Category Archives: روز و شب

لہور لہور اے

لاہور میں پنجاب حکومت کے زیرِ انتظام جوانوں کا میلہ جاری ہے جن میں دنیا کے نئے ریکارڈ بن رہے ہیں ۔ 20 اور 22اکتوبر 2012ء کو لاہوریوں نے اتحاد اور نظم کا قابلِ قدر مظاہرہ کر کے پاکستان کا نام دنیا میں روشن کیا

20 اکتوبر کو لگ بھگ 70000 عورتوں مردوں لڑکیوں لڑکوں بچیوں اور بچوں نے وزیرِ اعلٰی پنجاب شہباز شریف ان کے ساتھ یک زبان مل کر قومی ترانہ گایا ۔ ایک سماں بندھ گیا اور ساتھ ہی قومی ترانہ یک زبان گانے کا دنیا کا ریکارڈ بن گیا
اس سے قبل 25 جنوری 2012ء کو بھارت کے شہر اورنگ آباد میں لوک مت میڈیا لمیٹڈ کے زیرِ اہتمام 15243 افراد نے بھارت کا قومی ترانہ یک زبان گانے کا ریکارڈ بنایا تھا
منصوبے کے مطابق 24000 طلباء اور اتھلیٹ اور 60000 رضاکار اور ناظرین اس تقریب میں شامل ہونا تھے ۔ تقریب میں موجود گنیس ورلڈ ریکارڈز کے نمائندے کے مطابق قومی ترانہ 42813 افراد نے یک زبان گایا

22 اکتوبر کو 24200نوجوانوں نے پاکستان کا انسانی جھنڈا بنا کر دنیا کا ایک اور ریکارڈ بنایا جس کا اعلان گنیس ورلڈ ریکارڈز کے نمائندے نے بڑے جوش و خروش سے کیا اور اس کی بنیاد اتحاد کو قرار دیا
اس سے قبل ہانگ کانگ میں 21726 افراد نے 2007ء میں انسانی جھنڈا بنایا تھا

”لہور لہور اے (لاہور لاہور ہے)“ کہا جایا کرتا تھا یعنی لاہور اپنی مثال آپ ہی ہے ۔ تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو کسی حد تک یہ استدلال درست محسوس ہوتا ہے ۔ میں دنوں یا ہفتوں کیلئے لاہور جاتا رہتا ہوں کیونکہ وہاں کچھ عزیز و اقارب رہائش رکھتے ہیں البتہ زیادہ عرصہ کیلئے حصولِ تعلیم کیلئے 4 سال 1960ء تک اور پونے 2 سال فروری 2010ء تک لاہور میں رہائش رہی ۔ پہلی بار تک سوائے راولپنڈی کے کسی اور شہر میں زیادہ رہنے کا موقع نہ ملا تھا لیکن دوسری بار تک میں کئی شہروں میں قیام کر چکا تھا چنانچہ میں مختلف علاقوں میں بسنے والوں کے اطوار کا موازنہ کرنے کے قابل تھا

سلوک کی بات کریں تو لاہور میں اجنبی آدمی کو مدد گار مل جاتے ہیں اور اجنبی کا احترام بھی کیا جاتا ہے ۔ لیکن شرط ہے کہ برابری کی سطح پر بات کی جائے ۔ لاہور میں پونے 2 سال میں محلہ داروں نے جتنا ہمارا خیال رکھا ۔ اتنا کسی اور شہر میں نہیں دیکھا

لاہور کی ایک خاص بات وہاں دکانداروں کا گاہک کے ساتھ مکالمہ اور سلوک ہے ۔ کسی دکان کے سامنے سے گذرتے ہوئے کسی وجہ سے رکیں جہاں دکاندار فارغ ہو تو بڑی میٹھی آواز میں بولے گا ” آؤ بھائیجان یا آؤ باجی یا آؤ خالہ جی یا آؤ حاجی صاحب“۔ آپ کہیں ”بھئی ۔ میں نے کچھ نہیں لینا“۔ بولے گا ”جناب میں نے کب کہا لیں ۔ دیکھ تو لیں ۔ دیکھنے میں کیا ہرج ہے”۔

کھانا لذیذ اور سستا کھانا ہو تو لاہور سے بہتر شہر اور کوئی نہیں ۔ کسی زمانہ میں پشاور میں کھانا سستا اور لذیز ہوتا تھا لیکن اب وہ بات نہیں

