Category Archives: روز و شب

غزہ میں بہتا خون کیا کہتا ہے

اتنا تو ارزاں نہ تھا مسلماں کا لہو
آج جو ہر طرف وحشیانہ طریقہ سے مسلمانوں کے لہو سے خوفناک ہولی کھیلی جا رہی ہے اور بلاتمیز مرد یا عورت ۔ جوان یا بوڑھے یا بچے مسلمانوں کے جسموں کے چیتھڑے اُڑائے جا رہے ہیں اس کا بنیادی سبب تو ازل سے طاغوتی طاقتوں کا  اللہ  کے نام لیواؤں سے عناد ہے لیکن ان اللہ کے دشمنوں کے حوصلے بلند ہونے کی وجہ آج کے دور کے مسلمانوں کی اپنے دین سے دُوری ہے جس کے نتیجہ میں مسلمانوں نے اللہ سے ڈرنے اور اللہ ہی سے مدد مانگنے کی بجائے طاغوتی طاقتوں سے ڈرنا اور مدد مانگنا شروع کر دیا ہے [نیچے غزہ میں اسرائیلی دہشتگری کی جھلکیاں]

خود کو انسانیت کا پرستار اور مسلمانوں کو دہشتگرد کہنے والا امریکہ فلسطین میں اسرائیل کے روا رکھے ہوئے قتلِ عام کے متعلق کیا کہتا ہے ۔ نیچے پڑھیئے ۔ اگر اب بھی مسلمانوں خصوصاً حکمرانوں کو ہوش نہ آیا تو پھر مسلمانوں کو اپنی تباہی کیلئے تیار ہو جانا چاہیئے

امریکی صدر جارج بش نے کہا ہے  کہ تمام فریقین حماس پر زور دیں کہ وہ اسرائیل پر حملے روک دے۔ غزہ کی صورتحال پر پہلے بیان میں صدر بش کا کہنا تھا کہ غزہ میں اسمگل کئے گئے ہتھیاروں کی مانیٹرنگ تک جنگ بندی کا معاہدہ قبول نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسی جنگ بندی قبول نہیں جس میں اسرائیل پر راکٹ حملے جاری رہیں۔ صدر بش کا کہنا تھا کہ حماس کے حملے دہشتگردی ہیں۔ صدر بش نے تمام فریقین پر زور دیا کہ وہ اسرائیل پر حملے روکنے کیلئے دباؤ ڈالیں

وائٹ ہاؤس کے ڈپٹی پریس سیکرٹری گورڈن جونڈرو نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ امریکا نے اسرائیل سے کہا ہے کہ وہ چاہے فضائی حملہ کرے یا زمینی لیکن اس دوران عام شہریوں کی ہلاکتوں سے بچنے کی کوشش کرے۔ اسرائیل نے غزہ پر زمینی حملے کے لئے ہزاروں کی تعداد میں فوجی جمع کرلئے ہیں۔ ادھر امریکی وزیرخارجہ کونڈولیزا رائس نے کہا ہے کہ امریکا غزہ میں ایک ایسے سیزفائر کی کوشش کر رہا ہے جس کے بعد حماس غزہ سے باہر راکٹ حملے کرنے کے قابل نہ رہے۔

اگر پاکستانی مسلمانوں کا بھی حال ایسا ہی رہا جیسا ہے تو جو کچھ غزہ میں ہو رہا ہے وہی یا اُس سے بھی بھیانک حال پاکستان کا ہو سکتا ہے بلکہ یوں کہنا چاہیئے کہ اس کی منصوبہ بندی کے بعد اس پر عمل شروع ہو چکا ہے ۔ اِبتداء امریکہ کے حُکم پر لال مسجد اور جامعہ حفصہ پر فوجی کاروائی کر کے 1000 کے قریب بیگناہ انسانوں جن میں 600 سے زائد کم سٍن یتیم اور لاوارث بچیاں شامل تھیں کی ہلاکت سے ہوئی ۔ اسکے بعد امریکہ کے پاکستان کو کمزور کرنے کے منصوبہ کے تحت پاکستانی حکومت نے قبائلی علاقہ میں اپنی فوج کو اپنے ہی لوگوں کو ہلاک کرنے پر لگا رکھا ہے ۔ جس کے نتیجہ میں پاکستان کی معیشت انتہائی کمزور ہو چکی ہے ۔ پھر بھی امریکہ کی طرف سے “ڈُو مَور” کا وِرد ہو رہا ہے ۔ اور اب امریکہ کی شہہ پر بھارت بھی اس راگ میں شامل ہو گیا ہے

مکمل تباہی سے بچنے کی صرف ایک ہی صورت ہے کہ خودغرضیوں کو چھوڑ کر قومی بہتری کیلئے جد و جہد کی جائے ۔پاکستانی مسلمان اپنی بقاء اور اپنے اور اپنی آنے والی نسل کیلئے باعزت زندگی کی خواہش رکھتے ہیں تو ابھی بھی وقت ہے کہ اپنی غلطیوں پر پشیمان ہو کر اپنے پیدا کرنے والے جو اس کائنات کا خالق و مالک ہے اور اس کے نظام کو چلا رہا ہے سے اپنی ماضی کی غلطیوں کی معافی مانگیں اور آئیندہ اللہ کی ہدائت کے مطابق چلنے کی سچے دل سے بھرپور کوشش کریں ۔ انسانوں سے جو کہ ہمیشہ رہنے والے نہیں ہیں ڈرنے کی بجائے اللہ سے ڈریں

