Category Archives: روز و شب

دعوے اور حقیقت

سندھ حکومت بالخصوص کراچی والوں کا سدا یہ دعوٰی رہا ہے کہ سندھ آمدن زیادہ کر کے دیتا ہے اسلئے اسے اپنی پوری آمدن اخراجات کیلئے دی جائے ۔ سندھ حکومت اور کراچی والوں کا یہ بھی دعوٰی رہا ہے کہ پنجاب کو اس کی آمدن سے زیادہ حصہ دیا جاتا ہے یعنی جو سندھ کماتا ہے اس میں سے پنجاب کو دیا جاتا ہے

قدرت کا اصول ہے کہ نہ جھوٹ زیادہ دیر چلتا ہے اور نہ سچ زیادہ دیر چھُپا رہتا ہے ۔ وفاقی حکومت نے پچھلے مالی سال (یکم جولائی 2011ء تا 30 جون 2012ء) کے اعداد و شمار شائع کئے ہیں جن کا خلاصہ یہ ہے ۔ غور سے دیکھ لیجئے کہ مظلوم کون ہے اور مظلومیت کے نعرے کون لگاتا ہے ۔ خیال رہے کہ وفاقی حکومت اُنہی سیاسی جماعتوں پر مُشتمل ہے جو سندھ خیبر پختونخوا اور بلوچستان پر حکمران ہیں

۔ ۔ ۔ ۔ تفصیل ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ پنجاب ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ سندھ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ خیبر پختونخوا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بلوچستان
کُل ریوینیو وصولی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 5 کھرب 93 ارب ۔ ۔ 3 کھرب 88 ارب ۔ ۔ 2 کھرب 22 ارب ۔ ۔ 1 کھرب 51 ارب
مقررہ قابلِ تقسیم ریوینیو ۔ ۔ ۔ ۔ 5 کھرب 8 ارب ۔ ۔ ۔2کھرب 38 ارب ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 3 ارب ۔ ۔ ۔ ۔
ریوینیو جو صوبے کے پاس رہا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 85 ارب ۔ ۔ ۔ 1 کھرب 50 ارب ۔ ۔ 2 کھرب 19 ارب ۔ ۔ 1 کھرب 51 ارب
ٹیکس ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 42 ارب ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 60 ارب ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 42 ارب
اخراجات کیلئے جو بچا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 1 کھرب 27 ارب ۔ ۔ ۔ 2 کھرب 10 ارب ۔ ۔ 2 کھرب 25 ارب ۔ ۔ 1 کھرب 93 ارب
خسارہ جو صوبے نے ظاہر کیا۔ ۔ ۔ ۔ 8.9 ارب ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 28 ارب ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 3 ارب ۔ ۔ ۔
‘ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
سال کے کُل اخراجات ۔ ۔ ۔ 1 کھرب 35.9 ارب ۔ ۔ 2 کھرب 38 ارب ۔ ۔ ۔ 2 کھرب 28 ارب ۔ ۔ 1 کھرب 93 ارب

غور کیجئے ۔ ۔ ۔
آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑا صوبہ پنجاب ہے ۔ پھر سندھ ۔ پھر خیبر پختونخوا ۔ پھر بلوچستان ۔ پنجاب کی آبادی مُلک کی آبادی کا 65 فیصد ہے اور باقی 3 صوبوں کی کُل آبادی 35 فیصد ہے

پنجاب نے 5 کھرب 93 ارب روپیہ کما کر وفاقی حکومت کو دیا ۔ وفاقی حکومت نے اس میں سے 85 ارب روپیہ پنجاب کو دیا یعنی 12.33 فیصد
سندھ نے 3 کھرب 88 ارب کما کر وفاقی حکومت کو دیا ۔ وفاقی حکومت نے اس میں سے 1 کھرب 50 ارب روپیہ سندھ کو دیا یعنی 36.66 فیصد
خیبر پختونخوا نے 2 کھرب 22 ارب کما کر وفاقی حکومت کو دیا ۔ وفاقی حکومت نے اس میں سے 2 کھرب 19 ارب روپیہ خیبر پختونخوا کو دیا یعنی 98.65 فیصد
بلوچستان نے 1 کھرب 51 ارب کما کر وفاقی حکومت کو دیا ۔ وفاقی حکومت نے سارا یعنی 1 کھرب 51 ارب روپیہ بلوچستان کو دیا یعنی 100.00 فیصد

