Category Archives: روز و شب

معذرت

گذشتہ کل يعنی 24 اکتوبر کو ميں اپنا احوال غير حاضری کا لکھ رہا تھا کہ حادثاتی طور پر “شائع کرو” کے خانہ پر کلِک ہو گيا
پھُرتی ملاحظہ ہو کہ قبل اس کے کہ ميں اپنی غلطی کی تصحيح کرتا وہ ادھوری تحرير “سچ کيا ہے ؟” کے عنوان سے ” اُردو سيّارہ” پر بھی شائع ہو گئی ۔ ميں نے اپنے بلاگ سے اسی وقت حذف کر دی

اس سلسلہ ميں جن قارئين و قاريات کو کوفت کا سامنا ہوا ميں ان سے معذرت کا طلبگار ہوں

اِن شاء اللہ ميں آئيندہ کل اپنی طويل غير حاضری کا احوال شائع کروں گا

ہم کیا چاہتے ہیں ؟ ؟؟ ۔ ۔ ۔ آزادی ۔ آزادی ۔ آزادی

بہشت گوش تھے نغمات آبشاروں کے
نظر نواز تھے نظارے مرغزاروں کے
بھلاؤں کیسے مناظر تری بہاروں کے
ستم شعاروں سےتجھ کو چھڑائیں گے اِک دن
ميرے وطن تری جنت میں آئیں گے اِک دن
ميرے وطن ميرے وطن ميرے وطن ميرے وطن

جموں کشمیر کے مسلماں يہ کہتے ہیں ہر دم
وطن تیری آزادی تک نہ چین سے بیٹھیں گے ہم

ميں مسلم ہائی سکول راولپنڈی ميں دسويں جماعت کا طالب عِلم تھا ۔ اکتوبر 1952ء کے شروع ميں اعلان کيا گيا کہ 24 اکتوبر کو يومِ اقوامِ متحدہ منايا جائے گا ۔ ميں نے چند ہمجماعت لڑکوں سے بات کی کہ اقوامِ متحدہ جموں کشمير کے مسلمانوں سے کيا ہوا وعدہ تو پورا کرتا نہيں تو ہم کس لئے اقوامِ متحدہ کا دن منائيں ؟ اُنہوں نے بھی ہاں ميں ہاں ملائی اور پھر ہماری جماعت کے سب لڑکے ہمخيال ہو گئے ۔ کچھ لڑکوں نے جا کر پرنسيپل صاحب سے بات کی مگر وہ نہ مانے

24 اکتوبر کو صبح سويرے سارے سکول کے طلباء کے سامنے ہمارے ايک اُستاذ صاحب نے اقوامِ متحدہ کی خوبياں بيان کرنا شروع ہی کی تھيں کہ سکول کے باہر سے آواز آئی ۔ ہم منائيں گے يومِ کشمير ۔ اُن کی آواز ميں ہماری جماعت کے طلباء نے آواز ملائی ۔ پھر کيا تھا پورا سکول نعروں سے گونج اُٹھا ۔ کرائيں گے آزاد ۔ جموں کشمير ۔ اقوامِ متحدہ مردہ باد ۔ سکول کے باہر گورنمنٹ کالج راولپنڈی کے طلباء جلوس کی شکل ميں آئے تھے ۔ پرنسيپل صاحب ہمارے ساتھ اتنے ناراض ہو گئے کہ اگلے سال ہماری الوداعی دعوت ميں مہمانِ خصوصی بننے سے انکار کر ديا

آج سے 63 سال قبل جموں کشمیر کے مسلمانوں نے اپنے وطن پر بھارت کے طاقت کے بل پر ناجائز قبضہ کے خلاف اعلانِ جہاد کیا جو کہ ایک لاکھ سے زائد جانوں کی قربانی دینے کے باوجود آج تک جاری ہے ۔ انشاء اللہ یہ قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی

جمعہ 24 اکتوبر 1947ء کو جس دن سعودی عرب میں حج ہو رہا تھا جموں کشمیر کے مسلمانوں نے انسانوں سے مايوس ہو کر اپنے اللہ پر بھروسہ کرتے ہوئے جہاد کا اعلان کر دیا اور مسلح تحریک آزادی ایک جنگ کی صورت اختیار کر گئی ۔ بے سروسامانی کی حالت میں صرف اللہ پر بھروسہ کر کے شہادت کی تمنا دل میں لئے آزادی کے متوالے اللہ کی نُصرت سے آگے بڑھتے رہے ڈوگرہ اور بھارتی فوجیں پسپا ہوتی گئیں یہاں تک کہ مجاہدین مظفرآباد ۔ میرپور ۔ کوٹلی ۔ بھمبر اور پونچھ کے کافی علاقہ کو آزاد کرا کے پاکستان کی سرحد کے ساتھ ساتھ جنوب کی طرف پیشقدمی کرتے ہوئے کٹھوعہ کے قریب پہنچ گئے

بھارت کو جموں کشمیر سے ملانے والا واحد راستہ پٹھانکوٹ سے جموں کے ضلع کٹھوعہ میں داخل ہوتا تھا جو ریڈکلف اور ماؤنٹ بیٹن نے گورداسپور کو بھارت میں شامل کر کے بھارت کو مہیا کیا تھا ۔ بھارت نے خطرہ کو بھانپ لیا کہ مجاہدین نے کٹھوعہ پر قبضہ کر لیا تو بھارت کے لاکھوں فوجی جو جموں کشمیر میں داخل ہو چکے ہیں محصور ہو جائیں گے ۔ چنانچہ بھارت کے وزیراعظم جواہر لال نہرو نے اقوام متحدہ سے رحم کی بھیک مانگی ۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا اجلاس ہوا ۔ پنڈت نہرو نے اقوام متحدہ میں تقریر کرتے ہوئے یقین دہانی کرائی کہ امن قائم ہوتے ہی رائے شماری کرائی جائے گی پھر جو فیصلہ عوام کریں گے اس پر عمل کیا جائے گا اور فوری جنگ بندی کی درخواست کی

اس معاملہ میں پاکستان کی رائے پوچھی گئی ۔ پاکستان کے وزیرِ اعظم لیاقت علی خان جنگ بندی کے حق میں نہ تھے مگر وزیرِ خارجہ ظفراللہ نے کسی طرح ان کو راضی کر لیا ۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے جنوری 1948ء میں جنگ بندی کی قرارداد اس شرط کے ساتھ منظور کی کہ اس کے بعد رائے شماری کرائی جائے گی اور عوام کی خواہش کے مطابق پاکستان یا بھارت سے ریاست کا الحاق کیا جائے گا ۔ پھر یکے بعد دیگرے کئی قرار دادیں اس سلسلہ میں منظور کی گئیں ۔ مجاہدین جموں کشمیر نے پاکستان کی عزت کا خیال کرتے ہوئے جنگ بندی قبول کر لی ۔ بعد میں نہ تو بھارت نے یہ وعدہ پورا کیا نہ اقوام متحدہ کی اصل طاقتوں نے اس قرارداد پر عمل کرانے کی کوشش کی

آجکل پاکستان کی حکومت بھی پاکستان دُشمن قوتوں کے نِرغے ميں ہے اورجموں کشمير کے مسلمانوں کے قاتلوں کے ساتھ محبت کی پينگيں بڑھا رہی ہے ۔ يوں محسوس ہوتا ہے کہ اندر کھاتے امريکا کے دباؤ کے تحت بھارت کی ہر بات ماننے بلکہ ہر خواہش پوری کرنے کا وعدہ ہمارے روشن خيال حکمران امريکا کو دے کر اُن کی زبانی شاباشوں پر پھولے نہيں سماتے ۔ ليکن تاريخ پڑھنے والے جانتے ہيں کہ نيک مقصد کيلئے ديا ہوا خون کبھی رائيگاں نہيں جاتا اور غاصب و ظالم حکمران کے خلاف آزادی کی جدوجہد سے بڑھ کر نيک مقصد اور کيا ہو سکتا ہے ؟ جموں کشمير کے مسلمان پچھلے 63 برس ميں پانچ لاکھ کے قریب جانيں ظُلم کی بھينٹ چڑھا چکے ہيں ۔ انشاء اللہ يہ بيش بہا قربانياں ضائع نہيں جائيں گی اور رياست جموں کشمير آزاد ہو کر رہے گی