مت بھولیں کہ اللہ نے ہمیں بھیجی گئی کتاب میں ہر چیز واضح طور پر بیان کر دی ہوئی ہے اور ہم اس سے استفادہ نہیں کرتے ۔ خُدا نے آج تک اُس قوم کی حالت نہیں بدلی ۔ نہ ہو جس کو خیال خُود اپنی حالت بدلنے کا ۔ علامہ اقبال نے اس شعر میں اس آیت کا مدعا پیش کیا ہے ۔
سورت 53 ۔ النّجم ۔ آیت 39 ۔ وَأَن لَّيْسَ لِلْإِنسَانِ إِلَّا مَا سَعَی ۔ ترجمہ ۔ اور یہ کہ ہر انسان کیلئے صرف وہی ہے جس کی کوشش خود اس نے کی

اللہ ہمیں اللہ کے سوا کسی سے نہ ڈرنے اور سیدھی راہ پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین

امریکہ ٹوٹنے کی طرف گامزن

دنیا میں بڑی بڑی سلطنتیں بنیں ۔ جن میں عاد و ثمود ۔ کسرٰی ۔ نمرود اور فرعون مشہور ہیں ۔ ان کے دور کے متعلق جو معلومات ہمیں ملتی ہیں یہی ہیں کہ ان لوگوں نے بہت ترقی کی اور آرام و آسائش کے بہت سے وسائل حاصل کئے ۔ یہ حُکمران اتنے طاقتور ہو گئے کہ اپنے آپ کو نعوذ باللہ من ذالک خدا سمجھ بیٹھے ۔ جو اُن کا باجگذار نہ بنتا اُس پر ظُلم کرتے ۔ وہ مِٹ گئے اور اُن کی سلطنتیں جن پر اُنہیں گھُمنڈ تھا اُن کا بھی نام و نشان مٹ گیا سوائے فرعون کے جس کے متعلق مالک و خالقِ کائنات کا فیصلہ تھا کہ رہتی دنیا تک اُسے عبرت کا نشان بنایا جائے گا ۔ سو فرعون کی حنوط شُدہ نعش ۔ ابوالہول کا مجسمہ اور احرامِ مصر آج بھی موجود ہیں ۔

ایک صدی قبل تک مسلمانوں کی سلطنت دنیا کی سب سے بڑی سلطنت تھی مگر اللہ کے احکامات کی پابندی نہ کرنے کی وجہ سے 1915ء میں بکھر گئی ۔ مسلمانوں کی سلطنت بکھرنے کے بعد روسی اشتراکی جمہوریتوں کا اتحاد اور ریاستہائے متحدہ امریکہ طاقت پذیر ہوئے اور اپنے آپ کو سُپر پاور کا خطاب دے دیا ۔

بہت دُور کی بات نہیں کہ ان میں سے ایک سُپر پاور روس نے طاقت کے بل بوتے قریبی ریاستوں پر قبضہ کرنا شروع کیا اور پولینڈ ۔ بیلارس ۔ لتھوانیا ۔ ایسٹونیا ۔ لیٹویا ۔ سلوواکیا ۔ چیک ۔ کروشیا ۔ سربیا ۔ رومانیہ ۔ بوسنیا ۔ ہرزیگووینا ۔ بلغاریہ اور مالدووا پر قبضہ کر کے مسلمانوں اور مذہبی عیسائیوں کو اپنا مذہب چھوڑنے پر مجبور کیا اور جس نے ایسا نہ کیا اسے جان سے مار ڈالا یا کال کوٹھڑی میں ڈال دیا اور اس طرح روسی اشتراکی جمہوریتوں کا اتحاد قائم کیا ۔ یہیں بس نہ کیا بلکہ یورپ سے باہر بھی اپنا عمل دخل بڑھانا شروع کر دیا اور اسی عمل میں افغانستان پر قبضہ اس سُپر پاور کے ٹوٹنے کا بہانہ بنا ۔

روسی اشتراکی جمہوریتوں کا اتحاد ٹوٹنے کے بعد ریاستہائے متحدہ امریکہ کے حُکمران جو پہلے ہی کئی ممالک پر قبضہ کر چکے تھے مزید خُودسَر ہو گئے اور مسلمانوں کو تیزی سے ختم کرنے کی منصوبہ بندی کرنے لگے تاکہ ان کے مقابل کوئی کھڑا نہ ہو سکے ۔ اس پر عمل درآمد کیلئے پہلے ڈبلیو ایم ڈی کا بہانہ گھڑ کر عراق پر حملہ کیا پھر افغانستان پر حملہ آور ہوا ۔ افغانستان پر حملہ سے پہلے خود ہی ورلڈ ٹریڈ سینٹر کو اسلئے گرا دیا کہ دنیا کی ناجائز حمائت حاصل کی جائے ۔

