نبوت کا معاملہ ایک بڑا ہی نازک معاملہ ہے ۔ قرآن مجید کی رُو سے یہ اسلام کے ان بنیادی عقائد میں سے ہے جن کے ماننے یا نہ ماننے پر آدمی کے کفر و ایمان کا انحصار ہے
سورت 2 البقرۃ آیت 285 ۔ اٰمَنَ الرَّسُوْلُ بِمَآ اُنْزِلَ اِلَيْهِ مِنْ رَّبِّهٖ وَالْمُؤْمِنُوْنَ ۭ كُلٌّ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَمَلٰۗىِٕكَتِهٖ وَكُتُبِهٖ وَرُسُلِهٖ ۣلَا نُفَرِّقُ بَيْنَ اَحَدٍ مِّنْ رُّسُلِهٖ ۣ وَقَالُوْا سَمِعْنَا وَاَطَعْنَا ڭ غُفْرَانَكَ رَبَّنَا وَاِلَيْكَ الْمَصِيْرُ
ترجمہ ۔ رسول ﷺ اس ہدایت پر ایمان لایا ہے جو اس کے رب کی طرف سے اس پر نازل ہوئی ہے اور جو لوگ اس رسول ﷺ کے ماننے والے ہیں انہوں نے بھی اس ہدایت کو دل سے تسلیم کر لیا ہے ۔ یہ سب اللہ اور اس کے فرشتوں اور اس کی کتابوں اور اس کے رسولوں کو مانتے ہیں اور ان کا قول یہ ہے کہ ”ہم اللہ کے رسولوں کو ایک دوسرے سے الگ نہیں کرتے ، ہم نے حُکم سنا اور اطاعت قبول کی ۔ مالک ۔ ہم تُجھ سے خطا بخشی کے طالب ہیں اور ہمیں تیری ہی طرف پلٹنا ہے“۔
ایک شخص نبی ہو اور آدمی اس کو نہ مانے تو کافر اور وہ نبی نہ ہو اور آدمی اس کو مان لے تو کافر ۔ ایسے نازک معاملے میں تو الله تعالیٰ سے کسی بے احتیاطی کی بدرجۂ اولیٰ توقع نہیں کی جا سکتی ۔ اگر محمد صلی الله علیہ و سلم کے بعد کوئی نبی آنے والا ہوتا تو الله تعالیٰ خود قرآن میں صاف صاف اس کی تصریح فرماتا ، رسول الله صلی الله علیہ و سلم کے ذریعہ سے اس کا کھُلا کھُلا اعلان کراتا اور حضور دنیا سے کبھی تشریف نہ لے جاتے جب تک اپنی اُمت کو اچھی طرح خبردار نہ کر دیتے کہ میرے بعد بھی انبیاء آئیں گے اور تمہیں ان کو ماننا ہو گا ۔ آخر الله اور اس کے رسول ﷺ کو ہمارے دین و ایمان سے کیا دُشمنی تھی کہ حضورﷺ کے بعد نبوت کا دروازہ تو کھُلا ہوتا اور کوئی نبی آنے والا بھی ہوتا جس پر ایمان لائے بغیر ہم مسلمان نہ ہو سکتے مگر ہم کو نہ صرف یہ کہ اس سے بے خبر رکھا جاتا بلکہ اس کے برعکس الله اور اس کا رسول دونوں ایسی باتیں فرما دیتے جن سے تیرہ سو برس تک ساری اُمت یہی سمجھتی رہی اور آج بھی سمجھ رہی ہے کہ حضورﷺ کے بعد کوئی نبی آنے والا نہیں ہے
اب اگر بفرضِ محال نبوت کا دروازہ کھُلا بھی ہو اور کوئی نبی آ بھی جائے تو ہم بے خوف و خطر اس کا انکار کر دیں گے ۔ خطرہ ہو سکتا ہے تو الله تعالیٰ کی باز پُرس ہی کا تو ہو سکتا ہے ۔ وہ قیامت کے روز ہم سے پوچھے گا تو ہم یہ سارا ریکارڈ برسر عدالت لا کر رکھ دیں گے جس سے ثابت ہو جائے گا کہ معاذ الله اس کُفر کے خطرے میں تو الله کی کتاب اور اس کے رسول کی سُنّت ہی نے ہمیں ڈالا تھا ۔ ہمیں قطعاً کوئی اندیشہ نہیں ہے کہ ریکارڈ کو دیکھ کر بھی الله تعالیٰ ہمیں کسی نئے نبی پر ایمان نہ لانے کی سزا دے ڈالے گا لیکن اگر نبوت کا دروازہ فی الواقع بند ہے اور کوئی نبی آنے والا نہیں ہے اور اس کے باوجود کوئی شخص کسی مُدعی کی نبوت پر ایمان لاتا ہے تو اسے سوچ لینا چاہیئے کہ اس کفر کی پاداش سے بچنے کے لئے وہ کون سا ریکارڈ الله کی عدالت میں پیش کر سکتا ہے جس سے وہ رہائی کی توقع رکھتا ہو ۔ عدالت میں پیش ہونے سے پہلے اسے اپنی صفائی کے مواد کا یہیں جائزہ لے لینا چاہیئے اور ہمارے پیش کردہ مواد سے مقابلہ کر کے خود ہی دیکھ لینا چاہیئے کہ جس صفائی کے بھروسے پر وہ یہ کام کر رہا ہے کیا ایک عقلمند آدمی اس پر اعتماد کر کے کفر کی سزا کا خطرہ مول لے سکتا ہے ؟
Category Archives: معاشرہ
ختمِ نبوّت ۔ رسول الله کی حدیث
سیّدنا محمد صلی الله علیہ وسلّم نے فرمایا کہ ”لا نبی بعدی“ (میرے بعد کوئی نبی نہیں) ۔ یہ الفاظ آنحضرت صلی الله علیہ وسلّم سے حضرت ابو ھریرہ رضی الله عنہ نے صحیح بخاری حدیث نمبر 3455 ، صحیح مسلم حدیث نمبر 1842 میں ، حضرت سعد بن ابی وقاص رضی الله عنہ نے صحیح مسلم حدیث نمبر 2404 میں اور حضرت ثوبان بن بجداد رضی الله عنہ نے سنن ترمذی حدیث نمبر 2219 ، سنن ابی داؤد حدیث نمبر 4252 اور مستدرک حاکم میں حدیث نمبر 8390 میں صحیح اسناد کے ساتھہ بیان کی
