پرویز مشرف کو لوگوں نے قائدِ قلّت تو کہنا شروع کر دیا ہے لیکن اُس کے بڑے کارنامے پر نظر نہیں ڈالی ۔ وہ ہے سرکاری جگا ٹیکس ۔ جو صرف ایک یا دو جگہ نہیں کئی جگہ اور کئی بار وصولنے کا بندوبست ہے ۔
پاسپورٹ فیس کو مختلف بہانوں سے 10 گنا کر دیا گیا
نادرا قائم کر کے شناختی کارڈ فیس 17 گنا کر دی گئی اور شناختی کارڈ دائمی ہوتا تھا ۔ اس کی معیاد اسطرح مقرر کی گئی کہ اگر کوئی شخص 80 سال زندہ رہے تو وہ 12 دفعہ شناختی کارڈ بنوائے اور اسطرح ساری عمر جگا ٹیکس ادا کرتا رہے ۔
جب نادرا کا بنایا ہوا شناختی کارڈ متعارف کرایا گیا تو سال دو سال تک اس کے غیرمتنازع ہونے کے دعوے کئے جاتے رہے ۔ پرویزی حکومت نے پچھلے سال تمام محکموں کو حکمنامہ جاری کیا کہ نادرا کے شناختی کارڈ کی مصدقہ فوٹو کاپی لی جائے اور اس کے ساتھ سائل کو نادرا سے اپنے نادرا کے بنائے ہوئے شناختی کارڈ کی تصدیق لانے کا کہا جائے ۔ نادرہ کے صرف چند دفاتر تصدیق کرنے کے مجاز ہیں ۔ چنانچہ سائل کو پہلے نادرا کی متعلقہ برانچ تلاش کرنا پڑتی ہے اور پھر لمبی قطار میں کھڑے ہو کر 50 روپے کے عوض ایک تصدیقی پرچی لینا پڑتی ہے جو ہر بار نئی لینا ہو گی ۔
اگر کسی پاکستانی کو ملک سے باہر ملازمت مل جائے تو پاسپورٹ پر ویزہ لگوانے کے بعد ضروری ہے کہ امیگریشن اتھارٹی سے منظوری لی جائے جس کیلئے فیس جمع کرانا ہوتی ہے ۔ امیگریشن اتھارٹی جانے والے کو روک بھی سکتی ہے جس سے بچنے کیلئے کسی کی مُٹھی گرم کرنا ضروری ہو جاتا ہے ۔
تمام اشیاء پر بشمول خوردنی اور ادویاء پر 10 سے 30 فیصد ٹیکس
پٹرول پر پٹرول کی قیمت سے 2 گنا ٹیکس وصول کیا جا رہا ہے ۔ خیال رہے کہ اکتوبر 1999ء میں پٹرول کی قیمت بشمول ٹیکس سوا 22 روپے فی لیٹر تھی جو کئی سالوں سے 53 روپے 77 پیسے ہے اور اب حکومت چھ سات روپے فی لیٹر بڑھانا چاہتی ہے لیکن الیکشن میں کیو لیگ کے کلین بولڈ ہونے کے ڈر سے نہیں بڑھا رہی ۔
بجلی ۔ گیس اور ٹیلیفون کے بِلوں پر 15 فیصد جنرل سیلز ٹیکس عائد ہے
کہا جاتا ہے کہ انکم ٹیکس آمدن پر لگایا جاتا ہے مگر پرویزی حکومت بجلی ۔ گیس اور ٹیلیفون کے بِل جو آمدن نہیں ہوتے بلکہ خرچہ ہوتے ہیں پر جنرل سیلز ٹیکس کے علاوہ انکم ٹیکس بھی کئی سال سے وصول کر رہی ہے ۔