امریکی حکمرانوں کی ہوّس اور بے حِسی اس قدر بڑھ چکی ہے کہ وہ اپنی خواہش کی تکمیل کیلئے لاکھوں بے کس لوگوں کو بے گھر کرنے اور اں کے ہاتھ سے رزق چھننے اور ہزاروں لوگوں کے جسموں کے چیتھڑے اُڑانے میں بھی دریغ نہیں کرتے ۔ اب اُن کی آنکھیں واحد مسلم ایٹمی طاقت پر گڑی ہیں ۔ اُن کا مقصد دنیا میں غیر مسلموں کے مکمل غلبے کے سوا کچھ نہیں

اس خود غرضی کی جنگ میں امریکی عوام بُری طرح سے جکڑے جا چکے ہیں ۔ امریکی عوام کو شاید اب تک سمجھ نہیں آئی کہ اُن کے ساتھ کیا ہو رہا ہے ۔ اُن کے حکمرانوں کی بنائی ہوئی نام نہاد “دہشتگردی کے خلاف جنگ” نے جو تحفے امریکی عوام کو دیئے ہیں وہ ہیں ۔ عراق میں 5000 کے قریب امریکی فوجی ہلاک ۔ ڈیڑھ لاکھ کے قریب فوجی زخمی اور 167 امریکی فوجی خود کشی کر کے ہلاک ۔ امریکی عوام میں بے چینی کو بڑھنے سے روکنے کیلئے امریکی حکمرانوں نے افغانستان میں ہونے والے نقصانات کو ظاہر نہیں ہونے دیا لیکن وہاں بھی عراق سے کم نقصان نہیں ہوا ۔ معاشی لحاظ سے اس خودغرضی کی جنگ نے ریاستہائے متحدہ امریکہ کو کھوکھلا کر دیا ہے ۔ اب تک اس جنگ میں 10 کھرب یعنی ایک ٹریلین ڈالر جھونکا جا چکا ہے ۔ اور امریکیوں کو بونس کے طور پر دنیا کے لوگوں کی اکثریت کی نفرت ملی ہے ۔ اس سب نقصان کے بعد صورتِ حال یہ ہے کہ بظاہر پورے عراق پر امریکہ کی حکمرانی ہے مگر افغانستان میں کابل سے باہر مُلا عمر کا سکہ چلتا ہے ۔

ایک حقیقت جو ریاستہائے متحدہ امریکہ کے حکمرانوں نے پیشِ نظر نہیں رکھی وہ قانونِ قدرت ہے جس پر عمل ہوتا آیا ہے اور قیامت تک ہوتا رہے گا ۔ تاریخ گواہ ہے کہ جس نے خلقِ خدا کو ناحق قتل کیا یا برباد کیا وہ خود بھی برباد ہوا اور اُس کا نام و نشان مٹ گیا

دنیاوی طور پر دیکھا جائے تو کوئی شخص پہاڑ کی چوٹی پر پہنچنے کے بعد وہا ں زیادہ وقت قیام نہیں کر پاتا اور اُسے نیچے اُترنا پڑتا ہے خواہ وہ جہاں سے اُوپر گیا تھا اُسی طرف اُترے یا پہاڑ کے دوسری طرف ۔ انسان کو ہی دیکھ لیں پہلے بچہ ہوتا ہے پھر جوان اور پھر بوڑھا یعنی کمزور سے طاقتور بننے کے بعد کچھ عرصہ طاقتور رہتا ہے اور پھر کمزور ہو جاتا ہے ۔ فارسی کا ایک قدیم مقولہ ہے “ہر کمالے را زوالے”۔ یعنی کمال حاصل کرنے کے بعد زوال لازم ہے ۔

ایک تعلیم یافتہ شخص جس کا تعلق جموں کشمیر کے اُس علاقہ سے تھا جس پر 1947ء سے بھارت کا غاصبانہ استبدادی قبضہ ہے اور جس نے افغانستان پر سوویٹ یونین کے قبضہ کے خلاف جنگ میں حصہ لیا تھا کو اُس کے علم اور تجربہ کی بنیاد پر گیارہ سال قبل ایک مجلس میں اپنے خیالات کا اظہار کرنے کیلئے مدعو کیا گیا ۔ اُس نے افغانستان میں جنگِ آزادی کے متعلق اپنے تجربات اور مشاہدات کا ذکر کرنے کے بعد کہا “آپ نے دیکھا کہ سوویٹ یونین جیسی سُپر پاور ٹوٹ گئی ۔ ایسا کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا ۔ اب سوویٹ یونین کا کام بھی امریکہ نے سنھال لیا ہے ۔ آپ نوٹ کر لیجئے کہ آج سے 14 سال کے اندر امریکی ایمپائر ٹوٹ جائے گی”۔

روسی پروفیسر اِیگور پانارِن [Igor Panarin] نے کئی سال قبل پیشگوئی کی تھی کہ 2010ء میں امریکہ میں خانہ جنگی کے بعد موجودہ ریاستہائے متحدہ امریکہ کی سلطنت ٹکڑوں میں تقسیم ہو جائے گی ۔

آج ریاستہائے متحدہ امریکہ کے حکمران اس ترجیح پر عمل پیرا ہیں کہ “ہم ایک ایمپائر ہیں ۔ جب ہم قدم اُٹھاتے ہیں تو اپنی پسند کی حقیقت کو جنم دیتے ہیں ۔ لوگ ابھی اس حقیقت کے مطالعہ میں لگے ہوتے ہیں کہ ہم قدم بڑھا کر نئے حقائق پیدا کر دیتے ہیں ۔ بیشک لوگ اُن کا بھی مطالعہ کریں ۔ ہم تاریخ ساز ہیں اور باقی سب لوگ صرف ہماری بنائی ہوئی تاریخ کو پڑھنے کیلئے ہیں”

