Category Archives: روز و شب

برادری نظام ۔ دوسری اور آخری قسط

پہلی قسط 24 مئی 2013ء کو لکھی تھی
میرے دادا کے دور میں دو بہت کٹھن معاملات بطور چوہدری اُن کے سامنے آئے ۔ ایک بھتیجی کی طلاق اور ایک دوسری بھتیجی کی شادی کا ۔ پہلی بھتیجی کی شادی ہونے کے بعد اس کا خاوند گھر سے بھاگ گیا اور کچھ دن بعد اس کا خط اس کے سسرال میں موصول ہوا کہ وہ اپنی ہونے والی بیوی کو ہمیشہ اپنی بہن سمجھتا رہا اسلئے اُسے اپنی بیوی نہیں سمجھ سکتا اور اسے طلاق دے رہا ہے ۔ پنچائت بلائی گئی جس میں فیصلہ ہوا کہ لڑکے کے والدین کا تین ماہ کیلئے حقہ پانی بند کیا جائے اور تین ماہ ختم ہونے سے پہلے وہ مطلقہ لڑکی کی شادی کا مناسب بندوبست کریں ورنہ اُنہیں برادری سے نکال دیا جائے گا ۔ یہ واقعہ میرے والد صاحب کی طالب علمی کے زمانہ کا ہے

میرے نانا کے تین بھائی اور ایک بہن تھی جو میری دادی تھیں ۔ جب میری والدہ پیدا ہوئیں تو میری دادی نے اپنے اکلوتے بیٹے کیلئے اپنی بھتیجی کو چُن لیا ۔ جب میرے والد نے میٹرک کرنے کے بعد میرے دادا کا کاروبار سنبھالا تو میرے دادا کی بھابھی نے اپنے خاوند کو کہا کہ اپنی بیٹی کی شادی اپنے بھتیجے سے کرو ۔ میرے دادا سے بات کرنے پر اُنہیں معلوم ہوا کہ میری دادی اپنے بیٹے کا رشتہ اپنی بھتیجی سے طے کر چکی ہے ۔ اس پر میرے دادا کے بھائی جو میرے دادا سے بڑے تھے نے کہا کہ ہمارے فلاں رشتہ دار کے بیٹے کا کاروبار بھی اچھا چل رہا ہے وہ لوگ تمہاری بات مان لیں گے ۔ تم اس لڑکے کے ساتھ میری بیٹی کا رشتہ طے کرا دو جو کہ میرے دادا نے کرا دیا ۔

متذکرہ بالا لڑکے کی ماں جس نے دوسری بھتیجی کو طلاق دی تھی اور دادا نے جس بھتیجی کی شادی کرائی اس کی ماں آپس میں بہنیں تھیں ۔ اُن کے خاندان نے میرے دادا کے خلاف جھوٹا پروپیگنڈہ شروع کر دیا ۔ صحت کے علاوہ میرے دادا کی سُبکدوشی کی وجہ یہ تھی

برادری نظام میں کبھی کبھی دلچسپ واقعات بھی ہوتے ۔ جب میرے دادا نے چوہدری کی ذمہ داری سے سُبکدوشی اختیار کی تو جس شخص کو چوہدری بنایا گیا وہ متذکرہ بالا طلاق دینے والے لڑکے کا چھوٹا بھائی تھا کیونکہ میرے دادا سے پہلے اُن کے والد برادری کے چوہدری تھے اور اُن کے عزیز و اقارب ہی میرے دادا کے خلاف شور کئے ہوئے تھے ۔ وہ اُنہی دنوں سوڈان میں اپنا کارو بار اپنے بڑے بیٹے کے حوالے کر کے وطن واپس آئے تھے ۔۔ یہ واقعہ پاکستان بننے سے چند سال پہلے کا ہے ۔ بہرکیف چوہدری بننے کے بعد بھی وہ اپنے قریبی عزیزوں کو درست نہ کر سکے

