Category Archives: روز و شب

تم جو بھی ہو ۔ ۔ ۔

میں نے 9 نومبر 2009ء کو اپنے بڑے بیٹے زکریا کے دوست انعام الحسن کے خاندان کا ذکر کیا تھا ۔ انعام الحسن کی ایک بہن جو سپیشلسٹ ڈاکٹر [Consultant Endocrinologist, The Aga Khan University Hospital, Karachi] ہیں اور کراچی میں رہتی ہیں نے تین چار ہفتے قبل ایک نظم بھیجی تھی جو نظرِ قارئین ہے

اس گلشن ہستی میں لوگو۔ تم پھول بنو یا خار بنو
تم جو بھی ہو ۔ تم پر اتنا تو لازم ہے کہ با کردار بنو

دنیا میں رستے دو ہی تو ہیں
اک کُفر کا ہے اک اسلام کا ہے
یا کُفر لگا لو سینوں سے
یا دین کے پہرے دار بنو
تم جو بھی ہو تم پر اتنا تو لازم ہے کہ با کردار بنو

کیوں حیراں ہو دوراہے پر
اک راہ پے تم کو چلنا ہے
اسلام کا ۔ یا تو نام نہ لو
یا جراءت کا معیار بنو
تم جو بھی ہو تم پر اتنا تو لازم ہے کہ با کردار بنو

ذلت سے جہاں میں جی لو تم
یا جامِ شہادت پی لو تم
یا بُزدل ہو کے چھپ جاؤ
یا ہمت کی تلوار بنو
تم جو بھی ہو تم پر اتنا تو لازم ہے کہ با کردار بنو

اک سمت گروہ فرعون کا ہے
اک سمت خدا کے عاشق ہیں
تم حق والوں سے مل جاؤ
یا باطل کے دلدار بنو
تم جو بھی ہو تم پر اتنا تو لازم ہے کہ با کردار بنو

اک سمت روش بو جہل کی ہے
اک سمت نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) کا اُسوہ ہے
یا جھیلو آگ جہنم کی
یا جنت کے حقدار بنو
تم جو بھی ہو تم پر اتنا تو لازم ہے کہ با کردار بنو

یہ وقت نہیں ہے چھپنے کا
اب اصلی روپ میں آ جاؤ
تم دین کے پہرے دار بنو
یا فرعونوں کے یار بنو
تم جو بھی ہو تم پر اتنا تو لازم ہے کہ با کردار بنو

یہ ذوق تمہارا کتنا ہے
یہ فیصلہ اب تو ہو جائے
یا ساغر آب کوثر کے
یا مغرب کے مہ خوار بنو
تم جو بھی ہو تم پر اتنا تو لازم ہے کہ با کردار بنو

دہشتگرد کون ؟

پاک بحریہ نے 1994ء میں تین فرانسیسی سب میرین خریدی تھیں ۔ ایک فرانسیسی اخبار کے مطابق صدر زرداری نے ان سب میرینوں کی خریداری پر 43 لاکھ ڈالرز وصول کیے۔ رپورٹ کے مطابق سال2001 میں برطانوی حکومت کی جانب سے پاکستان کے قومی احتساب بیورو کو بھیجی گئی دستاویزات میں صدر زرداری کے سوئس بینک اکاؤنٹس میں لبنان کے سرمایہ کار عبدالرحمان العسیر کے ذریعے بڑی رقم منتقل ہونے کا انکشاف کیا گیا تھا ۔ یہ رقم سال1994ء اور1995ء کے دوران ان کے اکاؤنٹس میں منتقل کی گئی تھی ۔ فرانس کی نیول ڈیفنس کمپنی کے سابق ایگزیکٹو کا کہنا ہے کہ فرانس کے حکام نے العصیر کو اس ڈیل میں مددگار کے طور پر چنا تھا ۔ جس نے مبینہ طور پر معاہدے سے ایک ماہ قبل 15 اگست1994 سے 30 اگست کے دوران صدر زرداری کے اکاؤنٹس میں 13 لاکھ ڈالرز جمع کرائے ۔ معاہدے پر دستخط کے ایک سال بعد 12 لاکھ اور 18 لاکھ ڈالرز جمع کرائے گئے ۔ طے کی گئی رقم مکمل ادا نہ کرنے پر ہی کراچی میں8 مئی2002 کو فرانس کی نیول ڈیفنس کمپنی کے 11 ملازمین کو دہشتگرد حملے میں ہلاک کردیاگیا ۔ رپورٹ کے مطابق فرانسیسی کمپنی کے ملازمین نے دہشت گردی کے اس واقعہ کی تفتیش کے دوران بتایا کہ معاہدے کے تحت خریدی جانے والی آبدوزوں کی قیمت کا 10 فیصد حصہ کمیشن کے طور پر دیا جانا تھا ۔ جس میں 6 فیصد یعنی49.5 ملین ڈالرز فوج اور 4 فیصد یعنی33 ملین یوروز سیاسی حلقوں کو کمیشن کے طور پر دینا تھا ۔ سال 2001ء میں پاک بحریہ کے سابق چیف آف اسٹاف منصور الحق کو اس ڈیل میں کردار ادا کرنے پر گرفتار کیا گیا اور ان پر ستر لاکھ ڈالرز واپس دینے کے لیے دباؤ بھی ڈالاگیا۔ رپورٹ کے مطابق صدر آصف زرداری ملک کے امیر ترین آدمی ہیں ایک اندازنے کے مطابق ان کے اثاثوں کی مالیت1.8 ارب ڈالرز ہے۔آصف زرداری کے صدر منتخب ہونے سے چند ماہ قبل اپریل2008 میں ان کے خلاف تمام مقدمات ختم کردیے گئے تھے

