Category Archives: روز و شب

لال مسجد کا معاملہ اور ہمارا رویّہ ۔ چوتھی اور آخری قسط

حالات و واقعات ۔ ایک محقق شیخ محمد علی صاحب کی نظر میں
آپریشن سے قبل بھی اور بعد میں بھی سرکار و حلیفان سرکار کی جانب سے بھانت بھانت کی وجوہات پیش کی جا رہی ہیں، کہیں زمینوں پر قبضے کی بات ہے تو کہیں شریعت کے ازخود نفاذ کی بات یا پھر اندر اسلحہ و غیرملکیوں کی موجودگی کی، لیکن دل پر ہاتھ رکھ کر بتایئے کہ سچ کیا ہے، کیا یہ سچ نہیں کہ ان معصوموں کی اموات کے فیصلے کہیں اور ہوئے تھے اور جن پر عملدرآمد اسی پالیسی کا حصہ ہے جو آج اقوام مغرب نے اسلام و مسلمان دشمنی کے تناظر میں ہر سمت جاری کر رکھی ہے۔ امریکا بہادر نے عراق پر ہاتھ ڈالنے کے لئے آخر یہی تو جواز تراشا تھا کہ وہاں بڑی مقدار میں کیمیاوی ہتھیار موجود ہیں لیکن ایک بڑی تباہی و بربادی کے بعد وہاں سے کیا برآمد کیا؟ یہ صرف مخالفین کو دبانے اور تباہ و برباد کر دینے کے ہتھکنڈے ہیں اس کے سوا کچھ نہیں۔ افسوس تو ان علماء پر بھی ہے جو اگر چاہتے تو شاید یہ نوبت نہ آنے پاتی لیکن آج اس خون ناحق پر بھی سیاست کی بساط بچھا لی گئی ہے، کہیں جوڈیشنل انکوائری کی بات ہو رہی ہے تو کہیں مذمت۔ اسلام نے ہمیشہ اپنے پیروکاروں سے عمل کا مطالبہ کیا ہے اور اس خصوصی معاملے میں عمل وہی قبول تھا جس سے ان کی جانیں بچ سکتیں اگر یہ علماء اور یہاں کے مسلمان یہ نہیں کرسکے تو ہزار مذمتیں کریں، ہزار انکوائریوں کا مطالبہ کریں انہیں بھی اس خون ناحق کا حساب دینا ہوگا۔ بشری زندگی کا ہر موضوع اور ہر پہلو اسلام کی گرفت میں ہے اور سیاست و سیادت کا ایک واضح و نمایاں خاکہ بھی اس نے پیش کیا ہے۔

ان واضح و بیّن احکامات کی موجودگی میں کسی کج بحثی کی گنجائش نہیں اور نہ میں اس حوالے سے کسی لمبی بحث میں الجھنا چاہتا ہوں، وہ لوگ جو لال مسجد والوں کے مطالبات، نفاذ شریعت کورٹ کی آڑ میں غلط قرار دیتے ہیں اور اپنے مباحثوں میں یہ فرماتے ہیں کہ کسی فرد یا ٹولے کو اس بات کا اختیار نہیں دیا جاسکتا کہ وہ جب چاہے ایسے مطالبات لے کر اٹھ کھڑا ہو اور حکومت کی رِٹ کو چیلنج کرے انہیں دلوں میں خوف پیدا کرنا چاہئے اور اعمال میں اصلاح کی فکر بھی کیونکہ ان کا یہ ارشاد سراسر اسلامی سیاست و شریعت کے خلاف ہے۔ وہ یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ اسلامی تاریخ لاتعداد ایسی نظیریں پیش کرتی ہے جہاں فرد سے لے کر افراد تک اور افراد سے لے کر گروہوں تک نے نفاذ شریعت کا مطالبہ بھی کیا اور اس کے لئے حاکموں، جابروں اور آمروں سے ٹکر بھی لی، خود واقعہ کربلا سے بڑھ کر اس کی مثال کیا ہوگی کہ بہتّر افراد کے ٹولے نے محض شریعت کی سربلندی کے لئے بدترین آمر سے ٹکر لی اور خود تو دنیوی اعتبار سے ختم ہوگئے لیکن اپنی سنت پر چلنے کا ایک واضح اصول چھوڑ گئے۔ حکومت کی رِٹ کا فلسفہ گھڑنے والے اور اس کے خلاف ایسی آوازوں کو ناپسند کرنے والے کیا واقعہ کربلا کو بھی خاکم بدہن ایسا ہی کوئی واقعہ قرار دیں گے؟

سچ صرف ایک ہے کہ کھوٹ سارا ہمارے اپنے دلوں میں ہے، ہم نفس کے غلام، بے حمیّت اور ایمانی حوالوں سے کھوکھلے ہو چکے ہیں۔ دنیا بھر میں دشمنان اسلام اسلامی عقائد کے خلاف اپنی گندی زبانیں استعمال کر رہے ہیں، پیغمبر اسلام پر ہرزہ سرائی ہو رہی ہے، کفر و الحاد پرست انہیں زر و جواہر میں تول رہے ہیں جو ایسے رذیل و قابل گرفت کام انجام دے رہے ہیں اور ہم صرف زبانی کلامی بڑھکیں مار رہے ہیں۔ اب تو لال مسجد و مدرسہ حفصہ کے اندوہناک سانحے نے ہمارے ایمان کی قلعی کھول کر رکھ دی ہے اور ہمیں اپنی ہی نظروں میں شرمندہ و نیچ ٹھہرا ڈالا ہے اور ہم یہ جان چکے ہیں کہ دعویٰ ایمانی کے تناظر میں ہم کتنے پانی میں ہیں۔

سائنس و ٹیکنالوجی کے اس کمرشل دور میں جبکہ لوگ محض دنیوی کامیابیوں اور فراوانی دولت کی خاطر تعلیم کے مختلف میدان اپنے بچوں کے لئے منتخب کر رہے ہیں ان بچوں سے یہ بدترین انتقام کیا معنی رکھتا ہے جو دین کی محبت میں ان مدرسوں کا رخ کر رہے ہیں اور یہ جانتے ہیں کہ یہ سودا دنیوی کامیابی کا نہیں بلکہ آخری کامیابی و سرفرازی کا ہے۔ کاش کہ طوق غلامی گردنوں سے اتار کر حکام وقت یہ سوچ سکیں کہ وہ کتنے بدترین خساروں کا سودا کر رہے ہیں۔ بے شک اللہ کے ہاں دیر ہے اندھیر نہیں

