Category Archives: روز و شب

اسلامی نظامِ حکومت ۔ قسط ۔ 2

قسط ۔ 1 کیلئے یہاں کلک کیجئے

منقول ہیں پروفیسر حافظ محمد عبداللہ بہاولپوری کے کتابچہ(مولانا مودودی اور جماعت اسلامی کے نام) میں سے چند اقتباسات

وَقُلْ جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ ۚ إِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا (بنی اسرائیل۔81) ’’اور اعلان کردے کہ حق آچکا اور باطل نابود ہوگیا، یقیناًباطل تھا بھی نابود ہونے والا‘‘

اسلام میں خلافت کا تصور
خلافت کا تصور جس سے کفر خائف ہے یہ ہے کہ حاکم اعلیٰ اللہ ہے اور انسان جو حقیقت میں ایک صحیح مسلمان ہی ہو سکتا ہے روئے زمین پر اس کا خلیفہ ہے۔سب انسان اپنی خلقت کے اعتبار سے برابر ہیں۔کیونکہ سب آدم علیہ السلام کی اولاد ہیں۔کسی کو کسی پر فوقیت نہیں۔فوقیت صرف نیکی اور تقویٰ سے ہے۔

جیسے اللہ کی حاکمیت وسیع ہے اسی طرح اس کے خلیفے کی خلافت بھی روئے زمین پر وسیع ہے۔اسلام کے لیے کوئی ملکی حدود نہیں۔روئے زمین پر اسلام پھیلانا خلیفہ کا فرض ہے۔خلافت کے اس تصور سے مسلمانوں میں وحدت اور ایک مرکز کا احساس پیدا ہوتا ہے۔جہاد کا جذبہ ابھرتا ہے ۔جب سب مسلمان برابر ہیں تو قومی اور علاقائی عصبیتوں کا خاتمہ ہوتا ہے۔خلافت کا یہ تصور کفر کے لیے الٹی میٹم ہے اور اسلام کے لیے توسیع کا پروگرام جس کے لیے جہاد کی ضرورت ہے اور جہاد کا حکم یہ ہے کہ جب تک کفر مٹ نہ جائے جہاد جاری رکھو ۔ وَقَاتِلُوهُمْ حَتَّى لَا تَكُونَ فِتْنَةٌ وَيَكُونَ الدِّينُ لِلَّهِ ۖ فَإِنِ انْتَهَوْا فَلَا عُدْوَانَ إِلَّا عَلَى الظَّالِمِينَ (البقرۃ ۔193) ‘‘ان سے لڑو جب تک کہ فتنہ نہ مٹ جائے اور اللہ تعالیٰ کا دین غالب نہ آجائے۔ ’’

کفر جانتا ہے کہ خلافت الٰہیہ اور جہاد ایسے لفظ ہیں کہ ان سے مسلمانوں کی وہ دینی حس بیدار ہوتی ہے جو سب عصبیتوں کو ختم کر دیتی ہے اور مسلمان جہاد کے لیے اٹھ کھڑے ہوتے ہیں۔اس لیے کفر خلافت کے تصور کو برداشت نہیں کرتا وہ اسے ہر صورت میں مٹانا چاہتا ہے،وہ جمہوریت کا سبق پڑھاتا ہے تاکہ مسلمان اللہ کو بھول کر اپنی حکمرانی کی دوڑ میں لگ جائیں۔مختلف عصبیتیں پیدا کر کے الیکشن لڑیں اور انتشار کا شکار ہوں۔اسلام کی توسیع اور جہاد کا جذبہ ان کے دلوں سے نکل جائے چھوٹی چھوٹی اپنی جمہوریتیں بنا کر دست و
گریباں رہیں۔جب کمزور ہو جائیں تو کفر کے دست نگر رہیں۔

جمہوریت
جمہوریت مستقل ایک علیحدہ نظام ہے اسلام ایک علیحدہ نظام ہے ۔جمہوریت کو کافروں نے ایجاد کیا ہے اسلام اللہ کا نظام ہے جو ساری کائنات میں جاری ہے ۔جمہوریت میں عوام ہی سب کچھ ہوتے ہیں جو چاہتے ہیں کرتے ہیں اللہ کا کوئی تصور نہیں ہوتا۔جمہوریت میں عوام ہی طاقت کا سر چشمہ سمجھے جاتے ہیں ،ان کی حکمرانی ہوتی ہے،وہ اپنے معاشرے کا خود ہی دستور بناتے ہیں،خود ہی قانون۔جو پارٹی اکثریت میں ہو حکومت کرتی ہے جو اقلیت میں ہو محکوم ہوتی ہے ،اس طرح انسان انسان پر حکومت کرتا ہے

اسلام میں حاکمیت اعلیٰ اللہ کی ہوتی ہے ۔ اب انسان اس کے حکم کے تابع ہوتے ہیں راعی اور رعایا سب اللہ کے سامنے جواب دہ ہوتے ہیں۔اسلام میں قانون اللہ کاہوتا ہے کوئی انسان کسی انسان پر اپنے قانون کے ذریعے حکم نہیں کر سکتا ۔حکومت سب پر اللہ کی ہوتی ہے

جمہوریت میں اکثریت جو چاہتی ہے کرتی ہے۔جمہوریت میں حق نا حق جائز نا جائز اچھا برا فی نفسہ کوئی چیز نہیں۔ جو اکثریت منظور کر دے وہی حق اور جائز حتیٰ کہ اگر اکثریت فعل قوم لوط (sodomy) کو جائز قرار دے دے تو معاشرے میں وہ بھی جائز سمجھا جائے گا ۔جمہوریت میں اکثریت کو بالا دستی ہوتی ہے۔ اکثریت اپنی اکثریت کے بل بوتے پر جو چاہے کرے ،حلال کو حرام کر دے حرام کو حلال،جمہوری نظام میں سب کچھ روا ہے