بشکریہ ۔ جنگ

عورت ۔ ۔ ۔ مرد کی زندگی میں

جب میں اس دنیا میں آیا تو عورت نے مجھے گود لیا ۔ ۔ ۔ میری ماں
جب میں اپنے پاؤں چلنے لگا تو عورت نے میرا خیال رکھا اور میرے ساتھ کھیلا ۔ ۔ ۔ میری بہن
جب میں پڑھنے لگا تو مجھے عورت نے پڑھنا سکھایا ۔ ۔ ۔ میری اُستاذہ
جب میں جوانی میں دُکھ کا شکار ہوا تو میرا غم عورت نے بانٹا ۔ ۔ ۔ میری بیوی
جب میں بڑھاپے میں چڑچڑا ہوا تو مجھے مسکراہٹ عورت نے دی ۔ ۔ ۔ میری بیٹی
جب میں مروں گا تو مجھے عورت ہی اپنی آغوش میں لے لے گی ۔ ۔ ۔ میرے وطن کی مٹی

اللہ کے بندے

ساڑھے 21 سال قبل ہمارا ایک خاندان سے تعارف ہوا اور چند ہی سالوں میں وہ لوگ ہم سے گھُل مِل گئے ۔ عظیم الدین صاحب کی وفات کا سُن کر جب ہم ان کے گھر پہنچے تو وہاں کسی کے رونے کی آواز نہیں آ رہی تھی اور گھر میں سب قرآن شریف کی تلاوت کر رہے تھے ۔ اُن کے بیٹے انعام الحسن سے گلے مل کر میں نے دکھ کا اظہار کیا تو اُس نے کہا ” اللہ کی مرضی ہے ۔ بس آپ دعا کیجئے”۔ بعد میں بھی جب ملاقات ہوئی تو ان کے گھر کے ہر فرد نے یہی کہا “دعا کیجئے”۔

عظیم الدین صاحب اول درجہ کے شریف اور قناعت پسند شخص تھے اور ویسا ہی میں نے ان کے بچوں کو پایا ۔ عظیم الدین صاحب تبلیغِ دین کے رسیا تھے اور اُن کے بعد یہ کام اُن کے بیٹے انعام الحسن نے اپنا فرض سمجھا

انعام الحسن میرے بڑے بیٹے زکریا کا سکول کے زمانہ میں بارہویں تک ہمجماعت تھا [اب بال بچے دار ہے] ۔ وہ بہت ذہین اور محنتی طالب علم تھا ۔ انعام الحسن کے والد عظیم الدین صاحب جن سے بچوں کی وجہ سے میری علیک سلیک ہو چکی تھی 1988ء میں اچانک دل کا دورہ پڑنے کے دو دن بعد فوت ہو گئے ۔ عظیم الدین صاحب بھارت کے صوبہ بہار سے 1947ء میں ہجرت کر کے پاکستان آئے تھے اور اُن کا بیوی بچوں کے علاوہ پاکستان میں کوئی رشتہ دار نہ تھا اور نہ کوئی جائیداد تھی ۔ انعام الحسن بہن بھائیوں میں سب سے بڑا ہے اور جب اس کے والد فوت ہوئے تو ابھی اس کا بارہویں جماعت کا نتیجہ نہیں آیا تھا ۔ والد کی تنخواہ کے علاوہ اُن کے خاندان کا کوئی ذریعہ معاش نہ تھا ۔ وہ سرکاری گھر میں رہتے تھے جو انہیں 6 ماہ بعد خالی کرنا تھا

