Category Archives: روز و شب

کچھ اور جبريں

ميں نے پہلی بار جبريں يکم جولائی 2010ء کو لکھی تھيں ۔ آج 2 تازہ جبريں ہيں
“زنانہ قبضہ گروپ” اور “پاکستان اول نمبر پر”

زنانہ قبضہ گروپ
کراچی سے جاوید نامی ایک صاحب نے 1990ء میں اسلام آباد دامن کوہ کے قریب موضع تلہاڑ میں 22.5 کنال زمين خریدی ۔ اس میں 5کمرے بنوائے اور کنواں بھی کھدوایا ۔ وہ ہر سال گرمیوں میں ایک دوماہ قیام بھی کرتے رہے
گزشتہ آٹھ نو ماہ سے ان کی زمین پر ملتان سے پیپلز پارٹی کی رُکن قومی اسمبلی نے قبضہ کر کے وہاں اپنی بیٹی کے نام کا بورڈ لگا دیا ہے
اسلام آباد پولیس نے بتایا کہ وفاقی وزیر داخلہ نے اس کو منہ بولی بہن بنایا ہوا ہے بھلا پولیس کی مجال کہ کوئی کارروائی کرے
جاويد صاحب نے محکمہ مال کے پٹواری گرداور اور تحصیل دار سے داد رسی کی درخواست کی تو انہوں نے کہا کہ ملتان میں وہ ایم این اے اور یوسف رضا گیلانی ایک ہی گلی میں رہتے ہیں ۔ گیلانی صاحب جب ملتان میں ہوتے ہیں تو دوپہر کا کھانا اکثر اس خاتون کے گھر کھاتے ہیں ۔ ایوان صدر بھی اس کی پشت پر ہے
اسلام آباد کے قصبے سیدپور میں مقیم بعض ایسے لوگوں کو کوہسار پولیس نے 15 دن تک اپنی حراست میں رکھا کہ ان کا کسی نہ کسی طور پر کراچی میں جاوید صاحب سے رابطہ رہتا تھا۔ ان لوگوں میں ایک طالب علم نے بتایا کہ ” ہم لوگ اپنے گھروں میں بھی محفوظ نہیں ہیں ہمیں دھمکیاں دی جاتی ہیں”
جاوید صاحب نے مزید بتایا کہ ان کی زمین اور گھر پر چند ملیشیاء کے لباس میں ملبوس گن مین کھڑے کر دیئے گئے ہیں اور اسلام آباد انتظامیہ دباؤ ڈال رہی ہے کہ وہ ساری زمین اس خاتون کے نام منتقل کر ديں ورنہ عبرت ناک انجام کے لئے تیار ہو جائيں

پاکستان اول نمبر پر
آبادی کے اعتبار سے دنیا کے سب سے بڑے ملک چین کے وزیر ۔ 14
بھارت جس کی آبادی پاکستان کی آبادی کا 5 گنا ہے کے وزير ۔ 32
برطانیہ کے وزير ۔ 12
امریکا جو سپر پاور ہے کے وزیر ۔ 14

چین بھارت برطانیہ اور امریکا چاروں ملکوں کو ملا کے کُل وزير ۔ 72

پاکستان کے وزیر اور وزرائے مملکت ۔ 96
ان 96 ميں مشیر ۔ ايڈوئزر۔ پارلیمانی سیکرٹری اور قائمہ کمیٹیوں کے سربراہ شامل نہيں جنہیں وزراء جیسی سہولیات میسر ہیں

وزراء کو دی جانے والی مراعات میں بھی پاکستان نے اپنی انفرادیت برقرار رکھی ہوئی ہے
کشکول لے کر ملکوں ملکوں فرینڈز آف پاکستان کی تلاش کرنے میں بھی پاکستان کا ثانی کوئی نہیں ہے
دیوالیہ پن کے قریب پہنچے ہوئے ملکوں میں بھی پاکستان پہلی صف میں کھڑا دکھائی دے رہا ہے 
ناکام ریاست کا اعزاز کتنی بار ملتے ملتے رہ گیا ہے
جعلی ڈگری ہولڈرز ۔ جعلی ادویات سازی ۔ جعلی پولیس مقابلے

