Category Archives: روز و شب

دماغ مخمصے میں ہے

میں نے 9 اکتوبر سے ٹی وی پر جو کچھ دیکھا اس کے زیرِ اثر دل کئی بار رویا اور ملاہ کے لئے دعا بھی کی ۔ 14 اکتوبر کی شام مجھے ایک ای میل آئی جس کے مندرجات بار بار پڑھے جب اس کے اصل ہونے کا احساس ہوا تو پوری معلومات شائع کرنے کی بجائے میں نے 15 اکتوبر کو متعلقہ ویب سائٹس کا حوالہ شائع کر دیا اور فیصلہ قارئین پر چھوڑ دیا

میری 15 اکتوبر کی تحریر پر ایک قاری لکھتے ہیں

ملالہ پر حملے کے حوالے سے کچھ لوگوں کا تو کہنا ہے کہ 9/11 کی طرز پر ملالہ پر بھی حملہ امریکی ایماء پر خود پاکستانی حکام نے ہی کروایا ہے، جس کا مقصد عوام میں طالبان کو ظالمان ثابت کرکے شمالی وزیرستان میں‌ حملے کا قانونی جواز حاصل کرنا ہے، مزید اس ربط سے خود ہی ملاحظہ فرمالیں: http://willyloman.wordpress.com/2012/10/11/the-staged-malala-yousafzai-story-neoliberal-near-martyr-of-the-global-free-market-wars/

آج مغرب سے کچھ قبل ایک صاحب نے مندرجہ ذیل کوئف لکھے ہیں اور نیو یارک ٹائمز کی ویب سائٹ پر 10 اکتوبر 2009 کو شائع ہونے والی ایک وڈیو کا حوالہ دیا ہے ۔

امریکہ کے ایک یہودی فلم میکر کی طرف سے ملالہ اور اس کے والد کے ساتھ رہ کر بنائی گئی ڈاکیو مینٹری میں ملالہ اور اس کے والد سوات آپریشن کے بعد پاکستانی فوج کو بر ا بھلا کہتے دکھائی دے رہے ہیں اور ملالہ کہتی ہے کہ اسے اس فوج پر شرم آتی ہے ۔ واضح رہے کہ ملالہ کو طالبان حملے کے بعد سے پاک فوج ہی تمام تر طبی سہولیات فراہم کررہی ہے اور وہی اس خاندان کو تحفظ بھی فراہم کررہی ہے۔ یہ ویڈیو 2009 اور 2010 میں تیار کی گئی تھی اور اسے امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز نے اپنی ویب سائٹ پر نشر کیا تھا۔ یہ ویڈیو اب بھی موجود ہے اور اس میں ملالہ اور اس کے والد کے ویڈیو انٹرویو ریکارڈ کئے گئے ہیں۔ اس ویڈیو میں ملالہ کے والد الزام لگا رہے ہیں کہ پاک فوج نے ان کے اسکول کو تباہ کیا اور وہ لوگوں کی املاک چوری کرنے میں بھی ملوث ہے۔ یہودی فلم ساز سے اسی دوران انٹرویو ملالہ اسے بتا رہی ہے کہ پاکستان آرمی نے ان کے اسکول کو اپنے مورچے میں تبدیل کررکھا تھا اور اس کے ہم عمر دوست کی ایک کاپی پر ایک فوجی نے اس کو عشقیہ شعر لکھ کر دئے حالانکہ وہ ایک چھوٹی سی بچی ہے۔ ملالہ اس دوران یہودی فلم میکر کو کچھ ثبوت بھی دکھا رہی ہے کہ پاکستانی فوج نے ان کے اسکول میں مورچے بنائے اور سامان تباہ کیا جب کہ بچیوں کی کاپیوں میں غلط جملے لکھے۔ملالہ اس ویڈیو کے آخری حصے میں کہہ رہی ہے کہ اسے پاکستانی فوج پر شرم آتی ہے۔ ویڈیو میں ملالہ یہ بھی کہہ رہی ہے کہ پاکستانی فوجیوں کو لکھنا تک نہیں آتا۔ واضح رہے کہ اس پوری ویڈیو میں پاکستان فوج کی سوات مین قربانیوں کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا ہے نا ہی پاک فوج کے کسی عہدے دار سے گفتگو کی گئی ہے۔ واضح رہے کہ سوات آپریشن پاک فوج نے کیا تھا اور بے شمار قربانیوں سے یہ علاقہ واپس حاصل کیا گیا تھا مگر اس ڈاکیو مینٹری میں اس کا کوئی ذکر نہیں اور سارا کریڈٹ امریکی حکام کو دینے کی کوشش کی گئی ہے کہ سوات مین امن کی بحالی امریکی کارنامہ تھا۔ اس کے ساتھ ہی پاکستانی فوج کو شرمناک الفاظ میں یاد کیا گیا ہے۔.
اس ویڈیو میں یہ بھی دکھایا گیا ہے کہ ملالہ اور اس کا والد پاک فوج کو گھٹیا کردار کا مالک قرار دے رہے ہیں اور ملالہ کہتی ہے کہ پاکستانی فوجیوں پر اس کو فخر تھا مگر اب اسے ان پر شرم آتی ہے اور وہ گندے لوگ ہین۔ ملالہ کی یہ گفتگو ویڈیو میں دیکھی جا سکتی ہے جب کہ وہ یہ بھی بتا رہی ہے کہ پاکستان فوجی لوٹ مار کرتے ہیں لڑکیوں سے غیر مہذب گفتگو کرتے ہیں۔.