جیسا کہ میں 8 ستمبر 2017ء کو بیان کر چکا ہوں سورت 53 النّجم میں الله تعالٰی نے فرمایا کہ سیّدنا محمد صلی الله علیہ وسلّم اپنی طرف سے کچھ نہیں کہتے تو پھر ہمیں اُن کے فرمان کو ماننا ہو گا
ختمِ نبوّت ۔ صحابۂ کرام کا اِجماع
قرآن و سنت کے بعد تیسرے درجے میں صحابۂ کرام کے اجماع کی ہے ۔ یہ بات تمام معتبر تاریخی روایات سے ثابت ہے کہ نبی صلی الله علیہ و سلم کی وفات کے فوراً بعد جن لوگوں نے نبوت کا دعویٰ کیا اور جن لوگوں نے ان کی نبوت تسلیم کی، اُن سب کے خلاف صحابۂ کرام نے بالاتفاق جنگ کی تھی
اس سلسلے میں خصوصیّت کے ساتھ مُسَیلمۂ کذّاب کا معاملہ قابلِ ذکر ہے ۔ یہ شخص نبی صلی الله علیہ و سلّم کی نبوت کا منکر نہ تھا بلکہ اس کا دعویٰ یہ تھا کہ اُسے حضورؐ کے ساتھ شریکِ نبوت بنایا گیا ہے ۔ اُس نے حضورؐ کی وفات سے پہلے جو عریضہ آپؐ کو لکھا تھا اس کے الفاظ یہ ہیں
من مُسَیْلمۃ رسول الله الیٰ محمدٍ رسول الله سلام علیک فانی اُشرِکتُ فی الامر معک(طَبَری، جلد دوم، ص ۳۹۹، طبع مصر)
مُسَیلمہ رسول اللہ کی طرف سے محمد رسول الله کی طرف ۔ آپ پر سلام ہو ۔ آپ کو معلوم ہو کہ میں آپ کے ساتھ نبوت کے کام میں شریک کیا گیا ہوں
علاوہ بریں مؤرخ طَبری نے یہ روایت بھی بیان کی ہے کہ مُسَیلمہ کے ہاں جو اذاں دی جاتی تھی اس میں اشھدانّ محمّداً رسول الله کے الفاظ
بھی کہے جاتے تھے ۔ اس صریح اقرارِ رسالتِ محمدؐی کے باوجود اسے کافر اور خارج ا ز مِلت قرار دیا گیا اور اس سے جنگ کی گئی ۔ تاریخ سے یہ بھی ثابت ہے کہ بنو حنِیفیہ نیک نیتی کے ساتھ اُس پر ایمان لائے تھے اور انہیں واقعی اس غلط فہمی میں ڈالا گیا تھا کہ محمد رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے اسے خود شریکِ رسالت کیا ہے ۔ نیز قرآن کی آیات کو اُن کے سامنے مُسِیلمہ پر نازل شدہ آیات کی حیثیت سے ایک ایسے شخص نے پیش کیا تھا جو مدینۂ طیّبہ سے قرآن کی تعلیم حاصل کر کے گیا تھا (البِدایۂ و النِّہایہَ لابن کثیر، جلد ۵، ص۵۱)۔
مگر اس کے باوجود صحابۂ کرام نے ان کو مسلمان تسلیم نہیں کیا اور ان پر فوج کشی کی۔ پھر یہ کہنے کی بھی گنجائش نہیں کہ صحابہ نے ان کے خلاف ارتداد کی بنا پر نہیں بلکہ بغاوت کے جُرم میں جنگ کی تھی ۔ اسلامی قانون کی رُو سے باغی مسلمانوں کے خلاف اگر جنگ کی نوبت آئے تو ان کے اسیرانِ جنگ غلام نہیں بنائے جا سکتے بلکہ مسلمان تو درکنار، ذمّی بھی اگر باغی ہوں تو گرفتار ہونے کے بعد ان کو غلام بنانا جائز نہیں ہے لیکن مُسَیلمہ اور اس کے پیرووں پر جب چڑھائی کی گئی تو حضرت ابو بکر ؓ نے اعلان فرمایا کہ اُن کی عورتوں اور بچوں کو غلام بنایا جائے گا ۔ اور جب وہ لوگ اسیر ہوئے تو فی الواقع ان کو غلام بنایا گیا ۔ چنانچہ انہی میں سے ایک لونڈی حضرت علیؓ کے حصّے میں آئی جس کے بطن سے تاریخ اسلام کی مشہور شخصیّت محمد بن حَنَفیہ(حنفیہ سے مراد ہے قبیلۂ بنو حنیفہ کی عورت) نے جنم لیا (البِدایہ والنہایہ، جلد۶، ص ۳۱۶، ۳۲۵)۔
اس سے یہ بات بالکل واضح ہو جاتی ہے کہ صحابہؓ نے جس جُرم کی بنا پر ان سے جنگ کی تھی وہ بغاوت کا جرم نہ تھا بلکہ یہ جرم تھا کہ ایک شخص نے محمد صلی الله علیہ و سلّم کے بعد نبوت کا دعویٰ کیا اور دوسرے لوگ اس کی نبوت پر ایمان لائے ۔ یہ کارروائی حضورؐ کی وفات کے فوراً بعد ہوئی ہے، ابو بکرؓ کی قیادت میں ہوئی ہے، اور صحابہ کی پوری جماعت کے اتفاق سے ہوئی ہے ۔ اجماع صحابہ کی اس سے زیادہ صریح مثال شاید ہی کوئی اور ہو
تمام علمائے اُمّت کے اجماع کی تفصیل بھی وہاں درج ہے لیکن طوالت کے باعث اس سے استفادہ نہیں کیا ہے
