Category Archives: روز و شب

گفتار و کردار

مجھے اس بلاگ کو شروع کئے 7 سال 8 ماہ ہو چکے ہیں ۔ اس بلاگ کے شروع کرنے کا مقصد جو کہ سرِ ورق درج ہے یہ ہے کہ ”میں انسانی فرائض کے بارے میں اپنےعلم اور تجربہ کو نئی نسل تک پہنچاؤں”۔
پچھلے 5 سال سے کچھ زیرک قارئین وقفے وقفے سے میری توجہ بلاگ کے مقصد کی طرف دلاتے ہوئے ذاتی تجربات بیان کرنے کا کہتے رہتے ہیں ۔ میری کوشش رہی کہ میں ایسے تجربات بیان نہ کروں جن سے میرا ذاتی تعلق ہو لیکن کچھ ہفتے قبل ایک ہمدرد قاری نے کہا ”آپ کے ہر تجربہ بلکہ علم میں بھی آپ کی ذات کا عمل دخل ہے تو پھر آپ پوری طرح اپنے وہ تجربات ہم تک کیوں نہیں پہنچاتے جن سے آپ نے اس دنیا کے کاروبار کو پہچانا ؟“

میں اس پر کئی ہفتے غور کرتا رہا اور آخر اس نتیجہ پر پہنچا کہ مجھے سوائے قومی راز کے اپنی زندگی کے تمام واقعات جوان نسل تک پہنچانے چاہئیں تاکہ جوان نسل کے عِلم میں وہ زمینی حقائق آ سکیں جو اللہ کے دیئے ہوئے ہمارے مُلک پاکستان کی موجودہ حالت کا پیش خیمہ ہیں ۔ آج اس سلسلہ کی پہلی تحریر ۔ اللہ مجھے اس مقصد میں کامیابی عطا فرمائے

میں نے یکم مئی 1963ء کو پاکستان آرڈننس فیکٹریز میں ملازمت شروع کی ۔ 1965ء میں اُس وقت کے ٹیکنیکل چیف جو مکینیکل انجنیئر اور کرنل تھے نے ہم 9 نئے افسران کو بُلا کر حُکمانہ قسم کا مشورہ دیا کہ ہم آرڈننس کلب کے ممبر بن جائیں ۔ دراصل وہ کلب کے پریذیڈنٹ بھی تھے ۔ باقی 8 تو واہ چھاؤنی ہی میں رہتے تھے وہ ممبر بن گئے ۔ میں راولپنڈی سے آتا جاتا تھا ۔ سوچا کہ کلب جا تو سکوں گا نہیں ممبر بن کر کیا کروں گا لیکن دوستوں کے تلقین کرنے پر چند ماہ بعد ممبر بن گیا

ستمبر میں جنگ شروع ہوئی تو مجھے حُکم ملا کہ واہ چھاؤنی میں رہوں ۔ میں نے آفیسرز میس میں ایک سوِیٹ (Suite) لے لیا اور واہ چھاؤنی میں رہنا شروع کر دیا ۔ آرڈننس کلب سڑک کے پار آفیسرز میس کے سامنے تھی ۔ اکتوبر 1965ء میں کلب میں سکواش کھیلنا شروع کر دیا ۔ کچھ ہفتے بعد خیال آیا کہ دیکھا جائے کلب میں کیا ہوتا ۔ معلوم ہوا کہ ایک طرف ایسی جگہ ہے جہاں لوگ بیٹھ کر مشروبات پیتے ہیں جن میں اُم الخباعث بھی ہے ۔ یہ خبر میرے دل میں ایک سوئی کی طرح پیوست ہو گئی

اگلے سال جو نئے انجنیئر بھرتی ہوئے ان میں کچھ ہم خیال مل گئے تو افسران سے رابطہ مہم شروع کی ۔ کچھ لوگوں کی حمائت کے ساتھ ایک سینیئر افسر کی حمائت ملنے پر کلب کی جنرل باڈی میٹنگ بلانے کا نوٹس دے دیا ۔ ان سینئر افسر صاحب کو اللہ جنت میں جگہ دے صاف گو شخص تھے ۔ ذہین ۔ محنتی ۔ باکردار اور بے باک شخص تھے اسلئے نام لکھ دیتا ہوں ”محمد اصدق خان“

