سیّد عدنان کاکا خیل نے مئی 2006ء کے سٹوڈنٹ کنوینشن میں جنرل پرویز مشرف کے سامنے پُراعتمادی کے ساتھ حقائق بیان کر ديئے تھے ۔ مجھے سیّد محمد حنیف شاہ صاحب نے عدنان خان جدون کی تقریر کا بتایا جو حالاتِ حاضرہ کے عین مطابق ہے اور بہت غور طلب ہے
Category Archives: روز و شب
رمضان کا احترام
ہم اگست 1964ء سے قبل جھنگی محلہ راولپنڈی رہتے تھے تو رمضان مبارک میں ایک میری عمر کا لڑکا کہا کرتا “یہ روجہ سے ہیں”۔ دراصل وہ کہتا تھا “يہ روز جیسے ہیں” یعنی روزہ رکھنے سے انہیں کوئی فرق نہیں پڑا ۔ یہ بات آج تک اسلئے نہیں بھولی کہ ہر سال میں اس بات کو سچا پاتا ہوں ۔ اگر رمضان میں فرق دیکھتا ہوں تو کھانے پینے کی اشیاء کا ہوتا ہے ۔ روزہ رکھ کر لوگ سب اچھا بُرا اُسی طرح کر رہے ہوتے ہیں جس طرح عام دنوں میں کرتے ہیں
کچھ غور طلب باتیں
1 ۔ رمضان کوئی تہوار نہیں بلکہ اللہ سُبحانُہُ و تعالٰی نے ہمیں اپنی تطہیر کا موقع دیا ہے ۔ روزہ اسلئے نہیں رکھنا چاہیئے کہ اردگر سب کا روزہ ہے یا نہ رکھوں گا تو لوگ کیا کہیں گے بلکہ یہ حدیث یاد رکھنا چاہیئے ۔ جبریل علیہ السلام نے کہا “تباہی ہو اُس پر جس نے ماہِ رمضان پایا اور اُس کی بخشش نہ ہوئی ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اس پر آمین کہا”
2 ۔ رمضان میں ویسا ہی کھانا پینا چاہیئے جیسا سارا سال کھاتے پیتے ہیں ۔ رمضان اچھی ماکولات کھانے یا اچھے مشروب پینے کا نام نہیں ہے اور نہ ہی بہت زیادہ کھانے پینے کا نام ہے
3 ۔ رمضان کے دوران کوشش کرنا چاہیئے کہ زیادہ وقت نماز اور تلاوت پر لگایا جائے نہ کہ ماکولات اور مشروب تیار کرنے میں ۔ اگر ساری نمازیں نہ پڑھی جائیں تو صرف ستائیسویں رات کی نماز کوئی فائدہ نہیں دے گی
4 ۔ سونے کیلئے گیارہ ماہ کافی ہیں ۔ رمضان میں فرض نمازوں کے ساتھ ساتھ نماز تراویح اور تہجد بھی پڑھنا چاہیئے اور جتنا ہو سکے تلاوتِ قرآن شریف بھی کرنا چاہیئے ۔ یہ برکات کا مہینہ ہے اس کا ایک پل ضائع نہیں ہونا چاہیئے
5 ۔ رمضان کا روزہ فاقہ کشی نہیں ہے کہ کھایا پیا کچھ نہیں اور وہ سب کچھ کرتے رہے جس سے اللہ نے منع فرمایا ہے
6 ۔ سحری کھانا چاہیئے ۔ اگر کسی وجہ سے دیر ہو جائے تو پانی کا ایک گھونٹ ہی پی لیا جائے ۔ اور اگر سحری کے وقت آنکھ نہ کھلے تو بھی روزہ پورا کرنا چاہیئے ۔ اگر روزہ نہ رکھا تو کفارہ لازم ہو گا
7 ۔ مغرب کا وقت ہوتے ہی روزہ افطار کر لینا چاہیئے ۔ تاخیر سے روزہ مکروہ ہو جاتا ہے ۔ اگر گھر سے باہر ہوں اور ڈر ہو کہ روزہ ایسی جگہ افطار ہو جائے گا جہاں افطار نہ کیا جا سکے تو اپنے پاس افطار کیلئے کچھ رکھ لینا چاہیئے
