طالبان اور پاکستان قسط 2 ۔ افغانوں کی تاریخ کا خاکہ

پہلی قسط يہاں کلک کر کے پڑھيئے

موجودہ افغانستان ۔ ایران اور ملحقہ علاقہ میں دین اسلام کا احیاء 652ء میں شروع ہوا اور بہت جلد چاروں طرف دین اسلام کی روشنی پھیل گئی ۔ 962ء سے 1140ء تک غزنوی مسلم ریاست قائم رہی جس دوران یہ علاقہ تہذیب کا مرکز اور اسلام کا قلعہ بنا (مشہور حُکمران محمود غزنوی کا دور نومبر 971ء سے اپریل 1030 تک تھا) ۔ 1130ء میں محمود غزنوی کی وفات کے بعد مرکز کمزور ہونا شروع ہوا اور 1140ء میں غوریوں نے غزنی پر قبضہ کر لیا ۔

افغانستان میں امریکا کی اکیسویں صدی کی سفّاکانہ غارت گری کی ماضی میں صرف ایک مثال ملتی ہے اور وہ تھی 1219ء اور 1221ء کے درمیان جب چنگیز خان نے اس علاقہ پر قبضہ کر کے قتلِ عام کیا ۔ املاک تباہ کیں اور ذرائع آبپاشی تباہ کر دیئے جس کے نتیجہ میں ذرخیز زمینیں بنجر ہو گئیں ۔

غوریوں کی چھِنی ہوئی حکومت 1332ء اور 1370ء کے درمیان دوبارہ اُن کے پاس رہی ۔ 1370ء سے 1404ء تک اس علاقہ پر تیمور لنگ نے حکومت کی ۔ 1451ء میں ایک افغان رہنما بہلول نے ہندوستان میں دہلی پر قبضہ کر کے پورے علاقہ میں لودھی سلطنت کی بنیاد رکھی ۔ 1504ء اور 1519ء کے درمیان ایک مَوغُل بابر نے اس علاقہ میں مَوغُل سلطنت کی بنیاد رکھی ۔ خیال رہے کہ منگول کو عربی میں مَوغُل کہا جاتا ہے اور ہند و پاکستان میں مُغل ۔ 1520ء اور 1579ء کے درمیان ایک منفرد افغانی بایزید روشن نے افغانوں کو اُبھارا اور مَوغُل حکومت کے خلاف بغاوت ہوئی وہ لڑائی کے دوران 1579ء میں مارا گیا لیکن افغانوں کی مَوغُل حکمرانوں کے خلاف جدوجہد جاری رہی ۔ 1613ء اور 1689ء کے دوران خوشحال خان خٹک نے جو کہ ایک اچھا شاعر اور سالار بھی تھا افغانوں کو غیرمُلکی قبضہ کے خلاف منظم کیا ۔

اسی دوران 1622ء میں فارسیوں نے کچھ افغان علاقوں پر قبضہ کر لیا تھا ۔ 1708ء میں افغان آزادی کے علمبردار میر واعظ جس کا انتقال 1715ء میں ہوا نے قندھار آزاد کروا لیا ۔ میر واعظ کے بیٹے میر محمود نے 1722ء میں فارس کا علاقہ اصفہان فتح کر کے افغان سلطنت میں شامل کر لیا ۔ اسی دوران دُرانیوں نے ہرات پر فارسیوں کا قبضہ ختم کروا لیا ۔ 1725ء میں میر محمود پُراسرار طور پر قتل ہو گیا اور افغان سلطنت پھر کمزور ہونے لگی ۔ 1736ء سے 1738ء تک فارس کے بادشاہ نادر شاہ نے جنوب مشرقی فارس ۔ جنوب مغربی افغانستان اور قندھار پر قبضہ کر لیا ۔ 1747ء میں نادر شاہ قتل ہوا اور افغان احمد شاہ ابدالی کی سربراہی میں ایک بار پھر اُبھرنا شروع ہوئے اور جدید افغانستان کی بنیاد رکھی اور 1750ء تک افغان سلطنت پھر وسط ایشیا سے دہلی تک اور کشمیر کے بلند پہاڑوں سے بحیرہ عرب تک پھیل گئی ۔ یہ اس علاقہ کی سب سے بڑی مسلم ریاست تھی جو 1834ء تک قائم رہی ۔

