Category Archives: روز و شب

ماموں مر جائیں

“اللہ کرے ماموں مر جائیں”
یہ میرے الفاظ نہیں ہیں بلکہ دو کمسِن لڑکیوں کے ہیں جو اُنہوں نے اپنی کسی طلب کے نہ پورا ہونے کی بناء پر نہیں بلکہ پچھلے سال 3 اور 10 جولائی کے درمیان اپنی ماں سے دلی بد دعا کے طور پر کہے تھے ۔

پاکستان کی ہوائی فوج کے ایک ریٹائرڈ افسر جو چکوال کے رہنے والے ہیں اور آجکل اسلام آباد میں رہائش پذیر ہیں سے میری جان پہچان ہے ۔ کئی ماہ بعد 3 جون 2008ء کو میری اُن سے ملاقات ہوئی ۔ اتفاق سے 2 جون کو ڈاکٹر شاہد مسعود کے پروگرام میرے مطابق میں لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ جمشید گلزار کیانی کا انٹرویو نشر ہوا تھا ۔ اُس پر میرے دوست اظہارِ خیال کر رہے تھے کہ سانحہ جامعہ حفصہ لال مسجد اسلام آباد کا ذکر آ گیا ۔ مجھ سے پوچھنے لگے “آپ کا اس واقعہ کے متعلق کیا خیال ہے ؟” میں نے کہا کہ وہ ایک ظالمانہ فعل تھا جس میں 4 سال سے 17 سال عمر کی سینکڑوں یتیم اور لاوارث بچیاں فاسفورس بم پھینک کر زندہ جلا دی گئیں ۔ پھر اُنہوں نے سوال کیا “کیا اللہ ایسا کرنے والوں کو سزا نہیں دے گا ؟” میں نے کہا کہ اللہ کے ہاں کسی بہتری کی وجہ سے دیر تو ہو سکتی ہے لیکن اندھیر نہیں ۔

وہ کہنے لگے
“پچھلے سال ایک واقعہ چکوال ہمارے خاندان میں ہوا جس کی بنا پر مجھے یقین ہے کہ اللہ لال مسجد پر حملہ کا حُکم دینے والوں کو عبرتناک سزا دے گا ۔ میرا ایک عزیز ہے اُس کا برادرِ نسبتی [بیوی کا بھائی] فوج میں ہے اور وہ کھاریاں میں تعینات تھا ۔ جب لال مسجد کے خلاف کاروائی شروع ہوئی تو اُسے اس کاروائی میں حصہ لینے کیلئے اسلام آباد بھیج دیا گیا ۔ میرے عزیز کی دونوں کمسِن بیٹیاں 2 اور 10 جولائی 2007ء کے درمیان ہونے والی کاروائی ٹی وی پر دیکھ کر گولیاں اور گولے چلانے والے فوجیوں کو بد دعائیں دے رہی تھیں ۔ اُن کی ماں نے اُنہیں کہا کہ کچھ خیال کرو ۔ تمہارا ایک ہی ماموں ہے وہ بھی ان میں شامل ہے تو دونوں بچیوں نے دعا کیلئے ہاتھ اُٹھا کر کہا کہ اللہ کرے ماموں مر جائیں” ۔

مصالحوں کی ملکہ

اس سے قبل میں قہوہ (چائنیز گرین ٹی) ۔ سؤنف اور سفید زیرہ کے متعلق لکھ چکا ہوں ۔ آج کچھ کالی مرچ کے بارے میں ۔یہ تو سب جانتے ہیں کہ کھانے میں کالی مرچ [black pepper]چٹخارے یا مہک کیلئے ڈالی جاتی ہے لیکن اس حقیقت سے بہت کم لوگ آشنا ہیں کہ کالی مرچ قدرتی طور پر ملنے والے امرت دھاروں میں سے ایک ہے جو اللہ سُبحانُہُ و تعالٰی نے انسان کیلئے پیدا کر رکھے ہیں ۔ کالی مرچ کا طِبّی استعمال ہزارہا سالوں سے انسان کے علم میں ہے جسے آج کا سائنس زدہ انسان پسِ پُشت ڈال چکا ہے ۔ کالی مرچ انسانی جسم کو شیشہ گر دھات [mangnese] ۔ حیاتین ک [vitamin K] ۔ حدید [iron] ۔ ریشہ [fibre] وغیرہ مہیا کرنے کا بہترین ذریعہ ہے ۔

