Category Archives: روز و شب

ماشاء اللہ رونق ہی رونق

گھر آئے ہمارے پرديسی ۔ پياس بُجھی ہماری اکھيوں کی

ميرا بڑا بيٹا زکريا ۔ بڑی بہو بيٹی اور پونے سات سالہ پياری پوتی 7 جون کو اٹلانٹا ۔ جارجيا ۔ امريکہ سے روانہ ہو کر 8 جون کو دبئی ميرے چھوٹے بيٹے کے پاس پہنچے اور 4 دن اُس کے ساتھ رہ کر گذشتہ کل اللہ کے فضل و کرم سے اسلام آباد ہمارے پاس پہنچ گئے ہيں ۔ ماشاء اللہ گھر ميں رونق ہی رونق ہے ۔ الحمدللہ

تينوں اکٹھے پچھلی دفعہ اکتوبر 2008ء ميں آئے تھے ۔ اُس کے بعد بہو بيٹی پچھلے سال وسط ميں اکيلی چکر لگا گئی تھی ۔ زکريا ميرے حادثہ ميں زخمی ہونے کے بعد اکتوبر 2010ء ميں آيا اور الحمدللہ 2 ہفتے دن رات ميری خدمت کرتا رہا ۔ اپنی پياری پوتی سے اکتوبر 2008ء کے بعد اب ملاقات ہوئی ہے ۔ وہ بھی بہت خوش ہے بالخصوص دادا اور دادی سے مل کر کيونکہ اُس کی پھوپھو [ميری بيٹی] تو اسی سال دسمبر جنوری مين اُن کے پا 3 ہفتے رہ کر آئی تھی ۔ 3 جولائی کو ان کی واپسی ہے ۔ اس کے بعد پھر ۔ ۔ ۔

ميں نے 1999ء ميں جب امريکا کے ويزہ کيلئے درخوست دی تو بڑے احترام کے ساتھ مجھے ويزہ ديا گيا تھا ۔ پھنائن اليون آيا چکا تھا اور 2004ء ميں ميں نے اور ميری بيوی نے ويزہ کيلئے درخواستيں ديں ۔ تو نہ ديا گيا کہ پاکستان آرڈننس فيکٹريز ميں کام کرتا تھا ۔ 2010ء ميں پھر ہم نے ويزہ کيلئے درخواستيں دين اور پھر اُسی وجہ سے نہ ديا گيا ۔ چنانچہ ہم تو اب جا نہيں سکتے وہی 3 سال بعد آيا کريں گے

پيپلز پارٹی اور پاکستان

يہ حقيقت تو سب کے عِلم ميں ہو گی کہ جب پاکستان پر پيپلز پارٹی کے لوگ حکمران ہوتے ہيں تو وہ پاکستان کی حکومت نہيں ہوتی بلکہ پيپلز پارٹی کی حکومت ہوتی ہے ۔ اسلئے وہ سارے کام پاکستان کی بجائے پيپلز پارٹی کيلئے کرتی ہے

پيپلز پارٹی کا جو بھی رہنما وزير اعظم بنے يا صدر بنے ۔ ذوالفقار علی بھٹو ہو يا بينظير ہو يا آصف علی زرداری ہو يا يوسف رضا گيلانی ہو وہ جب بھی بولے گا کبھی نہيں کہے گا پاکستان کی حکومت بلکہ کہے گا پيپلز پارٹی کی حکومت

قائد اعظم محمد علی جناح اور ہمارے ملک پاکستان سے پيپلز پارٹی کتنی محبت رکھتی ہے اس کا ايک ثبوت حال ہی ميں شائع کر چکا ہوں ۔ اب ايک اور

سانحہ کراچی ۔ سرکاری کاروائی يا ہيرہ پھيری ۔ اہم سوالات

کراچی میں نہتے نوجوان کو سرعام گولیاں مار کر ہلاک کرنے کے واقعہ میں ملوث صرف 2 اہلکاروں کو مقدمے میں گرفتار کیا گیا ہے۔ دیگر کردار کہاں گئے ؟
جبکہ عبداللہ شاہ غازی رینجرز کے 6 اہلکاروں کے علاوہ بھی پولیس اہلکار اور ان کے مخبر سمیت کئی اہم کردار اس بہیمانہ واردات میں ملوث ہیں ۔کون کس کو بچانے کی کوشش کر رہا ہے؟

