سامنے آ چکا ہے ۔ اس طرح پانی کے بغیر پاکستان کی زمینیں بنجر ہو جائیں گی اور زندہ رہنے کے لئے پاکستان کو بھارت کے سامنے گھٹنے ٹیکنے پڑیں گے ۔ چنانچہ بغیر جنگ کے پاکستان بھارت کا غلام بن جائے گا ۔ اللہ نہ کرے کہ ايسا ہو ۔

قحط اور سیلاب

حقیقت یہ ہے کہ بھارت کا مقبوضہ جموں کشمیر میں 7 ڈیم بنانے کا منصوبہ ہے جن میں سے بھارت دریائے جہلم اور چناب پر 3 ڈیم 2005ء تک مکمل کر چکا تھا ۔ 2 دریاؤں پر 7 ڈیم بنانے کے 2 مقاصد ہیں ۔ اول یہ کہ دریاؤں کا سارا پانی نہروں کے ذریعہ بھارتی پنجاب اور دوسرے علاقوں تک لیجایا جائے اور پاکستان کو بوقت ضرورت پانی نہ دے کر قحط کا شکار بنا دیا جائے ۔ دوم جب برف پگلے اور بارشیں زیادہ ہوں تو اس وقت سارا پانی جہلم اور چناب میں چھوڑ دیا جائے تاکہ پاکستان میں تباہ کن سیلاب آئے ۔ ماضی ميں بھارت یہ حرکت دو بار کر چکا ہے ۔ بھارت کا اعلان کہ ڈیم بجلی کی پیداوار کے لئے بنائے جا رہے ہیں سفید جھوٹ اور دھوکا ہے ۔ کیونکہ جموں کشمیر پہاڑی علاقہ ہے ہر جگہ دریاؤں کے راستہ میں بجلی گھر بنائے جا سکتے ہیں اور بڑے ڈیم بنانے کی بالکل بھی ضرورت نہیں

قوم کو بیوقوف بنانے کے لئے پرويز مشرف کی حکومت نے منگلا ڈیم کو 10 میٹر اونچا کرنے کا ملٹی بلین پراجیکٹ شروع کیا جس پر موجودہ حکومت بھی عمل پيرا ہے ۔ چند سال بعد دریائے جہلم میں اتنا بھی پانی ہونے کی توقع نہیں کہ ڈیم کی موجودہ اُونچائی تک جھیل بھر جائے پھر یہ اتنا روپیہ ضائع کرنے کی منطق سمجھ میں نہیں آتی اور نہ اس کا جواز کسی کے پاس ہے

ایک ضمنی بات يہ ہے کہ پہلی پلاننگ کے مطابق منگلا ڈیم کی اونچائی موجودہ اونچائی سے 10 میٹر زیادہ تجویز کی گئی تھی 1962ء میں کا م شروع ہونے سے پہلے ڈیم کی محافظت اور پانی کی مماثل مقدار کی کم توقع کے مدنظر اونچائی 10 میٹر کم کر دی گئی تھی ۔ اس لئے اب اونچائی زیادہ کرنا پہلے سے بھی زیادہ خطرناک ہے ۔ اس سلسلہ میں میں اور کئی دوسرے حضرات جن میں زیادہ تر انجنیئر ہیں 2004ء سے 2006ء تک اخباروں میں خط اور مضامین لکھ چکے ہیں مگر ہماری حکومت کو عقل کی بات سمجھ ميں نہيں آتی

پرويز مشرف حکومت کا فارمولا

پہلے یہ جاننا ضرور ی ہے کہ ہمارے مُلک کا آئین کیا کہتا ہے ۔ آئین کی شق 257 کہتی ہے

Article 257. Provision relating to the State of Jammu and Kashmir
When the people of State Jammu and Kashmir decide to accede to Pakistan, the relationship between Pakistan and the State shall be determined in accordance with the wishes of the people of that State.