کالی مرچ کے مناسب مقدار میں استعمال سے نظامِ ہضم کی خرابیاں کو دُور ہوتی ہیں اور آنتیں صحتمند رہتی ہیں ۔ کالی مرچ معدے کو برجستہ کرتی ہے جس کے نتیجہ میں خاص قسم نمک کے تیزاب کی مہیا ہوتی ہے جو ہاضمہ میں مدد دیتی ہے ۔ اس تیزاب کی کمی کی وجہ سے کھانا ہضم ہونے میں زیادہ وقت لیتا ہے جس کے نتیجہ میں سینے کی جلن اور تبخیری اثرات مرتب ہوتے ہیں جو نہ صرف تکلیف کا باعث ہوتے ہیں بلکہ شرمندگی کا بھی ۔ ذرا غور کیجئے کہ کالی مرچ کتنی اچھی دوست ہے ۔

کالی مرچ کی جلد میں یہ خصوصیت ہے کہ چربی کے خُلیوں کو توڑتی ہے اور مجتمع نہیں ہونے دیتی ۔ چنانچہ کالی مرچ کے مناسب استعمال سے آدمی موٹاپے کا شکار نہیں ہوتا اور چاک و چوبند رہتا ہے ۔

کالی مرچ کئی ادویات میں بھی استعمال ہوتی ہے ۔ پیس کر خالص شہد کے ساتھ لی جائے تو زکام کو دور کرنے میں مدد دیتی ہے ۔

جیسا کہ میں سبز اور کالی چائے کے بارے میں لکھ چکا ہوں کالی مرچ کی بھی تمام اقسام ایک جیسا اثر نہیں رکھتیں گو کہ وہ ایک ہی طرح کے پودے سے حاصل کی جاتی ہیں ۔ مزید اس کے تیار کرنے اور سوکھانے کے طریقے بھی اس کی خوائص پر اثر انداز ہوتے ہیں ۔ جو کالی مرچ سیاہ رنگ کی ہوتی ہے وہی بہترین ہے ۔ کالی مرچ خریدتے وقت پنساری سے کہیئے کہ سب سے عمدہ کالی مرچ چاہیئے تو وہ بغیر ملاوٹ والی صحیح کالی مرچ دے گا ۔ اس کی قیمت گو زیادہ ہو گی ۔

چائے کی طرح کالی مرچ بھی مشرقی دنیا کی پیداوار ہے ۔ یہ زیادہ تر انڈونیشیا اور ہندوستان میں پائی جاتی ہے ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یورپ اور امریکہ میں جو کالی مرچ استعمال ہوتی ہے وہ سب سے گھٹیا قسم کی ہوتی ہے جس کی وجہ شاید اس کا ارزاں ہونا ہے ۔ ہندوستان میں پیدا ہونے والی کالی مرچ انڈونیشی مرچ سے قدرے موٹی ہوتی ہے لیکن انڈونیشی کالی مرچ خصوصیات کے لحاظ سے بہترین ہے ۔

اچھی حکمتِ عملی

مطالبات کم رکھیئے اور ترجیحات اپنائیے

کوئی چیز یا عمل دسترس سے باہر ہو تو اپنے آپ کو سمجھائیے
“میں اِس کو ترجیح دیتا ہوں لیکن اگر وہ ہو جائے تو بھی ٹھیک ہے”

یہ ذہنی رُحجان اور رویّہ کی تبدیلی ہے جو ذہنی سکون مہیّا کرتی ہے

نتیجہ یہ ہو گا کہ
آپ کی ترجیح ہے کہ لوگ آپ کے ساتھ شائستگی سے پیش آئیں لیکن اگر وہ ایسا نہ بھی کریں تو آپ کا دن برباد نہیں ہو گا۔
آپ کی ترجیح ہے کہ آج دھوپ نکلے لیکن اگر بارش ہو جائے تو بھی آپ کو کوفت نہیں ہو گی