مئی 1834ء میں پشاور پر سِکھوں نے قبضہ کر لیا ۔ بعد میں اکبر خان کی سرکردگی میں افغانوں کی جمرود کے قریب سکھوں سے جنگ ہوئی اور مشہور سکھ سالار ہری سنگھ نالوہ مارا گیا اس وقت پشاور سے سکھوں کو نکال دیا جاتا اگر ایک افغان سالار دوست محمد خان سالارِ اعلٰی اکبر خان کی ہدایات پر قائم رہتا ۔ 1836ء میں دوست محمد خان کو امیر کا نام دے کر حکمران بنا دیا گیا اور وہ افغانستان کے تمام علاقوں کو متحد کرنے میں کوشاں ہو گیا ۔ اُسے مختلف قبائل کو اکٹھا کرنے میں کامیابی ہو رہی تھی کہ 1839ء میں انگریزوں نے ایک سابق بادشاہ شاہ شجاع کو ساتھ ملا کر افغانستان پر حملہ کر دیا ۔ دوست محمد نے مقابلہ کیا مگر ابھی پوری طرح منظم نہ ہونے کی وجہ سے پسپائی اختیار کرنا پڑی ۔ دوست محمد کو ہندوستان کی طرف مُلک بدر کر دیا گیا اور شاہ شجاع کو انگریزوں نے اپنا کٹھ پُتلی بادشاہ [موجودہ حامد کرزئی کی طرح] بنا دیا ۔

جنوری 1842ء میں افغانوں نے شاہ شجاع کو ہلاک کر کے انگریزوں کے خلاف اپنی جدوجہد تیز کر دی ۔ اکبر خان نے ایک بار پھر سالارِ اعلٰی کا کردار ادا کرتے ہوئے افغان لشکر کی مدد سے 16500 افراد پر مشتمل انگریزوں کی پُوری فوج کا صفایا کر دیا جن میں سے صرف ایک فوجی زندہ بچا ۔ اس انگریز فوج میں ہندوستان سے بھرتی کئے ہوئے فوجی بھی شامل تھے ۔ افغان پھر خودمُختار ہو گئے ۔ 1843ء میں امیر دوست محمد خان نے واپس آ کر عنانِ حکومت سنبھال لیا ۔ 1845ء میں افغانوں کے قابلِ تعریف سالار اکبر خان کا انتقال ہوا ۔ انگریزوں نے نئی چال چلی اور 1859ء میں بلوچستان پر قبضہ کر کے افغانون کو زمین میں محدود کر دیا ۔

دوست محمد خان کی وفات کے بعد 1865ء میں روس نے سمرقند ۔ بُخارا اور تاشقند پر قبضہ کر لیا اور اس کے بعد 1873ء میں بقایا افغانستان کی سرحدوں کے احترام کا وعدہ کیا ۔ انگریزوں نے 1878ء میں دوبارہ افغانستان پر بڑے پیمانے پر حملہ کیا جس کا افغانوں نے ڈٹ کر مقابلہ کیا مگر وسائل کی کمی کے باعث 1879ء میں کُرم ۔ خیبر ۔ مشنی ۔ پشین اور سِبی انگریزوں کے قبضہ میں آ گئے ۔ 1880ء میں جب افغان مرد سالار جنگ میں مارے جا چکے تو ایک افغان خاتون ملالائی نے افغانوں کا پرچم تھاما اور انگریزوں کا نہائت دلیری سے مقابلہ کیا ۔ 1885ء میں روس نے اپنے وعدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پنج دہ پر قبضہ کر لیا ۔ 1893ء تک انگریزوں کی حکومت ہندوستان میں پاؤں جما چکی تھی سو اُنہوں نے اپنی مرضی سے ڈیورینڈ لائین بنا کر اسے افغانستان اور ہندوستان کی سرحد قرار دیا ۔ یہ ڈیورینڈ لائین اب پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحد ہے جسے اس کے ارد گرد رہنے والے نہیں مانتے ۔ 1921ء میں انگریزوں نے تیسری بار افغانستان پر بھرپور حملہ کیا اور افغانوں سے شکست کھائی ۔