تحریر ۔ شیخ محمد علی ۔ یہ مضمون دو قسطوں میں تھا جو میں نے قارئین کی سہولت کیلئے چار اقساط میں لکھا ۔ اصل مضمون کی پہلی قسط یہاں کلک کر کے دیکھ سکتے ہیں اور دوسری قسط یہاں پر کلک کر کے

لال مسجد کا معاملہ اور ہمارا رویّہ ۔ تیسری قسط

حالات و واقعات ۔ ایک محقق شیخ محمد علی صاحب کی نظر میں
اس مملکت خداداد پاکستان میں اگر لوگ شریعت کو پسند نہیں کرتے اور خواہشات نفس کی پیروی میں زندگی گزارنا چاہتے ہیں تو یہ ان کا اور اللہ کا معاملہ ہے لیکن انہیں کیوں سزائیں دی جا رہی ہیں جو ایسا کرنا نہیں چاہتے۔ وہ شخص جو ایمان کا دعویدار ہے یاد رکھئے وہ کمزور سے کمزور حیثیت میں بھی منکرات کے خلاف اپنا ردعمل ظاہر کرے گا اگر وہ ایسا نہیں کرتا تو پھر سمجھ لیجئے کہ ایمان کا معاملہ گڑبڑ ہے اور دال میں کچھ کالا ہے۔ صحیحین کی اس حدیث کو ملاحظہ فرمایئے جس میں اسی طرف واضح اشارہ موجود ہے، ارشاد ہے:

”تم میں سے جو شخص کوئی بدی دیکھے، اس کو ہاتھ سے (نیکی سے) بدل دے، اگر ایسا نہ کرسکے تو زبان سے روکے، اگر زبان سے بھی نہ روک سکے تو دل سے برا سمجھے اور یہ (آخری درجہ) ایمان کا سب سے کمزور درجہ ہے۔ (بخاری و مسلم)

آج لمحہ فکریہ بحیثیت مجموعی تمام امت مسلمہ کے تناظر میں اور بالخصوص ہم پاکستانی مسلمانوں کے حوالے سے یہی ہے کہ اگر اسی فارمولے کو سامنے رکھ کر جو مندرجہ بالا حدیث میں پیش کیا گیا ہے اہل ایمان الگ کئے جائیں تو شاید چند ہی افراد اپنا شمار کسی ایک درجے میں کرا سکیں گے باقی سب ہی کا معاملہ ناگفتہ بہ ہوگا اور وجہ وہی ہے جس کا مشاہدہ کھلی آنکھوں سے بھی کیا جاسکتا ہے اور یہ شعر بھی اس کی خوب ترجمانی کر رہا ہے

تھا جو ناخوب بتدریج وہی خوب ہوا ۔ ۔ ۔ کہ غلامی میں بدل جاتا ہے قوموں کا ضمیر

یہ ہیں وہ تقاضے جو اسلام ہر مسلمان سے کرتا ہے اب اس صورتحال میں میری سمجھ میں یہ نہیں آتا کہ وہ لوگ جو مسلمان ہیں اور اس بات کے دعویدار بھی کہ پاکستان ایک مسلمان ملک ہے اور یہاں شریعت قائم ہونی چاہئے کیسے اس بدترین ظلم میں ایک حصہ دار بن بیٹھے اور کیسے انہوں نے حقائق و واقعات کو یکسر فراموش کردیا۔ سچ پوچھئے تو شریعت کا نام لینے والے یا بظاہر اس کا مطالبہ کرنے والے سب شریعت سے خوفزدہ ہیں اور اسے پسند نہیں کرتے کیونکہ بہرحال شریعت کے تمام مطالبات و تقاضے وہ ہیں جو انہیں مرغوباتِ نفس سے دور کردیں گے اور جبراً انہیں ان تمام باتوں سے اجتناب کرنا پڑے گا جن کے لئے یہ بے چین و مضطرب رہتے ہیں۔ عوام الناس کی سطح پر یہ ایک عمومی خیال اپنی جگہ موجود ہے کہ شریعت کا مطالبہ کرنے والے علماء کبھی نفاذ شریعت کے لئے کچھ نہیں کرسکتے اس لئے کہ عملاً یہ کچھ کرنے کے اہل ہی نہیں سو کبھی کسی نے ایسے کسی مطالبے پر نہ کان دھرا اور نہ ایسے مطالبات کرنے والوں سے خوفزدہ ہوئے۔ یہ خوف تو ایسے گروہوں نے پیدا کیا جن کے طور طریقوں سے نفاذ شریعت کے امکانات ہویدا ہونے لگے تھے یا کم از کم یہ اندیشے جنم لینے لگے تھے کہ اگر واقعی کبھی نفاذ شریعت ممکن ہو رہی تو پھر کیا ہوگا؟ یہ سُود کا لین دین، یہ فحاشی، یہ بدقماشیاں، یہ قحبہ گری اور آنکھوں کے یہ مزے جو ہمہ وقت مختلف پہلوؤں سے میسر ہیں کیسے مہیا و دستیاب ہوں گے؟ سو ایک بڑے جتھے نے یکسر اس گروہ کی آواز کو مسترد کردیا اور حکومت کی رِٹ ملکی قوانین اور حکمرانوں سے بغاوت کا نام لے کر حلیفانِ حکومت میں شامل ہوگئے۔

اختلاف کرنا ایک مستحب عمل ہے اور اس کی پوری گنجائش بعض معاملات میں موجود ہے اگر سرکاری و عوامی سطح پر اس گروہ کے مطالبات شریعت پر اختلاف تھا یا کچھ ابہام تھا تو پھر اس کے اظہار کا طریقہ بھی معروف و مستحب اور جائز ہونا چاہئے تھا اور وہ یہ کہ اس پر جید دینی حلقوں کے حوالے سے بحث و مباحثے ہوتے اور اسی پلیٹ فارم کی سطح پر گفتگو کے ذریعہ کسی منطقی انجام تک پہنچنے کی کوشش کی جاتی۔ حکومت کا تو دعویٰ یہ ہے کہ اس نے ایسا کرنے کی کوشش کی تھی لیکن حقیقت کیا ہے یہ ہم آپ خوب جانتے ہیں۔ جو علماء اس بات کے دعویدار ہیں کہ وہ ایسی مساعی کا حصہ بنے تھے وہ بھی خوب جانتے تھے کہ ان کا کردار حکومتی نکات پر اہل مسجد و مدرسہ کو قائل و آمادہ کرنے کے سوا کچھ نہ تھا۔ مسائل کچھ لو اور کچھ دو کی بنیاد پر حل ہوتے ہیں اگر ایسا بھی ہو جاتا تو شاید خون ناحق سے مسجد و مدرسہ کی زمین سرخ نہ ہوتی حالانکہ علماء خوب جانتے ہیں کہ شریعت کے معاملے میں کچھ لو اور کچھ دو والا اصول درست نہیں ہے۔ یہ تو سراسر ظلم و ناانصافی ہے کہ جو بات طبعیت کو گوارہ نہ ہو قطع نظر اس کے کہ وہ کہاں تک درست ہے تشدد کا راستہ اختیار کرلیا جائے اور وہ بھی ایسے تشدد کا جس سے قتال وابستہ ہو۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ [جاری ہے]

لال مسجد کا معاملہ اور ہمارا رویّہ ۔ دوسری قسط

حالات و واقعات ۔ ایک محقق شیخ محمد علی صاحب کی نظر میں
حکومت نے یہ تاثر پیدا کرنے کی کوشش کی کہ یہ ریاست کی رٹ، قانون کی بالادستی اور حاکموں سے بغاوت کا معاملہ تھا اور حلیفان حکومت نے بھی جن میں عوام و خواص دونوں شامل ہیں اسی اصول پر اتفاق کر لیا اور اتنے بڑے سانحے و ظلم کے لئے محض اسی کو وجہ بنا ڈالا اور یقیناً علماء و مدارس تک بھی اس وحشت انگیز کارروائی کے ذریعہ یہ پیغام کامیابی سے پہنچایا گیا کہ دیکھ لو یہ ہے انجام ان کا جو زمین پر اللہ اور اس کے رسول کی شریعت کا مطالبہ کرتے ہیں۔ پاکستان ایک مسلم ملک ہے یا سیکولر، اس پر بحث کر کے میں اپنا وقت ضائع کرنا نہیں چاہتا کیونکہ کہنے والے یہ بھی کہتے ہیں کہ مسلمان ملک ہے اور اسلام کے نام پر حاصل کیا گیا تھا لیکن یہی کہنے والے عملاً اپنے نظریات و افکار سے اس کی نفی بھی کرتے ہیں۔ اب تو مغربی تعلیم کے زیر اثر وہ گروہ بھی پیدا ہو چلے ہیں جو اس کے سیکولر ہونے کے دعویدار ہیں اور اس بات کے خواہاں کہ یہاں کا طرز زندگی وہی ہو رہے جو کسی سیکولر اسٹیٹ کا ہوتا ہے تاکہ انہیں شہوات کے بہتے ہوئے دریا میں بے لباس ہو کر نہانے کے مواقع میسر آسکیں۔ میں خود بہت گنہگار مسلمان ہوں لیکن میرا ایمان ہے کہ گناہ تسلیم کر لینا اور گناہ کو گناہ نہ تصور کرنا بالکل دو مختلف چیزیں ہیں۔ اول الذکر میں خلاصی و نجات کے پورے راستے موجود ہیں جبکہ ثانی الذکر میں نجات کا کوئی راستہ نہیں۔

سچ صرف اسلام ہے اور بقا صرف اسلام میں ہی ہے۔ وہ لوگ جو حکومت کی رِٹ کی رَٹ لگائے ہوئے ہیں اور اس کے اختیارات و قوانین کی بات کرتے ہیں یا حکمرانوں سے بغاوت کی انہیں یہ بھی دیکھنا چاہئے کہ حقیقی صورتحال اس ملک میں کیا ہے جو اسلامی نہ سہی مسلم تو ہے۔ اس بات سے قطع نظر کہ اسلامی ریاست یا مملکت کیا ہوتی ہے، ایک اولی الامر یا حاکم کی تعریف اور اس کے فرائض و ذمہ داریاں کیا ہیں کم از کم یہ تو دیکھئے کہ آپ مسلمان ہیں اور ایک مسلمان ملک میں رہتے ہیں، آپ سے اللہ کی ذات کیا مطالبہ کرتی ہے بالخصوص ان علماؤں سے جو اپنے آپ کو انبیاء کا وارث قرار دینے میں آگے ہیں۔ پاکستان کو اسلامی مملکت بنانا آپ کی ذمہ داری ہے لیکن نہیں بنانا چاہتے تو یہ آپ جانیں اور اللہ لیکن اگر کوئی خوفِ خدا رکھنے والا شخص یا گروہ حاکم وقت کو اس کے فرائض و ذمہ داریاں یاد دلائے اور اس بات پر زور دے کہ اسے کیا کرنا ہے تو یہ کون سا گناہ ہے؟ حاکم کی اطاعت واجب ہے اور اس کا حکم بھی دوٹوک اللہ نے دیا ہے لیکن ذرا یہ بھی دیکھئے کہ وہ کون سے حاکم ہوتے ہیں جن کی اطاعت فرض و واجب کے کھاتے میں ڈالی گئی ہے۔ اطاعت کا حکم ملاحظہ فرمایئے :

”اے ایمان والو! اطاعت کرو اللہ کی اور اطاعت کرو رسول کی اور ان لوگوں کی جو تم میں صاحب امر ہوں۔“ (النساء:59) [نوٹ ۔ اس آیت کا بقیہ حصہ یہ ہے ۔ پھر اگر تمہارے درمیان کسی معاملہ پر نزاع ہو جائے تو اسے اللہ اور رسول کی طرف پھیر دو اگر تم واقعی اللہ اور روزِ آخر پر یقین رکھتے ہو ۔ یہی ایک صحیح طریقۂ کار ہے اور انجام کے اعتبار سے بھی بہتر ہے]

لیکن یہ صاحب امر ہوں گے کیسے جن کی اطاعت کو لازمی ٹھہرایا گیا ہے یہ بھی دیکھئے :