اس کے باوجود
پنجاب کا خسارہ 9 ارب روپیہ
سندھ کا خسارہ 28 ارب روپیہ
خیبر پختونخوا کا خسارہ 3 ارب روپیہ
اخراجات سب سے کم پنجاب نے کئے ۔ اس سے زیادہ بلوچستان نے ۔ اس سے زیادہ خیبر پختونخوا نے اور سب سے زیادہ سندھ نے
یعنی سندھ حکومت کے اخراجات پنجاب حکومت کے اخراجات سے 75.13 فیصد زیادہ ہوئے

آسان اور مشکل ؟

دنیا میں سب سے آسان کام

٭ ٭ ٭ ٭ ٭ ٭ ٭ ٭ ٭ دوسروں پر تنقید کرنا ہے

دنیا میں سب سے مشکل کام

٭ ٭ ٭ ٭ ٭ ٭ ٭ ٭ ٭ اپنی اصلاح کرنا ہے

اختیار ہر ایک کا اپنا اپنا ہے
غیر کو موردِ الزام ٹھہرانا ذاتی کمزوری ہے

میرا دوسرا بلاگ ” حقیقت اکثر تلخ ہوتی ہے ۔ Reality is often Bitter“۔

” پچھلے 8 سال سے معاشرے کے مختلف پہلوؤں پر تحاریر سے بھر پور چلا آ رہا ہے ۔ اور قاری سے صرف ایک کلِک کے فاصلہ پر ہے ۔ 2010ء ميں ورڈ پريس نے اسے 10 بہترين بلاگز ميں سے ايک قرار ديا تھا

رمشا مسیح مقدمہ ۔ امام مسجد گرفتار

تازہ ترین اطلاع کے مطابق کم عمر مسیحی لڑکی رمشا جو مقدس اوراق جلانے کا الزام میں گرفتار کی گئی تھی کے معاملے میں ملوث امام مسجد خالد جدون جو کیس درج کرانے کے بعد پراسرار طور پر لا پتہ ہو گیا تھا کو اب گرفتار کر کے آج اُسے ریمانڈکیلئے جوڈیشل مجسٹریٹ نصرمن اللہ بلوچ کی عدالت میں پیش کیا گیا ۔ عدالت نے گرفتار امام مسجد خالد جدون کو 14روز کے ریمانڈ پر اڈیالہ راولپنڈی جیل بھیج دیا گیا اور 16ستمبر کو دوبارہ عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا ہے

امام مسجد پر الزام ہے کہ اس نے رمشا کے خلاف کیس مضبوط کرنے کے لئے جلائے گئے اوراق کی راکھ میں خود سے قرآنی اوراق بھی شامل کئے تھے

دریں اثناء چیئرمین آل پاکستان علماء کونسل علامہ طاہر اشرفی نے ملک بھر کے علماء سے اس معاملے میں ملوث امام مسجد خالد جدون کو سزا دلانے کا مطالبہ کیا ہے جبکہ انہوں نے صدر پاکستان آصف علی زرداری سے بھی مطالبہ کیا کہ رمشا مسیح کی فوری رہائی کے ساتھ اسکی حفاظت کے بھی احکامات جاری کئے جائیں

بات جو نہیں لکھی

دو دن قبل میں نے جس تبدیلی کا ذکر کیا تھا وہ پاکستان پیپلز پارٹی کی شکل میں خُوبصورت اور پُرکشش وعدوں کے سہارے اُبھر رہی تھی ۔ وہ وعدے جو ایفاء کیلئے نہیں بلکہ عوام کو بیوقوف بنانے کیلئے تھے ۔ یہ ترکیب ہمارے مُلک کے حساب سے بہت کامیاب رہی اور عوام کی اکثریت اب تک بیوقوف بن رہے ہیں اور ہر دم بننے کو چوکس رہتے ہیں