غلط پروپیگنڈہ کی وجہ سے اُن کے خاندان کے ساتھ ہمارے خاندان کی بول چال بند ہو گئی ۔ کچھ سال بعد شائد 1950ء کی بات ہے اُنہوں نے کسی ذریعہ سے والد صاحب کو مع بیوی بچوں کے اپنے گھر ضیافت پر بُلوایا ۔ جب ہم سب کھانا کھا چکے تو انہوں نے اپنی پگڑی اُتار کر میرے والد صاحب کے سر پر رکھ دی اور کہا “بھائی ۔ یہ پگڑی آپ ہی کے سر پر اچھی لگتی ہے ۔ آپ یہ ذمہ داری سنبھالیں ۔ مجھے حالات معلوم نہ تھے ۔ آپ لوگ سچے ہیں اور میرے خاندان والے جھوٹے ۔ انہوں نے مجھے بہکا دیا تھا”۔

میں جب انجنیئرنگ کالج میں فرسٹ ایئر میں تھا تو جن صاحب نے چوہدری کی پگڑی میرے والد کے سر پر رکھی تھی اُن کی پوتی کی شادی ہونا تھی ۔ اُنہوں نے میرے والد صاحب سے کہا کہ آ کر سارا بندوبست کریں ۔ اُن دنوں والد صاحب کی صحت ٹھیک نہ تھی سو اُنہوں نے معذرت کی ۔ انہوں نے کہا “اجمل کو بھیج دیں” ۔ والد صاحب نے کہا “اجمل ابھی بچہ ہے” تو اُنہوں نے کہا “جس کا دادا برادری کا بہترین چوہدری تھا اور باپ بھی چوہدری ہے وہ انتظام اچھا کر سکتا ہے ۔ آگے دو چھٹیاں اکٹھی آ رہی ہیں ۔ ہم اس کی سہولت کی خاطر شادی ان چھٹیوں میں رکھ دیتے ہیں”۔ والد صاحب نے حُکمنامہ جاری کر دیا اور مجھے وہاں اپنے انتظامی جوہر دکھانا پڑے لیکن میری کامیابی کا سبب وہ بزرگ ہی تھے

انگریز حُکمرانوں کی سازش اور مادہ پرستی کی وجہ سے برادری نظام میں خودغرضی عود آئی اور یہ نظام بدنام ہو گیا ۔ اس کے باوجود اگر یہ نظام بحال رہتا تو فعال بن سکتا تھا ۔ لیکن جدیدیت کے شوق نے جوانوں کو غلط راستے پر دھکیل دیا اور یہ نظام عملی طور پر ختم ہو گیا گو کہ برائے نام برادریاں ابھی چل رہی ہیں ۔ بہت سے جدیدیت کے پرستار راہی ءِ مُلکِ عدم ہو چکے ہیں جو باقی ہیں وہ اب صرف سُہانے وقتوں کی کہانیاں سُنا کر شائد اپنے دل کو خوش کرنے کی ناکام کوشش کرتے ہیں

ایک لحاظ سے دیکھا جائے تو برادری نظام ایک فطری نظام تھا اور دین سے بھی اس کی قربت تھی جس کا اشارہ قرآن شریف میں ملتا ہے

سورت ۔ 4 ۔ النسآ ۔ آیت ۔ 35 اور اگر تم کو معلوم ہو کہ میاں بیوی میں ان بن ہے تو ایک منصف مرد کے خاندان میں سے اور ایک منصف عورت کے خاندان میں سے مقرر کرو وہ اگر صلح کرا دینی چاہیں گے تو اللہ ان میں موافقت پیدا کردے گا کچھ شک نہیں کہ اللہ سب کچھ جانتا اور سب باتوں سے خبردار ہے

سورت ۔ 4 ۔ النسآ ۔ آیت ۔ 59مومنو! اللہ اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرو اور جو تم میں سے صاحب امر ہیں ان کی بھی اور اگر کسی بات میں تم میں اختلاف واقع ہو تو اگر اللہ اور روز آخرت پر ایمان رکھتے ہو تو اس میں اللہ اور اس کے رسول [کے حکم] کی طرف رجوع کرو یہ بہت اچھی بات ہے اور انجام کے اعتبار سے بھی اچھا ہے