لیکن آنے والے کل کی کسی کو کیا خبر ۔ البتہ دیکھنے والی آنکھیں دیکھ رہی ہیں اور سوچنے والے دماغ سمجھ چکے ہیں کہ مستقبل قریب میں کیا ہونے والا ہے ۔

پچھلے نو سال کی اس مہم جوئی کے نتیجہ میں امریکی معیشت خطرناک حد غوطہ لگا کر کساد بازاری کا شکار ہے اور مزید اخراجات کی متحمل نہیں ہو سکتی ۔ ساتھ ہی بے روزگاری نئی بلندیوں کو چھُو رہی ہے ۔ اگر امریکی حکمرانوں کے یہی طور رہے تو وہ وقت دُور نہیں جب امریکی عوام احتجاج پر مجبور ہو جائیں گے اور مر جاؤ یا مار دو کے ارادوں سے سڑکوں پر نکل آئیں گے ۔ عوامی حقوق کی یہ جد و جہد خانہ جنگی کی صورت اختیار کر کے واحد سُپر پاور کو کئی ٹکڑوں میں تقسیم کر سکتی ہے ۔ لگتا ہے کہ حکمران اس صورتِ حال کی توقع رکھتے ہیں اسی لئے 2008ء کے اواخر میں 20000 فوجیوں کا چناؤ کیا جا چکا ہے جنہیں اگلے تین سال میں شہریوں کے بلووں سے نپٹنے کی تربیت دی جائے گی

اسرائیل غزہ اور اقوامِ متحدہ

جب ہم سکول میں پڑھتے تھے تو ہمیں بتایا گیا تھا کہ یو این او [UNO] مخفف ہے یونائٹڈ نیشنز آرگنائزیشن [United Nations Organization] کا جو اسی طرح کے کاموں کیلئے بنائی گئی لیگ آف نیشنز [League of Nations] کی ناکامی کے بعد معرضِ وجود میں لائی گئی تھی ۔ پچھلے 60 سال کے مشاہدہ سے واضح ہوا ہے کہ یو این او دراصل مخفف ہے یونائٹڈ ناسٹی نَیپوٹِزم آرگنائزیشن
United Nasty-nepotism Organization
کا ورنہ اس کے پروردہ دہشتگردوں کے ہاتھوں مسلسل یہ قتل و غارتگری کیوں ہوتی

_45329291_rafahcar_afp466
_45329607_wounded_afp466
_45330118_3tankssufagetty466
gaza1
gaza5
gaza7
gaza8
gaza9
gaza10
gaza11
gaza12

مسلمانوں کا المیہ

حقائق پر مبنی تحریر جو مسلمانوں بالخصوص پاکستانیوں کیلئے ایک تازیانے سے کم نہیں

ممبئی میں حالیہ دہشتگردی کے واقعات کے بعد بھارت کی ایما پر امریکہ نے پاکستان کو بغیر کوئی عذر دیئے اپنی کٹھ پتلی اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل کے ذریعے جماعت الدعوة اور دو دوسری پاکستانی رفاہی اور دینی تنظیموں کو دہشتگردقرار دے دیا جبکہ ان تنظیموں سے منسلک کچھ افراد کو عالمی دہشتگردوں کی فہرست میں بھی شامل کر دیا ۔ اقوام متحدہ کی اس کارروائی کے ساتھ ہی حکومت پاکستان نے ان تنظیموں بالخصوص جماعت الدعوة کے دفاتر کو ملک بھر اور آزادجموں کشمیر میں مقفل کر دیا اور اس کے کئی عہدیداروں اور رہنماؤں کو گھروں میں نظر بند کر دیا یا گرفتار کرلیا اور ان کے بنک اکاؤنٹس بھی منجمد کر دیئے گئے۔

ہمارے صدر، وزیراعظم اور دیگر اعلیٰ حکومتی اہلکار بار ہا یہ بات کہہ چکے ہیں کہ ابھی تک بھارت نے ہمیں ممبئی دہشتگردی کے حوالے سے ایسے شواہد فراہم نہیں کئے جن سے یہ ثابت ہوتا ہو کہ پاکستان کی کوئی تنظیم ان واقعات میں ملوث ہے اور نہ ہی اقوام متحدہ کی طرف سے کوئی ایسے شواہد پیش کئے گئے۔ لیکن ہم نے بغیر کوئی ثبوت دیکھے جماعت الدعوة جو پاکستان بھر میں اپنے رفاہی کاموں کی وجہ سے اچھی شہرت رکھتی ہے اور جس نے خاص طور پر زلزلہ زدہ علاقوں بشمول آزادکشمیر، بالاکوٹ، مانسہرہ اور بلوچستان میں کافی کام کیا ہے اس طرح دھاوا بول دیا جیسے ہمیں یقین ہے کہ یہ ایک دہشتگرد تنظیم ہے۔ ہمارے وزیر دفاع کا کہنا ہے کہ اگر حکومت پاکستان جماعت الدعوة کے خلاف ایکشن نہ لیتی تو خطرہ تھا کہ پاکستان کو ہی دہشتگرد ملک قرار دے دیا جاتا۔ کیا جناب احمد مختار ضمانت دے سکتے ہیں کہ اب پاکستان کو دہشتگرد ممالک میں فہرست میں شامل نہیں کیا جائے گا۔