”یہ وہ مسلمان ہیں کہ اگر ہم نے انہیں زمین میں صاحب اقتدار کردیا تو وہ نماز قائم کریں گے، ادائے زکوٰة میں سرگرم رہیں گے، نیکیوں کا حکم دیں گے، برائیوں سے روکیں گے اور تمام باتوں کا انجام کار خدا کے ہاتھ میں ہے۔“ (الحج:41)

سو تو یہ طے ہے کہ حاکم کی اطاعت و فرمانبرداری مسلمان کے لئے ضروری ٹھہرائی گئی ہے تاکہ نظام زندگی مستحسن بنیادوں پر رواں رہے، ریاست میں اللہ کا قانون اور اس کا حکم نافذ ہو رہے، بدنظمی و عدم توازن پیدا نہ ہو، لاقانونیت جنم نہ لے سکے اور امن و سلامتی کا دور دورہ ہو لیکن یہ بھی یاد رکھئے کہ اول و آخر چیز اللہ کا حکم اور اس کی شریعت ہی ہے اور یہ سارا نظام اسی کے نفاذ کے لئے راہیں ہموار کرتا ہے اگر کوئی حاکم ان راہوں کی ہمواری کے آگے رکاوٹ بن رہا ہو اور اللہ اور اس کے رسولﷺ کے احکامات پس پشت ڈالے جا رہے ہوں تو پھر ان مسلمانوں کو جنہیں اس کی اطاعت کا پابند کیا گیا ہے انہیں اس سے بری الذمہ بھی ٹھہرایا گیا ہے اور اس کی وضاحت اللہ کے رسول ﷺ نے یوں کی ہے، آپ کا ارشاد ہے:

”مسلمان کو لازم ہے کہ اپنے اولی الامر کی بات سنے اور مانے خواہ اسے پسند ہو یا ناپسند، تاوقتکہ اسے معصیت کا حکم نہ دیا جائے اور جب اسے معصیت کا حکم دیا جائے تو پھر اسے نہ کچھ سننا چاہئے اور نہ ماننا چاہئے۔“ (بخاری و مسلم) [نوٹ ۔ اُوپر سورة النساء کا جو حصہ نوٹ کے تحت نقل کیا گیا ہے وہ یہی حکم دیتا ہے]

اب اس سے زیادہ جو سخت بات آپ نے ارشاد فرمائی ہے وہ بھی ملاحظہ فرما لیجئے جس کا اطلاق ہر مسلمان پر ہوتا ہے، آپ کا ارشاد ہے:

”تم میں ایسے لوگ بھی حکومت کریں گے جن کی بعض باتوں کو تم معروف پاؤ گے اور بعض کو منکر، تو جس نے ان کے منکرات پر اظہار ناراضی کیا وہ بری الذمہ ہوا اور جس نے ان کو ناپسند کیا وہ بھی بچ گیا مگر جو ان پر راضی ہوا اور پیروی کرنے لگا وہ ماخوذ ہوگا۔“ (مسلم)

لاتعداد احادیث ایسی ہیں جن میں حکمرانوں کے احکامات معصیت اور اعمال معصیت کی تشریحات و وضاحتیں موجود ہیں اور ان پر انفرادی و اجتماعی سطح پر آوازِ حق بلند کرنے کی تلقین کی گئی ہے یہاں تک کہ ایسے حاکموں کو ان کے منصب سے اتار دینے تک کے احکامات بھی موجود ہیں۔ پاکستان ایک اسلامی ریاست نہ سہی لیکن اگر یہ مسلمان ریاست بھی ہے تب بھی ایک مسلمان کے اس حق کو کوئی نہیں چھین سکتا جو اللہ اور اس کے رسولﷺ نے اسے دیا ہے اور جو محض ان دو مندرجہ بالا احادیث سے بھی واضح ہے۔ کوئی حکومت محض رِٹ، ہینڈ میڈ قوانین اور حکمرانوں سے بغاوت کی بات کر کے اپنے آپ کو احتساب سے نہیں بچا سکتی اور نہ ہی کسی ایسے حق سے کسی مسلمان فرد یا گروہ کو محروم کرسکتی ہے جو اس کی بنیادی دینی تربیت کا حصہ اور ایک اہم ذمہ داری ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ [جاری ہے]

لال مسجد کا معاملہ اور ہمارا رویّہ

حالات و واقعات ۔ ایک محقق شیخ محمد علی صاحب کی نظر میں
لال مسجد و مدرسہ حفصہ کے معاملے میں جو کچھ بھی صورت حال گزشتہ کئی ماہ سے ہویدا ہو رہی تھی اس کی تفصیلات میں جانا یقیناً اس اعتبار سے غیر ضروری ہے کہ تقریباً ہر شخص اس کے ہر پہلو سے بخوبی آگاہ ہے۔ حکومتی سطح پر اس معاملے میں جو رویہ اپنایا گیا اور اس خصوصی تناظر میں پروپیگنڈے کے لئے جو ہتھیار استعمال کئے گئے بلاشبہ صاحب علم و ظرف اس سے بھی بخوبی آگاہ ہیں۔ اس سارے معاملے کا سب سے المناک، دلگیر اور خون کے آنسو رلا دینے والا پہلو وہ آپریشن ہے جس کا اختتام 10 جولائی 2007ء کو سینکڑوں ہلاکتوں اور خود مسجد کے تقدس کی پامالی کی صورت میں سامنے آیا، وہ اپنوں کے مقابل اپنے، وہی مٹھی بھر مسلمانوں کی جماعت کے آگے صف آرا فوج، وہی پھول جیسے معصوم بچے، وہی پانی و تراسیل کی بندش اور وہی مقتل میں اذانیں، اللہ اکبر! یہ سب کچھ اس مملکت خداداد پاکستان میں ہوا جسے بقول شخصے اسلام کے نام پر حاصل کیا گیا تھا اور جس کے آئین میں قرآن و سنت کی بالادستی کی قسم بھی کھائی گئی تھی۔