8 ۔ افطار کے وقت اتنی دیر تک نہیں کھاتے رہنا چاہیئے کہ مغرب کی نماز ہی قضا ہو جائے ۔ افطاری پارٹیوں میں ایسا دیکھنے میں آیا ہے
9 ۔ روزہ اللہ کی خوشنودی حاصل کرنے کیلئے رکھنا چاہیئے ۔ اس خیال کو دل میں جگہ نہیں دینا چاہیئے کہ سلِمِنگ ہو جائے گی
10 ۔ کسی کا روزہ افطار کرانا خواہ وہ رشتہ دار یا دوست ہو ثواب کا کام ہے لیکن شان و شوکت کیلئے افطاری پارٹی کرنا گناہ بن سکتا ہے کیونکہ اللہ نے نمائش اور اسراف دونوں سے منع فرمایا ہے
برکتوں کا مہینہ
سب بزرگوں ۔ بہنوں ۔ بھائیوں ۔ بھتیجیوں ۔ بھتیجوں ۔ بھانجیوں ۔ بھانجوں کو اور جو اپنے آپ کو اِن میں شامل نہیں سمجھتے اُنہیں بھی رمضان مبارک
اللہ آپ سب کو اور مجھے بلکہ تمام مسلمانوں کو رمضان کا صحیح اہتمام اور احترام کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین
آج پاکستان میں پہلا روزہ ہے ۔ روزہ صبح صادق سے غروبِ آفتاب تک بھوکا رہنے کا نام نہیں ہے بلکہ اللہ کے احکام پر مکمل عمل کا نام ہے
مہنگائی کیوں ؟
بچپن میں یعنی چار دہائیاں قبل تک ہم سُنا کرتے تھے کہ رزق کی قدر کرنا چاہیئے یعنی اسے ضائع نہیں کرنا چاہيۓ ۔ پانی ضائع کرنے پر بھی سرزنش ہوتی تھی گو اس زمانہ میں آج کی طرح پانی کی قلت نہ تھی ۔ عام دعوت ہوتی یا شادی کی دعوت ، لوگ اس طرح کھاتے کہ پلیٹ یا پیالے میں کچھ باقی نہ چھوڑتے کئی لوگ پلیٹ کو بھی اچھی طرح صاف کر لیتے جیسے اس میں کچھ ڈالا ہی نہ گیا تھا ۔ ہڈی پر کوئی گوشت کا ریشہ نہ چھوڑتا ۔ شاید یہی وجہ تھی کہ اس زمانہ میں تھوڑے میں بھی بہت برکت ہوتی تھی اور لوگ خوشحال نظر آتے تھے
دورِ حاضر میں کسی دعوت کے بعد پلیٹوں میں گوشت ۔ چاول یا روٹی اتنی زیادہ پڑی پائی جاتی ہے کہ انہیں اکٹھا کرنا دوبھر ہو جاتا ہے ۔ میری سمجھ میں نہیں آتا کہ تھوڑا کھانا ہو تو زیادہ ڈالا ہی کیوں جاتا ہے ۔ اگر اپنے پیٹ کا ہی اندازہ نہیں تو پہلے تھوڑا لیا جائے پھر اگر مزید بھوک ہو تو اور ڈال لے لیا جائے
عام سی بات ہے کہ جس کی عزت یا احترام نہ کیا جائے وہ دُور ہو جاتا ہے ۔ یہی حال اناج کا ہے ۔ آجکل اس کی قدر نہیں کی جاتی اسلئے یہ عوام سے دور ہوتا جا رہا ہے ۔ پانی کی بات کریں تو اس کی بہت قلت ہے لیکن جہاں پینے کا صاف پانی ہے وہاں سڑکوں پر بہتا نظر آتا ہے
بجائے اپنے آپ کو سُدھارنے کے دھواں دار تقاریر معمول بن چکا ہے ۔ ہر دم دوسروں احتساب کرنے والے کب اپنا احتساب کر کے اپنے اندر موجود برائیوں کے خلاف برسرِ پیکار ہوں گے ؟
ذہانت اور وکالاتِ ذہانت