قبولیت اور رَد کی اہمیت
کِسی چیز کو قبول (accept) یا رَد (reject) کرنے سے قبل اُس کے متعلق مستنَد معلومات حاصل کرنا ضروری ہے ۔ عصرِ حاضر میں یہ رسم پڑ چکی ہے کہ ہر چیز کو ذاتی پسند یا ناپسند کی بنیاد پر قبول یا رَد کیا جاتا ہے
اِن شاء الله آج سے میں اپنے ایک مطالعہ (جو 1953ء میں شروع ہو کر 1964ء میں مکمل ہوا) کا خلاصہ 8 اقساط میں پیش کرنے کی کوشش کروں گا ۔ واضح رہے کہ میری اِن تحاریر کی بنیاد قرآن شریف ۔ حدیث مباركه اور جیّد مفسّرین اور مفکّرین کی تحاریر ہیں
رَبِّ اشْرَحْ لِی صَدْرِی وَيَسِّرْ لِی أَمْرِی وَاحْلُلْ عُقْدة مِنْ لِسَانِی يَفْقَھُوا قَوْلِی
سورت 33 الاحزاب ۔ آیت 40 ہے ۔ مَا كَانَ مُحَـمَّـدٌ اَبَآ اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِكُمْ وَلٰكِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَ خَاتَمَ النَّـبِيّٖنَ ۭ وَكَانَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيْمًا۔
ترجمہ ۔ (لوگو) محمدﷺ تمہارے مَردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں ، مگر وہ اللہ کے رسول اور خاتم النبیین ہیں ، اور اللہ ہر چیز کا علم رکھنے والا ہے
جہاں تک سیاق و سباق کا تعلق ہے وہ قطعی طور پر اس امر کا تقاضا کرتا ہے کہ یہاں
“خَاتَمَ النَّـبِيّٖنَ”
کے معنی ”سلسلۂ نبوّت کو ختم کر دینے والے“ ہی کے لئے جائیں اور یہ سمجھا جائے کہ حضورؐ کے بعد کوئی نبی آنے والا نہیں ہے ۔ صرف سیاق و سباق ہی نہیں لُغت بھی اِسی معنی کی مقتاضی ہے
خَتَمَ الْعَمَل کے معنی ہیں فَرَغَ مِنَ الْعَمَلِ، ’’کام سے فارغ ہو گیا ‘‘
خَتَمَ الْاِنَا ءَ کے معنی ہیں ’’برتن کا منہ بند کر دیا اور اس پر مُہر لگا دی تاکہ نہ کوئی چیز اس میں سے نکلے اور نہ کچھ اس کے اندر داخل ہو‘‘
خَتَمَ الْکِتَابَ کے معنی ہیں ’’ خط بند کر کے اس پر مُہر لگا دی تاکہ خط محفوظ ہو جائے ‘‘
خَتَمَ عَلَی الْقَلْبِ، ’’ دِل پر مُہر لگا دی کہ نہ کوئی بات اس کی سمجھ میں آئے، نہ پہلے سے جمی ہوئی کوئی بات اس میں سے نِکل سکے ‘‘
خِتَا مُ کُلِّ مَشْرُوبٍ، ’’ وہ مزا جو کسی چیز کو پینے کے بعد آخر میں محسوس ہوتا ہے ‘‘
خَا تمۃُ کُلِّ شَیئئٍ عاقبتہ واٰخرتہ، ہر چیز کے خاتمہ سے مراد ہے اس کی عاقبت اور آخرت ‘‘
خَتَمَ الشَّیْء، بلغ اٰخرہ، ’’کسی چیز کو ختم کرنے کا مطلب ہے اس کے آخر تک پہنچ جانا ۔ اِسی معنی میں ختم قرآن بولتے ہیں اور اسی معنی میں سورتوں کی آخری آیات کو خواتیم کہا جاتا ہے
خَا تَمُ الْقَوْمِ، اٰخر ھم، خاتم القوم سے مراد ہے قبیلے کا آخری آدمی
(ملاحظہ ہو لسان العرب ۔ قاموس اور قرب الموارد)۔
عربی لُغت کی صرف 3 کتابوں کا حوالہ دیا گیا لیکن بات اِنہی 3 کتابوں پر مُنحصِر نہیں ہے ۔ عربی زبان کی کوئی معتبر لُغت اُٹھا کر دیکھ لی جائے ۔ اس میں لفظ ”خاتم“ کی یہی تشریح ملے گی ۔ کچھ لوگ عربی لُغت سے ہٹ کر تعریفی زبان میں استعمال ہونے والے القابات کا سہارا لیتے ہیں جیسے ”خاتم الشعراء یا خاتم الفقہاء یا خاتم المفسّرین“ اور استدلال پیش کرتے ہیں کہ اِس کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ اِس کے بعد کوئی شاعر یا فقیہ یا مفسّر پیدا نہیں ہوا بلکہ اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اس فن کے کمالات اُس شخص پر ختم ہو گئے ۔ قابلِ غور بات یہ ہے کہ ایسے القابات حقیقت نہیں ہوتے بلکہ مبالغے کے طور پر استعمال ہوتے ہیں
مزید کسی زبان میں یہ قاعدہ نہیں ہے کہ اگر کسی لفظ کو اس کے حقیقی معنی کے بجائے کبھی کبھار مجازاً کسی دوسرے معنی میں بولا جاتا ہو تو وہی معنی اس کے اصل معنی بن جائیں اور لغت کی رُو سے جو اس کے حقیقی معنی ہیں اُن میں اس کا استعمال ممنوع ہو جائے