میرے متذکرہ باس اُسی تبدیلی کا سہارا لے کر خُوب خُوب مزے لوٹتے رہے اور قوم و مُلک سے مُخلص محنتی افسروں کو مُشکل میں رکھنے کی پوری کوشش کرتے تھے تا کہ جی حضوریوں کا گروہ اُن کے گرد جمع رہے لیکن اللہ نے اپنا نظام وضع کر رکھا ہے ورنہ دُنیا کب کی تباہ ہو چُکی ہوتی ۔ درست کہ میری ترقیاں سالوں تاخیر سے ہوئیں پھر بھی مجھے 1987ء میں گریڈ 20 مل گیا تھا اور جب 3 اگست 1992ء کو 53 سال سے کم عمر میں میں اپنی مرضی سے ریٹائر ہوا تو میں گریڈ 20 کی تنخواہ کی آخری حد (Maximum of the Pay Scale) پر پہنچ چکا تھا ۔ اللہ کا فضل ہے کہ میں ریٹائرمنٹ کے بعد گھر بیٹھا تھا تو مجھے پہلے سے دوگنا سے زیادہ تنخواہ والی اور باعزت ملازمت مل گئی ۔ میں نے اپنی گریچوئٹی اور جی پی فنڈ سے سرمایہ کاری کر دی اور ملازمت شروع کر دی ۔ جو کچھ ریٹائرمنٹ کے بعد والی تنخواہ سے بھی بچتا رہا اُسے سرمایہ کاری میں لگاتا رہا ۔ 60 سال کی عمر کو پہنچا تو میرے چھوٹے بیٹے نے کہا “ابو ۔ اب میں کمانے لگ گیا ہوں ۔ آپ آرام کریں”۔ سو میں نے ملازمت ختم کر دی اور ہمہ تن گوش مطالعہ میں لگ گیا ۔ اللہ کے فضل سے میرے بچے بھی میرا ہاتھ بٹاتے رہتے ہیں اور آج تک اللہ کے کرم سے مزے میں ہوں

یا اللہ ۔ ۔ ۔

لکھنا تو تھا اپنی گذشتہ کل کی تحریر کا درمیانی نقطہ جو جان بوجھ کر چھوڑ دیا تھا کہ تبصرے متاءثر نہ ہوں لیکن خلافِ معمول اخبار کی سُرخیاں دیکھنے لگا تو نظر نیچے درج خبر پر اٹکی

پانچ سات سال قبل خبر پڑھی تھی کہ لاڑکانہ کا رہائشی ایک بی ایس سی انجنیئر اپنے گھر کی انتہائی مفلسی سے تنگ آ کر ڈاکو بن گیا تھا تو دل پر ایک گھاؤ لگا تھا
معزز قارئین نامعلوم کیا کہیں گے لیکن آج نیچے نقل کردہ خبر کو پڑھ کر میں اندر سے ہِل گیا ہوں اور میرا دھاڑیں مار کر رونے کو دل چا رہا ہے

یا میرے خالق و مالک میرے اللہ ۔ تو جانتا ہے کہ میں نے 1947ء میں جب میں بچہ تھا بہت بُرے دن دیکھے اور پھر نام نہاد عوامی دور (1973ء تا 1976ء) میں بھی بمشکل گھر کا خرچ چلایا لیکن بچانا مجھے اُس دن سے جب میں حالات کے سامنے مجبور کر دیا جاؤں ۔ اگر ایسا دن اٹل ہے تو اے رحمٰن و رحیم و کریم مجھ پر اپنا رحم و کرم کرتے ہوئے مجھے اُس دن سے پہلے موت دے دینا

