Category Archives: روز و شب

اسرائیل کے خلاف پاکستانیوں کا پہلا احتجاج

ڈاکٹر وہا ج الد ین ا حمد صاحب نے میری تحریر ” برطانیہ کی بندر بانٹ اور صیہونیوں کی دہشت گردی” پر تبصرہ کرتے ہوئے بتایا کہ کس طرح شروع دن ہی سے پاکستانی قوم نے فلسطین کے حق میں آواز اُٹھائی ۔

“محترم ۔ اسرایل کی تاریخ لکھتے رہیں ۔ بہت اچھی معلومات ہیں اور انکا جاننا آج کے وقت میں ضروری بھی ہے ۔ مجھے یہ سوچ کر خوشی ہوتی ہے کہ 1948ء میں اسرائیل کے وجود میں آنے پر لاہور کے کالجوں کے طلباء نے احتجاجی جلوس نکالا تھا اور میں بھی اس میں شامل تھا گو مجھے کچھ بھی معلوم نہیں تھا بس یہی کہ ہم فلسطینی مسلمانوں کے حق میں ہیں ۔ میں اسلامیہ کالج میں نیا نیا داخل ہوا تھا”

وہا ج الد ین ا حمد صاحب جو اعلٰی پائے کے نیورولوجِسٹ ہیں سے میرا تعارف اُس وقت ہوا جب انہوں نے اگست 2006ء میں بلاگ لکھنا شروع کیا ۔ وہا ج الد ین احمد صاحب ریاست بھوپال کے قصبہ ساگر میں غالباً 1933ء میں پیدا ہوئے گو ان کے والدین کا تعلق پنجاب سے تھا ۔ وہاں سے ہجرت کر کے ان کے خاندان نے جموں کشمیر کے علاقہ بھمبر سے منسلک پنجاب کے قصبہ کوٹلہ میں سکونت اختیار کی جہاں انہوں نے جموں کشمیر کے اس حصہ کو آزاد ہوتے دیکھا جو آجکل آزاد جموں کشمیر کا حصہ ہے ۔ ایم بی بی ایس کرنے کے بعد انہوں نے ڈھائی سال صوبہ سرحد میں ملازمت کی پھر اعلٰی تعلیم کیلئے برطانیہ چلے گئے ۔ اس کے بعد مزید تعلیم کیلئے امریکہ گئے جس کے حصول کے بعد امریکہ کے ہی ہو کر رہ گئے ۔

طالبِ علم

الحمدللہ ۔ اللہ سُبحانُہُ و تعالٰی کا شکر ادا کرتا ہوں کہ ایک قاری محمد سعد صاحب سے ہفتہ عشرہ قبل کیا ہوا وعدہ پورا کرنے کی مجھے توفیق عطا کی ۔ بلا شُبہ انسان جو کچھ بھی ہے اللہ ہی کی دی ہوئی توفیق سے ہے

طالب کا مطلب ہے طلب یا چاہت یا تمنا رکھنے والا ۔ طالب علم کا مقصد یا مدعا یا نصبُ العین تعلیم حاصل کرنا ہوتا ہے ۔ شومئیِ قسمت سمجھ لیجئے یا غلط تربیت کا اثر کہ دورِ حاضر کے اکثر طلباء و طالبات کا مقصد یا مدعا یا نصبُ العین اسناد حاصل کرنا معلوم ہوتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ وطنِ عزیز کے ان سند یافتہ جوانوں کو دساور میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ پچھلے ساٹھ سال کا مشاہدہ بتاتا ہے کہ شروع کی دو دہائیوں میں جو ہموطن اعلٰی تعلیم کیلئے دساور گئے وہ کم سے کم وقت میں اعلٰی معیار کی جامعات سے کامیاب اور کامران ہوئے حالانکہ اپنے یہاں ان طلباء و طالبات کے نمبر 60 اور 80 فیصد کے درمیان ہوتے تھے ۔ فی زمانہ حال یہ ہے کہ طلباء و طالبات اپنے یہاں تو 80 سے 95 فیصد نمبر حاصل کر تے ہیں لیکن دساور میں ان کی کامیابی کا تناسب بہت کم ہو گیا ہے