مسلمان کا مطلب کیا ہے ؟

دو پاکستانی لڑکیاں ریحانہ کوثر اور ثوبیہ کمار حصول تعلیم کی غرض سے برطانیہ گئی تھیں
ریحانہ کوثر اور ثوبیہ کمار جن کی عمریں اب بالترتیب 34 سال اور 29 سال ہیں نے چند ہفتے قبل لیڈز (برطانیہ) میں سول پارٹنر شپ رجسٹرڈ کرالی یعنی ہم جنس شادی رچا لی
اخبار کے مطابق وہ برطانیہ میں شادی کے بندھن میں بندھ جانے والی پہلی مسلمان ہم جنس پرست خواتین بن گئیں
ریحانہ کوثر اور ثوبیہ کمار نے حکومتِ برطانیہ کو پناہ (Asylum) کیلئے درخواست دیتے ہوئے کہا ہے کہ
”پاکستان واپسی پر ان کی جان کو خطرہ لاحق ہے“۔
مزید ریحانہ کوثر کا کہنا ہے کہ اس ملک (برطانیہ) نے ہمیں ہمارا حق دیا اور ہم نے جو فیصلہ کیا ہے وہ انتہائی ذاتی ہے ہم نجی زندگی میں کیا کرتے ہیں کسی اور کو اس میں مداخلت کا حق نہیں

عرضِ بلاگر
میرا پہلا سوال یہ ہے کہ ان عورتوں کو مسلمان کس بنا پر کہا گیا ؟

اگر بنیاد نام ہے تو ایک لڑکی کے نام کے ساتھ ”کمار“ لکھا ہے جو ہندوؤں کا نام ہے چناچہ وہ غیر مُسلم ہو سکتی ہے ۔ دوسری بات یہ ہے کہ نہ صرف ہمارے ملک میں بلکہ عرب ۔ افریقہ ۔ امریکہ اور یورپ میں بھی ایسے غیر مُسلم بستے ہیں جن کے نام مسلمانوں جیسے ہیں ۔ بارک حسین اوبامہ کو ہی لے لیجئے

فرض کیجئے کہ وہ مسلمان والدین کے گھروں میں پیدا ہوئیں تو کیا یہ ضروری ہے کہ مسلمان کا بچہ بھی مسلمان ہو ؟
سیّدنا نوح علیہ السلام اور طوفان میں غرق ہونے والے اُن کے بیٹے کی مثال ہمارے سامنے ہے

میرے مطالعے اور تجربے کے مطابق مسلمان یا مُسلم اُسے کہا جاتا ہے جو اللہ کا مُسلم یعنی تابع ہو اور جو اللہ کے چند بڑے احکام میں سے کسی ایک کی خلاف ورزی کرے اور توبہ نہ کرے یا اس کی تکرار کرے وہ مسلمان نہیں ہوتا
ان عورتوں نے جس عمل کی بنیاد ڈالی ہے اس بناء پر اللہ سُبحانُہُ و تعالٰی نے سیّدنا لوط علیہ السلام کی پوری قوم کو نیست و نابود کر دیا تھا ۔ ان میں سیّدنا لوط علیہ السلام کی بیوی بھی شامل تھی جس نے ایسے لوگوں کی صرف حمائت کی تھی

جب یہ عورتیں مسلمان ہی نہیں تو کسی مسلمان کو حق نہیں پہنچتا کہ اُن کے معاملات میں مداخلت کرے

چھوٹی چھوٹی باتیں ۔ کردار

بند کمرے میں ہوں تو
جس طرح چھوٹے چھوٹے سوراخوں میں سے آتی سورج کی کِرنیں سورج کے مزاج کا پتا دیتی ہیں

اسی طرح انسان کی چھوٹی چھوٹی باتیں اُس کے کردار کو عیاں کرتی ہیں

اپنے کہے الفاظ اور حرکات جنہیں آپ معمولی سمجھتے ہیں اِن پر نظر رکھیئے یہی آپ کے کردار کی عکاسی کرتے ہیں