اس ٹولے نے تو انتہا کردی جسے اپنے سیاستداں ہونے پر فخر ہے اور جو صرف جی حضوری کی روٹی کھا رہا ہے اور جس کے نزدیک کسی کی عزت، کسی کا دکھ اور کسی کی موت کوئی معنی نہیں رکھتی سوائے وزارت و نیابت کے مزے لوٹنے کے۔ ان لوگوں نے اس قیامت کے ڈھائے جانے میں اپنا بھرپور کردار ادا کیا اور کسی مرحلے پر بھی یہ گمان تک پیدا نہ ہونے دیا کہ انہیں اس بدترین خون خرابے پر دکھ، پریشانی اور اذیت ہے۔ ان کے سپاٹ چہروں کے پیچھے دوسروں کے خوف کو بخوبی محسوس کیا جاسکتا تھا کہ کہیں مدرسہ و مسجد والوں سے ذرا سی ہمدردی بھی بھاری نہ پڑ جائے اور کرسی سے محرومی کے ساتھ ساتھ عتاب بھی ان کا مقدر بن جائے انہوں نے صرف اور صرف اسلام اور مسلمانوں کے دشمنوں کی نظروں میں اعتبار کی خاطر اور اپنی دنیوی راحتوں کی خاطر مسلمانوں کے خون کی اتنی بڑی ہولی کھیلی۔ ان کے دلوں میں مسلمانوں کا کتنا درد ہے یہ بات بھی آج اس مرحلے پر ڈھکی چھپی نہیں رہی۔

اس واقعہ کا دوسرا افسوسناک پہلو خود ہمارے علماء کرام کا کردار ہے جنہوں نے خدا معلوم مصلحتاً یا کسی اور لالچ و خوف میں اپنے آپ کو اس سارے معاملے سے دور رکھا اور شتر مرغ کی طرح ریت میں اپنے منہ کو چھپا کر یہ سمجھ لیا کہ شاید ان کا یہ عمل انہیں اپنے ساتھ ہونے والی کسی ایسی ہی زیادتی سے بچا لے گا اور یہ اپنے اس کردار کے باعث امان پا جائیں گے۔ اخبارات گواہ ہیں کہ ماضی میں ان کی طرف سے جو بھی کوششیں ہوئی تھیں ان کے پس پشت بھی صرف سرکار کا ہاتھ تھا جو اپنے موقف پر اہل مسجد و مدرسہ کو جھکانا چاہتی تھی۔ یہ اگر کسی مصلحانہ کردار کی کوشش کرتے اور حکومت و فریقین کو کسی ایک یا چند نکات پر اکٹھا کر لیتے تو یقیناً حرمت دین و مسجد قائم رکھنے میں ان کے کردار کو سراہا جاتا اور یہ بدترین سانحہ شاید رونما نہ ہوتا لیکن انہیں تو صرف حکومتی ایجنڈے پر اہل مسجد و مدرسہ کی تائید درکار تھی اور ساری ہی گفت و شنید اسی ایک مرکز کے گرد گھوم رہی تھی۔ انہیں خوف تھا کہ اگر انہوں نے حق و سچائی اور واقعات کے حقیقی پہلو کے حوالے سے کوئی کردار ادا کیا تو شاید حکومت کا عتاب ان پر بھی نہ آ گرے سو انہوں نے خاموشی سے کنارہ کشی میں عافیت جانی اور ایک محفوظ مستقبل کی امید میں پردہ سیمیں سے غائب ہوگئے۔ حالات تیزی کے ساتھ خراب ہونا شروع ہوگئے حتٰی کہ قیامت صغریٰ نازل ہو رہی تب کہیں جا کر ان علماء کا سویا ضمیر جاگا لیکن اب بہت دیر ہو چکی تھی۔ مذاکرات، مصالحتوں اور ثالثی کا بھی ایک وقت اور حالات ہوتے ہیں، جس وقت اہل مسجد و مدرسہ محبوس و مقید تھے، فائرنگ و گولہ باری کی ایک یلغار تھی، پانی، بجلی، گیس، خوراک اور دیگر رسیدیں کاٹی جا چکی تھیں، وزراء و سیاستدانوں نے اعتماد کی فضا کو الگ تار تار کر چھوڑا تھا اور طرح طرح کے حیلے انہیں جائے پناہ سے باہر نکالنے کی خاطر برتے جا رہے تھے آپ ہی بتایئے ان حالات میں مثبت مذاکرات پر کوئی پیش رفت کیسے و کیونکر ممکن تھی؟ ایسا ہر دعویٰ عبث و لغو تھا سو اس بدترین مرحلے پر علماء کا یہ مذاکرات کردار ماسوائے مُردے کو دوا پلانے کے کچھ نہ تھا۔ اپنے آپ کو اس سارے قضیے سے جدا و الگ تھلگ رکھنے والے اور اپنے مدارس کی فکر میں پریشان ہونے والوں کے لئے یقیناً یہ خبر کوئی نوید نہ لائی ہوگی کہ حکومت نے بجائے ان کی پیٹھ تھپتھپانے کے ان کے مدارس کی طرف بھی نگاہیں کرنے کا عندیہ دے ہی ڈالا۔

کاش کہ ریت میں منہ دینے کے بجائے حقائق کے ادراک پر توجہ دی جاتی اور ان حالات کو سمجھا جاتا جو آج سے نہیں 11 ستمبر 2001 سے ہویدا ہیں اور بالخصوص جس کا شکار پاکستان ہے۔ مغربی پالیسیوں اور ان کی تمام تر حکمت عملیوں کا مرکز مساجد و مدارس ہی ہیں کیونکہ یہاں سے وہ مسلمان پیدا ہوتے ہیں جن کے دلوں میں صرف اللہ کا خوف اور نبی ﷺ کی اطاعت کا جذبہ کارفرما ہوتا ہے اور یہی دونوں چیزیں اہل مغرب کی سراسیمگی و وحشت کا باعث ہیں۔