آج سے 27 سال قبل تک اساتذہ کی کوشش ہوتی تھی کہ اُن کے شاگرد ایسا علم حاصل کریں کہ جہاں بھی وہ جائیں کامیاب ہوں اور اُنہیں دیکھنے والا یا ملنے والا کہہ اُٹھے کہ یہ جوان تعلیم یافتہ ہیں ۔ والدین بھی اپنے بچوں کو اسی مقصد کیلئے درس گاہوں میں بھیجتے تھے کہ اُن کی اولاد پڑھنا لکھنا سیکھنے کے ساتھ ساتھ ایک اچھے انسان بھی بن جائیں ۔ لگ بھگ آدھی صدی قبل میری انجنیئرنگ کالج لاہور کی تعلیم کے دوران ایک شام میں پروفیسر عنایت علی قریشی صاحب [اللہ غریقِ رحمت کرے] کے گھر اپنے کسی کام کیلئے گیا تو وہاں ایک بزرگ اپنے بیٹے کے ساتھ موجود تھے ۔ اُن کا بیٹا انجنئرنگ کالج کا ہی طالب علم تھا ۔ وہ بزرگ پروفیسر صاحب سے کہہ رہے تھے “میں نے اسے انسان بننے کیلئے یہاں بھیجا تھا ۔ ایک سال میں اس نے انگریزی تو فرفر بولنا شروع کر دی ہے لیکن ابھی تک گدھے کا گدھا ہے ۔ میں اسے واپس نا لیجاؤں اور خود ہی اسے انسان بناؤں ؟”

شاگرد اور اُن کے والدین اساتذہ کا بہت احترام کرتے تھے اور اساتذہ کی اپنے شاگردوں کی تربیت میں دلچسپی کے نتیجہ میں طلباء اور طالبات کی بھی کوشش ہوتی تھی کہ امتحان دینے والی پڑھائی کے ساتھ ساتھ وہ زندگی گزارنے کے اسلوب بھی سیکھیں ۔ کھیلوں میں حصہ لینا ۔ جسمانی ورزش کی تربیت ۔ بیت بازی اور علمی مباحثوں میں حصہ لینا عام سی بات تھی ۔ ہمیں سکول اور کالج میں آدابِ محفل بھی سکھائے جاتے تھے اور گرمیوں کی چھٹیوں کے دوران ہم نے عمارت میں لگی آگ بجھانے کا طریقہ ۔ ابتدائی طِبی امداد اور ہوائی حملہ سے بچاؤ کے طریقے بھی عملی طور پر سیکھے تھے ۔ اس کے علاوہ طلباء و طالبات اپنے طور پر معلوماتِ عامہ کا علم حاصل کرتے اور اکثریت حکومت کے متعلقہ ادارے کے ترتیب دیئے ہوئے امتحانات میں بھی بیٹھتے ۔

آج کی صورتِ حال دیکھ کر پریشانی کے سوا کچھ نہیں ملتا ۔ متذکرہ فرق کا سبب معیارِ تعلیم کا انحطاط ہے جس کے ذمہ دار صرف اساتذہ ہی نہیں طلباء و طالبات اور اُن کے والدین بھی ہیں ۔ حکومت نے 1970ء کی دہائی میں بجائے اِسکے کہ اُس وقت کے مروجہ نظامِ تعلیم میں بہتری پیدا کرتی تقریباً تمام نجی تعلیمی ادارے قومیا لئے اور ان پر اپنے پسندیدہ لوگوں کو مسلط کیا جن کی اکثریت کے پاس اسناد تو تھیں لیکن اُنہیں تدریسی تجربہ نہ تھا ۔ نتیجہ یہ ہوا کہ بجائے بہتری کے جو تعلیمی نظام چل رہا تھا وہ تنزل پذیر ہو گیا ۔

