Category Archives: روز و شب

یہ کونسی گردی ہے ؟ فیصلہ آپ کیجئے

کسی زمانہ میں ایک لفظ سُنا تھا غُنڈہ گردی
پتا چلا کہ بدقماش لوگ خلافِ قانون اُدھم مچائیں تو اسے غُنڈہ گردی کہا جاتا ہے

پھر 2004ء کے بعد ایک اور لفظ متعارف ہوا ۔ دہشتگردی
پتا چلا کہ اگر ایک یا زیادہ آدمی خلافِ قانون اُدھم مچائیں جس سے لوگ دہشت زدہ ہو جائیں تو اسے دہشت گردی کہا جاتا ہے

17 جون 2014ء کو ماڈل ٹاؤن لاہور میں خلافِ قانون اُدھم مچایا گیا
پتا چلا کہ اگر قانون کے محافظ یعنی پولیس اہلکار خلافِ قانون اُدھم مچائیں تو اسے پولیس گردی کہا جاتا ہے

کچھ عرصہ سے وکلاء یعنی قانون دانوں نے خلافِ قانون اُدھم مچانا شروع کر رکھا ہے
یعنی
کبھی کسی جج کو اُس کی عدالت کے اندر گھُس کر گالیاں دیں
کبھی جج نے مرضی کا فیصلہ نہ دیا تو اُس کی پٹائی کر دی
کبھی قانون کے محافظین یعنی پولیس اہلکاروں کی دھنائی کر دی
کبھی سرکاری دفتر ۔ کبھی تھانے یا دونوں کو نذرِ آتش کر دیا
راہ گذروں کی گاڑیوں کو نقصان پہنچایا

اس گردی کو کیا نام دیا جائے ؟
وکیل گردی ؟
یا
قانون گردی ؟َ
یا
کچھ اور ؟

فیصلہ آپ کا

جانور بھی عقل رکھتے ہیں

مجھے بچپن سے سیر و سیاحت کا شوق رہا جسے پورا کرنے کیلئے میں بڑے شہروں کی بجائے دیہات ۔ پہاڑوں اور جنگلات کا رُخ کیا کرتا تھا ۔ اس سیر سیاحت کے دوران میں جانوروں اور ان کی عادات کا مطالعہ بھی کرتا رہا ۔ اس مطالعے کے دوران ہر لمحے دل سے نکلتا رہا ”سُبحان اللہ سُبحان اللہ“ ۔ عام انسانوں کا خیال ہے کہ انسان جانور سے اسلئے افضل ہے کہ انسان عقل رکھتا ہے ۔ عملی مشاہدے سے یہ خیال غلط نظر آتا ہے

کبھی آپ نے پرندوں کو گھونسلہ بناتے متواتر دیکھا اور اُس پر غور کیا ہے ؟ خاص کر ایک چھوٹے سے پرندے بیہا کو جو اپنا گھونسلہ درخت کی ٹہنی سے لٹکا ہوا بناتا ہے ۔ یہ بیضوی شکل کا ہوتا ہے اور اس میں ایک طرف گول سوراخ ہوتا ہے
ایک چوپایا ہے جسے شاید لُدھڑ (Beaver) کہتے ہیں وہ درختوں کی ٹہنیوں سے پانی کے اوپر اپنا گھر بناتا ہے ۔ چھوٹی ندیوں پر بند (dam) بنا کر پانی کی سطح بلند کرتا ہے تاکہ پانی کے بہاؤ کی رفتار کم ہو اور اسے خوراک حاصل کرنے میں بھی آسانی ہو

مندرجہ بالا پرندہ اور چوپایا تو ہر جگہ نہیں ملتے ۔ گائے تو ہر علاقے میں پائی جاتی ہے ۔ کیا آپ جانتے ہیں ۔ گائے اپنے کمرے سے باہر نکلنے کیلئے کُنڈی کیسے کھولتی ہے ؟ بجلی سے چلنے والا دروازہ کیسے کھولتی ہے ؟ پانی پینے کیلئے ہینڈ پمپ کیسے چلاتی ہے ؟
یہاں کلِک کر کے وڈیو دیکھیئے

