Category Archives: روز و شب

چھوٹی چھوٹی باتيں ۔ عوامی نظریہ ضرورت

ہنری بريکٹن [1210 تا 1268ء] ايک برطانوی ماہرِ قانون تھا جس نے کہا تھا “جو عمل قانونی نہ ہو وہ ضرورت کے تحت قانونی بن جاتا ہے”۔ پاکستان کے دوسرے گورنر جنرل غلام محمد نے من مانی چلانے کيلئے بغير کسی جواز کے پہلے مُنتخب وزير اعظم پھر مُنتخب کابينہ فارغ کر دی اور پھر پاکستان کی مُنتخب اسمبلی کو 24 اکتوبر 1954ء کو اُس وقت چلتا کيا جب اسمبلی پاکستان کا آئين متفقہ طور پر منظور کرنے والی تھی ۔ اس کے خلاف اسمبلی کے سپيکر مولوی تميز الدين صاحب نے سندھ چيف کورٹ [اب ہائيکورٹ] میں پيٹيشن دائر کر دی جو منظور ہو گئی ۔ غلام محمد اور اس کے نامزد نئے وزراء نے اس کے خلاف اپيل دائر کی جس کا فيصلہ مارچ 1955ء ميں عدالت نے جسٹس منير کی سربراہی میں غلام محمد کے حق میں دے ديا ۔ اس کے نتيجہ میں 1950ء سے لے کر اُس دن تک جو بھی کاروائی ہوئی تھی سب غيرقانونی ہو گئی ۔ اس انتشار سے بچنے کيلئے غلام محمد نے اسمبلی توڑنے کے علاوہ تمام احکام کی پرانی تاريخوں سے منظوری کا حکمنامہ جاری کر ديا ۔ اس کالے قانون ‘نظريہ ضرورت” کا استعمال بار بار کيا گيا جس کے نتيجہ میں ملک تباہی کے دہانے پر پہنچ چکا ہے

يہ تو معاملات حکومتی ہيں جنہيں آج تک سب بُرا کہتے آئے ہيں ليکن “نظريہ ضرورت” کا کُليہ ہماری قوم کی رگوں میں اس قدر حلُول کر چکا ہے کہ جسے ديکھو وہ پورے کرّ و فر سے اس کا استعمال کر رہا ہے ۔ بات چاہے پہاڑوں پر برف پڑنے سے شروع ہو يا درياؤں کا پانی کم ہونے سے ۔ نظامِ تعليم سے يا کھيلوں سے ۔ بات پٹرول اور گيس کی قمتيں بڑھنے کی ہو يا بجلی کی کمی کی ۔ کسی طرح گھسيٹ گھساٹ کر اس میں اسلام اور انتہاء پسندی ضرور لائی جاتی ہے يا کسی طرح مُلا کے اسلام سے ناپسنديدگی کا اظہار ضرور ہوتا ہے

کبھی ان باعِلم اور ہرفن مولا لوگوں نے سوچا کہ يہ مُلا آئے کہاں سے آئے ہيں ؟ اور اِنہيں مسجدوں میں کس نے بٹھایا ہے ؟

جن لوگوں کو مُلا کا اسلام پسند نہيں وہ کونسا اسلام رائج کرنا چاہتے ہيں ؟ وہ اسلام جو اُنہيں من مانی کرنے کی اجازت دے ؟

ايک مسئلے کا حل تو ان لوگوں کے ہاتھ ميں ہے ۔ اگر یہ مُلا بقول ان کے جاہل ہیں تو اپنے محلے کی مسجد کے مُلا کو ہٹا کر وہاں دين اسلام میں اعلٰی تعليم یافتہ آدمی کو مسجد کا امام بناديں ۔ کس نے ان کو ايسا کرنے سے روکا ہے ؟ ليکن وہ ايسا نہيں کريں گے کيونکہ يہی مُلا جس کو وہ اپنی تقريروں اور تحريروں میں جاہل ۔ انتہاء پسند اور نجانے کيا کچھ کہتے ہيں وہ اپنا اور اپنے بيوی بچوں کا پیٹ بھرنے کيلئے محلہ والوں کا دستِ نگر ہے اور اُن کے ہر جائز و ناجائز فعل پر اُن کی مرضی کا فتوٰی ديتا ہے