بغیر کسی منطق اور جواز کے ہم کتنی آسانی سے ہر بیرونی حُکم کی بجا آواری کرتے جا رہے ہیں۔ 9/11 کے بعد پہلے ہی ہم نے اپنی قومی عزتِ نفس کو تار تار کرتے ہوئے امریکہ بہادر کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے سب کچھ کر ڈالا خواہ وہ قانونی تھا یا غیر قانونی خواہ وہ پاکستان دشمنی اور اسلام دشمنی کے مترادف تھا یا کہ نہیں اور اب ہم ماضی سے کچھ سبق سیکھے بغیر سب کچھ بھارت کے لئے کرنے پر تیار ہیں۔یہ سب کرنے کے باوجود امریکہ ہم سے آج تک خوش نہیں ہوا جبکہ بھارت نے ابھی سے do more-do more کی رٹ لگا رکھی ہے۔ اگر سلسلہ اسی طرح چلتا رہا تو نجانے ہمارا کل کیسا ہو گا۔ پہلے ہی امریکہ کی نظر میں پاکستان دنیا بھر کے لئے دہشت گردوں کا ٹھکانہ ہے۔ آج بھارت بھی امریکہ کی زبان بولتے ہوئے پاکستان کو دہشت گردوں کا مرکز [epicentre] گردانتا ہے۔ بیرونی قوتوں کے کہنے پر اگر ہم آج اپنی تنظیموں اور اپنے لوگوں کو دہشت گرد قرار دے کر ان کے خلاف کارروائی کریں گے تو کیا اس سے ہم آنے والے خطرات سے جان چھڑا پائیں گے۔

کیا یہ حقیقت نہیں کہ امریکہ بھارت اور اسرائیل کا اصل نشانہ پاکستان کی ایٹمی صلاحیت ہے، کیا ہم بھول گئے کہ یہی ممالک ہمارے ملک کی فوج اور آئی ایس آئی کے خلاف انتہائی سنگین الزامات لگاتے رہے ہیں اور اب بھی لگا رہے ہیں تا کہ ان اداروں کو کمزور کر کے اس ملک میں انتشار کی صورتحال پیدا کی جائے جس سے پاکستان کی ایٹمی تنصیبات پر بیرونی قبضے کا جواز پیدا کیا جا سکے۔ اپنی نااہلی اور بزدلی کی وجہ سے یقیناً ہم اپنے ملک کو دشمن قوتوں کے پھیلائے گئے جال میں آہستہ آستہ پھنسا رہے ہیں۔المیہ یہ ہے کہ دنیا میں کوئی امریکہ بھارت اور اسرائیل کی ریاستی دہشت گردی اور اس کے نتیجے میں لاکھوں مسلمانوں کی عراق، افغانستان، کشمیر، فلسطین اور پاکستان کے قبائلی علاقوں میں شہادت پر انگلی نہیں اٹھاتا۔ اس ریاستی دہشت گردی پر تو اقوام متحدہ بھی خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے جبکہ تمام اسلامی ممالک کو اپنی اپنی پڑی ہوئی ہے۔ اتحاد و یگانگت سے بیگانہ سب ایک دوسرے کی تباہی کا تماشہ دیکھ رہے ہیں۔ کوئی بھارت سے نہیں پوچھتا کہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے باوجود وہ کشمیر پر غاصبانہ قبضہ کیونکر جمائے ہوئے ہے۔ امریکہ افغانستان اور عراق میں لاکھوں مسلمانوں کی جانیں لینے کے باوجود ابھی بھی مسلمانوں کے خون کا پیاسا ہے۔ مگر اب بھی مسلمانوں کی آنکھیں بند ہیں اور ان کی عقل پر پردے پڑے ہوئے ہیں۔

ہم زبان سے تو اللہ تعالیٰ کو اپنا رب مانتے ہیں اور اسی سے ڈرنے کا اظہار کرتے ہیں لیکن حقیقت میں ہمارے دلوں میں امریکہ کا خوف اور ڈر بیٹھا ہوا ہے۔ ہم دنیا کو اور حتٰی کہ اپنے آپ کو اور اپنے لوگوں کو امریکہ کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ آج ہم اپنے مذہب کے متعلق اس حد تک معذرت خواہانہ رویہ اختیار کئے ہوئے ہیں کہ اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہوئے جھجھکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی خوشنودی حاصل کرنے کی بجائے ہم اپنی مسلمانیت کو اس طرح پیش کرنے کے جتن کر رہے ہیں جس سے امریکہ ہم سے خوش ہو جائے۔ لیکن یہ کبھی نہیں ہو سکتا کیونکہ یہی میرے اللہ کا وعدہ ہے۔ اگر ہم اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں اور اللہ تعالیٰ، اس کے رسول اور اس کی کتاب قرآن پاک پر ایمان رکھتے ہیں تو اپنے رب کے واضح احکامات کے باوجود ہم کیسے یقین کر سکتے ہیں کہ کافر اور یہود و نصاریٰ مسلمانوں کے دوست اور خیرخواہ ہو سکتے ہیں۔ ہم جو یہود و نصاریٰ کو راضی کرنے کے چکر میں پڑے ہوئے ہیں کیا اللہ تعالیٰ کا وہ فرمان بھول گئے جس کا مفہوم ہے یہ [یہودونصاریٰ اور کفار] تم [مسلمانوں] سے اس وقت راضی ہوں گے جب تم اپنے دین پر اُلٹے پاؤں پھر جاؤ گے یعنی کہ دین اسلام کو چھوڑ دو گے۔ کیا ہم قرآن کی اس بات کو بھول سکتے ہیں کہ ان [یہودونصاریٰ اور کفار] کی زبانوں سے کہیں زیادہ ان کے دلوں میں مسلمانوں کے خلاف بغض چھپا ہوا ہے۔

