انجنيئر کے فرائض اور ذمہ دارياں

مضمون ” انجنيئر کے فرائض اور ذمہ دارياں” ميری تعليم اور پلاننگ ۔ ڈويلوپمنٹ اور پروڈکشن ميں ميرے کئی ملکوں بشمول پاکستان ۔ ليبيا ۔ جرمنی ۔ بيلجيئم ميں ذاتی تجربہ اور غير مُلکی وفود بشمول امريکہ ۔ چين ۔ چيکوسلواکيہ کے ساتھ کام کرنے کے تجربہ کا نچوڑ ہے ۔ سن 1984 ميں يہ مضمون لکھنے تک ميرا متذکّرہ تجربہ 22 سال پر محيط تھا ۔  

يہ مضمون نہ صرف گريجوئيٹ انجنيئروں کيلئے بلکہ انجيئر بننے کی خواہش رکھنے والوں اور تجربہ کار انجنيئروں کيلئے بھی مُفيد ہو سکتا ہے کيونکہ انجنيئر جب کام ميں لگ جاتا ہے تو فطری طور پر اُس کی تمام تر توجہ صرف ايک ہی سمت ہو جاتی ہے جس ميں وہ کام کر رہا ہوتا ہے اور کثيرالجہت انجنيئرنگ اُس کے ذہن سے ماؤف ہونے لگتی ہے ۔

يہ مضمون يہاں پر کلِک کرکے يا ميرے انگريزی کے بلاگ ميں انجنيئر پر کلِک کر کے پڑھا جا سکتا ہے ۔  

 

کمال ہو گيا

بلاگسپاٹ بغير کسی پروکسی کے براہِ راست کھُلنا شروع ہو گيا ہے ۔ اللہ يہ گھڑی مبارک کرے اور بلاگسپاٹ براہِ راست ہی کھُلتا رہے ۔ اللہ سُبحانُہُ و تعالٰی ہمارے حکومتی اہلکاروں کو سيدھی راہ پر چلائے اور عقلِ سليم عطا فرمائے ۔ آمين

*

میرا انگريزی کا بلاگ ۔ مندرجہ ذیل یو آر ایل پر کلِک کر کے يا اِسے اپنے براؤزر ميں لکھ کر پڑھيئے ۔

Hypocrisy Thy Name – – http://iabhopal.wordpress.com  یہ منافقت نہیں ہے کیا ۔ ۔

آپ نے ياد دِلايا تو ۔ ۔ ۔

اسلام آباد موٹر وے و ہائی وے پوليس اِسی سال اسلام آباد کے شہريوں کو متعارف کرائی گئی ۔ مئی ميں اِس کے رويّہ کے متعلق ميں لکھنے والا تھا کہ اچانک 23 مئی کی صبح ميری بيگم گِر گئيں اور اُن کی ٹانگ کی ہڈی ٹوٹ گئی ۔ پھر وہ دن اور آج کا دن مصروفيت کے باعث ميں پہلے سے لکھی ہوئی  تحريريں شائع کرتا رہا ۔ عتيق الرّحمٰن صاحب نے مُجھے ياد دِلا ديا ۔ شکريہ عتيق الرّحمٰن صاحب ۔

مئی کے مہينے ميں ہم لوگ جی 10 سے اپنے گھر ايف 8 آرہے تھے کہ ايف  10 کے پاس ايک کھڈّے سے گذرنے کے بعد ہماری کار  رُک گئی ۔ ميں باہر نکا ہی تھا کہ ايک پوليس کار آئی ۔ اُس ميں سے سليٹی رنگ کی وردی پہنے پوليس افسر نکلا۔  اُس نے ميرے ساتھ دَھکا لگا کر کار سڑک سے نيچے اُتاری تا کہ راستہ کھُلا رہے پھر اُس نے کار کا بونٹ کھول کر معائنہ شروع کيا ۔ ميں نے سارے تھِمبَل اُتار کر دوبارہ لگائے تو ميری کار چل پڑی ۔ پوليس افسر نے پوچھا “پھر تو بند نہيں ہو جائے گی ؟” ميرے “نہيں” کہنے کے باوجود پوليس کار ايک کلوميٹر تک ہماری کار کے پيچھے چلتی رہی ۔