پہلی ایف آئی آر کے مطابق مقتول سرفراز مبینہ طور پر سی آئی ڈی پولیس کے اہلکار عالم زیب اور اس کی فیملی کو لوٹ رہا تھا۔ ایسے میں افسر خان مدعی کیوں بنا؟
اس کارروائی کا اہم کردار سی آئی ڈی اہلکار عالم زیب تمام سرکاری کارروائی میں کہیں بھی شامل کیوں نہیں ؟
نوجوان کو جعلی مقابلے میں رینجرز اہلکاروں نے قتل کیا۔ اس اہم کارروائی کا مدعی افسر خان ہی کیوں بنا ؟
واقعہ کے بعد سے افسر خان کہاں چلا گیا ؟
نوجوان کو بہیمانہ طریقے سے بالوں سے پکڑ کر لانے کے بعد رینجرز اہلکاروں کے حوالے کرنے اور اسے مارنے کے لئے اُکسانے کے بعد واقعہ کی جھوٹی ایف آئی آر درج کرنے والے اس اہم کردار کے خلاف اب تک کوئی کارروائی سامنے کيوں نہیں لائی گئی ؟

سرفراز شاہ نہ اپنی پستول کے نقلی ہونے کا واویلا کرتا رہا اور نہ ہی اس نے فائرنگ کی ایسے میں مقابلے کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیسے کرلیا گیا ؟
اگر سرفراز کے پاس کھلونا پستول تھی تو پھر زیر دفعہ 13 ڈی اصلی پستول کی برآمدگی کا مقدمہ کیسے درج ہوا ؟
بوٹ بیسن تھانے کے ڈیوٹی افسر سب انسپکٹر ذوالفقار علی کو اصلی پستول کس نے فراہم کی ؟
سب کچھ جانتے ہوئے پولیس اس واقعہ میں فریق کیوں بنی ؟
وڈیو فلم میں سرفراز کو قتل کرنے میں تمام رینجرز اہلکار پیش پیش دکھائی دے رہے ہیں ۔ ایسے میں تمام 6 اہلکاروں کو پولیس کے حوالے کیوں نہیں کیا گیا ؟
جعلی ايف آر کے مطابق لُٹنے والا پولیس اہلکار ہے ۔ سامنے تھانہ ہونے کے باوجود سرفراز کو پولیس کی بجائے رینجرز کے حوالے کیوں کیا گیا ؟
اس سانحہ کے چند ذمہ داروں کو تو شاید سزا مل جائے مگر کیا عوامی خدمت اور حفاظت پر مامور ان فورسز کے اہلکاروں کی انسانیت دشمن تربیت اور مجرمانہ کردار کے ذمے دار افسران کی بھی پکڑ ہوگی ؟

ابھی تو معاملہ گرم ہے اور میڈیا کے ساتھ ساتھ پوری قوم کی نظریں اس کیس پر ہیں ۔ ایسے میں پُراسرار کرداروں کی متذکرہ بالا قانونی چالبازیاں اس گھناوٴنی واردات کے کچھ کرداروں کو بچانے کے لئے سرگرم نظر آرہی ہیں

بشکريہ ۔ افضل ندیم ڈوگر۔ نمائندہ جنگ

وطن ۔ معاشرہ ۔ اور دہشتگردی

ميرا دماغ سُن ہے ۔ پچھلی 2 راتيں سو نہيں سکا ۔ سوچ سوچ کر درد سے سر پھٹا جا رہا ہے ۔ ميرے رب ۔ يہ زمين کيوں نہيں پھٹ جاتی ؟ کيا قيامت آنے سے قبل اس سے زيادہ بھی کچھ ديکھنا باقی ہے ؟

اخروٹ آباد ميں 2 مردوں اور 3 عورتوں جن ميں ايک 7 ماہ کی حاملہ تھی کے محافظينِ عوام کے ہاتھوں بيہيمانہ قتل کی ابتدائی تحقيقات بھی ابھی مکمل نہيں ہوئيں کہ کراچی کے پُر رونق علاقہ ميں ايک نوجوان کو عوام کے محافظين نے نہائت سفّاکی کے ساتھ قتل کر ديا ۔ ميں سوچتا ہوں کہ کلفٹن کا علاقہ جہاں آدھی رات تک گہما گہمی رہتی ہے وہاں مقتول ۔ 6 وردی والوں اور دلير کيمرہ والے کے علاوہ کوئی انسان موجود نہ تھا کہ اس بے بس نوجوان کی جان بچانے کی کوشش کرتا ؟ کيا ميرے سب ہموطن اپنے جسم کے علاوہ کچھ اور سوچنے کے اہل نہيں رہے ؟ اس لحاظ سے تو لاہوری قابلِ تحسين ہيں کہ اُنہوں نے ريمنڈ ڈيوس کو گھير کر پوليس کے حوالے کر ديا تھا ورنہ وہ دو جوانوں کو ہلاک کرنے کے بعد بھاگ گيا ہوتا

اگر کوئی فرد يا ادارہ برائی پھيلاتا ہے تو اس کا يہ مطلب نہ لينا چاہيئے کہ جو کام وہ اچھا کرے اُسے بھی بُرا سمجھ کر اس کی تعريف نہ کی جائے ۔ ہمارے مُلک کے ذرائع ابلاغ بلاشبہ بُرائيوں کے فروغ ميں ممد رہے ہيں مگر دورِ حاضر ميں لائقِ تحسين ہے اِن کا ايک کردار کہ صحافی اپنی جانوں کو خطرہ ميں ڈال کر اور اپنی جانوں کی قربانی دے کر اپنے مُلک کے بے سُدھ عوام کو حقائق تک رسائی دے کر نيند يا نشہ سے جنجوڑنے کی ارادی يا غير ارادی کوشش کر رہے ہيں

ميں پچھلی 4 دہائيوں سے ديکھتا آ رہا ہوں کہ ميرے ہموطنوں کی اکثريت اُسے دہشتگرد کہتی ہے جسے امريکا دہشتگرد کہے ۔ نہ کوئی تاريخ ميں دلچسپی رکھتا ہے اور نہ حقيقت کی جُستجُو کہيں نظر آتی ہے ۔ معاشرہ خود غرضی کی پٹڑی پر چڑھ چکا ہے ۔ بُغظ اور تعصب کی عينک پہن رکھی ہے ۔ دو ٹکے زيادہ کما ليتے ہينں تو سمجھتے ہيں کہ انسان بن گئے ۔ انسان بننے کے تقاضے کيا ہيں ؟ اس سے اُنہيں کوئی دلچسپی نہيں ہے ۔ صرف زبانی بيان بازی کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنا کر پھولے نہيں سماتے ۔ اگر طالبان ۔ القاعدہ ۔ مُلا اور ہر مسجد ميں جانے والے کو گالياں اور بد دعائيں دينے کی بجائے موجودہ حالات کے سبب کی تلاش کرتے تو شايد ہمارا مُلک ان حالات سے دو چار نہ ہوتا جيسا اب ہے ۔ کسی نے اتنا بھی سوچنے کی زحمت نہ کی کہ صرف 8 سال قبل ايسا کچھ نہ تھا تو پھر يہ حالات کيونکر پيدا ہوئے کہ انسانی بم انسانوں کی موت کا سبب بننے لگے ؟

سُنا اور پڑھا بھی يہی تھا کہ عِلم آدمی کو انسان بناتا ہے اور عِلم کی ضد آدمی کو وحشی ۔ اللہ کے فرمان اور اس کی نبيوں عليہم السلام کے ذريعہ مہياء کی گئی عملی تربيت سے معلوم ہوا کہ صرف عِلم نہيں بلکہ عِلمِ نافع آدمی کو انسان بناتا ہے ورنہ عِلم آدمی کو درندہ بنا سکتا ہے ۔ اس فلسفہ کی شايد سمجھ نہ آتی اگر ميں دورِ حاضر سے قبل ہی اس دنيا سے چلا جاتا

پچھلے چند ہفتوں ميں منظرِ عام پر آنے والے اخروٹ آباد اور کراچی کے واقعات کو ذہن ميں رکھ کر بلوچستان ۔ مالاکنڈ ۔ سوات اور باجوڑ وغيرہ پر غور کيا جائے تو ايک واضح تصوير سامنے آتی ہے کہ دہشتگرد کيسے اور کيونکر پيدا ہوئے ؟ اگر ايک کمسِن لڑکے کے ماں باپ اور بہن بھائی گھر ميں بيٹھے يا سوئے ہوئے اچانک کسی فوجی کاروائی يا ڈرون سے پھينکے گئے مزائل کے نتيجہ ميں ہلاک ہو جائيں تو کيا وہ بچہ پھولوں کے ہار لے کر دوسروں کو پہنانے جائے گا يا پہلا موقع ملتے ہی جس کسی کو دشمن سمجھے گا ہلاک کر دے گا خواہ اس کيلئے اُسے اپنے جسم کو ہی بم بنانا پڑے ؟