اسلام میں اقلیت اور اکثریت کوئی چیز نہیں۔ اسلام میں طاقت حق کو حاصل ہوتی ہے جو اللہ کا قانون ہے۔حق اقلیت میں ہو یا اکثریت میں۔بالا دستی حق کی ہوتی ہے ۔جو حق نہیں خواہ وہ اکثریت میں ہو اسلام میں اس کے لیے کوئی جگہ نہیں ۔ قرآن مجید میں ہے ۔ وَلَوْ اتَّبَعَ وَلَوِ اتَّبَعَ الْحَقُّ أَهْوَاءَهُمْ لَفَسَدَتِ السَّمَاوَاتُ وَالْأَرْضُ وَمَنْ فِيهِنَّ ۚ بَلْ أَتَيْنَاهُمْ بِذِكْرِهِمْ فَهُمْ عَنْ ذِكْرِهِمْ مُعْرِضُونَ (المومنون 71)”اگر حق ہی ان کی خواہشوں کا پیرو ہو جائے تو زمین و آسمان اور ان کے درمیان کی ہر چیز درہم برہم ہو جائے“ یعنی اگر حق عوام کے تابع ہو جائے خواہ وہ اکثریت میں ہی ہوں تو سارا نظام درہم برہم ہو جائے اس کاصاف مطلب ہے کہ اسلامی نظام میں جمہوریت چل ہی نہیں سکتی ۔ اسلام میں جوں ہی جمہوریت آئی اسلامی نظام درہم برہم ہوا۔اسلام حق کی برتری چاہتا ہے

جمہوریت میں مذہب (دین) کوئی چیز نہیں مذہب (دین) ہر آدمی کا اپنا ذاتی مسئلہ ہے اور پرائیویٹ مسئلہ ہے ۔ہر کوئی جو مرضی مذہب (دین) رکھے کوئی پابندی نہیں۔جمہوریت کی نظر میں اسلام اور کفر دونوں برابر ہیں۔جمہوریت لادینیت کا دوسرا نام ہے۔جمہوریت کا ذہنوں پر یہ اثر ضرور ہوتا ہے کہ آدمی سیکولر سا ہو جاتا ہے اور نہیں تو دینی غیرت تو ضرور ختم ہو جاتی ہے۔اسلام ایک مستقل مذہب (دین) ہے جسکی بنیاد اللہ ہی کے تصور پر ہے۔اسلام کی نگاہ میں مذہب (دین) صرف اسلام ہے،باقی سب باطل ہے ۔ فَذَلِكُمُ اللَّهُ رَبُّكُمُ الْحَقُّ ۖ فَمَاذَا بَعْدَ الْحَقِّ إِلَّا الضَّلَالُ ۖ فَأَنَّى تُصْرَفُونَ (یونس 32) ”پھر حق کے بعد اور کیا رہ گیا بجز گمراہی کے“

اسلامی نظام میں باطل کے لیے کوئی جگہ نہیں ۔باطل کو مٹانا اسلام کا فرض ہے اور یہی جہاد ہے جو قیامت تک جاری ہے۔جب جمہوریت اور اسلام میں اتنا تضاد ہے تو جمہوریت اسلامی کیسے ہو سکتی ہے ؟ نظام اسلام چلانے والوں کا انتخاب عوام کے ہاتھ میں دینا جمہوریت میں تو جائز ہو سکتا ہے ،اسلام میں جائز نہیں کیونکہ عوام تو کالانعام ہوتے ہیں۔ ان کو دھونس ،دھاندلی اور دھوکے سے ہر وقت ورغلایا جا سکتا ہے وہ کبھی صحیح انتخاب نہیں کر سکتے۔ یہ کام تو وہی لوگ کر سکتے ہیں جو صاحب کردار ہوں اور خود اسلام میں اجتہادی بصیرت رکھتے ہوں ۔ عوام کے سپر دیہ کام کر دینا ایسی ہی حماقت ہے جیسے کسی بڑے کارخانے کی تنصیب کا کام دیہاتیوں کے سپرد کر دینا۔ عوام کو یہ حق دینا گویا اسلام کو عوام کے تابع کرنا ہے کہ وہ جیسا اسلام چاہتے ہیں لائیں گے مزدوروں کا اسلام لائیں گے۔ عوام کا اسلام لائیں گے۔ انھیں یہ معلوم نہیں کہ اسلام ایک ہے۔ اصل میں یہ لوگ اپنی ذہن کی کجی کو بھی اسلام سمجھتے ہیں کیونکہ آج کل کے مسلمانوں کا اسلام کے بارے میں نظریہ بڑا عجیب ہے وہ سمجھتے ہیں کہ جو کچھ مسلمانوں میں چل جائے سب کچھ اسلام ہے۔ ان کے نزدیک مسلمان اسلام سے نہیں بلکہ اسلام مسلمانوں سے بنتا ہے۔ جو کچھ مسلمان کرتے جائیں وہ اسلام بنتا جاتا ہے۔ وہ یہ نہیں جانتے کہ اسلام اللہ کا دین ہے مسلمانوں کا بنایا ہوا نہیں ہے۔ اگر وہ خالص رہے ،ملاوٹ بالکل بھی نہ ہو تو اسلام ہے۔ ذرا بھی ملاوٹ یا رد و بدل ہو جائے تو وہ کفر ہو جاتا ہے۔ لوگ اسلام کے تابع رہیں تو مسلمان ہیں اسلام کو اپنا تابع بنائیں تو کافر ہیں

اسلام کا تو یہ حکم ہے کہ عوام کے کسی حق پر خلیفہ کو ہٹایا نہیں جا سکتا کیونکہ وہ اللہ کا نائب ہے۔ لیکن جمہوریت کہتی ہے کہ ہر پانچ سال بعد ضرور الیکشن ہو گا تاکہ خلیفہ کو بدلاجا سکے اس کا کوئی قصور ہو یا نہ ہو۔ لہٰذا ہر پانچ سال بعد والے الیکشن کروانے میں اسلام کے اس حکم کی صریح مخالفت ہے۔ اللہ کی حاکمیت کا ابطال ہے۔ نظریہ خلافت الٰہیہ کا استیصال ہے۔ آپ احادیث کو دیکھیں پھر اندازہ کریں کہ اس الیکشن بازی میں اسلام کی کتنی مخالفت ہے۔ کوئی مانے یا نہ مانے اسلام میں الیکشن بازی کی کوئی گنجائش نہیں۔ اسلام میں الیکشن نہ پہلی بار جائز ہے نہ پانچ سال بعد۔ جب اسلام عوام کی حکومت کے حق کو ہی تسلیم نہیں کرتا تو الیکشنوں کی اجازت کیسے دے سکتا ہے ؟ عوام کو الیکشنوں کی اجازت دینے کے معانی یہ ہیں کہ حکومت عوام کا حق ہے۔ عوام کو حکومت کا حق دینے کے معانی یہ ہیں کہ اللہ علی الاطلاق حاکم نہیں۔ زمین پر حکومت عوام کی ہے۔ جب زمین پراللہ کی حاکمیت نہ رہی تو اللہ کے احکام ماننے کا سوال کہاں رہا۔ تو پھر اسلام کہاں رہا اور یہی کفر چاہتا ہے کہ جمہوریت کے ذریعے مسلمانوں کو ملحد اور لا دین بنائے۔ الیکشنوں میں صریحاً اسلام کی مخالفت ہے