یہ ویڈیو اس لنک پر دیکھی جا سکتی ہے:
http://www.nytimes.com/video/2009/10/10/world/1247465107008/a-schoolgirl-s-odyssey.html

میری 15 اکتوبر کی تحریر پر ان صاحب کا تبصرہ نمبر 7 ملالہ یوسف کے خاندان کی کہانی ہے

کیا یہ سچ ہے ؟

میں نے بھی کہا تھا ۔ کیا یہ سچ ہے ؟
جی ہاں ۔ جب تک چھان بین نہ کی جائے دماغ میں یہی خیال اُٹھتا ہے

اب آپ خود بھی دیکھ لیجئے اور بتایئے کہ کیا سچ ہے اور کیا جھوٹ ۔ کمال یہ ہے کہ کسی کو خبر ہی نہ ہوئی
وفاقی وزیرِ داخلہ جو سب کچھ معلوم ہونے کا دعوٰی آئے دن کرتے رہتے ہیں نہ اُنہوں نے کچھ بتایا
اور نہ ہمارے ذرائع ابلاغ نے کچھ کہا ۔ وہ ذرائع ابلاغ جن کے دانشور آنے والے واقعات کی مہینوں پہلے پیشگوئی کرنے کے دعویدار ہیں

ملالہ کی اعلٰی امریکی حکام سے ملاقاتیں

ایک وِڈیو جو نیو یارک ٹائمز کی ویب سائٹ پر موجود ہے

دیوانِ رکشا

وطنِ عزیز میں بے ہنگم ٹریفک میں پھنسے جب طبیعت بیزار ہوتی ہے تو کبھی کبھی لمحہ بھر کیلئے جسم میں تازگی آ جاتی ہے ۔ اس پر میں سوچتا ہوں کہ اللہ نے جو بنایا ہے کیا خُوب بنایا ہے ۔ یہ تازہ لمحہ وہی رکشے اور ویگنیں مہیاء کرتے ہیں جن کا بیزار کرنے میں حصہ ہوتا ہے ۔ ایسے کچھ عکس میرے دوست نے بھیجے ہیں جو انجنیئرنگ کالج میں میرا ہمجماعت بھی تھا ۔ چند ملاحظہ ہوں

میں (افتخار اجمل بھوپال) آغا شاہی ایونیو پر گھر آتے ہوئے شاہراہ کشمیر والے چوراہے پر رُکا تو میرے سامنے یہ ویگن کھڑی تھی جو کہ کرائے پر چلنے والی نہیں تھی

ہماری قوم

ہماری قوم یا تو اس تصویر میں کھڑے آدمی کی طرح بے فکر ہے

یا پھر اس طرح مصروفِ عمل ہے

میرا دوسرا بلاگ ” حقیقت اکثر تلخ ہوتی ہے ۔ Reality is often Bitter“۔
” پچھلے 8 سال سے معاشرے کے مختلف پہلوؤں پر تحاریر سے بھر پور چلا آ رہا ہے ۔ اور قاری سے صرف ایک کلِک کے فاصلہ پر ہے ۔ 2010ء ميں ورڈ پريس نے اسے 10 بہترين بلاگز ميں سے ايک قرار ديا تھا

روانگی

ہم نے 22 اور 23 جون 2012ء کی درمیانی شب دبئی جانا تھا ۔ 20 جون کو ایک قریبی عزیز کا میرے موبائل فون پر پیغام ملا