اس دوران پہلے کرنل صاحب ریٹائر ہو گئے تھے اور ان کے نائب لیفٹننٹ کرنل صاحب ٹیکنیکل چیف اور کلب کے پریذیڈنٹ بن گئے تھے ۔ نئے صاحب کی ہر کسی کو پند و نصائح کرنے کی عادت تھی اور خیال کیا جاتا تھا کہ نمازی ہیں اور باعمل بھی ۔ میٹنگ شروع ہوئی تو سب سے پہلے محمد اصدق خان صاحب نے قراداد پڑھ کر اس کی تائید کی
کلب کے پریذیڈنٹ صاحب نے تقریر جھاڑ دی جس کا لُبِ لباب یہ تھا کہ شراب کی فروخت سے کلب کو بہت فائدہ ہوتا ہے اور یہ فائدہ دراصل ممبران کو ہے
اس کے بعد میں اُٹھا اور کہا ”ہمارے دین میں نہ صرف شراب نوشی کی ممانعت ہیں اس کی فروخت اور اس سے منافع حاصل کرنے کی بھی ممانعت ہے ۔ کتنے ممبران ہیں جو اس منافع کمانے کی حمائت کرتے ہیں ؟ آپ ہاتھ کھڑے کریں“۔
کسی نے ہاتھ کھڑا نہ کیا اور میں یہ کہہ کر بیٹھ گیا کہ شراب کی فروخت بند کر کے ممران کا ماہانہ چندہ زیادہ کر دیجئے
پریزیڈنٹ صاحب پھر بولے ”ایسے ہی کلب کے فیصلے نہیں کر لئے جاتے ۔ اس کیلئے کلب کی انتظامی کمیٹی کی منظوری ہوتی ہے”۔
میں نے اُٹھ کر کلب رولز کی متعلقہ شق پڑھ دی جس کے مطابق فیصلہ جنرل باڈی کی اکثریت کا حق تھا
اس پر میرے باس اُٹھے اور شراب کی فروخت سے کلب کو ہونے والی آمدن کے فوائد بیان کئے
میں نے پھر روسٹرم پر جا کر کہا”حضورِ والا ۔ اگر یہ کلب روپیہ کمانے کیلئے بنایا گیا ہے تو پھر یہاں طوائفوں کے مُجرے کا بھی بند و بست کر دیجئے ۔ بہت منافع ہو گا“۔
اس پر میرے باس طیش میں آ گئے اور مجھے بہت سخت سُست کہا (میں الفاظ نہیں لکھنا چاہتا)۔ اس کا یہ فائدہ ہوا کہ مزید ممبران میرے طرفدار ہو گئے

مجبور ہو کر رائے شماری کرائی گئی تو بھاری اکثریت نے شراب نوشی بند کرنے کے حق میں ووٹ دیئے اور شراب نوشی جاری رکھنے کے حق میں کوئی ووٹ نہ آیا ۔ اس قرار داد پر عمل درآمد کرانے میں ہمیں 6 ماہ لگے لیکن اللہ کا شکر ہے کہ آرڈننس کلب میں شراب نوشی بند ہو گئی

کلب کی اس جنرل باڈی میٹنگ کے بعد یہ راز بھی افشاء ہوا کہ سب کو پند و نصائح کرنے والے پریذیڈنٹ صاحب اور کچھ اور پاکباز نظر آنے والے صاحبان بھی اُم الخباعث سے شغف رکھتے تھے

پھر میرے ساتھ جو کچھ ہوتا رہا وہ ایک الگ کہانی ہے لیکن میں اللہ سُبحانُہُ و تعالٰی کا بہت شکر گذار ہوں کہ نہ میں نے کسی انسان کے آگے کبھی ہاتھ پھیلایا اور نہ کبھی میری عزت میں کمی آئی ۔ مزے کی بات کہ جب بھی کوئی مُشکل ٹیکنیکل یا قانونی مسئلہ درپیش ہوتا تو مجھے ناپسند کرنے والے یہ بڑے افسران مجھے ہی مشورہ کیلئے بُلاتے

یہ کرم ہے میرے اللہ کا مجھ ایسی کوئی بات نہیں ہے

اتوار کو کیا ہو گا ؟

اتوار 23 دسمبر کو جو ہوگا وہ تو بعد میں پتہ چلے گا لیکن اس سلسلہ میں پچھلے آٹھ دس دنوں سے جو ہو رہا ہے وہ یہ ہے کہ ٹی وی چینلز پر وقفے وقفے سے طاہر القادری صاحب کی مووی فلم بطور اشتہار دکھائی جا رہی ہے ۔ مزید برآں اخبارات میں رنگین اشتہار چھپ رہے ہیں اور اسلام آباد کی اہم سڑکوں پر (اور سُنا ہے لاہور میں بھی) نصب ہر کھمبے کے ساتھ کپڑے کے رنگین مشین پرنٹد اشتہار (banner) لٹکے ہوئے ہیں اور اہم چوراہوں پر بہت بڑے شاید 10 فٹ 12 فٹ کے بورڈ آویزاں ہیں جن سب میں طاہر القادری صاحب کی تصویر ہے اور اُن کی آمد اور 23 دسمبر کو لاہور میں جلسہ کا ذکر ہے ۔ موضوع ہے ”سیاست نہیں ۔ ریاست بچاؤ“۔

طاہر القادری صاحب اپنے آپ کو شیخ الاسلام کہلواتے ہیں ۔ اگر بات اپنے ایمان کو بچانے کی جاتی تو بھی اسے اسلامی کہا جا سکتا تھا مگر نعرہ ریاست بچانے کا لگایا گیا ہے جبکہ اسلام میں ریاست کا تصوّر ہے ہی نہیں ۔ اُمت کا تصوّر ہے ۔ پھر یہ جلسہ اور تقریر بہر طور سیاسی ہے اور یہ حقیقت بھی مسلمہ ہے کہ سیاست کے بغیر ریاست نہیں ہو سکتی ۔ خیر ۔ طاہر القادری صاحب تقریر کا فن جانتے ہیں ۔ اپنا جادو جگا لیں گے