ایسی صورتِ حال میں بظاہر چاروں طرف اندھیرا تھا لیکن اس خاندان نے اللہ پر بھروسہ رکھا اور ہمت باندھ کر محنت کی ۔ خاص کر انعام الحسن کا کردار بہت عمدہ رہا ۔ اللہ کی مہربانی سے یہ گھرانہ مثالی ثابت ہوا اور ظاہر ہے کہ اللہ بھی ان کی مدد کرتا ہے جو اللہ پر یقین رکھیں اور اپنی مدد آپ کریں ۔ انعام الحسن کی تین بہنیں اور ایک بھائی ہے ۔ دو بہنیں ڈاکٹر ہیں جن میں سے ایک سپیشلسٹ ہے ۔ ایک بہن ایم ایس سی ہے ۔ بھائی نے بی سی ایس کیا اور خود انعام الحسن ایم ایس سی انجنیئرنگ ہے ۔ یہ سب کچھ کیسے ہوا ؟ یہ سمجھ آنا تو مشکل ہے ہی ۔ اس کی تفصیل بیان کرنا بھی مشکل ہے ۔ علامہ اقبال صاحب کے شعر کو مروڑ کر میرا دسویں جماعت میں بنایا ہوا شعر شاید کچھ اشارہ دے سکے

یقینِ مُحکم عملِ پَیہم پائے راسخ چاہئیں
اِستقامت دل میں ہو لب پر خدا کا نام ہو

قربانی ؟ ؟ ؟

سعدیہ سحر صاحبہ اخبار میں قربانی پر لکھا کوئی مضمون پڑھ کر پریشان ہو گئیں ۔ موصوف نے لکھا ہے

رسولِ کریم کی سوانح حیات کا مطالعہ کیا میں نے کہیں یہ نہیں پایا کہ رسولِ کریم نے ان ایام میں جب آپ نے حج نہیں کیا مکہ معظمہ یا مدینہ منورہ میں قربانی کا فریضہ ادا کیا ھو — قرآن میں بھی جو آیات قربانی سے متعلق ھیں وہ بھی حج سے ھی وابستہ ھیں

آجکل نجانے کیسے کیسے لوگ عالِم بن بیٹھے ہیں ۔ دورِ حاضر میں مسند دِینی کُتب آسانی سے دستیاب ہیں ۔ اصول یہ ہونا چاہیئے کہ اخبار رسالے وغیرہ کو عِلم کا منبع نہ سمجھا جائے اور عِلم حاصل کرنے کیلئے مستند کُتب سے استفادہ کیا جائے

قربانی

قربانی کے لئے قرآن کریم میں عموماً تین لفظ استعمال ہوئے ہیں
1 ۔ اذقربا قربانا ۔ جب دونوں نے قربانی کی

وَاتْلُ عَلَیہھمْ نَبَأَ ابْنَيْ آدَمَ بِالْحَقِّ إِذْ قَرَّبَا قُرْبَانًا فَتُقُبِّلَ مِن أَحَدِھِمَا وَلَمْ يُتَقَبَّلْ مِنَ الْآخَرِ قَالَ لَأَقْتُلَنَّكَ قَالَ إِنَّمَا يَتَقَبَّلُ اللّہُ مِنَ الْمُتَّقِينَ

اور (اے محمد) ان کو آدم کے دو بیٹوں (ہابیل اور قابیل) کے حالات (جو بالکل) سچے (ہیں) پڑھ کر سنا دو کہ جب ان دونوں نے اللہ (کی جناب میں) کچھ نیازیں چڑھائیں تو ایک کی نیاز تو قبول ہو گئی اور دوسرے کی قبول نہ ہوئی (تب قابیل ہابیل سے) کہنے لگا کہ میں تجھے قتل کروں گا اس نے کہا کہ اللہ پرہیزگاروں ہی کی (نیاز) قبول فرمایا کرتا ہے