سوال کا جواب ۔ دوسرا سوال اور ہماری باتیں

گلاس ایک خوبصورت اور لذیز پھل ہے جو جموں کشمیر ۔ شمالی علاقہ جات اور بلوچستان میں پایا جاتا ہے ۔ یہ کالے اور سُرخ رنگ میں ہوتا ہے ۔ کالا میٹھا ہوتا ہے اور سُرخ تُرش یا تُرشی مائل میٹھا ۔ اس پھل کو انگریزی میں چَیری [cherry] کہتے ہیں

دوسرا سوال یہ ہے کہ چکودرا کِسے کہتے ہیں ؟

ہموطنوں کی حالت یہ ہے کہ انگریزی سیکھتے سیکھتے اُردو سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں اور صحیح انگریزی بولنا یا لکھنا ابھی بھی ان سے بہت دُور ہے ۔ اکثریت کو اپنی زبان بھَونڈی لگتی ہے ۔ جو لفظ وہ اُردو میں بولنا بھونڈا سمجھتے ہیں اُس کا انگریزی ترجمہ فخریہ بولتے ہیں

ہماری قوم اتنی صُلح پسند ہے کہ تایا ۔ چچا ۔ پھُوپھا ۔ ماموں ۔ خالو سب کو ایک گھاٹ پانی پلا دیا ہے یعنی سب اَنکَل بنا دیئے ہیں ۔ اِن بزرگان کی خواتین کو آنٹی بنا کر خواتین میں بھی مساوات قائم کی گئی ہے ۔ یہی سلوک اِن اَنکلان یا آنٹیوں کی اولاد کے ساتھ کچھ بڑھ کر ہی برتا گیا ہے تاکہ ثابت ہو جائے کہ کم از کم نئی نسل میں عورت اور مرد سب برابر ہیں یعنی لڑکا ہو یا لڑکی سب کزن ۔ جس کِسی سے ان میں سے کسی کا تعارف کروایا جاتا ہے وہ بیچارہ یا بیچاری سوچتی ہی رہ جاتی ہے کہ موصوف دراصل ہیں کون ؟

مزید یہ کہ انگریزی زبان کو ترقی کی نشانی سمجھا جاتا ہے ۔ جیسے کسی نے کہا تھا کہ انگریزوں کی ترقی کے کیا کہنے ۔ اُن کا بچہ بچہ انگریزی بولتا ہے ۔ جن شعبوں میں ترقی ہونا ضروری ہے وہاں تو قوم تنزّل کا شکار ہے لیکن ایک لحاظ سے کافی ترقی کر لی ہے ۔ ملاحظہ ہو بتدریج ترقی

بیت الخلاء اور غسلخانہ یا حمام کو پہلے ٹائیلٹ [toilet] کہنا شروع کیا پھر باتھ روم [bathroom] اور اب واش روم [wash room] کہا جاتا ہے ۔ مزید ترقی کی گنجائش ہے کیونکہ امریکہ میں بیت الخلاء کو ریسٹ روم [rest room] کہا جاتا ہے ۔ ہو سکتا ہے سارے دن کی تھکی امریکی قوم بیت الخلاء میں آرام محسوس کرتی ہو

افسوسناک اعداد و شُمار

اصل تو اللہ بہتر جانا تا ہے ۔ سرکاری تحریر شُدہ اعداد و شمار یہ ہیں

علاقہ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بدکاری کا نشانہ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اجتماعی بدکاری کا نشانہ
پورا پاکستان ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 1996 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 260
پنجاب ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔ ۔ 1509 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 233
سندھ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 170 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔ 27
سرحد ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 152
بلوچستان ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 33
اسلام آباد ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 76
شمالی علاقے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔ 20
آزاد جموں کشمیر ۔ ۔ ۔ 36