یہ بھی کہا جاتا ہے کہ جو تحریک لاہور سے اُٹھے یا لاہور میں زور پکڑ جائے وہ کامیاب ہو کے رہتی ہے ۔ لاہوریوں کے سیاسی وصف کی کچھ مثالیں میرے علم میں ہیں

ہندوستان پر قابض برطانوی حکومت نے ہندوستان کے باسیوں کی طرف سے کسی قسم کے احتجاج یا جلسہ جلوس کو روکنے کیلئے 10 مارچ 1919ء کو رولاٹ کا قانون (Rowlatt Act) منظور کیا جس کے نتیجہ میں پہلی جنگِ عظیم میں لگائی گئی ایمرجنسی کی توسیع کر دی گئی جس سے حکومت کو حق مل گیا کہ کسی بھی شخص کو دہشتگرد قرار دے کر 2 سال تک بغیر کسی مقدمہ کی کاروائی کے قید رکھ سکے ۔ اس کالے قانون کے خلاف لاہور میں بہت بڑا اجتماعی احتجاج شروع ہوا جس کو دبانے کیلئے پنجاب کے لیفٹننٹ گورنر بریگیڑیئر مائیکل اوڈوائر (Michael O’Dwyer) نے لاہور میں اتوار بتاریخ 13 اپریل 1919ء کو مارشل لاء نافذ کر دیا ۔ ساتھ ہی فوج اس حُکم کے ساتھ تعینات کر دی کہ جہاں کوئی احتجاجی نظر آئے اُس پر گولی چلا دی جائے ۔ مارشل لاء کے خلاف لاہور اور امرتسر میں مظاہرے شروع ہو گئے اور سڑکیں اور گلیاں ھندوستان کے باسیوں کے خون سے لال ہونے لگیں ۔ بڑا واقع جلیاں والا باغ امرتسر میں ہوا جہاں مسلمانوں کے ایک پُر امن احتجاجی جلسہ پر فوج نے گولی چلا دی جس سے کم از کم 380 بے قصور لوگ شہید اور سینکڑوں زخمی ہوئے

مرزائیوں کی سرکاری سطح پر پذیرائی کے خلاف فروری 1953ء میں پورے مُلک میں احتجاج شروع ہوا مگر پُر زور ۔ ہمہ گیر مگر منظّم احتجاج لاہور میں ہوا اور دن بدن بڑھتا گیا ۔ مُلک کا گورنر جنرل غلام محمد تھا جو کہ مرزائی تھا ۔ لیفٹننٹ جنرل اعظم خان نے 6 مارچ کو لاہور میں مارشل لاء لگا دیا جو 70 دن تک قائم رہا ۔ اس دوران احتجاج نہ رُکا ۔ جلسے جلوسوں پر گولیاں چلائی گئیں اور سینکڑوں لوگ ہلاک ہوئے ۔ ابوالاعلٰی مودودی اور عبدالستار خان نیازی صاحبان کو گرفتار کر کے موت کی سزا سنائی گئی جو بعد میں عمر قید اور پھر رہائی میں بدل گئی ۔ اسی مارشل لاء کے دوران گورنر جنرل نے پہلے پنجاب کے وزیر اعلٰی میاں ممتاز دولتانہ کو چلتا کیا اور پھر 17 اپریل 1953ء کو وزیر اعظم خواجہ ناظم الدین کی حکومت مع کابینہ ختم کر دی ۔ یہ سب کچھ کروانے والا غلام محمد فالج سے اپاہج ہوا اور کافی مدت بے بس بستر پر پڑا رہنے کے بعد مرا

1977ء کے انتخابات میں پیپلز پارٹی کی بے انتہاء دھاندلی کے خلاف ملک میں احتجاج شروع ہوا ۔ لاہور میں احتجاج زور پکڑ گیا ۔ پُر امن جلوسوں پر پولیس نے لاٹھی چارج کیا ۔ اشک آور گیس پھینکی اور گولیاں بھی چلائی گئیں جس سے متعدد لوگ ہلاک اور زخمی ہوئے ۔ احتجاج مزید شدید ہو گیا ۔ تو فوج کو لاہور بھیج دیا گیا ۔ انارکلی بازار میں فوج نے سڑک پر لکیر لگا کر جلوس کو متنبہ کیا کہ جو اس لکیر کو پار کرے گا اسے گولی مار دی جائے گی ۔ کچھ دیر کیلئے جلوس رُک گیا ۔ پھر ایک جوان آنکھیں بند کر کے کلمہ شہادت پڑھتا ہوا لکیر پار کر گیا ۔ بندوق چلنے کی آواز آئی اور وہ ڈھیر ہو گیا ۔ اس کے بعد ایک اور جوان نے لکیر پار کی اور ہلاک کر دیا گیا پھر تیسرا جوان آگے بڑھا اور اُسے بھی گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا ۔ اس کے بعد پورا جلوس نعرے لگاتا ہوا آگے بڑھا اور فوجی جوان راستہ سے ہٹ گئے ۔ میرے خیال میں یہی وہ دن تھا جب ذوالفقار علی بھٹو کا فیصلہ زمین پر نہیں کہیں اور ہو گیا تھا باقی تو زمینی کاروائی بعد میں ہوتی رہی اور اسے پیپپلز پارٹی کے جیالے احمد رضا قصوری کے باپ نواب محمد خان قصوری کو قتل کرانے پر پھانسی ہوئی