دین اسلام کی نظر میں جو ہمارے خیر خواہ نہیں ہو سکتے جو ہمارے بدترین دشمن ہیں انہی کو ہم نے اپنا آقا تسلیم کر لیا ہے اور ان کے ہر حکم پر اپنا سر تسلیم خم کر دیتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے جن قوموں کو مغضوب [ہمیشہ غضب میں رہنے والی] اور بھٹکے ہوئے کہا ہم آج کے مسلمان ان کی پیروی پر لگے ہوئے ہیں۔ کل افغانستان میں روسی فوجوں کے خلاف جنگ کو جہاد اور اس میں حصہ لینے والوں کو مجاہدین کہنے والوں نے آج افغانستان میں قابض امریکی اور نیٹو افواج کے خلاف برسرپیکار طالبان کو دہشت گرد اور انتہا پسند قرار دے دیا اور ہم مسلمان بھی انہی کا راگ الاپ رہے ہیں۔ جہاد چاہے وہ افغانستان، کشمیر یا عراق میں ہو اس کو ہم نے دہشت گردی سے جوڑ دیا ہے۔ ان حالات میں مسلمان کے مقدر میں ذلت اور رسوائی کے علاوہ اور کیا ہو سکتا ہے۔
انصار عباسی نے جنگ کیلئے لکھا اور 15 دسمبر 2008ء کو شائع ہوا

واہ بھئی واہ ۔ ۔ ۔

ہمیشہ کی طرح ایم کیو ایم نے چار پانچ روز “تک دنا دن” کر کے وہ حاصل کر لیا جو حاصل کرنا تھا اور بڑی کامیابی کے ساتھ حاصل کر لیا ۔ آپریشن ہوا اور سرکاری بیان کے مطابق 28 اور غیر سرکاری بیان کے مطابق 60 افراد جو دہشتگردی میں مطلوب تھے گرفتار کر لئے گئے ۔ چار دن کی مار ڈھاڑ میں مرنے والوں کی اکثریت رکشا ڈرائیور ۔ چوکیدار ۔ کوڑے کباڑ میں سے پلاسٹک کے تھلے اور کاغذ پتر چُن کر روزی کمانے والے پٹھان تھے ۔ آپریشن کس علاقہ میں ہوا ؟ جہاں اِسی قسم کے اور دوسرے غریب پٹھان رہتے ہیں ۔

اسی کو کہتے ہیں ۔ ایم کیو ایم کی پانچوں گھی ۔ شاید سر کڑاہی میں ہونے کی کسر رہ گئی ہے

واہ بھئی واہ ۔ واہ بئی واہ
پڑے پالاتو مریں غیریب
چلے لُو تو مریں غریب
واہ بھئی واہ ۔ کر دیا ٹھاہ

جل کےدل

آدھی صدی سے زائد قبل ایک گانا لکھنے والے کی روح سے معذرت کے ساتھ کچھ حسبِ حال تبدیلیاں شامل کر کے

دل کے پھپھولے جل اُٹھے سینے کے داغ سے
اس گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے

عوام خطاوار ہیں یا اُن کو بہکانے والے ؟
سب کے چہروں پر داغ ہیں کالے کالے

کتنے انتخابات ہوئے کوئی داغ دھویا نہ گیا
جل کے دِل خاک ہوا ۔ آنکھ سے رویا نہ گیا

[بہکانے والے یعنی حُکمران طبقہ]

کراچی کے طول و عرض میں میرے کئی بہت قریبی عزیز رہتے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ میں کراچی کے حالات پر نظر رکھتا ہوں ۔ نومبر کے آخری ہفتے میں تو میرا چھوٹا بیٹا اور بہو بیٹی بھی کراچی میں موجود تھے ۔ پاکستانی صاحب کی تحریر پڑھ کر جی چاہا تھا کہ میرے علم میں آنے والے واقعات کے متوقع نتائج بیان کروں پھر ٹھٹھک گیا کہ کہیں اس کا منفی اثر نہ ہو جائے ۔ لیکن جو مجھے صاف نظر آ رہا تھا اور اُسے لکھتے ڈر رہا تھا وہ وقوع پذیر ہو گیا ۔

الطاف حسین کا بار بار بیان آ رہا تھا کہ “کراچی میں طالبان جمع ہو رہے ہیں” ۔ “کراچی کو طالبان نے گھیرے میں لے لیا ہے” ۔ “عوام کراچی کو بچانے کیلئے تیار ہو جائیں” ۔ وغیرہ وغیرہ ۔ دبئی سے 22 نومبر رات گئے واپسی ہوئی ۔ 24 نومبر کو میرا کراچی میں اپنی ایک پھوپھی زاد بہن سے رابطہ ہوا تو میں نے انہیں محتاط رہنے کا مشورہ دیا ۔ وجہ پوچھنے پر میں نے بتا دیا کہ الطاف حسین کے بیانات معنی خیز اور خطرناک ہیں