صرف حکومت کو بُرا کہنے سے کوئی آدمی بری الذمہ نہيں ہو جاتا ۔ گو ہمارے ہاں رواج ہو گيا ہے کہ حکومت ميں شامل ہوتے ہوئے عوام کو بيوقوف بنانے کيلئے ذرائع ابلاغ کے سامنے تقارير کی جاتی ہيں کہ “ہم حکومت سے مطالبہ کرتے ہيں ۔ يہ وہ يہ ۔ وغيرہ”۔ [My Foot] ۔ جس عمل کا مطالبہ عوام کے سامنے کرتے ہيں وہ اگر حکومت ميں ہوتے ہوئے پورا نہيں کر سکتے تو حکومت ميں کس لئے شامل ہيں ؟ وزاتيں چھوڑيں اور حزبِ اختلاف ميں شامل ہو کر مطالبات کريں

درست کہ 3 کروڑ 70 لاکھ جعلی ووٹوں کا اندراج کر کے پرويز مشرف نے کيو ليگ ۔ پی پی پی اور ايم کيو ايم کو زيادہ نشستيں حاصل کرنے کے قابل بنايا ۔ [ن ليگ ميرے چچا کی نہيں ہے ۔ وہ ان دنوں زيرِ عتاب تھی] مگر سب لوگ تو جعلی ووٹوں سے کامياب نہيں ہوئے ہونگے ۔ جن اصلی ووٹروں نے کامياب ہونے والے حکمرانوں کو ووٹ ديئے وہ بھی موجودہ حالات کے ذمہ دار ہيں ۔ بات صرف اتنی نہيں ہے ۔ جن ووٹروں نے ووٹ ڈالنے کی زحمت گوارہ نہيں کی وہ سب سے بڑے مجرم ہيں موجودہ حالات کے کيونکہ وہ اکثريت ميں ہيں

حکومت اور انتخابِ حکومت کے علاوہ بھی تو عوام کے روز مرّرہ کے فرائض ہيں مگر حالت يہ ہے کہ اپنے جائز حقوق اور ناجائز خواہشات حاصل کرنے کيلئے ناجائز ذرائع کو درست سمجھا جاتا ہے مگر دوسرے کے حق کو نہ صرف نظر انداز کيا جاتا ہے بلکہ دوسرے کا حق چھيننے کو ہوشياری اور عقلمندی [Tactfulnees & wisdom] کا نام ديا جاتا ہے ۔ معاشرے ميں بے حِسی اس قدر بڑھ چکی ہے کہ سامنے ايک آدمی ظلم کا شکار ہو رہا ہو تو اُسے بچانے کی بجائے کھڑے ہو کر اس ظُلم سے محظوظ ہونے کی کوشش کی جاتی ہے ۔ ايسی بھيڑ ميں کچھ لوگ ٹھٹھا کرتے بھی ديکھے جاتے ہيں ۔ دوسری طرف حالت يہ ہے کہ ذرا ذرا سی بات پر ايک تا ايک درجن بسيں جلا دی جاتی ہيں اور دوسری املاک کو بھی نقصان پہنچايا جاتا ہے ۔ مگر دعوے انسان دوستی اور حق پرستی کے کئے جاتے ہيں

يا ميرے مالک و خالق ۔ اے مجھ پر ہميشہ اپنا کرم کرنے والے ميرے اللہ ۔ قبل اس کے کہ ميں ايسے خبيث معاشرے کا حصہ بن جاؤں مجھے اس دنيا سے اُٹھا لينا

تُو رحيم و کريم ہے مگر تيرے جہاں ميں
ہيں تلخ بہت تيرے غلاموں کے اوقات

ہينگ لگے نہ پھٹکری ۔ رنگ چوکھا آوے

ميں نہيں جانتا ہينگ اور پھٹکری سے رنگ کا کيا تعلق ہے ؟ يہ محاورہ ميں نے مڈل سکول ميں پڑھا تھا ۔ مطلب جو ميری سمجھ ميں آيا يہ تھا کہ جيب سے کچھ خرچ نہ ہو پھر بھی فائدہ

ہاں جناب ۔ ايک ايسا عمل ہے جس کے سبب آدمی کا نہ تو کچھ خرچ ہوتا ہے اور نہ ہی کبھی نقصان ہوتا ہے مگر فائدہ ہونے کی توقع ہوتی ہے اور عام طور پر فائدہ ہوتا ہے