دعوے اور حقیقت

انتخابات سے پہلے انتخابات کے دن سیاسی جماعتوں کے سربراہان بہت سے دعوے کرتے ہیں ۔ ہارنے والوں کے دھاندلی کے دعوٰی کے علاوہ بھی دو دعوے ایسے ہیں جو کہ بار بار کئے گئے

1970ء کے انتخابات میں آؤٹ ٹرن 60 فیصد رہا تھا ۔ ایک سیاسی جماعت سربراہان کا دعوٰی تھا کہ اُن کشش کے باعث 11 مئی 2013ء کے انتخابات میں پاکستان کی تاریخ کا سب سے زیادہ آؤٹ ٹرن رہا
الیکشن کمیشن کے اعداد و شمار شائع کرنے پر معلوم ہوا کہ کُل ایک 4 کروڑ 62 لاکھ سے کچھ اُوپر ووٹ ڈالے گئے جو 55.02 فیصد بنتا ہے

ایک سیاسی جماعت 12 مئی 2013ء سے زور دے رہی ہے کہ پنجاب کے 25 حلقوں میں لگائے گئے انگوٹھے کے نشانات کا متعلقہ ووٹرز کے شناختی کارڈز پر لگے انگوٹھے کے نشانات کا موازنہ کیا جائے تو معلوم ہو جائے گا کہ کس اُمیدوار نے دھندلی کی ہے ۔ میں نہیں کہہ سکتا کہ ایسا مطالبہ کرنے والے اتنے ہی ناواقف یا بھولے ہیں کہ وہ نہیں جانتے کہ بیلٹ پیپر پر انگوٹھے کا نشان نہیں لگایا جاتا اور نہ کوئی ایسی نشانی ہوتی ہے جس سے معلوم ہو سکے کہ یہ ووٹ کس نے ڈالا ۔ انگوٹھے کا نشان کاؤنٹر فائل پر ہوتا ہے ۔ اگر کاؤنٹر فائل پر لگا انگوٹھے کا نشان شناختی کارڈ پر لگے انگوٹھے کا نشان سے مختلف ہو تو پریزاڈنگ آفیسر کا قصور تو بن سکتا ہے اور مزید کچھ نہیں ہو سکتا

ایک سیاسی جماعت کا دعوٰی تھا کہ 11 مئی 2013ء کو اُنہیں سب سے زیادہ ووٹ ملے ہیں لیکن ہیرا پھیری سے دوسری جماعت اکثریت لے گئی ہے
الیکشن کمیشن کے اعداد و شمار شائع کرنے پر مندرجہ ذیل صورتِ حال سامنے آئی ہے
272 میں سے 266 نشستوں کا اعلان ہوا ہے

سیاسی جماعت ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ووٹ ملے ۔ ۔ نشستیں حاصل کیں

مسلم لیگ ن ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 14794188 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 125

تحریکِ انصاف ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 7563504 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 27

پی پی پی پی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 6822958 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 31

آزاد اُمیدوار ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 5773494 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 32

ایم کیو ایم ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 2422656 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 18

جے یو آئی (ف) ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 1454907 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 10

مسلم لیگ ق ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 1405493 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 2

مسلم لیگ ف ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 1007761 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 5

جماعتِ اسلامی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 949394 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 3

اے این پی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 450561 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 1

پختون خوا ملی عوامی پارٹی ۔ ۔ ۔ 211989 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 3

این پی پی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 196828 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 2

مسلم لیگ ضیاء ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 126504 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 1

عوامی مسلم لیگ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 93051 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 1

عوامی جمہوری اتحاد ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 71175 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 1

بی این پی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 64070 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 1

نیشنل پارٹی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 61171 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 1

مسلم لیگ مشرّف ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 54617 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 1

قومی وطن پارٹی شیرپاؤ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 46829 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 1

سیاست اور جھوٹ ؟ ؟ ؟

میں نے لڑکپن میں ایک بزرگ کو کہتے سُنا ”وہ بڑا سیاسہ والا ہے“۔ سیاسہ عربی کا لفظ ہے جسے اُردو میں سیاست لکھتے ہیں ۔ میں نے بعد میں اُن سے اس فقرے کا مطلب پوچھا تو اُنہوں نے بتا یا ”ہوشیار ایسا کہ غلطی کرے مگر پکڑائی نہیں دے“۔

