Category Archives: روز و شب

انکوائری ۔ تفتیش

اس سلسہ میں 7 واقعات بعنوانات ”گفتار و کردار“ ۔ ”پارسل“۔ ”گھر کی مرغی ؟“ ۔ ”میں چور ؟“ ۔ ”غیب سے مدد” ۔ ”کہانی کیا تھی“اور ”یو اے ای اور لبیا کیسے گیا“لکھ چکا ہوں

ہمارے ہاں اول تو مجرم پکڑا ہی نہیں جاتا اور اگر پکڑا جائے تو اسے سزا نہیں ہوتی ۔ اس کی ایک مثال میں ” غیب سے مدد“ میں لکھ چکا ہوں کہ بندوقیں چوری کرنے والے کیسے رہا ہو گئے تھے ۔ اپنی تحریر ”پارسل“ میں لکڑی غائب ہونے کی انکوائری کا حال بھی لکھ چکا ہوں

آج میں ایسے 2 واقعات رقم کر رہا ہوں کہ جس تفتیش یا انکوائری میں بیان دینے والا میں خود تھا

یہ واقعہ ہے 1959ء کا جب میں انجنیئرنگ کالج لاہور میں پڑھتا تھا ۔ میں اور میرے 3 ہم جماعت لاہور شہر سے واپس ہوسٹل جا رہے تھے ریلوے سٹیشن کے قریب ایک چوراہے پر سپاہی نے میرے ایک ہمجماعت کے بائیسائکل کو پیچھے سے پکڑ کر کھینچا ۔ میرا ہمجماعت گر گیا اور اسے چوٹیں لگیں جس پر اس کا پولیس والے سے جھگڑا ہو گیا ۔ ہم آگے نکل چکے تھے واپس آ کر بیچ بچاؤ کی کوشش کی مگر پولیس والے کی منہ زوری کی وجہ سے بات بڑھ گئی ۔ اور پولیس والے بھی آ گئے اور ہمیں بھی ساتھ تھانے لیجانے لگے ۔ کافی لوگ اکٹھے ہو گئے تھے جو ہماری حمائت میں ساتھ تھانے چلے گئے ۔ وہاں ہم چاروں کو پولیس والے تھانے میں لے گئے ۔ باقی لوگ بھی اندر جانا چاہتے تھے مگر اُنہیں دھکے دیئے گئے اور تھانے کا بڑا سا آہنی دروازہ بند کر دیا گیا ۔ ہمیں اندر لیجا کر ایک بنچ پر بٹھا دیا ۔ باہر لوگ نعرے لگاتے رہے اور دروازہ کھولنے کا مطالبہ بھی کرتے رہے ۔ پندرہ بیس منٹ بعد آوازیں کم ہونا شروع ہوئیں اور پنتالیس پچاس منٹ بعد شاید سب لوگ چلے گئے ۔ اس دوران ہم چاروں کو چالان تھما دیئے گئے کہ ہم ایک ایک بائیسائکل پر دو دو بیٹھے ہوئے تھے ۔ پولیس والے نے ہمیں روکا تو ہم نے اس کی مار پیٹ کی اور لوگوں نے چھڑایا ۔ حقیقت یہ تھی کہ پولیس والے نے ہمارے ہمجماعت کو مارا اور لوگوں نے چھڑایا تھا ۔ ہم 3 جب پہنچے تو لوگ ہمارے ہمجماعت کو بچا رہے تھے

ہم نے احتجاج کیا تو کہا گیا ”پہلے دستخط کر کے چالان وصول کریں اور پھر اس کے خلاف درخواست دیں ۔ اس کے بعد کہا گیا کہ تھانیدار صاحب انکوائری کر رہے ہیں ۔ اپنے بیان لکھوائیں ۔ ہمیں ایک ایک کر کے بُلایا گیا ۔ میری باری آخر میں آئی ۔ میں نے جو دیکھا تھا بول دیا ۔ وہاں ایک پولیس والا بیان لکھ رہا تھا ۔ دستخط کرنے کیلئے مجھے بیان دیا گیا ۔ نیچے لکھا تھا ”میں نے پڑھا اور پڑھ کر قبول کیا”۔ میں نے پڑھنا شروع کیا تو پولیس والا بولا ”جو تم نے کہا وہ لکھا ہے ۔ دستخط کرو“۔ میں نے پڑھنا جاری رکھا تو اُس نے کاغذ میرے ہاتھ سے چھین کر پھاڑ دیا اور مجھے باہر نکال دیا ۔ بعد میں ایک ہمجماعت دوسرے کے ساتھ جھگڑنے لگا ”تم سب کچھ غلط مان کر آ گئے ہو“۔ جس کے ساتھ وہ جھگڑ رہا تھا اُس سے میں نے پوچھا ”آپ نے اپنے بیان پر دستخط کرنے سے پہلے اسے پڑھا تھا ؟“ وہ بولا ”نہیں“۔ سو بات واضح ہو گئی کہ میرے ہمجماعت بیان کچھ دے رہے تھے اور لکھا کچھ اور جا رہا تھا