2 ۔ منسک : (الحج، 22 : 34) ۔

وَلِكُلِّ أُمَّةٍ جَعَلْنَا مَنسَكًا لِيَذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ عَلَى مَا رَزَقَهُم مِّن بَهِيمَةِ الْأَنْعَامِ

اور ہم نے ہر امت کے لئے ایک قربانی مقرر فرمائی کہ اللہ کا نام لیں، اس کے دیئے ہوئے بے ز بان چوپائیوں پر۔

3 ۔ نحر: (الکوثر، 108 : 1 – 3) ۔

إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَر 0 فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ 0 إِنَّ شَانِئَكَ ھُوَ الْأَبْتَر

(اے محمد) ہم نے تم کو کوثر عطا فرمائی ہے ۔ تو اپنے پروردگار کے لیے نماز پڑھا کرو اور قربانی دیا کرو ۔ کچھ شک نہیں کہ تمہارا دشمن ہی بےاولاد رہے گا

احادیث مبارکہ کی روشنی میں

٭ امام ترمذی وابن ماجہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :
(مشکوٰۃ ص 128 باب الاضحیہ) ’’ابن آدم نے قربانی کے دن خون بہانے (قربانی کرنے) سے زیادہ خدا کے حضور پسندیدہ کوئی کام نہیں کیا اور بے شک وہ قربانی کا جانور قیامت کے دن اپنے سینگوں بالوں اور کھروں کے ساتھ آئے گا اور بے شک خون زمین پر گرنے سے پہلے اللہ کے ہاں مقام قبول میں پہنچ جاتا ہے۔ لہذا خوش دلی سے قربانی کیا کرو‘‘۔
٭ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دو چتکبرے سینگوں والے مینڈھے اپنے ہاتھ سے قربانی کے لئے ذبح فرمائے۔ بسم اللہ پڑھ کر اور اللہ اکبر کہہ کر (بسم اللہ اللہ اکبر) کہتے ہیں، میں نے حضور کو ان کے پہلوؤں پر قدم رکھے دیکھا اور فرماتے جاتے بسم اللہ، اللہ اکبر۔ (بخاری، مسلم، مشکوۃ ص 127)
٭ امام مسلم سے بھی اسی طرح کی روائت ہے
٭ امام بخاری نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔
’’نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عید گاہ میں قربانی کے جانور ذبح فرمایا کرتے تھے‘‘۔ (مشکوۃ ص 127)
٭ حنش کہتے ہیں میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو دو مینڈھے قربانی کرتے دیکھا، میں نے پوچھا یہ کیا؟ فرمایا
’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے اس بات کی وصیت فرمائی تھی کہ میں حضور کی طرف سے قربانی کروں۔ سو میں سرکار کی طرف سے (بھی) قربانی کرتا ہوں‘‘۔ (ابوداؤد، ترمذی وغیرہ، مشکوۃ ص 128)
٭ حضرت براء کہتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عید بقر کے دن ہمیں خطبہ دیا اور فرمایا۔
’’آج کے دن سب سے پہلا کام جو ہم کریں گے وہ یہ ہے کہ نماز پڑھیں پھر واپس آ کر قربانی کریں۔ سو جس نے یہ کرلیا اس نے ہمارا طریقہ پالیا اور جس نے نماز سے پہلے ذبح کرلیا سو وہ گوشت کی بکری تھی جسے اس نے اپنے گھر والوں کے لئے جلدی تیار کرلیا۔ اس کا قربانی سے کوئی تعلق نہیں‘‘۔ (بخاری ومسلم، مشکوۃ ص 126)
’’جس نے نماز عید سے پہلے جانور ذبح کیا، اس کی جگہ دوسرا ذبح کرے‘‘۔ (بخاری ومسلم)
٭ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے۔ ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدینہ منورہ میں دس سال قیام پذیر رہے اور قربانی کرتے رہے‘‘۔ (ترمذی)
٭ زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں۔ ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ کرام نے عرض کی یارسول اللہ! یہ قربانیاں کیا ہیں؟ فرمایا تمہارے باپ ابراہیم علیہ السلام کی سنت ہے انہوں نے عرض کی یارسول اللہ ہمارے لئے ان میں کیا ثواب ہے؟ فرمایا ہر بال کے بدلے نیکی عرض کی یارسول اللہ! اون کے متعلق کیا ارشاد ہے؟ فرمایا اون کے بدلے نیکی ہے‘‘۔ (احمد، ابن ماجہ، مشکوۃ)
٭حضرت براء سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔ ’’جس نے نماز عید کے بعد جانور ذبح کیا۔ اس کی قربانی مکمل ہوگئی اور اس نے مسلمانوں کا طریقہ پالیا‘‘۔ ( متفق علیہ، مشکوۃ ص 126)