کسی عرب کے سامنے کہا جائے ”جَاء خاتَم القوم“ تو وہ اس کا یہ مطلب ہر گز نہ لے گا کہ قبیلے کا فاضل و کامل آدمی آ گیا بلکہ اس کا مطلب وہ یہی لے گا کہ پورا قبیلہ آ گیا ہے حتیٰ کہ آخری آدمی جو رہ گیا تھا وہ بھی آ گیا
یہ بات بھی نگاہ میں رہنی چاہیئے کہ ”خاتم الشعراء ۔ خاتم الفقہاء اور خاتم المحدثین“ وغیرہ قسم کےالقابات جو بعض لوگوں کو دیئے گئے ان کے دینے والے انسان تھے اور انسان کبھی یہ نہیں جان سکتا کہ جس شخص کو وہ کسی صفت کے اعتبار سے خاتم کہہ رہا ہے اس کے بعد پھر کوئی اس صفت کا حامل پیدا نہیں ہو گا ۔ اسی وجہ سے انسانی کلام میں ان القابات کی حیثیت مبالغے اور اعترافِ کمال سے زیادہ کچھ ہو ہی نہیں سکتی
لیکن جب اللہ تعالیٰ کسی شخص کے متعلق یہ کہہ دے کہ فلاں صفت اُس پر ختم ہو گئی تو کوئی وجہ نہیں کہ ہم اسے بھی انسانی کلام کی طرح مجازی کلام سمجھ لیں ۔ اللہ نے اگر کسی کو خاتم الشعراء کہہ دیا ہوتا تو یقیناً اس کے بعد کوئی شاعر نہیں ہو سکتا تھا۔ اور اس نے جسے ”خَاتَمَ النَّـبِيّٖنَ“ کہہ دیا ۔ اس کے بعد کوئی نبی ہو نا ممکن نہیں ہے ۔ اس لئے کہ اللہ عالِم الغَیب ہے اور کوئی انسان عالِم الغَیب نہیں ہے ۔ اللہ کا کسی کو ”خَاتَمَ النَّـبِيّٖنَ“ کہنا اور انسانوں کا کسی کو ”خاتم الشعراء اور خاتم الفقہاء“ وغیرہ کہہ دینا ایک درجہ میں کیسے ہو سکتا ہے؟
اِس بنا پر تمام اہلِ لُغت اور اہلِ تَفِسیر نے بالاِتفاق ” خَاتَمَ النَّـبِيّٖنَ“ کے معنی ”آخر النَّـبِيّٖنَ“ کے لئے ہیں
خیال رہے کہ عربی لُغت و محاورے کی رُو سے خاتم کے معنیٰ ڈاک خانے کی مُہر کے نہیں ہیں جسے لگا لگا کر خطوط جاری کئے جاتے ہیں البتہ اس سے مُراد وہ مُہر ہو سکتی ہے جو لفافہ بند کر کے پر اس لئے لگائی جاتی ہے کہ نہ اس کے اندر سے کوئی چیز باہر نکلے نہ باہر کی کوئی چیز اندر جائے
ایک راستہ کُھلا رکھنا
امام احمد ؒ بن حَنبل کہتے ہیں
ایک بار راہ چلتے ہوئے میں نے دیکھا کہ ایک ڈاکو لوگوں کو لوٹ رہا ہے ۔ کچھ دِنوں بعد مجھے وہی شخص مسجد میں نماز پڑھتا نظر آیا ۔ میں اس کے پاس گیا اور اسے سمجھایا کہ تمہاری یہ کیا نماز ہے ۔ الله تعالٰی کے ساتھ معاملہ یُوں نہیں کیا جاتا کہ ایک طرف تم لوگوں کو لُوٹو اور دوسری طرف تمہاری نماز الله کو قبول ہو اور پسند آتی رہے
ڈاکو بولا ”امام صاحب ۔ میرے اور الله کے مابین تقریباً سب دروازے بند ہیں ۔ میں چاہتا ہوں کوئی ایک دروازہ میرے اور الله کے مابین کھُلا رہے
کچھ عرصہ بعد میں حج پر گیا ۔ طواف کے دوران دیکھتا ہوں کہ ایک شخص کعبہ کے غلاف سے چمٹ کر کھڑا کہتا جا رہا ہے
”میری توبہ ۔ مجھے معاف کردے ۔ میں اِس نافرمانی کی طرف کبھی پلَٹنے والا نہیں“۔
میں نے دیکھنا چاہا کہ اِس بےخودی کے عالم میں آہیں بھَر بھَر کر رونے والا کون خوش قسمت ہے ؟ کیا دیکھتا ہوں ۔ یہ وہی شخص ہے جسے میں نے بغداد میں ڈاکے ڈالتے دیکھا تھا ۔ تب میں نے دل میں کہا ”خوش قسمت تھا ۔ جس نے الله کی طرف جانے والے سب دروازے بند نہیں کر ڈالے ۔ الله مہربان تھا جس نے سبھی دروازے آخر کھول ڈالے
کیسے بھی بُرے حال میں ہوں ۔ کتنے ہی گُناہگار ہوں ۔ الله کے ساتھ اپنے سب دروازے بند مت کر لینا ۔ جِتنے دروازے کھُلے رکھ سکتے ہوں انہیں کھُلے رکھنے کےلئے شیطان کے مقابلے پر مسلسل زور مارتے رہنا اور کبھی ہار مت ماننا ۔ کوئی ایک بھی دروازہ کھُلا مِل گیا تو کچھ بعید نہیں کہ وہ سب دوروازے ہی کھُل جائیں جن کے بارے میں تُمہیں کبھی آس نہ تھی کہ الله کی جانب سفر میں ان سب خوبصورت راہوں سے تمہارا کبھی گزر ہو گا
سورۃ 39 الزُمر آیة 53 ۔ قُلْ يٰعِبَادِيَ الَّذِيْنَ اَسْرَفُوْا عَلٰٓي اَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوْا مِنْ رَّحْمَةِ اللّٰهِ ۭ اِنَّ اللّٰهَ يَغْفِرُ الذُّنُوْبَ جَمِيْعًا ۭ اِنَّهٗ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِيْمُ
(اے نبی ﷺ)کہہ دو کہ اے میرے بندو ، جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے الله کی رحمت سے مایوس نہ ہو جاؤ ، یقینا الله سارے گناہ معاف کر دیتا ہے وہ تو غفور، رحیم ہے
سچ ہے نماز بے حیائی اور بُرے کاموں سے روکتی ہے ۔ اِسی ایک دروازے کے کُھلنے سے اُس بندے کو الله نے بُرائی سے بچا کر قبول کر لیا
خیال رکھنا ۔ الله کی جانب کبھی پشت مت کرنا یعنی الله تعالٰی کو کسی معاملے میں بھُول مت جانا ۔ وہ ہر وقت تُمہیں دیکھتا اور سُنتا ہے
دُعا کی درخواست
محترم بہنو اور بھائیوں
السلام علیکم و رحمة الله و بركاته
آپ جانتے ہوں گے اگر نہیں تو تاریخ کا مطالعہ بتا سکتا ہے کہ جس سلطنت میں انصاف مِٹ جاتا ہے یا مذاق بن جاتا ہے وہاں ہر قسم کی برائیاں جنم لیتی ہیں ۔ اصلاح نہ کی جائے تو ایسی سلطنت اُلٹ دی جاتی ہیں ۔ بابل و نَینوا کا کیا ہوا ۔ بہت بڑی سلطنتِ فارس نابود ہو گئی ۔ قومِ لوط ہو یا قومِ نوح اُن کا نام و نشان باقی نہ رہا ۔ عبرت حاصل کرنے کیلئے فرعون اور نمرود کے صرف نام باقی رہ گئے
اصحابِ کہف کا ذکر آج بھی ہے لیکن جس قوم سے عاجز آ کر الله کے اُن نیک بندوں نے الله کی پناہ مانگی تھی ۔ اُس قوم کو کوئی نہیں جانتا
ہم سب دیکھ رہے ہیں کہ ہمارے ہاں حالات کس طرف جا رہے ہیں ۔ عام آدمی کیلئے انصاف کا حصول تو پہلے ہی مُشکل تھا ۔ اب وہ لوگ جو بڑے اثر و رسوخ والے سمجھے جاتے تھے انصاف کی دُہائی دے رہے ہیں ۔ ہمارے حالات دیکھ کر ہمارے دُشمن دلیر ہو چکے ہیں اور ہمیں مٹانے کے درپۓ ہیں
تمام ہموطن بہنوں اور بھائیوں سے درخواست ہے کہ الله کے حضور میں سر بسجود ہو کر دعاکریں ۔ میرے لئے ۔ اپنے لئے ۔ اپنی آنے والی نسلوں کے لئے یعنی وطنِ عزیز پاکستان کے لئے جو الله ہی نے ہمیں عطا فرمایا تھا اور وہی اِسے درُست رکھ سکتا ہے ۔ الله ہمیں شیطان کے نرغے میں سے نکال کر سیدھی راہ پر چلائے
دُعا کا مسنون طریقہ یہ ہے کہ پہلے عاجزی سے اپنی دانستہ یا نادانستہ غلطیوں کی معافی مانگیں پھر جو چاہیں مانگیں
آج کی حالت پر مجھے خواجہ الطاف حسین حالی صاحب کی یہ دعا یاد آ رہی ہے
اے خاصہءِ خاصانِ رُسلّ وقتِ دُعا ہے
اُمت پہ تیری آ کے عجب وقت پڑا ہے
جو تفرقے اقوام کے آیا تھا مٹانے
اس دین میں خود تفرقہ اب آ کے پڑا ہے
جس دین نے غیروں کے تھے دل آ کے ملائے
اس دین میں اب بھائی خود بھائی سے جُدا ہے
جس دین کی حُجت سے سب اَدیان تھے مغلُوب
اب معترض اس دین پہ ۔ ہر ہَرزہ سَرا ہے
چھوٹوں میں اطاعت نہ شفقت ہے بڑوں میں
پیاروں میں محبت ہے نہ یاروں میں وفا ہے
دولت ہے نہ عزت نہ فضیلت نہ ہنر ہے
اک دین ہے باقی سو وہ بے برگ و نوا ہے
گو قوم میں تیری نہیں اب کوئی بڑائی
پر نام تیری قوم کا یاں اب بھی بڑا ہے
ڈر ہے کہیں یہ نام بھی مِٹ جائے نہ آخر
مُدت سے اسے دورِ زماں میٹ رہا ہے
تدبیر سنبھلنے کی ہمارے نہیں کوئی
ہاں ایک دعا تری کہ مقبُول خدا ہے
مسجد اقصٰی اور قبة الصخراء
میں آج 2007ء کی تحریر دہرانے پر مجبور ہوا ہوں
اِسے جہالت کہا جائے ہَڈدھرمی کہا جائے یا معاندانہ پروپیگینڈا ؟ میں پچھلے 15 یا 16 سال سے دیکھ رہا ہوں کہ ہمارے ملکی اخباروں میں جب بھی قبلۂِ اوّل یعنی مسجدالاقصٰی کی خبر کے ساتھ تصویر چھاپی جاتی ہے تو وہ مسجد الاقصٰی کی نہیں ہوتی بلکہ قبة الصخراء کی ہوتی ہے ۔ قبة الصخراء کی اہمیت اپنی جگہ لیکن مسلمانوں کا بیت المقدس یا القدس سے اصل لگاؤ مسجدالاقصٰی کی وجہ سے ہے جو کہ قبله اوّل تھا اور تو اور جماعتِ اِسلامی جو دین اِسلام کی علَم بردار ہے اور جس میں پڑھے لکھے لوگوں کی کافی تعداد شامِل ہے نے پچھلے دِنوں بیت المقدس کے سلسہ میں احتجاج کیا تو اِس میں جو جھنڈے اُٹھا رکھے تھے اُن پر قبة الصخراء کی تصویر تھی
