Category Archives: روز و شب

درندے

درِندہ اُس جانوار کو کہتے ہیں جو کہ شقی القلب ۔ انتہاء کا ظالم یا بے رحم ہو ۔ چوپایوں میں بھیڑیا درندہ کہلاتا ہے کیونکہ ہر شریف جانور یعنی ہرن ۔ بکرا ۔ گائے بیل وغیرہ اور انسان پر بھی بلا وجہ حملہ کر کے اُسے ہلاک کرنے کی کوشس کرتا ہے ۔ شیر کو درِندہ نہیں کہا جاتا کیونکہ اگر بھوکا نہ ہو یا اُسے کوئی تنگ نہ کرے تو وہ کسی پر حملہ نہیں کرتا خواہ ہرن ہو یا انسان ۔

اللہ نے انسان کو اشرف المخلوقات بنایا ہے لیکن ان میں کئی درندوں کو بھی مات کر جاتے ہیں ۔ اس کا ثبوت آئے دن پیش آنے والے واقعات ہیں ۔ تازہ ترین واقعہ اپنی نوعیت کی ایک مثال قائم کر گیا ہے اور ثابت کر دیا ہے کہ انسانوں میں چوپایوں سے بڑھ کر درندہ صفت پائے جاتے ہیں ۔ یہ واقعہ کسی گاؤں یا قصبہ میں نہیں ہوا بلکہ پاکستان کے سب سے بڑے شہر میں ہوا ہے جہاں کے رہنے والے اپنے آپ کو سب سے زیادہ مہذب سمجھتے ہیں ۔

اطلاعات کے مطابق 14 مئی 2008ء کو دوپہر ڈیڑھ بجے کے قریب رنچھوڑ لائینز میں ٹمبر مارکیٹ کے قریب سومیا مکرّم پیلس کے ایک فلیٹ میں رہائش پذیر اکبر سومرو کے گھر چار آدمی گھُس گئے ۔ اسلحہ کے زور پر اُنہوں نے زیور اور نقدی لوٹ لی ۔ جب ڈاکو جانے لگے تو اکبر سومرو پہنچ گئے ۔ اُس پر گولی چلا کر ڈاکو بھاگ نکلے ۔ گولی کی آواز اور اکبر کا شور سُن کر محلہ کے لوگ اکٹھے ہو گئے اور اُنہوں نے تین ڈاکوؤں کو قابو کر لیا ۔ مار پٹائی کے بعد لوگوں نے ڈاکوؤں پر مٹی کا تیل یا پٹرول چھِڑک اُن کو آگ لگا دی ۔ اس دوران پولیس اور ایدھی والے پہنچ گئے لیکن لوگوں نے اُنہیں بیس تیس منٹ تک قریب نہ جانے دیا ۔ اس طرح تین آدمی زندہ جلا دیئے گئے ۔ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ جب ڈاکو جل رہے تھے تو کچھ لوگ تالیاں بجا رہے تھے ۔

ایسی بیہیمانہ درندگی کی مثال پاکستان کی تاریخ میں نہیں ملتی ۔

کہا گیا کہ لوگ آئے دن کی ڈکیتیوں اور پولیس یا حکومت کی بے حِسی سے تنگ آئے ہوئے ہیں اسلئے اُنہوں نے ایسا کیا ۔ اگر یہ جواز مان لیا جائے تو ہمارے مُلک کے 8 کروڑ بالغان میں سے کم از کم 5 کروڑ جلائے جانے کے مستحق ہیں ۔

1 ۔ جو لوگ اپنی دہشت یا اثر و رسوخ کی بنا پر یا محکمہ کے اہلکاروں کی مُٹھی گرم کر کے ۔ ۔ ۔

ا ۔ بجلی چوری کرتے ہیں کیا وہ 24 گھنٹے ڈاکہ نہیں ڈال رہے ؟ ان میں سے عوام کہلانے والے کُنڈے ڈالتے ہیں اور صاحب کہلانے والے میٹر سے بالا بالا اپنے ایئر کنڈیشنر چلانے کیلئے بجلی حاصل کرتے ہیں ۔