تعليم يافتہ امام مسجد رکھيں گے تو پندرہ بيس ہزار روپيہ ماہانہ تنخواہ مانگے گا ۔ بات صرف وہ کرے گا جو قرآن و حديث میں ہے اور محلہ والوں کے خلافِ دين افعال پر تنقيد بھی کرے گا ۔ ايسے شخص کو يہ لوگ کيسے برداشت کر سکتے ہيں ؟

ايک اور پہلو ہے جسے شدّ و مد کے ساتھ نظر انداز کيا جاتا ہے ۔ کيا يہ مُلا ہمارے ہی معاشرہ کا حصہ نہيں ہيں ؟ کونسی بُرائی ہے جو ہمارے معاشرے کے ہر طبقہ ميں نہيں ؟ پھر اگر ايک شخص نے داڑھی رکھ لی ہے اور اُس ميں وہی بُرائی ہے جو معاشرے کے دوسرے طبقات جن ميں اکثر مراعات يافتہ ہيں ميں بھی ہے تو مطعون صرف داڑھی والے کو کيوں کيا جاتا ہے ؟

لوگ صرف باتوں پر اکتفا کرتے ہيں کہ آج کی سياست اور کشادہ نظری کی بنياد تقرير و تحرير پر قائم ہے عمل پر نہيں
جبکہ
عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی
يہ خاکی اپنی فطرت ميں نہ نوری ہے نہ ناری ہے

جب عورت ہی عورت کی دُشمن ہو جائے

قومی اسمبلی کے بدھ کو ہونیوالے اجلاس میں وقفہ سوالات کے دوران مسلم لیگ ن کی خاتون رکن قومی اسمبلی طاہرہ اورنگزیب نے کاسمیٹکس کی درآمد سے متعلق سوال کیا ۔ وفاقی وزیر نے جواب ميں کہا “خواتین اپنے آپ کو جوان رکھنے کیلئے لپ اسٹک ،لوشن اورکریم با ہرسے منگواتی ہیں جن کی ماليت 70 کروڑ روپے سے زائد ہے”

پیپلزپارٹی کی رکن قومی اسمبلی بیگم یاسمین رحمان نے کہا ” اگر حکومت کاسمیٹکس کی درآمد پرپابندی لگادے تو پھر ملک کاخزانہ بچایا جاسکتا ہے”۔ جس پر سید خورشید شاہ نے کہا “پابندی لگائی گئی تو خواتین حکومت کیخلاف احتجاجی جلوس نکالنا شروع کردینگی”

چھوٹی چھوٹی باتیں ۔ عوامی دور

عوامی دور کیا ہوتا ہے ؟ میں سمجھنے سے قاصر رہا اس کا سبب میری کم تعلیم یا کم عقلی بھی ہو سکتا ہے اور میرا ناقص مشاہدہ بھی

ایک چھوٹا سا واقعہ عوامی دور کا

اُس زمانہ میں بین الاقوامی ایئرپورٹ صرف کراچی میں تھی ۔ ميں 1976ء میں ملک سے باہر جا رہا تھا ۔ دساور کو يہ ميرا پہلا سفر نہيں تھا بلکہ چوتھا تھا ۔ ميرے پاس سرکاری پاسپورٹ تھا اور ميں جا بھی سرکاری کام کيلئے تھا ۔ ميرے پاس فرسٹ کلاس کا ٹکٹ تھا ۔ کراچی ایئرپورٹ پر میں بورڈنگ کارڈ لے کر آگے بڑھا تو راستہ بند تھا۔ مسافروں کی لمبی قطار لگی تھی ۔ وہاں پاکستان آرمی کے ایک میجر تھے جو چیکنگ کر رہے تھے ۔ قطار میں کھڑے آدھ گھنٹہ گذرگیا مگر قطار میں معمولی حرکت بھی نہ ہوئی مجھ سے آگے والا شخص دیکھ کر آیا اور بتایا کہ میجر صاحب میموں سے گپ لگا رہے ہیں ۔ میں جا کر کاؤنٹر کے قریب کھڑا ہو کر دس منٹ دیکھتا رہا کہ میجر صاحب دو گوریوں کے ساتھ صرف خوش گپیاں کر رہے تھے