1 ۔ الیکشن جمہوری نظام کا ایک عمل ہے تو الیکشن کروانے میں جمہوری نظام کی ترویج ہے۔ چونکہ جمہوری نظام کفر کا نظام ہے لہٰذا الیکشن کروانا گویا کفر کے نظام کو رواج دینا ہے
2 ۔ الیکشن جمہوری عمل ہے اور جمہوریت کفر کا نظام ہے اس نظام کی بنیاد اس عقیدے پر ہے کہ اللہ اور اسکی حاکمیت کوئی چیز نہیں۔ خلافت الٰہیہ کا تصور ملوکیت کا استبدادی تصور ہے۔حکومت عوام کا حق ہے عوام ہی سب کچھ ہیں ۔عوام کو چاہیے کہ الیکشن کے ذریعے اپنے اس حکومت کے حق کو استعمال کریں ۔لہٰذا الیکشن کروانا گویا اس کفریہ عقیدے کو تسلیم کرنا ہے
3 ۔ الیکشنوں کی بنیاد یہ عقیدہ ہے کہ حکومت عوام کا حق ہے اللہ کا حق نہیں،الیکشن کروانا گویا عوام کے اس حق کو تسلیم کرنا ہے۔جس سے اللہ کی حاکمیت کی نفی ہوتی ہے
4 ۔ اسلام کہتا ہے حکومت اللہ کا حق ہے کیونکہ ہر چیز کا خالق و مالک وہی ہے ۔زمین پر بھی حکومت اللہ ہی کی ہے ۔زمین پر اللہ کا نائب خلیفہ ہوتا ہے۔ اس نائب کا کام اللہ کے احکام کو نافذ کرنا ہوتا ہے ۔اس نائب کے لیے عوام کا نمائندہ ہونا ضروری نہیں ،وہ چند ایک کا مقرر کردہ بھی ہو سکتا ہے، وہ غیر ملکی بھی ہو سکتا ہے ،وہ خود قابض بھی ہو سکتا ہے۔جو اللہ کے دین کو نافذ کرے وہ نائب ہے۔عوام اسے منتخب کر سکتے ہیں نہ معزول ۔الا یہ کہ وہ اللہ کا باغی ہو جائے ،عوام اپنے کسی حق کی وجہ سے اسے نہیں ہٹا سکتے۔

اسلامی سیاست
اسلامی سیاست کی راہ اسلامی جمہوریت کی طرح عافیت کی راہ نہیں ، بہت کھٹن ہے ، پر خطر ہے ، جان لیوا ہے ، صبر آزما ہے لیکن ہے یقینی کیونکہ جہاد کی راہ ہے، جب پہنچائے گی خواہ دیر سے پہنچائے، پہنچائے گی ٹھکانے پر۔ جمہوریت کی طرح لٹکائے ٹرخائے گی نہیں۔ اسلامی تاریخ دیکھ لیں۔ اسلام جب آتا ہے کفر کو پچھاڑ کر آتا ہے ۔ یہ نہیں کہ کفر کے ہاتھ میں ہاتھ دے کر کفر کے ساتھ آئے۔ اس کے آنے کا انداز قرآن بیان کرتا ہے وَقُلْ جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ ۔ ”حق آچکا اور ناحق نابود ہوگیا“۔ اسی لیے جمہوریت خواہ اسلامی ہو اسلام نہیں لا سکتی۔ اگر جمہوریت اپنی بے بسی میں کبھی اسلام لائے بھی تو کفر کے ہاتھوں سمجھوتہ کر کے لائے گی۔ تاکہ کفر کے لیے کاروائی کا موقعہ رہے۔
وَقُلْ جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ ۚ إِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا (بنی اسرائیل۔81) ۔ ”اور اعلان کردے کہ حق آچکا اور باطل نابود ہوگیا، یقیناًباطل تھا بھی نابود ہونے والا“۔ والی بات نہ بنے اور جو اسلام اسکے انداز سے نہیں آتا وہ نہیں رہتا

پاکستان کب سے اسلامی بنا ہے؟ قرار داد مقاصد کو پاس ہوئے کتنا عرصہ گزر گیا ہے؟ لیکن چونکہ درمیان میں جمہوریت کا ہاتھ رہا ہے اس لیے آج تک پاکستان کو اسلام کے پاؤں نہیں لگ سکے۔ اسلام کبھی نہیں آتا جب تک کفر کو پچھاڑ نہ دے کفر پر چڑھ نہ جائے کفر کو مسل نہ دے کہ وہ پھر اٹھنے کے قابل نہ رہے اور یہ جمہوریت کے تحت کبھی نہیں ہو سکتا۔ اسلامی سیاست ہی ایسا کر سکتی ہے۔ اسلامی سیاست کیا چیز ہے؟ اسلام لانے کی اسلامی کوشش جو بھٹو اور ایوب جیسے کفر کے آئینوں سے آزاد ہو کر اسلام لانے کی نیت سے کی جائے اور اسلام پر منتج ہو۔ یہ ذہن کا بگاڑ ہے ، یہ جمہوریت کا اثر ہے کہ آئین بھٹو اور ایوب بنائیں اور ہم اسلامی بن کر ان آئینوں کی پابندی کرتے رہیں ۔ اسلام کفر کے آئینوں کے دماغ توڑنے سکھاتا ہے نہ کہ ان کی پابندی کرنا۔قرآن کہتا ہے ۔ بَلْ نَقْذِفُ بِالْحَقِّ عَلَى الْبَاطِلِ فَيَدْمَغُهُ فَإِذَا هُوَ زَاهِقٌ ۚ وَلَكُمُ الْوَيْلُ مِمَّا تَصِفُونَ (الانبیاء 18) ۔ ”بلکہ ہم سچ کو جھوٹ پر پھینک مارتے ہیں پس سچ جھوٹ کا سر توڑ دیتا ہے۔ اور اسی وقت نابود ہو جاتاہے، تم جو باتیں بناتے ہووہ تمہارے لئے باعث خرابی ہیں“۔