وہ علماء جو سیاسی بساط کا مہرہ ہیں ۔ بقول شخصے سیاست جن کا اوڑھنا بچھونا ہے انہوں نے تو بے حسی کی انتہا کردی اور اپنی سیاسی سرگرمیوں پر وقت کے اس اہم و نازک مسئلے کو تج دیا اور آل پارٹی کانفرنس کے لئے لندن جا بیٹھے۔ غضب خدا کا ۔ اللہ اور اس کے رسول کے نام لیوا موت و زندگی کی کشاکش میں مبتلا تھے، کسی بھی لمحے یہ قیامت صغریٰ برپا ہونے جا رہی تھی، سینکڑوں معصوم بچوں اور بچیوں کی زندگی کا سوال تھا، اک عالم کرب و بلا کا سا منظر تھا، ہر دل آنے والے لمحوں کے تصور سے ہی لرزاں تھا اور یہ حسب روایت اپنی بے حسی کا مظاہرہ فرما رہے تھے اور بازار سیاست میں کرسی اقتدار کے سودے کی فکر میں غلطاں تھے۔ اس موقع پر یہ کانفرنس اور بعدہ، اس کا جاری رہنا ازخود سیاست دانوں کے لئے بے حسی کا مظہر تھا، حیرت ہے کہ یہ واقعہ رونما بھی ہوگیا، آپریشن کے نام پر مسلمانوں کے خون سے ہولی کھیلی جانے لگی، ہر حساس دل پاکستانی مضطرب و بے چین دکھائی دینے لگا، لوگ ٹی وی کے آگے بیٹھے بہتے آنسوؤں میں تفصیلات جانتے رہے اور ان کی سیاست کا بازار بدترین بے حسی کے ساتھ گرم رہا۔ ذرا خیال فرمایئے خدانخواستہ ان میں سے اگر کسی کا اپنا بچہ یا بچی اس عذاب میں مبتلا ہوتی تو کیا تب بھی ان کے یہی مشاغل جاری رہتے۔ انہیں تو قوم کے دکھ و درد کا دعویٰ ہے یہ اس خونچکاں سانحے پر کیونکر بے حس ہو رہے یہی بات سمجھ سے بالاتر ہے۔

جہاں تک مولانا و مولانا نما کی بات ہے تو میں اس تناظر میں بہت سخت جملے لکھنے سے اپنے آپ کو باز رکھ رہا ہوں لیکن سچ صرف یہی ہے کہ یہ مسلمانوں کے بہی خواہ، ان کے ہمدرد اور مخلص نہیں، ان کے دل سخت ہو چکے ہیں جنہیں کسی کے دکھ، درد اور وحشتوں کا ادراک نہیں حالانکہ یہ اپنے کو اس نبی کا وارث قرار دیتے ہیں جس کی ریش مبارک کو صحابہ کرام نے دوسروں کے دکھوں پر تر ہوتے دیکھا ہے اور مسلسل دیکھا ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ [جاری ہے]

استفسارات کا جواب

میں نے حدیث اور سنت کی اہمیت بارے اظہارِ خیال کیا تو استفسارات کا سامنا ہوا ۔ جن میں نعمان اور افضل صاحبان کا استتفسار ہے کہ نماز کی اہمیت ۔ قرآن اور احادیث مبارکہ پڑھنے ۔ دین کے مطالعے کا طریقہ کار ۔ خصوصاً انٹرنیٹ اور کمپیوٹر کے ذریعے دین کا درست مطالعہ اور کس طرح کیا جائے اور یہ کہ کیسے اندازہ لگایا جائے کہ جو معلومات حاصل کررہے ہیں وہ مستند ہے یا نہیں ۔ کچھ دیگر حضرات شک میں ہیں کہ کونسی حدیث درست ہے اور کونسی نہیں ۔

میں کئی بار لکھ چکا ہوں کہ میں تو صرف ایک طالبِ علم ہوں ۔ بہرحال میں ان حضرات کا ممنون ہوں کہ مجھے اس قابل سمجھا ۔ میں اپنی سے طرف دین کی ترویج کی پوری کوشش کروں گا ۔ یہ استفسارات طویل تشریح طلب ہیں جس کیلئے کئی نشستیں درکار ہیں ۔ سب سے اہم معاملہ درست اور نادرست یا مستند اور غیرمستند کا ہے ۔ اس کا سبب نفساتی بھی ہے اور غیر مستند کتب کی اشاعت بھی ۔ کسی بھی تحریر کو سمجھنے کیلئے ضروری ہے کہ انسان اپنے وسوسوں کو کچھ دیر کیلئے پکی نیند سُلا دے ورنہ ہر بات غلط محسوس ہو گی ۔ علم حاصل کرنے کیلئے دوسرا اہم قدم یہ ہے کہ جو کچھ پڑھا جائے اسے اپنے نظریات یا مفروضات پر منطبق کرنے کی کوشش نہ کی جائے بلکہ مطالعہ سے حقائق کی شناخت کے بعد اپنے نظریات درست کئے جائیں ۔

اردو میں قرآن شریف اور اُردو ترجمہ پڑھنے اور تلاوت سننے کیلئے مندرجہ ذیل ربط پر جائیے ۔
http://www.asanquran.com/Quran.cfm
یہاں پر صرف قرآن شریف کا اردو ترجمہ پڑ سکتے ہیں ۔
http://www.quranweb.org/urdu/index.htm

یہاں پر آپ کو دین اسلام کے متعلق بہت کچھ پڑھنے کو ملے گا
http://www.islamicity.com/mosque/quran

قرآن شریف کا انگریزی ترجمہ مندرجہ ذیل ربط پر دیکھئے ۔ اسی ربط پر انگریزی میں حدیث بھی ملے گی اور تلاش کا بندوبست بھی ہے ۔ اس کے علاوہ اور بھی مفید معلومات اور مضامین اسلام کے متعلق ہیں
http://www.usc.edu/dept/MSA/quran

جہاں تک میرا تعلق ہے میرے پاس اللہ کے فضل سے کئی مفسرین کی تفاسیر ہیں اور حدیث کی کتاب صحیح بخاری ہے ۔ جامعہ اظہر کی کتاب الفقہ ہے ۔ سیرت النبی مولانا شبلی نعمانی کی لکھی ہوئی ہے ۔ میرے پاس وڈیو آڈیو سی ڈیز بھی ہیں ۔ اس کے علاوہ میں کئی ویب سائٹس سے بھی استفادہ کرتا ہوں ۔

انشاء اللہ یہ سلسلہ وقفہ کے ساتھ جاری رہے گا

اہلِ کتاب سے شادی

سُبْحَانَكَ لاَ عِلْمَ لَنَا إِلاَّ مَا عَلَّمْتَنَا إِنَّكَ أَنتَ الْعَلِيمُ الْحَكِيمُ ۔ صَدَقَ اللہُ العَظِیم

ترجمہ ۔ تیری ذات پاک ہے ہمیں کچھ علم نہیں مگر اُسی قدر جو تُو نے ہمیں سِکھایا ہے، بیشک تُو ہی جاننے والا حکمت والا ہے