جنوری سے مارچ 2008ء کی صورتِ حال یہ ہے
علاقہ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بدکاری کا نشانہ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اجتماعی بدکاری کا نشانہ
پورا پاکستان ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 428 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 42
پنجاب ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔ ۔ 330 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 28
سندھ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 32 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔ 14
سرحد ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 25
بلوچستان ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 3
اسلام آباد ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 27
شمالی علاقے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 2
آزاد جموں کشمیر ۔ ۔ ۔ 9

اغواء
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 2007ء میں ۔ ۔ ۔ جنوری سے مارچ 2008ء
پورا پاکستان ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 2600 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 140
پنجاب ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔ ۔ 1998 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔ ۔ 47
سندھ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 391 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 57
سرحد ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 112 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔ ۔ ۔ ۔ 5
بلوچستان ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 41
اسلام آباد ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 4 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔ ۔ ۔۔ ۔ ۔ 8
شمالی علاقے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 2
آزاد جموں کشمیر ۔ ۔ 50 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔ ۔ 1

گاڑیاں جو چھِینی یا چوری کی گئیں
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 2007ء میں ۔ ۔ ۔ جنوری سے مارچ 2008ء
پورا پاکستان ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔ 23144 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 6229
پنجاب ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 13527 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 3210
سندھ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 7562 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 2453
سرحد ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 729 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 160
بلوچستان ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 614 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 170
اسلام آباد ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 537 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 179
شمالی علاقے ۔ ۔ ۔۔ 24 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 8
آزاد جموں کشمیر ۔ ۔ 134 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 43

خُود کُشیاں 2007ء میں
پورا پاکستان ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 232
پنجاب ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔ ۔ 8
سندھ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 199
سرحد ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 24
بلوچستان ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 0
اسلام آباد ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 0
شمالی علاقے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 0
آزاد جموں کشمیر ۔ ۔ 1

قتل
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 2007ء میں ۔ ۔ ۔ جنوری سے مارچ 2008ء
پورا پاکستان ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 10556 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 2540
پنجاب ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔ ۔ 5083 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔ ۔ ۔ 1170
سندھ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 2277 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 612
سرحد ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 2627 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔ ۔ ۔ 588
بلوچستان ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 399 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔ ۔ 109
اسلام آباد ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 100 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 27
شمالی علاقے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 59 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 5
آزاد جموں کشمیر ۔ ۔ 104 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔ 26

ٹریفک حادثات میں اموات
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 2007ء میں ۔ ۔ ۔ جنوری سے مارچ 2008ء
پورا پاکستان ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 5485 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔1097
پنجاب ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔ ۔ 3288 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔645
سندھ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 930 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔187
سرحد ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 740 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 165
بلوچستان ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 230 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 47
اسلام آباد ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 121 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔28
شمالی علاقے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 40 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 8
آزاد جموں کشمیر ۔ ۔ 133 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔17

بینک لوٹے گئے
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 2007ء میں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جنوری سے مارچ 2008ء میں
پورا پاکستان ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 37 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 11
پنجاب ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔ ۔ 15 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 5
سندھ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 20 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 6
سرحد ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 1
شمالی علاقے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 1

پٹرول پمپ لوٹے گئے
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 2007ء میں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جنوری سے مارچ 2008ء میں
پورا پاکستان ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 79 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 28
پنجاب ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔ ۔ 37 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 8
سندھ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 41 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 20
بلوچستان ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 1

سڑکوں پر ڈکیتی اور دوسرے جرائم
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 2007ء میں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جنوری سے مارچ 2008ء میں
پورا پاکستان ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 292962 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 76974

یہ اعداد و شمار دی نیوز میں چھپنے والی ایک رپورٹ سے لئے گئے

درندے

درِندہ اُس جانوار کو کہتے ہیں جو کہ شقی القلب ۔ انتہاء کا ظالم یا بے رحم ہو ۔ چوپایوں میں بھیڑیا درندہ کہلاتا ہے کیونکہ ہر شریف جانور یعنی ہرن ۔ بکرا ۔ گائے بیل وغیرہ اور انسان پر بھی بلا وجہ حملہ کر کے اُسے ہلاک کرنے کی کوشس کرتا ہے ۔ شیر کو درِندہ نہیں کہا جاتا کیونکہ اگر بھوکا نہ ہو یا اُسے کوئی تنگ نہ کرے تو وہ کسی پر حملہ نہیں کرتا خواہ ہرن ہو یا انسان ۔