دو تِیکھے سوال ذہن میں اُبھرتے ہیں

ایک ۔ طاہر القادری صاحب کئی سال قبل پاکستان کو خیرباد کہہ کر کنیڈا جا بسے اور وہاں کے شہری بن گئے تھے ۔ کئی عشروں بعد انہیں پاکستان اور وہ بھی لاہور (جو پاکستان کا دل ہے) میں تقریر کرنے کی کیا سُوجھی ؟

دو ۔ یہ لاکھوں بلکہ کروڑوں روپیہ جو اشتہار بازی پر خرچ ہو رہا ہے کیا دین اسلام اس کی اجازت دیتا ہے ؟ اور یہ روپیہ کہاں سے آ رہا ہے ؟

یہاں کلک کر کے اسی سلسلہ میں ایک دلچسپ مضمون پڑھنا نہ بھولئے گا

ایک پریشانی جوانی کی

پچھلے دنوں ارتقاءِ حیات پر استنجہ کے متعلق پڑھا تو مجھے پرانی بات یاد آئی

شروع مارچ 2012ء میں میرے ایک محترم قاری نے مجھے باعِلم اور بااعتماد ہونے کا اعزاز بخشا (جس کیلئے میں اُن کا ممنونِ احسان ہوں) اور اپنی ذاتی پریشانی سے متعلق مشورہ مانگا ۔ اللہ سُبحانُہُ و تعالٰی اُسے کامل شفاء و صحت عطا فرمائے

محترم قاری کی پریشانی
مجھے ایک عرصے سے ایک شک سا ہے جو دُور کرنا چاہتا ہوں۔ آپ کا مطالعہ زیادہ ہے اس لیے تکلیف دے رہا ہوں۔ کبھی کبھار جنسی تحریک کی وجہ سے سفید رنگ کی رطوبت کا اخراج ہو جائے، میں منی کی بات نہیں کر رہا۔ یہ اس سے مختلف ہوتا ہے۔ جیسا کہ یہاں آخری لائن میں یہی سوال ہے ۔ سفید رنگ یا شفاف کہہ لیں قسم کا مادہ جو دودھیا نہیں ہوتا، کسی بھی قسم کے ارادی فعل کی وجہ سے خارج نہیں ہوتا بلکہ غیر ارادی انداز میں، غالباً اس کی وجہ کمزوری ہوتی ہے۔ کیا اس کے اخراج کے بعد غسل کرنا واجب ہے؟

میں نے جواب لکھا
“میں نہ تو مُفتی ہوں اور نہ ماہرِ فقہ ۔ سکول کالج وغیرہ میں سائنس پڑھی ہے ۔ اسلئے میں ہر معاملے کو سائنسی لحاظ سے پرکھتا ہوں ۔ کسی چیز یا معاملہ کا مطالعہ کرنے کیلئے اس کا تجزیہ کیا جاتا ہے یا محرکات کا ادراک ۔ منی کے خارج ہونے پر نہانا واجب ہے ۔ جس مادے کا آپ نے ذکر کیا ہے اس کا محرک وہی ہے جو منی خارج ہونے کا ہے پھر اس مادے کے اخراج پر نہانا واجب نہ ہو ۔ یہ میری سمجھ سے باہر ہے ۔ جب اللہ سُبحانُہُ و تعالٰی نے حرام اشیاء کا بتاتے ہوئے بتایا ہے “اور وہ چیز جس سے گھِن آ جائے” یعنی جی خراب ہو وہ بھی حرام ہے ۔ تو اس اصول سے بات واضح ہو جاتی ہے کہ احتیاط لازم ہے ۔ اللہ مجھے سیدھی راہ پر قائم کرے”

جواب دینے کے بعد ایک نئے قاری نے میری ایک تحریر پر تبصرہ کرتے ہوئے اپنی ویب سائٹ پر مدعو کیا جو اسی قسم کے دین کے متعلق وضاحتی سوالات و جوابات تھے ۔ میں نے موصوف کو متذکرہ بالا سوال لکھ بھیجا تو اُن کا مندرجہ ذیل جواب آیا جو وہ قبل ازیں کسی اور سائل کیلئے اپنی ویب سائٹ پر لکھ چکے تھے

موصوف کا جواب
ایک بھائی نے پہلے بھی مذی سے متعلق سوال کیا تھا۔ وہی آپ کو بھیج رہا ہوں۔ علماء کا اس بات پر اتفاق ہے کہ مذی یا ودی کے نکلنے سے غسل لازم نہیں ہوتا۔ صرف عضو تناسل کو دھونا اور وضو کرنا ہی لازم آتا ہے۔ غسل صرف اسی صورت میں واجب ہوتا ہے جب مادہ منویہ شہوت کے ساتھ نکلے