میں نہ تو عالِمِ دین ہوں اور نہ ہی ایسا سوچ سکتا ہوں لیکن اللہ کے فضل ہے کہ جو بات میری سمجھ میں آتی ہے اس کو لکھنے سے پہلے میں حتٰی الوسع تحقیق کرنے کا عادی ہوں ۔ اصولِ فقہ ہے کہ سب سے پہلے قرآن شریف سے رجوع کیا جائے ۔ جو چیز قرآن شریف میں نہ ملے اسے سنّت میں تلاش کیا جائے ۔ جب کوئی چیز قرآن اور سنّت میں نہ ملے تو اصحابہ مقربین میں تلاش کیا جائے ۔ اگر اصحابہ مقربین کے قول و فعل سے بھی وہ چیز نہ ملے تو پھر علماء دین کا اجماع کیا جائے ۔ جو حُکم قرآن شریف سے مل جائے اسے پھر کہیں اور ڈھونڈنے کی حاجت نہیں رہتی اور جو حُکم قرآن شریف میں واضح ہو اس پر کسی انسان کی رائے مقدم نہیں ہو سکتی ۔ اختلاف رائے انسان کا حق صرور ہے لیکن اختلاف کی بنیاد علم کا حصول ہو تو صحتمند بحث ہوتی ہے ورنہ فضول تکرار ۔ ملاحظہ ہو کہ اللہ سبحانُہُ و تعالٰی نے کیا فرمایا ہے ۔

سُورة ۔ 2 ۔ الْبَقَرَة ۔ آیة ۔ 221

وَلاَ تَنكِحُواْ الْمُشْرِكَاتِ حَتَّى يُؤْمِنَّ وَلَأَمَةٌ مُّؤْمِنَةٌ خَيْرٌ مِّن مُّشْرِكَةٍ وَلَوْ أَعْجَبَتْكُمْ وَلاَ تُنكِحُواْ الْمُشْرِكِينَ حَتَّى يُؤْمِنُواْ  َلَعَبْدٌ مُّؤْمِنٌ خَيْرٌ مِّن مُّشْرِكٍ وَلَوْ أَعْجَبَكُمْ أُوْلَـئِكَ يَدْعُونَ إِلَى النَّارِ وَاللّهُ يَدْعُوَ إِلَى الْجَنَّةِ وَالْمَغْفِرَةِ بِإِذْنِهِ وَيُبَيِّنُ آيَاتِهِ لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ يَتَذَكَّرُونَ

ترجمہ ۔ اور تم مشرک عورتوں کے ساتھ نکاح مت کرو جب تک وہ مسلمان نہ ہو جائیں، اور بیشک مسلمان لونڈی [آزاد] مشرک عورت سے بہتر ہے خواہ وہ تمہیں بھلی ہی لگے، اور [مسلمان عورتوں کا] مشرک مردوں سے بھی نکاح نہ کرو جب تک وہ مسلمان نہ ہو جائیں، اور یقیناً مشرک مرد سے مؤمن غلام بہتر ہے خواہ وہ تمہیں بھلا ہی لگے، وہ [کافر اور مشرک] دوزخ کی طرف بلاتے ہیں، اور اﷲ اپنے حکم سے جنت اور مغفرت کی طرف بلاتا ہے، اور اپنی آیتیں لوگوں کے لئے کھول کر بیان فرماتا ہے تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں

سُورة ۔ 5 ۔ الْمَآئِدَة ۔ آیة ۔ 5

الْيَوْمَ أُحِلَّ لَكُمُ الطَّيِّبَاتُ وَطَعَامُ الَّذِينَ أُوتُواْ الْكِتَابَ حِلٌّ لَّكُمْ وَطَعَامُكُمْ حِلٌّ لَّهُمْ وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ الْمُؤْمِنَاتِ وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ الَّذِينَ أُوتُواْ الْكِتَابَ مِن قَبْلِكُمْ إِذَا آتَيْتُمُوهُنَّ أُجُورَهُنَّ مُحْصِنِينَ غَيْرَ مُسَافِحِينَ وَلاَ مُتَّخِذِي أَخْدَانٍ وَمَن يَكْفُرْ بِالْإِيمَانِ فَقَدْ حَبِطَ عَمَلُهُ وَهُوَ فِي الْآخِرَةِ مِنَ الْخَاسِرِينَ

ترجمہ ۔ آج تمہارے لئے پاکیزہ چیزیں حلال کر دی گئیں، اور ان لوگوں کا ذبیحہ جنہیں کتاب دی گئی تمہارے لئے حلال ہے اور تمہارا ذبیحہ ان کے لئے حلال ہے، اور پاک دامن مسلمان عورتیں اور ان لوگوں میں سے پاک دامن عورتیں جنہیں تم سے پہلے کتاب دی گئی تھی جب کہ تم انہیں ان کے مَہر ادا کر دو، [مگر شرط] یہ کہ تم [انہیں] قیدِ نکاح میں لانے والے بنو نہ کہ اِعلانیہ بدکاری کرنے والے اور نہ خفیہ آشنائی کرنے والے، اور جو شخص َحکامِ الٰہی پرایمان [لانے] سے انکار کرے تو اس کا سارا عمل برباد ہوگیا اور وہ آخرت میں نقصان اٹھانے والوں میں سے ہوگا

مندرجہ بالا پہلی آیت کے مطابق مسلمان مردوں کا نکاح مشرک عورتوں سے اور مسلمان عورتوں کا نکاح مشرک مردوں سے ممنوع قرار دے دیا گیا جب تک کہ وہ مسلمان نہ ہو جائیں ۔ دوسری آیت کے مطابق صرف مردوں کو اہلِ کتاب عورتوں سے نکاح کی اجازت دی گئی بشرطیکہ وہ پاکدامن ہوں لیکن پہلی آیت والی شرط بہرصورت موجود رہے گی یعنی وہ مشرک نہ ہوں اور اگر تھیں تو نکاح سے قبل مسلمان ہو جائیں ۔

حدیث اور سُنّت کی اہمیت

مسلمان ہونے کا دعویدار ایک گروہ ایسا بھی ہے جو کہتا ہے کہ وہ صرف قرآن شریف کو مانتے ہیں اور حدیث کو نہیں ۔ ایسے لوگوں نے یا تو قرآن شریف پڑھا ہی نہیں یا صرف طوطے کی طرح پڑھا ہے ۔ سوائے اس مسلمان کے جو پاگل یا بیہوش ہو نماز کسی صورت میں معاف نہیں ۔ قرآن شریف میں نماز پڑھنے کا طریقہ ۔ ہر نماز میں کتنی رکعتیں پڑھی جائیں اور کیا پڑھا جائے کہیں بھی درج نہیں ۔ اسی طرح روزے کیسے رکھے جائیں ۔ زکوٰۃ کیسے دی جائے اور حج کیسے کیا جائے ۔ اس سب کی بھی تفصیل قرآن شریف میں نہیں ہے ۔ یہ سب ہمیں سیّدنا محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اپنی زبان اور اپنے عمل سے بتایا اور اسی کو علٰی الترتیب حدیث اور سنّت کہتے ہیں جو پہلے تو مسلمانوں کو یاد تھیں مگر ان کے بھول جانے یا بدل جانے کے خدشہ کی وجہ سے انہیں بہت احتیاط اور چھانٹ پھٹک کے بعد کتابی شکل دی گئی ۔

سیّدنا محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی اطاعت کرنے کے متعلق آیات ۔

سورت ۔ 3 ۔ آل عمران ۔ آیت 31 و 32 ۔ اے نبی لوگوں سے کہہ دو “اگر تم حقیقت میں اللہ سے محبت رکھتے ہو تو میری پیروی اختیار کرو ۔ اللہ تم سے محبت کرے گا اور تمہاری خطاؤں سے درگذر فرمائے گا ۔ وہ بڑا معاف کرنے والا رحیم ہے”۔ اُن سے کہو “اللہ اور رسول کی اطاعت قبول کر لو”۔ پھر اگر وہ تمہاری یہ دعوت قبول نہ کریں تو یقیناً یہ ممکن نہیں ہے کہ اللہ ایسے لوگوں سے محبت کرے جو اس کی اور اسکے رسول کی اطاعت سے انکار کرتے ہوں ۔

سورت ۔ 4 ۔ النّسآء ۔ آیت 13 و 14 ۔ یہ اللہ کی مقرر کی ہوئی حدیں ہیں ۔ جو اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے گا اُسے اللہ ایسے باغوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی اور ان باغوں میں وہ ہمیشہ رہے گا اور یہی بڑی کامیابی ہے ۔ اور جو اللہ اور اُس کے رسول کی نافرمانی کرے گا اور اس کی مقرر کی ہوئی حدوں سے تجاوز کرے گا اُسے اللہ آگ میں ڈالے گا جس میں وہ ہمیشہ رہے گا اور اُس کیلئے رسواکُن سزا ہے ۔

سورت ۔ 4 ۔ النّسآء ۔ آیت 59 ۔ اے لوگو جو ایمان لائے ہو اطاعت کرو اللہ کی اور اطاعت کرو اللہ کے رسول کی اور اُن کی جو تم میں سے صاحبِ امر ہوں ۔ پھر اگر تمہارے درمیان کسی معاملہ میں نزاع ہو جائے تو اسے اللہ اور رسول کی طرف پھیر دو اگر تم واقعی اللہ اور روزِ آخر پر ایمان رکھتے ہو ۔ یہی ایک طریقِ کار ہے اور انجام کے اعتبار سے بھی بہتر ہے ۔

سورت 8 الانفال آیت 1 ۔ تم سے غنیمت کے مال کے بارے میں دریافت کرتے ہیں ۔ کہہ دو کہ غنیمت خدا اور اس کے رسول کا مال ہے ۔ خدا سے ڈرو اور آپس میں صلح رکھو ۔ اور اگر ایمان رکھتے ہو تو خدا اور اس کے رسول کے حکم پر چلو

سورت 8 الانفال آیت 20 ۔ اے ایمان والو ۔ خدا اور اس کے رسول کے حکم پر چلو اور اس سے رُو گردانی نہ کرو اور تم سنتے ہو

سورت 8 الانفال آیت 46 ۔ اور خدا اور اس کے رسول کے حکم پر چلو اور آپس میں جھگڑا نہ کرو کہ (ایسا کرو گے تو) تم بزدل ہو جاؤ گے اور تمہارا اقبال جاتا رہے گا اور صبر سے کام لو کہ خدا صبر کرنے والوں کی مددگار ہے
سورت 24 النّور آیت 52 ۔ اور جو شخص خدا اور اسکے رسول کی فرمانبرداری کرے گا اور اس سے ڈرے گا تو ایسے ہی لوگ مراد کو پہنچنے والے ہیں

سورت 33 الاحزاب آیت 71 ۔ وہ تمہارے سب اعمال درست کر دے گا اور تمہارے گناہ بخش دے گا اور جو شخص خدا اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرے گا تو بیشک بڑی مراد پائے گا

سورت 48 الفتح آیت 17 ۔ نہ تو اندھے پر گناہ ہے (کہ سفر جنگ سے) پیچھے رہ جائے اور نہ لنگڑے پر گناہ ہے اور نہ بیمار پر گناہ ہے اور جو شخص خدا اور اسکے پیغمبر کے فرمان پر چلے گا خدا اس کو بہشتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہیں اور جو روگردانی کرے گا اسے بڑے دکھ کی سزا دے گا

سورت 49 الحُجرات آیت 14 ۔ اعراب کہتے ہیں کہ ہم ایمان لے آئے کہہ دو کہ تم ایمان نہیں لائے (بلکہ) یوں کہو کہ ہم اسلام لائے ہیں اور ایمان تو ہنوز تمہارے دلوں میں داخل ہی نہیں ہوا اور اگر تم خدا اور اس کے رسول کی فرماں برداری کرو گے تو خدا تمہارے اعمال میں سے کچھ کم نہیں کرے گا بیشک خدا بخشنے والا مہربان ہے

سورت 58 مجادلہ آیت 13 ۔ کیا تم اس سے کہ پیغمبر کے کان میں کوئی بات کہنے سے پہلے خیرات دیا کرو ڈر گئے پھر جب تم نے (ایسا) نہ کیا اور خدا نے تمہیں معاف کر دیا تو نماز پڑھتے اور زکٰوۃ دیتے رہو اور خدا اور اس کے پیغبر کی فرمانبرداری کرتے رہو اور جو کچھ تم کرتے ہو خدا اس سے خبردار ہے ‏