دورِ حاضر میں اساتذہ ۔ طلباء و طالبات اور اُن کے والدین سب کی صرف یہی کوشش ہوتی ہے کہ عِلم حاصل ہو نہ ہو کسی طرح تعلیمی سند حاصل کر لی جائے چاہے اس کے لئے رٹا لگایا جائے ۔ نقل ماری جائے یا ممتحن کی خدمت کی جائے یا اثر و رسوخ استعمال کیا جائے ۔ ہمارے زمانہ تعلیم میں بھی کبھی کبھی نقل مارنے کا انکشاف ہوتا رہتا تھا لیکن بہت کم تھا اور اس عمل کو بہت بُرا سمجھا جاتا تھا ۔ اب شاید نقل مارنے کو معیوب سمجھنے کی بجائے ہوشیاری سمجھا جانے لگا ہے کہ ہر کمرہ امتحان میں نقل مارنے والوں کا ذکر خیر ہوتا ہے مگر اس کے سدِباب کیلئے کوئی کوشش نظر نہیں آتی ۔ نقل مارنے کو انگریزی میں cheating کہا جاتا ہے اور دراصل نقل مارنا دھوکہ دہی ہی ہے ۔ نقل مارنے والا طالب علم صرف اپنے ممتحن ۔ اساتذہ اور طالب علم ساتھیوں کو ہی دھوکہ نہیں دیتا بلکہ اپنے والدین اور اپنے آپ کو بھی دھوکہ دے رہا ہو تا ہے ۔ [صحیح اُردو “نقل کرنا” ہے لیکن میں نے “نقل مارنا” اسلئے لکھا ہے کہ عام طور پر مستعمل یہی ہے]

نقل مارنا بڑا جُرم اور بڑا گناہ ہے بلکہ گناہوں کا مرکب ہے ۔ نقل مارنے والا بیک وقت چار جرائم یا گناہوں کا مرتکب ہوتا ہے اور چاروں میں سے ہر ایک گناہِ کبیرہ ہے ۔
ایک ۔ وہ جھوٹ بولتا ہے ۔ جو اُس کے علم میں نہیں نقل مار کر بتانے کی کوشش کرتا ہے کہ وہ جانتا ہے ۔
دو ۔ امتحان کا پرچہ دیتے ہوئے اس پر اعتماد کیا جاتا ہے کہ وہ دیانتداری سے جوابات لکھے گا لیکن وہ نقل مار کر امانت میں خیانت کر رہا ہوتا ہے
تین ۔ وہ نقل مار کر سب کو اپنے لائق ہونے کی جھوٹی گواہی دے رہا ہوتا ہے یا دھوکہ دے رہا ہوتا ہے اور
چار ۔ وہ نقل مار کر اُن طلباء کے ساتھ بے انصافی کرتا ہے اور اُن کا حق مارتا ہے جو نقل نہیں مارتے ۔

ایسا گناہ جس کا اثر کسی اور انسان پر بھی پڑتا ہو جیسا کہ نقل مارنے سے بھی ہوتا ہے تو یہ حقوق العباد کی نفی ہے جس کے متعلق اللہ سُبحانُہُ و تعالٰی کا فرمان ہے کہ جب تک متعلقہ انسان معاف نہیں کریں گے اللہ تعالٰی بھی معاف نہیں کریں گے ۔

سورت ۔ 2 ۔ البقرہ ۔ آیت ۔ 42 ۔ اور حق کو باطل کے ساتھ نہ ملاؤ اور سچی بات کو جان بوجھ کر نہ چھپاؤ