ب ۔ نہروں کا پانی چوری کرنے والے ڈاکہ نہیں ڈال رہے ؟

ج ۔ اپنے پانی کے نلوں کیلئے لگے ہوئے چھوٹے سوراخ والے فیرُول [ferrule] اُتروا کر بڑے سوراخ والے فیرُول لگوانے والے ڈاکہ نہیں ڈال رہے ؟

2 ۔ کم تولنے والے یا عُمدہ چیز کی قیمت لے کر گھٹیا چیز بیچنے والے دُکاندار یا ذخیرہ اندوزی کر کے مصنوعی مہنگائی پیدا کرنے والے لوگ خریداروں کی جیبوں پر ڈاکہ نہیں ڈال رہے ؟

3 ۔ دوا ساز کمپنیوں کے اہلکار ٹی وی چینلز اور اخبارات میں بڑے بڑے اشتہار دے کر ۔ بااثر لوگوں اور ڈاکٹروں کو بڑے بڑے تحائف دے کر ۔ فائیو سٹار ہوٹلوں میں ڈنر دے کر اور ہوائی سفر کے ٹکٹ دے کر اپنی من مانی قیمت پر دوائیاں بیچتے ہیں ۔ کیا وہ عوام کی جیبوں پر ڈاکہ نہیں ڈال رہے ؟

4 ۔ قوم سے ٹیکسوں کی مَد میں وصول کیا ہوا روپیہ اپنی عیاشیوں پر خرچ کرنے والے حکمران یا اہلکار کیا عوام کی جیبوں پر ڈاکہ نہیں ڈال رہے ؟

5 ۔ جو ملازمین اپنے اوقاتِ کار میں سے وقت ذاتی کام کیلئے استعمال کرتے ہیں یا اس وقت کو گپ شپ میں یا دوسرے طریقوں سے ضائع کرتے ہیں یا دفتری املاک جن میں کار اور ٹیلیفون بھی شامل ہیں ذاتی اغراض کیلئے استعمال کرتے ہیں کیا وہ عوام کی جیبوں پر ڈاکہ نہیں ڈالتے ؟

6 ۔ جو بھائی اپنی بہن کے ۔ والدین اپنی اولاد کے ۔ خاوند اپنی بیوی کے ۔ بہن اپنے بھائی کے ۔ بیوی اپنے خاوند اور اولاد اپنے والدین کے جائز حقوق ادا نہیں کرتے کیا وہ اُن کے حقوق پر ڈاکہ نہیں ڈالتے ؟

7 ۔ جو لوگ گاڑی چلاتے ہوئے سُرخ بتی ہونے کے باوجود گذر جاتے ہیں یا اپنی قطار سے نکل کر زبردستی دوسری قطار میں گھُستے ہیں اور اگر راستہ نہ دیا جائے تو بدکلامی اور مار پیٹ پر اُتر آتے ہیں کیا وہ عوام کے حقوق پر ڈاکہ نہیں ڈالتے ؟

8 ۔ اپنی آمدن کیلئے فحش یا لچر قسم کے اشتہارات دکھانے والے ٹی وی چینلز اور اخبارات کیا عوام کے اخلاق پر ڈاکہ نہیں ڈال رہے ؟

9 ۔ زبردستی کی شادی کرنے والے یا زبردستی بدکاری کرنے والے کیا ڈاکہ ڈال کر کسی کی پوری زندگی نہیں لُوٹ لیتے ؟

فہرست مزید طویل ہے لیکن یہ بھی کیا کم ہے ۔

غلام قوم کا ضمير اور توحيد

اسی قرآن ميں ہے اب ترکِ جہاں کی تعليم
جس نے مؤمن کو بنايا مہ و پروين کا امير
تن بہ تقدير ہے آج ان کے عمل کا انداز
تھی نہاں جن کے ارادوں ميں خدا کی تقدير
تھا جو ۔ ناخُوب ۔ بتدريج وہی خوب ہوا
کہ غلامی ميں بدل جاتا ہے قوموں کا ضمير

زندہ قوت تھی جہاں ميں يہی توحيد کبھی
آج کيا ہے صرف اک مسئلۂِ علمِ کلام
روشن اس ضؤ سے اگر ظُلمت کو دار نہ ہو
خود مسلماں سے ہے پوشيدہ مسلماں کا مقام
ميں نے اے ميرِ سپہ ۔ تيری سپہ ديکھی ہے
قُل ھوَ اللہُ کی شمشير سے خالی ہے نيام
آہ ۔ اس راز سے واقف ہے مُلا نہ فقيہہ
وحدت افکار کی بے وحدت کو دار ہے خام

يوں محسوس ہوتا ہے کہ علّامہ اقبال نے يہ شعر آجکل کے دور کيلئے لکھے تھے

موت اور اللہ کی مدد

اس سے کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ جو پیدا ہو ا وہ زُود یا بدیر مر بھی جائے گا اور یہ بھی کہ موت کا وقت مقرر ہے ۔ میں موت کا فلسفہ نہیں بلکہ اپنے صرف دو مشاہدات رقم کرنا چاہتا ہوں ۔

پچھلے دنوں ہمارے ایک رشتہ دار جو اسلام آباد جی ۔ 10 میں رہتے ہیں کسی کام سے اپنی کار پر ترنول گئے ۔ ترنول اُن کے گھر سے 20 کلو میٹر کے فاصلہ پر ہے ۔ کام ختم ہونے تک دوپہر ہو گئی تھی ۔ کار میں سوار ہونے سے قبل وہ سڑک کنارے کسی سے اپنے موبائل پر بات کر رہے تھے کہ اچانک گر پڑے ۔ ایک راہگذر نے دیکھ لیا اور اپنی کار کھڑی کار کے اُن کا موبائل پکڑ کر جس نمبر پر بات ہورہی تھی ملا کر پوچھا “ابھی آپ کی جن سے بات ہو رہی تھی اُن کا نام کیا ہے اور وہ آپ کے کیا لگتے ہیں ؟” جواب ملا “راجہ محمد نواز اور میرے رشتہ دار ہیں”۔ اُس شخص نے کہا “میں راجہ صاحب کو لے کر پمس جا رہا ہوں آپ فوری طور پر پمس پہنچیں”۔ وہ شخص مری میں تھا چنانچہ اُس نے اسلام آباد میں ان کے گھر ٹیلیفون کر دیا ۔ اتفاق سے اُن کا چھوٹا بیٹا کوئٹہ سے آیا ہوا تھا ۔ وہ آدھے گھنٹہ کے اندر پمس پہنچ گیا ۔ جو شخص راجہ محمد نواز صاحب کو لے کر آیا تھا جب اُسے معلوم ہوا کہ وہ اپنی کار پر گئے تھے تو وہ نمبر پوچھ کر گیا اور ان کی کار لے کر ہسپتال پہنچ گیا اور بغیر شکریہ وصول کئے چلا گیا ۔ وہ اجنبی اپنا فرض ادا کر گیا ۔ یہ الگ بات ہے کہ راجہ محمد نواز صاحب اگلے دن راہی مُلکِ عدم ہوئے ۔ نواز صاحب میری بھانجی کے سُسر تھے ۔ بہت ہی خوش اخلاق شخص تھے ۔ اللہ جنت میں مقام دے ۔

دوسرا واقع ان دنوں کا ہے جب شاہراہ کشمیر صرف اکیہری سڑک تھی ۔ ایک صاحب راولپنڈی کی طرف سے اسلام آباد آ رہے تھے ۔ شاہراہ کشمیر پر اُنہوں نے ایک کار سڑک کے کنارے کھڑی دیکھی جس کا بونٹ کھلا تھا اور ایک خوش پوش شخص جھُکا ہوا انجن کو دیکھ رہا تھا ۔ وہ اپنی کا ایک طرف کھڑی کر کے اس کی مدد کو گیا اور کہا ” کیا ہوا ؟ میں کچھ آپ کی مدد کر سکتا ہوں ؟” جھکا ہوا شخص سیدھا کھڑا ہو کر کہنے لگا “پتہ نہیں اچانک انجن بند ہو گیا ہے”۔ اُس شخص نے کار میں بیٹھ کر چابی گھمائی تو کار سٹارٹ ہو گئی ۔ وہ باہر نکل آیا اور کہا”جناب آپ کی کار تو بالکل ٹھیک ہے”۔ یہ کہہ کر وہ اپنی کار کی طرف جانے کیلئے پلٹا ہی تھا کہ وہ شخص اچانک اپنی کار کے بونٹ پر گر پڑا ۔ اس نے بھاگ کر اسے سنبھالا ۔ اُس کی کار کی تلاشی لی تو اسے وزٹنگ کارڈ مل گئے ۔ اس کا نام ظفر تھا اور وہ اسلام آباد ایف ۔ 10 گلی نمبر 40 میں رہتا تھا ۔ ظفر صاحب کو اپنی کار میں ڈالا اور اس کی کار کو بند کر کے ہسپتال کی طرف روانہ ہوا ۔ ہسپتال پہنچ کر معلوم ہوا کہ ظفر صاحب وفات پا چکے ہیں ۔ ضروری کاروائی کے بعد ظفر صاحب کے گھر گیا اور بتایا کہ “ظفر صاحب کی راستہ میں طبیعت خراب ہو گئی تھی اُنہیں ہسپتال داخل کرا دیا ہے ۔ میرے ساتھ کسی کو بھیجیں جو اُن کی کار لے آئے”۔ ظفر صاحب سے میری ملاقات طرابلس لبیا میں ہوئی ۔ وہ لیبی ایئرلائین میں پائلٹ تھے ۔ اچھے ملنسار آدمی تھے اللہ جنت نصیب کرے ۔

کوئی شخص بیمار پڑا ہو یا کسی حادثہ میں شدید زخمی ہو جائے تو کہہ دیا جاتا ہے کہ وجہ بیماری یا حادثہ ہے ۔ لیکن کئی بھلے چنگے آدمی بھی ایک لمحہ میں مُلکِ عدم کو سُدھار جاتے ہیں ۔ اسے جدید زبان میں کارڈِیئک اریسٹ کہہ دیا جاتا ہے ۔ میں نے اُوپر دو واقعات بیان کئے ہیں ۔ میری والدہ تو تین دن بے سُدھ رہ کر اللہ کو پیاری ہوئیں لیکن میرے دادا ۔ پھوپھی اور بڑی خالہ گھر میں بیٹھے باتیں کرتے اچانک چلتے بنے تھے ۔ ہر جاندار نے مرنا ہے اور جانداروں کے علاوہ بھی جو کوئی چیز ہے اُس نے بھی فنا ہو جانا ہے ۔ انسان کو ہر وقت اپنی موت کیلئے تیار رہنا چاہیئے یعنی غلط کام چھوڑ کر اچھے کام کرنا چاہئیں کیونکہ موت کبھی بھی آ سکتی ہے ۔

سُورت 3 ۔ آل عِمْرَان ۔ آیت 185 ۔ كُلُّ نَفْسٍ ذَآئِقَة ُالْمَوْتِ وَإِنَّمَا تُوَفَّوْنَ أُجُورَكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَمَن زُحْزِحَ عَنِ النَّارِ وَأُدْخِلَ الْجَنَّةَ فَقَدْ فَازَ وَما الْحَيَاةُ الدُّنْيَا إِلاَّ مَتَاعُ الْغُرُورِ
ہر جاندار کو موت کا مزہ چکھنا ہے ۔ اور تم سب اپنے اپنے پورے اجر قیامت کے روز پانے والے ہو ۔ کامیاب دراصل وہ ہے جو وہاں آتشِ دوزخ سے بچ جائے اور جنت میں داخل کر دیا جائے ۔ رہی یہ دنیا تو یہ ایک ظاہر فریب چیز ہے

سُورت 21 ۔ الْأَنْبِيَآء ۔ آیت 35
كُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ وَنَبْلُوكُم بِالشَّرِّ وَالْخَيْرِ فِتْنَةً وَإِلَيْنَا تُرْجَعُونَ
ہر جاندار کو موت کا مزہ چکھنا ہے ۔ ہم بطریقِ امتحان تم میں سے ہر ایک کو بُرائی بھلائی میں مبتلا کرتے ہیں اور تم سب ہماری ہی طرف لوٹائے جاؤ گے

سُورت 29 ۔ الْعَنْکَبُوْت ۔ آیت 57
كُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ ثُمَّ إِلَيْنَا تُرْجَعُونَ
ہر جاندار کو موت کا مزہ چکھنا ہے ۔ پھر تُم سب ہماری طرف ہی پلٹا کر لائے جاؤ گے

سُورت 55 ۔ الرَّحْمٰن ۔ آیت 26
كُلُّ مَنْ عَلَيْهَا فَانٍ
ہر چیز جو زمین پر ہے فنا ہو جانے والا ہے

غیرت مند لوگ

ایک بہت پُرانا واقعہ ہے جب میں انجنیئرنگ کالج لاہور میں پڑھتا تھا ۔ میں بس پر راولپنڈی سے لاہور جا رہا تھا ۔ راستہ میں بس گوجرانوالا رُکی تھی اور میں بس چلنے کی انتظار میں وہاں ٹہل رہا تھا کہ ایک آٹھ دس سالہ لڑکا آ کر کہنے لگا “آپ پالش کروائیں گے ؟” ۔ میں نے نفی میں جواب دیا تو وہ مایوس ہو کر چل پڑا ۔ میں نے دیکھا کہ پالش کرنے والا نہیں لگتا تھا ۔ اس کے تھیلے پر نظر ڈالی تو اُس کے اندر کاپیاں کتابیں محسوس ہوئیں ۔ میں نے اُسے بُلایا اور پوچھا ” تمہارے تھیلے میں کتابیں ہیں ۔ تم سکول نہیں گئے ؟” افسردہ ہو کر کہنے لگا “میرے پاس ایک مضمون کی کاپی نہیں ہے ۔ ماسٹر جی ماریں گے”۔ میں نے کہا “میں نے دیکھا نہیں تھا کہ میرے بوٹ پالش ہونے والے ہیں ۔ چلو جلدی سے پالش کر دو”۔ اُس نے پالش کر دی تو میں نے اُسے ایک روپیہ دے کر کہا “جلدی سے کاپی خریدو اور سکول جاؤ”۔ وہ بولا “مجھے دو آنے دے دیں [آجکل کے ساڑھے بارہ پیسے] ۔ میرے پاس کوئی پیسہ نہیں ہے”۔ میں نے اُس کی جیب میں روپیہ ڈالنا چاہا تو وہ رونے لگ گیا اور کہنے لگا “میری باجی مجھے مارے گی”۔ میں نے پھر اُسے دو آنے دیئے اور وہ خوش خوش بھاگ گیا”

میں مارچ 1983ء سے ستمبر 1985ء تک ٹیکنیکل ٹریننگ انسٹیٹیوٹ کا پرنسپل تھا ۔ وہاں بابا شکیل میرا چپڑاسی تھا ۔ حلیم طبع اور نہائت دیانتدار ۔ ایک دن مجھے کہنے لگا “جناب بطور چپڑاسی میں کئی سال سے تنخواہ کی اُوپر والی حد پر ہوں اور ترقی ہو نہیں سکتی ۔ اب بیٹے کی دسویں جماعت کی پڑھائی اور گھر کی دال روٹی دونوں نہیں چل سکتے”۔ میں نے انتظامیہ میں ایک آفیسر سے بات کی تو اُس نے بھی بابا شکیل کی تعریف کی اور کوئی راہ نکالنے کا وعدہ کیا ۔ چند ماہ بعد مجھے اس آفیسر نے بتایا کہ چھوٹی آفس پرنٹنگ مشین کے آپریٹر کی آسامی خالی ہے اور اس کیلئے عملی امتحان دو ہفتے بعد ہو گا ۔ بابا شکیل کو فوری طور پر بھیج دوں تاکہ اُسے دو ہفتے میں تربیت دے کر امتحان کیلئے تیار کر دیں ۔ میں نے بابا شکیل کو بھیج دیا اور اس نے بڑی محنت سے ایک ہی ہفتے میں کام سیکھ لیا ۔ دو ہفتے بعد امتحان ہوا تو وہ اول رہا اور اُسے تقرری کا خط دے دیا گیا ۔ ایک ماہ وہاں کام کرنے کے بعد بابا شکیل میرے پاس آیا اور کہنے لگا “جناب آپ نے مجھ پر بہت مہربانی کی تھی مگر میں بیوقوف آدمی ہوں ۔ وہاں تنخواہ تو زیادہ ہے لیکن ماحول اچھا نہیں ہے ۔ ارد گرد لوگ گندی باتیں کرتے ہیں اور مجھے بھی نہیں بخشتے ۔ میں وہاں رہا تو بہت گنہگار ہو جاؤں گا ۔ ہم صرف ایک وقت روٹی کھا لیا کریں گے”۔ اور مجھے اس کو واپس بلانا پڑا ۔

اگست 1992ء سے اگست 1994ء میں ڈائریکٹر پی او ایف ویلفیئر ٹرسٹ تھا ۔ ایک چپڑاسی کی اسامی کیلئے درخواستیں طلب کیں ۔ اُمیدواروں میں ایک جوان ٹھیک ٹھاک کپڑوں میں تھا ۔ پوچھنے پر معلوم ہوا کہ الیکٹریکل سپروائزر کا ڈپلومہ رکھتا ہے ۔ کئی سال سے جس کمپنی کے ساتھ کام کر رہا تھا اس کا پراجیکٹ ختم ہو گیا ہے اسلئے بیکار ہے ۔ میں نے کہا “چپڑاسی کی قلیل تنخواہ اور کام آپ کے مطابق نہیں”۔ تو بولا “جناب میں ہر قسم کا کام کر لوں گا ۔ جھاڑو تک دے لوں گا ۔کچھ ملے گا ہی ۔ پلّے سے جائے تو نہیں”۔

اسلام آباد میں مانگنے والے آتے رہتے ہیں اور وہ پیسے اور کپڑے وغیرہ مانگتے ہیں ۔ چار پانچ سال قبل ایک شخص آیا داڑھی میں کالے سفید بال ۔ کہنے لگا “جناب ۔ میں بھوکا ہوں ۔ کچھ بچا کھُچا کھانا ہو تو دے دیں”۔ میں نے 20 روپے دینا چاہے تو بولا “جناب ۔ پیسے نہیں کچھ کھانے کو دے دیں بیشک کل پرسوں کا ہو”۔ میں اُسے انتظار کا کہہ کر اندر گیا بیوی سے کہا تو اس نے ملازمہ سے روٹی پکوا دی ۔ سالن یا ترکاری نہیں تھی اور گھر میں انڈے بھی نہ تھے کہ جلدی بنا دیتے ۔ روٹی لے کر میں باہر گیا اور اُسے کہا “بابا ۔ یہ لو پیسے اور یہاں قریب ہی چھوٹا سا ہوٹل ہے وہاں سے کچھ لے لو”۔ وہ کسی دوسرے شہر سے آیا لگتا تھا کیونکہ وہ پھر کچھ پریشان سا ہو گیا ۔ ہمارے ساتھ والے گھر کا ملازم اتفاق سے آ گیا میں نے اسے کہا کہ “اندر جا کر پوچھو اگر سالن ہو تو اس کو لا دو”۔ وہ اندر گیا اور کافی سارا اچار لے کر آ گیا ۔ اس شخص نے زمین پر بیٹھ کر روٹی اچار کھایا ۔ پانی پیا اور دعائیں دیتا چلا گیا ۔ میرے گھر کے بعد اس نے کسی گھر کی گھنٹی نہ بجائی ۔

تمباکو نوشی

ہمارے خاندان میں کوئی بھی تمباکو پیتا یا کھاتا نہیں تھا اور نہ ہے ۔ میں نے بچپن ہی ميں متعلقہ مضامين پڑھنا شروع کئے اور جب میں آٹھویں جماعت میں تھا تمباکو نوشی کے خلاف پہلا مضمون لکھا ۔ وہ مضمون اپنے ہم جماعت لڑکوں کو دِکھایا ۔ اُنہوں نے پڑھنے کے بعد ہماری جماعت کے اِنچارج ٹیچر کو دے دیا ۔ ٹیچر نے مجھے بُلایا تو میں کانپتا ہوا اُن کے پاس پہنچا ۔ ٹیچر نے مُسکراتے ہوئے میرا کندھا تھپتھپایا اور شاباش کہہ کر ہدائت کی کہ میں مضمون اخبار کو بھیجوں ۔ اُس زمانہ میں راولپنڈی سے صرف اُردو روزنامہ تعمیر شائع ہوتا تھا جو جہلم سے پشاور تک اور آزاد جموں کشمیر میں مقبول تھا ۔ میں نے سکول سے گھر جاتے ہوئے تعمیر کے دفتر جا کر مضمون اُنہیں دے دیا ۔ کچھ دن بعد وہ مضمون تعمیر میں چھپ گیا ۔ مجھے اُس وقت علم ہوا جب مجھے کئی بزرگوں کی طرف سے شاباش ملنے لگی ۔ چند ماہ بعد فروری میں آٹھويں کا مقابلہ کا امتحان اور مارچ میں سکول کا آٹھویں کا سالانہ امتحان دینا تھے اسلئے میں نے مزید مضامین نہ لکھے مگر اپریل میں نویں جماعت میں جاتے ہی پھر مضمون نویسی شروع کی اور میرے مضامین گاہے بگاہے تعمیر اخبار اور بچوں کے رسالہ تعلیم و تربیت میں چھپتے رہے ۔ ميرے سگريٹ کے خلاف حقائق والے مضامين 1956 کے آخر تک چھپتے رہے ۔ اُس کے بعد ميں پڑھائی ميں اتنا مشغول ہوا کہ وقت ہی نہ ملا ۔ اب تو اخبار والے لکھنے والے کا سٹيٹس ديکھ کر کچھ چھاپتے ہيں ۔

تمباکو کے خلاف تو سب بولتے ہيں مگر عمل کی تحريک بہت کم ہے ۔ پاکستان مسلمانوں کا ملک ہے اور دينی لحاظ سے نشہ ممنوع ہے ۔ اس کے باوجود پاکستان ميں تمباکو نوشی کی شرح بڑھ رہی ہے جبکہ مغربی ممالک جنہوں نے يہ علّت ہندوستان ميں پھيلائی وہاں کم ہو رہی ہے ۔ ايک سروے کے مطابق پاکستان ميں 40 فيصد مرد اور 8 فيصد عورتيں باقاعدگی سے سگريٹ پيتے ہيں ۔ اگر گٹکا ۔ پان اور نسوار کی صورت ميں استعمال ہونے والے تمباکو بھی شامل کر ليا جائے تو شائد پاکستان ميں تمباکو کے استعمال کی شرح دنيا کے تمام مُلکوں سے زيادہ ہو ۔ ورلڈ ہيلتھ آرگنائزيشن کے اندازہ کے مطابق اگلے 20 سال ميں شاید 500 ملين انسان تمباکو نوشی کی وجہ سے پيدا شُدہ بيماريوں سے مريں گے اور ان ميں اکثريت اُن کی ہو گی جو اس وقت نابالغ ہيں ۔

تمباکو نوشی پھيلانے کا سبب اشتہار بازی ہے بالخصوص ٹی وی جو کہ گھر گھر ميں ديکھا جاتا ہے ۔ ٹی وی پر سگريٹ کی مشہوری کيلئے ايسی ايسی فلميں چلائی جاتی ہيں جيسے سگريٹ ہی ميں انسان کی جان ہو ۔ ان اشتہاروں کا زيادہ اثر نابالغ اور کم عمر بچوں پر ہوتا ہے ۔ موجودہ حکومت نے بڑے کرّ و فر سے تمباکو نوشی کے امتناع کا آرڈيننس 2002 جاری کيا تھا مگر اُسے نافذ کرنے کی عملی کوشش آج تک نہيں کی گئی ۔ پچھلے سال ستمبر ميں اسلام آباد ميں ٹريفک پوليس کے ايک آفيسر نے انسانوں سے بھری وين چلاتے ہوئے سگريٹ پينے پر ايک ڈرائيور کے خلاف کاروائی کر کے اس معاملہ ميں پہل کی مگر اس کے بعد کچھ نہ ہوا ۔

چوالیس سال قبل ميں نے اپنے ماتحت ايک آفيسر سے پوچھا کہ آپ کو تمباکو نوشی سے کيا ملتا ہے ؟ اُس نے جواب ديا کہ سَر ۔ سچ بتاؤں تو اِس سے بُری کوئی اور عادت نہيں ۔ آدمی بھوکا ہو تو کسی سے کھانے کی چيز نہيں مانگتا ۔ مگر اپنے پاس سگريٹ نہ ہو تو کِسی بھی اجنبی سے مانگ کر اُس کے منہ سے نکلا ہوا سگريٹ اپنے منہ ميں ڈال ليتا ہے ” ۔

چار دن

بہادر شاہ ظفر نے لکھا تھا
عمرِ دراز مانگ کے لائے تھے چار دن ۔ ۔ ۔ دو آرزو ميں کٹ گئے دو انتظار ميں

ليکن يہ چار دن کا بيان ہے امام ابراہيم النّخاعی کا ۔ فرماتے ہيں ۔

جس دن ميں گھر سے نکلوں اور مجھے کوئی اپنے سے زيادہ علم رکھنے والا ملے تو ميں اس سے سيکھتا ہوں ۔ يہ دن ميرے فائدے اور نفع کا ہوتا ہے ۔

جس دن ميں گھر سے نکلوں مجھے کوئی اپنے سے کم علم رکھنے والا ملے تو ميں اسے سِکھاتا ہوں ۔ يہ دن ميرے انعام کا ہوتا ہے ۔

جس دن ميں گھر سے نکلوں مجھے ميرے جتنا علم رکھنے والا کوئی ملے تو ميں اس سے تبادلۂِ خيال کر کے اپنے علم کی تصحيح کرتا ہوں ۔ يہ دن ميرے سبق کا ہوتا ہے ۔

جس دن ميں گھر سے نکلوں مجھے کوئی ملے جس کا علم مجھ سے کم ہو مگر وہ اپنے آپ کو مجھ سے زيادہ علم رکھنے والا سمجھتا ہو تو ميں اس سے بات نہيں کرتااور اس دن کو ميں اپنے آرام کا دن سمجھتا ہوں ۔