ڈائریکٹر پالیسی پلاننگ امریکی دفتر خارجہ ڈاکٹر سٹیفن ڈی کراسز اور آفیسر ڈاکٹر ڈینیل مارکسی 2005ء کی دوسری سہ ماہی ميں اسلام آباد کے دورہ پر آئےتھے ۔ انہوں نے جنرل پرویز مشرّف ۔ وزیر اعظم شوکت عزیز ۔ حریت کانفرنس کے سربراہ عباس انصاری اور آزاد کشمیر اور پاکستان شاخ کے کنوینر سیّد یوسف نسیم وغیرہ سے ملاقاتیں کيں ۔ با خبر ذرائع کے مطابق امریکی حکام یونائیٹڈ سٹیٹس آف کشمیر اور سرحدیں نرم کرنے وغیرہ کے منصوبہ می‍‍ں دلچسپی رکھتے تھے ۔ میر واعظ عمر فاروق کو پاکستان کے دورہ کے درمیان حریت کانفرنس کا سربراہ بنا دیا گیا اور انہوں نے سری نگر پہنچتے ہی یونائیٹڈ سٹیٹس آف کشمیر فارمولا کی بات کی تھی ۔ اس سے واضح ہو گیا کہ جموں کشمیر کو 7 ریاستوں میں تقسیم کر کے ان کی یونین بنانے کا جو فارمولا امریکہ کے دورہ سے واپس آ کر جنرل پرویز مشرف نے پیش کیا تھا وہ دراصل امریکی حکومت کی خواہش و تجویز تھی جبکہ تقسیم ہند کے فارمولا کے مطابق ریاست کے پاکستان یا بھارت سے الحاق کا فیصلہ ریاست کی مجموعی آبادی کی بنیاد پر ہونا تھا ۔ اس لئے امریکہ کی ایماء پر پرویز مشرف کا پیش کردہ 7 ریاستوں والا فارمولا ديگر وجوہات کے علاوہ بنیادی طور پر بھی غلط تھا ۔ مزید یہ کہ اس فارمولا کے نتیجہ میں جموں پورے کا پورا بھارت کو چلا جاتا اور دریاؤں کا کنٹرول بھارت کو حاصل ہوتا۔

آج اور کل

جو دن گذر گيا سو گذر گيا ۔ وہ تو واپس نہیں آ سکتا ۔
آنے والا دن آئے گا يا نہيں ؟ کسے کيا معلوم ۔
اور آئے گا تو کيا ميں اُسے ديکھنے کيلئے موجود ہوں گا ؟
اور اگر موجود ہوا تو اس قابل ہوں گا کہ کچھ کر سکوں ؟
کوئی نہيں بتا سکتا ۔

پھر يہ بھی تو ہے کہ ہر غُنچہ پھُول نہيں بنتا
اور نہ ہر کلی غُنچہ بنتی ہے

اگر کچھ کرنا ہے تو آج ہی کرنا ہے ۔
کل کی انتظار ميں بيٹھنا عقلمندی نہيں ہے

آگاہ اپنی موت سے کوئی بشر نہيں
سامان سو برس کا ہے پل کی خبر نہيں

کسی نے کيا خوب کہا ہے

جوانی ہی ميں عدم کے واسطے سامان کر غافل
مسافر شب کو اُٹھتے ہيں جو جانا دور ہوتا ہے

گناہ کی تعريف

عام طور پر يہی سمجھا جاتا ہے کہ اللہ کی نافرمانی گناہ ہوتی ہے ۔ پچھلے دنوں عذرا شفيع صاحبہ پروفيسر گورنمنٹ کالج برائے خواتين ۔ اوکاڑہ کی لکھی گناہ کی تعريف نظر پڑی تو پسند آئی

انسان کا اپنے رب کی اطاعت اور فرماں برداری ميں قدرت و استطاعت کے باوجود کوتاہی کرنا
اور
اس کی رضا حاصل کرنے ميں جان بوجھ کر قصور دکھانا گناہ کہلاتا ہے