خبر
ايس ايس پی سکھر پير محمد شاہ اور ڈی ايس پی لاڑکانہ محمد نديم نے سکھر ميں مشترکہ پريس کانفرنس کرتے ہوئے بتايا کہ ڈاکوؤں کا گروہ مغوی آفتاب احمد کو لاڑکانہ سے کہيں اور مُنتقل کررہا تھا کہ پوليس اور ڈاکوؤں کے درميان فائرنگ کا تبادلہ ہوا جس ميں ڈاکو غازی جاگيرانی ۔ اللہ رکھيو سيال اور اس کے ديگر ساتھی مارے گئے اور مغوی بازياب کرا ليا گیا ۔ پوليس کے مطابق مارا جانے والا ڈاکو غازی جاگيرانی پی ايچ ڈی (Ph.D) ڈاکٹر ہے

وفاداری ۔ کس سے ؟

زمانہ کیا بدلا طور طریقے بدل کے رہ گئے ۔ وفاداری کتے کی مشہور ہے لیکن بات ہے آدمی کی جو اشرف المخلوقات ہے ۔ واقعہ اُس زمانے کا ہے جب تبدیلی کی کونپل پھُوٹ چکی تھی یعنی تبدیلی کا نعرہ لگایا جا چکا تھا ۔ ایوب خان کے خلاف نعرہ لگا تھا اور کچھ نوجوانوں کو ” گرتی ہوئی دیواروں کو ایک دھکا اور دو” کہتے سُنا گیا

سن 1968ء میں میرے سپرد ایک نہائت اہم قومی پروجیکٹ تھا جس کی نشو و نما اور پیداوار کی منصوبہ بندی بہت کٹھن اور دماغ سوز کام تھا اس پر طرّہ یہ کہ سوائے اللہ کے میرا مددگار کوئی نہ تھا

میں اپنے دفتر میں بیٹھا اسی پروجیکٹ کے ایک اہم اور غور طلب جُزو کے لائحہ ءِ عمل پر غور و خوض میں غرق تھا کہ مجھے احساس ہوا کہ کوئی میرے سامنے آ بیٹھا ہے ۔ میں نے سر اُٹھا کر نظرِ غائر ڈالی تو یہ میرے باس تھے جن کا میں پہلے بھی ذکر کر چکا ہوں ۔ میرا ذہن ابھی فارغ نہ ہوا تھا کہ اُنہوں نے کچھ کہا جسے میرے مصروف دماغ نے کانوں میں گھُسنے نہ دیا ۔ میں باس کو تجسس بھری نظر سے دیکھنے لگ گیا ۔ وہ پھر بولے اور بات میرے کانوں میں داخل ہونے میں کامیاب ہو گئی ۔ اُنہوں نے کہا تھا

“Bhopal, You should be loyal to your officer

(بھوپال ۔ تمہیں اپنے افسر کا وفا دار ہونا چاہیئے)”

میری سوچ کے سامنے جیسے پہاڑ گر پڑا ۔ میں نے جیسے کرب میں سر اُٹھایا اور نحیف اور انکسار آمیز آواز میں کہا
” میں نے کوئی ایسی بات کہی ہے یا کوئی ایسا فعل کیا ہے جو آپ یہ کہہ رہے ہیں ؟”

باس نے کہا

“I am telling you, you should be loyal to your officer

(میں تمہیں بتا رہا ہوں کہ تمہیں اپنے افسر کا وفا دار ہونا چاہیئے)”

میری سوچ توبکھر ہی چُکی تھی جس نے میرے دل کو بوجھل کر دیا تھا ۔ لمحہ بھر توقف کے بعد میرے منہ سے یہ الفاظ نکلے

“First I am loyal to my religion Islam because it is the way of life laid down by the Creator, then I am Loyal to Pakistan because it is my country, then I am loyal to Pakistan Ordnance Factories because Allah has provided me livelihood through it, and I think you are fully covered in it. If not then I am sorry.