سوال جو اُن سے کیا گیا تھا ۔ میرا مسئلہ یہ ہے کہ بعض اوقات پیشاب کے بعد عضو سے ایک خاص قسم کی رطوبت جسے غالباً مذی کہا جاتا ہے خارج ہونے لگتی ہے اور یہ سلسلہ کچھ دیر تک وقفہ وقفہ سے جاری رہتا ہے جب دیکھ لیتا ہوں تو اسی وقت دھونے لگ جاتا ہوں مگر بعض اوقات معلوم بھی نہیں ہوتا اور وہی رطوبت خارج ہوجاتی ہے اور پھر جلد ہی خشک ہوجاتی ہے تو براہ کرم اس سلسلے میں میری رہنمائی فرمائیں کہ جب رطوبت خشک ہوجائے تو اس کو دھونے کی حاجت پڑتی ہے یا نہیں؟ میں اپنے اجتہاد کی بدولت خشک رطوبت جو کسی بھی صورت نظر نہیں آتی دھونے کی زحمت نہیں کرتا اور بار بار ڈریس بدلنے کی تکلیف سے جان چھڑانے کیلئے خشک ہونے کے بعد نہیں دھوتااور پھر مجھےمعلوم بھی نہیں ہوتا کہ رطوبت کہاں کہاں پر لگی ہے ۔۔۔۔براہ کرم آپ اس سلسلہ میں اپنا نقطہ نظر بیان فرمادیں

موصوف نے جو جواب دیا تھا ۔ یہ بہت سے لوگوں کا مسئلہ ہے۔ اسے مذی نہیں بلکہ ودی کہتے ہیں۔ مذی شہوت کے ساتھ نکلتی ہے جبکہ ودی پیشاب کے بعد آتی ہے۔ یہ دونوں ناپاک ہوتی ہیں۔ اس مسئلے کا سادہ سا حل یہ ہے کہ آپ اپنے انڈر ویئر کے اندر مخصوص مقام پر ایک ٹشو پیپر یا چھوٹا سا کپڑا رکھ لیا کریں۔ جو ودی نکلے گی، وہ اس میں جذب ہوتی رہے گی اور آپ کا لباس محفوظ رہے گا۔ ہر نماز سے پہلے آپ اسے نکال دیں۔ اگر عضو کو نہ بھی دھوئیں تو حرج نہیں کیونکہ یہ ٹشو وہی کام کرے گا جو مٹی کا ڈھیلا کرتا ہے یعنی رطوبت سے آپ کے عضو اور لباس کو پاک کر دے گا”۔

میں نے اُنہیں لکھا
مندرجہ ذیل استدلال میرے دماغ میں نہیں گھُس رہا
“اگر عضو کو نہ بھی دھوئیں تو حرج نہیں کیونکہ یہ ٹشو وہی کام کرے گا جو مٹی کا ڈھیلا کرتا ہے یعنی رطوبت سے آپ کے عضو اور لباس کو پاک کر دے گا”
میرے مطالعہ اور تعلیم کے مطابق
اوّل ۔ مٹی کا استعمال اس وقت کافی ہے جب پانی میسّر نہ ہو یا پانی کے استعمال سے صحت بگڑنے کا اندیشہ ہو
دوم ۔ مٹی کے ڈھلے سے خود صاف کرنے اور سامنے ٹِشُو پیپر رکھ دینے میں فرق ہے ۔ ٹِشُو رطوبت کو چُوس کر عضوء کی بیرونی سطح پر پہنچا دے گا جس کے باعث دھونا واجب ہو جاتا ہے ۔ یہ ٹِشُو جب گیلا ہو گا تو انڈر ویئر کو بھی گیلا نہیں کرے گا اس کا کیا ثبوت ہے ؟

موصوف کا جواب آیا
دین میں اتنی سختی نہیں ہے کہ انسان کی زندگی مشکل بن جائے۔ عہد رسالت میں پانی ذرا مشکل سے دستیاب ہوتا تھا اس وجہ سے عام طور پر لوگ استنجا کے لیے ڈھیلے ہی استعمال کیا کرتے تھے۔ پانی سے دھونا ایک اضافی چیز تھی جسے ضروری نہیں سمجھا گیا۔ اگر ٹشو سے احتمال ہو کہ یہ نجاست کو پھیلا دے گا تو پھر میں آپ سے متفق ہوں کہ دھونا ضروری ہے۔ ویسے اب اس قسم کے ٹشو آ گئے ہیں جو نجاست کو پھیلاتے نہیں ہیں بلکہ اپنے اندر جذب کر لیتے ہیں۔ انڈر ویئر کو گیلا کرنے کے معاملے میں بھی احتیاط کی جا سکتی ہے۔ مذی اتنی زیادہ نہیں ہوتی کہ وہ پیشاب کی طرح ہر چیز کو گیلا کر دے۔ ایک آدھ قطرہ ہی ہوتا ہے جو اگر مناسب انداز میں تہہ کیے ہوئے ٹشو ہوں تو انڈر ویئر کو متاثر نہیں کرتے۔ اس معاملے میں میں آپ کو یہ مشورہ دوں گا کہ دیگر اہل علم سے بھی ڈسکس کر لیجیے اور پھر جس رائے پر آپ کا ذہن مطمئن ہو، اسے اختیار کر لیجیے۔ اصل چیز ہمارا اطمینان ہے۔ اگر میری رائے سے آپ کا اطمینان نہیں ہو رہا تو آپ بلا تکلف وہ رائے اختیار کیجیے جس پر آپ کا اطمینان ہو۔ ہم میں سے کوئی بھی معصوم پیغمبر نہیں ہے اور غلطی کر سکتا ہے”۔