میں نے معذرت مانگ کر کہا “میجر صاحب ۔ پرواز میں آدھ گھنٹہ رہ گیا ہے اور ابھی لمبی قطار انتظار میں ہے”۔ میجر صاحب نے کہا ” آپ کی باری ہے ؟” میں نے بتایا کہ میں قطار کے آخر میں ہوں ۔ کچھ دیر بعد میجر صاحب نے لوگوں کو اس طرح فارغ کرنا شروع کیا کہ کئی لوگوں پر اعتراض لگا دیا کہ وہ نہیں جا سکتے ۔ جب میری باری آئی میرا پاسپورٹ اور ٹکٹ لیا اور کہیں چلے گئے ۔ پی آئی اے کا سٹيشن منيجر تو پہلے ہی پريشان پھر رہا تھا جب پرواز میں 10 منٹ رہ گئے تو مجھے بھی پریشانی ہوئی

پی آئی اے کے منيجر نے مجھے کہا ” خا کر ايئر پورٹ منيجر کو بتائيں”۔ ميں نے جا کر ایئرپورٹ منیجر سے مدد کی درخواست کی ۔ تو وہ جا کر کہیں سے میرا پاسپورٹ اور ٹکٹ لے آیا ۔ بعد میں مجھے معلوم ہوا کہ ایئرپورٹ منیجر پاکستان آرمی کا اُس میجر سے سينيئر افسر تھا

سچ

ميرے انگريزی والے بلاگ کا عنوان ہے “حقيقت اکثر تلخ ہوتی ہے“۔ مختصر کہيں تو ” کڑوا سچ “۔ آج ايک مضمون سے کچھ اقتباسات

” سچ یہ ہے کہ ہمیں صرف اپنی پسند کا سچ سننے اور کہنے کی عادت پڑ چکی ہے ۔ جو سچ ہمیں پسند نہ آئے اسے جھوٹ قرار دینے کے لئے ہم ایڑی چوٹی کا زور لگا دیتے ہیں ۔ کچھ سچ ایسے بھی ہوتے ہیں جنہیں کہنے یا لکھنے کی جرأت ہم میں نہیں ہوتی ۔ جب کوئی دوسرا یہ سچ بول دیتا ہے تو ہم پر ہذیانی کیفیت طاری ہوجاتی ہے اور ہم سچ میں سازش کے پہلو تلاش کرنے لگتے ہیں ”

کیا کوئی پاکستانی تحقیقاتی ادارہ یہ کہنے کی گستاخی کرسکتا تھا کہ 27دسمبر 2007ء کو محترمہ بے نظیر بھٹو کے جائے شہادت کو دھونے کا حکم اس وقت کے ڈائریکٹر جنرل ملٹری انٹلی جنس میجر جنرل ندیم اعجاز نے دیا تھا؟ یہ وہ سچ ہے جو ہم نہیں بول سکتے تھے، یہ وہ سچ ہے جو ہم میں سے کئی لوگ سننا بھی نہیں چاہتے کیونہ یہ سچ ان کی پسند کا نہیں لیکن سچ تو سچ ہے اور یہ سچ تو اب اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل کے ریکارڈ کا حصہ بن گیا ہے

پرویز مشرف نے 29 نومبر 2007ء کو جنرل اشفاق پرویز کیانی کو نیا آرمی چیف مقرر کیا تاہم تین اہم خفیہ اداروں کے سربراہ وہی رہے جو پہلے سے تھے۔ 27دسمبر 2007ء کو جب سانحہ لیاقت باغ پیش آیا تو جنرل کیانی کو آرمی چیف بنے صرف ایک ماہ گزرا تھا