کشميريوں کی آواز کب تک نظرانداز کی جائے گی

جموں کشمير کے مسلمان اپنا انسانی اور پيدائشی حق خود ارادی مانگ رہے ہيں جو نہ صرف اقوامِ متحدہ کی چارٹر ميں شامل ہے بلکہ جنوری 1948ء ميں بھارتی حکومت کی درخواست پر منظور ہونے والی اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق ہے ۔ مگر بھارتی حکومت گذشتہ 63 سالوں سے ايک طرف لچھے دار بيانات دے کر اس انسانی مسئلے کو ملتوی کرتی چلی آ رہی ہے اور دوسری طرف جموں کشمير ميں ظُلم تشدد جاری رکھا ہوا ہے

متذکرہ بالا قراردادوں کے تحت تمام ارکان بالخصوص سلامتی کونسل کے ارکان جموں کشمير ميں آزادانہ رائے شماری کرانے کے پابند ہيں کہ جموں کشمير کے لوگ پاکستان ميں شامل ہونا چانتے ہيں يا بھارت ميں ليکن انسانيت کے يہ نام نہاد علَمبردار ذاتی مطلب برآری کيلئے بھارتی حکومت کی پشت پناہی کرتے آ رہے ہيں

تفصيل يہاں کلک کر کے پڑھيئے

چوروں کے ديس کا قانون

کراچی الیکٹرک سپلائی کمپنی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر تابش گوہر نے کہا ہے کہ کراچی کے وہ علاقے جہاں بجلی کی چوری بہت کم اور بجلی کے بل بروقت ادا کئے جاتے ہیں ان کو جلدہی بجلی کی لوڈشیڈنگ سے مستثنیٰ کردیا جائے گا اور جن علاقوں میں بجلی کی بہت زیادہ اور مسلسل چوری اور بجلی کے بلوں کی ادائیگی تک نہیں کی جاتی ان علاقوں میں لوڈشیڈنگ کا دورانیہ ساڑھے 4 گھنٹے سے بڑھاکر 6 گھنٹے کردیا جائے گا

تابش گوہر نے کہا کہ چوری کی جانچ کیلئے ہر فیڈر پر میٹر نصب ہیں، ان سے بجلی کی چوری کا پتہ لگایا جاتا ہے، جن فیڈرز پر 40 فیصد سے زیادہ بجلی چوری ہوتی ہے وہاں لوڈشیڈنگ کے دورانئے میں اضافہ، جن فیڈرز سے 10 فیصد سے کم بجلی کی چوری کی جاتی ہے وہ لوڈشیڈنگ سے مستثنیٰ کردیئے جائیں گے

جملہ معترضہ ۔ کہيں ايسا تو نہيں کہ تابش گوہر صاحب پنجابی ہيں اسلئے خواہ مخوا کراچی والوں کو بدنام کر رہے ہيں

بشکريہ ۔ جنگ

چھوٹی چھوٹی باتیں ۔ کامیاب زندگی

ایک دن صبح سویرے ہی ذہن میں آیا کہ کامیاب زندگی کا راز کیا ہے ؟ سارا دن اس سوال نے پریشان کئے رکھا ۔ رات ہوئی بستر پر دراز ہوا مگر سوال نے نیند کو بھگا دیا ۔ آنکھیں پھاڑے اپنے کمرے کا جائزہ لینے لگا ۔ کچھ دیر بعد کمرے کی ہر چیز بولتی محسوس ہوئی
چھت بولی ” ذاتیات کو چھوڑ اور میری طرح بلند ہو جا ”
پنکھا بولا “مزاج ہمیشہ ٹھنڈا رکھ”
گھڑی بولی “وقت کی قدر کو جان”
بلب بولا “اپنی روشنی سے اندھیروں کو دور کر”
کتاب بولی “مجھ سے دوستی پکی رکھ”
کیلنڈر نے کہا “ہر گذرتے دن سے سبق لے”
بٹوے نے کہا ” بُرے وقت کیلئے آج ہی بچا”
بستر نے کہا ” ہر نیا دن شروع کرنے سے پہلے مناسب آرام کر”
آئینے نے کہا ” کارگذاری کا مظہر بن”
دیوار نے کہا ” دوسروں کا بوجھ بانٹو”
کھڑکی نے کہا ” زاویہ نظر کشادہ رکھو”
دروازے نے کہا “راستہ پانے کیلئے زور لگاؤ”
فرش نے کہا ” انکساری اختیار کرو”