اللہ نے انسان کو اشرف المخلوقات بنایا ہے لیکن ان میں کئی درندوں کو بھی مات کر جاتے ہیں ۔ اس کا ثبوت آئے دن پیش آنے والے واقعات ہیں ۔ تازہ ترین واقعہ اپنی نوعیت کی ایک مثال قائم کر گیا ہے اور ثابت کر دیا ہے کہ انسانوں میں چوپایوں سے بڑھ کر درندہ صفت پائے جاتے ہیں ۔ یہ واقعہ کسی گاؤں یا قصبہ میں نہیں ہوا بلکہ پاکستان کے سب سے بڑے شہر میں ہوا ہے جہاں کے رہنے والے اپنے آپ کو سب سے زیادہ مہذب سمجھتے ہیں ۔

اطلاعات کے مطابق 14 مئی 2008ء کو دوپہر ڈیڑھ بجے کے قریب رنچھوڑ لائینز میں ٹمبر مارکیٹ کے قریب سومیا مکرّم پیلس کے ایک فلیٹ میں رہائش پذیر اکبر سومرو کے گھر چار آدمی گھُس گئے ۔ اسلحہ کے زور پر اُنہوں نے زیور اور نقدی لوٹ لی ۔ جب ڈاکو جانے لگے تو اکبر سومرو پہنچ گئے ۔ اُس پر گولی چلا کر ڈاکو بھاگ نکلے ۔ گولی کی آواز اور اکبر کا شور سُن کر محلہ کے لوگ اکٹھے ہو گئے اور اُنہوں نے تین ڈاکوؤں کو قابو کر لیا ۔ مار پٹائی کے بعد لوگوں نے ڈاکوؤں پر مٹی کا تیل یا پٹرول چھِڑک اُن کو آگ لگا دی ۔ اس دوران پولیس اور ایدھی والے پہنچ گئے لیکن لوگوں نے اُنہیں بیس تیس منٹ تک قریب نہ جانے دیا ۔ اس طرح تین آدمی زندہ جلا دیئے گئے ۔ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ جب ڈاکو جل رہے تھے تو کچھ لوگ تالیاں بجا رہے تھے ۔

ایسی بیہیمانہ درندگی کی مثال پاکستان کی تاریخ میں نہیں ملتی ۔

کہا گیا کہ لوگ آئے دن کی ڈکیتیوں اور پولیس یا حکومت کی بے حِسی سے تنگ آئے ہوئے ہیں اسلئے اُنہوں نے ایسا کیا ۔ اگر یہ جواز مان لیا جائے تو ہمارے مُلک کے 8 کروڑ بالغان میں سے کم از کم 5 کروڑ جلائے جانے کے مستحق ہیں ۔

1 ۔ جو لوگ اپنی دہشت یا اثر و رسوخ کی بنا پر یا محکمہ کے اہلکاروں کی مُٹھی گرم کر کے ۔ ۔ ۔

ا ۔ بجلی چوری کرتے ہیں کیا وہ 24 گھنٹے ڈاکہ نہیں ڈال رہے ؟ ان میں سے عوام کہلانے والے کُنڈے ڈالتے ہیں اور صاحب کہلانے والے میٹر سے بالا بالا اپنے ایئر کنڈیشنر چلانے کیلئے بجلی حاصل کرتے ہیں ۔

ب ۔ نہروں کا پانی چوری کرنے والے ڈاکہ نہیں ڈال رہے ؟

ج ۔ اپنے پانی کے نلوں کیلئے لگے ہوئے چھوٹے سوراخ والے فیرُول [ferrule] اُتروا کر بڑے سوراخ والے فیرُول لگوانے والے ڈاکہ نہیں ڈال رہے ؟

2 ۔ کم تولنے والے یا عُمدہ چیز کی قیمت لے کر گھٹیا چیز بیچنے والے دُکاندار یا ذخیرہ اندوزی کر کے مصنوعی مہنگائی پیدا کرنے والے لوگ خریداروں کی جیبوں پر ڈاکہ نہیں ڈال رہے ؟