14 فروری 2006ء کو لاہور پھر سراپا احتجاج تھا کیونکہ ڈنمارک کے اخبار نے خاکے شائع کر کے رسول اللہ سیّدنا محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلّم کی شان میں گستاخی کی گئی تھی

میرے لاہور میں قیام کے دوران امریکی خُفیہ ایجنٹ ریمنڈ ڈیوس لاہور شہر کی سڑک پر گولی چلا کر 2 پاکستانی جوانوں کو ہلاک کیا اور اپنی گاڑی بھگا لے جانے کی کوشش کی ۔ اگلے چوراہے پر پہنچنے سے قبل لاہور کے شہریوں کی گاڑیوں نے ریمنڈ ڈیوس کی گاڑی کو گھیرے میں لے لیا اور سبز بتی جل جانے کے باوجود ریمنڈ ڈیوس کی گاڑی کے آگے اور دونوں اطراف گاڑیاں کھڑی رہیں حتٰی کہ کچھ شہری پولیس کو لے آئے اور ریمنڈ ڈیوس کو گرفتار کروا دیا اور تھانے ساتھ جا کر ایف آئی آر بھی کٹوا دی ۔ گو بعد میں وفاقی حکومت نے گول مول طریقے سے اسے رہا کروا کر امریکی حکام کے حوالے کر دیا لیکن لاہوریئے اپنا کام دکھا چکے تھے

ایک اور اچھوتا واقعہ جو کسی اخبار میں نہیں چھپا یا چھپنے نہیں دیا گیا ۔ 2011ء کے وسط میں اُس وقت کے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی لاہور گئے ہوئے تھے اور انہوں نے گورنر ہاؤس جانا تھا جو کہ مال روڈ پر ہے ۔ اُن کی حفاظت کی خاطر مال روڈ اور ملحقہ سڑکوں کو ٹریفک کیلئے بند کر دیا گیا ۔ ایک گھنٹے میں سینکڑوں گاڑیاں پھنس گئیں ۔ گاڑیوں میں بیٹھے لوگ گرمی کی وجہ سے بِلبلا اُٹھے ۔ کسی کو کچھ سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ معاملہ کیا ہے ۔ اگلی چند گاڑیوں میں سے لوگ نکلے اور ٹریفک روکنے والے سپاہیوں سے ٹریفک کھولنے کا کہا ۔ وہ نہ مانے تو تکرار ہوئی اور پھر کھینچا تانی ۔ پولیس والوں کی مدد کیلئے دور کھڑے دس بارہ رینجر آ گئے ۔ یہ دیکھ کر درجنوں گاڑیوں سے لوگ نکل آئے سب کو قابو کر کے ٹریفک کھول دیا ۔ اتنے میں وزیر اعظم کی سواری ایک سڑک پر نمودار ہوئی ۔ کچھ لوگوں نے اُس سڑک کی طرف گاڑیاں موڑ دیں اور وزیر اعظم صاحب کا قافلہ بھی ٹریفک میں پھنسنے کا مزا لینے لگا ۔ لوگ کہتے پائے گئے ”ذرا اسے بھی تو معلوم ہو کہ اس کی وجہ سے ہمارے ساتھ کیا ہوتا رہتا ہے“۔