کُچھ دن بعد ہم زيرو پوائنٹ سے شاہراہ فيصل پر آ رہے تھے کہ جناح ايوينيو سے کُچھ پہلے ٹائر ميں سے ہوا نکل گئی ۔ کيل چُب گيا تھا ۔ ميں کار سے اُترا ہی تھا کہ مُجھے مدھم سی آواز سُنائی دی ” سَر  رُک جائيں ۔ سَر  رُک جائيں” ميں نے ديکھا تو ايک جوان مکينِک کی وردی پہنے ميری طرف سرپٹ بھاگا آ رہا تھا ۔ ميرے پاس پہنچتے وہ ہانپنے لگا ۔ اُس کے ساتھ ايک پوليس مين بھی تھا ۔ اُس مکينِک نے پہيئہ بدل ديا تو ميں نے اُسے کچھ روپے دينا چاہے مگر اُس نے يہ کہہ کر نہ لئے “يہ فری سروس ہے ۔ ميں ٹريفک پوليس کا تنخواہ دار ملازم ہوں ۔ يہ تو شہر ہے اگر شہر کے باہر بھی آپ کو کسی قسم کی مدد درکار ہو تو 915 پر ٹيليفون کيجئے ہمارے آدمی آپ کی مدد کو پہنچ جائيں گے”۔

سُبحان اللہ ۔ مجھے يوں محسوس ہوا کہ ميں جنّت ميں پہنچ گيا ہوں ۔ سچ کہا تھا حکيم الاُمّت علامہ محمد اقبال نے

ذرا نَم ہو تو يہ مَٹّی بڑی ذرخيز ہے ساقی 
 

غَلَط فہمی کا ازالہ يا تصحيح

ميں چلتے چلتے ايک بلاگ پر پہنچا ۔ اُردو کے کئی شعراء کا کلام لکھا تھا ۔ پڑھنے لگ گيا ۔ کچھ شعر  مُضطر صاحب کے نام سے لکھے تھے ۔ ملاحظہ ہوں 

ميرے خيال ميں مندرجہ بالا اشعار بہادر شاہ ظفر کے اشعار ميں معمولی سا ردّ و بدل کر کے اپنائے گئے ہيں ۔ ملاحظہ ہوں بہادر شاہ ظفر کے متعلقہ اشعار ۔

 نہ کسی کی آنکھ کا نور ہوں نہ کسی کے دل کا قرار ہوں
جو کسی کے کام نہ آ سکے ميں وہ اِک مُشتِ غُبار ہوں
ميں نہيں ہوں نغمہءِ جانفزا کوئی سُن کے مجھ کو کرے گا کيا
ميں بڑے بروگ کی ہوں صدا ميں بڑے دُکھوں کی پُکار ہوں
ميرا رنگ روپ بگڑ گيا ميرا يار مجھ سے بچھڑ گيا
جو چمن خزاں سے اُجڑ گيا ميں اُسی کی فصلِ بہار ہوں
نہ تو ميں کسی کا حبيب ہوں نہ تو ميں کسی کا رقيب ہوں
جو بگڑ گيا وہ نصيب ہوں جو اُجڑ گيا وہ ديار ہوں
پئے فاتحہ کوئی آئے کيوں کوئی چار پھول چڑھائے کيوں
کوئی آ کے شمع جلائے کيوں ميں وہ بيکسی کا مزار ہوں

دہشتگردی کے خلاف جنگ اور پاکستان

امريکہ کی دہشتگردی کے خلاف جنگ کے پاکستان پر اثرات اب واضح ہونے لگ گئے ہيں ۔ پاکستانی حکومت کی طرف سے امريکہ کی ضرورت سے زيادہ فراخدلی سے حمائت نے قوم کو ردِعمل کے طور پر انتہاء پسندی کی طرف مائل کر ديا ہے ۔ يہ حقيقت ہے کہ امريکی دعوؤں کے برعکس جنگجوؤں کی بھاری اکثريت کا دينی مدرسوں سے تعلق نہيں ہے ۔ بدقسمتی سے مغربی ذرائع ابلاغ نے قوموں اور افراد کو اس سانچے ميں ڈھالنے کا معمول بنا ليا ہے کہ ہر دہشتگردی کے پيچھے طالبان يا مُلّا کا ہاتھ ہے جبکہ حقيقت بالکل مُختلف ہے ۔ وزارتِ داخلہ نے 2005 عيسوی کے آخر ميں  ايک تفتيشی رپورٹ مُرتب کی اس کے مطابق 22 خودکُش بمباروں ميں سے صرف 3 کا کسی مدرسہ سے تعلق تھا ۔ پاکستان بننے سے لے کر 11 ستمبر 2001 تک پاکستان ميں شائد ہی کو خودکُش بمباری کا واقعہ ہوا ہو ۔   