کیا یہ حقیقت نہیں ہے کہ اکثر سیاستدان جھوٹ بولتے ہیں اور پکڑائی نہیں دیتے ؟

سوشل میڈیا (فیس بُک اور ٹویٹر) پر عمران خان کو ایک نجات دہندہ کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے اور ڈر ہے کہ کسی دن کوئی عمران خان کو نبی کے برابر قرار نہ دے دے ۔ پچھلے ایک ماہ سے نواز شریف اور شہباز شریف پر الزامات کی بھرمار کی جا رہی ہے ۔ یہ الزامات حقیقت سے تعلق رکھتے ہیں یا بہتان تراشی ہے ؟ اس کا عِلم تھوڑی سی محنت کرنے پر سامنے آ جاتا ہے

عمران خان کے فدائی لالک جان چوک ۔ ڈی ایچ ۔ اے ۔ لاہور میں 8 دن دھرنا دیئے بیٹھے رہے کہ این اے 125 میں رجسٹرڈ ووٹوں سے بہت زیادہ ووٹ ڈالے گئے چنانچہ بڑی دھاندلی ہوئی ہے ۔ فافن کی متذکرہ رپورٹ میں این 125 کا ذکر ہی نہیں ہے ۔ البتہ فافن رپورٹ کے مطابق این اے 71 میانوالی 1 کے پولنگ سٹیشن نمبر 57 میں 1024 ووٹ ڈالے گئے جبکہ کل رجسٹرڈ ووٹر 790 ہیں ۔ اس حلقے سے عمران خان جیتا ہے

فافن کی رپورٹ یہاں کلِک کر کے پڑھی جا سکتی ہے ۔ فافن رپورٹ کا خلاصہ یہ ہے

جے یو آئی ف 10 حلقوں سے جیتی اور 2 حلقوں کے 1 یا 2 پولنگ سٹیشن پر رجسٹرڈ ووٹوں سے زیادہ ووٹ پڑے جو 20 فیصد بنتا ہے
پی پی پی پی 31 حلقوں سے جیتی اور 6 حلقوں کے 1 یا 2 پولنگ سٹیشن پر رجسٹرڈ ووٹوں سے زیادہ ووٹ پڑے جو 19.35 فیصد بنتا ہے
تحریکِ انصاف 27 حلقوں سے جیتی اور 5 حلقوں کے 1 یا 2 پولنگ سٹیشن پر رجسٹرڈ ووٹوں سے زیادہ ووٹ پڑے جو 18.52 فیصد بنتا ہے
ایم کیو ایم 18 حلقوں سے جیتی اور 3 حلقوں کے 1 یا 2 پولنگ سٹیشن پر رجسٹرڈ ووٹوں سے زیادہ ووٹ پڑے جو 16.67فیصد بنتا ہے
مسلم لیگ ن 124 حلقوں سے جیتی اور 19 حلقوں کے 1 یا 2 پولنگ سٹیشن پر رجسٹرڈ ووٹوں سے زیادہ ووٹ پڑے جو 15.32 فیصد بنتا ہے

بہتر کون ؟

آج کل سائنس کی ترقی کا چرچہ ہے ۔ سائنس کی ترقی نے آدمی کو بہت سہولیات مہیاء کر دی ہیں
پڑھنے لکھنے پر بھی زور ہے جس کے نتیجہ میں بہت لوگوں نے بڑی بڑی اسناد حاصل کر لی ہیں
توقع تو تھی کہ ان سہولیات کو استعمال کرتے ہوئے آدمی تعلیم حاصل کر کے انسان بن جائیں گے

لیکن

سائنس کی ترقی میں انسانیت کم پنپ پائی ہے اور وبال یا جہالت زیادہ
سائنس کے استعمال نے انسان کا خون انفرادی ہی نہیں بلکہ انبوہ کے حساب سے آسان بنا دیا ہے اور انسانیت بلک رہی ہے
ایسے میں ویب گردی کرتے میں افریقہ جا پہنچا ۔ دیکھیئے نیچے تصویر میں کون بچے ہیں اور کیا کر رہے ہیں