سورت ۔ 2 ۔ البقرہ ۔ آیت ۔ 283 ۔ ۔ ۔ ۔ اور اگر کوئی کسی کو امین سمجھے تو امانتدار کو چاہیئے کہ صاحب امانت کی امانت ادا کردے اور اللہ سے جو اس کا پروردگار ہے ڈرے۔اور شہادت کو مت چھپانا۔ جو اس کو چھپائے گا وہ دل کا گنہگار ہوگا۔

سورت ۔ 4 ۔ النِسآ ۔ آیت ۔ 135 ۔ اے ایمان والو! انصاف پر قائم رہو اور اللہ کے لئے سچی گواہی دو خواہ [اس میں] تمہارا یا تمہارےماں باپ اور رشتہ داروں کا نقصان ہی ہو ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تم خواہش نفس کے پیچھے چل کر عدل کو نہ چھوڑ دینا ۔ اگر تم پیچیدا شہادت دو گے یا [شہادت سے] بچنا چاہو گے تو [جان رکھو] اللہ تمہارے سب کاموں سے واقف ہے

قانون اور ہموطن

یہ صد سالہ غلامی کا اثر ہے یا ہماری دین سے بیگانگی کہ ہموطنوں کی اکثریت میں ملک کے آئین و قوانین کی پاسداری کا فُقدان ہے ۔ بلکہ یوں کہا جائے کہ آئین و قانون کی مُخالفت پر فخر کیا جاتا ہے تو درست ہو گا ۔ میں دنیا کے کوئی درجن بھر ممالک میں گیا بلکہ رہا ہوں جن میں امریکہ ۔ برطانیہ ۔ افریقہ ۔ جزیرہ نما عرب اور یورپ کے متعدد ممالک شامل ہیں مگر یہ صفت وطنِ عزیز کے علاوہ کسی اور ملک میں نہیں دیکھی ۔ کمال تو یہ ہے کہ وہ ہموطن جواپنے عمل سے وطنِ عزیز میں آئین و قانون کی کھُلی مخالفت کرتے ہیں دساور کے ان ممالک میں وہاں کے آئین و قانون کی پاسداری کی پوری کوشش کرتے ہیں

ہموطنوں میں اس رویّہ کی بڑی وجہ حُکمرانوں کے آئین اور قانون کے ماوراء اقدامات اور آئین و قانون کی کھُلے عام خلاف ورزی ہے ۔ حُکمرانوں یعنی صدر ۔ وزیرِ اعظم ۔ گورنروں ۔ وُزرائے اعلٰی ۔ چیئرمین سینٹ ۔ اسمبلیوں کے سپیکر ۔ وفاقی اور صوبائی وزراء ۔ سنیٹروں اور اسمبلیوں کے ارکان پر صرف آئینی و قانونی ہی نہیں اخلاقی پابندیاں بھی ہوتی ہیں ۔ اُنہیں ذاتی مفاد کو بالائے طاق رکھتے ہوئے صرف قومی اور عوامی مفاد میں کام کرنا ہوتا ہے اور عوام کے سامنے اپنے کردار کو ایک نمونہ کے طور پر پیش کرنا ہوتا ہے ۔ اپنے دفاتر اور رہائش گاہوں کے اندر بھی وہ ان قوانین اور اقدار کے پابند ہوتے ہیں ۔

سنیٹر اور ارکان اسمبلی تو سیاسی ہوتے ہیں اور اپنی اپنی جماعت کی نمائندگی کرتے ہیں مگر اُن پر آئین کے مطابق دوسری جماعتوں کی آئینی و قانونی رائے کا احترام واجب ہوتا ہے ۔ صدر ۔ وزیرِ اعظم ۔چیئرمین سینٹ اور قومی اسمبلی کے سپیکر کو سیاسی جماعتوں کے نمائندے ہی منتخب کرتے ہیں لیکن منتخب ہونے کے بعد یہ پورے مُلک کیلئے ہوتے ہیں اور اُنہیں جماعتی سیاست سے بالاتر ہو کر کام کرنا ہوتا ہے ۔ یہی صورتِ حال اپنے اپنے صوبے کے لحاظ سے صوبائی اسمبلیوں کے سپیکر اور وزرائے اعلٰی کی ہوتی ہے ۔