(اول میں اپنے دین اسلام کا وفادار ہوں کہ یہ لائحہءِ حیات خالق نے مقرر کیا ہے پھر میں پاکستان کا وفادار ہوں کہ یہ میرا مُلک ہے پھر میں پاکستان آرڈننس فیکٹریز کا وفادار ہوں کیونکہ اللہ نے مجھے روزگار اس کے ذریعہ دیا ہے اور میرا خیال ہے کہ آپ اس میں پوری طرح شامل ہیں ۔ اگر نہیں تو مجھے افسوس ہے)”۔

میرے باس یہ کہتے ہوئے میز پر مُکا مارا اور اُٹھ کر چلے گئے

” I say, you should be loyal to your officer

(میں کہتا ہوں کہ تمہیں اپنے افسر کا وفادار ہونا چاہیئے)”

نیا چاند ۔ حدیث ۔ سائنس اور ہمارے دعوے

ایک قابلِ اعتماد ویب سائٹ ہے جو سائنس کے اصولوں کے مطابق نظامِ شمسی کا مطالعہ اور حساب و قیاس (deductions / calculations) رکھتی ہے اور بتاتی ہے کہ کس علاقہ میں نیا چاند کب اور کتنا نظر آئے گا اور کس وقت اس کا کتنا حصہ نظر آئے گا ۔ میں اس کے نتائج کو کئی سالوں سے بار ہا دیکھتا اور پرکھتا آ رہا ہوں ۔ کئی بار اس کا موازنہ یا تصدیق دوسرے ایسے اداروں کے حسابات سے بھی کی اور اس کے جوابات کو درست پایا ۔ امسال بھی ہمیشہ کی طرح میں نے عید الفطر سے 4 روز قبل پاکستان کے بڑے شہروں کے علاوہ دہلی (بھارت)۔ ڈھاکہ (بنگلہ دیش)۔ جکارتہ (انڈونیشیا)۔ ٹوکیو (جاپان)۔ کابل (افغانستان)۔ تہران (ایران)۔ دبئی (متحدہ عرب امارات)۔ جدہ (سعودی عرب)۔ قاہرہ (مصر)۔ انقرہ (ترکی)۔ لندن (برطانیہ)۔ نیویارک (امریکہ)۔ اٹلانٹا جارجیا (امریکہ) میں صورتِ حال کا مطالعہ کیا اور مختصر نتیجہ میں نے عیدالفطر سے قبل شائع کر دیا

خاور کھوکھر صاحب جو جاپان میں رہتے ہیں نے 19 اگست کو لکھا کہ “یہاں آج عید ہے“۔ اس پر میں نے اسی وقت کمپوٹر چالو کیا اور متذکرہ ویب سائٹ کھولی ۔ وہاں 18 اگست 2012ء کیلئے اب بھی لکھا ہے
Waxing Crescent, 0% of the Moon is Illuminated (بڑھتے چاند کا صفر فیصد حصہ روشن ہے) مطلب یہ کہ چاند نظر نہیں آئے گا

سوال یہ ہے کہ جب جاپان میں 18 اگست 2012ء کو چاند کا وہ حصہ جو جاپان کی طرف ہے وہ پورے کا پورا اندھیرے میں ہے یعنی اس پر سورج کی روشنی پڑ ہی نہیں رہی تو جاپان میں کس نے اور کیسے چاند دیکھا ؟ جس کے نتیجہ میں عیدالفطر 19 اگست کو منائی

18 اگست 2012ء کو ہمارے ملک کی صورتِ حال یہ ہے کہ 18 اگست 2012ء کو پورے پاکستان کی طرف چاند کا وہ حصہ نہیں ہونا تھا جس پر اُس وقت سورج کی روشنی پڑ رہی چنانچہ 18 اگست کو تو چاند نظر نہیں آیا تھا ۔ اگلے روز جب چاند 3 فیصد نظر آیا تو وہ بھی 6 بج کر 55 منٹ پر غروب ہو گیا تھا ۔ تو رات ساڑھے 9 بجے کیسے صوبہ خیبر پختونخوا کی روئتِ ہلال کمیٹی نے اعلان کیا کہ ” مرکزی کمیٹی نے بہت پہلے کہہ دیا کہ پورے پاکستان میں کہیں چاند نظر نہیں آیا ۔ ہمارے پاس 23 شہادتیں پہنچی ہیں”۔حقیقت کے خلاف فرض کر لیتے ہیں کہ چاند نظر آیا تھا تو پھر اطلاع صوبائی روئتِ ہلال کمیٹی تک پہنچنے میں ڈھائی گھنٹے کیوں لگے ؟ آجکل تو پاکستان میں بڑے کیا بچوں کے ہاتھ میں بھی موبائل فون پکڑے ہوئے ہیں ۔ کمال در کمال یہ ہے کہ خیبر پختونخوا کے ایک علاقہ میں عیدالفطر 18 اگست 2012ء کو منائی گئی ۔ اب اس پر کوئی کیا کہے