سکول و کالج کے زمانہ ميں ہمارے اساتذہ پڑھانے کے علاوہ کبھی کبھی خاص طور پر وقت نکال کر ہماری کردار سازی بھی غيرمحسوس طريقہ سے کيا کرتے تھے ۔ ہم آٹھويں جماعت ميں پڑھتے تھے کہ ايک استاذ صاحب نے کہا

“ديکھو ۔ اگر کسی کے ساتھ اچھا سلوک کيا جائے تو نقصان تو کچھ نہيں ہوتا مگر فائدہ ہو سکتا ہے ۔ جب کسی سے مليں تو السلام عليکم کہيں ۔ پھر اپنا مدعا بيان کريں ۔ اپنے کسی بہترين اور بے تکلف دوست سے بھی کوئی مدد لينا ہو تو از راہِ کرم يا برائے مہربانی کہہ کر بات شروع کريں اور کام ہو جانے پر شکريہ ادا کريں”

يہ بات ميں نے پلے باندھ لی اور ساری عمر اس کے بے انداز پھل سے مستفيد ہوتا رہا ہوں اور اِن شاء اللہ آخر دم تک ہوتا رہوں گا
ميں سبزی يا پھل يا گوشت يا دال يا کپڑے ۔ کچھ بھی خريدنے جاؤں
بيچنے والا دکاندار ہو يا خوانچہ والا
اُس کے کپڑے صاف ستھرے ہوں يا پھٹے پرانے
پہلے ميں “السلام عليکم” کہتا ہوں
اگر کوئی چيز پکڑ کر ديکھنا ہو تو بيچنے والے سے اس کی اجازت مؤدبانہ طريقہ سے ليتا ہوں
جب وہ تول يا ناپ کر مجھے چيز ديتا ہے تو اس کا شکريہ ادا کرتا ہوں
اگر کوئی ميری مدد کی کوشش کرے مگر کر نہ سکے پھر بھی ميں اُس کا شکريہ ادا کرتا ہوں

ميرا يہ مشاہدہ ہے کہ سوائے معمولی استثناء کے اللہ کی مہربانی اور ميرے اس رويّے کی وجہ سے مجھے فائدہ ہوتا رہتا ہے

سوچا تھا ۔ ۔ ۔

يہ پرانے زمانے کی نظم ہے جو موجودہ دور ميں ميرے حال کو بيان کرتی محسوس ہوئی سو نقل کر رہا ہوں ۔ يہ نظم ميری ڈائری ميں شاعر کے نام کے بغير لکھی ہوئی ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ لکھنے والا اُس دور کا معروف شاعر ہو گا ۔ 28 ستمبر 2010ء کے حادثہ کے اثرات کے تحت ابھی تک ميرا حافظہ درست کام نہيں نہيں کر رہا اسلئے شاعر کا نام ياد کرنے ميں ناکام رہا ہوں ۔ اگر کسی قاری کو شاعر کا نام معلوم ہو تو مستفيد فرمائے

کبھی کبھی مرے دل ميں خيال آتا ہے
کہ زندگی تری زُلفوں کی نرم چھاؤں ميں ۔ ۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ گزرنے پاتی تو شاداب ہو بھی سکتی تھی
يہ تيرگی جو مری زيست کا مُقدّر ہے ۔ ۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تری نظر کی شعاعوں ميں کھو بھی سکتی تھی

عجب نہ تھا کہ ميں بيگانہءِ اَلَم ہو کر ۔ ۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ترے جمال کی رعنائيوں ميں کھو رہتا
ترا گداز بدن، تيری نيم باز آنکھيں ۔ ۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ انہيں حسين فسانوں ميں محو ہو رہتا

پکارتيں مجھے جب تَلخِياں زمانے کی ۔ ۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ترے لَبوں سے حلاوت کے گھونٹ پی ليتا
حيات چيختی پھرتی برہنہ سر اور ميں ۔ ۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ گھنيری زلفوں کے سائے ميں چھپ کے جی ليتا

مگر يہ ہو نہ سکا

مگر يہ ہو نہ سکا اور اب يہ عالم ہے ۔ ۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کہ تو نہيں ترا غم، تری جستجو بھی نہيں
گزر رہی ہے کچھ اس طرح زندگی جيسے ۔ ۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اسے کسی کے سہارے کی آرزو بھی نہيں