عام طور پر ڈائریکٹر جنرل ملٹری انٹیلی جنس ہر اہم حکم آرمی چیف کی مرضی سے جاری کرتا ہے لیکن میجر جنرل ندیم اعجاز کا معاملہ ذرا مختلف ہے ۔ وہ 1999ء میں کرنل تھے اور اسی زمانے سے براہ راست جنرل مشرف سے ہدایات لیا کرتے تھے ۔ کرنل کی حیثیت سے انہوں نے لاہور کے مختلف تھانوں میں جاوید ہاشمی، خواجہ سعد رفیق اور سینیٹر پرویز رشید پر وحشیانہ تشدد کیا اور اٹک قلعے مں نواز شریف کی حوالات کے اردگرد سانپ چھوڑ دیئے ۔ انہی موصوف نے رانا ثناء اللہ کے ساتھ بھی زیادتی کروائی اور تشدد کے بعد رانا صاحب کو عالم بے ہوشی میں موٹر وے پر پھینک دیا گیا

مسلم لیگ (ق) کی تشکیل میں ندیم اعجاز نے اہم کردار ادا کیا اور انہی خدمات کے صلے میں انہیں لاہور ہی میں بریگیڈیئر اور پھر میجر جنرل بنادیا گیا ۔ ملٹری انٹیلی جنس کا سربراہ بننے کے بعد انہوں نے پہلا کام یہ کیا کہ نواب اکبر بگٹی کو راستے سے ہٹادیا ۔ اس وقت چوہدری شجاعت حسین نے مذاکرات کے ذریعہ بگٹی صاحب کے ساتھ مفاہمت کا راستہ نکال لیا تھا لیکن ندیم اعجاز نے ان مذاکرات کو کامیاب نہ ہونے دیا

بگٹی صاحب کی شہادت کے بعد ایک اجلاس میں پرویز مشرف نے کہا کہ اب محمود خان اچکزئی کی باری ہے لیکن اس دوران چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے ساتھ معاملات بگڑگئے اور یوں اچکزئی بچ گئے ۔ جسٹس افتخار سے استعفیٰ لینے کا مشورہ بھی ندیم اعجاز کا تھا ۔ جب وکلاء تحریک شروع ہوگئی تو پھر ندیم اعجاز نے میڈیا میں سے مشرف دشمن عناصر کو ملک دشمن قرار دینا شروع کیا اور جس کسی نے ان کی بات نہ مانی اسے اغوا کروایا، تشدد کا نشانہ بنایا بلکہ غداری کے مقدمات بنانے کی دھمکیاں بھی دیں

چوہدری پرویز الٰہی اعتراف کرچکے ہیں کہ5مئی 2007ء کو جی ٹی روڈ پر اسلام آباد سے لاہور جاتے ہوئے جسٹس افتخار اور اعتزاز احسن پر فائرنگ کا منصوبہ بنایا گیا تھا ۔ افسوس کہ چوہدری صاحب کے انکشاف کے بعد بھی کوئی ادارہ حرکت میں نہ آیا، اگر حرکت میں آجاتا تو بہت پہلے پتہ چل جاتا کہ نہ صرف 5 مئی بلکہ 12 مئی 2007ء کو کراچی میں جو کچھ ہوا اس کا ذمہ دار بھی ندیم اعجاز تھا ۔ صرف یہ پتہ کرلیجئے کہ 2 مئی اور 12 مئی 2007ء کے درمیان ندیم اعجاز بیرون ملک کس کے پاس گیا اور واپس آکر کس کس کو ملا؟

بشکريہ ۔ جنگ

السلام عليکم کے کئی معنی

مسلمان کے مسلمان کو ملنے پر السلام عليکم کہنے کا حُکم اللہ سُبحانُہُ و تعالٰی نے ديا ہے ۔ السلام عليکم کا مطلب جيسا کہ سب جانتے ہيں “آپ پر سلامتی ہو”۔ ليکن ہمارے معاشرے ميں جو شکُوک کا شکار ہو چکا ہے اتنے اچھے الفاظ کے پسِ پردہ معنی تلاش کئے جاتے ہيں

