Category Archives: روز و شب

پنجابی طالبان کيسے ؟

کیی قارئین نی بتایا تھا کہ پنجابی طالبان کیسے نہیں پڑھی جاتی . اب اسی دوبارہ اسی لئے شایع کیا ہے

اگر جنوبی وزيرستان کو بھارتی بيرونی فوجی چوکی جس ميں مذہبی رنگ ميں مُکتی باہنی موجود ہے کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا ۔ يہ قياس ہوائی يا مجذوب کی بڑ نہيں ہے بلکہ اطلاعات کی چھوٹی چھوٹی سينکڑوں کڑيوں سے ترتيب پاتی ہوئی حقيقت ہے جو پچھلے سالوں ميں مختلف انٹيليجنس ايجنسوں کو حاصل ہوئی ہيں

پورا مضمون يہاں کلک کر کے پڑھيئے

چھوٹی چھوٹی باتيں ۔ سُنا ہے کہ ۔ ۔ ۔

سُنا ہے کہ مردوں کا چال چلن ٹھيک نہيں ۔ مرد ظُلم کرتے ہيں ۔ جو عمل بُرا ہے وہ بُرا ہے چاہے جو بھی کرے اسلئے غلط عمل کرنے والے کا دفاع نہيں ملامت کرنا چاہيئے ليکن ۔ ۔ ۔

عورتيں اپنے بيٹے يا بھائی يا خاوند کے متعلق کيا کہتی ہيں ؟ اگر بيٹے بھائی خاوند سب ٹھيک ہيں تو پھر بُرا کون ہے ؟
اگر بيٹا بُرا ہے تو اُس کی ماں عورت نے بيٹے کی تربيت درست کيوں نہ کی ؟
اگر خاوند بُرا ہے تو کيا اُس بيوی عورت نے اُسے درست کرنے کی کوشش کی يا بصورتِ ديگر احتجاج کے طور پر اُس سے کم از کم گھر کے اندر ہی عليحدگی اختيار کی ہے ؟

سُنا ہے کہ بازاروں ميں باغيچوں ميں سير و سياحت کی جگہوں ميں مخلوط محفلوں ميں کچھ عورتيں ننگے سر پھرتی ہيں ۔ کچھ کپڑے اتنے چُست پہنے ہوتی ہيں کہ جسم کے تمام خد وخال عياں ہوتے ہيں ۔ کچھ کی قميضوں کے گريبان اتنے بڑے ہوتے ہيں کہ پُشت پر شانے اور سامنے آدھی چھاتی نظر آتی ہے کچھ نے ساڑھی زيبِ تن کی ہوتی ہے اور ان کی کمر اور پيٹ ننگے ہوتے ہيں اور کچھ ايسی بھی ہوتی ہيں جنہوں نے نہائت مہين کپڑے کی قميض بغير بنيان یا شميض پہنی ہوتی ہے

کيا عورت يہ ديکھنے کيلئے ايسا کرتی ہے کہ مرد خراب ہيں يا نہيں ؟

کہتے ہيں کہ ايک شخص جو کئی جرائم ميں ملوث تھا پکڑا گيا اور اسے پھانسی کی سزا ہوئی ۔ حسبِ معمول پھانسی چڑھانے سے پہلے اُس کی آخری خواہش پوچھی گئی تو کہنے لگا “ميں نے اپنی ماں کے کان ميں کچھ کہنا ہے” ۔ جب ماں سُننے کيلئے آئی تو اُس نے ماں کے کان کو دانتوں سے کاٹ ليا ۔ بڑی مشکل سے چھڑايا گيا تو کہنے لگا “ميری ماں لوگوں کی شکايات اس کان سے سُنتی تھی اگر يہ ميری درست تربيت کرتی تو ميں آج پھانسی نہ چڑھتا”

سُنا ہے کہ کچھ عورتيں ماڈلنگ کرتی ہيں جس ميں جن کپڑوں کا وہ اشتہار ہوتی ہيں اُن کی نسبت اُن کے جسم کے خدو خال اور حرکات کی نمائش زيادہ ہوتی ہے
سُنا ہے کہ کچھ عورتيں مخلوط محفلوں ميں ناچتی ہيں اور اپنے اعضاء کی خوبصورتی بھی نماياں کرتی ہيں