دوسرا واقعہ 1973ء کا ہے جب میں ویپنز فیکٹری کا پروڈکشن منیجر اور قائم مقام جنرل منیجر تھا ۔ فیکٹری کے گیٹ پر معمور فوجی نے ایک چپڑاسی کی پٹائی کر دی ۔ فیکٹری کے ورکر بھی اکٹھے ہوگئے ۔ مسئلہ بڑھ گیا ۔ میں نے جا کر بڑی مشکل سے بیچ بچاؤ کرایا ۔ معاملے کی اعلٰی سطح کی انکوائری شروع ہوئی ۔ انکوائری افسر ایک کرنل تھے ۔ مجھے بھی بیان دینے کیلئے بُلایا گیا ۔ بیان کے بعد مجھ سے سوالات بھی پوچھے گئے ۔ دوسرے دن ٹائپ شُدہ بیان مجھے دستخط کرنے کیلئے دیا گیا ۔ ایک تو مجھے یہ تحریر اپنے بیان سے بہت زیادہ طویل لگ رہی تھی دوسرے نیچے لکھا تھا ”میں نے اپنا بیان پڑھ کر درست پایا“۔ میں نے بیان پڑھنا شروع کر دیا ۔ کرنل صاحب بولے ”جو آپ نے کہا وہی لکھا ہے ۔ دستخط کریں“۔ میں نے کہا ”میں پڑھے بغیر دستخط نہیں کروں گا“۔ کاغذات میرے ہاتھ سے چھین کر کہا ”آپ جا سکتے ہیں“۔

قومی الميہ

درجہ اوّل ميں کامياب ہونے والے انجنيئر ۔ ڈاکٹر ياسائينسدان بنتے ہيں

درجہ دوم ميں کامياب ہونے والے ايڈمنسٹريٹر بنتے ہيں اور درجہ اوّل والوں پر حُکم چلاتے ہيں

درجہ سوم ميں کامياب ہونے والے سياستدان بن کر وزير بنتے ہيں اور درجہ اوّل اور دوم والے دونوں پر حُکم چلاتے ہيں

جو تعليم ميں ناکام رہتے ہيں جرائم پيشہ بنتے ہيں اور سياستدانوں پر حُکم چلاتے ہيں

اور جو تعليم کے قريب جاتے ہی نہيں وہ سوامی ۔ گُورُو يا پِير بنتے ہيں اور سب اُن کے تابعدار بن جاتے ہيں

چھوٹی چھوٹی باتیں ۔ دعا

لوگوں کو اپنے لئے دعا کا کہنے سے بہتر ہے ایسے عمل کریں

کہ

لوگوں کے دل سے آپ کیلئے دعا نکلے

قول علی رضی اللہ عنہ

میرا دوسرا بلاگ ”حقیقت اکثر تلخ ہوتی ہے ۔ Reality is often Bitter “ گذشتہ ساڑھے 8 سال سے معاشرے کے مختلف پہلوؤں پر تحاریر سے بھرپور چلا آ رہا ہے اور قاری سے صرف ایک کلِک کے فاصلہ پر ہے ۔ 2010ء میں ورڈ پریس نے اسے 10 بہترین بلاگز میں سے ایک قرار دیا تھا اور بلاگ ابھی تک اپنی حثیت بحال رکھے ہوئے ہے ۔ 2012ء کی رپورٹ دیکھنے کیلئے یہاں کلک کیجئے ”

کہانی کیا تھی؟

قبل ازیں ”میں چور ؟” اور ”غیب سے مدد“ کے عنوانات سے ایک واقعہ مع پس منظر اور پیش منظر بیان کر چکا ہوں ۔ اس واقعہ کا ایک اور پہلو ہے کہ ملک و قوم کی بہتری کیلئے جس پر سنجیدہ غور و فکر کی اشد ضرورت ہے ۔ کہانی جس پر تفتیش شروع کی گئی یہ تھی

مُخبر نے بتایا ”اجمل بھوپال نے منصوبہ بنایا ۔ منصوبے کو عملی جامہ پہنانے میں فورمین ”ح“ نے مدد کی ۔ گوڈؤن کیپر اور اُس کا ہیلپر(Helper) ہفتے کو ورکشاپ کے اندر ہی رہے ۔ اتوار اور پیر کی درمیانی رات کو منیجر ”ع“ اپنی سفید کار میں فورمین ”ت“ کو ساتھ لے کر آیا ۔ اندر سے بندوقیں گوڈؤن کیپر اور اس کے مددگار نے نکالیں ۔ چارجمین نے بندوقیں کار میں رکھنے میں مدد دی“