تہذیب کی تعریف ۔ Definition of Civilization

پچھلے چند ہفتوں میں ابو شامل صاحب کی تحاریریہاں اور یہاں ۔ خرم صاحب کی تحریر اور ان سب پر تبصرے پڑھ کر میرے عِلم میں اضافہ ہوا ۔ تہذیب کے موضوع سے انصاف کرنے کیلئے ضروری تھا کہ ثقافت کے معنی پوری طرح واضح کئے جائیں کیونکہ تہذیب اور ثقافت کا چولی دامن کا ساتھ ہے البتہ تہذیب ثقافت سے جنم نہیں لیتی بلکہ تہذیب ثقافت پر اثر انداز ہوتی ہے اور اس کی راہ متعین کرتی ہے ۔ تہذیب کسی گروہ کے عقائد کے تابع ہوتی ہے ۔ ایسا اس لئے ہوتا ہے کہ افراد کو گروہ میں قائم رکھنے کیلئے کچھ مشترک باہمی عوامل لازم ہیں اور یہ عوامل ہی دراصل عقائد کا روپ دھارتے ہیں ۔ فطری طور پر یہ عوامل ان کے مذہبی اصول ہی ہوتے ہیں ۔ سو میں ثقافت کا تفصیلی بیان یکم نومبر 2009ء کولکھ چکا ہوں جس سے واضح ہو گیا ہو گا کہ ثقافت بھی مادر پدر آزاد نہیں ہوتی بلکہ اس کی حدود و قیود ہوتی ہیں ۔ اسی لئے اس میں تہذیب کی جھلک نظر آنا ضروری ہے

رہی تہذیب تو مؤرخین نے کم از کم وسط اُنیسویں صدی عیسوی تک اسے مذہب کے زیرِ اثر ہی گردانا ۔ اس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ عیسائی اور یہودی بہترین اوصاف کا منبع زبور تورات اور انجیل کو قرار دیتے تھے اور یہ استدلال درست بھی تھا گو متذکرہ کُتب تحریفات کے سبب الہامی نہ رہی تھیں ۔ پھر جب غیرمسلم دنیا اپنے عقائد سے بالکل اُچاٹ ہو گئی تو اُنہوں نے تہذیب کی تعریف میں سے لفظ مذہب کو حذف کر دیا ۔ اس کے باوجود اب بھی کچھ ڈکشنریاں ایسی ہیں جن میں تہذیب کا تعلق مذہب سے بتایا گیا ہے یا مذہب کا نام لئے بغیر اس طرف اشارہ کیا ہے

تہذیب رکھنے والے کو مہذب کہا جاتا ہے ۔ کوئی بھی مہذب گروہ ہو وہ اپنے بنیادی عقائد سے ضرور متاءثر ہوتا ہے چنانچہ مُسلمان کا مہذب ہونے کیلئے اپنے دین اسلام سے متاءثر ہونا اچنبے کی بات نہیں ہے بلکہ ایسا ہونا ایک لازمی امر ہے ۔ باعمل مسلمانوں کا مقابلہ دورِ حاضر کے عیسائیوں اور یہودیوں سے اسلئے نہیں کیا جا سکتا کہ وہ لوگ پہلے اپنے دین سے منحرف ہوئے اور جب کلیسا ہی برائیوں کا گھر بن گیا تو انہوں نے مذہب سے کھُلم کھُلا بغاوت کر کے مذہب کو اپنی زندگی کے تمام عملی پہلوؤں سے نکال کر کلیسا میں محبوس کر دیا ۔ اس نئے خود تراشیدہ نظام کو سہارا دینے کیلئے سیکولرزم کا نظریہ ایجاد کیا گیا