میں نے لکھا
قبل اس کے کہ میں مزید کچھ لکھوں میں کچھ وضاحت کرنا چاہتا ہوں
میں نہ تو مُفتی ہوں اور نہ ماہرِ فقہ . میں طالب علم ہوں اور پچھلی سات دہائیوں سے علم سیکھنے کی اپنی سی کوشش کر رہا ہوں . میں عملی زندگی میں یقین رکھتا ہوں اور دوسرے فرد سے وہی کہتا ہوں جس پر میں خود عمل کروں
میں آپ سے اختلاف کی کوشش نہیں کر رہا بلکہ مجھ سے پوچھے جانے والے یا اپنے ذہن میں اُٹھنے والے سوالات کے جواب ڈھونڈ رہا ہوں
بلا شُبہ دین میں سختی نہیں ہے . سختی کی تعریف ذرا مُشکل ہے . آدمی سے آدمی تک بدل سکتی ہے اور اپنی اپنی سوچ کے مطابق بھی بدلی جاتی ہے
میں ایک سادہ سی مثال دیتا ہوں . مجھے سات سال قبل زمین پر بیٹھنے اور جھُکنے سے منع کر دیا گیا . میں نے فرض کے سامنے اس عُذر کو چھوٹا سمجھتے ہوئے اس پر عمل نہ کیا اور تکلیف برداشت کرتا رہا جو میری برداشت سے باہر نہ تھی ۔ ساڑھے تین سال قبل میں نے زمین پر بیٹھنا اور جھُکنا چھوڑ دیا ۔ تب سے میں کُرسی پر بیٹھ کر نماز پڑھتا ہوں ۔ ایسا میں نے “دین میں سختی نہیں ہے کو مدِ نظر رکھتے ہوئے کیا
اب آتے ہیں ٹِشو پیپر کے استعمال کی طرف
ٹِشو پیپر جہاں آدمی رکھے گا کیا وہ بعین ہی وہیں رہے گا ؟
درست کہ آجکل بہت اچھے جاذب ٹشو پیپر ملتے ہیں ۔ بات صرف اتنی ہے کہ ٹی وی کے اشتہار والا وہ پیمپر بھی دنیا میں کہیں نہیں ملتا جو سوتے بچے کا سارا پیشاب یوں جذب کر لیتا ہے کہ بچہ گیلا نہیں ہوتا
مٹی سے صاف کرنے کے بعد پانی سے دھونا اضافی کیسے ہوا ؟ از راہِ کرم اس کا حوالہ قرآن یا حدیث یا صحابہ کرام یا تابعین سے دیجئے
مذی یا مدی کی مقدار جس کا ذکر ہوا وہ اتنی تھی کہ کپڑوں کو لگ جائے
آپ کے اس استدال سے میں متفق ہوں کہ وہی اختیار کیا جائے جس سے اطمینان ہو

موصوف کا جواب آیا
مٹی کے ڈھیلوں سے استنجا تو معروف عمل ہے۔ صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی “کتاب الطہارۃ” دیکھ لیجیے۔ اس پر بہت سی احادیث مل جائیں گی جن میں پتھروں سے استنجا کا عمل بیان ہوا ہے۔ ان سب کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ عربوں کے ہاں عام پریکٹس تھی۔

میں نے اُنہیں لکھ بھیجا
میں نے صرف مجموعہ حدیث مسلم سے چند حوالے دیئے ہیں ۔ مزید مسلم میں اور بخاری میں بہت ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ مٹی صرف مجبوری کی حالت میں استعمال کی جائے

References From Hadith Muslim
Chapter# 45, Book 7, Number : 2941
Kuraib, the freed slave of Ibn Abbas, narrated from Usama b. Zaid (Allah be pleased with him) that he had heard him saying: Allah’s Messenger (may peace be upon him) proceeded from Arafa, and as he approached the creek of a hill he got down (from his camel) and urinated, and then performed a light ablution. I said to him: Prayer, whereupon he said: The prayer awaits you (at Muzdalifa) So he rode again, and as he came to Muzdalifa, he got down and performed ablution well. Then Iqima was pronounced for prayer and he ‘observed the sunset prayer. Then every person made his camel kneel down there, and then Iqama was pronounced for ‘Isha’ prayer and he observed it, and he (the Holy Prophet) did not observe any prayer (either Sunan or Nawifil) in between them (He observed the Fard of sunset and ‘Isha’ prayers successively

Book 7, Number: 2943
Usama b. Zaid (Allah be pleased with him) narrated: Allah’s Messenger (may peace be upon him) was on his way back from ‘Arafat and as he reached the creek (of a hillock) he got down and urinated (Usama did not say that he poured water), but said: He (the Holy Prophet) called for water and performed ablution, but it was not a thorough one. I said: Messenger of Allah, the prayer! Thereupon he said: Prayer awaits you ahead (at Muzdalifa). He then proceeded, until he reached Muzdalifa and observed sunset and ‘Isha’ prayers (together) there.