چھوٹی چھوٹی باتیں ۔ چوہدراہٹ

ایک چیز جسے چھوڑنے کیلئے بہت کم لوگ رازی ہوتے ہیں دوسروں پر حکمرانی کی خواہش ہے
آدمی کھانا پینا کم کر سکتا ہے ۔ مہنگے کپڑے پہننا چھوڑ سکتا ہے ۔ دولت کی کمی برداشت کر سکتا ہے
لیکن
اگر اُسے دوسروں کا سردار بنا دیا جائے تو اُس کا رویّہ حریفانہ ۔ دفاعی اور آرزو مندانہ ہو جائے گا

یہاں کلک کر کے پڑھیئے ” 6 year boy becomes MS Office professional“

میری ڈائری ۔ مصلحت

یکم جولائی 1962ء کو میری ڈائری میں لکھا ہے
کچھ ایسی خواہشات ہوتی ہیں جن کا حصول ممکن ہوتا ہے لیکن مصلحت حارج ہو جاتی ہے ۔ ایسی صورت میں متعلقہ مصلحت کا جائزہ ضروری ہوتا ہے کہ اس میں خود غرضی شامل تو نہیں ۔ اگر انسان چُوک جائے اور من مانی کرے تو وہ شاہراہِ ترقی پر بہت پیچھے کی طرف پھسل جاتا ہے

یہاں کلک کر کے پڑھیئے ” Delhi’s Apathy over Pakistani Minor Girl’s Rape “

10 سال اور 2 دِن گذر گئے

میں نے یہ بلاگ 5 مئی 2005ء کو شروع کیا تھا ۔ الحمد و للہ آج اس بلاگ کی زندگی کے 10 سال اور 2 دن ہو گئے ہے اور پتہ بھی نہ چلا
میں اللہ کا لاکھ بار بھی شُکر بجا لاؤں تو کم ہے ۔ شُکر اُس ذاتِ اعلٰی و ارفع کا جس نے صرف مجھے ہی نہیں کُل کائنات کو پیدا کیا اور اس کا نظام چلا رہا ہے ۔ اُس قادر و کریم نے اتنی زیادہ نعمتیں دے رکھی ہیں کہ گنتے گنتے عمر بیت جائے لیکن گنتی پوری نہ ہو ۔ اُس اللہ سُبحانُہُ و تعالٰی نے مجھے یہ بلاگ بھی بنانے کے قابل بنایا ۔ اُس رحمٰن و رحیم نے ہی مجھے تو فیق دی کہ میں اسے جاری رکھوں

جب میں نے یہ بلاگ شروع کیا تھا تو اُمید نہ تھی کہ یہ ایک سال بھی پورا کر سکے گا ۔ اور یہ بھی خیال تھا کہ میں خُشک باتیں لکھتا ہوں اسلئے شاید ہی اسے کوئی پڑھے مگر اللہ کی ذرہ نوازی دیکھیئے کہ

میں نے 10 سال میں 2205 تحاریر لکھیں
میرے بلاگ کو اس وقت تک 357809 مرد و خواتین پڑھ چکے ہیں
ایک تحریر 24551 سے زائد بار پڑھی جا چکی ہے
6 تحاریر 10000 سے 12000 بار پڑھی جاچکی ہیں
23 تحاریر 5001 سے 10000 بار پڑھی جاچکی ہیں
30 تحاریر 4001 سے 5000 بار پڑھی جا چکی ہیں
93 تحاریر 3001 سے 4000 بار پڑھی جا چکی ہیں
200 تحاریر 1901 سے 3000 بار پڑھی جا چکی ہیں
200 تحاریر 1771 سے 1900 بار پڑھی جا چکی ہیں
200 تحاریر 1570 سے 1770 بار پڑھی جا چکی ہیں
200 تحاریر 1400 سے 1569 بار پڑھی جا چکی ہیں
200 تحاریر 1256 سے 1399 بار پڑھی جا چکی ہیں
200 تحاریر 1140 سے 1255 بار پڑھی جا چکی ہیں
200 تحاریر 1000 سے 1139 بار پڑھی جا چکی ہیں
200 تحاریر 800 سے 999 بار پڑھی جا چکی ہیں
200 تحاریر 600 سے 799 بار پڑھی جا چکی ہیں