صوبائی گورنروں کو صدر نامزد کرتا ہے اسلئے وہ ذاتی لحاظ سے کچھ بھی ہوں حکومتی ذمہ داری کے لحاظ سے وہ کسی جماعت یا گروہ کے نہیں پورے صوبے کے نمائندہ ہوتے ہے ۔ چنانچہ آئین کے مطابق انہیں کسی مخصوص جماعت یا گروہ کی کسی ایسی حمائت کی اجازت نہیں ہوتی جس سے دوسری کسی جماعت یا گروہ کو نقصان پہنچتا ہو یا اُسکی دل آزاری ہوتی ہو ۔ گورنر اپنی تقرری پر حلف اُٹھاتا ہے کہ
وہ اپنی تمام ذمہ داریاں اور کام دیانتداری سے آئین و قانون کے مطابق کرے گا
وہ نظریہ اسلام کی پوری کوشش سے حفاظت کرے گا
وہ اپنی ذاتی دلچسپی کو اپنے دفتری کام اور کردار پر اثر انداز نہیں ہونے دے گا
وہ ہر حالت میں بغیر کسی جانبداری یا میلان یا مخالفت کے قانون کے مطابق تمام قسم کے لوگوں کی بہتری کیلئے کام کرے گا

آئین کی شق 105 کے مطابق گورنر صوبے کی کابینہ یا وزیرِ اعلٰی کے مشورہ کے مطابق کام کرنے کا پابند ہے ۔ گورنرکسی مشورے پر دوبارہ غور کرنے کیلئے واپس بھیج سکتا ہے اور اگر وہ تجویز وزیرِ اعلٰی دوبارہ گورنر کو بھیج دے تو گورنر اُس پر عمل کرنے کا پابند ہوتا ہے ۔

اصل صورتِ حال یہ ہے کہ وطنِ عزیز کے چاروں صوبوں کے گورنر آئین و قانون کے مطابق کم اور آئین و قانون کے خلاف زیادہ عمل کرتے ہیں بالخصوص پنجاب کے گورنر سلمان تاثیر نے تو آئین اور قانون کی دھجیاں بکھیرنے کا بازار گرم کیا ہوا ہے ۔ مختلف شہروں میں محفلیں منعقد کر کے اُن میں انتہائی گھٹیا بیان دینا ۔ گورنر ہاؤس میں شراب نوشی کی محفلیں منعقد کرنا ۔ جو اراکانِ اسمبلی حکومت میں نہیں اُنہیں حکومت کے خلاف اُکسانا اور صوبائی اسمبلی کی بھیجی ہوئی سمری کو ہمیشہ کیلئے دبا کر بیٹھ جانا اُن کا طرّہ امتیاز ہے ۔

جب حُکمران کھُلے بندوں آئین اور قانون کی خلاف ورزی کریں تو عوام سے آئین اور قانون کی پاسداری کی توقع کیسے کی جا سکتی ہے ؟

کیا حکومت امریکہ کی کٹھ پُتلی ہے ؟

کیا حد نگاہ تک پھیلی پیپلزپارٹی کے پاس کوئی ایسا شخص نہ تھا کہ قومی سلامتی جیسا حساس ترین شعبہ امریکی مفادات سے وابستہ کسی شخص کے سپرد کردیا جاتا؟ کیا یہ اور بعض دوسری تقرریاں این آر او [NRO] کا حصہ تھیں؟ کیا مشرف سے دست کش ہونے سے پہلے امریکہ نے پاکستانی بساط کے ہر خانے میں اپنے مُہرے بٹھانے کی شرط منوا لی تھی؟ اور سب سے بڑا سوال یہ کہ کیا ایک مہرہ پِٹ جانے کے بعد یہ باور کرلیا جائے کہ امریکہ کو شہ مات ہوگئی ہے؟ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