میں نے 2006ء میں The News اور Dawn جن میں مسجدالاقصٰی کے حوالے سے قبة الصخراء کی تصویر چھپی تھی کے مدیروں کو خطوط لکھے اور ساتھ دونوں مساجد کی تصاویر بھیجیں کہ وہ تصحیح کریں لیں ۔ نہ تو تصحیح کی گئی نہ مستقبل میں اس پر کوئی عمل ہوا اور نہ ہی میرے خطوط مدیر کی ڈاک میں شامل کئے گئے ۔ کچھ عرصہ بعد پھر اخبار میں جب مسجد الاقصٰی کا ذکر آیا تو ساتھ تصویر قبة الصخراء کی چھپی ۔
میں نے اپنے ملک میں کئی گھروں میں قبة الصخراء کی تصویر یا ماڈل رکھا ہوا دیکھا جسے وہ مسجدالاقصٰی بتاتے تھے ۔ یہی نہیں میں نے قبة الصخراء کے پلاسٹک ماڈل سعودی عرب میں معمولی قیمت پر عام بِکتے دیکھے ہیں جو کہ ہند و پاکستان کے زائرین قبلہ اول یعنی مسجدالاقصٰی سمجھ کر خرید لاتے ہیں
خیال رہے کہ قبة الصخراء مسجد نہیں ہے
یہ ہے مسجد الاقصٰی کی تصویر
اور یہ ہے قبة الصخراء کی تصویر
نیچے داہنی جانب قبة الصخراء ہے اور بائیں جانب مسجد الاقصٰی ہے
دل کا داغ جو مٹ نہ سکا
ہمارے مُلک کے ایک بڑے حصے کو علیحدہ ہوئے 46 سال بِیت گئے لیکن مجھے وہ خوبصورت نوجوان Assistant Works Manager محبوب نہیں بھولتا ۔ سُرخ و سفید چہرہ ۔ دراز قد ۔ چوڑا سینہ ۔ ذہین ۔ محنتی ۔ کم گو ۔ بہترین اخلاق ۔ اُردو باقی بنگالیوں کی بجائے نئی دہلی کے رہنے والوں کی طرح بولتا تھا ۔ مشرقی پاکستان میں نئی مکمل ہونے والی فیکٹری میں اُسے اوائل 1970ء میں بھیج دیا گیا کہ وہ بنگالی تھا (سِلہٹ کا رہائشی)
یکم جولائی 1969ء کو مجھے ترقی دے کر Production Manager Weaponsتعینات کر کے فیکٹری کے 8 میں سے 4 محکموں کی سربراہی کے ساتھ نئے اسِسٹنٹ ورکس منیجر صاحبان کی تربیت بھی ذمہ داریاں دے دی گئیں ۔ 1969ء میں بنگالی کچھ افسران بھرتی ہوئے ۔ یہ سب ہی محنتی اور محبِ وطن تھے ۔ اِن میں محبوب بھی تھا
میری 21 دسمبر 2012ء کو شائع شدہ تحریر
جب مُکتی باہنی کا شور شرابا زوروں پر تھا مُکتی باہنی والوں نے فیکٹری کے سب بنگالی ملازمین کو بنگلا دیش کا جھنڈے کے پیچھے جلوس نکالنے کا کہا ۔ اپنی جان بچانے کی خاطر سب باہر نکل آئے لیکن محبوب نہ نکلا ۔ محبوب پر مُکتی باہنی نے الزام عائد کيا گيا کہ وہ غدار ہے اور اگر نہيں تو بنگلا ديش کا جھنڈا اُٹھا کر جلوس کے آگے چلے ۔ محبوب شادی شدہ اور ايک چند ماہ کے بچے کا باپ تھا ۔ مجبوراً جلوس ميں جھنڈہ اُٹھا ليا ۔ اس کی بناء پر فوج کے افسر نے اُس کی بيوی ۔ چند ماہ کے بچے اور فيکٹری کے افسران کے سامنے محبوب کا سمری کورٹ مارشل کر کے چند منٹوں می موت کی سزا سُنا دی ۔ اُس کی بيوی نے فوجی افسر کے پاؤں پکڑ کر رَو کر فرياد کی کہ ميرے خاوند کو نہ مارو ۔ مجبور انسان کو مت مارو ۔ مگر گولی چلانے کا حُکم دے ديا گيا ۔ ديکھنے والے افسران ميں مغربی پاکستان سے گئے ہوئے Senior Civilian Officers موجود تھے جو محبوب کے کردار سے واقف تھے مگر خاموش رہے ۔ يہ اُن میں سے ہی ایک سینیئر افسر نے مغربی پاکستان پہنچنے کے بعد مُجھے سُنایا تھا
سانحہ مشرقی پاکستان 16 دسمبر 1971ء کے متعلق جو اَعداد و شمار اور واقعات ذرائع ابلاغ کے ذریعہ پھیلائے گئے ہیں وہ اتنے غلط ہیں کہ جتنا زیادہ کوئی جھوٹ بول سکے ۔ ہمارا ملک پاکستان معرضِ وجود میں آنے کے بعد صرف ایک نسل گذرنے پر صورتِ حال کچھ ایسی ہونا شروع ہوئی کہ میں سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہوں ”کیا آزادی اِس قوم کو راس نہیں آئی جو ہر دَم اور ہر طَور اس سلطنتِ خدا داد کے بخِیئے اُدھیڑنے کے در پئے رہتی ہے“۔ اب تو حال یہاں تک پہنچا ہے کہ بھارت کو بہترین دوست اور شیخ مجیب الرحمٰن کو محبِ پاکستان ثابت کرنے کی کوشش کی جارہی ہے
میں ذاتی معلومات پر مبنی واقعات پہلے لکھ چکا ہوں جو مندرجہ ذیل موضوعات پر باری باری کلک کر کے پڑھے جا سکتے ہیں ۔ آج صرف اعداد و شمار پیش کر رہا ہوں
بھولے بسرے واقعات ۔ پہلا سوال