ہمیں اللہ کے رسول ﷺ اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو دیکھنا ہوگا ۔جمہوریت کو چھوڑ کر انکی سیاست اور تدابیر کو اپنانا ہو گا ۔ان جیسے کارنامے انجام دینے ہوں گے۔ اگر ہم ایسا کریں گے تو ہمیں ان شاء اللہ کامیابی ہو گی اور اگر ہم اپنے اسلاف کو چھوڑ کر کفر کے نظام جمہوریت کے پیچھے پڑے رہے تو خسر الدنیا و الآخرۃ والا ہمارا انجام ہو گا۔
أَلَمْ يَأْنِ لِلَّذِينَ آمَنُوا أَنْ تَخْشَعَ قُلُوبُهُمْ لِذِكْرِ اللَّهِ وَمَا نَزَلَ مِنَ الْحَقِّ وَلَا يَكُونُوا كَالَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ مِنْ قَبْلُ فَطَالَ عَلَيْهِمُ الْأَمَدُ فَقَسَتْ قُلُوبُهُمْ ۖ وَكَثِيرٌ مِنْهُمْ فَاسِقُونَ (الحدید 16)
”کیا اب تک ایمان والوں کیلئے وقت نہیں آیا کہ ان کے دل ذکر الٰہی سے اور جو حق اتر چکا ہے اس سے نرم ہو جائیں، اور انکی طرح نہ ہوجائیں جنہیں ان سے پہلے کتاب دی گئی تھی، پھرجب ان پر ایک زمانہ دراز گزر گیا تو ان کے دل سخت ہوگئے ،اور ان میں بہت سےفاسق ہیں“ ۔

ایک دوسرے اہلِ عِلم کی تحریر اِن شاء اللہ چند دن بعد

بغل میں چھُری ۔ منہ میں رام رام

تھوڑی سی تحقیق کی جائے تو افشا ہوتا ہے کہ امن پسندی کا شور مچانے والے ہی دراصل دہشتگرد ہیں ۔ اسرائیلی افواج فلسطین میں ہوں یا بھارتی افواج جموں کشمیر میں یا امریکی افواج عراق افغانستان اور ملحقہ علاقوں میں

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کے ظلم و استبداد کی داستان طویل ہے ۔ اسی سلسلے میں انسانی حقوق کے لئے سرگرم بھارتی رضاکاروں نے ایک رپورٹ جاری کی ہے جس میں 22 سال سے جاری کاروائی میں فوج ، نیم فوجی دستوں اور پولیس کے 500 افسروں اور اہلکاروں پر جنگی جرائم کے الزامات عائد کئے ہیں جن میں سے کچھ یہ ہیں

فرضی جھڑپوں ، حراست کے دوران اموات اور جنسی زیادتیوں کے 214 معاملات میں 235 فوجی اہلکاروں ، 123 نیم فوجی اہلکاروں ، 111 مقامی پولیس اہلکاروں اور فوجی اداروں سے وابستہ 31 سابقہ عسکریت پسندوں کو ملوث پایا گیا ہے

ان کارروائیوں ملوث اہلکاروں میں شامل ہیں
فوج کے 2 میجر جنرل ، 3 بریگیڈیئر ، 9کرنل ، 3 لیفٹننٹ کرنل ، 78 میجر اور 25 کیپٹن
نیم فوجی اداروں کے 37 سینیئر افسر
مقامی پولیس کے ایک انسپکٹر جنرل اور ایک ریٹائرڈ سربراہ

رپورٹ کی تفصیلات کا بیشتر حصہ اْن دستاویزات اور معلومات پر مشتمل ہے جو بھارت میں انسانی حقوق کی سرکردہ تنظیم ”کولیشن آف سول سوسائٹیز (Coalition of Civil Societies)“ اور کشمیر کی سرکردہ تنظیم اے پی ڈی پی (Association of Parents of Disappeared People ۔ لاپتہ افراد کے والدین کی تنظیم) اور نجی طور پر بنائے گئے ”بین الاقوامی مسند عدالت (International Tribunal)“نے حکومت سے حقِ اطلاع (Right to Information) کے قانون کے تحت طلب کی ہیں ۔ کولیشن آف سول سوسائٹیز اور اے پی ڈی پی طویل عرصے سے کشمیر میں گم شدہ نوجوانوں اور وہاں پولیس کے ہاتھوں مبینہ فرضی تصادم میں مارے جانے والے معصوم کشمیریوں کے لئے انصاف کا مطالبہ کر رہی ہیں

بندے دا پُتر

یہ 3 لفظ ہیں
”بندہ“ معنی ”اللہ کا بندہ“ مطلب ”اللہ سے ڈرنے والا“
”دا“ پنجابی ہے اُردو میں ”کا“
”پُتر“ مطلب ”بیٹا“۔ ”پُتر“ ویسے اُردو میں بھی کہتے ہیں

آدھی صدی پر محیط تجربہ سے میں نے سیکھا ہے کہ آدمی چاہے پڑھا لکھا ہو یا اَن پڑھ اگر ”بندے دا پُتر“ ہو تو

1 ۔ درخواست کرنے یا مشورہ یا ھدائت دینے پر بات اُس کی سمجھ میں آ جاتی ہے اور درست کام کرتا ہے
2 ۔ پھر اگر اُس سے غلطی ہو جائے تو اپنی غلطی مانتا ہے
3 ۔ اگر پہلے وہ محنتی نہ ہو تو مشورہ یا ھدائت ملنے پر محنت کرتا ہے