آمريت کا اُچھلنا يا جمہوريت کا بِدکنا ۔ عوام کا کچُومر

پبلک اکاؤنٹس کميٹی کا اجلاس قائم مقام چیئرپرسن یاسمین رحمن کی زیرصدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں ہوا ۔ سیکرٹری خزانہ سلمان صدیق نے پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کو بریفنگ کے دوران بتایا ہے کہ
2 سال کے دوران 30 کھرب [3000000000000] روپے کے قرضوں کا اضافہ ہوا
اور اب ملک پر قرضوں کا مجموعی حجم 90 کھرب [9000000000000] روپے ہو گیا ہے
90 کھرب کے قرضوں میں سے 45 کھرب روپے غیر ملکی جبکہ 45 کھرب روپے قومی قرضوں کی مد میں ادا کرنے ہیں
3 کھرب کے اندرونی قرضے اتارنے کیلئے مزید قرضے لئے جاتے ہیں
حکومت فاٹا کے بجلی کے بلوں کا 10 ارب [10000000000] روپے قومی بجٹ سے ادا کررہی ہے
اسٹیل ملز میں 2 کھرب 25 کروڑ روپے کا خسارہ ہے

سیکرٹری خزانہ سلمان صدیق نے مزيد بتايا کہ
بینظیر ٹریکٹر اسکیم پر 4 ارب روپے کی سبسڈی دی گئی
توانائی شعبے کو 183 ارب روپے کے خسارے کا سامنا ہے
سیلاب کی وجہ سے 2 کھرب 80 ارب روپے کے ترقیاتی بجٹ کو کم کر کے 2 کھرب روپے کر دیا گیا ہے

جانچ پڑتال کے دوران وزارت خزانہ کے کھاتوں میں 14 کروڑ [140000000] روپے کے سِیکرٹ فنڈ کا انکشاف ہوا جو 10 نومبر 2007ء سے 17 دسمبر 2007ء کے 43 دنوں میں ایک خفیہ ایجنسی کو فراہم کئے گئے تھے

خواجہ آصف نے کہا کہ پی آئی اے اور دیگر ناکارہ اداروں کو 250 ارب روپے کی سبسڈی دے کر عوام کو اس بھاری رقم کے ثمرات سے محروم رکھا جا رہا ہے
حامد یار ہراج نے کہا کہ حکومت کے تمام شعبے سبسڈی پر چل رہے ہیں جو اچھی گورننس نہیں ہے

پی اے سی کیلئے یہ بات بھی تشویش انگیز تھی کہ پوری حکومت سبسڈی پر چل رہی ہے اور سرکاری اداروں کو دی جانے والی سبسڈی کی مالیت دفاعی بجٹ کے برابر پہنچ چکی ہے

مکافاتِ عمل

آج پاکستان کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے بنچ نے این آر او فیصلے پر عمل درآمدسے متعلق عدنان خواجہ کے خلاف مقدمہ کی سماعت کی۔ عدالت نے ڈپٹی چیئرمین نیب جاوید ضیاءکی جانب سے بطور قائم مقام چیئرمین کئے گئے اقدامات کا ریکارڈ اور عدنان خواجہ کے خلاف ریفرنس سے متعلق ریکارڈ طلب کیا

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ جاوید ضیاء نے نیب چیئرمین کے آفس پر غیرقانونی قبضہ کیا ہوا ہے اور عدالت ان کے اقدامات کو غیرقانونی قرار دے گی

چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ سوئس مقدمات کھولنے کیلئے ابھی تک خط کیوں نہیں لکھا گیا، وہ بدمزگی نہیں چاہتے اور روزانہ اصرارکرنا اچھانہیں لگتا، اس لئے اٹارنی جنرل اس معاملے پر اپنا کرداراداکریں ۔ عدالت نے سوئس کیسز بحالی کی سمری نہ بھیجنے پر وفاقی سیکرٹری قانون مسعود چشتی کو طلب کیاجنہوں نے پیش ہوکر مہلت کی درخواست کی ۔ عدالتِ عظمٰی نے 24 ستمبر تک مہلت دیدی ہے

سپریم کورٹ نے کمرہ عدالت میں موجود احتساب ریفرنس میں سزا یافتہ بریگیڈیئر ریٹائرڈ امتیاز اور عدنان خواجہ کو بھی فوری حراست میں لینے کا حکم دیا جس پر پولیس نے انہیں حراست میں لے لیا ۔ عدالت نے حکم دیا کہ یہ دونوں تین دن میں ضمانتی مچلکے عدالت میں جمع کراسکتے ہیں