عصرِ حاضر میں مسلمانوں کے تنزل کا سبب اُن کا دین نہیں بلکہ سبب یہ ہے کہ ان کی بھاری تعداد نے دین اسلام کو بھی وہی صورت دے رکھی ہے جو کئی صدیاں قبل کلیسا کے پاسبانوں نے دی تھی ۔ یعنی نماز پڑھتے نہیں اور پیروں کے آستانوں اور مزاروں پر حاضری اور تعویز گنڈے کو معمول بنا رکھا ہے ۔ زکوات اور صدقہ سے عاری ہیں مگر گیارہویں کا ختم نافذ کر رکھا ہے ۔ وغیرہ

دورِ حاضر کا مناسب دینی تعلیم سے محروم مسلمان جب ترقی اور جدیدیت کی علمبردار قوموں سے اپنی قوم کا موازنہ کرتا ہے تو بھٹک جاتا ہے ۔ ہمارے لوگ تاریخ پر تحقیق کرنا تو کُجا تاریخ پر نظر ڈالنا بھی گوارا نہیں کرتے ورنہ سب کچھ کھُل کر سامنے آ جائے ۔ یہاں تک کہ جس کتاب [قرآن شریف] کی بے حرمتی پر وہ مرنے مارنے پر تُل جاتا ہے اسے سمجھ کر پڑھنے کی تکلیف گوارا نہیں کرتا ۔ قرآن شریف میں اللہ تعالٰی نے واضح الفاظ میں انسان کے ہر فعل کو دین کا تابع کرنے کا حُکم دیا ہے ۔ اسلئے مسجد ہو یا گھر ۔ دفتر ہو یا بازار ۔ تجارت ہو یا سیاست سب کو اللہ کے احکام کے تابع رکھنے سے ہی مسلمان بنتا ہے [اللہ نے توفیق دی تو اس پر اِن شاء اللہ مستقبل قریب میں لکھوں گا]۔ چنانچہ یورپ اور امریکہ میں رہنے والوں کے طور طریقے مسلمان نہیں اپنا سکتا سوائے ان اچھی عادات کے جو دین اسلام سے متصادم نہ ہوں بلکہ اچھی چیزیں اپنانا ہی چاہئیں ۔ ہمارے دین کی صلاح یہی ہے

میرے تہذیب اور مذہب کے درمیان رشتہ بیان کرنے پر خرم صاحب نے فرمایا کہ اُردو والی تہذیب کا تعلق مذہب سے ہو سکتا ہے لیکن انہوں نے انگریزی والی civilization کی بات کی تھی جس کا تعلق مذہب کے ساتھ نہیں بنتا ۔
بہت خُوب ۔ دیکھ لیتے ہیں کہ انگریزی والی civilization کیا ہوتی ہے

سب سے بڑی انگریزی سے اُردو آن لائین ڈِکشنری
تمدن ۔ تہذیب ۔ شائستگی

انگریزی اُردو لغت آن لائین
تہذیب ۔ تمدن ۔ تربیت ۔ انسانیت

مریم ویبسٹر ڈکشنری
مقابلتاً اعلٰی سطحی ثقافت اور فنی ترقی بالخصوص وہ ثقافتی ترقی جس میں تحریر اور تحاریر کو محفوظ رکھنے کا حصول مقصود ہو ۔ خیالات عادات اور ذائقہ کی شُستگی یا آراستگی

کیمبرج ڈکشنری
اچھی طرح ترقی یافتہ ادارے رکھنے والا انسانی گروہ یا کسی گروہ کے رہن سہن کا طریقہ

رھائیمیزون
اعلٰی سماجی ترقی کا حامل گروہ [مثال کے طور پر پیچیدہ باہمی قانونی اور سیاسی اور مذہبی تنظیم]

اینکارٹا آن لائین انسائیکلوپیڈیا
تاریخی اور ثقافتی یگانگی رکھنے والا ترقی یافتہ گروہ ۔ قرونِ وسطہ سے اُنیسویں صدی تک اکثر یورپی مؤرخین نے مذہبی پسِ منظر لیا ہے

الٹرا لِنگوا
ایک گروہ مخصوص ترقی کی حالت میں ۔ کوئی گروہ جو قانون کا پابند ہو اور وحشت کا مخالف ۔ ثقافت کا اعلٰی درجہ