ستمبر 2001 کے بعد سے پاکستان ميں سينکڑوں لوگوں کو جنگجو کا نام دے کر بغير کسی الزام کے قيد کيا گيا ہے اور اُن کے خاندانوں کو اُن کے متعلق بے خبر رکھا گيا ہے ۔ بےشمار پاکستانيوں کو بغير کسی ثبوت کے القاعدہ يا طالبان کے بہانے مشکوک خفيہ طريقہ سے امريکہ کے حوالے کر ديا گيا ۔ اس عمل سے عوام ميں اُن کيلئے ہمدردی پيدا ہوئی ۔ جو کچھ افغانستان اور عراق ميں ہوا ۔ پھر بالخصوص ابو غريب اور گوانٹانامو بے ميں اس نے جوانوں کے ذہنوں پر گہرے نقش چھوڑے ۔  

ايک اور مسئلہ پاکستانی حکومت کی امريکہ کے غلط اقدامات کے سلسسہ ميں بيجا رفع دفع کی پاليسی ہے ۔ کئی مواقع پر ايف بی آئی نے پاکستان کے اندر مقامی سکيورٹی ايجنسيوں کی مدد سے کمانڈو آپريشن کئے اور پاکستانی شہريوں کو اُٹھا کر لے گئے ۔ اس کے علاوہ پاکستانی حدود کی خلاف ورزی کرتے ہوئے امريکی فوجيوں نے پاکستانی علاقہ ميں داخل ہو کر حملے کئے ۔   

جمہوريت کی کمی ۔ اداروں کے غيراستحکام اور اقتدارِ اعلٰی ميں شگاف نے مسائل کو گھمبير بنا ديا ہے اور حکومت ديرپا مفيد اقدام کيلئے ضروری سياسی اور جمہوری چہرے سے محروم ہے جس کی وجہ سے حالات بہتر کرنے سے قاصر ہے۔ 

يہ جاويد رانا صاحب کے 17 جولائی 2006 کو ڈان ميں چھپنے والے مضمون کے کچھ اقتباسات کا ترجمہ ہے ۔

*

 میرا انگريزی کا بلاگ مندرجہ ذیل یو آر ایل پر کلِک کر کے يا اِسے اپنے براؤزر ميں لکھ کر پڑھيئے ۔

Hypocrisy Thy Name – – http://iabhopal.wordpress.com/  یہ منافقت نہیں ہے کیا ۔ ۔

نام روشن خيالی کام سنگدلی

وہ حُکمران جو  ہر وقت انسانی حقوق ۔ امن اور جمہوريت کی بحالی اور روشن خيالی کا راگ الاپتے رہتے ہيں اُن کا عمل اور اصل چہرہ ديکھنے کيلئے يہاں کلِک کر کے ديکھئے اُن کے بے پنا ظُلم کی تصاوير  

يہ سب کچھ ديکھ کر اگر لبنان کے لوگوں کيلئے جن ميں زيادہ تر مُسلمان مگر عيسائی اور يہودی بھی سامل ہيں آپ کے دل ميں دُکھ يا ہمدردی پيدا ہو تو کم از کم يہاں کلِک کر کے اس ظُلم کے خلاف پيٹيشن پر اپنا نام لکھ ديجئے ۔ 

 رسول اللہ صلّی اللہ عليہ و اٰلہِ وسلّم نے فرمايا ۔ ظُلم کو طاقت سے روکو ۔ اگر طاقت سے نہيں روک سکتے تو اس کے خلاف آواز بلند کرو ۔ صحابہ کرام نے پوچھا اگر ايسا نہ کر سکيں ۔ فرمايا پھر اس کو دل سے بُرا سمجھو مگر يہ کمزور ترين ايمان کی نشانی ہے ۔   

*

میرا انگريزی کا بلاگ مندرجہ ذیل یو آر ایل پر کلِک کر کے يا اِسے اپنے براؤزر ميں لکھ کر پڑھيئے ۔

   Hypocrisy Thy Name ۔ ۔ ۔  http://iabhopal.wordpress.com یہ منافقت نہیں ہے کیا ۔ ۔

اتنا ارزاں تو نہ تھا مُسلماں کا لہو

جموں کشمير اور فلسطين ۔ پھر شيشان ۔ افغانستان اور عراق اور اب لبنان ۔  ہر جگہ مُسلمان کا خُون بے دريغ بہايا جا رہا ہے ۔ مگر چاروں طرف ہُو کا عالم ہے ۔ کوئی نہيں جو چِلّائے کہ بس کرو يہ ظُلم ۔ ۔ ۔ مانا کہ آج کے مُسلمان کا دُنيا کی مُحبت ميں پڑنے سے ايمان کمزور ہو گيا ليکن کيا مُسلمانوں کا خُون سفيد ہو چکا ہے ؟   