سقوطِ ڈھاکہ کے اسباب ۔ قسط 1 ۔ دوسرا سوال اور ذرائع
سقوطِ ڈھاکہ کے اسباب ۔ قسط 2 ۔ معلومات
سقوطِ ڈھاکہ کے اسباب ۔ قسط 3 ۔ مشاہدہ اور تجزیہ
مارچ سے دسمبر 1971ء تک مشرقی پاکستان میں جو ہلاکتیں ہوئیں اور ان کے اسباب کے متعلق غلط اور اِنتہائی مبالغہ آمیز اعداد و شمار زبان زد عام رہے ہیں ۔ پچھلی 4 دہائیوں میں غیر جانب دار لوگوں کی تحریر کردہ کُتب اور دستاویزات سامنے آ چکی ہیں ۔ جن کا خلاصہ کچھ اس طرح ہے
شیخ مجیب الرحمٰن اور اس کے حواریوں کا پروپیگنڈہ تھا کہ فوج نے 30 لاکھ بنگالیوں کو ہلاک کیا ۔ فوجی کاروائی ڈھاکہ اور اس کے گرد و نواح میں 26 مارچ 1971ء کو شروع ہوئی اور 16 دسمبر 1971ء کو پاکستانی فوج نے ہتھیار ڈال دیئے ۔ چنانچہ یہ ہلاکتیں 265 دنوں میں ہوئیں ۔ اس طرح ہر ماہ 339630 یا ہر روز 11321 بنگالی ہلاک کئے گئے ۔ ایک سرسری نظر ہی اس استلال کو انتہائی مبالغہ آمیز یا جھوٹ قرار دینے کیلئے کافی ہے
حمود الرحمٰن کمیشن کو فوج کے نمائندہ نے بتایا تھا کہ فوجی کاروائی کے دوران 26000 بنگالی ہلاک ہوئے لیکن کمیشن نے اس تعداد کو بہت مبالغہ آمیز قرار دیا تھا
شرمیلا بوس نے اپنی کتاب میں لکھا
“The three million deaths figure is so gross as to be absurd … [it] appears nothing more than a gigantic rumour. The need for ‘millions’ dead appears to have become part of a morbid competition with six million Jews to obtain the attention and sympathy of the international community.”
(ترجمہ ۔ تین ملین کا ہندسہ اتنا بھاری ہے کہ سرِ دست لغو لگتا ہے ۔ ۔ ۔ یہ ایک قوی ہیکل افواہ سے زیادہ کچھ نہیں ۔ ملینز کی تعداد چھ ملین یہودیوں کے ہمعصر ہونے کی ایک بھونڈی کوشش لگتی ہے تاکہ بین الاقوامی توجہ اور ہمدردی حاصل کی جا سکے)
مشرقی پاکستان میں موجود مغربی پاکستان کے لوگوں میں پنجابی ۔ پٹھان ۔ کشمیری ۔ سندھی ۔ بلوچ اور اُردو بولنے والے شامل تھے ۔ ان میں سرکاری محکموں ۔ سکولوں ۔ کالجوں ۔ بنکوں اور دیگر اداروں کے ملازم ۔ تاجر ۔ کارخانہ دار اور مزدور شامل تھے ۔ ان کارخانہ داروں میں سہگل ۔ آدم جی ۔ بھوانی اور اصفہانی قابلِ ذکر ہیں ۔ بھارت کی تشکیل کردہ اور پروردہ مُکتی باہنی والے مشرقی پاکستان میں موجود مغربی پاکستان کے تمام لوگوں کو پنجابی کہتے تھے اور یہی تخلص زبان زدِ عام ہوا
جُونہی فوجی کاروائی شروع ہوئی مُکتی باہنی اور اس کے حواریوں نے غیر بنگالیوں کی املاک کی لوٹ مار اور نہتے بوڑھوں عورتوں اور بچوں کے ساتھ زیاتی اور قتلِ عام شروع کر دیا ۔ عورتوں اور لڑکیوں کے ساتھ جو زیادتیاں ہوئیں مغربی پاکستان کے ذرائع یا اس سے بے خبر تھے یا بیہوش پڑے تھے
یہ حقیقت بھی بہت ہی کم لوگ جانتے ہیں کہ شیخ مجیب الرحمٰن اور اس کے نائبین پہلے ہی فیصلہ کر چکے تھے کہ جمعہ 26 مارچ 1971ء کی صبح منظم مسلح بغاوت شروع کر دی جائے گی ۔ اس تیاری کیلئے بہت پہلے سے ڈھاکہ یونیورسٹی کو مکتی باہنی کا تربیتی مرکز بنایا جا چکا تھا
فوجی کاروائی 26 مارچ 1971ء کو شروع ہوئی تھی ۔ مکتی باہنی نے یکم سے 25 مارچ تک ہزاروں محبِ وطن بنگالی اور مغربی پاکستان سے گئے ہوئے لوگ ہلاک کئے ۔ مُکتی باہنی جس میں بھارتی فوج کے Commandos کی خاصی تعداد شامل تھی کے ہاتھوں قتل و غارت کے غیر ملکی ذرائع کے شائع کردہ محتاط اعداد و شمار بھی رَونگٹے کھڑے کر دیتے ہیں
بین الاقوامی ذرائع کے مطابق 200000 تک مغربی پاکستانی ہلاک کئے گئے
امریکی کونسل کے مطابق 66000 مغربی پاکستانی صرف ڈھاکہ اور گرد و نواح میں ہلاک کئے گئے
خود بنگالی ذرائع نے ڈھاکہ اور گرد و نواح میں 30000 سے 40000 مغربی پاکستانی ہلاک ہونے کا اعتراف کیا تھا
شروع مارچ 1971ء میں صرف بوگرہ میں 15000 مغربی پاکستانیوں کو ہلاک کیا گیا