Ubuntu

ان بچوں کے پاس اپنے جسم ڈھانپنے کیلئے پورے کپڑے نہیں لیکن اس تصویر سے اُن کی باہمی محبت اور احترام کا اظہار ہوتا ہے ۔ یہ تو میرا اندازہ ہے ۔ اصل حقیقت یہ ہے

ایک ماہرِ بشریات (anthropologist) نے شاید ایسے لوگوں کو پڑھا لکھا نہ ہونے کی بناء پر جاہل اور خود غرض سمجھتے ہوئے اپنے مطالعہ کے مطابق ایک مشق دی ۔ماہرِ بشریات نے پھلوں سے بھرا ایک ٹوکرا تھوڑا دور ایک درخت کے نیچے رکھ کر افریقہ میں بسنے والے ایک قبیلے کے بچوں سے کہا
”جو سب سے پہلے اس ٹوکرے کے پاس پہنچے گا ۔ یہ سارے میٹھے پھل اُس کے ہوں گے“۔
اُس نے بچوں کو ایک صف میں کھڑا کرنے کے بعد کہا ”ایک ۔ دو ۔ تین ۔ بھاگو“۔

سب بچوں نے ایک دوسرے کے ہاتھ پکڑ لئے اور اکٹھے بھاگ کر اکٹھے ہی پھلوں کے ٹوکرے کے پاس پہنچ گئے اور ٹوکرے کے گرد بیٹھ کر سب پھل کھانے لگے

ماہرِ بشریات جو ششدر کھڑا تھا بچوں کے پاس جا کر بولا ”تم لوگ ہاتھ پکڑ کر اکٹھے کیوں بھاگے ؟ تم میں سے جو تیز بھاگ کر پہلے ٹوکرے کے پاس پہنچتا سارے پھل اس کے ہو جاتے”۔

بچے یک زبان ہو کر بولے ”اُبنٹُو (ubuntu) یعنی میرا وجود سب کی وجہ سے ہے ۔ ہم میں سے ایک کیسے خوش ہو سکتا ہے جب باقی افسردہ ہوں”۔

کیا یہ سکولوں اور یونیورسٹیوں سے محروم لوگ اُن لوگوں سے بہتر نہیں جو سکولوں اور یونیورسٹیوں سے فارغ ہو کر انفرادی بہتری کیلئے دوسروں کا نقصان کرتے ہیں
اپنی اجارہ داری قائم کرنے کیلئے دوسروں کا قتل کرتے ہیں
اور بہت خوش ہیں کہ جسے چاہیں اُسے اُس کے ملک یا گھر کے اندر ہی ایک بٹن دبا کر فنا کر دیں

سائنس نے ہمیں آسائشیں تو دے دیں ہیں مگر انسانیت ہم سے چھین لی

معتبر اور مُخبر ؟

اس سلسہ کی 6 تحاریر ”گفتار و کردار“ ۔ ”پارسل“۔ ”گھر کی مرغی ؟“ ۔ ”میں چور ؟“ ۔ ”غیب سے مدد” ۔ ”کہانی کیا تھی“۔ ”یو اے ای اور لبیا کیسے گیا“۔ ”انکوائری ۔ تفتیش”۔ ”ہمارے اطوار “ اور ”دوست ۔ آقا نہیں“ لکھ چکا ہوں

میں 1974ء میں اپنے ایک دوست جو سِنیئر سِول جج تھے کے پاس گیا ہوا تھا ۔ کسی صاحب نے اُن کے ساتھ گفتگو کے My Id Pakدوران ”معتبر“ اور ”مُخبر“ کے الفاظ استعمال کئے ۔ وہ صاحب چلے گئے تو میرے دوست نے مجھ سے کہا ”جانتے ہو معتبر کون ہوتا ہے ؟“ میں نے کہا ”کوئی بزرگ جو قابلِ اعتماد ہو“۔ ہنس کر کہنے لگے ”یہ شخص جو ابھی یہاں سے گیا ہے ۔ تھانیدار ہے ۔ پولیس والوں کے معتبر اور مُخبر جیب کُترے اور نشئی ہوتے ہیں“۔ یہ بات تو سِنیئر سِول جج صاحب نے بتائی تھی ۔ اب میرا ذاتی تجربہ