گوگل ضربوں کے اعداد و شمار ناقابلِ اعتبار

“فوکس نيوز کا گوگل کے حوالے سے الزام کہ ننگی سائٹس [porn sites] ديکھنے کے لحاظ سے پاکستان اوّل نمبر پر ہے غلط اعداد و شمار پر مرتب اور بے بنياد ہے” پاکستان انٹرنيٹ پرو وائڈرز ايسوسی ايشن کے ترجمان وہاج السراج صاحب کا بيان ۔ وھاج السراج صاحب مائکرونيٹ اور نيا ٹَیل کے چيف ايگزيٹِو ہيں [C E O, Micronet Broadband and Nayatel]

وھاج السراج صاحب نے مثالوں اور اعداد و شمار کے ساتھ متذکرہ الزام کو غلط ثابت کيا ہے ۔ تفصيل يہاں کلک کر کے پڑھيئے

لاہور ميں ايک سال

ہم 18 جولائی 2009ء کو لاہور منتقل ہوئے تھے سو ہميں لاہور ميں رہائش اختيار کئے ايک سال ہو گياہے ۔ اس ميں کيا تجربات ہوئے ۔ لاہور کو اور لاہوريوں کو کيسا پايا ؟ لکھنے کا حق بنتا ہے ۔ لاہور پنجاب کا دارالحکومت ہونے کے علاوہ بہت پرانا ثقافتی مرکز ہے اور پاکستان کا دوسرا بڑا شہر ہے ۔ کہتے ہيں کہ جو تحريک لاہور سے اُٹھے يا جس تحريک ميں لاہور شامل ہو جائے وہ کامياب ہوتی ہے ۔ ميرا اپنا آدھی صدی کا مشاہدہ بتاتا ہے کہ يہ دعوٰی قرينِ قياس ہے

مجھے پچھلے ايک سال کے مشاہدہ سے معلوم ہوا کہ يہاں صرف پنجابی نہيں رہتے بلکہ دوسرے صوبوں کے بھی بہت سے لوگ رہتے ہيں اور خاص کر کراچی والوں نے يہاں کئی کاروبار سنبھال رکھے ہيں ۔ اُن سب کا پکا ڈيرہ اپنے صوبوں اور شہروں ميں ہی ہے جہاں کا چکر وہ گاہے بگاہے لگاتے رہتے ہيں ۔ لاہور کے مضافات ميں ايک لياقت آباد بھی ہے اور بہاری کالونی بھی جہاں کے باسی زيادہ تر بہار اور يو پی يا سی پی يا کراچی سے آئے ہوئے لوگ ہيں

لاہور ميں جون کی گرمی ميں نے آدھی صدی بعد ديکھی يعنی کالج کے زمانہ کے بعد ۔ لاہور ميں زيادہ رونق مغرب کے بعد شروع ہوتی ہے ۔ اتنی گرمی ميں جبکہ درجہ حرارت 45 سے 47 درجے سيلسيئس تک پہنچ گيا تھا لاہور کی رونقوں ميں کوئی خاص کمی نہيں ہوئی

لاہور ميں عام طور پر لوگ مددگار ثابت ہوتے ہيں ۔ مثال کے طور پر ميں شروع شروع ميں گھر کا کچھ سامان خريدنے نکلا ۔ کسی نے کہا “فلاں مارکيٹ چلے جاؤ” وہاں گيا گاڑی پارک کی ۔ اِدھر اُدھر ديکھا مگر ميرے مطلب کی دکان نظر نہ آئی ۔ ايک دکاندار سے پوچھا ۔ وہ اپنی دکان سے نکلا کچھ قدم ميرے ساتھ چلا اور پھر کہا “وہ بنک کا بورڈ نظر آ رہا ہے نا ۔ اس کے ساتھ دوسری طرف ايسی تين چار دکانيں ہيں وہاں سے سب کچھ مل جائے گا”۔ ايسا بعد ميں متعدد بار ہوا ۔ جسے معلوم نہ ہو وہ کسی اور سے معلوم کر ديتا ۔ اسلام آباد ۔ راولپنڈی اور کراچی ميں اول تو کوئی بات سننے کو تيار نہيں ہوتا اور اگر سن لے تو عام طور پر اُلٹا راستہ بتا ديتے ہيں