مُخبر کون ؟
متذکرہ بالا کہانی کا مُصنّف اور مُخبر ایک بدنامِ زمانہ ورکر تھا جو فیکٹری میں لیڈر بنا پھرتا تھا اور کاروبار اس کا تھا کہ ٹھرا (دیسی شراب) بیچتا تھا اور جُوے کا اڈا چلاتا تھا ۔ ایک بار اسے فیکٹری کے اندر جوا کھلاتے پکڑا گیا تھا ۔ میرے پاس لائے تو میں نے اُسے سخت تنبیہ کی تھی اور اُس کے اسسٹنٹ منیجر ”ع“ کو حکم دیا تھا کہ اُسے نظر میں رکھے جب تک وہ اپنا چال چلن درست نہ کر لے ۔ منیجر ”ع“ اُن دنوں اسسٹنٹ منیجر تھا ۔ فورمین ”ح“ اُس ورکشاپ کا فورمین تھا اور مُخبر کا بھی ۔ فورمین ”ت“ کا اس ورکشاپ سے تعلق نہ تھا مگر وہ نہ غلط کام کرتا تھا نہ کسی کو کرنے دیتا تھا ۔ چارجمین کا بھی اس ورکشاپ سے کوئی تعلق نہ تھا

حقیقت
ہمارے لوگوں پر یہ محاورہ صادق آتا ہے کہ کوئی کہے ”کُتا تمہارا کان لے گیا“ تو کُتے کے پیچھے بھاگنا شروع کر دیتے ہیں ۔ یہ نہیں دیکھتے کہ کان موجود ہے یا نہیں ۔ دوسری بات یہ ہے کہ ہمارے ہاں ابھی تک ہندوستان پر قابض انگریزوں کا بنایا ہوا فرسودہ نظامِ پولیس جاری ہے جو کہ مزید خراب ہو چکا ہے ۔ تفتیش کا طریقہ کار یہ ہے کہ پہلے یہ فیصلہ کیا جاتا ہے کہ پھندا کس کے گلے میں ڈالنا ہے پھر ایک کہانی بنائی جاتی ہے اور اس کہانی کو سچ ثابت کرنے کی پوری کوشش کی جاتی ہے

موازنہ
اگر کوئی متذکرہ بالا کہانی کے حوالے سے زمینی حقائق پر سرسری نظر بھی ڈالتا تو کہانی غلط ثابت ہو جاتی ۔ حقیقت یہ ہے کہ

1۔ منیجر ”ع“ کے پاس کالے رنگ کی کار تھی اور وہ فیکٹری کار پر نہیں آتا تھا ۔ سفید کار جنرل منیجر کے پاس تھی جو کار پر فیکٹری آیا کرتا تھا مگر ان دنوں چھٹی پر تھا اور شہر سے باہر گیا ہوا تھا
2۔ ویپنز فیکٹری کے چاروں طرف خاردار تار کی دبیز باڑ لگی ہوئی تھی ۔ اس باڑ میں سے کوئی گذر نہیں سکتا تھا سوائے اس کے کہ اسے کاٹا جائے اور یہ کہیں سے کٹی ہوئی نہیں تھی
3۔ صرف ایک گیٹ تھا اور اس پر فوج کا پہرا ہوتا تھا ۔ اوقاتِ کار کے دوران اس فیکٹری کے ملازمین پاس دکھا کر اندر آ سکتے تھے ۔ اوقاتِ کار کے بعد اُنہیں آرڈرلی آفیسر (Orderly) کو ساتھ لے کر آنا پڑتا تھا جو کہ تمام فیکٹریوں کا صرف ایک ہوتا تھا اور بغیر اچھی طرح چھان بین کے اجازت نہیں دیتا تھا اور اگر اجازت دے تو اس کا اندراج وہ اپنے ڈیوٹی رجسٹر میں کرتا اور گیٹ کیپر اپنے ڈیوٹی رجسٹر میں ۔ مگر ایسا کچھ موجود نہ تھا
4۔ متذکرہ بالا باڑ کے علاوہ پی او ایف کے گرد 8 فٹ اُونچی دیوار تھی ۔ 3 گیٹ تھے ۔ اوقاتِ کار کے دوران پاس دکھا کر ان میں فیکٹری میں داخل ہوا جا سکتا تھا لیکن اوقاتِ کار کے بعد باقی گیٹ پکے بند ہو جاتے تھے صرف مین گیٹ کھولا جا سکتا تھا جہاں گیٹ سٹاف کے ساتھ سیکیورٹی والے اور فوجی بھی موجود ہوتے تھے ۔ ان دنوں میں اوقاتِ کار کے بعد نہ کوئی داخل ہوا اور نہ باہر نکلا تھا
5۔ ورکشاپوں کے تمام دروازوں کو بڑے بڑے تالے لگا کر چابیاں مین گیٹ پر جمع کرادی جاتی ہیں ۔ اوقاتِ کار کے بعد صرف آرڈرلی آفیسر مین گیٹ کے رجسٹر پر اندراج کر کے چابیاں لے سکتا ہے اور اس کیلئے معقول وجہ لکھنا ہوتی تھی ۔ مگر کسی نے چابیاں نہیں لی تھیں اور چوری کے بعد اگلے دن چابیاں ویپنز فیکٹری کا نمائندہ مین گیٹ سے لے کر آیا تھا