راس الخیمہ ۔ ساحلِ سمندر

دبئی پہنچنے پر بیٹے نے 2 خبریں سنائیں ۔ ایک کہ 5 جولائی سے 8 جولائی تک راس الخیمہ ھِلٹن سِی ریزارٹ میں 2 فیملی رومز محفوظ کرائے ہوئے ہیں ۔ 4 دن وہاں رہیں گے ۔ دوسرا کہ جس اپارٹمنٹ میں رہ رہے ہیں اسے مالک بیچنا چاہتا ہے اسلئے رمضان شروع ہونے سے قبل نئی جگہ تلاش کرنا ہے اور پسند کی جگہ ملنا خاصہ مُشکل ہے ۔ دوسری خبر اچھی نہ تھی مگر مجبوری کا نام شکریہ ۔ خیر ہم راس الخیمہ گئے اور خوب لُطف اندوز ہوئے ۔ سارے اپارٹمنٹ سمندر کے کنارے پر تھے ۔ میں اور بیگم شام کو تھوڑی دیر کیلئے سمندر کے کنارے جاتے ۔ اُس وقت بھی کافی گرمی ہوتی ۔ بچہ لوگ شام کو زیادہ دیر سمندر کے کنارے رہتے ۔ خاص کر ابراھیم (میرا پوتا) خوش تھا ۔ پوتی جو اس وقت 3 ماہ کی تھی خوش نہیں تھی ۔ ناشتہ اور کھانا اچھا تھا اور ہر ایک کو اپنی پسند کے مطابق مل جاتا تھا ۔ یہ رہیں راس الخیمہ ھِلٹن ریزارٹ کی کچھ نشانیاں

اپارٹمنٹس کا ماتھا ۔ نچلی منزل میں دو جُڑے ہوئے فیملی رومز ہیں جن میں ہم لوگ رہے ۔ داخل ہونے کیلئے دروازے داہنی اور بائیں اطراف میں ہیں

اپارٹمنٹس کی پُشت سمندر کی طرف سے

سونے کا ایک کمرہ ۔ ایسے دو کمرے تھے ۔ ایک بستر پر ابراھیم بیٹھا ہے

اپارٹمنٹ کے پچھلے برآمدے میں کھڑے ہو کر سمندر کا نظارہ

سمندر کے کنارے میرا بیٹا ۔ بیگم اور پوتا کرسیوں پر بیٹھے ہیں ۔ پوتا دادی کو کمرے سے گھسیٹ کر لے گیا تھا کہ میرے ساتھ بیٹھیں

ھِلٹن ریزارٹ کی مرکزی عمارت جہاں کھانے ۔ نماز اور کھیلوں وغیرہ کا بندوبست تھا

دماغ مخمصے میں ہے

میں نے 9 اکتوبر سے ٹی وی پر جو کچھ دیکھا اس کے زیرِ اثر دل کئی بار رویا اور ملاہ کے لئے دعا بھی کی ۔ 14 اکتوبر کی شام مجھے ایک ای میل آئی جس کے مندرجات بار بار پڑھے جب اس کے اصل ہونے کا احساس ہوا تو پوری معلومات شائع کرنے کی بجائے میں نے 15 اکتوبر کو متعلقہ ویب سائٹس کا حوالہ شائع کر دیا اور فیصلہ قارئین پر چھوڑ دیا

میری 15 اکتوبر کی تحریر پر ایک قاری لکھتے ہیں

ملالہ پر حملے کے حوالے سے کچھ لوگوں کا تو کہنا ہے کہ 9/11 کی طرز پر ملالہ پر بھی حملہ امریکی ایماء پر خود پاکستانی حکام نے ہی کروایا ہے، جس کا مقصد عوام میں طالبان کو ظالمان ثابت کرکے شمالی وزیرستان میں‌ حملے کا قانونی جواز حاصل کرنا ہے، مزید اس ربط سے خود ہی ملاحظہ فرمالیں: http://willyloman.wordpress.com/2012/10/11/the-staged-malala-yousafzai-story-neoliberal-near-martyr-of-the-global-free-market-wars/

آج مغرب سے کچھ قبل ایک صاحب نے مندرجہ ذیل کوئف لکھے ہیں اور نیو یارک ٹائمز کی ویب سائٹ پر 10 اکتوبر 2009 کو شائع ہونے والی ایک وڈیو کا حوالہ دیا ہے ۔