کونسا ایسا شعبہ ہے جس میں پاکستان پیش پیش نہیں ہے ؟
پھر کہتے ہيں کہ پاکستان نے ترقی نہيں کی

SJK کون ہيں ؟؟؟ اور مدد کی ضرورت

جب مجھے اپنے بلاگ پر کوئی پرانی تحرير تلاش کرنا ہوتی تھی تو اس کا عنوان گوگل ميں لکھ کر تلاش کرتا تو اس کا ربط مل جاتا تھا ۔ کچھ دن قبل مجھے ضرورت پڑی تو ميں نے اسی طرح تلاش کرنے کی کوشش کی مگر نہيں ملا ۔ پھر ميں نے بلاگ کا عنوان ” ميں کيا ہوں” لکھ کر تلاش کيا تو بھی کچھ نہ ملا ۔ آج ميں نے اپنا نام اُردو ميں لکھ کر تلاش کيا تو کچھ پوسٹس ظاہر ہوئيں

ميں اس وقت حيران ہوا جب ميرے نام کے ساتھ اُردو مجلس کا نام بھی آيا جبکہ عرصہ ہوا احتجاج کے طور پر ميں نے اُردو محفل چھوڑ کر اپنی ساری تحارير مٹا دی تھيں ۔ اس ربط کو کھولا تو SJK صاحب نے ميرے بلاگ سے وہاں کافی ساری تحارير ميرے نام سے نقل کی ہوئی تھیں ۔ يہ ميرے مہربان کون ہيں ؟

مدد چاہيئے
کوئی صاحب اس سلسلہ ميں ميری مدد فرمائيں کہ کيا ہوا ہے جس کی وجہ سے ميرا بلاگ گوگل سرچ سے باہر ہو گيا ہے اور يہ کہ ميں کيا کروں کہ مجھے پہلے کی طرح بلاگ پر اپنی تحارير کے ربط گوگل سرچ پر مل جايا کريں ؟

کشمير ميں موت کا سفّاکانہ رقص جاری

جموں و کشمیر کے شمالی قصبہ سوپور میں فورسز کے ہاتھوں معصوم نوجوانوں کی پے در پے ہلاکتوں کے خلاف تشدد اور زور دار احتجاجی مظاہروں کی تازہ لہر کے بیچ سوموار سی آر پی ایف نے سوپور کی طرف مارچ کررہے دو جلوسوں پر اندھادھند فائرنگ کرکے 9 سالہ کمسن بچے اور ایک 17 سالہ نوجوان کو موت کی ابدی نیند سلا دیا

تفصيلات پڑھنے کيلئے يہاں کلک کيجئے

سواری

ميں نے اپنے ملک ميں ايک دن مياں بيوی اور 3 بچوں کو ايک موٹرسائيکل پر جاتے ديکھا تو پہلے پريشان ہوا اور پھر اُن پر ترس آيا کہ بيچارے کيا کريں ۔ مگر مشرقِ بعيد ميں

جموں کشمير کے در و ديوار پر “گو انڈيا گو بيک”

جموں و کشمیر میں آزادی پسندوں کی طرف سے “کشمیر چھوڑ دو” مہم کے پروگرام پر عمل کرتے ہوئے ریاستی عوام نے اتوار کو دیواروں،سڑکوں اوردکانوں پر “گو انڈیا گو بیک” کا نعرہ مختلف علاقوں میں تحریر کیا جبکہ کئی ایک علاقوں میں “گو انڈيا گو بيک” کے بینر بھی آویزاں دیکھے گئے۔ واضح رہے کہ حریت کانفرنس (گ) نے “کشمیر چھوڑ دو” مہم کیلئے 25 جون سے 13 جولائی 2010ء تک مختلف پروگرام ترتیب ديئے ہیں جن میں سے “گو انڈيا گو بيک” کا نعرہ دیواروں ،دکانوں اور سڑکوں پر تحریر کرنے کیلئے کہا گیاتھا۔ مذکورہ احتجاجی پروگرام پر عمل کرتے ہوئے سرینگر کی مختلف سڑکوں اوردکانات پر نوجوانوں کو یہ نعرہ تحریر کرتے ہوئے دیکھا گیا جبکہ وادی کے دیگر علاقوں سے بھی مذکورہ احتجاجی پروگرام عملانے کی اطلاعات ہیں۔پائین شہر کے مختلف علاقوں میں دکانوں، دیواروں، مکانوں اور اہم سڑکوں پر ”گو انڈیا گو” کے نعرے تحریر کئے گئے وہیں شہر کے مضافاتی علاقے لسجن میں بھی ”گو انڈیا گو ” کے بینر آویزان رکھے گئے تھے۔ ادھر بٹہ مالو ، حبہ کدل، آبی گذر اور دیگر مقامات پر بھی سڑکوں کے بیچوں بیچ ”گو انڈیا گو ” کے نعرے درج کئے گئے۔