چند سال قبل اسلام آباد کی ايک ناجائز کچی آبادی کے قريب ايک ديوار طوفان سے گِر گئی اور ايک عيسائی بچہ اس کے نيچے آ کر مر گيا تو  واشنگٹن کے در و ديوار ہِل گئے تھے اور اسلام آباد ميں ہاٹ لائين ٹيليفون کی گھنٹی بجنے لگی تھی ۔ پھر کيا تھا اسلام آباد کے بادشاہ کے حُکم پر وہاں ری اِنفورسڈ کنکريٹ کی ديوار بن گئی اور سرکاری زمين پر بنی ہوئی ناجائز بستی کو بھی جائز قرار دے ديا گيا ۔  

کيا ہزاروں بلکہ لاکھوں بے گناہ مُسلمان جن ميں ہزاروں معصوم بچے بھی شامل ہيں ايک عيسائی بچے کے برابر بھی نہيں کہ اُن کا بے جواز قتلِ عام کيا جائے اور اسلام آباد کے بادشاہوں پر اس کا کوئی اثر نہ ہو ؟  کيا دنيا کے حُکمرانوں ميں سوائے دو تين کے ايک بھی مُسلمان نہيں ؟  اور کيا سوائے اُن چند ہزار کے جو اپنی جان ہتھيلی پر رکھ کر ظالم قاتلوں سے برسرِپيکار ہيں دُنيا کے ايک ارب مُسلمانوں ميں ايمان کی اتنی رمق بھی باقی نہيں رہی کہ اور کچھ نہيں تو وہ سراپا احتجاج بن کر سڑکوں پر ہی نکل آئيں ؟ 

ليکن کيسے ؟ اللہ تو اُنہيں نظر نہيں آتا مگر بُش کو تو وہ روزانہ ٹی وی پر ديکھتے ہيں ۔ حقيقت يہ ہے کہ وہ اپنے آپ کو مُسلمان اس لئے کہتے ہيں کہ مُسلمان گھرانے ميں پيدا ہوئے ورنہ اُن کے رول ماڈل اللہ کے رسُول حضرت محمد صلَّی اللہ علَيہِ وَ اٰلِہِ وَ سَلَّم اور اُن کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نہيں بُش اور اُس کے چيلے ہيں ۔

    *

میرا انگريزی کا بلاگ مندرجہ ذیل یو آر ایل پر کلِک کر کے يا اِسے اپنے براؤزر ميں لکھ کر پڑھيئے ۔

Hypocrisy Thy Name – –  http://iabhopal.wordpress.com یہ منافقت نہیں ہے کیا ۔ ۔

صلاحِ عام

ميں نے ايک لائحہ عمل بنا رکھا ہے جس پر عمل کرنے کی ميں پوری کوشش کرتا ہوں ۔ سوچا کہ اِسے قارئين کی نذر کيا جائے کہ شائد کوئی مہربان اسے بہتر بنانے کيلئے اپنی عُمدہ تجويز سے مُجھے نوازيں ۔ يہ بھی ہو سکتا ہے کہ اس ميں سے کوئی عمل کسی قاری کو پسند آجائے اور وہ اُسے اپنا کر ميرے حق ميں دعائے خير کريں ۔

  بولنے اور لکھنے ميں ہميشہ شُستہ زبان استعمال کی جائے ۔ اس سے سُننے والے والے پر اچھا اثر پڑتا ہے  

کسی فرد کی ذاتی خامياں سب کے سامنے بيان نہ کی جائيں ۔ ايسا کرنے سے اشتعال پيدا ہوتا ہے ۔ ويسے بھی کسی کی ذاتی خامياں سرِعام بيان کرنا مہذّب انسان کو زيب نہيں ديتا    

کسی گروہ يا جماعت کے غلط اقدامات اُجا گر کرتے ہوئے ذاتيات کو بيچ ميں نہ آنے ديا جائے  ۔ کيونکہ اس سے بات کرنے يا لکھنے کا مقصد ہی فوت ہو جاتا ہے

  اشتعال انگيزی کے جواب ميں صبر سے کام ليا جا ئے ۔ ايسا رويّہ اشتعال انگيزی کرنے والے کو اپنے رويّے پر غور کرنے پر مجبور کرتا ہے

  کسی فرد کے بد زبانی کرنے پر خاموشی اختيار کی جائے ليکن اگر جواب دينا ضروری ہو تو تحمل اور شائستگی کے ساتھ جواب ديا جائے ۔ ايسا کرنا بد زبانی کرنے والے ميں بات سُننے کا رُحجان پيدا کرتا ہے

 *

میرا انگريزی کا بلاگ مندرجہ ذیل یو آر ایل پر کلِک کر کے يا اِسے اپنے براؤزر ميں لکھ کر پڑھيئے ۔

Hypocrisy Thy Name – – http://iabhopal.wordpress.com یہ منافقت نہیں ہے کیا ۔ ۔