مندرجہ بالا حقائق ثابت کرتے ہیں کہ متذکرہ بالا کہانی بالکل غلط اور بے تُکی تھی اور اشارہ دیتے ہیں کہ مین گیٹ پر مامور لوگوں میں سے کوئی چور یا چور کا معاون تھا

چوری کیسے ہوئی اور کیسے پکڑی گئی ؟
پچھلی تحریر میں ورکشاپ کی دیوار میں سوراخ کا میں ذکر کر چکا ہوں ۔ اس سوراخ والی دیوار کے ساتھ باہر کی طرف سیڑھی لگائی گئی تھی ۔ اس سوراخ میں سے چادر کے ساتھ لٹک کر ایک آدمی جس کا شانہ 18 انچ سے کم تھا ورکشاپ میں اُترا اور بندوقیں چادر کے ساتھ باندھ باندھ کر باہر بھجواتا رہا ۔ تمام بندوقیں سیکیورٹی والوں کی گاڑی پر پی او ایف کے اندر ہی مارشلنگ یارڈ میں چھُپا دی گئیں اور وہاں سے تھوڑی تھوڑی سیکیورٹی والوں کی گاڑی پر سیکیورٹی والوں کا ڈرائیور پی او ایف سے باہر لے جاتا رہا تھا

ورکشاپ میں اُترنے والا وہی ورکر تھا جس کا نام میری دی ہوئی 7 مشکوک آدمیوں کی فہرست میں سب سے اُوپر تھا ۔ مجھے متعلقہ ورکشاپ کے سینئر مستری ۔ چارجمین ۔ اسسٹنٹ فورمین اور فورمین نے اپنی اپنی سوچ اور تحقیق کے مطابق کُل 15 نام دیئے تھے ۔ میں نے ہر ایک کے ساتھ علیحدہ علیحدہ تبادلہ خیال کیا اور 8 نام فہرست میں سے نکال دیئے تھے ۔ بقایا 7 میں سرِ فہرست ایک لیبر کا نام تھا جو سینئر مستری نے دیا تھا ۔ اُس کے مطابق یہ نوجوان حُکم دیئے جانے کے باوجود کبھی ڈانگری نہیں پہنتا تھا اور عام طور پر کام کا وقت شروع ہونے کے ایک سے 5 منٹ بعد آتا تھا ۔ چوری کے بعد والے دن صبح وہ کام کے وقت سے کچھ منٹ پہلے ہی آ گیا ۔ اُس نے ڈانگری پہنی ہوئی تھی اور اس کے چہرے پر مچھروں کے کاٹنے کے نشان تھے جس کا بہانہ بنا کر وہ چھٹی لے کر چلا گیا تھا ۔ مستری کا خیال تھا کہ بندوقیں چوری کر کے مارشلنگ یارڈ میں چھپائی گئی ہوں گی جہاں مچھر بہت ہوتے ہیں ۔ اسی لئے اس نے ڈانگری پہنی اور وہیں سے اسے مچھروں نے کاٹا

مستری کا خیال درست تھا ۔ 2 ہفتے بعد جب میرے بتائے ہوئے کے مطابق تفتیش شروع کی گئی تو 12 بندوقیں مارشلنگ یارڈ سے ہی ملی تھیں ۔ باقی قبائلی علاقہ میں بیچ دی گئی تھیں جن میں سے 3 پیسے دے کر واپس لی گئیں اور باقی کا کچھ پتہ نہ چلا تھا

آخر ؟ ؟ ؟

مندرجہ ذیل اقتباس میاں عبدالوحید صاحب کی کتاب سے 25 فروری 2013ء کے جنگ اخبار میں نقل کئے گئے ہیں ۔ میں صرف اتنا کہوں گا کہ پاکستان میں ایٹم بم کی تیاری کے چند تاریخی حقائق سے پہلی بار کسی نے پردہ اُٹھایا ہے ۔ درست کہ ذوالفقار علی بھٹو کے دورِ حکومت (1975ء) میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان پاکستان آئے لیکن اس پر کام 1977ء کے آخر میں ضیاء الحق کے دورِ حکومت میں شروع ہوا تھا ۔ مزید اقتباس میں پڑھیئے

main6

main7