[13 جولائی 1931ء کو جموں کشمير کے مسلمانوں پر جو ايک جگہ جمع تھے پر ہندو آفیسر نے بغیر وارننگ دیئے پولیس کو گولی چلانے کا حکم دے دیا تھا جس سے 22 مسلمان شہید اور بہت سے زخمی ہوئے تھے]

بقيہ يہاں کلک کر کے پڑھيئے

کيا ہم آزادی کے مستحق ہيں ؟

اس کا جواب تلاش کرنے کيلئے ہم ميں سے ہر ايک کو دوسروں کی آنکھوں ميں تنکا ڈھونڈنا چھوڑ کر اپنے گريبان ميں جھانکنا اور اپنے چہرے کو اصلی آئينے ميں ديکھنا ہو گا ۔ ميں اچھی طرح جانتا ہوں کہ دوسرے پر الزام لگانا بہت آسان کام ہے مگر اپنی بُرائی کو برائی سمجھنا بہت مشکل کام ہے ۔ ہم لوگ فقط بحث مباحثوں ميں بڑھ چڑھ کر بات کرنے کو بہادری اور علم کا عروج سمجھنے لگ گئے ہيں ۔ ہميں تاريخ سے سبق سيکھنے سے کوئی شغف نہيں ۔ کيا اسی طرح کے بے عمل بے نتيجہ مباحث بغداد اور غرناطہ کی تباہی کا پيش خيمہ نہيں تھے ؟

محمد بلال صاحب نے اپنی قوم کی حالت پر کچھ روشنی ڈالی تو ميں نے تصوير کا ايک اور رُخ دکھانے کيلئے اپنے مشاہدے ميں آنے والے مندرجہ ذيل تين واقعات لکھے تھے

1 ۔ ايک پڑھے لکھے صاحب نے کپڑا خريدا اور ساتھ کی دکان پر ميں اور دو جاپانی کچھ خريد رہے تھے ۔ اُن کی ستائش حاصل کرنے کيلئے کپڑے پر لگے ليبل کو اُنہيں دکھايا جو جاپانی زبان ميں لکھا تھا ۔ وہ دو نوں جاپانی ہنسنے لگے ۔ جب وہ شخص چلا گيا تو ميں نے اُن جاپانيوں سے پوچھا کہ آپ ہنسے کيوں ؟ بولے کہ جاپانی ميں لکھا تھا “پاکستان کا بنا ہوا”
2 ۔ کراچی ميں ايک بہت پرانا پلاسٹک کے برتنوں وغيرہ کا کارخانہ ہے ۔ ميں وہاں گيا ہوا تھا تو مالک سے کہا کہ آپ کا معيار بہت اچھا ہے تو اپنا مال ملک ميں پھيلاتے کيوں نہيں ؟ بولے “کيا کريں لوگ باہر کا بنا مال پسند کرتے ہيں چاہے گھٹيا ہو ۔ بھائی ۔ کيا بتائيں ہماری اپنی اماں دبئی گئيں اور وہاں سے ايک ٹب لے آئيں کہا اماں ہم سے کہا ہوتا يہ وہاں سے لانے کی کيا ضرورت تھی؟” بوليں” ارے تم کہاں ايسا بناتے ہو”۔ تو ميں نے اُلٹا کر کے ماں کو دکھايا ہمارے کارخانے کا بنا تھا
3 ۔ ايک پاکستانی نوجوان لندن سے پتلون خريد لائے اور بڑے فخر سے مجھے دکھا کر کہنے لگے يہ ديکھو کتنی بہترين ہے ہمارے ملک ميں تو ايسا مال بنتا ہی نہيں ۔ ميں تجسس سے پتلون اندر باہر سے ديکھنے لگا اچانک ميری نظر ايک ليبل پر پڑی جو پتلون کے اندر لگا تھا ۔ انگريزی ميں لکھا تھا “پاکستان کی ساختہ پاکستانی کپڑے سے”

مزيد يہ کہ :
ہمارے ملک ميں ہر قسم کا کپڑا بہت عمدہ معيار کا بنتا ہے اور قيمتيں بھی مناسب ہيں ۔ ميرے ہموطنوں کی اکثريت کپڑا خريدنے جاتے ہيں تو غير مُلکی تلاش کرتے ہيں ۔ کوئی مقامی کپڑے کو جاپانی کہہ کر بيچ دے تو دُگنی قيمت پر خريد ليتے ہيں اور اگر پاکستانی کہے تو آدھی قيمت پر لينے کو تيار نہيں ہوتے

پاکستان ميں ميلامائن کے برتن بيس پچيس سال سے بن رہے ہيں جو بين الاقوامی معيار کے ہيں ۔ ايک کارخانہ حيدرآباد ميں تھا جس کا بنا ہوا ڈنر سيٹ جو ميں نے 1994ء ميں کراچی بوہری بازار سے خريدا تھا اُس دن سے آج تک ہمارے استعمال ميں ہے ۔ 1994ء ہی ميں ايک ميرے دفتر کے ساتھی ايرانی ميلامائن ڈنر سيٹ ڈھونڈ رہے تھے کسی نے وہی انہيں ايرانی کہہ کر ڈيڑھ گنا قيمت ميں ديا تو بڑے خوش تھے کہ بہت سستا مل گيا ۔ کراچی ميں سَيلُوکو ۔ گولڈن اور منيار اچھے معيار کا سامان بناتے تھے ۔ مگر ميرے ہموطنوں کی آنکھيں دساور پر لگی رہتی ہيں جس کے باعث ان کمپنيوں کو خاصہ نقصان برداشت کرنا پڑا

اب آيئے تعليم کی طرف جس کا رونا اکثر رويا جاتا ہے ۔ ہم ميں سے وہ لوگ جن کو تعليمی ترقی کا شوق پيدا ہوتا ہے اپنے بچوں کو ايسے سکول ميں داخل کراتے ہيں جس کا نام انگريزی ميں ہو يا جديد طرز کا ہو ۔ اپنے سرکاری سکولوں کو جنہيں انہی لوگوں کی جيب سے ادا کردہ ٹيکس کے پيسے سے چلايا جاتا ہے اچھوت تصور کيا جاتا ہے ۔ اگر ان سکولوں کی ہم حوصلہ افزائی کريں تو پھر ہميں ان کی برائياں گننے کا بھی حق پہنچتا ہے ۔ سيانے کہتے ہيں “جس شہر نہ جانا اس کا راستہ کيوں پوچھنا”۔ بلکہ ان سکولوں ميں ہم اپنے بچوں کو پڑھائيں تو ہم ان کی بہتری کی بھی کوشش کر سکتے ہيں ۔ 5000 سے 10000 روپے ماہانہ ادا کر کے انگريزی نام کے سکولوں ميں تو بچوں کو پڑھايا جاتا ہے اور جب سرکاری سکولوں کی بات آتی ہے تو 50 روپے ماہانہ بھی کھلتا ہے ۔ ايسا دوغلا پن کيوں ؟ وجہ صاف ظاہر ہے کہ ہم ميں سے جو زيادہ شور مچانے والے ہيں دراصل شور مچانا اُن کا مشغلہ ہے جسے وہ اپنی بڑھائی سمجھتے ہيں ۔ يا يوں کہيئے کہ مسئلہ جھوٹی انا کا ہے

اگر ہم چاہتے ہيں کہ ہم بحثيت قوم عزت پائيں اور ترقی کريں تو اس کا ايک ہی حل ہے ۔ آج سے فيصلہ کر ليں کہ جو چيز اپنے ملک ميں بنتی ہے اور اس سے گذارا ہو سکتا ہے تو وہ صرف اپنے ملک کی بنی ہوئی ہی خريديں ۔ اگر غير ملک ميں کوئی چيز اچھی ہے تو اسے ملک ميں بڑائی کی خاطر نہيں بلکہ اس کی صنعت قائم کرنے کيلئے لايئے ۔ اس طرح ہمارے ذہين اور محنتی ہُنرمند جو مجبور ہو کر مُلک چھوڑ گئے ہيں وہ بھی واپس آنے کا سوچيں گے ۔ اگر وہ نہ بھی آئيں تو اگلی نسلوں ميں باہر جانے کی سوچ ختم ہو جائے گی

“ميں بھی پاکستان ہوں ۔ تو بھی پاکستان ہے” صرف ٹی وی يا محفلوں ميں گانے سے کچھ نہيں ہو گا ۔ پاکستانی بن کے دکھانا ہو گا اور اس کيلئے يہ بھی ضروری ہے کہ پنجابی ۔ سندھی ۔ پختون ۔ بلوچ ۔ مہاجر اور اُردو سپيکنگ صرف گھر کے اندر ہوں ۔ گھر سے باہر سب پاکستانی ہوں

برتن اور بچھائی بيچ چکے ۔ پر وہ نہ آيا

11 دسمبر 1991ء پکھری بل بوٹہ کدل سے ایک 17 سالہ نوجوان الطاف احمد شیخ کو سی آر پی ایف اور سرحدی حفاظتی فورس کے اہلکار نامعلوم وجوہات کی بناء پر گرفتار کرتے ہیں جس کا تا حال کوئی اتہ پتہ نہیں۔ پیشہ سے قالین باف الطاف احمد شیخ ولد غلام نبی کے اہلِ خانہ کہتے ہیں ”دن کے ساڑھے چار بجے سی آر پی ایف اور سرحدی حفاظتی فورس کے اہلکار وں نے علی محمد کے گھر پر چھاپہ مار کارروائی میں الطاف کو جپسی میں بٹھاکر نامعلوم جگہ پہنچادیا۔ الطاف علی محمد بیگ کے کارخانہ میں قالین بنتا تھا”۔اس سلسلہ میں پولیس میں ایک عدد ایف آئی آر زیرِ نمبر 327/97بھی درج کیا جاتاہے

الطاف کے بھائی خورشید ،جسکی عمر بھائی کی حراست کے وقت 13 سال تھی،کا کہنا ہے”میرے والدین روز صبح الطاف کی تلاش میں نکلتے تھے اور شام کو مایوس ہوکر گھر لوٹتے تھے۔ کبھی سی آر پی ایف کیمپ ،کبھی بی ایس ایف اور کبھی فوجی کیمپ،غرض ہر کوئی کیمپ چھان مارا لیکن حاصل یہ ہوا ماں دماغی مریض بن گئی، بہن دل کے عارضے میں مبتلا ہوگئی اور باپ اسی غم میں دنیا سے رخصت ہوگیا۔ میری ماں آج بھی ڈاکٹر مشتاق (ماہرِ نفسیات) کے زیرِ علاج ہے اور روز شام ہوتے ہی کشمیری گیت (ژول ہَما روشے روشے)گنگنانے لگتی ہے”۔خورشید کا کہنا ہے ”الطاف کی تلاش میں ہم نے گھر کی ساری جائداد کو نیلام کیا اور آج ہمارے گھر میں جو قیمتی سامان ہے وہ ایک عدد گیس چولہا اور ایک عدد’ بلیک اینڈ وائٹ’ ٹی وی ہے ۔ ہمارے پاس جتنا بھی تانبہ تھا بیچنے کیلئے مجبور ہوگئے۔ حد تو یہ ہے کہ کمرے میں بچھا ہوا قالین تک بیچنا پڑا اور آج مکان بھی گروی پڑا ہے”