مشرف کو اپنی آمرانہ حکمرانی کے لئے امریکی آشیرباد کی ضرورت تھی ۔ اس کے ہر اقدام کی ناک میں امریکی مفادات کی نکیل پڑی تھی ۔ آٹھ برس کے دوران اس نے پاکستان کو بڑے پیٹ والے مویشیوں کی کھرلی بنادیا ۔ 18 فروری کو عوام ایک نئے عزم کے ساتھ نئے انداز سے اُٹھے اور جانا کہ مشرف کو حواریوں سمیت نابود کرکے وہ ایک آزاد و خودمختار ملک کی حیثیت سے پاکستان کا تشخص بحال کردیں گے لیکن ایسا نہ ہوا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

پارلیمینٹ کی بالادستی ایک بے ذوق نعرے تک محدود ہوکے رہ گئی ہے، کابینہ محض باراتیوں کا جتھہ ہے اور شدید بیرونی دباؤ کے ان دنوں میں امریکہ دندنا رہا ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

امریکہ نے اپنے پاکستانی پٹھوؤں کے ذریعے چین کو روکا کہ وہ سلامتی کونسل کی قرارداد کو وِیٹو [Veto] نہ کرے۔ امریکہ نے ہی اپنے پٹھوؤں کے ذریعے اجمل قصاب کی پاکستانیت کا اقراری بیان جاری کرایا اور جان لیجئے کہ محمود علی درانی کے بعد بھی پاکستانی بساط پر جابجا امریکی مُہرے پوری تمکنت کے ساتھ بیٹھے ہوئے ہیں اور پاکستانی مفادات کا سینہ چھلنی کرنے کے لئے ابھی ان کے ترکش میں بہت تیر باقی ہیں

یہ ہیں جھلکیاں عرفان صدیقی کے مضمون “پاکستانی بساط کے امریکی مُہرے” کی

اسرائیل ۔ حقائق کیا ہیں ؟

دورِ حاضر پروپیگنڈہ کا دور ہے اور صریح جھوٹ پر مبنی معاندانہ پروپیگنڈہ اس قدر اور اتنے شد و مد کے ساتھ کیا جاتا ہے کہ حقائق ذہنوں سے محو ہو جاتے ہیں ۔ ایسے مسلمان اور پاکستانی بھی ہیں جو اسرائیل کی دہشتگردی کو اُس کے دفاع کی جنگ کہتے ہیں ۔ حُسنِ اتفاق کہ آدھی صدی سے زائد عرصہ سے ظُلم اور دہشتگردی کا شکار رہنے والی دونوں ریاستوں فلسطین اور جموں کشمیر سے میرے خاندان کا گہرا تعلق رہا ہے ۔ مختصر یہ کہ میں ۔ میری دو بہنیں دادا دادی اور پھوپھی جموں کشمیر سے نومبر دسمبر 1947ء میں نکالے جانے پر ہجرت کر کے پاکستان آئے اور میرے والدین مع میرے دو چھوٹے بھائیوں جن میں سے ایک 8 ماہ کا تھا نے مجبور ہو کر فلسطین سے ہجرت کی اور جنوری 1948ء میں پاکستان پہنچے ۔ چنانچہ ان دونوں علاقوں کی تاریخ کا مطالع اور ان میں وقوع پذیر ہونے والے واقعات پر گہری نظر رکھنا میرے لئے ایک فطری عمل تھا ۔ میں نے اس سلسلہ میں سالہا سال مطالعہ کیا ۔ جو حقائق سامنے آئے ان کو مختصر طور پر انشاء اللہ قسط وار قارئین کی نذر کرنے کا ارادہ ہے ۔ آجکل چونکہ فلسطین میں اسرائیلی حکومت کی بے مثال دہشتگردی جاری ہے اسلئے پہلی ترجیح فلسطین کو ۔ میری اس سلسلہ وار تحریر کا ماخذ موجود تاریخی و دیگر دستاویزات ۔ انٹرنیٹ پر موجود درجن سے زائد تاریخی دستاویزات اور آدھی صدی پر محیط عرصہ میں اکٹھی کی ہوئی میری ذاتی معلومات ہیں

اسرائیلی فوج کی دہشتگردی کی چند مثالیں
اسرائیل کا موقف ہے کہ حماس اسرائیل پر حملے کرتی ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ پچھلے 10 سال میں غزہ یا اس کے ارد گرد صرف 20 اسرائیلی ہلاک ہوئے جبکہ اسرائیلی فوج نے جو بیہیمانہ قتلِ عام کیا ان میں سے چند مشہور واقعات یہ ہیں

پچھلے دو ہفتوں میں 800 سے زیادہ فلسطینی جن میں بھاری اکثریت بچوں اور عورتوں کی تھی ہلاک ہو چکے ہیں اور زخمیوں کی تعداد 3250 سے تجاوز کر چکی ہے ۔ اسرائیل نے اقوامِ متحدہ کے قائم کردہ سکول پر بمباری کی جس میں 40 مہاجرین ہلاک ہوئے ۔ اس کے بعد اسرائیلی بری فوج نے 100 فلسطینی ایک شیلٹر میں اکٹھے کئے اور پھر ان پر گولہ باری کر کے سب کو ہلاک کر دیا

سن 2006ء میں اس بنیاد پر کہ میں حذب اللہ نے 2 دو اسرائیلی پکڑ لئے تھے اسرائیلی نے بمباری کر کے 1000 شہری ہلاک کر دیئے ۔ اسی سال میں اسرائیلی فوجیوں نے ایک گاؤں مرواہن کے رہنے والوں کو حُکم دیا کہ وہ گاؤں خالی کر دیں ۔ جب لوگ گھروں سے باہر نکل آئے تو اسرائیلی ہیلی کاپٹر نے قریب آ کر اُن کو براہِ راست نشانہ بنایا جس کے نتیجہ میں 1000 میں سوائے دو کے باقی سب ہلاک ہو گئے ۔ دو اس وجہ سے بچ گئے کہ وہ زمین پر گر کر مردہ بن گئے تھے

اسرائیل نے 1996ء میں اقوامِ متحدہ کی بیس [Base] قانا پر گولہ باری کی جس میں 106 مہاجرین ہلاک ہوئے

لبنان پر 1982ء میں حملہ کر کے 17500 فلسطینی مہاجرین ہلاک کیا جن میں زیادہ تعداد بچوں اور عورتوں کی تھی
اسرائیلی فوج نے 1982ء میں فلسطینی مہاجرین کے دو کیمپوں صابرا اور شتیلا کو گھیرے میں لے کر اپنے مسلحہ حواریوں فلینجسٹس کی مدد سے دو تین دنوں میں وہاں مقیم 4000 نہتے فلسطینی مہاجرین کو قتل کروا دیا جن میں عورتیں بچے اور بوڑھے شامل تھے ۔ یہ کاروائی ایرئل شیرون کے حُکم پر کی گئی تھی جو اُن دنوں اسرائیل کا وزیر دفاع تھا

دہشتگرد کون ؟ ؟ ؟

آج کے دور میں ہر اُس مسلمان فرد اور مسلمان ملکوں کے باشندوں کو دہشتگرد قرار دیا جا رہا ہے جو امریکہ یا بھارت کی مداح سرائی نہ کرے یا اُن کے ظُلم کے خلاف آواز اُٹھائے ۔ اس پروپیگنڈہ کی کامیابی کا سبب ذرائع ابلاغ کا کنٹرول مسلمان دُشمن طاقتوں کے ہاتھ میں ہونا ہے ۔ اس پر طُرّہ یہ کہ مسلمان مُلکوں کے بھی کچھ ذرائع ابلاغ ان مسلم دُشمن طاقتوں کی مالی امداد وصول کر کے یا اُن کی خوشنودی حاصل کرنے کیلئے اپنے ہموطنوں اور مسلم اُمہ کے ساتھ غداری کر رہے ہیں ۔