کيا متذکرہ بالا سب عورتيں صحتمند معاشرہ کی نشانی ہيں ؟

سورت 7 الْأَعْرَاف آیت 26
اے اولادِ آدم ۔ ہم نے تم پر لباس اتارا ہے کہ تمہارے جسم کے قابلِ شرم حصوں کو ڈھانکے اور تمہارے لئے جسم کی حفاظت اور زینت کا ذریعہ بھی ہو اور بہترین لباس تقوٰی کا لباس ہے۔ یہ اﷲ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے ۔ شائد کہ لوگ اس سے سبق لیں

سورت 24 النور آيت 30
مومن مردوں سے کہہ دو کہ اپنی نظریں نیچی رکھا کریں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کیا کریں ۔ یہ ان کے لئے بڑی پاکیزگی کی بات ہے اور جو کام یہ کرتے ہیں اللہ ان سے خبردار ہے

سورت 24 النّور آیت 31
اور اے نبی ۔ مومن عورتوں سے کہہ دو کہ وہ اپنی نظریں بچا کر رکھیں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کریں اور اپنی آرائش و زیبائش کو ظاہر نہ کریں سوائے اس کے جو خود ظاہر ہو جائے اور وہ اپنے سینوں پر اپنی اوڑھنیوں کے آنچل کھينچ لیں ۔ وہ اپنے بناؤ سنگھار کو ظاہر نہ کریں سوائے شوہر یا باپ یا شوہروں کے باپ اپنے بیٹے یا شوہروں کے بیٹے یا اپنے بھائی یا بھتیجے یا بھانجے کے یا اپنی میل جول کی عورتوں یا اپنی مملوکہ باندیوں یا مردوں میں سے وہ خدمت گار جو خواہش و شہوت سے خالی ہوں یا وہ بچے جو [کم سِنی کے باعث ابھی] عورتوں کی پردہ والی چیزوں سے آگاہ نہیں ہوئے ۔ اور نہ اپنے پاؤں زمین پر مارتی ہوئی چلا کریں کہ ان کا وہ سنگھار معلوم ہو جائے جسے وہ [حکمِ شریعت سے] پوشیدہ کئے ہوئے ہیں ۔ اے مومنو ۔ تم سب کے سب اللہ سے توبہ کرو ۔ توقع ہے کہ فلاح پاؤ گے

سورت 33 الْأَحْزَاب آیت 59
اے نبی ۔ اپنی بیویوں اور اپنی بیٹیوں اور اہلِ ایمان کی عورتوں سے کہہ دو کہ اپنی چادریں اپنے اوپر لٹکا لیا کریں ۔ یہ زیادہ مناسب طریقہ ہے تاکہ وہ پہچان لی جائیں اور نہ ستائی جائیں ۔ اور اللہ غفور و رحیم ہے

چلتے چلتے

کچھ کرنے کو جی نہيں چاہ رہا تھا تو ميں نے يونہی ادھر ادھر ديکھنا شروع کيا ۔ اتفاق سے پہلی ہی چيز جو کھولی يہ ہے ۔ ميں جانتا ہوں کہ چند قاری اسے بکواس کہيں گے مگر جہاں ہم روزانہ بہت سی بکواس سُنتے اور پڑھتے ہيں وہاں يہ بھی سہی کہ بعض اوقات بکواس بھی ہميں منزل کی تلاش ميں سرگرداں کرتی ہے
Urdupoint
Urdupoint 2
Urdupoint 3
Urdupoint 4

بيوياں

“اے بھلے لوگو ۔ آپ کی بيوياں آپ کی محبت کی حقدار ہيں ۔ يہ محبت کا مجسمہ ہيں ۔ اِن سے پيار کا سلوک رکھا کرو ۔ يہ نرم دل رکھتی ہيں ۔ ان سے سخت بات نہ کيا کرو ۔ اگر کوئی اُونچی نيچی بات کہہ ديں تو غُصہ نہ کيا کرو مُسکرا ديا کرو ۔ ان کی ضروريات کا خيال رکھا کرو ۔ ان کی چھوٹی چھوٹی خواہشات ہوتی ہيں ۔ جائز طريقہ سے پوری ہوتی ہوں تو پوری کر ديا کرو ورنہ بعد میں آرام سے سمجھا ديا کرو”

ميں نے اللہ کے فضل سے شادی شُدہ زندگی کے 42 سال 4 ماہ اس پر عمل کيا ہے ليکن يہ الفاظ ميرے نہيں ہيں بلکہ مولوی عبدالعزيز کے ہيں جو اُنہوں نے ايک جمعہ کے دن سب مقتديوں کو مخاطب کر کے کہے تھے اور ميں بھی مقتديوں ميں شامل تھا