Book 4, Number: 1671
Ibn ‘Abbas reported: I spent a night with my maternal aunt (sister of my mother) Maimuna. The Apostle of Allah (may peace be upon him) got up during the night and relieved himself, then washed his face and hands and went to sleep. He then got up again, and came to the water skin and loosened its straps, then performed good ablution between the two extremes. He then stood up and observed prayer. (I also stood up and stretched my body fearing that he might be under the impression that I was there to find out what he did at night). So I also performed ablution and stood up to pray, but I stood on his left. He took hold of my hand and made me go round to his right side. The Messenger of Allah (may peace be upon him) completed thirteen rak’abs of his night prayer. He then lay down and slept and snored (and it was his habit to snore while asleep). Then Bilal came and he informed him about the prayer. He (the Holy Prophet) then stood up for prayer and did not perform ablution, and his supplication included there words:” O Allah, place light in my heart, light in my sight, light in my hearing, light on my right hand light on my left hand, light above me, light below me, light in front of me light behind me, and enhance light for me.” Kuraib (the narrator) said There are seven (words more) which are in my heart (but I cannot recall them and I met some of the descendants of ‘Abbas and they narrated these words to me and mentioned in them: (Light) in my sinew, in my flesh, in my blood, in my hair, in my skin, and made a mention of two more things”.

اُنہوں نے جواب دیا

Thanks for sharing Ahadith. I shall look into them and if found convincing evidence, will change my views. Anyway, thanks for sharing.

اُس وقت حدیث کا حوالہ تھا تو حدیث سے ہی دلیل پیش کی تھی ۔ قرآن شریف کو بیچ میں لانا مناسب نہ سمجھا تھا ۔ اب یہ 2 حوالے ضروری سجمھتا ہوں

سورت 4 النّسآء ۔ آیت 43 ۔ اے ایمان والو ۔ تم نشہ کی حالت میں نماز کے قریب مت جاؤ یہاں تک کہ تم وہ بات سمجھنے لگو جو کہتے ہو اور نہ حالتِ جنابت میں (نماز کے قریب جاؤ) تا آنکہ تم غسل کر لو سوائے اس کے کہ تم سفر میں راستہ طے کر رہے ہو، اور اگر تم بیمار ہو یا سفر میں ہو یا تم میں سے کوئی قضائے حاجت سے لوٹے یا تم نے (اپنی) عورتوں سے مباشرت کی ہو پھر تم پانی نہ پاسکو تو تم پاک مٹی سے تیمم کر لو پس اپنے چہروں اور اپنے ہاتھوں پر مسح کر لیا کرو، بیشک اللہ معاف فرمانے والا بہت بخشنے والا ہے
سورت 6 المآئدۃ ۔ آیت 6 ۔ اے ایمان والو! جب نماز کیلئے کھڑے ہو تو اپنے چہروں کو اور اپنے ہاتھوں کو کہنیوں سمیت دھو لو اور اپنے سروں کا مسح کرو اور اپنے پاؤں ٹخنوں سمیت اور اگر تم حالتِ جنابت میں ہو تو (نہا کر) خوب پاک ہو جاؤ اور اگر تم بیمار ہو یا سفر میں ہو یا تم سے کوئی رفعِ حاجت سے (فارغ ہو کر) آیا ہو یا تم نے عورتوں سے قربت (مجامعت) کی ہو پھر تم پانی نہ پاؤ تو پاک مٹی سے تیمم کر لیا کرو ۔ پس اس سے اپنے چہروں اور اپنے ہاتھوں کا مسح کر لو ۔ اﷲ نہیں چاہتا کہ وہ تمہارے اوپر کسی قسم کی سختی کرے لیکن وہ چاہتا ہے کہ تمہیں پاک کردے اور تم پر اپنی نعمت پوری کر دے تاکہ تم شکر گزار بن جاؤ

تبصرہ بلاگر ۔ سورت المآئدہ کی آیت 6 کے آخر میں اللہ کا فرمان ہے ”اﷲ نہیں چاہتا کہ وہ تمہارے اوپر کسی قسم کی سختی کرے“۔ لیکن اس سے پہلے جو اللہ کا فرمان ہے اس پر غور کرنے سے واضح ہوتا ہے کہ نرمی بحالتِ مجبوری ہے نہ کہ اپنی مرضی سے جو چاہا نرمی کے تحت کر لیا

ڈاکٹر نہیں مانتے

ڈاکٹر نہیں مانتے لیکن یہ حقیقت ہے کہ جو سائنس ایلوپیتھِک میڈیسن کے نام سے بنائی گئی ہے یہ ابھی تک نامکمل ہے ۔ میں اس کے نامکمل ہونے کی وجہ سے کئی بار تکلیف اُٹھا چکا ہوں ۔ حالیہ مثال 11 دسمبر 2012ء کی ہے ۔ ہوا یوں کہ کچھ دنوں سے پیٹ میں درد تھا اور عجیب سی گڑ بڑ تھی ۔ میں صبح ساڑھے 8 بجے معدہ کے معالج (Gaestroentrologist) کے پاس پہنچا اور اپنی حالت بیان کی ۔ ڈاکٹر صاحب نے 3 قسم کی گولیاں صبح شام کھانے کو کہا ۔ اُسی دن ایک ایک گولی صبح اور ایک ایک رات کو کھا کر سویا ۔ رات کے دوران نیند کھُل گئی اور بائیں آنکھ کے نیچے تکلیف محسوس ہوئی ۔ ہاتھ لگایا تو ایسے محسوس ہوا کہ کھال اُتر جائے گی ۔ باقی رات سو نہ سکا