1963ء میں جب میں نے پاکستان آرڈننس فیکٹریز میں ملازمت شروع کی تو وہاں میرے سنیئر نے چپڑاسی سے میرا تعارف کرا کے اُسے باہر بھیجنے کے بعد کہا ”یہ میری قوم ہے ۔ میں انہیں اچھی طرح جانتا ہوں ۔ یہ کسی کیلئے اپنا دماغ استعمال نہیں کرتے کہ کہیں خرچ نہ ہوجائے (یعنی ختم نہ ہو جائے)“ ۔ آج میں وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ اُن کا تجزیہ بالکل درست تھا

جو ”بندے دا پُتر“ نہیں ہوتے ۔ ان میں اَن پڑھ ۔ پڑھے لکھے ۔ غریب ۔ امیر ۔ مزدور اور بڑے عہدیدار یعنی کوئی بھی ہو سکتا ہے لیکن میں بات کرنا چاہتا ہوں گھریلو ملازموں کی ۔ ان لوگوں کو آپ لاکھ سمجھائیں ۔ کریں گے وہ اپنی مرضی ۔ آپ کا چاہے بڑا نقصان ہو جائے وہ اپنا پیسہ تو کیا ایک منٹ ضائع نہیں ہونے دیں گے ۔ دوسری بات کہ یہ لوگ اپنی غلطی کسی صورت نہیں مانتے ۔ بہت دبایا جائے تو کسی اور کے سر ڈال دیں گے

سات آٹھ سال سے ہم کھانا پکانے کیلئے عورت (باورچن) ملازم رکھتے ہیں ۔ ہر باورچن کو میری بیگم سمجھاتی ہیں کہ گیس اتنی کھولو کہ شعلہ دیگچی کے پیندے سے باہر نہ نکلے ۔ ہر باورچن زبانی ثابت کرنے کوشش کرے گی کہ وہ اس سے بھی زیادہ محتاط ہے

ہم پونے 2 سال لاہور میں رہے ۔ اللہ کی مہربانی سے وہاں ملازمہ جو ہمیں ملی وہ ”بندے دا پُتر“ قسم کی تھی ۔ اسلام آباد میں سوا 5 سال میں 4 دیگچیوں اور 2 پریشر کُکروں کی دستیاں جلائی گئیں ۔ میں نے کچھ روز قبل”حق حلال“ کے عنوان کے تحت ایک چمچے اور دیگچی کا ذکر کیا تھا ۔ اس دیگچی کی سخت پلاسٹک (Bakelite) جو آگ نہیں پکڑتا کی بنی ہوئی دستی جلنے کے باعث اُتر گئی تھی ۔ اتفاق سے میری نظر پڑ جانے کی وجہ سے دستی تباہ ہونے سے بچ گئی ۔ نمعلوم مزید کب تک چلے گی

اکتوبر کے شروع میں کچھ بھائی بہن آئے ۔ چاول زیادہ پکانےتھے ۔ بڑا چمچہ نکالا تو دستی کی ایک چفتی غائب ۔ باورچن کی جانے بلا کہ کہاں گئی ۔ کوئی جِن یا بھُوت چفتی اُتار کر لے گیا ہو گا

ایک پرانی بات یاد آئی ۔ اُس زمانہ میں صرف گھر کی صفائی اور برتن دھونے کیلئے ملازمہ ہوتی تھی ۔ دیکھنے میں اچھے خاصے مضبوط جسم کی مالک تھی ۔ میری بیگم نے کہا ”گاجریں کدوکش (shred) کر دو“۔ بولی ”میرے بازوؤں میں طاقت نہیں“۔ بیگم جو سنگل پسلی ہیں خود کرنے لگیں ۔ کچھ دن بعد بیگم نے ملازمہ سے کہا ”اُوپر جا کر پائپ کا والو (valve) بند کر آؤ تاکہ تمہارے ہاتھ دھونے کی ٹُوٹی ٹھیک کر دیں“۔ وہ بند کر کے آ گئی پھر بھی پانی بہہ رہا تھا۔ میں دیکھنے گیا تو معلوم ہوا کہ والو کو اُلٹی طرف گھُما کر توڑ دیا ہے ۔ اللہ رے یہ کیسے کمزور بازو تھے ۔ میں ایڑھی سے چوٹی تک کا زور لگاتا مگر والو اُلٹا نہیں گھُما سکتا تھا۔ اس محترمہ کمزور کے ہاتھوں مزید ہماری 2 چھُریاں اور 2 ریفریجریٹر کی برف جمانے والی ٹرے ٹوٹیں ۔ ہِیٹ پروف شیشے کی بنی کیتلی براہِ راست گرم چولہے پر رکھ کر توڑ دی ۔ درجنوں کے حساب کھانے والے اور چائے کے چمچے اور گلاس غائب ہوئے ۔ باورچی خانے میں ایک دراز میں فروٹ سلاد وغیرہ کے ٹین کے ڈبوں کے کٹے ہوئے گول ٹین کے ٹکڑے پڑے تھے ۔ بیگم نے کہا ”یہ کیا گند اکٹھا کیا ہوا ہے ۔ اسے پھینکو“۔ اگلے ماہ معلوم ہوا کہ وہ ٹین کےٹکڑے تو وہیں ہیں البتہ میں نے ایک الماری میں پیتل کا بنا ہوا مٹی کے تیل کا سٹوو ۔ سنگر سیونگ مشین کا انگلینڈ سے لایا ہوا تیل کا بھرا ہوا ڈبہ اور کئی اور کارآمد اشیاء رکھی ہوئی تھیں وہ غائب ہیں ۔ پوچھا تو نہائت معصومیت سے کہا ”آپ ہی نے تو کہا تھا پھینک دو“۔ کھانے اور چائے کی چمچیوں ۔ پانی پینے والے گلاسوں اور چائے کی پیالیوں کی الگ داستان ہے ۔ ہمیں پتہ ہی نہیں چلتا کہ کب ٹوٹا یا کب گم ہوا