امریکہ کے ایک یہودی فلم میکر کی طرف سے ملالہ اور اس کے والد کے ساتھ رہ کر بنائی گئی ڈاکیو مینٹری میں ملالہ اور اس کے والد سوات آپریشن کے بعد پاکستانی فوج کو بر ا بھلا کہتے دکھائی دے رہے ہیں اور ملالہ کہتی ہے کہ اسے اس فوج پر شرم آتی ہے ۔ واضح رہے کہ ملالہ کو طالبان حملے کے بعد سے پاک فوج ہی تمام تر طبی سہولیات فراہم کررہی ہے اور وہی اس خاندان کو تحفظ بھی فراہم کررہی ہے۔ یہ ویڈیو 2009 اور 2010 میں تیار کی گئی تھی اور اسے امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز نے اپنی ویب سائٹ پر نشر کیا تھا۔ یہ ویڈیو اب بھی موجود ہے اور اس میں ملالہ اور اس کے والد کے ویڈیو انٹرویو ریکارڈ کئے گئے ہیں۔ اس ویڈیو میں ملالہ کے والد الزام لگا رہے ہیں کہ پاک فوج نے ان کے اسکول کو تباہ کیا اور وہ لوگوں کی املاک چوری کرنے میں بھی ملوث ہے۔ یہودی فلم ساز سے اسی دوران انٹرویو ملالہ اسے بتا رہی ہے کہ پاکستان آرمی نے ان کے اسکول کو اپنے مورچے میں تبدیل کررکھا تھا اور اس کے ہم عمر دوست کی ایک کاپی پر ایک فوجی نے اس کو عشقیہ شعر لکھ کر دئے حالانکہ وہ ایک چھوٹی سی بچی ہے۔ ملالہ اس دوران یہودی فلم میکر کو کچھ ثبوت بھی دکھا رہی ہے کہ پاکستانی فوج نے ان کے اسکول میں مورچے بنائے اور سامان تباہ کیا جب کہ بچیوں کی کاپیوں میں غلط جملے لکھے۔ملالہ اس ویڈیو کے آخری حصے میں کہہ رہی ہے کہ اسے پاکستانی فوج پر شرم آتی ہے۔ ویڈیو میں ملالہ یہ بھی کہہ رہی ہے کہ پاکستانی فوجیوں کو لکھنا تک نہیں آتا۔ واضح رہے کہ اس پوری ویڈیو میں پاکستان فوج کی سوات مین قربانیوں کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا ہے نا ہی پاک فوج کے کسی عہدے دار سے گفتگو کی گئی ہے۔ واضح رہے کہ سوات آپریشن پاک فوج نے کیا تھا اور بے شمار قربانیوں سے یہ علاقہ واپس حاصل کیا گیا تھا مگر اس ڈاکیو مینٹری میں اس کا کوئی ذکر نہیں اور سارا کریڈٹ امریکی حکام کو دینے کی کوشش کی گئی ہے کہ سوات مین امن کی بحالی امریکی کارنامہ تھا۔ اس کے ساتھ ہی پاکستانی فوج کو شرمناک الفاظ میں یاد کیا گیا ہے۔.
اس ویڈیو میں یہ بھی دکھایا گیا ہے کہ ملالہ اور اس کا والد پاک فوج کو گھٹیا کردار کا مالک قرار دے رہے ہیں اور ملالہ کہتی ہے کہ پاکستانی فوجیوں پر اس کو فخر تھا مگر اب اسے ان پر شرم آتی ہے اور وہ گندے لوگ ہین۔ ملالہ کی یہ گفتگو ویڈیو میں دیکھی جا سکتی ہے جب کہ وہ یہ بھی بتا رہی ہے کہ پاکستان فوجی لوٹ مار کرتے ہیں لڑکیوں سے غیر مہذب گفتگو کرتے ہیں۔.

یہ ویڈیو اس لنک پر دیکھی جا سکتی ہے:
http://www.nytimes.com/video/2009/10/10/world/1247465107008/a-schoolgirl-s-odyssey.html

میری 15 اکتوبر کی تحریر پر ان صاحب کا تبصرہ نمبر 7 ملالہ یوسف کے خاندان کی کہانی ہے

کیا یہ سچ ہے ؟

میں نے بھی کہا تھا ۔ کیا یہ سچ ہے ؟
جی ہاں ۔ جب تک چھان بین نہ کی جائے دماغ میں یہی خیال اُٹھتا ہے

اب آپ خود بھی دیکھ لیجئے اور بتایئے کہ کیا سچ ہے اور کیا جھوٹ ۔ کمال یہ ہے کہ کسی کو خبر ہی نہ ہوئی
وفاقی وزیرِ داخلہ جو سب کچھ معلوم ہونے کا دعوٰی آئے دن کرتے رہتے ہیں نہ اُنہوں نے کچھ بتایا
اور نہ ہمارے ذرائع ابلاغ نے کچھ کہا ۔ وہ ذرائع ابلاغ جن کے دانشور آنے والے واقعات کی مہینوں پہلے پیشگوئی کرنے کے دعویدار ہیں