مُسلم دُشمن طاقتوں کا یہ کھیل تو ازل سے جاری ہے لیکن اس نے زور آج سے 20 سال پہلے پکڑا ۔ ابتداء فرد سے کی گئی ۔ پھر ایک قوم کو ملزم ٹھہرایا گیا اور پھر اس کا دائرہ ہر اُس ملک تک بڑھا دیا گیا جہاں کے عوام ان مُسلم دشمن طاقتوں کی بداعمالی کے خلاف آواز اُٹھاتے ہیں

امریکا کی اعانت سے اسرائیل کی فلسطین میں اور برطانیہ کی اعانت سے بھارت کی جموں کشمیر میں دہشتگردی تو 1947ء میں شروع ہو گئی تھی ۔ امریکہ جو ویت نام ۔ لاطینی امریکہ اور افریقہ میں دہشتگردی روا رکھ چکا تھا اُس نے 1991ء کے شروع میں عراق پر حملہ کر کے مشرقِ وسطہ میں اپنی دہشتگردی کا آغاز کیا جس کے بعد اقوامِ متحدہ میں اپنی عددی طاقت کو بروئے کار لاتے ہوئے عراق کی 13 سال مکمل ناکہ بندی رکھی گئی اور جب محسوس کیا کہ اب عراق اپنے دفاع کے قابل نہیں رہا تو ڈبلیو ایم ڈی کا جھُوٹا بہانہ بنا کر مارچ 2003ء میں امریکہ نے برطانیہ کو ساتھ ملا کر مجبور عراق پر حملہ کر دیا ۔ ان دو طاقتوں کے بیہیمانہ ظُلم اور دہشتگردی کی بازگزشت اب بھی فضا میں گونجتی جے ۔ امریکی چیک پوسٹوں پر اور بڑے پیمانے پر قائم کردہ جیلوں بالخصوص ابوغرَیب جیل میں جو کچھ ہوا اسے کون نہیں جانتا ۔

اسی دوران امریکا اور اس کے ساتھیوں نے اکتوبر 2001ء میں ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر حملہ کو بہانہ بنا کر افغانستان پر دھاوا بول دیا جبکہ ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر حملہ سے افغانستان کا دُور کا بھی کوئی تعلق نہ تھا ۔ گھر بیٹھے شہریوں اور شادی اور مرگ کی محفلوں پر سفّاکانہ بمباری کی گئی ۔ افغانستان میں لاکھ سے زیادہ بے قصور جوان بوڑھے عورتیں اور بچے اندھا دُھند بمباری سے ہلاک کئے جا چکے ہیں اور یہ دہشتگردی 7 سال سے جاری ہے

افغانستان میں مارداڑ شروع کرنے کے کچھ سال بعد حکومتِ پاکستان کی طرف سے جاری فوجی کاروائی کے باوجود پاکستان کے قبائلی علاقوں پر امریکی فوج نے حملے شروع کر دیئے جو جاری ہیں ۔ ان حملوں کا نشانہ بے قصور شہریوں کے گھر ۔ بچوں کی تعلیمی درسگاہیں اور مساجد ہوتی ہیں جس کے نتیجہ میں سینکڑوں بے قصور جوان بوڑھے عورتیں اور بچے ہلاک ہو چکے ہیں اور یہ عمل اب تک جاری ہے ۔ اس صریح مُسلم کُش دہشتگری جسے مکاری سے دہشتگردی کے خلاف جنگ کا نام دیا گیا ہے کے نتیجہ میں پاکستان کے قبائلی کے علاقوں کے لاکھوں پُرامن اور بے قصور لوگ بے گھر ہو چکے ہیں ۔