3 ۔ دوا ساز کمپنیوں کے اہلکار ٹی وی چینلز اور اخبارات میں بڑے بڑے اشتہار دے کر ۔ بااثر لوگوں اور ڈاکٹروں کو بڑے بڑے تحائف دے کر ۔ فائیو سٹار ہوٹلوں میں ڈنر دے کر اور ہوائی سفر کے ٹکٹ دے کر اپنی من مانی قیمت پر دوائیاں بیچتے ہیں ۔ کیا وہ عوام کی جیبوں پر ڈاکہ نہیں ڈال رہے ؟

4 ۔ قوم سے ٹیکسوں کی مَد میں وصول کیا ہوا روپیہ اپنی عیاشیوں پر خرچ کرنے والے حکمران یا اہلکار کیا عوام کی جیبوں پر ڈاکہ نہیں ڈال رہے ؟

5 ۔ جو ملازمین اپنے اوقاتِ کار میں سے وقت ذاتی کام کیلئے استعمال کرتے ہیں یا اس وقت کو گپ شپ میں یا دوسرے طریقوں سے ضائع کرتے ہیں یا دفتری املاک جن میں کار اور ٹیلیفون بھی شامل ہیں ذاتی اغراض کیلئے استعمال کرتے ہیں کیا وہ عوام کی جیبوں پر ڈاکہ نہیں ڈالتے ؟

6 ۔ جو بھائی اپنی بہن کے ۔ والدین اپنی اولاد کے ۔ خاوند اپنی بیوی کے ۔ بہن اپنے بھائی کے ۔ بیوی اپنے خاوند اور اولاد اپنے والدین کے جائز حقوق ادا نہیں کرتے کیا وہ اُن کے حقوق پر ڈاکہ نہیں ڈالتے ؟

7 ۔ جو لوگ گاڑی چلاتے ہوئے سُرخ بتی ہونے کے باوجود گذر جاتے ہیں یا اپنی قطار سے نکل کر زبردستی دوسری قطار میں گھُستے ہیں اور اگر راستہ نہ دیا جائے تو بدکلامی اور مار پیٹ پر اُتر آتے ہیں کیا وہ عوام کے حقوق پر ڈاکہ نہیں ڈالتے ؟

8 ۔ اپنی آمدن کیلئے فحش یا لچر قسم کے اشتہارات دکھانے والے ٹی وی چینلز اور اخبارات کیا عوام کے اخلاق پر ڈاکہ نہیں ڈال رہے ؟

9 ۔ زبردستی کی شادی کرنے والے یا زبردستی بدکاری کرنے والے کیا ڈاکہ ڈال کر کسی کی پوری زندگی نہیں لُوٹ لیتے ؟

فہرست مزید طویل ہے لیکن یہ بھی کیا کم ہے ۔

غلام قوم کا ضمير اور توحيد

اسی قرآن ميں ہے اب ترکِ جہاں کی تعليم
جس نے مؤمن کو بنايا مہ و پروين کا امير
تن بہ تقدير ہے آج ان کے عمل کا انداز
تھی نہاں جن کے ارادوں ميں خدا کی تقدير
تھا جو ۔ ناخُوب ۔ بتدريج وہی خوب ہوا
کہ غلامی ميں بدل جاتا ہے قوموں کا ضمير

زندہ قوت تھی جہاں ميں يہی توحيد کبھی
آج کيا ہے صرف اک مسئلۂِ علمِ کلام
روشن اس ضؤ سے اگر ظُلمت کو دار نہ ہو
خود مسلماں سے ہے پوشيدہ مسلماں کا مقام
ميں نے اے ميرِ سپہ ۔ تيری سپہ ديکھی ہے
قُل ھوَ اللہُ کی شمشير سے خالی ہے نيام
آہ ۔ اس راز سے واقف ہے مُلا نہ فقيہہ
وحدت افکار کی بے وحدت کو دار ہے خام

يوں محسوس ہوتا ہے کہ علّامہ اقبال نے يہ شعر آجکل کے دور کيلئے لکھے تھے