کہاں تک سُنو گے کہاں تک سناؤں ۔ ۔ ۔ بس کرتا ہوں

(در پردہ بیان ۔ ہماری بیگم صاحبہ کا اصول ہے کہ ہم کسی پر چوری کا الزام اُس وقت تک نہیں لگا سکتے جب تک ہم خود اُسے چوری کرتے نہ پکڑیں ۔ چنانچہ ہم ملازمہ کے کمرے کی تلاشی لے کر مسروقہ مال بھی برآمد نہیں کر سکتے ۔ مزید یہ کہ جس عورت کو ایک بار ملازم رکھ لیا اُسے نکالنا نہیں ہے جب تک وہ کوئی انتہائی مُخربُ الاِخلاق حرکت نہ کرے ۔ چنانچہ ایسا ہوتارہتا ہے کہ جن دنوں ہمیں ملازمہ کی اشد ضرورت ہوتی ہے عام طور پر اُنہی دنوں میں ملازمہ اپنے گاؤں چلی جاتی ہے ۔ مجھے اپنی بیگم سے کوئی گلہ نہیں کیونکہ یہ اُس کی بہت سی اچھائیوں میں سے ایک چھوٹی سی اچھائی ہے ۔ شاید اللہ تعالٰی نے اسلام آباد کا سارا رحم میری بیگم کے دل میں ڈال دیا ہے ۔ جون 2012ء سے ہمارے پاس ماں بیٹی ملازم ہیں ایک بیٹا ہے جو ساتھ رہتا ہے اور محلہ میں کسی کا ڈرائیور ہے ۔ ماں بیٹا 6 ہفتے سے مکان بنانے گاؤں گئے ہوئے ہیں ۔ کہہ کر 2 ہفتے کا گئے تھے ۔ عید والے دن بھائی آ کر بہن کو بھی ایک دن کیلئے لے گیا تھا جو 4 دن بعد واپس آئی تو طبیعت کچھ مضمحل تھی ۔ چند دن بعد زکام ۔ گلا خراب وغیرہ ہوا ۔ ہفتہ بھر وہ بستر پر لیٹی رہی اور بیگم کھانا پکا کر اور دوائیاں تینوں وقت ملازمہ کو کوارٹر میں دے کر آتی رہیں ۔ اسے کھانا دینے کیلئے بیگم جو برتن اور روٹیوں کے رومال اسے دے کر آتیں وہ وہیں اکٹھے ہوتے رہے ۔ بعد میں بیگم نے لا کر دھلوائے)

ڈھائی لاکھ کا مقروض ہو گیا ۔ بچاؤ

اچھی طرح تحقیق یا تفتیش کر لیجئے میں نے ساری زندگی کبھی کسی سے قرض نہیں لیا لیکن کل یعنی 15 نومبر 2012ء کو مجھے معلوم ہوا کہ میں 242683 روپے کا مقروض ہوں یعنی میری بیوی ۔ بیٹی اور مجھ پر فی کس 80894 روپے قرض چڑھ چکا ہے ۔ کیا یہ ظُلم نہیں ؟

آپ کیوں بغلیں بجا رہے ہیں ؟ اگر آپ پاکستانی ہیں تو آپ پر بھی 80894 روپے قرض چڑھ چکا ہے اور آپ کے گھر کے ہر فرد پر بھی اتنا ہی اور ہاں اتنا ہی ہر بچے پر بھی خواہ وہ ایک دن کا ہو

پاکستان کی اگست 1947ء میں آزادی سے لے کر جون 2008ء تک یعنی پیپلز پارٹی کی رواں حکومت بننے سے پہلے 60 برس میں مجموعی قرضے اور واجبات 6691 ارب روپے تھے جو پیپلز پارٹی کے موجودہ 4 سالہ دور میں بڑھ کر 14561 ارب روپے ہو گئے ہیں ۔ مطلب حکمران پیپلز پارٹی کے رواں دور حکومت میں قرضوں کے بوجھ میں 7870 ارب روپے کا اضافہ ہوا

ان اعداد و شمارکی روشنی میں پاکستان کی 18کروڑ کی آبادی جس میں شیر خوار بچے بھی شامل ہیں کا ہر فرد 80894 روپے کا مقروض ہے۔
جبکہ پیپلز پارٹی کے موجودہ دور سے قبل قرضوں کا یہ بوجھ 37172 روپے فی کس تھا

ایک ایسا ملک جہاں خود حکومت کی رپورٹ کے مطابق غربت کی شرح آبادی کا 58 فیصد ہو گئی ہے اور اسے خوراک کے عدم تحفظ کا سامنا ہے ۔ یہ مزید بوجھ ملک کی آئیندہ نسلوں کیلئے مصائب اور مشکلات میں مزید اضافہ کردیگا۔ حکومت جو روزانہ کی بنیاد پر بینکوں سے اربوں روپے کے قرضے لے رہی ہے اس کو دیکھتے ہوئے خدشہ ہے کہ مجموعی قرضے اور واجبات 16000 ارب روپے سے تجاوز کرجائیں گے۔ گزشتہ مالی سال 12۔2011 کے دوران حکومت نے 2000 ارب روپے کے قرضے لئے جو یومیہ 5.5 ارب روپے بنتے ہیں

ان 14561 ارب روپوں میں سے حکومت کا مقامی روپوں میں قرضہ 7638 ارب روپے اور بیرونی یعنی زرِ مبادلہ کا قرضہ 4365ارب روپے ہیں۔ آئی ایم ایف سے قرضہ 694 ارب روپے ۔ بیرونی واجبات 227 ارب روپے ۔ نجی شعبے میں بیرونی واجبات 575 ارب روپے ۔ پبلک سیکٹر انٹرپرائز بیرونی قرضہ 144ارب روپے ۔ پبلک سیکٹر انٹرپرائز مقامی قرضہ 281ارب روپے اور کموڈٹی آپریشنز 438 ارب روپے ہیں

ماہرین کے خیال میں کرپشن ۔ خراب حکمرانی ۔ بڑے پیمانے پر ٹیکس چوری اور ناقص اقتصادی طرزِ عمل کی وجہ سے موجودہ دور حکومت میں قوم پر قرضوں کا غیر معمولی بوجھ پڑا