اُوپر والی تصویر دوائی کے استعمال سے پہلے کی ہے ۔ 12 دسمبر کو تو کچھ سُوج نہ رہا تھا ۔ 13 دسمبر کی رات تک افاقہ ہوا تو رات 9 بجے کی تصویر کھینچی جو نیچے والی ہے (موبائل فون سے خود ہی لی ہے اسلئے واضح نہیں ہے) ۔ داہنی آنکھ کے نیچے کم سوجن ہے ۔ بائیں آنکھ کے نیچے زیادہ ہے جس میں درد ہے اور خون ملی رطوبت غیرمحسوس طور پر رِستی ہے اور جلد پر سخت چھلکا سا بن رہا ہے ۔ اُبھری سطح سُرخ سے کلیجی رنگ کی ہوتی ہوئی ایک نقطے پر کالی ہو گئی ہے ۔ آگے کیا ہو گا وہ اللہ جانتا ہے

میرے ساتھ یہ پہلا نہیں آٹھواں واقعہ ہے ۔ یوں کہنا چاہیئے کے ڈاکٹر صاحبان نے اب آٹھویں بار مجھے ہاتھ دکھایا ہے

پہلی بار تو میں بچہ تھا یعنی 1948ء میں ڈاکٹر صاحب نے مجھے پنسلین کا ٹیکہ لگایا ۔ 10 منٹ بعد میری آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھانا شروع ہوا ۔ بالآخر میں گر پڑا ۔ اُٹھا کر اُنہی ڈاکٹر صاحب کے پاس لے گئے ۔ جب مجھے ہوش آیا تو اُنہوں نے کہا ”دل کا کمزور ہے ڈر گیا ہے”۔ میں بول پڑا ”اگر میں ڈر جاتا تو ٹیکہ لگنے کے 2 منٹ بعد ہی بیہوش ہو جاتا“۔ اگلے پندرہ سولہ سال میں جب ردِ عمل عام ہوا تو مانٹو ٹیسٹ کر کے پنِسلِیں کا ٹیکہ لگانا شروع کیا گیا ۔ پھر کچھ سال بعد پنسِلِین ہمیشہ کیلئے غائب ہو گئی

1957ء میں ڈاکٹر صاحب نے مجھے سلفاڈایا زین شاید زیادہ دن کھِلا دی ۔ علاج کے بعد میں صاحب فراش ہوا ۔ انجیئرنگ کالج کی پڑھائی بھی غارت ہوئی ۔ پہلے میرے ہونٹ اور آنکھیں سُوج گئے ۔ اُس کے بعد چند ماہ میں میرے ہونٹوں ۔ ہونٹوں کے نیچے ۔ بازوؤں کے اندر کی طرف اور ٹانگوں کے اندر کی طرف جہاں جلد نرم ہوتی ہے کاسنی نشان (Violet pigments) بن گئے ۔ اس کے بعد میں جب بھی بیمار ہوتا متعلقہ ڈاکٹر صاحب سے عرض کرتا کہ ”مجھے سلفا نام کی کوئی دوا نہ دیں ۔ اس کا شدید ردِ عمل ہوتا ہے“ لیکن ڈاکٹر علم والے ہوتے ہیں اور مریض جاہل اور جاہل کی کون سُنتا ہے ؟ آخر 1962ء میں ان نشانوں کے علاج کے سلسلہ میں ایک ڈاکٹر صاحب کے پاس گیا ۔ اُنہوں نے کہا”یاد کرو کہ یہ نشان پڑنے سے ایک سال قبل تک تمہیں کیا بیماری ہوئی اور اس کیلئے کون کونسی دوا کھائی ۔ ایک ہفتہ بعد آ کر مجھے بتاؤ”۔ ایک ہفتہ بعد سب سُن کر ڈاکٹر صاحب نے ھدائت کی ”یاد رکھو ۔ ساری زندگی تم نے وہ دوائی نہیں استعمال کرنا جس میں سلفا آتا ہو”۔