ہاں جناب ۔ وہی عبدالعزيز جسے پرويز مشرف نے دہشتگرد ظاہر کرتے ہوئے لال مسجد اور جامعہ حفصہ پر فوج کشی کا حُکم ديا تھا پھر امريکی ڈرون نے تصاوير لے کر بتايا کہ عمارت کے اندر کہاں کہاں انسان موجود ہيں پھر سينکڑوں بے قصور انسانوں کو بھُون کے رکھ ديا تھا ۔ ان ميں بھاری اکثريت 4 سے 17 سال کی يتيم و نادار بچيوں کی تھی اور عبدالعزيز کی بوڑھی والدہ ۔ 17 سالہ بيٹا اور ايک بھائی بھی شامل تھا ۔ عبدالعزيز کے بھائی کے علاوہ کسی کی لاش بھی نہ مل سکی تھی ۔ صرف کيپيٹل ڈويلوپمنٹ اتھارٹی کے غير مسلم خاکروبوں اور دوسرے مزدوروں کی زبانی معلوم ہوا تھا کہ اُنہيں بھاری معاوضہ کے عوض رات کے وقت ڈيوٹی پر بُلايا گيا تھا اور اُنہوں نے ہاتھوں پر تھيلے چڑھا کر اور ناک پر کپڑا باندھ کر لال مسجد اور جامعہ حفصہ میں جلی ہوئی لاشوں اور ہڈيوں کو سميٹ کر رات کے اندھيرے ميں ٹرکوں پر لادا تھا مگر اُنہيں يہ معلوم نہيں تھا کہ وہ ٹرک کہاں گئے تھے

تاريخ ۔ مُولد النبی صلی اللہ عليہ و آلہ و سلّم

ميں اس سے قبل اس سلسلہ ميں مندرجہ ذيل تحارير لکھ چکا ہوں ۔ تاریخ ولادت سيّدنا محمد صلی اللہ عليہ و آلہ و سلّم کے متعلق تاريخی خلاصہ نقل کر رہا ہوں
ربيع الاول ہی نہيں ہر ماہ ہر دن
عشقِ رسول
جشنِ عيد ميلادُالنبی کی تاریخ

اميرالدين مدرسہ تعليم القرآن نواں شہر ملتان ۔ سيرت طيّبہ ۔ ص76 ۔ لکھا ہے کہ قول مختار يہ ہے کہ 5 ربيع الاول کو آپ صلی اللہ عليہ و آلہ و سلّم پيدا ہوئے

زادالمعاد ۔ ج 1 ص 68 مترجم رئيس احمد جعفری ۔ حافظ ابن قيم متوفی 751ھ نے لکھا ہے کہ جمہور قول يہ ہے کہ 8 ربيع الاول کو آنحضرت صلی اللہ عليہ و آلہ و سلّم کی ولادت ہوئی

رحمت للعالمين ۔ قاضی سليمان منصور پوری ۔ ج 1 ص 43 ۔ لکھا ہے کہ ہمارے نبی موسم بہار دوشنبہ کے دن 9 ربيع الاول کو پيدا ہوئے

تاريخ اسلام ۔ اکبر شاہ نجيب آبادی ۔ حصہ اول ص 72 ۔ لکھا ہے کہ 9 ربيع الاول 571ء بروز سوموار بعد از صبح صادق اور قبل از طلوع آفتاب آنحضرت صلی اللہ عليہ و آلہ و سلّم پيدا ہوئے

تاريخ اسلام ۔ معين الدين احمد ندوی ۔ ج 1 ص 25 ۔ لکھا ہے کہ عبداللہ کی وفات کے چند مہينوں بعد عين موسم بہار اپريل 571ء 9 ربيع الاول کو عبداللہ کے گھر فرزند تولد ہوا ۔ بوڑھے اور زخم خوردہ عبدالمطلب پوتے کی پيدائش کی خبر سن کر گھر آئے اور نومولود کو خانہ کعبہ لے جا کر اس کيلئے دعا مانگی

محبوب خدا ۔ چوہدری افضل حق ۔ ص 20 ۔ لکھا ہے کہ 20 اپريل 571ء بمطابق 9 ربيع الاول دوشنبہ کی مبارک صبح کو قدسی آسمان پر جگہ جگہ سرگوشيوں ميں مصروف تھے کہ آج دعائے خليل اور نويد مسيحا مجسم بن کر دنيا ميں ظاہر ہو گی

رسول کامل ۔ ڈاکٹر اسرار احمد ۔ ص 23 ۔ لکھا ہے کہ 9 ربيع الاول کو پيدائش کا دن ٹھہرايا