ذہانت ایسی خُو ہے جس کا بنیادی مادّہ اللہ سُبحانُہُ و تعالٰی نے انسان کے دماغ میں رکھا ہے البتہ ذہانت کی نشو و نما کیلئے اس کا درُست متواتر استعمال ضروری ہے ورنہ اِسے زنگ لگ جاتا ہے ۔ اپنے آپ کو عقلِ کُل سمجھنے سے بھی ذہانت کا استعمال کم ہو جاتا ہے ۔ زنگ لگ جانے کی صورت میں معمولی باتیں بھی سمجھ میں نہیں آتیں ۔ دورِ حاضر میں جس طرح عام آدمی [common man] میں عمومی سُوجھ بُوجھ [common sense] کم ہی ملتی ہے اسی طرح وکالاتِ ذہانت [intelligence agencies] کے اہلکار ذہانت کا استعمال کم ہی کرتے ہیں ۔ عام آدمی محدود وسائل اور فکرِ معاش میں مبتلا ہونے کے باعث کسی اور طرف توجہ نہیں دے سکتا لیکن وکالاتِ ذہانت کے ارکان ذرائع اور اختیارات کی فراوانی کی وجہ سے اس خوش فہمی میں مبتلا ہو جاتے ہیں کہ وہ عقلِ کُل ہیں ۔ ایسا رویّہ اُن کی ذہانت پر بُری طرح اثرانداز ہوتا ہے ۔ فرسودہ نظامِ تفتیش رہی سہی کسر پوری کر دیتا ہے
غُوغا تو جدیدیت کا بہت ہے لیکن تفتیش کیلئے فی زمانہ بھی ہزاروں سال پرانے طریقے ہی استعمال کئے جاتے ہیں صرف اوزار جدید ہیں جو نفسیاتی اثر رکھنے کی وجہ سے زمانہ قدیم سے زیادہ تشدد کا سبب بنتے ہیں اور زیرِ تفتیش شخص کا ذہنی توازن مکمل طور پر تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں ۔ گونٹاناموبے میں امریکی جیل میں مُلزمان سے کیا جانے والا سلوک اس کی ایک ادنٰی سی مثال ہے
دورِ حاضر میں تفتیش کا طریقہ جو قدیم زمانہ میں نہ تھا یہ ہے کہ وکالات ذہانت کے اہلکار اپنی مرضی کے چُنے ہوئے شواہد پر ایک کہانی مرتّب کرتے ہیں اور اس میں مفروضہ مُلزِم یا مُلزِموں کو کردار عطا کرتے ہیں ۔ اس کہانی کا ہیرو گرفتار شدہ یا نامزد ملزم ہوتا ہے ۔ اگر گرفتار ملزم تفتیش کاروں کی پٹڑی پر چڑھ جائے تو اُسے وِلیئن [villain] کا کردار بھی دیا جا سکتا ہے ۔ اسے مناسب معاوضہ دے کر کسی اور تک پہنچا جاتا ہے
طریقہ واردات یہ ہوتا ہے کہ گرفتار ملزم کو تیار شدہ کہانی سنائی جاتی ہے ۔ اگر وہ اقرار نہ کرے تو اس پر جسمانی اور ذہنی تشدد کیا جاتا ہے ۔ جب ملزم نڈھال ہو جائے تو اسے پھر اُسی کہانی کا کردار بننے کو کہا جاتا ہے ۔ یہ عمل ہر بار پہلے سے زیادہ شدت کے ساتھ دُہرایا جاتا ہے اور ذہنی اذیت کے طریقے بدل بدل کر استعمال کئے جاتے ہیں ۔ اگر ملزم کی کوئی دُکھتی رگ تفتیش کاروں کے عِلم میں آجائے تو وہ ملزم سے سب کچھ منوا لیتے ہیں ۔ اس کی ایک مثال یہ ہے کہ ایک پچاس پچپن سالہ عزّت دار مرد کو کہا جائے کہ “اگر تم تعاون نہیں کرو گے تو تمہاری جوان بیٹی کو ہم یہاں لے آئیں گے ۔ اُس کے سامنے تمہیں ننگا کریں گے اور تفتیش کریں گے “۔ تو وہ شخص تمام ناکردہ جرائم اپنے سر لینے کے لئے تیار ہو جائے گا تاکہ اس کی بیٹی اُسے ننگا ديکھنے اور تفتیش کی اذیت سے بچ جائے