وسط مارچ کے بعد چٹاگانگ میں 10000 سے 12000 مغربی پاکستانی ہلاک کئے گئے
جیسور میں 29 اور 30 مارچ کو 5000 مغربی پاکستانی ہلاک کئے گئے
دیناج پور میں 28 مارچ سے یکم اپریل تک 5000 مغربی پاکستانی ہلاک کئے گئے
میمن سنگھ میں 17 اپریل سے 20 اپریل تک 5000 کے قریب مغربی پاکستانی ہلاک کئے گئے
اس کے بعد مُکتی باہنی نے قتل و غارتگری کا بازار پوری شدت کے ساتھ گرم کیا ۔ اس طرح کہ اعداد و شمار بتانے والا بھی کوئی نہ رہا
پاکستان کے فوجیوں کی تعداد جو زبان زدِ عام ہے صریح افواہ کے سوا کچھ نہیں ۔ جن 93000 قیدیوں کا ذکر کیا جاتا ہے ان میں فوجیوں کے علاوہ پولیس ۔ سویلین سرکاری و غیر سرکاری ملازمین ۔ تاجر ۔ عام مزدور ۔ دُکاندار وغیرہ اور ان سب کے خاندان عورتوں اور بچوں سمیت شامل تھے ۔ ان قیدیوں میں درجنوں میرے ساتھی یعنی پاکستان آرڈننس فیکٹریز واہ کینٹ کے سویلین ملازمین اور ان کے اہلَ خانہ بھی تھے جنہیں 6 ماہ سے 3 سال کیلئے پاکستان آرڈننس فیکٹری غازی پور (ڈھاکہ) میں مشینیں سَیٹ کرنے اور مقامی لوگوں کی تربیت کیلئے بھیجا گیا تھا
مشرقی پاکستان میں مغربی پاکستان سے گئے ہوئے فوجیوں کی تعداد 20000 تھی جن میں پولیس ۔ میڈیکل اور دوسری نہ لڑنے والی نفری
ملا کر کل تعداد 34000 بنتی تھی ۔ یہ پاکستانی فوج 9 ماہ سے مکتی باہنی کے 100000 جنگجوؤں سے گوریلا جنگ لڑتے لڑتے بے حال ہو چکی تھی ۔ ایسے وقت میں بھارت کی ہر قسم کے ہتھیاروں سے لیس 3 ڈویژن تازہ دم فوج سے مقابلہ کرنا پڑا ۔ پاکستانی فوج کی ہلاکتیں 4000 کے قریب ہوئیں ۔ بقول بھارتی لیفٹننٹ جنرل جے ایف آر جیکب بھارتی فوج کی ہلاکتیں 1477 اور زخمی 4000 ہوئے تھے
شیخ مجیب الرحمٰن کو اس کے خاندان سمیت 15 اگست 1975ء کو ہلاک کر دیا گیا ۔ ہلاک کرنے والے بنگلا دیش ہی کے فوجی تھے جو نہ پنجابی تھے نہ بہاری ۔ صرف ایک بیٹی حسینہ بچی جو ملک سے باہر تھی
مشرقی پاکستان شیخ مجیب الرحمٰن اور بھارت کی تیار کردہ مُکتی باہنی کو پذیرائی نہ ملتی اگر حکومتِ پاکستان نے مشرقی پاکستان کی معیشت و معاشرت کی طرف توجہ دی ہوتی اور بے لگام بیورو کریسی کو لگام دے کر اُن کے فرض (عوام کی بہبود) کی طرف متوجہ کیا ہوتا ۔ پچھلے کم از کم 5 سال میں جو ملک کا حال ہے ۔ دل بہت پریشان ہے کہ کیا ہو گا ۔ الله محبِ وطن پاکستانیوں پر اپنا کرم فرمائے اور اس ملک کو محفوظ بنائے
مشرقی پاکستان کے بنگالیوں کی بڑی تعداد اپنے آپ کو پاکستانی سمجھتی تھی جس کے نتیجہ میں مغربی پاکستانیوں کے ساتھ وہ بھی مکتی باہنی کا نشانہ بنے ۔ لاکھوں بنگالیوں نے دستخط کر کے ایک یاد داشت برطانیہ کے راستے ذوالفقار علی بھٹو کو بھجوائی تھی کہ بنگلا دیش منظور نہ کیا جائے ۔ پیپلز پارٹی کی اکثریت بھی بنگلہ منظور کرنے کے خلاف تھی ۔ اِسی لئے جب عوام بنگلہ دیش کیی منظوری لینے کیلئے ذوالفقار علی بھٹو نے لاہور میں پیپلز پارٹی کے بہت بڑے جلسے کا اہتمام کیا تو اہل جللسہ نے بھٹو کو بولنے نہ دیا اور تمام لاؤڈ سپیکروں کے تار کاٹ دیئے ۔ بعد میں بھٹو نے اسلامی کانفرنس کا انعقاد کر کے بنگلا دیش منظور کرنے کا اعلان کر دیا
نہ صرف یہ بلکہ بنگلا دیش بننے کے بعد جن لوگوں نے وحدتِ پاکستان کے حق میں آواز اٹھائی تھی انہیں طرح طرح سے تنگ کیا گیا اور ان کے خلاف جھوٹے مقدمے بنائے گئے ۔ بہاریوں کو نہ شہریت دی اور نہ مہاجرین کا درجہ ۔ وہ ابھی تک کس مُپرسی کی زندگی گذارنے پر مجبور ہیں ۔ جماعتِ اسلامی کے دلاور حسین سیّدی سمیت 6 لیڈر ابھی بھی بغاوت کے مقدمات بھُگت رہے ہیں
یہ حقیقت ہے کہ اب بھی بنگلا دیش کے عوام کی اکثریت کے دل پاکستانی ہیں ۔ اس کا ایک ادنٰی سا مظاہرہ اس وقت ہوتا ہے جب پاکستان اور بھارت کی ٹیمیں مدِ مقابل ہوتی ہیں ۔ بنگلا دیش کے عوام جوش و خروش کے ساتھ پاکستانی ٹیم کے حق میں بول رہے ہوتے ہیں