قصص القرآن ۔ حفظ الرحمٰن سوہاری ۔ ج 4 ص 9 ۔ لکھا ہے کہ 9 ربيع الاول کو پيدائش کا دن ٹھہرايا

الطبقات الکبری لا بن سعد ۔ 1/100مطبوعہ بيروت ۔ لکھا ہے کہ ماہ ربيع الاول کی 10 راتيں گذری تھيں کہ دو شنبہ کے دن رسول اللہ صلی اللہ عليہ و آلہ و سلّم پيدا ہوئے

دين مصطفٰی ۔ محمود احمد رضوی ۔ ص 84 ۔ لکھا ہے کہ واقعہ فيل کے پچپن روز بعد 12 ربيع الاول مطابق 20 اپريل 571ء حضور صلی اللہ عليہ و آلہ و سلّم کی ولادت ہوئی

ضياء القرآن ۔ پير کرم شاہ الازہری ۔ ج 5 ص 665 ۔ لکھا ہے کہ 12 ربيع الاول کو حضور صلی اللہ عليہ و آلہ و سلّم رونق افروز گيتی ہوئے

تبرکات صدرالافاضل مرتبہ حسين الدين سواداعظم لاہور ۔ لکھا ہے کہ 12 ربيع الاول کی صبح صادق کے وقت مکہ مکرمہ ميں آپ کی ولادت ہوئی

چودہ ستارے ميں سيّد نجم الحسن کراروی ۔ص 28 ، 29 میں لکھا ہے کہ نے پيدائش کا دن 17 ربيع الاول ہے

البشر لاہور ہادی انسانيت نمبر فروری 1980 ص 50 مضمون چودہ معصومين کے مطابق فقہ جعفريہ کے علماء کے نزديک طے شدہ تاريخ ولادت 17 ربيع الاول ہے

[مندرجہ بالا حوالوں کے مطابق تاریخ ولادت مبارک ربی الاول کی 5 يا 8 يا 9 يا 10 يا 12 يا 17 ہے يعنی درست تاريخ کا تعيّن مشکل ہے

چھوٹی چھوٹی باتیں ۔ عادت

ایک کچھوا دریا میں تیر رہا تھا کہ اسے “بچاؤ بچاؤ” کی آواز آئی ۔ اُس نے دیکھا کہ ایک بچھو ڈُبکیاں کھاتا بہتا جا رہا ہے ۔ کچھوے نے بڑھ کر اُسے اپنی پیٹھ پر اُٹھا لیا اور دریا کے کنارے کی طرف تیرنے لگا ۔ لمحے بعد کچھوے کو ٹُک ٹُک کی آواز آئی تو پوچھا “یہ میری کمر پر کیا مار رہے ہو ؟” بچھو نے کہا “ڈنک مارنا میری عادت ہے”۔ کچھوے نے کہہ کر”اور میری عادت ڈُبکی لگانا ہے” ڈُبکی لگائی اور بچھو ڈوب گیا

شیخ سعدی

میرا دوسرا بلاگ ” حقیقت اکثر تلخ ہوتی ہے ۔ Reality is often Bitter
” پچھلے ساڑھے پانچ سال سے معاشرے کے کچھ بھیانک پہلوؤں پر تحاریر سے بھر پور چلا آ رہا ہے ۔ اور قاری سے صرف ایک کلِک کے فاصلہ پر ہے

چھوٹی چھوٹی باتيں ۔ بُزدلی اور بہادری

بہادر یا دلیر کا مفہوم وطنِ عزیز میں اتنا بگاڑ دیا گیا ہے کہ اصل مفہوم عوام کے ذہنوں سے ماؤف ہو چلا ہے ۔ عصرِحاضر میں بہادر مرد اُسے سمجھا جاتا ہے جو کسی کو تھپڑ مار دے ۔ گھونسہ جَڑ دے یا گولی مار دے ۔ اور کچھ نہیں تو کھڑے کھڑے کسی کی بے عزتی کر دے ۔ کچھ ناہنجار تو سڑک پر جاتی لڑکی یا عورت پر آوازہ کسنے يا اُس کے جسم پر ہاتھ پھیرنے کو بہادری سمجھتے ہیں ۔ اس کے برعکس کچھ عورتیں مردوں کو کھری کھری سنانا يا بے عزتی کرنے کو بہادی سمجھتی ہیں ۔ کچھ مرد و زن ایسے ہیں کہ دوسرے کو نیچ ذات یا کم عِلم کہنے کو بہادری سمجھتے ہیں ۔ صاحبِ فہم لوگ ان حرکات کو بُزدلی کی نشانی قرار دیتے ہیں اور نفسیات کے ماہرین اسے نفسیاتی مرض احساسِ کمتری سے تعبیر کرتے ہیں گو ايسے لوگوں کو احساسِ برتری ہوتا ہے