حبیب اللہ کلاکانی عُرف بچہ سقہ کا دور افغانستان میں 1929ء میں آیا ۔ اس کے بعد نادر خان نے حکومت پر قبضہ کر لیا اور اس کے ساتھیوں نے خوب لُوٹ مار کی ۔ 1933ء میں ایک طالبعلم نے نادر خان کو ہلاک کر دیا اور اُس کا بیٹا ظاہر شاہ تخت پر بیٹھا ۔ 1953ء میں محمد داؤد خان وزیرِ اعظم بنا لیکن 1963ء یا 1964ء میں ظاہر شاہ نے اُسے ہٹا کر ڈاکٹر محمد یوسف کو وزیرِ اعظم بنا دیا ۔

طالبان اور پاکستان ۔ پیش لفظ

مجھے 23 جون 2008ء کو محمد سعد صاحب کا مندرجہ ذیل برقیہ ملا
میں افغانستان اور طالبان کے ماضی ۔ ان کی خوبیوں اور خامیوں کے بارے میں جاننا چاہتا ہوں ۔ اس کے علاوہ یہ بھی جاننا چاہتا ہوں کہ آج کل طالبان پر جو الزامات لگائے جاتے ہیں وہ کہاں تک درست ہیں ۔ اور اگر درست نہیں تو ان کی حقیقت کیا ہے ۔ کیا آپ میری کچھ رہنمائی کر سکیں گے؟ اگر اس سلسلے میں بلاگ پر ایک تحریر ہو سکے تو اور بھی اچھا ہے کہ کئی دوسرے لوگ بھی پڑھ لیں گے ۔ آپ کو تنگ کرنے کی ضرورت اس لئے محسوس کی کہ میں نے سوچا کہ آپ کو ایسی بہت سی باتیں معلوم یا یاد ہونگی جو آج کل مغربی میڈیا کی مہربانیوں سے پسِ منظر چلی گئی ہیں ۔ امید ہے کہ آپ برا نہیں مانیں گے

محمد سعد صاحب کا شکر گزار ہوں کہ اُنہوں نے مجھے اس قابل سمجھا گو مطالبہ ایک کتاب لکھنے کا کر دیا گیا ۔ میں انتہائی اختصار کے ساتھ صرف اُن لوگوں کے پسِ منظر اور کردار کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کروں گا جن کو طالبان کا نام دیا گیا ہے ۔ لیکن پھر بھی ایک نشست میں سب لکھنا نہ صرف میرے لئے مشکل ہو گا کیونکہ ذاتی مجبوری کے تحت میں زیادہ دیر بیٹھ نہیں سکتا بلکہ قارئین پر بھی اسے یکمُشت پڑھنا گراں گذرنے کا اندیشہ ہے ۔

کسی زمانہ میں موجودہ پورا افغانستان ۔ ایران کا جنوبی حصہ پاکستا ن کا صوبہ سرحد ۔ ریاست جموں کشمیر مع شمالی علاقہ جات اور پورا پنجاب دہلی سمیت ایک مسلم سلطنت ہوا کرتی تھی لیکن مسلسل غیرملکی سازشوں اور اندرونی ناچاقی نے اس عظیم سلطنت کا شیرازہ بکھیر دیا