میرا لفظ لفظ ہے دعا دعا
میرے آنسوؤں سے دھُلا ہوا
تمہیں زندگی کی سحر ملے
تمہیں خوشیوں کا سفر ملے
تم پہ درد و غم بھی نہ آ سکے
تیری آنکھ نم بھی نہ ہو سکے
تیرا پیار جس پہ نثار ہو
وہ ھمیشہ تیرے پاس ہو
تم پہ خُوشیوں کی برسات ہو
اور طویل تیری حیات ہو
آمین

وہ انسان بہت خوش نصیب ہوتا ہے جسے بِن مانگے پُرخلوص نیک دعا ملے ۔ یہ اللہ کی مجھ پر خاص مہربانی ہے ۔ اللہ سُبحانُہُ و تعالٰی کا کرم رہا اور ہمارے 2 ماہ بیٹے بہو بیٹی ۔ پوتے ابراھیم اور نو وارد پوتی ھناء کے ساتھ ایسے گذرے کہ پتہ بھی نہ چلا ۔ یہاں واپس آنے کے بعد دن لمبے محسوس ہونے لگے ہیں ۔ اُدھر 3 سالہ پوتا ہر ہفتے کہتا ہے “دادا ۔ دادَو ۔ پھوپھو میرے گھر آ جاؤ”۔ پچھلے ہفتہ ابراھیم نے اپنے والدین سے کہا کہ ”دادا دادَو اگلے سال آئیں گے“۔ لیکن یہ گردان کہ ”پھوپھو کب آئیں گی ؟” ابھی جاری ہے ۔ ہم تو ابھی نہیں جا سکتے ۔ سوچتے ہیں کہ بیٹی (ابراھیم اور ھناء کی پھوپھو) کو بھیج دیا جائے

یہ ہمارا چھوٹے بیٹے کے ہاں چوتھا پھیرا تھا جو کہ پوتے کی پیدائش کے بعد تیسرا اور پوتی کی پیدائش کے بعد پہلا تھا ۔ دبئی کے چوتھے پھیرے کی چیدہ چیدہ باتیں اِن شاء اللہ وقتاً فوقتاً لکھوں گا

یاد رکھنا ۔ خیال رکھنا

زندگی میں دو چیزوں کو یاد رکھنا اور ان کا خیال رکھنا
مبادا کہ وقت گذر جائے اور پچھتانا پڑے

ایک ۔ وہ شخص جس نے تمہاری جیت کیلئے
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اپنا سب کچھ ہار دیا

دوسرا ۔ وہ ہستی جس کی محنت اور دعاؤں سے
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تم جِیتتے رہے اور بلاؤں سے بچتے رہے

پہلا شخص تمہارا باپ ہے
اور دوسری ہستی تمہاری ماں

کوئی جمہوریت کا بِلکنا دیکھے

عصرِ حاضر میں سائنس کی ترقی عروج پر ہے جس کے باعث کُرّہءِ ارض ایک گاؤں کی صورت اختیار کر چکا ہے ۔ گھر بیٹھے یا جہاں کہیں بھی ہو آدمی دو چار بار انگلیاں ہلا کر پوری دنیا کے حالات سے واقف ہو سکتا ہے ۔ معلوماتی گرم بازاری (Information boom) کے نتیجہ میں فرضی حُبِ جمہوریت نے گھر گھر میں جھنڈے گاڑے ہوئے ہیں مگر جمہوریت ہے کہ بِلک رہی ہے

کوئی تو ایسا شہر ہوتا جہاں میرا دلدار مل جاتا
ہیں آمریت کے بدلے چہرے جہاں دیکھوں جدھر جاؤں

”جمہوریت“جسے آج دنیا کا بہترین نظام کہا جاتا ہے موجودہ حالت میں ایک کامل نظام نہیں ہے اور اسی بناء پر انسانی بہتری کیلئے نہ صرف یہ کہ یہ ممد نہیں بلکہ قانون کے تابع اور محنتی دیانتدار آدمی کیلئے نقصان دہ ہے ۔ اسی لئے انسانیت کے اصولوں کو سمجھنے والوں نے اسے ابتداء ہی میں مسترد کر دیا تھا ۔