زمانے بھر کے دُکھوں کو لگا چکا ہوں گلے ۔ ۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ گزر رہا ہوں کچھ انجانی راہ گزروں سے
مہيب سائے مری سمت بڑھتے آتے ہيں ۔ ۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ حيات و موت کے پُرہول خارزاروں ميں

نہ کوئی جادہءِ منزل نہ روشنی کا سُراغ ۔ ۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بھٹک رہی ہے خلاؤں ميں زندگی ميری
انہی خلاؤں ميں ره جاؤں گا کبھی کھو کر ۔ ۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ميں جانتا ہوں مری ہم نفس مگر يونہی
کبھی کبھی مرے دل ميں خيال آتا ہے

مُشرف ۔ جمالی اور ڈاکٹر عبدالقدير خان

بُشرف ميرے مُلک کا کمانڈو
نظر ميں اُس کی پاکستان تِنکا
کولن پاول نے کيا جو ٹيليفون
گيلی ہو گئی تھی اسکی پتلون
اور وہ زميں پر اَوندھا گر پڑا تھا

بيلسٹک مزائل “غوری ۔ 1” جس کی [range] مار 1500 کلو ميٹر تھی کی تجرباتی پرواز 6 اپريل 1998ء کو ہوئی تھی ۔ اُن دنوں ليفٹنٹ جنرل پرويز مشرف کور کمانڈر منگلا تعينات تھا ۔ اُسے شرکت کی دعوت دی گئی ۔ وہ آيا [نشے ميں دھت تھا] تو ڈاکٹر عبدالقدير خان نے اُسے کہا “ہم قرآن شريف کی آيات کی تلاوت کر رہے ہيں ۔ مکہ مکرمہ ميں حج ادا کيا جا رہا ہے اور آپ کس حال ميں يہاں آ گئے ہيں ؟”

بعد ميں نواز شريف نے پرويز مشرف کو جنرل بنا کر فوج کا سربراہ بنا ديا
12 اکتوبر 1999ء کو جنرل پرويز مشرف نواز شريف کی جمہوری حکومت کو ختم کر کے خود حکمران بن بيٹھا

مئی 2000ء ميں جب دُور مار [Long range] ميزائل “غوری ۔ 3″ پر 50 فيصد کام مکمل ہو چکا تھا تو
جنرل پرويز مشرف نے ڈاکٹر عبدالقدير خان سے کہا ” تُم اسرائيل کو تباہ کرنا چاہتے ہو ؟”
اور کے آر ايل کے فنڈز منجمد کر ديئے جس سے سارا کام بند ہو گيا

جنوری 2004ء ميں پرويز مشرف نے ڈاکٹر عبدالقدير خان سے تمام اختيارات واپس لے لئے اور اسے مع 7 يا 11 دوسرے انجنيئروں کے جن ميں کے آر ايل کے علاوہ پاکستان اٹامک انرجی کميشن کے سلطان بشيرالدين محمود سميت کچھ اور لوگ بھی تھے زيرِ حراست کر ديا گيا

فروری 2004ء ميں پرويز مشرف نے ڈاکٹر عبدالقدير خان کو ٹی وی پر اقبال جُرم کا ايک بيان پڑھنے پر مجبور کيا

بعد ميں ايک سی ۔ 130 ہوائی جہاز تيار کيا گيا جس پر ڈاکٹر عبدالقدير خان کو امريکا کے حوالے کرنا تھا ۔ اس حوالگی کے حُکمنامہ پر اس وقت کے وزير اعظم مير ظفر اللہ جمالی صاحب نے دستخط کرنے سے انکار کر ديا جس سے ڈاکٹر عبدالقدير خان تو بچ گئے مگر پرويز مشرف اور مير ظفر اللہ جمالی صاحب کے درميان بھی اختلاف پيدا ہو گيا ۔ اختلافات بڑھتے گئے ۔ ان اختلافات اور امريکا کے دباؤ کے تحت پرويز مشرف نے اپنے ہی منتخب کردہ وزيرِ اعظم مير ظفر اللہ جمالی کو 26 جون 2004ء کو وزارتِ عظمٰی سے ہٹا ديا

يہ ايک معمولی سی جھلک ہے کاغذ کے بے شمار ٹکڑوں پر ڈاکٹر عبدالقدير خان کی اپنے قلم سے تحرير اپنی يادداشتوں کی جسے ايک لکھاری عبدالجبار مرزا نے مجتمع کر کے 28 مئی 2011ء کو يومِ تکبير کے موقع پر ايک کتاب کی صورت ميں شائع کيا ہے
حوالہ يہاں اور يہاں ہے