حدیث کے مطابق قمری مہینہ مغرب کے وقت یعنی غروبِ آفتاب کے فوری بعد نیا چاند نظر آنے پر نیا مہینہ شروع ہوتا ہے ۔ یہ کہیں نہیں لکھا کہ چاند دیکھنے کیلئے صرف انسانی آنکھ استعمال کی جائے چنانچہ اچھی سے اچھی اور بڑی سے بڑی دُوربین استعمال کی جا سکتی ہے اور کی بھی جاتی ہیں

سائنس کا طریقہ جس کے حوالے سے میرے کچھ ہموطن شور کرتے رہتے ہیں وہ تحلیلی اسلوب (analytical calculations) پر مبنی ہے اور ریاضی (mathematics) کے ذریعہ اخذ (derive) کیا جاتا ہے ۔ میں نے اعلٰی ریاضی (advanced mathematics) کی جو دو جماعتیں پڑھ رکھی ہیں ان کے حوالے سے کہہ سکتا ہوں کے جہاں حاصل جواب سیدھا سادا نہ ہو وہاں فربت یا مشابہت (approximation) درست تصوّر کی جاتی ہے جس میں عملی حقیقت کے مقابلہ میں نتیجہ آگے پیچھے ہونے کی گنجائش ہوتی ہے ۔ زمین کے گرد چاند کی حرکت اور پھر دونوں کی سورج کے گرد حرکت کا بہت شاکلہ (complex) یعنی اُلجھا ہوا حساب ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ عملی حقیقت سائنسی طریقہ سے حاصل کردہ نتیجہ سے مختلف ہو سکتی ہے اسلئے ایسا تو ہو سکتا ہے کہ ریاضی کے ذریعہ اخذ کیا گیا نتیجہ بتائے کہ نیا چاند فلاں تاریخ کو فلاں علاقے میں نظر آئے گا مگر نہ نظر آئے ۔ اس کا سبب چاند کا ایک فیصد یا اس سے کم حصہ نظر آنے کی پیشگوئی کی گئی ہوتی ہے لیکن ایسا نہیں ہوتا کہ حسابی پیشگوئی نہ نظر آنے کی ہو اور چاند نظر آ جائے

نیا چاند نمودار ہونے کا حساب لگانا کتنا آسان ہے ۔ آخر میں دی گئی مختلف صورتوں کو لکھے گئے بیانات پر باری باری کلِک کر کے اس کی وڈیو دیکھیئے

میرا مسلک یہ ہے کہ اللہ اور اُس کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلّم کی ہر بات میں حکمت ہے ۔ چنانچہ لاکھ سائنسی ترقی ہو جائے اور لاکھ آلات اور حسابات بن جائیں مسلمان کو قرآن اور حدیث پر عمل کرنا ہے ۔ اور چاند دیکھنے کے سلسلہ میں سائنس کے وسیع مطالعہ اور مکمل استعمال کے ساتھ ساتھ یہ عمل جاری رکھنا ہے
وما علینا الا بلاغ المبین

چاند کی زمین کے گرد اور زمین کی سورج کے گرد حرکت چاند کو ساتھ لئے ہوئے

اس میں چاند اور زمین کا سورج کی روشنی سے روشن حصہ نظر آتا ہے

دیکھیئے زمین سورج کے گرد کیسے گھومتی ہے

یہ نمونہ سمجھانے کی خاطر سادہ کیا گیا ہے