دیگر جنوب مشرقی افغانستان اور شمال مغربی پاکستان میں رہنے والے لوگوں کی تاریخ ایک مسلسل جدوجہد کی داستان ہے ۔ ان لوگوں نے کبھی جبر کی حکمرانی کو نہیں مانا ۔ وسائل کم ہونے کی وجہ سے یہ لوگ مالدار نہیں ہوتے لیکن بڑے دل کے مالک ہوتے ہیں ۔ زرک خان اور اِیپی فقیر اسی علاقہ میں پیدا ہوئے جنہوں نے انگریزوں کو سالہا سال تگنی کا ناچ نچائے رکھا اور ان دونوں کو ان کی انسان دوست عادت سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے دھوکہ دہی سے گرفتار کیا گیا ۔

فی زمانہ بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ ہندوستان میں قدیم زمانہ سے جس پودے کی کاشت انسانی صحت کیلئے مفید بیج خشخاش یا خشخش حاصل کرنے کیلئے کی جاتی تھی ۔ انگریز سائنسدانوں نے اس پودے سے نشہ آور جنس افیون بنانے کی ترکیب ایجاد کی جس کے متعلق میں 13 دسمبر 2005ء کو لکھ چکا ہوں جس کا مختصر خُلاصہ یہ ہے :
”اٹھارہویں صدی میں سبز چائے نے انگریزوں کے بنیادی مشروب ایل یا آلے کی جگہ لے لی ۔ انیسویں صدی کے شروع تک سالانہ 15000 مِٹرک ٹن چائے چین سے انگلستان درآمد ہونا شروع ہو چکی تھی ۔ انگریز حکمرانوں کو خیال آیا کہ چین تو ہم سے بہت کم چیزیں خریدتا ہے جس کی وجہ سے ہمیں نقصان ہو رہا ہے ۔ انہوں نے افیون دریافت کی اور چینیوں کو افیون کی عادت ڈالی جو کہ چائے کے مقابلہ میں بہت مہنگی بھی تھی ۔ پوست کی کاشت چونکہ ہندوستان میں ہوتی تھی اس لئے ہندوستان ہی میں افیون کی تیاری شروع کی گئی ۔ یہ سازش کامیاب ہو گئی ۔ اس طرح انگریزوں نے اپنے نقصان کو فائدہ میں بدل دیا ۔ انگریزوں کی اس چال کے باعث چینی قوم افیمچی بن گئی اور تباہی کے قریب پہنچ گئی“ ۔

بیسویں صدی میں پوست کے اسی پودے سے یورپی سائنسدانوں نے ہیروئین بنائی اور اس کے کارخانے افغانستان کے دشوار گذار پہاڑی علاقوں میں لگائے ۔ اِن کارخانوں کی معمل [laboratories] یورپی ممالک سے بن کر آئی تھیں ۔ یہ کاروائی دراصل اس علاقے کے صحتمند لوگوں کے خلاف ایک سازش تھی جس طرح کہ چینیوں کے خلاف سازش کی گئی تھی لیکن اللہ کا کرنا کیا ہوا کہ خطرناک نشہ آور مادہ کی مقامی منڈی میں کوئی خاص مانگ نہ ہوئی اور اس کی ترسیل یورپ اور امریکہ کی طرف ہونے لگی ۔ جب امریکہ کو اس خطرہ کا احساس ہوا تو اُنہوں نے پوست کی کاشت پر بین الاقوامی طور پر پابندی لگانے کی مہم شروع کر دی ۔ جس کے نتیجہ میں اس علاقہ کے لوگ ایک سستے اور آسان نُسخہِ صحت خشخاش سے محروم ہو گئے ۔ لیکن اس حقیقت کو فراموش نہیں کیا جا سکتا کہ جب افغانستان پر مُلا عمر کا حُکم چلتا تھا تو ہیروئین کی افغانستان میں پیداوار صفر ہو گئی تھی اور اب جبکہ وہاں امریکا کا حُکم چلتا ہے دنیا میں ہیروئین کی کُل پیداواری مقدار کا 70 فیصد سے زائد افغانستان میں تیار ہو رہی ہے ۔