دسمبر 1964ء میں مجھے بخار ہوا تو مجھے ملیریا کی دوا دی گئی نام اس وقت ذہن میں نہیں آ رہا ۔ 2 دن دوا کھانے کے بعد میری حالت غیر ہونے لگی ۔ میں نے ڈاکٹر صاحب کو ٹیلیفون پر بتایا تو گویا ہوئے ”یہ دوا ایک مشہور امریکی کمپنی نے بڑی تحقیق کے بعد تیار کی ہے ۔ اس کا ردِ عمل ہو ہی نہیں سکتا ۔ اگر آپ علاج شروع نہ کرتے تو اس سے زیادہ بُرا حال ہوتا“۔ میں نے تیسرے دن بھی دوا کھا لی ۔ چوتھے دن صبح بہت مشکل سے اُٹھ کر پیشاب کرنے غسلخانہ گیا ۔ کموڈ پر بیٹھا نہیں کہ اُٹھنے کیلئے کوئی سہارا نہ تھا ۔ دیوار تھام کر کھڑے کھڑے پیشاب کرنے لگا ۔ دیکھا کہ پیشاب کلیجی رنگ کا ہے ۔ فارغ ہو کر گھر سے نکلا اور بڑی مشکل سے چل کر ٹانگے تک پہنچا اور ہسپتال گیا ۔ ڈاکٹر صاحب نے لیبارٹری بھیجا ۔ جار میں پیشاب کیا تو جیسے جار خون سے بھرا ہو ۔ جار لیبارٹری میں دیا اور ڈاکٹر صاحب کی طرف رُخ کیا ۔ اس کے بعد کا معلوم نہیں ۔ جب آنکھیں کھولیں تو ہسپتال کے کمرے میں بستر پڑا تھا ۔ میرے ایک بازو میں نالی لگی تھی ۔ خون چڑھایا جا رہا تھا ۔ تھوڑی دیر بعد نرسنگ سپاہی آیا اور بتایا کہ میں 3 دن سے بے سُدھ پڑا تھا۔ میں نے سر اُٹھانے کی کوشش کی تو دنیا پھر آنکھوں سے اوجھل ہو گئی ۔ مزید 7 دن اسی طرح گزرے ۔ ہو ش آیا تو گھنٹی کا تکیئے کے پاس پڑا بٹن دبایا ۔ ایک آدمی آیا ۔ اُسے ڈاکٹر صاحب کو بلانے کا کہا ۔ شام کا وقت تھا ۔ رات کی ڈیوٹی پر ڈاکٹر صاحب آئے ۔ وہ میرے دوست کیپٹن کرامت اللہ تھے (اب ریٹائرڈ لیفٹننٹ جنرل) ۔ انہوں نے کافی خوش گپیاں کیں ۔ اللہ نے پھر بچا لیا ۔ 15 دن ہسپتال میں رہنے کے بعد 7 دن آرام کی ھدائت کے ساتھ گھر بھیج دیا گیا ۔ ہسپتال میں سوائے ایک بوتل خون چڑھانے کے اور کچھ نہ کیا گیااور نہ اُنہیں میری تکلیف کا سبب سمجھ میں آیا ۔ دسمبر 1965ء تک پاکستان میں کئی اور اسی طرح کے کیس ہوئے اور سب نے وہی دوا کھائی تھی جو مجھے دی گئی تھی ۔ حکومت حرکت میں آئی اور متعلقہ دوا کا استعمال ممنوع قرار دے دیا گیا اور دوا تمام ہسپتالوں اور دکانوں سے اُٹھا لی گئی

ایک دہائی قبل میں بیمار ہوا تو دوسری دوا کے ساتھ ڈاکٹر صاحب نے مجھے کئی چھوٹی سی نئی قسم کی گولیاں دیں رات سونے قبل ایک کھانے کا کہا ۔ میرے پوچھنے پر بتایا کہ طاقت کی دوا ہے ۔ پہلی رات میری نیند کچھ خراب رہی ۔ دوسری رات مجھ نیند نہ آئی ۔ تیسری رات نیند نہ آنے سے طبیعت بالکل اُچاٹ ہو گئی ۔ ایک عزیز ملنے آئے ۔ میرا حال سُن کر دوائیں دیکھنے لگے اور ایک گولی دکھا کر پوچھا ”یہ دوا کھائی تھی ؟“ میرے ہاں کہنے پر بولے ”کمال ہے ۔ یہ تو نیند آور گولیاں ہیں“۔ ڈاکٹر صاحب سے اگلے روز مل کر شکائت کی کہ میرے ساتھ جھوٹ کیوں بولا ۔ بولے ”آپ ہر قسم کے نشے کے بہت خلاف ہیں اسلئے میں نے سوچا تھا کہ نفسیاتی اثر نہ ہو“۔

سَیپٹرین ۔ سَیپٹران ۔ بَیکٹرین پہلے ہی بند کی جا چکی تھیں ۔ ایمپسلین کا ردِ عمل بھی بُرا ہوا ۔ کو ایکسیلین کا بھی غلط ردِ عمل ہوا ۔ اَوگمَینٹِن سے بھی بھاگنا پڑا ۔ قصور کس کا ہوا ؟ کیا یہ میرا قصور ہے ؟

چھوٹی چھوٹی باتیں ۔ پسند

ہر آدمی کو آزادی ہے کہ
* * * * * جو چاہے پسند کرے

لیکن

وہ اپنی پسند کے نتائج سے آزاد نہیں ہے

عقلمند پسند کا اختیار بھی سوچ سمجھ کر استعمال کرتا ہے

میرا دوسرا بلاگ ” حقیقت اکثر تلخ ہوتی ہے ۔ Reality is often Bitter“۔
” پچھلے 8 سال سے معاشرے کے مختلف پہلوؤں پر تحاریر سے بھر پور چلا آ رہا ہے ۔ اور قاری سے صرف ایک کلِک کے فاصلہ پر ہے ۔ 2010ء ميں ورڈ پريس نے اسے 10 بہترين بلاگز ميں سے ايک قرار ديا تھا