سوال پیدا ہوتا ہے کہ بہادری کیا ہے ؟ سب سے بڑی بہادی اپنی غلطی کو بغیر کسی دباؤ کے ماننا اور اگر اُس غلطی سے کوئی متاءثر ہوا ہو تو اُس سے صدق دِل سے غیر مشروط معافی مانگنا ہے ۔ اس سلسلہ میں مجھے دو واقعات یاد آئے ہیں ۔ دونوں کے وقوع پذير ہونے کا عمل ايک ہی تھا جو ہوا تو بے خبری ميں تھا ليکن نتائج بھيانک تھے

پہلا واقعہ بزدلی کا چار دہائیاں پیچھے کا ہے ۔ دفتر میں بیٹھے خبر ملی کہ محکمہ کے ایک سینیئر کلرک نے خود کُشی کر لی ہے ۔ ہوا يوں کہ خفیہ معاملات کی ايک فائل [Secret File] گم ہو گئی تھی جو اُس کلرک کی الماری میں ہوتی تھی ۔ کلرک کو تفتيش کيلئے کسی خفيہ ادارے کے حوالے کيا گيا تھا کہ ايک دن اُس نے خودکُشی کر لی ۔ اُس کے ساتھ کام کرنے والوں سے معلوم ہوا کہ کلرک شریف اور دیانتدار تھا ۔ اُس کا کہنا تھا کہ اُس نے وہ فائل جنرل منیجر صاحب کو دی تھی اور پھر واپس اُس کے پاس نہیں پہنچی تھی ۔ اس ڈر سے کہ اُس کے بیان کو سچ مان لیا گيا تو الزام جنرل منیجر یا کم از کم جنرل منیجر کے کوآرڈینیشن آفیسر پر آئے گا کسی نے جنرل منيجر کے دفتر کی تلاشی لينے کا نہ سوچا ۔ میں نے کوآرڈینیشن آفیسر سے پوچھا کہ “جنرل منیجر کی ميز کی ساری درازیں باہر نکال کر اور میز اُٹھا کر دیکھا تھا” ۔ اُس نے جواب دیا “الماری اور درازيں ديکھی تھيں”۔ خیر مرنے والا مر چکا تھا بات آئی گئی ہو گئی ۔ کچھ ماہ بعد جنرل منیجر کے کمرے میں رنگ روغن کرنے کیلئے میز اُٹھائی گئی تو وہ فائل میز کے نیچے سے نکلی

دوسرا واقعہ ایک غیر مسلم کا ہے ۔ مئی جون 1999ء میں امریکا کی ایک ریاست میں ایک اعلٰی معیار کی یونیورسٹی میں سالانہ امتحانات ہوئے ۔ ایک غیر ملکی مسلم طالبعلم کا پرچہ گُم [Answer sheet] ہو گیا ۔ طالبعلم کا مسلک تھا کہ پرچہ حل کرنے کے بعد اُس نے اُسی جگہ پر رکھا تھا جہاں باقی سب نے پرچے رکھے تھے ۔ انکوائری وغیرہ ہوئی ۔ آخر فیصلہ ہوا کہ چونکہ طالبعلم کی پورے سال کی کارکردگی بہت اچھی تھی اسلئے اسے پاس کر دیا جائے لیکن کچھ سزا کے ساتھ

يونيورسٹی چھوڑنے کے بعد طالبعلم امریکا کی کسی اور ریاست میں ملازم ہو گیا ۔ چند ماہ بعد اُسے اُس پروفیسر کی ای میل آئی جس کے مضمون کا پرچہ گم ہوا تھا ۔ اُس نے معذرت کی تھی اور لکھا تھا ۔ “میرے دفتر میں رنگ روغن ہوا تو چیزیں درست کرتے میز کے نیچے سے ایک پرچہ ملا جس کا پہلا صفحہ غائب ہو چکا تھا لیکن میں نے تمہارا رسم الخط پہچان لیا اور میں نے ڈین سے مل کر اس مضمون میں تمہارا گریڈ “ڈی” کی بجائے “اے” کرا دیا ہے ۔ اُن پروفيسر صاحب کو دو ماہ کی پوچھ گچھ کے بعد اُس طالبعلم کا ای میل کا پتہ ملا تھا

پروفيسر صاحب کے متذکرہ عمل کو کہتے ہیں بہادری جو وطنِ عزیز میں مفقود ہوتی جارہی ہے