عظیم مفکّر سقراط (469 تا 399 قبل مسیح) نے کہا تھا ”جمہوریت کی سب سے بڑی قباحت یہ ہے کہ یہ عوام کے مستقبل کو ایسے لوگوں کے ہاتھ میں دیتی ہے جو نہ تو علم رکھتے ہیں ۔ نہ حکمرانی کا تجربہ اور نہ وہ عدل و انصاف کی اہمیت سے واقف ہوتے ہیں ۔ ان کا انتخاب بھی غیرمنطقی مساوات کے تحت وہ لوگ کرتے ہیں جو خود اپنی بہتری کے عمل سے ناواقف ہوتے ہیں“۔ سقراط کے بیان پر اجارا داروں کو اپنی حکمرانی خطرے میں محسوس ہوئی اور انہوں نے سقراط کو موت کی سزا سُنا کر اس پر فوری عمل کیا ۔ اُن اجاراداروں کو آج کوئی نہیں جانتا مگر سقراط کا نام آج بھی زندہ ہے

ایک اور عظیم مفکّر ارسطو (384 تا 322 قبل مسیح) کے مطابق جمہوریت ہوتی تو عوام الناس کی حکومت ہے لیکن اکثریت کی حکومت ہونے کی وجہ سے یہ صالح یا نیکوکار حکومت نہیں ہو سکتی کیونکہ عوام الناس کی اکثریت صالح یا نیکوکار نہیں ہوتی

”جمہوریت“ بظاہر ایک آسان سا لفظ ہے ۔ جمہوریت طرزِ حکمرانی کے حق میں دلائل تو جتنے چاہیں مل جائیں گے کیونکہ کُرّہ ارض پر کہیں بھی چلے جائیں سرمایہ دارانہ نظام کی حکمرانی ہے اور تعلیم سمیت آدمی کی ہر سہولت سرمایہ داروں کی مرہونِ منت ہے ۔ آج کے دور میں کسی شخص سے (خواہ وہ پڑھا لکھا ہو یا اَن پڑھ) پوچھا جائے تو وہ ”جمہوریت“ کا مطلب سمجھنے کا دعوٰی کرتا پایا جائے گا لیکن حقیقت یہ ہے کہ سب ”جمہوریت“ کا مطلب اپنی ضروریات و خواہشات کے مطابق بتاتے ہیں چنانچہ مختف گروہوں اور مختلف ادوار میں ”جمہوریت“ کا مطلب مختلف ہوتا ہے ۔ ہر حکمران جمہوریت کی تفصیل اپنے مقاصد کو مدِ نظر رکھتے ہوئے بیان کرتا ہے ۔ سرماداری نظام کے حامی جمہوریت کی تاویل آزاد تجارتی نظام بیان کرتے اور آزاد جمہوریت و معاشیاتی کُلیات جیسے الفاظ استعمال کرتے ہیں ۔ وطنِ عزیز جیسے غریب ممالک میں عوامی حکومت اور عوامی نمائندے جیسے الفاظ استعمال کئے جاتے ہیں اور لوگوں کو محصور کرنے کیلئے نت نئی امدادی گٹھریوں (packages) کا اعلان کیا جاتا ہے جیسے بلوچستان پیکیج ۔ بینظیر انکم سپورٹ فنڈ جن کے خرچ ہونے کے بعد جن کیلئے تھا وہ چیخ رہے ہوتے ہیں کہ ہمیں کچھ نہیں ملا

موجودہ جمہوریت کے مطابق وہ اُمیدوار منتخب ہوتا ہے جو مقابلہ میں آنے والے ہر ایک اُمیدوار سے زیادہ ووٹ حاصل کرے ۔ اگر ایک علاقہ میں امیدوار 2 سے زیادہ ہوں تو 50 فیصد سے کم ووٹ لینے والا کامیاب ٹھہرتا ہے ۔ ایسے کامیاب اُمیدواروں کی حکومت بنے تو وہ عوام کی اکثریت کی نمائندہ نہیں ہوتی ۔ اگر اُمیدوار 4 یا زیادہ ہوں تو پھر کیا صورتِ حال ہو گی ؟

جمہوریت کی ایک بڑی خامی یہ بھی ہے کہ اکثریتی پارٹی حکومت بنانے کے بعد اپنی توجہ اور قوت زیادہ تر یہ ثابت کرنے پر صرف کرتی ہے کہ مخالف پارٹی حکومت کرنے کی اہل نہیں اور اس سلسلہ میں عوام کا پیسہ بے دریغ خرچ کرنے سے بھی نہیں چوکتی ۔ چھوٹے ممالک ہی میں نہیں امریکا جیسی بڑی جمہوریت کے اندر بسنے والے لوگوں کو مساوی حقوق حاصل نہیں جس کی وجہ سرمایہ دارانہ نظام ہے جسے جمہوریت کا نام دیا گیا ہے