جدید آلات کا استعمال اس طرح بھی کیا جاتا ہے کہ پہلے مفروضہ مُلزمان کے بیانات ریکارڈ کر لئے جاتے ہیں ۔ تفتش کاروں کے پاس اُجرتی آواز نقل کرنے والا شخص ہوتا ہے ۔ وہ نقال ٹیپ سُن سُن کر آواز کی نقل کی مشق کر لیتا ہے ۔ پھر اُسے ایک خود ساختہ بیان لکھ کر دیا جاتا ہے جو نقال اُس آواز میں پڑھ دیتا ہے اور اُسے ریکارڈ کر لیا جاتا ہے ۔ اس بیان میں مفروضہ ملزمان میں سے ایک کا اقبالِ جُرم ہوتا ہے ۔ اس مصنوعی بیان کی ٹیپ پھر دوسرے ملزمان کے سامنے چلا کر اُنہیں جُرم قبول کرنے کیلئے ہر طرح کا دباؤ ڈالا جاتا ہے اور جُرم قبول نہ کرنے کی صورت میں مختلف طریقوں سے ڈرایا جاتا ہے اور ذہنی اذیت بھی دی جاتی ہے ۔ اس طرح بھی گرفتار آدمی ناکردہ جُرم اپنے سر پر لینے پر مجبور ہو جاتا ہے
مندرجہ بالا سطور میں جو سادہ سا خاکہ پیش کیا گیا ہے حقائق اس سے بہت زیادہ بھیانک ہیں ۔ یہ طریقے صرف وطنِ عزیز یا بھارت میں ہی نہیں بلکہ امریکہ اور کئی مغربی ممالک میں بھی زیرِ استعمال ہیں ۔ چنانچہ وکالاتِ ذہانت [intelligence agencies] کے گرفتار کئے ہوئے کسی شخص کا بیان درست ہے یا غلط یہ وہ خود جانتا ہے یا پھر اللہ جانتا ہے
ہمارے متعلقہ مُلکی ادارے کیا تھے ۔ اب کیا ہیں اور کیا ہونا چاہیئے اس کیلئے میری اگلی تحریر اِن شاء اللہ جلد
ہر اچھی چیز کا قاتل دور
میرے بچپن کی یادوں میں ذرائع ابلاغ کے کھاتے میں دو چیزوں سے میرا جذباتی لگاؤ رہا ۔ وہ ہیں
اخبار ۔ سِول اینڈ مِلٹری گزٹ۔ جو میں نے ساتویں جماعت میں پڑھنا شروع کیا اور سات آٹھ سال بعد اس کی اشاعت بند ہونے تک پڑھتا رہا ۔ اس میں چھپنے والی قسط در قسط ریاست جموں کشمیر کے متعلق اقوامِ متحدہ کی کاروائی کے تراشے آج بھی میرے پاس محفوظ ہیں
رسالہ ۔ ریڈرز ڈائجسٹ جو میں نے آٹھویں جماعت میں پہنچتے ہی سالانہ بنیاد پر لینا شروع کیا اور 40 سال متواتر خریدتا اور پڑھتا رہا
اللہ کی مہربانی سے ان دونوں نے مجھے انگریزی سمجھنے اور لکھنے کی استطاعت عطا کی ۔ ان دونوں کے عمدہ انگریزی میں لکھے مضامین کے علاوہ سِول اینڈ مِلٹری گزٹ کے معمے [Crossword puzzles] اور ریڈرز ڈائجسٹ کا اپنی لفظی استعداد بڑھاؤ [Increase your word power] ۔ ان دونوں ذرائع نے مجھے وہ گُر بخشا کہ میرے سکول و کالج کے اساتذہ کے بعد میرے افسران بھی میرے انگریزی میں لکھے مضامین کے معترف رہے
آج صبح سویرے جب میں نے پڑھا کہ ریڈرز ڈائجسٹ شائع کرنے والا ادارہ دیوالیہ ہو گیا ہے تو کچھ دیر کیلئے میں سکتے میں آ گیا ۔ زبان تو نہیں مگر میرا دِل گریہ کرنے لگا ۔ ثابت ہوا کہ دورِ حاضر میں کوئی اچھی چیز زندہ نہیں رہ سکتی
خبر
دنیا بھر میں ڈاکٹروں، متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والوں میں یکساں مقبول اور عوامی انتظار گاہوں کی میزوں کی زینت ”ریڈرز ڈائجسٹ“ کی ایسوسی ایشن نے 90سال کے بعد گزشتہ روز عمداً دیوالیہ ہونے کے منصوبے کا اعلان کر دیا ہے ،مذکورہ ایسوسی ایشن ایڈورٹائزنگ کے شعبے میں رونما ہونے والے مالیاتی بحران کا حال ہی میں شکار ہوئی ہے ،ادارے کے حصص کی خریداری میں اہم سرمایہ کاری کرنے والی فرم” رپل وڈ ہولڈنگز“ جس نے 2006ء میں 2.4 بلین ڈالر کے متوقع منافع کا اعلان کر رکھا تھا کی 600ملین ڈالر کی تمام سرمایہ کاری مکمل طور پر ڈوب جائے گی ،ریڈرز ڈائجسٹ کا آغاز نیو یارک میں ایک بیوی اور شوہر نے 1921ء میں ایک کمرے سے کیا تھا ،اس وقت ڈائجسٹ کی ایسوسی ایشن کے 94 میگزینز میں سے 9 کی صرف امریکا میں ایک ملین سے زیادہ سرکولیشن ہے ، اس کے علاوہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ دنیا کے 78 ممالک میں130ملین افراد اس کے مستقل پڑھنے والے ہیں،گروپ کے انفارمیشن بیورو کے مطابق ایڈورٹائزنگ کے شعبے میں معاشی بحران کے علاوہ لوگوں کے مطالعہ کرنے کی عادات اور رجحان میں تبدیلی کے باعث گزشتہ سال ادارے کے محاصل میں 18.4 فیصد کی ریکارڈ کمی ہوئی جبکہ رواں سال کے پہلے 6 ماہ کے دوران آمدنی کی اس کمی میں 7.2فیصد مزید اضافہ ہوگیا ہے۔
کیا اس کے ذمہ دار طالبان ہیں ؟
امریکا ہمیشہ پاکستان بالخصوص طالبان کو منشیات کا ذمہ دار ٹھہراتا ہے ۔ حقائق ہمیشہ امریکا اور اس کے حواریوں کو جھٹا ثابت کرتے ہیں لیکن نامعلوم کیوں دنیا کی اکثریت امریکی جھوٹ کو سچا سمجھتی ہے
امریکی سائنس دانوں نے انکشاف کیا ہے کہ ہر10 میں سے 9 امریکی بنک نوٹ کوکین [Cocaine ] کے ذرات سے آلودہ پائے گئے ہیں ۔ تحقیق کے مطابق امریکی دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی سے کئے گئے لوگوں کے تجزیہ سے پتہ چلا کہ وہاں 95 فیصد نوٹوں پر کوکین کے ذرات تھے ۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ نوٹوں پر کوکین کے ذرات منشیات کی آمدنی کے تبادلے اور کاروبار کے علاوہ آلودہ نوٹوں کے مشینوں کے اندر گنتی کی وجہ سے بھی پھیلتے ہیں
اس تحقیق کے دوران امریکہ کے علاوہ کینیڈا ۔ برازیل ۔ چین اور جاپان کے نوٹوں کا بھی تجزیہ کیاگیا ۔ امریکی اور کینیڈین نوٹوں پر کوکین کے ذرات کا تناسب 85 سے90 فیصد کے درمیان تھا جبکہ سب سے کم آلودہ جاپان اور چین کے نوٹ تھے ۔
ریسرچ ڈائریکٹر یونیورسٹی آف میسا چوسٹس سے ڈاکٹر یوگنگ زو کا کہنا تھا کہ نوٹوں پر کوکین کے ذرات سے پتہ چلتا ہے کہ اقتصادی کساد بازاری کی بنا پرامریکیوں میں کوکین کا استعمال بڑھ گیا ہے
بشکریہ جنگ