29 نومبر کی رات ٹی وی اے آر وائی ون ورڈ لگایا تو کراچی میں بلووں کا معلوم ہوا ۔ جیو سمیت باقی سب ٹی وی سٹیشن دیکھے مگر سوائے اے آر وائی اور سماع کے کسی چینل نے یہ خبر نہ دی ۔ کراچی میں پھوپھی زاد بہن کو ٹیلیفون کیا تو معلوم ہوا کہ وہ بیٹی کے ہمراہ کہیں گئی ہوئی تھیں ۔ واپسی پر راستہ میں پٹھانوں کے علاقہ میں کچھ لوگوں نے جو ایم کیو ایم کے لگتے تھے فائرنگ کی اُنہوں نے ایک پٹھان کو گرتے دیکھا ۔ رکشا والے نے رکشا بھگایا اور متوقع متنازع علاقوں سے بچتا ہوا نارتھ کراچی پہنچ گیا ۔ اُن کا بیٹا اپنے کام کے سلسلہ میں کراچی میں پھرتا رہتا ہے ۔ اس نے دیکھا کہ ایم کیو ایم کے جوانوں نے دو پٹھانوں کو پِک اَپ سے اُتار کر پولیس والوں کی موجودگی میں زد و کوب کرنا شروع کر دیا ۔ اُس نے اپنی ایف ایکس کار موڑی اور بچتا بچاتا رات گئے گھر پہنچا ۔

تمام عینی شاہد کہتے ہیں کہ پہل ایم کیو ایم نے کی اور زیادتی بھی ایم کیو ایم نے کی ۔ یہی کچھ تھا جس کا اعلان الطاف حسین بار بار کر رہا تھا ۔ لیکن ایم کیو ایم کے رہنما کہتے ہیں کہ یہ کام اُن کے دشمنوں کا ہے ۔ الطاف حسین کی ایم کیو ایم والوں کا ہمیشہ سے یہی وطیرہ ہے کہ ظُلم بھی
کرتے ہیں اور مظلوم بھی کہلوانا چاہتے ہیں ۔ اگر بقول ایم کیو ایم کے رہنماؤں کے باہر کے لوگ دہشتگردی کر رہے ہیں تو پولیس ۔ رینجرز اور ایم کیو ایم کی چابکدست تنظیم کی موجودگی میں ایسا کیونکر ممکن ہے ؟

وہ جو کراچی کی مظلوم مہاجر تنظیم تھی وہ تو مئی 1993ء میں چیئرمین عظیم احمد طارق کے قتل [شہادت] کے ساتھ ہی مر گئی تھی یا الطاف حسین نے مار دی تھی جو اُس محنتی اور صُلح جُو رہنما عظیم احمد طارق کا بھی قاتل ہے ۔ میں دس سال کی عمر میں 1947ء میں اپنے عزیز و اقارب کے ساتھ ہجرت کر کے پاکستان آیا تھا لیکن میں نے یا میرے خاندان والوں نے اپنے آپ کو کبھی مہاجر نہ سمجھا ۔ میں صرف پاکستانی ہوں ۔ نہ پٹھان ہوں ۔ نہ بلوچی ۔ نہ سندھی ۔ نہ پنجابی ۔ نہ مہاجر

فرح ڈوگر ۔ مصباح مُغل اور اجمل بھوپال

آج ایک خبر پڑھ کر ماضی کے دِل شِکن اور ہِمت توڑ واقعہ کی مووی فلم میرے ذہن کے پردۂ سِیمِیں پر چل گئی کہ جسم کے رونگٹے کھڑے ہوتے محسوس ہوئے ۔ اور یوں محسوس ہوا کہ وطنِ عزیز کے پی سی او چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر کی بیٹی فرح کے خیر خواہوں نے صرف جسٹس غلام مصطفٰے مُغل کی بیٹی مصباح ہی کے ساتھ ظُلم نہیں کیا بلکہ وہ اُن ظالموں کے ساتھی ہیں جنہوں نے آدھی صدی قبل افتخار اجمل بھوپال پر ظُلم کیا تھا ۔

میں نے اللہ کے فضل و کرم سے میٹرک میں وظیفہ حاصل کیا اور ایف ایس سی بھی اچھے نمبروں پر پاس کی تو انجنیئرنگ کالج لاہور میں داخلہ لینے کی خواہش ہوئی ۔ اس زمانہ میں جموں کشمیر کے باشندوں کو پاکستان میں کوئی حقوق حاصل نہ تھے ۔ ان کیلئے پاکستان کے کچھ کالجوں میں ایک سے پانچ تک نشِستیں مختص تھیں جن کے استعمال سے وہ متعلقہ کالج میں داخل ہو سکتے تھے ۔ پاکستان بننے سے قبل بھی جموں کشمیر میں تعلیم عام تھی اور وہاں کا تعلیمی معیار بھی عمدہ تھا ۔ اگست 1947ء کے بعد تمام تر محرومیوں کے باوجود ہجرت کر کے پاکستان آنے والے جموں کشمیر کے خاندانوں کے بچے اس معیار کو برقرار رکھے ہوئے تھے ۔ اسلئے مختص کردہ نشِستیں نہائت قلیل تھیں جن پر داخلہ لینے کیلئے جموں کآشمیر کے طلباء کو ہائی میرِٹ کی ضرورت ہوتی تھی ۔ انجنیئرنگ کالج لاہور میں ہمارے لئے پانچ نشِستیں مختص تھیں جن میں میرا تیسرا نمبر بنتا تھا ۔ درخواستیں آزاد جموں کشمیر کی حکومت کو دینا ہوتی تھیں جہاں کے محکمہ تعلیم کے افسران ایک خاص بارسوخ گروہ سے تعلق رکھتے تھے ۔ نامزدگی کرتے ہوئے میرا نام چھٹے نمبر پر رکھ دیا گیا کہ اگر اوپر والوں سے کوئی رہ جائے تو چھٹے پر توجہ دی جائے ۔ جن تین طلباء کو مجھ سے مقدّم کیا گیا ان کے ایف ایس سی کے نمبر مجھ سے 20 سے 60 نمبر تک کم تھے کم تھے ۔ اس زمانہ میں ایف ایس سی کے کُل نمبر 650 ہوتے تھے ۔

جب والد صاحب کو اس چیز کا علم ہوا تو وہ بہت پریشان ہوئے ۔ کچھ بزرگوں نے مشورہ دیا کہ بیٹے کو کہو کہ براہِ راست پنجاب میرٹ کی بنیاد پر درخواست دے دے ۔ اس صورت میں پنجابی ہونے کی سند بھی درخواست کے ساتھ لگانا تھی جو میرے پاس نہیں تھی ۔ ایک بزرگ جو محکمہ تعلیم میں تھے نے کہا “داخلہ کی درخواست جمع کرانے میں صرف تین دن ہیں ۔ اس دوران کچھ نہیں ہو پائے گا ۔ تم داخلہ کی درخواست اور اپنی میٹرک اور ایف ایس سی کی اسناد لے کر لاہور چلے جاؤ اور انجنیئرنگ کے پرنسِپل صاحب کو مل کر سارا ماجرہ بیان کرو”۔ چنانچہ میں اگلے دن فجر کے وقت بس پر سوار ہو کر لاہور پہنچا اور 11 بجے پرنسِپل صاحب کے دفتر میں تھا ۔ ان دنوں ممتاز حسین قریشی صاحب قائم مقام پرنسِپل تھے ۔ اللہ اُنہیں جنت میں اعلٰی مقام عطا فرمائے نہائت مُشفق انسان تھے ۔ بڑے انہماک کے ساتھ میری عرض سنی اور میرا تعلیمی ریکارڈ دیکھنے کے بعد بولے “بیٹا ۔ درخواست میں لکھ دو کہ میں پنجابی ہونے کی سند حاصل نہیں کر سکااور ملتے ہی جمع کرا دوں گا”۔ پھر کسی صاحب کو بُلا کر کہا “فلاں صاحب سے کہو کہ اس کی درخواست لے لے ۔ پنجابی ہونے کی سند یہ بعد میں جمع کرا دے گا”۔ وھ شخص مجھے ساتھ لے گیا اور درخواست جمع ہو گئی ۔

اُس زمانہ میں انجنیئرنگ کالج لاہور میں داخلہ کیلئے امتحان ہوا کرتا تھا جس میں ایک پرچہ انگریزی ۔ طبیعات اور الجبراء اور دوسرا علمِ ہندسہ کا ہوتا تھا ۔ اگر داخلہ کے امتحان میں کوئی ناکام رہے تو اسے داخلہ نہیں ملتا تھا ۔ اور داخلہ کا میرٹ اس طرح تیار ہوتا کہ اُس امتحان کا وزن 30 ۔ ایف ایس سی کا 50 اور میٹرک کا 20 ۔ پنجاب میرٹ پر کُل 120 طلباء لئے جانے تھے ۔ امتحان کے بعد میرٹ لِسٹ لگی تو میرا نام اللہ کے فضل سے 64 نمبر پر تھا ۔ جو تین طلباء غلط طور پر جموں کشمیر کی فہرست میں شامل کئے گئے تھے وہ تینوں داخلہ کے امتحان میں ناکام رہے چنانچہ کالج نے حکومت آزاد جموں کشمیر سے مزید نامزدگی مانگی ۔ اس موقع پر انجیئرگ کالج کے پرنسپل صاحب نے مجھے بُلا کر ہدائت کی کہ میں پنجاب کی بنیاد پر داخلہ لے لوں تو بہتر ہو گا ۔ میں نے پنجابی ہونے کی سند کا کہا تو اُنہوں نے کہا “فیس جمع کرا دو اور جا کر راولپنڈی کے ڈپٹی کمشنر سے راولپنڈی میں رہائش کی سند لے آؤ”۔

سو اللہ سُبحانُہُ و تعالٰی کی کرم نوازی سے میرا داخلہ ہو گیا اور میں انجنیئر بن گیا ورنہ شاید مونگ پھلی بیچ رہا ہوتا یا منڈی میں ٹوکرا اُٹھا رہا ہوتا ۔
اور تم اللہ کی کو کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے ؟