رواں مالی سال کیلئے حکومت نے وفاقی بجٹ میں صرف قرضوں پر سود کی ادائیگی کیلئے 926 ارب روپے مختص کئے ہیں۔ تاہم خدشہ ہے کہ سود کی یہ رقم مالی سال کے اختتام تک بڑھ کر 1100 ارب روپے تک پہنچ جائے گی

ماخذ ۔ اسٹیٹ بینک کی مالیاتی پالیسی کا خلاصہ

اسلامی نظامِ حکومت قسط ۔ 1

”اسلامی نظامِ حکومت کیا ہے ؟“
یہ ہے وہ سوال جو وقفہ وقفہ سے مجھے کئی بار پوچھا جا چکا ہے اور میں بارہا عرض کر چکا ہوں کہ میں عالِمِ دین ہونا تو بڑی بات ہے ، عالِم بھی نہیں ہوں ۔ میں اپنے تئیں اس قابل نہ پاتے ہوئے کچھ لکھنے سے گُریز کرتا رہا ۔ دوسری وجہ یہ تھی کہ میں پہلے اپنے ملک پاکستان کے بارے میں وضاحت کر لوں ۔ اللہ سُبحانُہُ و تعالٰی جو مجھ پر ہمیشہ مہربان رہا ہے کی مزید مہربانی سے میں اس قابل ہوا اور یہ مضامین قارئین کی نظر سے گذرے ہوں گے

تقسیم قائد اعظم کی خواہش تھی یا مجبوری ؟
قائدِ اعظم پاکستان کو سیکولر ریاست بنانا چاہتے تھے ؟
کیا پاکستان ایک مسلم ریاست ہے اسلامی نہیں ؟

اسلامی نظامِ حکومت پر کئی علماء اور مفکرین نے کتابیں لکھی ہیں جو بازار میں دستیاب ہیں ۔ لمبی تحاریر پڑھنے کیلئے عام طور پر وقت کی قلت ہوتی ہے ۔ اگر انسان صرف اپنا طور طریقہ درست کر لے اور انصاف پر کاربند ہو تو بھی اسلامی نظام قائم ہو جائے

طور طریقہ
سورت ۔ 2 ۔ البقرۃ ۔ آیت 263 ۔ ایک میٹھا بول اور کسی ناگوار بات پر ذرا سی چشم پوشی اس خیرات سے بہتر ہے جس کے پیچھے دکھ ہو ۔ اللہ بے نیاز ہے اور بردباری اس کی صفت ہے

سورت ۔ 4 ۔ النسآء ۔ آیت 36 ۔ اور تم سب اللہ کی بندگی کرو ۔ اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بناؤ ۔ ماں باپ کے ساتھ نیک برتاؤ کرو ۔ قرابت داروں اور یتیموں اور مسکینوں کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آؤ ۔ اور پڑوسی رشتہ دار سے ۔اجنبی ہمسایہ سے ۔ پہلو کے ساتھی اور مسافر سے اور ان لونڈی غلاموں سے جو تمہارے قبضہ میں ہوں احسان کا معاملہ رکھو ۔ یقین جانو اللہ کسی ایسے شخص کو پسند نہیں کرتا جو اپنے پندار میں مغرور ہو اور اپنی بڑائی پر فخر کرے

سورت ۔ 4 ۔ النسآء ۔ آیت 86 ۔ اور جب تم کو کوئی سلام کرے تو (جواب میں) تم اس سے بہتر (کلمے) سے (اسے) سلام کرو یا انہیں الفاظ میں سلام کرو ۔ بےشک اللہ ہر چیز کا حساب لینے والا ہے

سورت ۔ 4 ۔ النسآء ۔ آیت 148 ۔ اللہ اس بات کو پسند نہیں کرتا کہ کوئی کسی کو اعلانیہ بُرا کہے مگر وہ جو مظلوم ہو۔ اور اللہ (سب کچھ) سنتا (اور) جانتا ہے

سورت ۔ 5 ۔ المآئدہ ۔ آیت 2 ۔ اور (دیکھو) نیکی اور پرہیزگاری کے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد کیا کرو اور گناہ اور ظلم کی باتوں میں مدد نہ کیا کرو اور خدا سے ڈرتے رہو

سورت ۔ 25 ۔ الفرقان ۔ آیت 63 ۔ اور اللہ کے بندے تو وہ ہیں جو زمین پر آہستگی سے چلتے ہیں اور جب جاہل لوگ ان سے (جاہلانہ) گفتگو کرتے ہیں تو سلام کہتے ہیں

سورت ۔ 25 ۔ الفرقان ۔ آیت 67 ۔ اور وہ جب خرچ کرتے ہیں تو نہ بےجا اُڑاتے ہیں اور نہ تنگی کو کام میں لاتے ہیں بلکہ اعتدال کے ساتھ۔ نہ ضرورت سے زیادہ نہ کم

سورت ۔ 33 ۔ الاحزاب ۔ آیت 58 ۔ اور جو لوگ مومن مردوں اور مومن عورتوں کو ایسے کام (کی تہمت سے) جو انہوں نے نہ کیا ہو ایذا دیں تو انہوں نے بہتان اور صریح گناہ کا بوجھ اپنے سر پر رکھا

سورت ۔ 49 ۔ الحجرات ۔ آیات 11 ، 12 ۔ اے لوگو جو ایمان لاۓ ہو ۔ نہ مرد دوسرے مردوں کا مذاق اڑائیں ۔ ہو سکتا ہے کہ وہ ان سے بہتر ہوں ۔ اور نہ عورتیں دوسری عورتوں کا مذاق اڑائیں ۔ ہو سکتا ہے کہ وہ ان سے بہتر ہوں ۔ آپس میں ایک دوسرے پہ طعن نہ کرو اور نہ ایک دوسرے کو بُرے القاب سے یاد کرو ۔ ایمان لانے کے بعد فسق میں نام پیدا کرنا بہت بُری بات ہے ۔ جو لوگ اس روش سے باز نہ آئیں وہ ظالم ہیں ۔
اے اہل ایمان ۔ بہت گمان کرنے سے احتراز کرو کہ بعض گمان گناہ ہیں اور ایک دوسرے کے حال کا تجسس نہ کیا کرو اور نہ کوئی کسی کی غیبت کرے۔ کیا تم میں سے کوئی اس بات کو پسند کرے گا کہ اپنے مرے ہوئے بھائی کا گوشت کھائے؟ اس سے تو تم ضرور نفرت کرو گے۔ اور اللہ کا ڈر رکھو بےشک اللہ توبہ قبول کرنے والا مہربان ہے

سورت ۔ 61 ۔ الصف ۔ آیت 2 اور 3 ۔ اے لوگو جو ایمان لاۓ ہو ۔ تم کیوں وہ بات کہتے ہو جو کرتے نہیں ہو ؟ اللہ کے نزدیک یہ سخت نا پسندیدہ حرکت ہے کہ تم کہو وہ بات جو کرتے نہیں

عدل و انصاف

سورت ۔ 2 ۔ البقرہ ۔ آیت 42 ۔ باطل کا رنگ چڑھا کر حق کو مُشتبہ نہ بناؤ اور نہ جانتے بُوجھتے حق کو چھپانے کی کوشش کرو

سورت ۔ 2 ۔ البقرہ ۔ آیت 188 ۔ اور ایک دوسرے کا مال ناحق نہ کھاؤ اورنہ اس کو (رشوت کے طور) حاکموں کے پاس پہنچاؤ تاکہ لوگوں کے مال کا کچھ حصہ ناجائز طور پر کھا جاؤ اور (اسے) تم جانتے بھی ہو

سورت ۔ 4 ۔ النّسآء ۔آیت 58 ۔ اللہ تم کو حُکم دیتا ہے کہ امانت والوں کی امانتیں ان کے حوالے کردیا کرو اور جب لوگوں میں فیصلہ کرنے لگو تو انصاف سے فیصلہ کیا کرو اللہ تمہیں بہت خوب نصیحت کرتا ہے ۔ بےشک اللہ سنتا اور دیکھتا ہے

سورت ۔ 4 ۔ النّسآء ۔ آیت 135 ۔ اے لوگو جو ایمان لاۓ ہو ۔ انصاف کے علمبردار اور خدا واسطے کے گواہ بنو اگرچہ تمہارے انصاف اور تمہاری گواہی کی زد خود تمہاری اپنی ذات پر یا تمہارے والدین اور رشتہ داروں پر ہی کیوں نہ پڑتی ہو ۔ فریق معاملہ خواہ مالدار ہو یا غریب ۔ اللہ تم سے زیادہ ان کا خیرخواہ ہے ۔ لہٰذا اپنی خواہش نفس کی پیروی میں عدل سے باز نہ رہو ۔ اور اگر تم نے لگی لپٹی بات کہی یا سچائی سے پہلو بچایا تو جان رکھو کہ جو کچھ تم کرتے ہو اللہ کو اس کی خبر ہے

سورت ۔ 16 ۔ النّحل۔ آیت 126 ۔ اور اگر تم بدلہ لو تو اُسی قدر لے لو جس قدر تم پر زیادتی کی گئی ہو لیکن اگر صبر کرو تو یقیناً یہ صبر کرنے والوں کے حق ہی میں بہتر ہے

سورت ۔ 17 ۔ الاسراء یا بنی اسرآئیل ۔ آیت 35 ۔ اور جب (کوئی چیز) ناپ کر دینے لگو تو پیمانہ پورا بھرا کرو اور (جب تول کر دو تو) ترازو سیدھی رکھ کر تولا کرو۔ یہ بہت اچھی بات اور انجام کے لحاظ سے بھی بہت بہتر ہے

وما علينا الالبلاغ ۔ اللہ مجے اچھے کاموں کی توفیق عطا فرمائے اور بُرائی سے بچائے

چھوٹی چھوٹی باتیں ۔ حق حلال

ذہن میں آیا کہ تعمیرِ اخلاق کی خاطر اہم عوامل کو صرف چند الفاظ میں بیان کیا جائے تاکہ بہت کم فرصت پانے والے قارئین بھی مستفید ہو سکیں ۔ چنانچہ میں نے چار پانچ سال قبل” چھوٹی چھوٹی باتیں “ کے عنوان کے تحت لکھنا شروع کیا اور اللہ کے فضل و کرم سے اس سلسہ میں کئی درجن دو چار سطری عبارات لکھ چکا ہوں اور یہ سلسلہ جاری ہے ۔ ایسی تحاریر دیکھنے کیلئے داہنے حاشیئے میں سب سے اُوپر بنے گوگل کے خانے میں چھوٹی چھوٹی باتیں لکھ کر Search پر کلِک کیجئے

حق حلال کہتے ہیں اپنی محنت کے پھل کو ۔ شاید 6 دہائیاں قبل ایک گانا ریڈیو پر سُنا تھا

محنت کی اک سُوکھی روٹی
ہاں بھئی ہاں رے
اور مفت کی دودھ ملائی
نہ بھئی نہ رے

یہ مجھے یوں یاد آیا ۔ ہمارے ہاں عام پاکستانی گھروں کی طرح بڑا دیگچہ اور چاول پکانے کا بڑا چمچہ ہیں کہ جب خاندان کے سب لوگ اکٹھے ہوں تو استعمال میں آتے ہیں ۔ چمچے کی دستی پر دونوں طرف لکڑی کی چفتیاں لگی ہیں ۔ اس کی دستی کی ایک چفتی غائب ہو گئی اور باہر نکلے ہوئے کیل ہاتھ کو چُبھتے ۔ بازار ٹھیک کرانے گیا تو (جدید) کاریگر نے کہا ،”یہ ٹھیک نہیں ہو سکتا“۔ میں نے خود بنا کر لگا دیا ۔ سفید رنگ کی لکڑی میں نے لگائی

کچھ دن قبل ہماری چائے بنانے والی دیگچی کی دستی جل کر اُتر گئی ۔ اسے ٹھیک کرانے گیا تو وہی پہلے والا جواب ملا ۔ سو خود ہی ٹھیک کرنا پڑی

یہ دونوں کام میں نے کیسے کئے ۔ اگر کسی کو دلچسپی ہوئی تو بتا سکتا ہوں