آج کی دنیا کی بڑی قوّتیں جو اپنے تئیں ترقی یافتہ ہیں بشمول بہتاتی عالمی قوّت (World Super Power)، کے جمہوریت قائم کرنے کی دعویدار اور انسانیت سے محبت کی علمبردار بنی پھرتی ہیں ۔ عمل اِن حکومتوں کا یہ ہے کہ ”جو میں کہوں وہ درست اور جو وہ کہے وہ میری مرضی کا تابع یعنی مجھے پسند ہو تو درست ورنہ غیر اخلاقی اور بعض اوقات غیرانسانی یا دہشتگردی“۔ ایک طرف قانون کہ جو شخص ہالوکاسٹ کو غلط کُجا مبالغہ آمیز بھی کہے (جو کہ وہ ہے) تو کہنے والا امریکا اور عالمی قوّتوں کا مُجرم اور اسے سزا دینے کیلئے ہر ممکن قدم اُٹھایا جائے گا اور انہی ممالک کے سہارے پلنے والے اسرائیل کو حق حاصل کہ کہنے والے کو جہاں کہیں بھی ہو اغواء کر کے لیجا کر قتل کر دے ۔ وجہ یہ کہ یہودیوں کی دل آزاری ہوتی ہے جبکہ یہودی دنیا کی آبادی کا صرف 0.19 فیصد ہیں ۔ اس کے مقابلہ میں مسلمان جو دنیا کی آبادی کا 28 فیصد سے زائد ہیں اُن کے محبوب نبی ﷺ جو کہ اللہ کے پیغمبر ہیں کی ناموسِ مبارک پر حملہ کیا جائے تو اِسے آزادیءِ اظہار کا نام دیا جاتا ہے اور ایسا کرنے والے ملعون کی زبانی مذمت تک نہیں کی جاتی

اپنے ملک کا یہ حال ہے کہ 30 سے 40 فیصد لوگ ووٹ ڈالنے جاتے ہیں جن میں سے نصف سے زیادہ جس اُمیدوار کو ووٹ ڈالتے ہیں اس کے کردار سے واقف نہیں ہوتے اور نہ واقف ہونے کی کوشش کرتے ہیں ۔ باقی نصف ذاتی وقتی ضروریات کے حصول کی تمنا لئے ووٹ ڈالتے ہیں ۔ 60 سے 70 فیصد لوگ جو ووٹ نہیں ڈالتے ان میں سے نصف سے زائد شاید ووٹ ڈالنے جانا ذاتی توہین سمجھتے ہیں اور باقی یہ دعوٰی کرتے ہیں کہ سب اُمیدوار ان کے ووٹ کے اہل نہیں ۔ اس کے ساتھ ہی اگر 21 ستمبر 2012ء کو ملک کے بڑے شہروں بالخصوص کراچی اور پشاور میں ہونے والے واقعات پر نظر ڈالی جائے تو جمہوریت کی کیا شکل بنتی ہے ۔ کیا یہی اُودھم مچانے والے لوگ نہیں ہیں جو ووٹ ڈالنے بھی جاتے ہیں ایک وقت پلاؤ ملنے یا ویگن پر مُفت سفر کے عوض ؟

نتیجہ سب کے سامنے ہے کہ حکومت بننے کے بعد جہنیں لوٹ مار میں حصہ مل جاتا ہے وہ مزے اُڑاتے ہیں اور باقی لوگ تین چار سال حکمرانوں کو کوستے ہیں اور اگلے انتخابات کے وقت پھر وہی ہوتا ہے جو پہلے ہو چکا ہوتا ہے ۔ جمہوریت ( Democracy) کا مطالبہ کرنے والے اس حقیقت سے صرفِ نظر کرتے ہیں کہ جو جمہوریت وہ دیکھتے آئے ہیں وہ دراصل جمہور کی حکمرانی نہیں بلکہ انبوہ کی حکمرانی یا انبوہ گردی (mobocracy) ہے

کیوں نا ہم اپنے دماغ کو ارفع اور اعلٰی سمجھنے کی بجائے خالقِ حقیقی کی طرف رجوع کریں جو سب کچھ جانتا ہے اور کُل کائنات کا نظام چلا رہا ہے اور اس کے بتائے ہوئے راستے پر چل کر ہم عوام الناس کی بہتری کا بندوبست کریں ۔ اللہ ہمیں سیدھے راستہ پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے