Category Archives: روز و شب

ہم سب دہشتگرد نہيں تو تماشبين ضرور ہيں

ہمارے ملک میں یہ سلسلہ چل نکلا ہے کہ سیکورٹی ادارے جب کسی کو گرفتار کرنے نکلتے ہیں تو میڈیا کی ٹیموں کو بھی ساتھ لے لیتے ہیں جس کے باعث جہاں ایک طرف ميڈيا کے اس ادارے کی شہرت میں اضافہ ہوتا ہے وہاں ان اہلکاروں کی ترقی کی راہ بھی ہموار ہوتی ہے۔ اس کے ساتھ ہی ہمارے جديديت پسند ہموطن ايسی خبر کو لے اُڑتے ہيں اور بڑھ چڑھ کر کسی خاص کميونٹی کی مذمت شروع ہو جاتی ہے يہاں تک کہ دين اسلام کو بھی نہيں بخشا جاتا۔ ہونا تو يہ چاہيئے کہ پڑھے لکھے لوگ “کُتا کان لے گيا” سُنتے ہی کُتے کے پيچھے بھاگنا شروع کرنے سے پہلے يہ تو ديکھ ليں کہ کان اپنے سر کے ساتھ ہی لگا ہے يا واقعی کُتا اُتار کر لے گيا ہے ؟

اشتياق بيگ کے مضمون سے اقتباس
دنیا بھر میں قانون کا یہ اصول ہے کہ آپ اس وقت تک بے گناہ ہیں جب تک آپ مجرم ثابت نہ ہوجائیں لیکن بدقسمتی سے ہمارے ملک میں معاملہ اس کے برعکس ہے۔ یہاں آپ اس وقت تک مجرم تصور کئے جاتے ہیں جب تک آپ اپنی بے گناہی ثابت نہ کردیں۔ کچھ اسی طرح کا واقعہ 9 مئی بروز اتوار صوبہ خیبر پختونخواہ کے ضلع مانسہرہ سے تعلق رکھنے والے فیض محمد کے ساتھ ہوا جو مسقط میں سول انجینئر کی حیثیت سے اپنے فرائض انجام دے رہا تھا۔ سالانہ تعطیلات اپنی فیملی کے ساتھ کراچی میں گزارنے کے بعد وہ تھائی ایئر ویز کی ایک پرواز کے ذریعے مسقط جانے کے لئے کراچی ایئر پورٹ پہنچا ۔جسمانی تلاشی کے دوران جب وہ ا سکینرز سے گزرا تو ا سکینرز کے الارم بج اٹھے، فیض محمد کے جوتوں سے الیکٹرک سرکٹ برآمد ہوا۔

فیض محمد نے سیکورٹی اہلکاروں کو بتایا کہ اس نے یہ جوتے لائٹ ہاؤس میں واقع استعمال شدہ جوتوں کی ایک دکان سے خریدے تھے اور ان جوتوں کے اندر اور باہر وائبریٹرزتحریر تھا۔ دکاندار نے اسے بتایا تھا کہ انہیں پہننے سے آرام ملتا ہے چونکہ مسقط میں اسکا کام زیادہ تر کھڑے رہنے کا تھا اسلئے اس نے یہ جوتے خرید لئے اور اس سے پہلے بھی وہ ان جوتوں میں مسقط جا چکا ہے۔ مگر کسی نے اس کی باتوں پر یقین نہ کیا اور اسے ہتھکڑی لگاکر ایک ”دہشت گرد“ کے طور پر میڈیا کے سامنے پیش کیا گیا ۔ اے ایس ایف کا دعویٰ تھا کہ ملزم کے جوتوں میں چھپا سرکٹ دھماکہ خیز مواد میں نصب کرکے دھماکہ کرنے میں استعمال ہوتا ہے۔ تھوڑی ہی دیر میں ملک بھر کے ٹی وی چینلز ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کیلئے فیض محمد کو ایک ”دہشت گرد“ کے طور پر پیش کررہے تھے اور اس کا بھرپور میڈیا ٹرائل کیا جارہا تھا۔ ملکی اور غیر ملکی تمام ٹی وی چینلز اس کی گرفتاری کی خبریں نمایاں طور پر نشر کررہے تھے۔ پرنٹ میڈیا بھی الیکٹرونک میڈیا سے پیچھے نہ تھا

اس واقعہ سے پورے ملک کی بدنامی ہوئی اور ملک بھر میں موجود پاکستانیوں کی تشویش میں اضافہ ہوا جو پاکستانیوں اور دیگر مسلمانوں پر مسلسل دہشت گردی کے الزامات سے پہلے ہی پریشان تھے۔ فیض محمد کو مزید تفتیش کے لئے ایئر پورٹ پولیس کے حوالے کردیا گیا جہاں محکمہ داخلہ کے حساس اداروں، سی آئی ڈی، ایس آئی یو اور انویسٹی گیشن پولیس پر مشتمل ایک جوائنٹ انٹروگیشن ٹیم تشکیل دی گئی۔ دو دن کی تفتیش کے دوران انویسٹی گیشن پولیس ٹیم شہر کی مختلف مارکیٹوں سے ویسے ہی جوتے خرید کر لے آئی جیسے فیض محمد نے پہن رکھے تھے اور ان جوتوں میں ویسا ہی سرکٹ نصب تھا

بعد میں اخباروں نے ایک چھوٹی سی خبر شائع کی جس میں تحریر تھا ”مشتبہ جوتے رکھنے والا زیر حراست نوجوان فیض محمد بے گناہ قرار پایا ہے اور اسے رہا کردیا گیا ہے۔“اخبارات میں شائع اس کی بے گناہی اور اس کے دہشت گرد سے متعلق ایک چھوٹی سی تردید اس پر لگا ہوا ”دہشت گرد“ کالیبل اور اس کی تکالیف و مشکلات کا ازالہ نہیں کرسکی۔ فیض محمد کی ”دہشت گرد“ کے طور پر گرفتاری کی خبریں مسقط میں اس کی کمپنی تک بھی پہنچ چکی تھیں جس کے باعث اسے ملازمت سے برطرف کردیا گیا اور وہ روزگار سے محروم ہوگیا۔

اس طرح بے گناہ شخص کو شدید ذہنی کوفت اور بے پناہ مشکلات سے دوچار کردیا اور اس کی سزا فیض محمد کے ساتھ اس کے والدین، بیوی اور بچوں کو بھگتنا پڑی۔اگر اس طرح کا واقعہ امریکہ اور یورپ میں پیش آتا تو متاثرہ شخص ان اداروں کے خلاف ہرجانے کا دعویٰ دائر کرکے کروڑ پتی بن سکتا تھا لیکن افسوس کہ ہمارے ملک میں اس طرح کی کوئی روایت یا قانون نہیں۔

بہترين خاوند

مغربی دنيا ميں عورتوں کا بہت احترام کیا جاتا ہے ۔ اس حوالے سے مغربی دنيا کے ايک رسالے نے مقابلہ منعقد کيا اور کچھ نمائندہ تصاوير شائع کيں جو حاضر ہيں

برطانيہ

رياستہائے متحدہ امريکہ

پولينڈ

يونان

دوسرے نمبر پر آنے والا سربيا

بہترين خاوند آئر لينڈ ۔ جہاں خاوند اپنی محبت کے اظہار ميں اپنی بيوی کا ہاتھ تھامے رکھتے ہيں

ڈرامہ اور حقيقت

متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین نے کہا ہے کہ ایم کیو ایم کی سیاست ملک پر حکمرانی کے لئے نہیں بلکہ عوام کی فلاح وبہبود وحکمرانی کے لئے ہے،انہوں نے عوام کوکہاکہ وہ ملک کولوٹنے والے چوروں اورلٹیروں کے خلاف متحدہوجائیں اورانقلاب کی تیاریاں کریں۔ڈرامہ ”جہد مسلسل“ عوام دیکھیں اور سبق سیکھیں اور پانی‘ بجلی کے بحرانوں‘ مہنگائی‘ بے روزگاری سمیت مسائل سے نمٹنے کے لئے ایم کیو ایم کے ساتھ متحد ہو کر انقلاب لائیں۔

الطاف حسين صاحب ۔ پہلے لُٹيری حکومت کی کابينہ کی کرسياں تو چھوڑيں ۔ صرف ڈرامے ہی نہ کرتے رہيں

کيا فرنگی بھی ايسا ہی کرتے ؟

اگر خدا نخواستہ کوئی پاکستانی يورپ يا امريکہ ميں کوئی معمولی سی ايسی حرکت کر بيٹھتا جو کسی عيسائی يا يہودی کو پسند نہ ہوتی تو اُس پاکستانی کو اگر دہشتگرد قرار دے کر قيد نہ کر ديا جاتا تو ناپسنديدہ شخص قرار دے کر دو تين گھنٹوں ميں مُلک بدر کر ديا جاتا

ايک فرنگی ملک کی صحافی عورت جو اُس گُستاخ اخبارکيلئے کام کرتی ہے جس ميں رسولِ اکرم صلی اللہ عليہ و آلہ و سلم کے جعلی خاکے چھپے تھے اور اُس نے معافی مانگنے سے بھی انکار کيا تھا پاکستان آئی ہوئی ہے اور متذکرہ مطعون خاکوں کی نقول تقسيم کرتے ہوئے پکڑی گئی ۔ متعلقہ پاکستانی حکام نے قانون کے مطابق اُس کا ويزہ منسوخ کر ديا اور اُسے فوری طور پر پاکستان چھوڑنے کا حُکم ديا ۔ جمعہ 14 مئی 2010ء کو ايف آئی اے کے اہلکار اُسے ايئرپورٹ پہنچانے کيلئے اُس کی رہائش گاہ پر پہنچ گئے ليکن ۔ ۔ ۔

آخری لمحات ميں اسلام آباد پوليس کے ايک اعلٰی عہديدار کو کسی غيرملکی نے کہا کہ “صحافی عورت کو بے عزت نہ کيا جائے اور اُسے تين چار دن بعد باعزت طريقہ سے جانے ديا جائے”۔ اسلام آباد پوليس کے اُس اعلٰی عہديدار نے جو بڑا خوش اخلاق مشہور ہے اُس غيرمُلکی کی حُکم بجا آوری کرتے ہوئے اُس گُستاخ صحافی عورت کے خلاف کاروائی روک دی ۔ کيا خوش اخلاقی مُلکی قوانين سے زيادہ اہم ہے ؟
بشکريہ ۔ دی نيوز

مجھے 40 سال پرانا ايک واقعہ ياد آيا جب ميں پروڈکشن منيجر تھا ۔ ميں نے اپنے ماتحت ڈيزائن آفس کے فورمين کو ايک خاص تربيت کيلئے 3 ماہ کيلئے جرمنی بھجوايا ۔ 3 ہفتے گذرے تھے کہ ايک اعلٰی عہديدار نے بتايا کہ اُسے واپس بھيجا جا رہا ہے ۔ ميں نے فوری طور پر ايک خط جرمنی اپنے سفارتخانے کو تفصيل معلوم کرنے کيلئے بھيجا ۔ ہفتہ ميں ايک بار ڈپلوميٹک بيگ جاتا تھا جو کہ دو دن قبل جا چکا تھا اسلئے ميرا خط ايک ہفتہ بعد ملا اور اس وقت تک اُسے واپس بھيجا جا چکا تھا جو پيسے وہ خرچ کر چکا تھا واپس کرنا پڑے چنانچہ وہ مقروض ہو گيا

ہوا يوں کہ وہ فورمين اسلامی شرع کا پابند تھا ۔ وہ حرام سے بچنے کيلئے پھل انڈے مکھن ڈبل روٹی بند وغيرہ کھاتا تھا ۔ دفتری اوقات کے دوران ظہر اور عصر کی نمازوں کا وقت ختم ہو جاتا تھا ۔ يہ دونوں نمازيں وہ ڈيزائن آفس ميں پڑی ايک الماری کے پيچھے پڑھتا تھا تا کہ دوسرے ڈِسٹرب نہ ہوں ۔ اس کے باوجود اُس کو ناپسند کيا گيا اور اُسے پاکستان واپس بھيج ديا گيا ۔ بہانہ يہ بنايا گيا کہ وہ کچھ کھاتا پيتا نہيں ہے اسلئے مر جائے گا ۔ ميں اُس فورمين کا انچارج تھا اور ميں نے ہی اُسے حکومت سے منظوری لے کر بھجوايا تھا اور جس کمپنی ميں وہ تربيت لے رہا تھا وہ مجھے 4 سال سے جانتے تھے ۔ جرمنی ميں پاکستانی سفارتخانے ميں ايک ٹيکنيکل اتاشی بالخصوص ہمارے ادارے کے معاملات کو ديکھنے کيلئے موجود تھا ۔ کمال يہ ہے کہ نہ مجھ سے کسی نے بات کی اور نہ ٹيکنيکل اتاشی سے اور اُسے واپس بھيج ديا گيا

ہم کيا کر سکتے ہيں ؟

شگفتہ صاحبہ نے پوچھا ” کیا کوئی ہے جو پاکستان کے لیے کچھ کرنا چاہے ، اپنے معاشرے کے لیے کچھ کرنا چاہے ، اپنے لیے کچھ کرنا چاہے

سب سے پہلے تو ہر فرد کو يہ سمجھنا ہے کہ جب ہم اپنے ملک يا معاشرے کيلئے کچھ کرتے ہيں تو دراصل وہ ہم اپنے لئے اور اپنی اولاد کيلئے ہی کرتے ہيں اور اگر ملکی املاک کو کوئی نقصان پہنچاتے ہيں يا معاشرہ ميں کوئی گڑبڑ کرتے ہيں تو دراصل اپنا ہی نقصان يا بگاڑ کرتے ہيں

بہت کچھ ہے جو ہر فرد اپنی سطح پر بغير زيادہ مشقت اُٹھائے کر سکتا ہے ۔ مُشکل يہ ہے کہ ايک تو ہم لوگوں کی اکثريت باتوں کے شير اور عمل ميں ڈھير ہيں ۔ دوسرے ہم صرف حقوق کی بات کرتے ہيں جو خواہ ہوں يا نہ ہوں مگر ذمہ داری سے دُور بھاگتے ہيں حالانکہ جب تک ذمہ داری نہيں نبھائيں گے حق نہيں ملے گا بلکہ يوں کہنا چاہيئے کہ اگر ہر کوئی اپنی ذمہ داری نبھائے گا تو کسی کی حق تلفی ہو گی ہی نہيں

اوّل اور لازم عمل يہ ہے کہ جو کوئی بھی پاکستان کی شہريت رکھتا ہے وہ اپنے آپ کو پاکستانی سمجھے کہے اور لکھے ۔ اگر وہ پنجابی يا سندھی يا پٹھان يا بلوچ يا اُردو سپيکنگ يا حق پرست ہے تو اپنے گھر پر ہو گا ۔ يہ پہچان صرف اُس کے خاندان يا محلہ کيلئے ہے مُلک کيلئے نہيں

اپنے گھر کا کوڑا کباڑ گلی يا سڑک کے کنارے پھينکنے کی بجائے ايک تھيلے يا ٹوکری يا بالٹی ميں ڈال کر اس کيلئے رکھے گئے کنٹينر کے اندر ڈاليں ۔ کنٹينر کے باہر نہ پھينکيں ۔ گاڑی ميں جاتے ہوئے گاڑی سے باہر کچھ نہ پھينکيں ۔ اسے ايک تھيلے ميں ڈال کر رکھيں اور جہاں اسے ڈالنے کا ڈبہ ملے اس ميں ڈاليں

جب بھِيڑ ہو تو قطار بنائيں اور صبر سے اپنی باری کا انتظار کريں ۔ سڑک پر گاڑی پر جارہے ہوں تو ہر وقت آگے نکلنے کی کوشش نہ کريں بلکہ دوسروں کا حق پہچانيں ۔ بالخصوص پيدل سڑک پار کرنے والے کو راستہ ديں

کسی کا مذاق نہ اُڑائيں

اپنی بڑھائی دکھانے کيلئے بڑی بڑی گاڑياں خريدنا اور گھر کے گرد بيش قيمت اور بڑے بڑے قمقمے جلانا بند کر ديں

فضول ضيافتوں جيسے مہندی تيل وغيرہ کو خير باد کہيں اور اس طرح ہونے والی بچت کو قومی يا اپنے خاندان کی بہتری ميں لگائيں

ميکڈونلڈ ۔ کے ايف سی ۔ وِيليج ۔ سَب وے وغيرہ پر صرف اس وقت جائيں جب کسی مجبوری کے تحت گھر ميں کھانا نہ پکايا جا سکا ہو ۔ يہ بچت آپ کے ہی کام آئے گی ۔ گھر کے سادہ کھانے صحت کيلئے بھی مفيد ہوتے ہيں

اگر آپ کے پاس فالتو کھانا ہے تو اپنے گلی محلے پر نظر رکھيں کہ کوئی سفيد پوش بھوکا نہ رہے

اگر آپ کے پاس فالتو پيسے ہيں تو کسی ايسے بچے کی تعليم کا خرچ اپنے ذمہ لے ليں جس کے والدين يہ خرچ برداشت نہيں کر سکتے

رازق و مالک اللہ ہے فانی مخلوق کی بجائے پيدا کرنے اور مارنے والے مالک کُل پر بھروسہ رکھيں اور ہر قسم کی رشوت لينا اور دينا چھوڑ ديں

سب سے بڑی بات کہ جھوٹ کبھی نہ بوليں سوائے اس کے کہ کوئی گردن پر چھُری رکھ کر جھوٹ بولنے پر مجبور کرے

اللہ سُبحانُہُ و تعالٰی ہميں دين کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفيق عطا فرمائے

[ميں نے صرف وہ عوامل لکھے ہيں جن پر ميں اور ميرے بيوی بچے عمل کرنے کی پوری کوشش کرتے ہيں اور اللہ کی دی ہوئی توفيق سے عمل کر رہے ہيں]

آپ مجبور ہيں تو ميں بھی مجبور ہو سکتا ہوں

ميرے معزز قارئين کو مجھ سے متنفر کرنے کی ايک بودی کوشش ميری تحارير پر ميرا بلاگ اور ای ميل ايڈريس استعمال کرتے ہوئے ميری طرف سے تبصرہ کيا گيا ۔ ميں نے انٹرنيٹ اعداد و شمار کے ريکارڈ کے ذريعہ معلوم کر ليا تھا کہ يہ کس کی حرکت ہے

يہ تبصرے لکھنے والے ہيں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ہیلو۔ہائے۔اےاواے

نام ظاہر کرنے کی ضرورت يوں پيش آئی کہ موصوف نے ميرا نام بگاڑ کر ميرا بلاگ اور ای ميل ايڈريس استعمال کرتے ہوئے ايک اور تبصرہ لکھ ديا

مجھے کچھ معزز قارئين نے نام ظاہر کرنے کی فرمائش بھی کی تاکہ وہ موصوف کے شر سے محفوظ رہ سکيں ليکن ميں نے نام ظاہر کرنے کی بجائے موصوف کو احساس دلانے کی کوشش ميں ايک تحرير لکھ دی ۔

تبصرے بحال کر ديئے ہيں اور نيچے نقل بھی کر ديئے ہيں
چھوٹی چھوٹی باتيں ۔ عوامی نظريہ ضرورت پر 10 مئی کو بعد دوپہر ايک بج کر 43 ميٹ 41 سيکنڈ پر ۔ تبصرہ نمبر 6
میرے ساتھ تو تو تو تو تو شائشتگی سے بات کریں ورنہ میری میری میری میری میری ناشائشتگی کی بہت بہت بہت بہت بہت ہی معقول وجہ ہے اور اگر اس معقولیت کا ثبوت مانگا تو تو تو تو تو میں بھی دیکھ لونگا اور اور اور اور اور وہ بھی دیکھ لینگے ۔

چالاک مگر بيوقوف شخص پر 13 مئی کو صبح 7 بج کر 47 منٹ پر تبصرہ نمبر 9
میں ہوں بھونچال میں نے تو دینی ہی ہیں لوریاں، بھلا ہو بھونچال ۔ مارکس کی بدروح جتنا بھی ہو ئے بے حال ۔ ڈرو بھونچال سے، میں ہوں بھونچال، میں ہوں بھونچال ۔ میں ہوں، میں ہوں، میں ہوں، بھونچال ۔

پروپيگنڈہ اور لطيفے

عام طور پر پروپيگنڈہ کا اثر بلا تامل قبول کر ليا جاتا ہے ۔ بہت کم لوگ جانتے ہيں يا احساس رکھتے ہيں کہ پروپيگنڈہ کا اثر لينے کا مطلب کسی دوسرے کے ہاتھ ميں کھيلنا ہوتا ہے ۔ اسی طرح لطيفے سُن کر دوسروں کو سُنانا عام انسان کا معمول بن چکا ہے يہاں تک کہ کئی لطيفے کسی انسان کی دل آزاری يا اللہ يا رسول کے حضور ميں گُستاخی کے موجب ہوتے ہيں

انٹرنيٹ سے تعلق رکھنے والے جانتے ہوں گے کہ کبھی کبھی ای ميل آتی ہے کہ فلاں فلاں ويب سائٹ نہ پڑھيں اور اپنے سب دوستوں کو يہ ای ميل فارورڈ کريں ۔ کبھی کسی نے تحقيق کی کہ ايسی ای ميل کا منبع کہاں ہے ؟ ايسی ای ميلز کا مقصد زيادہ سے زيادہ قارئين کو اس غلط ويب سائٹ سے متعارف کروانا ہوتا ہے ۔ منصوبہ يہ ہوتا ہے کہ اگر 5 فيصد قارئين بھی وہاں لکھی عبارت کا اثر لے ليں يا اصل عبارت کو مشکوک سمجھنے لگ جائيں تو يہ تحريک شروع کرنے والے کی 100 فيصد کاميابی ہو گی

پروپيگنڈہ اس طرح نہيں ہوتا جيسے بہار يا برسات کے موسم ميں اچانک کونپليں پھوٹ پڑتی ہيں بلکہ اس کيلئے باقاعدہ اور لمبی منصوبہ بندی کی جاتی ہے اور ان کی نمُو کيلئے لمبی لمبی رقميں خرچ کی جاتی ہيں ۔ پروپيگنڈہ کے دو منفرد جزو ہيں ۔ ايک من گھڑت واقعات پھيلانا اور دوسرا لطيفے ۔ مقصود کسی گروہ يا قوم کے ذہن بدلنا ہوتا ہے

برطانيہ اُنيسویں صدی کے آخر اور بيسويں صدی ميں اُردن اور ہندوستان ميں ذہن بدلنے کی کامياب کوشش کر چکا تھا مگر دوسری جنگِ عظيم کے بعد محسوس کيا گيا کہ جنگ اور قبضہ کے بعد ايسا کرنے ميں جيتنے والے کا بھی کافی نقصان ہوتا ہے چنانچہ ايسا طريقہ نکالا جائے جس سے سانپ مر جائے اور لاٹھی بھی سلامت رہے ۔ اس میں پہل سووئٹ رشيا [USSR] نے کی اور يہ کام کے جی بی کے سپرد کيا ۔ امريکا [USA] کو بھی بھِنَک پڑ گئی اور اس نے يہ کام سی آئی اے کے سپرد کر ديا ۔ چنانچہ جسمانی جنگ کی بجائے ذہنی جنگ کا آغاز ہو گيا جس ميں اپنا مال خرچ کر کے دوسری قوموں کی زمينوں کی بجائے اُن کے ذہنوں پر قبضہ کرنے کی مُہمات شروع ہو گئيں ۔ اس پروپيگنڈہ کی جنگ کی دو شاخيں بنائی گئیں ۔ ايک لطيفے اور دوسرا من گھڑت واقعات ۔ جس ملک پر قبضہ کرنا مقصود ہو ان ميں سے ايک يا دونو اُس ملک ميں پھيلا کر وہاں کے باشندوں کے ذہنوں کو پراگندہ کرنا بنيادی مقصد قرار پايا ۔ مفکرين [Think Tanks] اس کام پر لگ گئے پھر لطيفوں اور من گھڑت واقعات کی قيمت لگنے لگی ۔ کئی ايسے لطيفے بھی تھے جن ميں سے ہر ايک کا معاوضہ 5 لاکھ روبل يا ڈالر ديا گيا ۔ ان منصوبوں ميں يگانگت يہ ہے کہ ان کا حدف صرف مسلم ممالک تھے جن ميں ہمارے مُلک [پہلے ہندوستان اور پھر پاکستان] کو ترجیح دی گئی

کچھ پرانے واقعات

پاکستان بننے کے بعد ايک لطيفہ مشہور کيا گيا کہ انگريزوں نے کچھ کشميری جوان فوج ميں بھرتی کر لئے ۔ جب اُنہيں بندوقيں دی گئیں تو اُنہوں نے کہا “تُپے رکھدا سُو ٹھُس کردا سُو” [اسے دھوپ ميں رکھو خود ہی چلے گی] يعنی کشميری اتنے بزدل ہوتے ہيں ۔ حقيقت يہ تھی کہ کشميريوں نے بغير کسی کی مدد کے ستمبر اکتوبر 1947ء ميں گلگت بلتستان وغيرہ آزاد کرا ليا تھا اور پرانے ہتھياروں کو استعمال کر کے منظم بھارتی فوج سے لڑ کر جنوری 1948ء تک وہ علاقہ جسے آزاد جموں کشمير کہا جاتا ہے بھی آزاد کرا ليا تھا

پاکستان کے پہلے وزيرِ اعظم نوابزادہ لياقت علی خان کی بيوی بيگم رعنا لياقت علی کے متعلق مشہور کيا گيا کہ ہندو ہے ۔ نوابزادہ لياقت علی خان کے قتل کے بعد جب لوگوں نے اپنی آنکھوں سے بيگم رعنا لياقت علی کو قرآن شريف کی تلاوت کرتے ديکھا تو پشيمان ہوئے

قائد اعظم محمد علی جناح کے متعلق کئی بار مشہور کيا جا چکا ہے کہ وہ اچھے مسلمان نہيں تھے جبکہ قائد اعظم نے بارہا اپنی تقريروں ميں دين اسلام اور اس پر عمل کی بات کی اور اُن کے قريب رہنے والے شہادت دے چکے ہيں کہ اُنہوں نے قائد اعظم کو نماز پڑھتے اور مصلے پر دعا کے دوران آنسو بہاتے ديکھا تھا

نوابزادہ لياقت علی خان امريکا کی دعوت پر امريکا گئے ۔ اُن کے واپس آنے پر مشہور کر ديا گيا کہ وہ امريکا کے دستِ نگر بن گئے ہيں ۔ کئی سال بعد سرکاری ريکارڈ سے ظاہر ہوا کہ امريکا نے بُلايا تو اپنی تابعداری کيلئے تھا مگر نوابزادہ لياقت علی خان نے کہا ” ہم ايک خود مُختار رياست ہيں”۔ اور يہی بات اُن کے قتل کا سبب بنی

جب جنرل ايوب خان نے امير محمد خان نواب کالا باغ کو پنجاب کا گورنر بنايا تو مشہور کيا گيا کہ امير محمد خان قاتل اور غُنڈا ہے ۔ حقيقت يہ ہے کہ امير محمد خان صرف ايک روپيہ ماہانہ تنخواہ ليتے تھے ۔ اپنے بيوی بچوں کو کبھی گورنر ہاؤس ميں نہيں رکھا ۔ اُن کا کھانا اُن کے گھر سے آتا تھا ۔ اپنا بستر بھی وہ اپنے گھر سے لائے ہوئے تھے ۔ جب وہ گورنر تھے تو اُن کے دو بيٹے لاہور ميں پڑھ رہے تھے جو کرائے کے مکان ميں کچھ اور لڑکوں کے ساتھ رہتے تھے روزانہ اپنے بائيساکلوں پر کالج جاتے تھے ۔ ايک دن چھوٹا بيٹا جو لاء کالج ميں پڑھتا تھا کا بائيسائکل خراب تھا تو صبح سويرے پيدل کالج جا رہا تھا کہ چڑيا گھر کے قريب گورنر کی سرکاری کار آ کر رُکی ۔ ڈرائيور نے حال احوال پوچھا اور کہا “ميں سيکريٹريٹ جا رہا ہوں ۔ بيٹھ جائيں راستہ ميں اُتر جانا “۔ وہ بيٹھ گيا ۔ دو دن بعد گورنر امير محمد خان نے بُلا بھيجا ۔ وہ گيا تو اُسے باپ نے بہت ڈانٹا

ايک بزرگ ريٹائرڈ اعلٰی اہلکار نے مجھے بتايا تھا کہ ايک نيک بزرگ لاہور ميں فوت ہو گئے ۔ اُن کی وصيت تھی کہ نمازِ جنازہ وہ پڑھائے جس نے کبھی نماز قضا نہ کی ہو ۔ بڑے بڑے مسلمان جنازہ پڑھنے آئے ہوئے تھے سب خاموش سر جھکائے کھڑے تھے پانچ سات منٹ بعد امير محمد خان جو پچھلی صفوں ميں کھڑے تھے آہستہ آہستہ چلتے ہوئے آگے آئے اور نمازِ جنازہ پڑھائی ۔ کوئی ليڈی ڈاکٹر ميانوالی ميں تعينات ہونا پسند نہ کرتی تھی ۔ ايک ليڈی ڈاکٹر وہاں تعينات کی گئی ۔ وہاں ايک عورت کا غلط معائنہ سرٹيفيکيٹ مانگا گيا جو اُس نے نہ ديا ۔ دوسرے دن وہ اغواء ہو گئی ۔ اُس کے خاوند نے گورنر کو درخواست دی اور بتايا کہ ڈاکٹر کو نيو خان بس سروس کی بس پر ليجايا گيا تھا جس پر گورنر کے حُکم سے نيو خان کی تمام بسیں جہاں جہاں تھیں روک دی گئيں ۔ يہ بسيں ايک بہت بڑے شخص کے خاندان کی بسيں تھيں جس کی بيٹی گورنر کی بہو تھی ۔ تين دن بعد ڈاکٹر بحفاظت اُس کے گھر پہنچا دی گئی

جب ذوالفقار علی بھٹو وزير اعظم بنے تو چوہدری فضل الٰہی صاحب کو صدر بنايا گيا ۔ اُن کے متعلق ايک لطيفہ مشہور ہوا کہ وزير اعظم دساور سے وطن واپس آ رہے تھے تو صدر نے اپنے سيکريٹری سے کہا “بھٹو صاحب آ رہے ہيں ۔ اُن کا استقبال کرنے ايئر پورٹ چليں” ۔ سيکريٹری نے کہا “سر ۔ آپ صدر ہيں ۔ صدر وزير اعظم کا استقبال کرنے نہيں جاتے”۔ تو چوہدری فضل الٰہی صاحب نے کہا ” مياں ۔ اچھی طرح پتہ کر لو ۔ کہيں مروا نہ دينا”
مطلب يہ کہ چوہدری فضل الٰہی صاحب صدارت کے اوصاف سے ناواقف اور بزدل تھے ۔ مگر جب ريٹائرڈ جنرل ٹکا خان کی تجويز کہ” دو تين لاکھ لوگ مار ديئے جائيں تو پھر بھٹو کی کوئی مخالفت نہ کرے گا” بھٹو صاحب نے منظور کر کے صدر صاحب کو دستخط کليئے بھيجی تو چوہدری فضل الٰہی صاحب نے بھٹو اور اُن کے ساتھوں کو قيد کروا ديا ۔ اس طرح اُن کی حکومت جاتی رہی [اسے ضياء الحق کا مارشل لاء کہا جاتا ہے ۔ يہ لمبی کہانی ہے ميں نے صرف نتيجہ لکھ ديا ہے]