ديکھا گيا ہے کہ ايک شخص ايک گروہ يا محفل ميں آتا ہے اور پُرتپاک طريقہ سے السلام عليکم کہتا ہے ۔ سلام بھيجنے والے کے دل ميں کيا ہے سوائے اللہ کے اور کوئی نہيں جانتا مگر مختلف مخاطب افراد اس سلام کو مختلف طريقہ ميں وصول کرتے ہيں جس کی کچھ صورتيں يہ ديکھنے ميں آئی ہيں

“اچھا خوش اخلاق شخص ہے”
“آج بہت خوش نظر آ رہا ہے ؟”
“اتنے تپاک سے سلام ۔ ضرور کوئی ذاتی غرض ہو گی”
“دال ميں ضرور کچھ کالا ہے”

کچھ ايسے بھی ہوتے ہيں جن پر سلام کا کوئی اثر نہيں ہوتا

دراصل کسی بھی اطلاع يا خبر رسائی کا ادراک يا شعور سامع کی نہ صرف تعليم و تربيت اور ماحول بلکہ اس خاص لمحہ پر اُس کی ذہنی حالت پر بھی منحصر ہوتا ہے ۔ سلام بھی ايک اطلاع يا خبر ہوتی ہے ۔ چنانچہ سلام خواہ کتنے ہی پُرخلوص جذبات کا حامل ہو مخاطب افراد کی عِلمی سطح ۔ تربيّت اور ماحول سلام کرنے والے سے مختلف ہو تو سلام کا ردِ عمل کم ہی درست ہو گا

کوئی بھی کہا گيا جُملہ دو زمرات ميں رکھا جا سکتا ہے ۔ ايک ۔دعوٰی ۔ اور دوسرا ۔ توضيع ۔ اور ايک ہی دعوٰی کی کئی توضيعات ہو سکتی ہيں جن کا انحصار مخاطبين کی اقسام يا جذباتی کيفيات پر ہوتا ہے ۔ انسانی تعلقات ميں خبر رسائی ايک اہم مقام رکھتی ہے ۔ اگر مخاطبين کی اکثريت دعوٰی کی درست توضيع کرنے سے قاصر رہے تو اچھے تعلقات استوار ہونا بہت مشکل ہوتا ہے ۔ اور اسی بناء پر کج فہمی اور انتشار جنم ليتے ہيں اور معاشرہ بگاڑ کی راہ پر چل نکلتا ہے

وجہ خواہ غير مساوی تعليم ہو يا ناقص تربيت مختلف افکار رکھنے والے افراد ايک ہجوم تو بن سکتے ہيں مگر قوم نہيں ۔ ہجوم کو جوش يا طيش دِلا کر اس سے بربادی کا کام تو ليا جا سکتا ہے مگر تعميری کام نہيں ليا جا سکتا ۔ ہم ايک مضبوط قوم تھے ليکن پۓ در پۓ حکمرانوں کی غلط منصوبہ بندی اور قوم کی لاپرواہی کے نتيجہ ميں ہم افراد کا ہجوم بن چکے ہيں ۔ اللہ کرے وہ وقت پھر آئے جب ہمارے اربابِ اختيار انگوٹھے اور کلائی کے زور کی بجائے دماغی سوچ سے کام لينے لگيں

يہ خلاصہ ہے ميرے ايک تحقيقاتی مقالے کے تين ابواب ميں سے ايک کا جو ميرے دس سالہ تجربہ اور وسيع مطالعہ اور کئی سرويز [surveys] پر مبنی تھا اور مارچ 1975ء ميں غور اور اطلاق کيلئے حکومتِ پاکستان کے متعلقہ محکمہ کے حوالے کيا گيا تھا ۔ شايد ايسے کئی تحقيقاتی مکالے اُن کی الماريوں ميں پڑے ديمک کی خوراک بن چکے ہوں گے

سياسی کلچر

میں صدر مملکت کا کوئٹہ میں خطاب سن رہا تھا۔ صدر صاحب نے تقریر کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ وہ جسٹس نسیم حسن شاہ کو بھٹو کا قاتل سمجھتے ہیں اور پھر ساتھ ہی یہ فرمایا کہ وہ چار فٹ تین انچ کا شخص لاہور میں آزاد پھر رہا ہے۔ ان کے کہنے کا مقصد تو اپنی فراخدلی ظاہر کرنا تھا اور بتانا تھا کہ پی پی پی انتقام پر یقین نہیں رکھتی لیکن ان کی تقریر کے یہ فقرے سن کر مجھے لگا جیسے وہ سوئے ہوئے زخموں کو کرید کر تازہ کر رہے ہیں اور لاہور کے پی پی پی کے جیالوں کو یاد دلا رہے ہیں کہ تمہارے بھٹو کا قاتل کون ہے اور کہاں ہے؟

جسٹس وجیہہ الدین کا کہنا تھا کہ ایسی باتیں صدر صاحب کو زیب نہیں دیتیں اور ان کا یہ بھی خیال تھا کہ شاید صدر صاحب سپریم کورٹ کے این آر او پر فیصلے سے توجہ ہٹانے کے لئے ایسی باتیں کر رہے ہیں جبکہ چودھری اعتزاز احسن نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ بھٹو کو جسٹس مولوی مشتاق حسین اور جسٹس انوار الحق نے پھانسی چڑھایا تھا

جسٹس نسیم حسن شاہ کے الفاظ قابل غور تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر بھٹو صاحب کے وکیل یحییٰ بختیار غصہ نہ دلاتے تو شاید سپریم کورٹ انہیں موت کی سزا نہ دیتی۔ جنرل کے ایم عارف کی کتابیں اس حقیقت کی تصدیق کرتی ہیں کہ جنرل ضیاء الحق نے بہرحال بھٹو کو پھانسی دینے کا فیصلہ کیا ہوا تھا اور عدالت عالیہ نے وہی کرنا تھا جو آمر مطلق چاہتا تھا۔ رہا غصہ تو عینی شاہدوں کا بیان ہے کہ جب بھٹو صاحب پر ہائیکورٹ میں مقدمہ چل رہا تھا تو وہ مختلف طریقوں سے جسٹس مولوی مشتاق حسین کا تمسخر اڑاتے اور اسے غصہ دلاتے تھے

جسٹس مولوی مشتاق نے بھٹو کو پھانسی کی سزا سنائی اور چوہدری ظہور الٰہی نے صدر ضیاء الحق سے وہ قلم مانگ لیا جس سے صدر صاحب نے پھانسی کی تصدیق کی تھی چنانچہ چوہدری ظہور الٰہی کو کار میں سفر کرتے ہوئے ماڈل ٹاؤن موڑ لاہور پر قتل کر دیا گیا، کیا یہ انتقام نہیں تھا؟ نہ جانے کیوں میں صدر زرداری صاحب کی تقریر سنتے ہوئے محسوس کر رہا تھا کہ ان کے ان الفاظ سے پی پی پی کے جیالے پھر طیش میں آئیں گے اور پھر خدا جانے کیا ہو

دراصل ہر سیاسی جماعت اور اس کی قیادت کا ایک مزاج ہوتا ہے جسے میں اس جماعت کا کلچر کہتا ہوں۔ عام طور پر سیاسی جماعت میں یہ مزاج یا کلچر اس کی قیادت پیدا کرتی ہے

ضیاء الحق کے مارشل لا لگانے کے بعد ایک عرصے تک ضیاء الحق بھٹو صاحب کو ”سر“ کہہ کر مخاطب کرتا رہا، وہ ان کا بے حد احترام کرتا تھا اور اس کا ہرگز ا رادہ بھٹو صاحب کو پھانسی چڑھانے کا نہیں تھا جس روز بھٹو صاحب نے مختصر سی حراست سے رہائی کے بعد یہ بیان دیا کہ وہ اقتدار میں آکر جرنیلوں کو پھانسی چڑھا دیں گے، اسی لمحے ضیاء الحق اور اس کے ساتھیوں کا موڈ بدلنے لگا اور احترام کی جگہ تصادم نے لینی شروع کر دی

آپ غور کریں تو محسوس کریں گے کہ پی پی پی کا کلچر جارحیت کا کلچر ہے اور اس کی قیادت جارحیت پر یقین رکھتی ہے۔ پی پی پی کے دانشور اسے مزاحمت کہتے ہیں جبکہ دراصل پی پی پی کے مزاج اور خمیر میں جارحیت پوشیدہ ہے اور وہ مزاحمت نہیں بلکہ تصادم کرتی ہے۔ کچھ عرصہ قبل خود زرداری صاحب کے بیانات اور خاص طور پر نوڈیرو والی تقریر اور یہ کہ اسٹبلشمنٹ نہ ہی صرف ان کے اقتدار بلکہ ان کی جان کے در پے ہے یہ ساری حکمت عملی اور انداز ان کے جارحانہ سیاسی کلچر کی غمازی کرتا تھا۔ اسی طرح راجہ ریاض کی تقریروں میں لاشیں گرانے اور ڈاکٹر ذوالفقار مرزا کی سندھ کی علیحدگی کی دھمکیاں اور پھر پی پی پی کے کارکنوں کا نہ صرف میاں نواز شریف کا پتلا جلانا بلکہ سڑکوں پر ماتم کرنا، پی پی پی کے جارحانہ انداز کو بے نقاب کرتا ہے۔

بظاہر وزیراعظم صاحب چیف جسٹس کے سامنے سرنگوں ہو چکے ہیں لیکن مجھے یہ تصادم سے نکلنے کی وقتی مصلحت اور حکمت عملی لگتی ہے کیونکہ پی پی پی کی حکومت این آر او پر فیصلے کے صدر صاحب سے متعلقہ حصے اور خاص طور پر سوئس اکاؤنٹس پر مقدمات ری اوپن کرنے پر کبھی آمادہ نہیں ہوگی۔ گزشتہ دنوں آپ نے دیکھا کہ کس طرح ججوں کو ملغوف دھمکیاں دی جا رہی تھیں اور کس طریقے سے ان کی دیانت پر شکوک کا اظہار کیا جا رہا تھا۔ مجھے خدشہ ہے کہ ماضی کی مانند اب بھی پیپلز پارٹی کو جارحیت مہنگی پڑے گی لیکن کیا کیجئے کہ جارحیت جیالوں کے مزاج کا حصہ ہے۔ کس قدر فکر انگیز اور حکمت سے لبریز ہے حضرت علی کا یہ فرمان کہ ”ہر شخص کی شخصیت اس کی زبان کے نیچے پوشیدہ ہوتی ہے“

تحرير ۔ ڈاکٹر صفدر محمود

چھوٹی چھوٹی باتیں ۔ اعلٰی معیار

جو محنت کرتا ہے ۔ وہ کامیابی سے ہمکنار ہوتا ہے
جو دیانتداری کرتا ہے ۔ وہ قابلِ اعتماد بنتا ہے
جو اچھائی کرتا ہے ۔ وہ مقبول ہوتا ہے
جو درگذر کرتا ہے ۔ وہ موافقت حاصل کرتا ہے
جو عاجزی اختیار کرتا ہے ۔ وہ بڑھائی پاتا ہے
جو استقامت یا استقلال اختیار کرتا ہے ۔ وہ قناعت و اطمینان پاتا ہے
جو اللہ پر ایمان یا یقین رکھتا ہے ۔ وہ سب کچھ پا لیتا ہے

چنے بوئیں گے تو گندم نہیں کاٹ سکتے
نہ ہی تھور بیجیں تو گلاب اُگتا ہے
جو زندگی کو دیں گے وہی زندگی لوٹائے گی
اسلئے وہی کریں جس کے نتیجہ میں بعد میں پریشانی یا پشیمانی نہ ہو

میرا دوسرا بلاگ ” حقیقت اکثر تلخ ہوتی ہے ۔ Reality is often Bitter
” جو ساڑھے پانچ سال سے زائد عرصہ سے معاشرے کے کچھ بھیانک پہلوؤں پر تحاریر سے بھر پور چلا آ رہا ہے ۔ اور قاری سے صرف ایک کلِک کے فاصلہ پر