امید ہے بات واضح ہو گئی ہو گی ۔ مندرجہ بالا سب جدید ڈکشنریاں ہیں پھر بھی اگر غور سے دیکھا جائے تو صاف محسوس ہوتا ہے کہ کچھ میں مذہب کا لفظ غائب کر دیا گیا ہے لیکن اشارہ مضہب ہی کی طرف ہے ۔ پانج سات دہائیاں پرانی ڈکشنریوں میں civilization کو مذہب کے زیرِ اثر ہی لکھا جاتا رہا ہے کیونکہ یہودیوں اور عیسائیوں کے مطابق بھی ہر بھلائی کا سرچشمہ زبور تورات اور انجیل تھیں گو کہ ان کُتب میں بہت تحریف کی جا چکی تھی

ایم کيو ایم اور اے این پی کا امتحان

عوام کا خیر خواہ ہونے کی سب سے زیادہ دعویدار سیاسی جماعتیں بتدریج مندرجہ ذیل ہیں

1 ۔ الطاف حسین کی متحدہ قومی موومنٹ
2 ۔ زرداری کی پاکستان پیپلز پارٹی
3 ۔ اسفند یار کی عوامی نیشنل پارٹی

امتحان ماضی میں بھی آتے رہے مگر میں ماضی کو بھُول کر حال بلکہ نومبر 2009ء کے پہلے پندرواڑے کی بات کروں گا ۔ بات ہے ضابطہ قومی موافقت [National Reconciliation Ordinance] کی جو آج شام قومی اسمبلی میں پیش ہونے کی توقع ہے ۔ پاکستان پیپلز پارٹی جو کچھ ہے وہ سب نے اچھی طرح دیکھ لیا ہے

متحدہ قومی موومنٹ کے رہنماؤں کا دعوٰی ہے کہ ان کی جماعت درمیانے درجے کے اعلٰی مدارج تک پڑھے لکھے لوگوں پر مُشتمل ہے ہمیشہ کم دولت والے عوام کیلئے محنت کرتی ہے اور وہ رُتبے یا دولت کیلئے کام نہیں کرتی

عوامی نیشل پارٹی کے رہنماؤں کا دعوٰی ہے کہ عوامی نیشل پارٹی غریب عوام کی جماعت ہے اور مساوات پر یقین رکھتی ہے

متذکرہ بالا دعوؤں کے باوجود متحدہ قومی موومنٹ اور عوامی نیشل پارٹی دونوں حکومت میں پاکستان پیپلز پارٹی کی حلیف جماعتیں ہیں ۔ امتحان اگلے دس پندرہ دن میں ہو جائے گا کہ یہ جماعتیں سچ کہتی ہیں یا جھوٹ

ضابطہ قومی موافقت عوام دُشمن ۔ تعلیم دُشمن ۔ قوم دُشمن اور اسلام دُشمن ہے کیونکہ اس ضابطے نے قومی دولت لُوٹنے والوں اور قاتلوں کو تحفظ دیا ہے ۔ ایسے لوگوں کو تحفظ جنہوں نے مُلک کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے ۔ اس ضابطہ سے کسی درمیانے یا نچلے درجے کے آدمی کو کوئی فائدہ نہیں ہوا بلکہ یہ بیچارے مہنگائی کی چکی میں پِس رہے ہیں

امتحان ۔ جس جماعت کے ارکان قومی اسمبلی اور سینٹ نے ۔ ۔ ۔

*** ضابطہ قومی موافقت کے خلاف ووٹ دیئے ۔ وہ جماعت اپنے قول میں سچی ثابت ہو گی

*** ضابطہ قومی موافقت کے حق میں ووٹ دیئے ۔ وہ جماعت عوام دُشمن قوم دُشمن خود غرض منافق جھوٹے لوگوں کا ٹولہ ثابت ہو گی

*** ضابطہ قومی موافقت کے نہ حق میں ووٹ دیئے اور نہ مخالفت میں ۔ وہ جماعت خود غرض منافق جھوٹے لوگوں کا ٹولہ ثابت ہو گی

وہ بلاگر یا قارئین جو ایم کیو ایم یا اے این پی میں شامل ہیں یا ان جماعتوں کے حامی ہیں وہ اس بارے میں کیا کہتے ہیں ؟