بے کس و لاچار خورشید پہ ٹوٹنے والی مصیبتیں یہیں پہ ختم نہیں ہوتیں بلکہ خورشید کا کہنا ہے ایک دفعہ اسے پولیس تھانے سےCIDرپورٹ کی ضرورت پڑی۔ وہاں اُنہوں نے پانچ ہزار کی رقم طلب کی۔ خورشید کا کہنا ہے کہ وہ ان الفاظ کو کبھی نہیں بھول سکتا جو متعلقہ افسران نے اس وقت خورشید سے کہے ”خالی کاغذکس کام آئیں گے، اِن کی اڑان کیلئے پَر ہونے چاہئیں”۔ خورشیدکا مزید کہنا ہے کہ اس کے ساتھ ایسا ایک بار نہیں بلکہ کئی بار ہوا ”۔خورشید سرکار نام سے ہی نفرت کرتے ہیں جس کی وجہ وہ نیشنل کانفرنس کے صدر اور جموں و کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ ڈاکٹر فاروق عبداللہ کے وہ تلخ الفاظ گردانتے ہیں جو وہ ڈاکٹر فاروق کی رہائش گاہ پر سن چکے ہیں۔خورشید کے مطابق ایک مرتبہ وہ ڈاکٹر فاروق کو اپنی روئيداد سنانے پہنچے کیونکہ ڈاکٹر فاروق اس وقت وزیر اعلیٰ تھے لیکن وہاں ڈاکٹر فاروق نے ان کے زخموں کا مداوا کرنے کے بجائے ایک مخصوص انداز میں کہا ” تم آزادی پسندوں کے حمایتی ہو اور عین ممکن ہے کہ آپکا بھائی پاکستانی ہوگا،جس کیلئے اُسکو کہیں مارا ہوگا”۔ خورشید نے ایک لمبی آہ بھرتے ہوئے کہا ” نیشنل کانفرنس کا ایک کارکن مگھرمل باغ میں رہائش پذیر تھا۔ اس نے ہمیں یقین دلایا تھا کہ وہ الطاف کو ڈھونڈ کے ہی رہے گا لیکن اُس کی ”برائے نام امداد” سے الطاف واپس تو نہیں آیا البتہ ہر طرف سے مار کھانے کے بعد ہم خاک میں مل گئے ”۔ ”روز صبح پورے دن کیلئے اس کے گھر ٹیکسی پہنچانی ہوتی تھی اور ہوٹل میں کھاناکھلانے کے علاوہ اعلیٰ قسم کے دو دوپیکٹ بھی پھونکنے کو دینے پڑتے تھے”

خورشید جو اپنی ماں کا اکلوتا سہارا ہے ،کا کہنا ہے”15 فروری 1993ء کو ہمیں ایک خط موصول ہوا جس میں لکھا تھا “میں زندہ ہوں اور اب مجھے بی بی کینٹ بادامی باغ منتقل کرنے والے ہیں” ۔ اُمید کی یہ کرن جاگتے ہی میری ماں بادامی باغ کی طرف دوڑ پڑی اور ایک بار اُس کے زندہ ہونے کا ثبوت بھی ملا ، سرینگر کے سونہ وار علاقے میں ہی ماں نے الطاف کو سرحدی حفاظتی فورس (BSF)کی ایک جپسی میں دیکھا اور ماں پاگلوں کی طرح اُس جپسی کے پیچھے دوڑ پڑی اور رستے میں ہی بیہوش ہوکر گرپڑی۔ یہ امید جاگنے کے بعد ہم نے پھر ایک بار مختلف کیمپ اور جیل جن میں پاپا ٹو ،ائر کارگو ،ہمہامہ کیمپ ،جموں سنٹرل جیل،ہیرانگر جیل کے چکر کاٹے لیکن مصیبتوں اور سختیوں کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوا’۔ غم سے نڈھال اور تھکن سے چور ان لوگوں کو اب بھی اپنے ”پیارے” کا انتظار ہے

تحرير ۔ امتياز خان ۔ سرينگر ۔ مقبوضہ جموں کشمير