ملالہ کی اعلٰی امریکی حکام سے ملاقاتیں

ایک وِڈیو جو نیو یارک ٹائمز کی ویب سائٹ پر موجود ہے

دیوانِ رکشا

وطنِ عزیز میں بے ہنگم ٹریفک میں پھنسے جب طبیعت بیزار ہوتی ہے تو کبھی کبھی لمحہ بھر کیلئے جسم میں تازگی آ جاتی ہے ۔ اس پر میں سوچتا ہوں کہ اللہ نے جو بنایا ہے کیا خُوب بنایا ہے ۔ یہ تازہ لمحہ وہی رکشے اور ویگنیں مہیاء کرتے ہیں جن کا بیزار کرنے میں حصہ ہوتا ہے ۔ ایسے کچھ عکس میرے دوست نے بھیجے ہیں جو انجنیئرنگ کالج میں میرا ہمجماعت بھی تھا ۔ چند ملاحظہ ہوں

میں (افتخار اجمل بھوپال) آغا شاہی ایونیو پر گھر آتے ہوئے شاہراہ کشمیر والے چوراہے پر رُکا تو میرے سامنے یہ ویگن کھڑی تھی جو کہ کرائے پر چلنے والی نہیں تھی

ہماری قوم

ہماری قوم یا تو اس تصویر میں کھڑے آدمی کی طرح بے فکر ہے

یا پھر اس طرح مصروفِ عمل ہے

میرا دوسرا بلاگ ” حقیقت اکثر تلخ ہوتی ہے ۔ Reality is often Bitter“۔
” پچھلے 8 سال سے معاشرے کے مختلف پہلوؤں پر تحاریر سے بھر پور چلا آ رہا ہے ۔ اور قاری سے صرف ایک کلِک کے فاصلہ پر ہے ۔ 2010ء ميں ورڈ پريس نے اسے 10 بہترين بلاگز ميں سے ايک قرار ديا تھا

روانگی

ہم نے 22 اور 23 جون 2012ء کی درمیانی شب دبئی جانا تھا ۔ 20 جون کو ایک قریبی عزیز کا میرے موبائل فون پر پیغام ملا

میرا لفظ لفظ ہے دعا دعا
میرے آنسوؤں سے دھُلا ہوا
تمہیں زندگی کی سحر ملے
تمہیں خوشیوں کا سفر ملے
تم پہ درد و غم بھی نہ آ سکے
تیری آنکھ نم بھی نہ ہو سکے
تیرا پیار جس پہ نثار ہو
وہ ھمیشہ تیرے پاس ہو
تم پہ خُوشیوں کی برسات ہو
اور طویل تیری حیات ہو
آمین

وہ انسان بہت خوش نصیب ہوتا ہے جسے بِن مانگے پُرخلوص نیک دعا ملے ۔ یہ اللہ کی مجھ پر خاص مہربانی ہے ۔ اللہ سُبحانُہُ و تعالٰی کا کرم رہا اور ہمارے 2 ماہ بیٹے بہو بیٹی ۔ پوتے ابراھیم اور نو وارد پوتی ھناء کے ساتھ ایسے گذرے کہ پتہ بھی نہ چلا ۔ یہاں واپس آنے کے بعد دن لمبے محسوس ہونے لگے ہیں ۔ اُدھر 3 سالہ پوتا ہر ہفتے کہتا ہے “دادا ۔ دادَو ۔ پھوپھو میرے گھر آ جاؤ”۔ پچھلے ہفتہ ابراھیم نے اپنے والدین سے کہا کہ ”دادا دادَو اگلے سال آئیں گے“۔ لیکن یہ گردان کہ ”پھوپھو کب آئیں گی ؟” ابھی جاری ہے ۔ ہم تو ابھی نہیں جا سکتے ۔ سوچتے ہیں کہ بیٹی (ابراھیم اور ھناء کی پھوپھو) کو بھیج دیا جائے

یہ ہمارا چھوٹے بیٹے کے ہاں چوتھا پھیرا تھا جو کہ پوتے کی پیدائش کے بعد تیسرا اور پوتی کی پیدائش کے بعد پہلا تھا ۔ دبئی کے چوتھے پھیرے کی چیدہ چیدہ باتیں اِن شاء اللہ وقتاً فوقتاً لکھوں گا