لاہور ميں کھانے جيسا چاہيں کھا سکتے ہيں اور اپنی جيب کے مطابق ۔ کھانا اچھا پکا ہوتا ہے ۔ يہ کوئی نئی بات نہيں آدھی صدی قبل جب ميں لاہور ميں پڑھتا تھا تب بھی يہی صورتِ حال تھی

لاہور کے عام لوگ اچھی طرح پيش آتے ہيں ۔ جب کوئی چيز نہ ملے تو اول دکاندار خود ہی کہہ ديتا ہے کہ فلاں جگہ سے مل جائے گی يا آپ پوچھيں تو بتا دے گا کہ فلاں جگہ سے مل جائے گی ۔ راولپنڈی ۔ اسلام آباد اور کراچی کا ميرا تجربہ ہے کہ دکاندار کے اپنے پاس جو چيز نہ ہو کہہ دے گا کہ کہيں بھی نہيں ملے گی

چوراہے پر بتی سبز ہو جانے کے بعد گاڑياں چلنے ميں ضرورت سے زيادہ وقت لگتا تھا ۔ شروع ميں مجھے سمجھ نہ آئی کہ معاملہ کيا ہے ۔ کئی ماہ بعد پتہ چلا کہ لوگ پٹرول يا گيس بچانے کيلئے انجن بند کر ديتے ہيں اور جب بتی سبز ہوتی ہے تو گاڑی سٹارٹ کرتے ہيں اور کبھی کبھی گاڑی سٹارٹ نہيں ہوتی اور بتی پھر سُرخ ہو جاتی ہے

جب سڑک پر گاڑيوں کی بھيڑ ہو تو ہر گاڑی والا آگے نکالنے کی کوشش کر رہا ہوتا ہے ليکن جونہی کھُلی سڑک ملے مزے سے 40 کلو ميٹر کی رفتار سے گاڑی چلاتےجا رہے ہوتے ہيں پيچھے چاہے کوئی دفتر يا ہسپتال پہنچنے کيلئے پريشان ہو

پيدل سڑک پار کرنا ہو تو مجال ہے کوئی گاڑی والا سڑک پار کرنے دے

بڑی گاڑيوں والے يا بڑے لوگوں کے نوجوان بيٹے بيٹياں سڑکوں پر گاڑياں چلاتے ہوئے باقی لوگوں کو کيڑے مکوڑے سمجھتے ہيں ۔ ايسا شايد سارے مُلک ميں ہے

وزيرِ اعلی کی سواری ہمارے قريب والی سڑک ڈی ايچ اے مين بليوارڈ سے گذرا کرتی ہے جس کيلئے 5 سے 15 منٹ تک مين بليوارڈ ميں داخل ہونے سے رکنا پڑتا ہے ۔ اسلام آباد ميں گھنٹوں کے حساب سے رُکنا پڑتا تھا

سڑک پر گاڑی چلاتے ہوئے ميں موٹر سائيکلوں اور ويگنوں کے علاوہ دو قسم کی گاڑيوں سے بہت ڈرتا ہوں کيونکہ کچھ معلوم نہيں ہوتا کہ کب وہ کس طرف مڑ جائے ۔ اچانک بريک لگائے يا گھسڑم گھساڑ کرتے ہوئے ميری گاڑی کو مار دے
ايک ۔ جسے عورت چلا رہی ہو
دو ۔ جس کا رجسٹريشن نمبر سندھ کا ہو