میں جن دنوں پرنسپل ٹیکنیکل ٹریننگ انسٹیٹیوٹ تھا(مارچ 1983ء تا ستمبر 1985ء)۔ انسٹیٹیوٹ کی ورکشاپ میں ایک مستری تھا جو کام کرتا نہیں تھا ۔ دیر سے آتا اور پھر کام کے وقت میں بھی غائب ہو جاتا ۔ اس کی شکائت میرے پاس آئی تو میں نے اُسے تنبیہہ کی ۔ کئی بار تنبیہہ کا جب کوئی اثر نہ ہوا تو میں نے اواخر 1984ء میں ضابطے کی کاروائی شروع کی اور بالآخر اُسے نوکری سے فارغ کرنے کا نوٹس دے دیا ۔ مجھے میرے باس جو ممبر پی او ایف بورڈ تھے کا ٹیلیفون آیا کہ اُس کی فائل اُنہیں بھیج دوں ۔ ہفتہ بھر فائل واپس نہ آئی ۔ پھر ایک دن میں اُن کے دفتر گیا ہوا تھا تو اس کی فائل مانگی تاکہ میں عمل مکمل کر سکوں ۔ جواب ملا ”وہ سیکیورٹی والوں کا آدمی ہے ۔ کرنل ۔ ۔ ۔ (سیکیورٹی کے سربراہ) آپ سے بات کریں گے“۔

میں واپس اپنے دفتر پہنچا ہی تھا کہ سیکیورٹی کے سربراہ کا ٹیلیفون آیا ۔ اُس کی رام کہانی سننے کے بعد میں نے کہا ”ایک ایسا آدمی جو قواعد و ضوابط کا پابند ہونا تو کُجا قواعد و ضوابط کی دھجیاں اُڑاتا ہے ۔ اُس سے آپ حساس معاملات کا کام لیتے ہیں”۔ بولے ”تو اور کیا میں مولوی بھرتی کروں ؟“ بہر حال وہ شخص ملازمت پر رہا لیکن میں نے اسے رکھنے سے انکار کر دیا تو اُسے کسی فیکٹری میں بھیج دیا گیا

اگست 1992ء سے میں کنٹریکٹ پر بطور ڈائریکٹر ویلفیئر ٹرسٹ کام کر رہا تھا ۔ مارچ 1994ء میں ایک ہیرا پھری کا کیس ہوا ۔ اس میں بسوں کا چَیکر اور ایک سُپروائزر ملوث تھا ۔ سُپروائزر کے خلاف میرے پاس پہلے ہی بہت شکائتیں آ چکی تھیں اور میں نے خود بھی متعدد بار اسے ڈیوٹی سے غیر حاضر پایا تھا ۔ وہ 60 سال کی عمر ہونے پر ریٹائر ہو چکا تھا اور کئی سالوں سے ویلفیئر میں کنٹریکٹ پر کام کر رہا تھا ۔ میں نے چَیکر اور سُپروائزر دونوں کو نوکری سے نکال دیا ۔ سُپر وائزر کے متعلق معلوم ہوا کہ وہ سیکیورٹی والوں کا آدمی ہے ۔ اُسے نوکری پر بحال تو نہ کیا گیا لیکن چیئرمین پی او ایف بورڈ نے فائل پر لکھ دیا کہ ”افتخار اجمل بھوپال کو موجودہ کنٹریٹ ختم ہونے پر فارغ کر دیا جائے گا”۔ چنانچہ اگست 1994ء کے بعد میری ملازمت ختم ہو گئی ۔ حقیقت یہ تھی کہ میں نے وقت سے قبل ریٹائرمنٹ اگست 1992ء سے لے لی تھی جب میری عمر 53 سال تھی ۔ مجھے مجبور کر کے اس شرط پر رکھا گیا تھا کہ 60 سال کی عمر تک کام کروں گا