احوالِ قوم ۔ 3 ۔ تنزّل

رہے جب تک ارکانِ اِسلام برپا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ چلن اہلِ دیں کا رہا سیدھا سادا
رہا مَیل سے شہد صافی مصفّا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ رہی کھوٹ سے سِیمِ خالص مبرا
نہ تھا کوئی اسلام کا مردِ میداں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ علم ایک تھا شش جہت میں درافشاں

پہ گدلا ہوا جب کہ چشمہ صفا کا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ گیا چھوٹ سررشتہ دینِ ھدیٰ کا
رہا سر پہ باقی نہ سایہ ہُما کا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تو پورا ہوا عہد جو تھا خدا کا
کہ ہم نے بگاڑا نہیں کوئی اب تک۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ وہ بگڑا نہیں آپ دنیا میں جب تک
بُرے ان پہ وقت آکے پڑنے لگے اب۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ وہ دنیا میں بس کر اُجڑنے لگے اب
بھرے ان کے میلے بچھڑنے لگے اب۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بنے تھے وہ جیسے بگڑنے لگے اب
ہری کھیتیاں جل گئیں لہلہا کر۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ گھٹا کھُل گئی سارے عالم پہ چھاکر
نہ ثروت رہی ان کی قائم نہ عزت۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ گئے چھوڑ ساتھ ان کا اقبال و دولت
ہوئے علم و فن ان سے ایک ايک رخصت۔ ۔ مِٹیں خوبیاں ساری نوبت بہ نوبت
رہا دین باقی نہ اسلام باقی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اک اسلام کا رہ گیا نام باقی

ملے کوئی ٹیلہ اگر ایسا اونچا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کہ آتی ہو واں سے نظر ساری دنیا
چڑھے اس پہ پھر اک خرد مند دانا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کہ قدرت کے دنگل کا دیکھے تماشا
تو قوموں میں فرق اس قدر پائے گا وہ۔ ۔ ۔ ۔ کہ عالم کو زیر و زبر پائے گا وہ
وہ دیکھے گا ہر سو ہزاروں چمن واں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بہت تازہ تر صورتِ باغِ رضواں
بہت ان سے کمتر پہ سر سبز و خنداں۔ ۔ ۔ ۔ بہت خشک اور بے طراوت ۔ مگر ہاں
نہیں لائے گو برگ و بار اُن کے پودے۔ ۔ ۔ ۔ نظر آتے ہیں ہونہار اُن کے پودے

پھر اک باغ دیکھے گا اُجڑا سراسر۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جہاں خاک اُڑتی ہے ہر سو برابر
نہیں تازگی کا کہیں نام جس پر۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ہری ٹہنیاں جھڑگئیں جس کی جل کر
نہیں پھول پھل جس میں آنے کے قابل۔ ۔ ہوئے روکھ جس کے جلانے کے قابل
جہاں زہر کا کام کرتا تھا باراں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جہاں آکے دیتا ہے رُو اَبر نیساں
تردّد سے جو اور ہوتا ہے ویراں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ نہیں راس جس کو خزاں اور بہاراں
یہ آواز پیہم وہاں آرہی ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کہ اسلام کا باغِ ویراں یہی ہے

کلام ۔ خواجہ الطاف حسين حالی

This entry was posted in تجزیہ, روز و شب, معاشرہ on by .

About افتخار اجمل بھوپال

رہائش ۔ اسلام آباد ۔ پاکستان ۔ ۔ ۔ ریاست جموں کشمیر کے شہر جموں میں پیدا ہوا ۔ پاکستان بننے کے بعد ہجرت پر مجبور کئے گئے تو پاکستان آئے ۔انجنئرنگ کالج لاہور سے بی ایس سی انجنئرنگ پاس کی اور روزی کمانے میں لگ گیا۔ ملازمت کے دوران اللہ نے قومی اہمیت کے کئی منصوبے میرے ہاتھوں تکمیل کو پہنچائے اور کئی ملکوں کی سیر کرائی جہاں کے باشندوں کی عادات کے مطالعہ کا موقع ملا۔ روابط میں "میں جموں کشمیر میں" پر کلِک کر کے پڑھئے میرے اور ریاست جموں کشمیر کے متعلق حقائق جو پہلے آپ کے علم میں شائد ہی آئے ہوں گے ۔ ۔ ۔ دلچسپیاں ۔ مطالعہ ۔ مضمون نویسی ۔ خدمتِ انسانیت ۔ ویب گردی ۔ ۔ ۔ پسندیدہ کُتب ۔ بانگ درا ۔ ضرب کلِیم ۔ بال جبریل ۔ گلستان سعدی ۔ تاریخی کُتب ۔ دینی کتب ۔ سائنسی ریسرچ کی تحریریں ۔ مُہمْات کا حال

2 thoughts on “احوالِ قوم ۔ 3 ۔ تنزّل

  1. جاویداقبال

    بہت خوب بہت اچھاشیئرکرنےکابہت بہت شکریہ اوریہ مصرعہ توجان ہے۔
    یہ آواز پیہم وہاں آرہی ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کہ اسلام کا باغِ ویراں یہی ہے

  2. افتخار اجمل بھوپال Post author

    جاويد اقبال صاحب
    ديکھيئے کيسا عمدہ معيار تھا مسلمان مفکرين کی عقل اور سمجھ کا کہ پيش بندی کر ديتے تھے ۔ اور اب ہميں سامنے ہوتا عمل سمجھ ميں نہيں آتا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

:wink: :twisted: :roll: :oops: :mrgreen: :lol: :idea: :evil: :cry: :arrow: :?: :-| :-x :-o :-P :-D :-? :) :( :!: 8-O 8)

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.