ایسا کیوں ؟

عیسائی راہبہ [Nun] سوائے چہرے کے اپنا سارا جسم کپڑوں میں ڈھانپ کر رکھے تو وہ قابلِ احترام ہے کیونکہ وہ پُجاری ہے
اگر کوئی مسلمان عورت اپنے دین کی پیروی میں اپنے جسم کو کپڑوں سے ڈھانپے تو اُسے مظلوم گردانا جاتا ہے

جب یہودی داڑھی رکھے تو یہ اُس کا مذہبی فریضہ کہا جاتا ہے
مسلمان داڑھی رکھے تو اُسے انتہاء پسند کہا جاتا ہے

اگر عیسائی یا یہودی عورت بچوں اور دوسرے گھریلو کاموں کی دیکھ بھال کیلئے گھر پر رہے تو کہا جاتا ہے کہ وہ اپنے گھر کو بنانے کیلئے قربانی دے رہی ہے
جب مسلمان عورت اسی مقصد کیلئے گھر پر رہے تو اُسے قید سے آزاد کرانے کی اشتہار بازی کی جاتی ہے

اگر عیسائی یا یہودی کسی کو قتل کر دے تو یہ اس کا ذاتی معاملہ ہوتا ہے اور اس کا عیسائیت یا یہودیت سے کوئی تعلق نہیں ہوتا
اگر مسلمان کے ہاتھوں قتل ہو جائے تو موردِ الزام اس کا دین اسلام ٹھہرایا جاتا ہے

وجودِ زَن سے

یہ دَور اشتہار بازی کا ہے جسے انگریزی میں پروپیگنڈہ کہتے ہیں اور اس کا جدید نام کسی حد تک انفارمیشن ٹیکنالوجی بھی ہو سکتا ہے ۔ تاریخ کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ تین صدیاں قبل اشتہاربازی کی بجائے لوگ یا قومیں اپنے ہُنر یا طاقت سے اپنا سِکہ منواتے تھیں ۔ یورپ میں جب یہ خیال اُبھرا کہ صرف حقائق کے سہارے دوسروں کو متأثر کرنا اُن کے بس کا روگ نہیں رہا تو آزادیِ نسواں کے ساتھ ساتھ اشتہار بازی کی صنعت معرضِ وجود میں لائی گئی ۔ اشتہاربازی کا بنیادی اصول حقائق کی وضاحت کی بجائے یہ رکھا گیا کہ اتنا جھوٹ بولو اور اتنی بار بولو کہ کوئی اس کا دس فیصد بھی درست مان لے تو بھی فائدہ ہی ہو ۔

موجودہ دور کی اشتہاربازی نے ٹی وی کی مدد سے اپنے گھروں میں بیٹھے لوگوں کے ذہنوں کو اپنا غلام بنا لیا ہے ۔ نتیجہ صرف یہی نہیں کہ ایک روپے کی چیز 5 یا 10 روپے میں بِک رہی ہے اور لوگ دھڑا دھڑ خرید رہے ہیں بلکہ بقول ایک مدبّر سربراہِ خاندان ۔ اُنہیں خالص دودھ میسّر ہے لیکن اس کے بچے کہتے ہیں کہ یہ دودھ مزیدار نہیں اور ٹی وی پر سب سے زیادہ اشتہار میں آنے والے ناقص دودھ کو پینے کا مطالبہ کرتے ہیں اور وہ اپنے آپ کو مجبور پاتا ہے

آمدن برسرِ موضوع ۔ مجھ سے پچھلی نسل کے کسی شاعر نے آدھی صدی سے زیادہ ماضی میں نجانے کس ترنگ میں آ کر کہا تھا