روئیداد مجلس بلاگراں

میں نے 14 اپریل 2015ء کو ایک درخواست شائع کی جسے پڑھ کر لاہور سے ایک صاحب نے رابطہ کیا اور اس مجلس میں شمولیت کی خواہش ظاہر کی ۔ میں نے خوش آمدَید کہا

گو 25 اپریل تک 250 سے زائد قارئین میری تحریر پڑھ چکے تھے پھر بھی سوچا کہ شاید کسی مقامی بلاگر نے میری تحریر نہ پڑھی ہو چنانچہ جن کے متعلق معلوم تھا کہ راولپنڈی یا اسلام آباد میں رہائش رکھتے ہیں سے رابطہ کرنے کی کوشش کی ۔ کافی کوششوں کے بعد کل 10 حضرات سے رابطہ ہو سکا جن میں سے 4 نے آنے کا عندیہ دیا ۔ باقی بہت مصروف تھے

میں 3 مئی کو ان صاحبان کی انتظار میں پونے 5 بجے سہ پہر بیٹھ گیا ۔ 5 بج کر 20 پر سعد صاحب جو بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی میں زیرِ تعلیم ہیں تشریف لائے ۔ ان کے پاس ذریعہ رسل و رسائل نہیں ہے اسلئے 20 منٹ کی تاخیر معاف کر دی ۔ ویسے مجھے تو تعلیم سعد صاحب کے زیر لگتی ہے کیونکہ بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی میں آنے سے قبل وزیر اعلٰی پنجاب سے لیپ ٹاپ لیا تھا ۔ اب نامعلوم نواز شریف سے کیا لینے کا ارادہ رکھتے ہیں

خیر اب ہم دونوں باقی 3 حضرات کی انتظار میں مبتلاء ہو گئے ۔ 6 بج گئے تو ٹیلیفون کھڑکانے شروع کئے ۔ لیکن شاید تینوں صاحبان کو ہماری غریبی پر ترس آ گیا کہ کہیں موبائل ٹیلیفون کے بیلنس سے کچھ روپے کم نہ ہو جائیں اسلئے کسی نے ٹیلیفون نہیں سُنا ۔ ٹیلیفونوں کی بیچاری گھنٹیاں بجتے بجتے خاموش ہو جاتی رہیں

کہتے ہیں کہ اللہ جو کرتا ہے بہتر کرتا ہے

1 ۔ تہذیب بیکرز کے چِکن ششلِک ۔ رولز ۔ کیک ۔ سموسے اور بسکٹ بلاگران کے نام پر آئے تھے جو سوائے سعد صاحب کے اور کسی کی قسمت میں نہ ہوئے ۔ سعد صاحب اور میں نے پیٹ بھر کر کھائے ۔ میری بیگم نے بھی کھائے ۔ ملازمہ کو دے کر دعائیں لیں ۔ باقی فریزر میں رکھ دیئے ۔ دو تین دن دیکھیں گے کوئی مہمان آیا تو اُسے خوش کریں گے ورنہ ہم اپنے آپ کو ایک دفعہ پھر خوش کریں گے

2 ۔ میرا ارادہ ایک اچھے ہوٹل میں انتظام کرنے کا تھا ۔ کسی خیر اندیش نے مشورہ دیا کہ ہمارے لوگ عام طور پر وقت کی پابندی نہیں کرتے اسلئےگھر پر کروں تاکہ ہوٹل میں شرمندگی سے بچ سکوں ۔ میں شرمندگی کے ساتھ بھاری خرچ سے بھی بچ گیا

3 ۔ مجھے عِلم ہو گیا کہ مجھ میں وہ چیز نہیں جس کی وجہ سے لوگ مجھے عزت بخشیں ۔ اب کبھی راہ و رسم کے بغیر کسی پر بھروسہ نہیں کروں گا ۔ غلطی میری ہے کہ ماضی کو بھول گیا کہ جسے ڈوبنے سے بچایا اُس نے میری کشتی ڈبونے کی کوشش کی