وجودِ زن سے ہے کائنات میں رنگ

کسی اور نے کچھ سمجھا یا نہیں سمجھا ۔ ہمارے وطن میں اشتہار بنانے والوں نے اسے خُوب سمجھا اور اشتہاروں میں عورت کی شکل نظر آنے لگی ۔ جب عورت کا رنگ اخباروں میں بھرا جا چکا تو ٹی وی نے جنم لے لیا ۔ پھر کیا تھا ۔ نہ صرف عورت کی شکل بلکہ اس کے جسم کی دل لُوٹ لینے والی حرکات کا بھی رنگ بھرنا شروع ہوا ۔

وقت کے ساتھ ساتھ اشتہاری عورت ۔ معاف کیجئے گا ۔ اشتہار میں آنے والی عورت کا لباس اُس کے جسم کے ساتھ چِپکنے لگا ۔ پھر لباس نے اختصار اختیار کیا اور عورت کے جسم کا رنگ ناظرین کی آنکھوں میں بھرا جانے لگا ۔ ٹی وی سکرین سے عورت کا رنگ بڑے شہروں سے ہوتا ہوا قصبوں اور دیہات میں پہنچنے لگا ۔

پچھلے سات آٹھ سال میں حکومتی سطح پر روشن خیال ترقی قوم کی منزلِ مقصود ٹھہرا کر پُورے زور شور سے مادر پِدر آزاد معاشرہ قائم کرنے کی دوڑ لگا دی گئی ۔ کائنات میں عورت کا رنگ بھرنے کیلئے نِت نئے ڈھنگ نکالے گئے ہیں ۔ عورت اور مرد کا اکٹھے جذبات کو اُبھارنے والے ناچ ناچنا ۔ ایک دوسرے کے ساتھ چھیڑخانی کرنا ۔ اور پھر اس سے بھی اگلی منزل شروع ہوئی کہ مرد کا عورت کو اُٹھا کر ہوا میں لہرانا یا گلے لگانا بھی کائنات میں رنگ بھرنے کا ایک طریقہ قرار پا گیا ۔

بیچاری عورت کھیل تماشہ تو بن گئی مگر اللہ سُبحانُہُ و تعالٰی کی مقرر کردہ تحریم تو ایک طرف اپنی جو عفّت تھی وہ بھی کھو بیٹھی ۔

ہم اپنے آپ کو مسلمان سمجھتے ہیں ۔ اللہ ہمیں مسلمان بننے کی توفیق عطا فرمائے ۔ شیطان کی یلغار سے بچائے اور سیدھی راہ پر چلائے ۔ آمین ۔

پردہ سِرکنا شروع

انسان کو جب کسی وجہ سے اللہ تعالٰی اقتدار دے دیتا ہے تو بہت سے ایسے ہیں جو خود کو ہی خدا سمجھنے لگتے ہیں ۔ موجودہ دور میں اِن میں سے ایک امریکہ کا صدر بُش ہے اور وطنِ عزیز میں پرویز مشرف جو بُش کا غلام بن کر اپنے آپ کو پاکستان کا خدا سمجھ بیٹھا ہے ۔ لیکن مشِیّت ایک ایسی چیز ہے جو بالآخر حقائق سے پردہ اُٹھا دیتی ہے ۔

لگتا ہے کہ ایسا ہی عمل پرویز مشرف کے سلسلہ میں شروع ہو جکا ہے ۔ کچھ دن قبل وطنِ عزیز کے مایہ ناز سائنسدان انجنئر ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے پردہ تھوڑا سا سرکایا تھا کہ پرویز مشرف نے ان پر سے پابندیاں اُٹھانے کا وعدہ کیا تھا لیکن پورہ نہیں کیا ۔ ساتھ ہی اُن کے دیرینہ دوست نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان پر پابندیوں کے خلاف دعوٰی دائر کردیا جس کی سماعت شروع ہو چکی ہے ۔ اب بات مزید کچھ آگے بڑھی ہے

ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے بتایا کہ اُن کا پی ٹی وی پر اعتراف خوف سے نہیں بلکہ ملکی مفاد میں تھا کیونکہ ان سے کہا گیا تھا کہ ملک پر بمباری کر دی جائے گی اگر آپ نے یہ جرم اپنے سر نہ لیا۔

انہوں نے کہا کہ دوسرا آدمی جھوٹ پر جھوٹ بول رہا ہے اسلئے اب وقت ہے کہ حقائق عوام کے سامنے لائے جائیں ۔ اُنہوں نے واضح کیا اُن کی رپورٹ حمود الرحمان رپورٹ کی طرح چھُپی نہیں رہے گی بلکہ قوم حقیقت جان جائے گی کیونکہ انہوں نے سب کچھ اپنے بیوی بچوں کو بتادیا ہے

ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے مطابق صدر مشرف وہی کچھ کر رہے ہیں جو امریکا چاہ رہا ہے ۔ امریکا کا منصوبہ ہے کہ 2015 تک پاکستان کو تقسیم کر دیا جائے ۔

ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے یہ بھی کہا کہ آئی اے ای اے عالمی ادارہ نہیں بلکہ امریکا اور یہودیوں کا مشترکہ ادارہ ہے ۔

اس سوال کے جواب میں کہ آپ کی جان کو خطرہ ہے ؟ ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے کہا کہ زندگی موت اللہ کے ہاتھ میں ہے ۔ میرا اس پر ایمان ہے کہ جو رات قبر میں آنا ہے وہ باہر نہیں ہو سکتی ۔ مجھے موت سے ڈر نہیں لگتا ۔

کی موجودگی میں بڑے پیمانے پر جو اسلحہ خریدا جا رہا ہے اس کے بارے میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے کہا کہ اس اسلحے کی ایٹمی اسلحے کے سامنے کچھ نہیں ۔ لوگ صرف کمیشن کمانے کے لئے یہ اسلحہ خرید رہے ہیں۔

وقتِ دعا

آج پی سی او ججوں نے نواز شریف کو الیکشن کیلئے نا اہل قرار دے دیا ۔

یہ فیصلہ نواز شریف کے سپورٹروں کیلئے تو بُراہے ہی لیکن اس سے بڑھ کر پورے ملک کیلئے بُرا ہے کیونکہ اس وقت نواز شریف کی جماعت قومی سطح دوسری سب سے بڑی جماعت ہے اور اس جماعت کے ساتھ تمام وکلاء ۔ سِول سوسائٹی ۔ تحریکِ انصاف اور جماعتِ اسلامی ملک میں انصاف قائم کرنے کی تحریک جاری رکھے ہوئے ہیں ۔

ان باقی گروہوں کی آواز اسمبلی میں اُٹھانے والی جماعت مسلم لیگ نواز ہی ہے اور اعلٰی ترین سیاسی سطح پر انصاف کا مقدمہ نواز شریف ہی لڑ رہا ہے ۔ چنانچہ ظاہر ہے کہ اس فیصلہ کا جھٹکا ان سب گروہوں کو لگے گا ۔

اگر یہ سب گروہ سڑکوں پر نکل آئے تو پھر [خاکم بدہن] ہمارے ملک کا بہت نقصان ہو سکتا ہے ۔ اس لئے دعا ہے کہ اللہ سُبحانُہُ و تعالٰی اس مسئلہ کو بخیر و خوبی سُلجھا دے ۔

ایک بات جو اس فیصلہ سے کھُل کر سامنے آ گئی ہے یہ ہے کہ پی سی او کا حلف اُٹھانے والے جج قابلِ اعتبار نہیں ہیں ۔

حِکمت

کبھی کبھی ایسا ہوتا ہے کہ درست آدمی یا راستہ کی تلاش میں ہمارا واسطہ غلط قسم کے آدمی سے پڑ جاتا ہے ۔

شاید یہ اس لئے ہوتا ہے کہ جب ہم درست آدمی سے ملیں یا صحیح راستہ کو پا لیں تو ہم اس کی قدر و منزلت کو پہچان سکیں
اور یہ نعمت عطا کرنے والے کا صحیح طور شکر ادا کریں